কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯০ টি
হাদীস নং: ১৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کا طریقہ
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ موزوں پر مسح کرتے تھے۔ اور محمد بن صباح کے علاوہ دوسرے لوگوں سے على ظهر الخفين. (موزوں کی پشت پر) مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٤٩، سنن الترمذی/الطہارة ٧٣ (٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٥١٢) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 161 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: ذَكَرَهُ أَبِي، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وقَالَ غَيْرُ مُحَمَّدٍ: عَلَى ظَهْرِ الْخُفَّيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کا طریقہ
علی (رض) کہتے ہیں اگر دین ( کا معاملہ) رائے اور قیاس پر ہوتا، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٢٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٩٥، سنن الدارمی/ الطھارة ٤٣ (٧٤٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 162 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ، لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کا طریقہ
اعمش سے یہی حدیث اس سند سے مروی ہے، اس میں ہے کہ علی (رض) نے کہا : میں دونوں پیروں کے تلوؤں کو دھونا ہی زیادہ مناسب سمجھتا رہا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٠٢٠٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 163 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ إِلَّا أَحَقَّ بِالْغَسْلِ حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کا طریقہ
اس سند سے بھی اعمش سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ علی (رض) نے کہا : اگر دین (کا معاملہ) قیاس پر ہوتا تو دونوں قدموں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے زیادہ بہتر ہوتا، حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ہے۔ اور اسے وکیع نے بھی اعمش سے اسی سند سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ علی (رض) نے کہا : میں دونوں پیروں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے بہتر جانتا تھا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا۔ وکیع کا بیان ہے کہ لفظ قدمين سے مراد خفين ہے، وکیع ہی کی طرح اسے عیسیٰ بن یونس نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے، نیز اسے ابوالسوداء نے ابن عبد خیر سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے علی کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پاؤں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ١ ؎ اور کہا : اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا، پھر ابوالسوداء نے پوری روایت آخر تک بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٠٢٠٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ابوالسوداء کی روایت میں فغسل ظاهر قدميه کے الفاظ آئے ہیں، بظاہر یہاں ” غسل “ : ” مسح “ کے معنی میں ہے، واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 164 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ بَاطِنُ الْقَدَمَيْنِ أَحَقَّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا، وَقَدْ مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ، وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِهِمَا، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي الْخُفَّيْنِ، وَرَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، كَمَا رَوَاهُ وَكِيعٌ، وَرَوَاهُ أَبُو السَّوْدَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظَاهِرَ قَدَمَيْهِ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کا طریقہ
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو غزوہ تبوک میں وضو کرایا، تو آپ نے دونوں موزوں کے اوپر اور ان کے نیچے مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ثور نے یہ حدیث رجاء بن حیوۃ سے نہیں سنی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٧٢ (٩٧) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٥ (٥٥٠) ، موطا امام مالک/الطھارة ٨ (٤١) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٣٧) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الطھارة ٤١ (٧٤٠) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے جس کو مؤلف نے واضح کردیا ہے، اور دارمی کی روایت میں عموم ہے، اعلی واسفل کا ذکر نہیں ہے )
حدیث نمبر: 165 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفَّيْنِ وَأَسْفَلَهُمَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَبَلَغَنِي أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ ثَوْرُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَجَاءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے دینے کا بیان
سفیان بن حکم ثقفی یا حکم بن سفیان ثقفی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب پیشاب کرتے تو وضو کرتے، اور (وضو کے بعد) شرمگاہ پر (تھوڑا) پانی چھڑک لیتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ١٠٢ (١٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٥٨ (٤٦١) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٢٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٧٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 166 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ الثَّقَفِيِّ أَوِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَالَ يَتَوَضَّأُ وَيَنْتَضِحُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَافَقَ سُفْيَانَ جَمَاعَةٌ عَلَى هَذَا الْإِسْنَادِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: الْحَكَمُ، أَوْ ابْنُ الْحَكَمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے دینے کا بیان
ثقیف کے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٣٤٢٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 167 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ نَضَحَ فَرْجَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ پر پانی کے چھینٹے دینے کا بیان
حکم یا ابن حکم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٣٤٢٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : وضو کے بعد تھوڑا سا پانی پاجامہ کی میانی پر چھڑک لے، تاکہ وہاں پیشاب کا قطرہ ہونے کا وسوسہ ختم ہوجائے، یہ وسوسہ دور کرنے کی عمدہ تدبیر ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو سکھلائی ہے۔
حدیث نمبر: 168 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَوِ ابْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے بعد کی دعا
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنا کام خود کرتے تھے، باری باری اپنے اونٹوں کو چراتے تھے، ایک دن اونٹ چرانے کی میری باری آئی، میں انہیں شام کے وقت لے کر چلا، تو رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں پایا کہ آپ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پوری توجہ اور حضور قلب (دل جمعی) کے ساتھ ادا کرے تو اس نے (اپنے اوپر جنت) واجب کرلی ، میں نے کہا : واہ واہ یہ کیا ہی اچھی (بشارت) ہے، اس پر میرے سامنے موجود شخص نے عرض کیا : عقبہ ! جو بات رسول اللہ ﷺ نے اس سے پہلے فرمائی، وہ اس سے بھی زیادہ عمدہ تھی، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب (رض) تھے، عرض کیا : ابوحفص ! وہ کیا تھی ؟ آپ نے کہا : تمہارے آنے سے پہلے ابھی رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھے : أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو ۔ معاویہ کہتے ہیں : مجھ سے ربیعہ بن یزید نے بیان کیا ہے، انہوں نے ابوادریس سے اور ابوادریس نے عقبہ بن عامر (رض) سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ٦ (٢٣٤) ، سنن النسائی/الطھارة ١١١ (١٥١) ، سنن الترمذی/الطھارة ٤١ (٥٥) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٠ (٤٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٩١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٤٦، ١٥١، ١٥٣) ، سنن الدارمی/الطھارة ٤٤ (٧٤٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 169 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْجُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُدَّامَ أَنْفُسِنَا نَتَنَاوَبُ الرِّعَايَةَ رِعَايَةَ إِبِلِنَا، فَكَانَتْ عَلَيَّ رِعَايَةُ الْإِبِلِ فَرَوَّحْتُهَا بِالْعَشِيِّ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ، إِلَّا قَدْ أَوْجَبَ، فَقُلْتُ: بَخٍ بَخٍ، مَا أَجْوَدَ هَذِهِ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ الَّتِي قَبْلَهَا: يَا عُقْبَةُ أَجْوَدُ مِنْهَا، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ: مَا هِيَ يَا أَبَا حَفْصٍ ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ آنِفًا قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ وُضُوئِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ، قَالَ مُعَاوِيَةُ: وَحَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کے بعد کی دعا
اس سند سے بھی عقبہ بن عامر جہنی (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے ابوعقیل یا ان سے اوپر یا نیچے کے راوی نے اونٹوں کے چرانے کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز آپ ﷺ کے قول : فأحسن الوضوء کے بعد یہ جملہ کہا ہے : پھر اس نے (یعنی وضو کرنے والے نے) اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ دعا پڑھی ١ ؎۔ پھر ابوعقیل راوی نے معاویہ بن صالح کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٩٩٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٥٠) (ضعیف) (سند کے ایک راوی ابن عم ابوعقیل مبہم ہے ) وضاحت : ١ ؎ : اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ ابوعقیل نے اپنی روایت میں اونٹ چرانے کے واقعے کا ذکر نہیں کیا ہے اور حدیث کی روایت ان الفاظ میں کی ہے : ما منکم من أحد يتوضأ فاحسن الوضوء ثم رفع بصره إلى السماء فقال أشهد أن لا إله إلا الله إلى آخر الحديث كما قال معاوية واللہ اعلم ، رہی آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کی حکمت تو یہ شارع کو معلوم ہے۔
حدیث نمبر: 170 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، عَنْ حَيْوَةَ وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، عَنْ ابْنِ عَمِّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الرِّعَايَةِ، قَالَ: عِنْدَ قَوْلِهِ: فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
عمرو بن عامر بجلی (محمد بن عیسیٰ کہتے ہیں : عمرو بن عامر بجلی ابواسد بن عمرو ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے وضو کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، اور ہم لوگ ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطھارة ٥٤ (٢١٤) ، سنن الترمذی/الطھارة ٤٤ (٦٠) ، سنن النسائی/الطھارة ١٠١ (١٣١) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٢ (٥٠٩) ، (تحفة الأشراف : ١١١٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٣٢، ١٩٤، ٢٦٠، سنن الدارمی/الطھارة ٤٦ (٧٤٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 171 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ، قَالَ مُحَمَّدٌ هُوَ أَبُو أَسَدِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: سَأَلْتُأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَكُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ایک ہی وضو سے پانچ نمازیں ادا کیں، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، اس پر عمر (رض) نے آپ ﷺ سے کہا : میں نے آج آپ کو وہ کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کبھی نہیں کرتے تھے ١ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ٢٥ (٢٧٧) ، سنن الترمذی/الطھارة ٤٥ (٦١) ، سنن النسائی/الطھارة ١٠١ (١٣٣) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٢ (٥١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٩٢٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٥٠، ٣٥١، ٣٥٨) ، سنن الدارمی/الطھارة ٣ (٦٨٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ایک ہی وضو سے کئی نماز پڑھنے کا کام۔
حدیث نمبر: 172 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ، قَالَ: عَمْدًا صَنَعْتُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں کسی عضو کا خشک رہ جانا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس وضو کر کے آیا، اس نے اپنے پاؤں میں ناخن کے برابر جگہ (خشک) چھوڑ دی تھی، تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا : تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جریر بن حازم سے مروی یہ حدیث معروف نہیں ہے، اسے صرف ابن وہب نے روایت کیا ہے، اس جیسی حدیث معقل بن عبیداللہ جزری سے بھی مروی ہے، معقل ابوزبیر سے، ابوزبیر جابر سے، جابر عمر سے، اور عمر (رض) نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، اس میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا : تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٣٩ (٦٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٤٦) ، وحدیث عمر أخرجہ : صحیح مسلم/الطہارة ١٠ (٢٤٣) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٣٩ (٦٦٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 173 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمِهِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، وَلَمْ يَرْوِهِ إِلَّا ابْنُ وَهْبٍ وَحْدَهُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ،عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ: ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں کسی عضو کا خشک رہ جانا
اس سند سے حسن (حسن بصری) نے نبی اکرم ﷺ سے قتادہ (قتادہ ابن دعامۃ) کی حدیث کے ہم معنی (مرسلاً ) روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٨٥١٢، ١٨٥٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 174 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَحُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى قَتَادَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں کسی عضو کا خشک رہ جانا
ایک صحابی رسول (رض) کا ارشاد ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا، اس کے پاؤں کے اوپری حصہ میں ایک درہم کے برابر حصہ خشک رہ گیا تھا، وہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے وضو، اور نماز دونوں کے لوٹانے کا حکم دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبواداود، (تحفة الأشراف : ١٥٥٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : باب کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے صرف خشک جگہ دھونے کا حکم نہیں دیا ، بلکہ پورا وضو کرنے کا حکم دیا ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو کے اعضاء پے در پے مسلسل دھونے چاہئیں، اور ان کے درمیان فاصلہ نہیں ہونا چاہیے ، یعنی اعضاء وضو کے دھونے میں فصل جائز نہیں ، اس مسئلہ میں دونوں طرح کے اقوال ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ اگر زیادہ تاخیر نہ ہوئی ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔
حدیث نمبر: 175 حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بُجَيْرٍ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّ وَفِي ظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ قَدْرُ الدِّرْهَمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب وضو ٹوٹنے میں شک ہو تو کیا کرے؟
عباد بن تمیم کے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم الانصاری رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے یہ شکایت کی گئی کہ آدمی کو کبھی نماز میں شبہ ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ اسے خیال ہونے لگتا ہے (کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا) ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، نماز نہ توڑے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٤ (١٣٧) ، ٣٤ (١٧٧) ، البیوع ٥ (٢٠٥٦) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢٦ (٣٦١) ، سنن النسائی/الطھارة ١١٥ (١٦٠) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٤ (٥١٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٩، ٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 176 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أُبَيِّ خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُخَيَّلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَا يَنْفَتِلْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب وضو ٹوٹنے میں شک ہو تو کیا کرے؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو پھر وہ اپنی سرین میں کچھ حرکت محسوس کرے، اور اسے شبہ ہوجائے کہ وضو ٹوٹا یا نہیں، تو جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، نماز نہ توڑے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، تحفة (١٢٦٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٢٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٦ (٣٦٢) ، سنن الترمذی/الطھارة ٥٦ (٧٥) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٤ (٥١٦) ، مسند احمد (٤/٤١٤) ، سنن الدارمی/الطھارة ٤٧ (٧٤٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 177 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَ حَرَكَةً فِي دُبُرِهِ أَحْدَثَ أَوْ لَمْ يُحْدِثْ فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ، فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا عورت کا بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے فریابی وغیرہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مرسل ہے، ابراہیم تیمی کا ام المؤمنین عائشہ (رض) سے سماع ثابت نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابراہیم تیمی ابھی چالیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ ان کا انتقال ہوگیا تھا، ان کی کنیت ابواسماء تھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ١٢١ (١٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩١٥) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الطھارة ٦٣ (٨٦) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٩ (٥٠٢) ، مسند احمد (٦/٢١٠) (صحیح) (اگلی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے ورنہ خود یہ سند منقطع ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے )
حدیث نمبر: 178 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُ الْفِرْيَابِيُّ وَغَيْرُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ مُرْسَلٌ، إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَاتَ إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ وَلَمْ يَبْلُغْ أَرْبَعِينَ سَنَةً، وَكَانَ يُكْنَى: أَبَا أَسْمَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا عورت کا بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ایک بیوی کا بوسہ لیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور (پھر سے) وضو نہیں کیا۔ عروہ کہتے ہیں : میں نے ان سے کہا : وہ بیوی آپ کے علاوہ اور کون ہوسکتی ہیں ؟ یہ سن کر وہ ہنسنے لگیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٧٣٧١) (صحیح )
حدیث نمبر: 179 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ عُرْوَةُ: مَنْ هِيَ إِلَّا أَنْتِ، فَضَحِكَتْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا رَوَاهُ زَائِدَةُ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ،عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا عورت کا بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ (رض) سے یہی حدیث مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید قطان نے ایک شخص سے کہا : میرے حوالہ سے بیان کرو کہ یہ دونوں حدیثیں یعنی ایک تو یہی اعمش کی حدیث جو حبیب سے مروی ہے، دوسری وہ جو اسی سند سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی لا شىء کے مشابہ ہے (یعنی یہ دونوں حدیثیں سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ثوری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم سے حبیب نے صرف عروہ مزنی کے طریق سے بیان کیا، یعنی ان لوگوں سے حبیب نے عروہ بن زبیر کے واسطہ سے کچھ نہیں بیان کیا ہے (یعنی : عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت ثابت نہیں) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : لیکن حمزہ زیات نے حبیب سے، حبیب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے ایک صحیح حدیث روایت کی ہے (یعنی : عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت صحیح ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٨٧٦٨، ١٧٣٧١) (صحیح )
حدیث نمبر: 180 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَخْلَدٍ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَغْرَاءَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، أَخْبَرَنَا أَصْحَابٌ لَنَا، عَنْ عُرْوَةَ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ أَبُو دَاوُد، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ لِرَجُلٍ: احْكِ عَنِّي أَنَّ هَذَيْنِ يَعْنِي حَدِيثَ الْأَعْمَشِ هَذَا، عَنْ حَبِيبٍ، وَحَدِيثَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، أَنَّهَا تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ يَحْيَى: احْكِ عَنِّي أَنَّهُمَا شِبْهُ لَا شَيْءَ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرُوِيَ عَنْ الثَّوْرِيِّ، قَالَ: مَا حَدَّثَنَا حَبِيبٌ إِلَّا عَنْ عُرْوَةَ الْمُزَنِيِّ يَعْنِي لَمْ يُحَدِّثْهُمْ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ بِشَيْءٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ رَوَى حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ حَدِيثًا صَحِيحًا.
তাহকীক: