কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৯১ টি
হাদীস নং: ৫৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں عورتوں کو نماز کے لئے نہ جانے دینے کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں (تو زیادہ اچھا ہو) ۔ نافع کہتے ہیں : چناچہ ابن عمر (رض) تاحیات اس دروازے سے مسجد میں کبھی داخل نہیں ہوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے، انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے، اس میں قال رسول الله ﷺ کے بجائے قال عمر (عمر (رض) نے کہا) ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٧٥٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 571 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ تَرَكْنَا هَذَا الْبَابَ لِلنِّسَاءِ، قَالَ نَافِعٌ: فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَهَذَا أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں شامل ہونے کے لئے اطمینان وسکون سے جانا چاہیے دوڑنا نہیں چاہیے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جب نماز کی تکبیر کہہ دی جائے تو نماز کے لیے دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان و سکون کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ، تو اب جتنی پاؤ اسے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کرلو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : زبیدی، ابن ابی ذئب، ابراہیم بن سعد، معمر اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اسی طرح : وما فاتکم فأتموا کے الفاظ روایت کئے ہیں، اور ابن عیینہ نے تنہا زہری سے لفظ : فاقضوا روایت کی ہے۔ محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے، اور جعفر بن ربیعہ نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے لفظ : فأتموا سے روایت کی ہے، اور اسے ابن مسعود (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اور ابوقتادہ (رض) اور انس (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے اور ان سب نے : فأتموا کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٨ (٦٠٢) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٧١، ١٥٣٢٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجمعة ١٨ (٩٠٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٢ (٣٢٧) ، سنن ابن ماجہ/المساجد ١٤ (٧٧٥) ، موطا امام مالک/الصلاة ١(٤) ، مسند احمد (٢/٢٧٠، ٢٨٢، ٣١٨، ٣٨٧، ٤٢٧، ٤٥٢، ٤٦٠، ٤٧٣، ٤٨٩، ٥٢٩، ٥٣٢، ٥٣٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ٥٩ (١٣١٩) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 572 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أن أبا هريرة، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا قَالَ الزُّبَيْدِيُّ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَمَعْمَرٌ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،: وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا، وقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَحْدَهُ، فَاقْضُوا، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَتِمُّوا، وَابْنُ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو قَتَادَةَ، وَأَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ، قَالُوا: فَأَتِمُّوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں شامل ہونے کے لئے اطمینان وسکون سے جانا چاہیے دوڑنا نہیں چاہیے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نماز کے لیے اس حال میں آؤ کہ تمہیں اطمینان و سکون ہو، پھر جتنی رکعتیں جماعت سے ملیں انہیں پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائیں وہ قضاء کرلو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح ابن سیرین نے ابوہریرہ (رض) سے لفظ وليقض سے روایت کی ہے۔ اور ابورافع نے بھی ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح کہا ہے۔ لیکن ابوذر نے ان سے : فأتموا واقضوا روایت کیا ہے، اور اس سند میں اختلاف کیا گیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٩٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٨٢، ٣٨٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : صحیح روایتوں سے معلوم ہوا کہ چھوٹی ہوئی رکعتیں بعد میں پڑھنے سے نماز پوری ہوجاتی ہے، اور مقتدی جو رکعت پاتا ہے وہ اس کی پہلی رکعت ہوتی ہیں، بقیہ کی وہ تکمیل کرتا ہے ، فقہاء کی اصطلاح میں قضا نماز کا اطلاق وقت گزرنے کے بعد پڑھی گئی نماز پر ہوتا ہے، احادیث میں قضا و اتمام سے مراد اتمام و تکمیل ہے، واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 573 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ائْتُوا الصَّلَاةَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ وَاقْضُوا مَا سَبَقَكُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلْيَقْضِ، وَكَذَا قَالَ أَبُو رَافِعٍ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبُو ذَرٍّ رَوَى عَنْهُ، فَأَتِمُّوا وَاقْضُوا، وَاخْتُلِفَ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں دو مرتبہ جماعت کرنے کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا : کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے، یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٥٠ (٢٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٥٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٦٤، ٨٥) ، سنن الدارمی/الصلاة ٩٨ (١٤٠٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 574 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي وَحْدَهُ، فَقَالَ: أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئے شخص گھر پر تنہا نماز پڑھ لے اور پھر مسجد میں جا کر جماعت ملے تو پھر سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھے
یزید بن الاسودخزاعی (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، وہ ایک جوان لڑکے تھے، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے کونے میں دو آدمی ہیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے، تو آپ نے دونوں کو بلوایا، انہیں لایا گیا، خوف کی وجہ سے ان پر کپکپی طاری تھی، آپ ﷺ نے ان دونوں سے پوچھا : تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ ، تو ان دونوں نے کہا : ہم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا : ایسا نہ کرو، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے پھر امام کو اس حال میں پائے کہ اس نے نماز نہ پڑھی ہو تو اس کے ساتھ (بھی) نماز پڑھے، یہ اس کے لیے نفل ہوجائے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٤٩ (٢١٩) ، سنن النسائی/الإمامة ٥٤ (٨٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٦٠، ١٦١) ، سنن الدارمی/الصلاة ٩٧ (١٤٠٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 575 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ، فَلَمَّا صَلَّى إِذَا رَجُلَانِ لَمْ يُصَلِّيَا فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَدَعَا بِهِمَا فَجِئَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ: مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا ؟ قَالَا: قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، فَقَالَ: لَا تَفْعَلُوا إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ فَلْيُصَلِّ مَعَهُ، فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئے شخص گھر پر تنہا نماز پڑھ لے اور پھر مسجد میں جا کر جماعت ملے تو پھر سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھے
یزید بن اسود خزاعی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز منیٰ میں پڑھی، پھر آگے راوی نے سابقہ معنی کی حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١١٨٢٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 576 حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمِنًى، بِمَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئے شخص گھر پر تنہا نماز پڑھ لے اور پھر مسجد میں جا کر جماعت ملے تو پھر سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھے
یزید بن عامر (رض) کہتے ہیں میں (مسجد) آیا، نبی اکرم ﷺ نماز میں تھے، تو میں بیٹھ گیا اور لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہوا، آپ ﷺ نماز پڑھ کر ہماری طرف مڑے تو مجھے (یزید بن عامر کو) بیٹھے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا : یزید ! کیا تم مسلمان نہیں ہو ؟ ، میں نے کہا : کیوں نہیں، اللہ کے رسول ! میں اسلام لا چکا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : پھر لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک کیوں نہیں ہوئے ؟ ، میں نے کہا : میں نے اپنے گھر پر نماز پڑھ لی ہے، میرا خیال تھا کہ آپ لوگ نماز پڑھ چکے ہوں گے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم کسی ایسی جگہ آؤ جہاں نماز ہو رہی ہو، اور لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے پاؤ تو ان کے ساتھ شریک ہو کر جماعت سے نماز پڑھ لو، اگر تم نماز پڑھ چکے ہو تو وہ تمہارے لیے نفل ہوگی اور یہ فرض ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٨٣١) (ضعیف) (اس کے ایک راوی نوح بن صعصعة مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 577 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ نُوحِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: جِئْتُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ أَدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى يَزِيدَ جَالِسًا، فَقَالَ: أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيدُ ؟ قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ ؟ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي، وَأَنَا أَحْسَبُ أَنْ قَدْ صَلَّيْتُمْ، فَقَالَ: إِذَا جِئْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَوَجَدْتَ النَّاسَ فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ تَكُنْ لَكَ نَافِلَةً وَهَذِهِ مَكْتُوبَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئے شخص گھر پر تنہا نماز پڑھ لے اور پھر مسجد میں جا کر جماعت ملے تو پھر سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھے
عفیف بن عمرو بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھ سے قبیلہ بنی اسد بن خزیمہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ انہوں نے ابوایوب انصاری (رض) سے دریافت کیا کہ ہم میں سے ایک شخص اپنے گھر پر نماز پڑھ لیتا ہے، پھر مسجد آتا ہے، وہاں نماز کھڑی ہوتی ہے، تو میں ان کے ساتھ بھی نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر اس سے میں اپنے دل میں شبہ پاتا ہوں، اس پر ابوایوب انصاری نے کہا : ہم نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ اس کے لیے مال غنیمت کا ایک حصہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٥٠١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٣(١١) (ضعیف) (اس کے راوی عفیف لین الحدیث ہیں اور رجل مبہم ہے )
حدیث نمبر: 578 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَفِيفَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، فَقَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِهِ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ، فَأُصَلِّي مَعَهُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ذَلِكَ لَهُ سَهْمُ جَمْعٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک مرتبہ جماعت سے نماز پڑھنے کے بعد دوسری مرتبہ جماعت میں شرکت
ام المؤمنین میمونہ (رض) کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار کہتے ہیں : میں بلاط میں عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس آیا، لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو میں نے کہا : آپ ان کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : میں نماز پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ تم کوئی نماز ایک دن میں دو بار نہ پڑھو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الإمامة ٥٦ (٨٦١) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٩، ٤١) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 579 حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ يَعْنِي مَوْلَى مَيْمُونَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ عَلَى الْبَلَاطِ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَقُلْتُ: أَلَا تُصَلِّي مَعَهُمْ ؟ قَالَ: قَدْ صَلَّيْتُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تُصَلُّوا صَلَاةً فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امامت کی فضیلت
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جس نے لوگوں کی امامت کی اور وقت پر اسے اچھی طرح ادا کیا تو اسے بھی اس کا ثواب ملے گا اور مقتدیوں کو بھی، اور جس نے اس میں کچھ کمی کی تو اس کا وبال صرف اسی پر ہوگا ان (مقتدیوں) پر نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٧ (٩٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٩٩١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٤٥، ١٥٤، ١٥٦) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 580 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِر، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ الْوَقْتَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امامت کے مسلہ پر جھگڑنا نہیں چاہیئے
خرشہ بن حر فزاری کی بہن سلامہ بنت حر (رض) کہتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسجد والے آپس میں ایک دوسرے کو امامت کے لیے دھکیلیں گے، انہیں کوئی امام نہ ملے گا جو ان کو نماز پڑھائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٨ (٩٨٢) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٨١) (ضعیف) (اس کی راویہ عقیلہ اور طلحہ أم الغراب مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 581 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَتْنِي طَلْحَةُ أُمُّ غُرَابٍ، عَنْ عَقِيلَةَ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ مَوْلَاةٍ لَهُمْ، عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ أُخْتِ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ الْفَزَارِيِّ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امامت کا مستحق کون ہے؟
ابومسعود بدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو کتاب اللہ کو سب سے زیادہ پڑھنے والا ہو، اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو ان میں جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر ہجرت میں بھی برابر ہوں تو ان میں بڑی عمر والا امامت کرے، آدمی کی امامت اس کے گھر میں نہ کی جائے اور نہ اس کی حکومت میں، اور نہ ہی اس کی تکرمہ (مسند وغیرہ) پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے ۔ شعبہ کا بیان ہے : میں نے اسماعیل بن رجاء سے کہا : آدمی کا تکرمہ کیا ہوتا ہے ؟ انہوں نے کہا : اس کا فراش یعنی مسند وغیرہ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٣) ، سنن الترمذی/الصلاة ٦٢ (٢٣٥) ، سنن النسائی/الإمامة ٣، (٧٨١) ، ٦ (٧٨٤) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٦ (٩٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/ ١١٨، ١٢١، ١٢٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 582 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي بَيْتِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِإِسْمَاعِيلَ: مَا تَكْرِمَتُهُ ؟ قَالَ: فِرَاشُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امامت کا مستحق کون ہے؟
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے : ولا يؤم الرجل الرجل في سلطانه کوئی شخص کسی کی سربراہی کی جگہ میں اس کی امامت نہ کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح یحییٰ قطان نے شعبہ سے أقدمهم قرائة (لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو قرأت میں سب سے فائق ہو) کی روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٩٩٧٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 583 حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ وَلَا يَؤُمُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَكَذَا قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ شُعْبَةَ، أَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امامت کا مستحق کون ہے؟
ابومسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر لوگ قرأت میں برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو، اگر اس میں بھی برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو ۔ اس روایت میں فأقدمهم قرائة کے الفاظ نہیں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے حجاج بن ارطاۃ نے اسماعیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے : تم کسی کے تکرمہ (مسند وغیرہ) پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٩٩٧٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 584 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، وَلَمْ يَقُلْ: فَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: وَلَا تَقْعُدْ عَلَى تَكْرِمَةِ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امامت کا مستحق کون ہے؟
عمرو بن سلمہ (رض) کہتے ہیں ہم ایسے مقام پر (آباد) تھے جہاں سے لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آتے جاتے گزرتے تھے، تو جب وہ لوٹتے تو ہمارے پاس سے گزرتے اور ہمیں بتاتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا ایسا فرمایا ہے، اور میں ایک اچھے حافظہ والا لڑکا تھا، اس طرح سے میں نے بہت سا قرآن یاد کرلیا تھا، چناچہ میرے والد اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ وفد کی شکل میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گئے تو آپ ﷺ نے انہیں نماز سکھائی اور فرمایا : تم میں لوگوں کی امامت وہ کرے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو ، اور میں ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا تھا اس لیے کہ میں قرآن یاد کیا کرتا تھا، لہٰذا لوگوں نے مجھے آگے بڑھا دیا، چناچہ میں ان کی امامت کرتا تھا اور میرے جسم پر ایک چھوٹی زرد رنگ کی چادر ہوتی، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری شرمگاہ کھل جاتی، چناچہ ایک عورت نے کہا : تم لوگ اپنے قاری (امام) کی شرمگاہ ہم سے چھپاؤ، تو لوگوں نے میرے لیے عمان کی بنی ہوئی ایک قمیص خرید دی، چناچہ اسلام کے بعد مجھے جتنی خوشی اس سے ہوئی کسی اور چیز سے نہیں ہوئی، ان کی امامت کے وقت میں سات یا آٹھ برس کا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٥٣ (٤٣٠٢) ، سنن النسائی/الأذان ٨ (٦٣٧) ، والقبلة ١٦ (٧٦٨) ، والإمامة ١١ (٧٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٦٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٧٥، ٥/٢٩، ٧١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز فرض ہو یا نفل نابالغ لڑکا (جو اچھا قاری اور نماز کے ضروری مسائل سے واقف ہو) امام ہوسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 585 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا بِحَاضِرٍ يَمُرُّ بِنَا النَّاسُ إِذَا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانُوا إِذَا رَجَعُوا مَرُّوا بِنَا فَأَخْبَرُونَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَذَا وَكَذَا، وَكُنْتُ غُلَامًا حَافِظًا فَحَفِظْتُ مِنْ ذَلِكَ قُرْآنًا كَثِيرًا، فَانْطَلَقَ أَبِي وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَعَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: يَؤُمُّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ، وَكُنْتُ أَقْرَأَهُمْ لِمَا كُنْتُ أَحْفَظُ، فَقَدَّمُونِي فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ لِي صَغِيرَةٌ صَفْرَاءُ فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَكَشَّفَتْ عَنِّي، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ: وَارُوا عَنَّا عَوْرَةَ قَارِئِكُمْ، فَاشْتَرَوْا لِي قَمِيصًا عُمَانِيًّا فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحِي بِهِ، فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امامت کا مستحق کون ہے؟
اس سند سے بھی عمرو بن سلمہ (رض) سے یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہے میں ایک پیوند لگی ہوئی پھٹی چادر میں ان کی امامت کرتا تھا، تو جب میں سجدہ میں جاتا تو میری سرین کھل جاتی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٤٥٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 586 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ فِي بُرْدَةٍ مُوَصَّلَةٍ فِيهَا فَتْقٌ، فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ خَرَجَتِ اسْتِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امامت کا مستحق کون ہے؟
عمرو بن سلمہ (رض) کے والد سلمہ بن قیس اشجعی (رض) کہتے ہیں کہ وہ لوگ ایک وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور جب لوٹنے کا ارادہ کیا تو ان لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ہماری امامت کون کرے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس کو قرآن زیادہ یاد ہو ۔ راوی کو شک ہے جمعا للقرآن کہا، یا : أخذا للقرآن کہا، عمرو بن سلمہ (رض) کہتے ہیں : میرے برابر کسی کو قرآن یاد نہ تھا، تو لوگوں نے مجھ کو امامت کے لیے آگے بڑھا دیا، حالانکہ میں اس وقت لڑکا تھا، میرے جسم پر ایک چادر ہوتی تھی، اس کے بعد سے میں قبیلہ جرم کی جس مجلس میں بھی موجود رہا میں ہی ان کا امام رہا، اور آج تک میں ہی ان کے جنازوں کی نماز پڑھاتا رہا ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے یزید بن ہارون نے مسعر بن حبیب جرمی سے اور مسعر نے عمرو بن سلمہ (رض) سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ جب میری قوم کے لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اور اس میں انہوں نے عن أبيه نہیں کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٤٥٦٥) (صحیح) لیکن : عن أبيه کا قول غیر محفوظ ہے
حدیث نمبر: 587 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجَرْمِيِّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْصَرِفُوا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ يَؤُمُّنَا ؟ قَالَ: أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ، أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ، قَالَ: فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ جَمَعَ مَا جَمَعْتُهُ، قَالَ: فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ لِي فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلَّا كُنْتُ إِمَامَهُمْ، وَكُنْتُ أُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِهِمْ إِلَى يَوْمِي هَذَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجَرْمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: لَمَّا وَفَدَ قَوْمِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امامت کا مستحق کون ہے؟
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی آمد سے پہلے جب مہاجرین اوّلین (مدینہ) آئے اور عصبہ ١ ؎ میں قیام پذیر ہوئے تو ان کی امامت ابوحذیفہ (رض) کے آزاد کردہ غلام سالم (رض) کیا کرتے تھے، انہیں قرآن سب سے زیادہ یاد تھا۔ ہیثم نے اضافہ کیا ہے کہ ان میں عمر بن خطاب (رض) اور ابوسلمہ بن عبدالاسد (رض) بھی موجود ہوتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٥٤ (٦٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٨٠٠، ٨٠٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مدینہ میں قبا کے پاس ایک جگہ ہے۔
حدیث نمبر: 588 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ. ح وحَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ نَزَلُوا الْعُصْبَةَ قَبْلَ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَكَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، زَادَ الْهَيْثَمُ: وَفِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امامت کا مستحق کون ہے؟
مالک بن حویرث (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے یا ان کے ایک ساتھی سے فرمایا : جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم اذان دو ، پھر تکبیر کہو، پھر جو تم دونوں میں عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے ۔ مسلمہ کی روایت میں ہے : اور ہم دونوں علم میں قریب قریب تھے۔ اسماعیل کی روایت میں ہے : خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوقلابہ سے پوچھا : پھر قرآن کہاں رہا ؟ انہوں نے کہا : اس میں بھی وہ دونوں قریب قریب تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٧ (٦٢٨) ، ٣٥ (٦٥٨) ، ٤٩ (٦٨٥) ، ١٤٠ (٨١٩) ، والجہاد ٤٢ (٢٨٤٨) ، والأدب ٢٧ (٦٠٠٨) ، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٤٦) ، صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ٣٧ (٢٠٥) ، سنن النسائی/الأذان ٧ (٦٣٥) ، ٨ (٦٣٦) ، ٢٩ (٦٧٠) ، والإمامة ٤ (٧٨٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٦ (٩٧٩) ، (تحفة الأشراف : ١١١٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٣٦، ٥/٥٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤٢ (١٢٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 589 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ أَوْ لِصَاحِبٍ لَهُ: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا سِنًّا، وَفِي حَدِيثِ مَسْلَمَةَ، قَالَ: وَكُنَّا يَوْمَئِذٍ مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْعِلْمِ، وقَالَ فِي حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ: قَالَ خَالِدٌ: قُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: فَأَيْنَ الْقُرْآنُ ؟ قَالَ: إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امامت کا مستحق کون ہے؟
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے وہ لوگ اذان دیں جو تم میں بہتر ہوں، اور تمہاری امامت وہ لوگ کریں جو تم میں عالم و قاری ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأذان ٥ (٧٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٠٣٩) (ضعیف) (اس کے راوی حسین حنفی ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 590 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ قُرَّاؤُكُمْ.
তাহকীক: