কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৬৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسے کپڑے پر نماز پڑھنا جس کا ایک حصہ کوئی دوسرا اوڑھے ہوئے ہو
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جس کا کچھ حصہ میرے اوپر تھا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٠٧١) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٤) ، سنن النسائی/القبلة ١٧ (٧٦٩) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٣١ (٦٥٢) ، مسند احمد (٦/٢٠٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 631 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ بَعْضُهُ عَلَيَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف ایک کرتہ پہن کر نماز پڑھنا
سلمہ بن الاکوع (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں شکاری ہوں، کیا میں ایک کرتے میں نماز پڑھ سکتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، اور اسے ٹانک لیا کرو، خواہ کسی کانٹے سے ہی سہی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القبلة ١٥ (٧٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٩، ٥٤) (حسن )
حدیث نمبر: 632 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَصِيدُ، أَفَأُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَازْرُرْهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف ایک کرتہ پہن کر نماز پڑھنا
عبدالرحمٰن بن ابی بکر کہتے ہیں جابر بن عبداللہ (رض) نے ایک کرتے میں ہماری امامت کی، ان کے جسم پر کوئی چادر نہ تھی، تو جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک کرتے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٣٧٩) ، وقد أخرجہ : وقد ورد بلفظ : ” ثوب واحد “ عند : صحیح البخاری/الصلاة ٣ (٣٥٣) ، صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٨) ، مسند احمد (٣/٢٩٣، ٢٩٤) (ضعیف) (عبدالرحمن بن أبی بکر ملی کی ضعیف ہیں، یہ حدیث صحیحین میں ” ایک کپڑا “ کے لفظ سے موجود ہے ) وضاحت : ١ ؎ : صحیحین میں ” ایک قمیص یا کرتا “ کی جگہ ” ایک کپڑا “ یا ” ایک تہبند “ کا لفظ ہے۔
حدیث نمبر: 633 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي حَوْمَلٍ الْعَامِرِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا قَالَ، وَالصَّوَابُ: أَبُو حَرْمَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَّنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَمِيصٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي قَمِيصٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھو ٹے کپڑے میں نماز پڑھنا
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ (رض) کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : میں ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلا (رات میں میں کسی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ) آپ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، اس وقت میرے جسم پر صرف ایک چادر تھی، میں اس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کو دائیں کندھے پر ڈالنے لگا تو وہ میرے لیے ناکافی ہوئی، البتہ اس میں کچھ گوٹ اور کناریاں لگی تھیں تو میں نے اسے الٹ لیا اور اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لیا اور گردن سے اسے روکے رکھا تاکہ گرنے نہ پائے، پھر میں آ کر رسول اللہ ﷺ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی داہنی طرف کھڑا کرلیا۔ پھر ابن صخر (رض) آئے، وہ آپ ﷺ کی بائیں طرف کھڑے ہوگئے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ہم دونوں کو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کردیا، مجھے آپ ﷺ کنکھیوں سے دیکھنے لگے، میں سمجھ نہیں پا رہا تھا (کہ آپ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں) ، پھر بات میری سمجھ میں آگئی، آپ ﷺ نے مجھے تہہ بند باندھنے کا اشارہ کیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : جابر !، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! فرمائیے، حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : جب چادر کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لو، اور جب تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لیا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود ، (تحفة الأشراف : ٢٣٦٠) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (١٧٨٨) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٤ (٩٧٣) ، مسند احمد (٣/٣٥١) (صحیح )
حدیث نمبر: 634 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَتَيْنَاجَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سِرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَقَامَ يُصَلِّي وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي، وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ فَنَكَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا لَا تَسْقُطُ، ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَجَاءَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ أَتَّزِرَ بِهَا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا جَابِرُ، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حِقْوِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اسبال (کپڑالٹکا نے) کا بیان
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جو شخص نماز میں غرور و تکبر کی وجہ سے اپنا تہہ بند (ٹخنوں سے نیچے) لٹکائے گا تو اللہ تعالیٰ نہ اس کے لیے جنت حلال کرے گا، نہ اس پر دوزخ حرام کرے گا ؛ یا نہ اس کے گناہ بخشے گا اور نہ اسے برے کاموں سے بچائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ایک جماعت نے عاصم کے واسطے سے ابن مسعود (رض) سے موقوفاً روایت کیا ہے، انہیں میں سے حماد بن سلمہ، حماد بن زید، ابوالاحوص اور ابومعاویہ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٣٧٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 637 حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ فِي صَلَاتِهِ خُيَلَاءَ، فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي حِلٍّ وَلَا حَرَامٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا جَمَاعَةٌ، عَنْ عَاصِمٍ، مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، مِنْهُمْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اسبال (کپڑالٹکا نے) کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک آدمی اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : جا کر دوبارہ وضو کرو ، چناچہ وہ گیا اور اس نے (دوبارہ) وضو کیا، پھر آیا تو آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا : جا کر پھر سے وضو کرو ، چناچہ وہ پھر گیا اور تیسری بار وضو کیا، پھر آیا تو ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا بات ہے ! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا پھر آپ خاموش رہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ اپنا تہہ بند ٹخنے سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ تعالیٰ ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں فرماتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، وأعاده في اللباس (رقم : ٤٠٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٤١) (ضعیف) (اس کے راوی ابوجعفر مؤذن لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 638 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کپڑا چھوٹا ہو تو اس کو تہبند کے طور پر باندھنا چاہئیے
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یا عمر (رض) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو چاہیئے کہ ان دونوں میں نماز پڑھے، اور اگر ایک ہی کپڑا ہو تو چاہیئے کہ اسے تہہ بند بنا لے اور اسے یہودیوں کی طرح نہ لٹکائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٥٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٤٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اس طرح نہ اوڑھے کہ اس کے دونوں کنارے دونوں طرف لٹکے ہوئے ہوں۔
حدیث نمبر: 635 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِذَا كَانَ لِأَحَدِكُمْ ثَوْبَانِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْيَتَّزِرْ بِهِ وَلَا يَشْتَمِلِ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کپڑا چھوٹا ہو تو اس کو تہبند کے طور پر باندھنا چاہئیے
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے لحاف میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر نہ ڈالا جاسکے، اور دوسری بات جس سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے یہ کہ تم پاجامہ میں نماز پڑھو اور تمہارے اوپر کوئی چادر نہ ہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٩٨٧) (حسن )
حدیث نمبر: 636 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنِيبِ عُبَيْدُ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي لِحَافٍ لَا يَتَوَشَّحُ بِهِ وَالْآخَرُ أَنْ تُصَلِّيَ فِي سَرَاوِيلَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ رِدَاءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کو کتنے کپڑوں میں نماز پڑھنی چاہیئے؟
ام حرام والدہ محمد بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے پوچھا : عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے ؟ تو انہوں نے کہا : وہ اوڑھنی اور ایک ایسے لمبے کرتے میں نماز پڑھے جو اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو چھپالے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٢٩١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/صلاة الجماعة ١٠(٣٦) (ضعیف موقوف) (محمد بن زید بن قنفذ کی ماں أم حرام مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 639 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ: مَاذَا تُصَلِّي فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَتْ: تُصَلِّي فِي الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ السَّابِغِ الَّذِي يُغَيِّبُ ظُهُورَ قَدَمَيْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کو کتنے کپڑوں میں نماز پڑھنی چاہیئے؟
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا : کیا عورت کرتہ اور اوڑھنی میں جب کہ وہ ازار (تہبند) نہ پہنے ہو، نماز پڑھ سکتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : (پڑھ سکتی ہے) جب کرتہ اتنا لمبا ہو کہ اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو ڈھانپ لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو مالک بن انس، بکر بن مضر، حفص بن غیاث، اسماعیل بن جعفر، ابن ابی ذئب اور ابن اسحاق نے محمد بن زید سے، محمد بن زید نے اپنی والدہ سے، اور محمد بن زید کی والدہ نے ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت کیا ہے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے، بلکہ ام سلمہ (رض) پر ہی اسے موقوف کردیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٨٢٩١) (ضعیف) (مذکورہ سبب سے یہ مرفوع حدیث بھی ضعیف ہے )
حدیث نمبر: 640 حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ ؟ قَالَ: إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَبَكْرُ بْنُ مُضَرَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَابْنُ إِسْحَاقَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَصَرُوا بِهِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوپٹہ کے بغیر عورت کی نماز درست نہیں
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حسن بصری سے، حسن بصری نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٦٠ (٣٧٧) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٣٢ (٦٥٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٤٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٥٠، ٢١٨، ٢٥٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 641 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوپٹہ کے بغیر عورت کی نماز درست نہیں
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) طلحہ (رض) کی والدہ صفیہ (رض) کے پاس گئیں اور ان کی لڑکیوں کو دیکھا تو کہا کہ (ایک بار) رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، میرے حجرے میں ایک لڑکی موجود تھی، آپ ﷺ نے اپنی لنگی مجھے دی اور کہا : اسے پھاڑ کر دو ٹکڑے کرلو، ایک ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو ، اور دوسرا ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو جو ام سلمہ (رض) کے ہاں ہے، اس لیے کہ میرا خیال ہے کہ وہ بالغ ہوچکی ہے، یا میرا خیال ہے کہ وہ دونوں بالغ ہوچکی ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے اسی طرح ہشام نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٥٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٩٦، ٢٣٨) (ضعیف) (ابن سیرین اور عائشہ (رض) کے درمیان انقطاع ہے )
حدیث نمبر: 642 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلَحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا، فَقَالَتْ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَفِي حُجْرَتِي جَارِيَةٌ فَأَلْقَى لِي حَقْوَهُ، وَقَالَ لِي: شُقِّيهِ بِشُقَّتَيْنِ، فَأَعْطِي هَذِهِ نِصْفًا وَالْفَتَاةَ الَّتِي عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ نِصْفًا، فَإِنِّي لَا أَرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ، أَوْ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هِشَامٌ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سدل کرنے کی ممانعت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں سدل ١ ؎ کرنے اور آدمی کو منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عسل نے عطاء سے، عطاء نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤١٧٨) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٦١ (٣٧٨) ، مسند احمد (٢/٢٩٥، ٣٤٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٤ (١٤١٩) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : سدل یہ ہے کہ کپڑے کے دونوں کنارے دونوں مونڈھوں پر ڈالے بغیر یوں ہی نیچے کی جانب لٹکتا چھوڑ دیا جائے۔
حدیث نمبر: 643 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْعَطَاءٍ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عِسْلٌ،عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سدل کرنے کی ممانعت
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء کو نماز میں اکثر سدل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عطاء کا یہ فعل (سدل کرنا) سابق حدیث کی تضعیف کر رہا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : راوی کا اپنی روایت کردہ حدیث کے مخالف عمل اس حدیث کے ترک کرنے کے لئے قابل اعتبار نہیں، اصل اعتبار روایت کا ہے (اگر صحیح ہو) راوی کے عمل کا نہیں : الحجة فيما روى، لا فيما رأى نیز عطاء کا فتوی حدیث کے مطابق ثابت ہے جیسا کہ گزرا ، اس لئے عطاء کے فعل سے حدیث کی تضعیف درست نہیں ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ سدل کرتے وقت بھول گئے ہوں یا کوئی دوسرا عذر لاحق ہوگیا ہو۔
حدیث نمبر: 644 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ عَطَاءً يُصَلِّي سَادِلًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا يُضَعِّفُ ذَلِكَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سدل کرنے کی ممانعت
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے شعار یا لحاف ١ ؎ میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا : میرے والد (معاذ) کو شک ہوا ہے (کہ ام المؤمنین عائشہ نے لفظ : شعرنا کہا، یا : لحفنا ) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حديث رقم : 367 ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٢١، ١٧٥٨٩، ١٩٢٩٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جو کپڑا جسم سے لگا رہتا ہے اسے شعار کہتے ہیں، اور اوڑھنے کی چادر کو لحاف۔
حدیث نمبر: 645 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا أَوْ لُحُفِنَا، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: شَكَّ أَبِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا
ابوسعید مقبری سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے غلام ابورافع (رض) کو دیکھا کہ وہ حسن بن علی (رض) کے پاس سے گزرے، اور حسن اپنے بالوں کا جوڑا گردن کے پیچھے باندھے نماز پڑھ رہے تھے تو ابورافع نے اسے کھول دیا، اس پر حسن غصہ سے ابورافع کی طرف متوجہ ہوئے تو ابورافع نے ان سے کہا : آپ نماز پڑھئیے اور غصہ نہ کیجئے کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : یہ یعنی بالوں کا جوڑا شیطان کی بیٹھک ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٧٠ (٣٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/إقامةالصلاة ١٦٧ (١٠٤٢) ، مسند احمد (٦/٨، ٣٩١) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٥ (١٤٢٠) (حسن )
حدیث نمبر: 646 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَام وَهُوَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَدْ غَرَزَ ضَفْرَهُ فِي قَفَاهُ، فَحَلَّهَا أَبُو رَافِعٍ، فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: أَقْبِلْ عَلَى صَلَاتِكَ وَلَا تَغْضَبْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ، يَعْنِي: مَقْعَدَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي: مَغْرَزَ ضَفْرِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھنا
عبداللہ بن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام کریب کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عباس نے عبداللہ بن حارث (رض) کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں اور ان کے پیچھے بالوں کا جوڑا بندھا ہوا ہے، تو وہ ان کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے اور عبداللہ بن حارث چپ چاپ کھڑے رہے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے : آپ نے میرا سر کیوں کھول دیا ؟ تو انہوں نے کہا : اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ : اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ پیچھے رسی سے بندھے ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩٢) ، سنن النسائی/التطبیق ٥٧ (١١١٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٣٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٠٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٥ (١٤٢١) (صحیح )
حدیث نمبر: 647 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَامَ وَرَاءَهُ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتوں سمیت نماز پڑھنا
عبداللہ بن سائب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اپنے دونوں جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھے ہوئے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الافتتاح ٧٦ (١٠٠٨) ، والقبلة ٢٥ (٧٧٧) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٠٥ (١٤٣١) ، (تحفة الأشراف : ٥٣١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤١١) (صحیح )
حدیث نمبر: 648 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَوْمَ الْفَتْحِ وَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتوں سمیت نماز پڑھنا
عبداللہ بن سائب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی، آپ نے سورة مؤمنون کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ جب آپ ﷺ موسیٰ ١ ؎ اور ہارون علیہما السلام، یا موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے قصے پر پہنچے (راوی حدیث ابن عباد کو شک ہے یا رواۃ کا اس میں اختلاف ہے) تو آپ ﷺ کو کھانسی آگئی، آپ نے قرآت چھوڑ دی اور رکوع میں چلے گئے، عبداللہ بن سائب (رض) (سابقہ حدیث کے راوی) اس وقت وہاں موجود تھے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٠٦(٧٧٤ تعلیقاً ) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٥ (٤٥٥) ، سنن النسائی/الافتتاح ٧٦ (١٠٠٨) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٥ (٨٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٣١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤١١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا ذکر : ثم أرسلنا موسیٰ وأخاه هارون بآياتنا وسلطان مبين (سورۃ المومنون : ٤٥) میں ہے، اور عیسیٰ کا ذکر اس سے چار آیتوں کے بعد : وجعلنا ابن مريم وأمه آية وآويناهما إلى ربوة ذات قرار ومعين (سورۃ المؤمنون : ٥٠) میں ہے۔ ٢ ؎ : اس سے پہلے والی حدیث کی مناسبت باب سے ظاہر ہے اور یہ حدیث اسی حدیث کی مناسبت سے یہاں نقل کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 649 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَبُو عَاصِمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيِّبِ الْعَابِدِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ، حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى، وَهَارُونَ، أَوْ ذِكْرُ مُوسَى، وَعِيسَى، ابْنُ عَبَّادٍ يَشُكُّ أَوِ اخْتَلَفُوا، أَخَذَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ فَحَذَفَ فَرَكَعَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ لِذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتوں سمیت نماز پڑھنا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آپ نے اپنے جوتوں کو اتار کر انہیں اپنے بائیں جانب رکھ لیا، جب لوگوں نے یہ دیکھا تو (آپ ﷺ کی اتباع میں) انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا : تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار لیے ؟ ، ان لوگوں نے کہا : ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ کے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے : قذرا کہا، یا : أذى کہا، اور فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے دیکھ لے اگر ان میں نجاست لگی ہوئی نظر آئے تو اسے زمین پر رگڑ دے اور ان میں نماز پڑھے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٣٦٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٠، ٩٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٣ (١٤١٨) ، (صحیح )
حدیث نمبر: 650 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ ؟ قَالُوا: رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السلام أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا، أَوْ قَالَ: أَذًى، وَقَالَ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ، فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًى فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا.
তাহকীক: