কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯০ টি
হাদীস নং: ১৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناک میں پانی ڈال کر جھڑ
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ناک میں پانی ڈال کر اسے دو یا تین بار اچھی طرح سے جھاڑو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٤٤ (٤٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 141 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ قَارِظٍ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَنْثِرُوا مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناک میں پانی ڈال کر جھڑ
لقیط بن صبرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا، جب ہم آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ گھر میں نہیں ملے، ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ (رض) ملیں، انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ ١ ؎ تیار کرنے کا حکم کیا، وہ تیار کیا گیا، ہمارے سامنے تھالی لائی گئی۔ (قتیبہ نے اپنی روایت میں قناع کا لفظ نہیں کہا ہے، قناع کھجور کی لکڑی کی اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی جاتی ہے) ۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور پوچھا : تم لوگوں نے کچھ کھایا ؟ یا تمہارے کھانے کے لیے کوئی حکم دیا گیا ؟ ، ہم نے جواب دیا : ہاں، اے اللہ کے رسول ! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا، اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا جو ممیا رہا تھا، آپ ﷺ نے (اس سے) پوچھا : اے فلاں ! کیا پیدا ہوا (نر یا مادہ) ؟ ، اس نے جواب دیا : مادہ، آپ ﷺ نے فرمایا : تو اس کے جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو ۔ پھر (لقیط سے) فرمایا : یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے اسے تمہارے لیے ذبح کیا ہے، بلکہ (بات یہ ہے کہ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں جسے ہم بڑھانا نہیں چاہتے، اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔ لقیط کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میری ایک بیوی ہے جو زبان دراز ہے (میں کیا کروں) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تب تو تم اسے طلاق دے دو ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے تو تمہاری اطاعت کرے گی، اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو ۔ پھر میں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا : وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کرو، اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ الا یہ کہ تم صائم ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٣٠ (٣٨) ، الصوصحیح مسلم/ ٦٩ (٧٨٨) ، سنن النسائی/الطھارة ٧١ (٨٧) ، ٩٢ (١١٤) ، سنن ابن ماجہ/ ٤٤ (٤٠٧) ، ٥٤ (٤٤٨) ، (تحفة الأشراف : ١١١٧٢) ، ویأتی عند المؤلف برقم (٢٣٦٦) و (٣٩٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٣) ، سنن الدارمی/الطھارة ٣٤ (٧٣٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : خزیرہ ایک قسم کا کھانا ہے ، اس کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کو کافی مقدار میں پانی میں ابالا جاتا ہے جب گوشت پک جاتا ہے تو اس میں آٹا ڈال کر اسے مزید پکایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 142 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُصَادِفْهُ فِي مَنْزِلِهِ وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: فَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ لَنَا، قَالَ: وَأُتِينَا بِقِنَاعٍ وَلَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ الْقِنَاعَ، وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيهِ تَمْرٌ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ أَصَبْتُمْ شَيْئًا أَوْ أُمِرَ لَكُمْ بِشَيْءٍ ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ، إِذْ دَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِلَى الْمُرَاحِ وَمَعَهُ سَخْلَةٌ تَيْعَرُ، فَقَالَ: مَا وَلَّدْتَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ: بَهْمَةً، قَالَ: فَاذْبَحْ لَنَا مَكَانَهَا شَاةً، ثُمَّ قَالَ: لَا تَحْسِبَنَّ، وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ، فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِنَّ فِي لِسَانِهَا شَيْئًا يَعْنِي الْبَذَاءَ، قَالَ: فَطَلِّقْهَا إِذًا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَهَا صُحْبَةً وَلِي مِنْهَا وَلَدٌ، قَالَ: فَمُرْهَا يَقُولُ: عِظْهَا، فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ أُمَيَّتَكَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناک میں پانی ڈال کر جھڑ
بنی منتفق کے وفد میں شریک لقیط بن صبرہ کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، اس میں یہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں رسول اللہ ﷺ آگے کو جھکتے ہوئے یعنی تیز چال چلتے ہوئے تشریف لائے، اس روایت میں لفظ خزيرة کی جگہ عصيدة (ایک قسم کا کھانا) کا ذکر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١١١٧٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 143 حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ: فَلَمْ يَنْشَبْ أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ، وَقَالَ عَصِيدَةٌ: مَكَانَ خَزِيرَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناک میں پانی ڈال کر جھڑ
اس طریق سے بھی ابن جریج سے یہی حدیث مروی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم وضو کرو تو کلی کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١١١٧٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 144 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: إِذَا تَوَضَّأْتَ فَمَضْمِضْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ڈاڑھی میں خلال کرنے کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو کرتے تو ایک چلو پانی لے کر اسے اپنی ٹھوڑی کے نیچے لے جاتے تھے، پھر اس سے اپنی داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے : میرے رب عزوجل نے مجھے ایسا ہی حکم دیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ولید بن زور ان سے حجاج بن حجاج اور ابوالملیح الرقی نے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف : ١٦٤٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٥٠ (٤٣١) (صحیح )
حدیث نمبر: 145 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ يَعْنِي الرَّبِيعَ بْنَ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ زَوْرَانَ، عَنْ أَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَأَدْخَلَهُ تَحْتَ حَنَكِهِ فَخَلَّلَ بِهِ لِحْيَتَهُ، وَقَالَ: هَكَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَالْوَلِيدُ بْنُ زَوْرَانَ: رَوَى عَنْهُ حَجَّاجُ بْنُ حَجَّاجٍ، وَأَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ پر مسح کرنے کا بیان
ثوبان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ (چھوٹا لشکر) بھیجا تو اسے ٹھنڈ لگ گئی، جب وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں (وضو کرتے وقت) عماموں (پگڑیوں) اور موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٠٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٧٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 146 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَأَصَابَهُمُ الْبَرْدُ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَمْسَحُوا عَلَى الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمامہ پر مسح کرنے کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے دیکھا، آپ کے سر مبارک پر قطری (یعنی قطر بستی کا بنا ہوا) عمامہ تھا، آپ ﷺ نے اپنا داہنا ہاتھ عمامہ (پگڑی) کے نیچے داخل کیا اور عمامہ (پگڑی) کھولے بغیر اپنے سر کے اگلے حصہ کا مسح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٩ (٥٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٢٥) (ضعیف) (اس کے راوی ابومعقل مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 147 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي مَعْقِلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قِطْرِيَّةٌ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ وَلَمْ يَنْقُضْ الْعِمَامَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں دھونے کا بیان
مستورد بن شداد (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ وضو کرتے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو چھنگلیا (ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی) سے ملتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٣٠ (٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٥٤ (٤٤٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٥٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٢٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 148 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ يَدْلُكُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کا بیان
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک میں فجر سے پہلے مڑے، میں آپ کے ساتھ تھا، میں بھی مڑا، پھر آپ ﷺ نے اونٹ بٹھایا اور قضائے حاجت کی، پھر آئے تو میں نے چھوٹے برتن (لوٹے) سے آپ کے ہاتھ پر پانی ڈالا، آپ ﷺ نے دونوں پہونچے دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر آستین سے دونوں ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبے کی آستین تنگ تھی اس لیے آپ نے ہاتھ اندر کی طرف کھینچ لیا، اور انہیں جبے کے نیچے سے نکالا، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا، اور اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر سوار ہوگئے، پھر ہم چل پڑے، یہاں تک کہ ہم نے لوگوں کو نماز کی حالت میں پایا، ان لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کو (امامت کے لیے) آگے بڑھا رکھا تھا، انہوں نے حسب معمول وقت پر لوگوں کو نماز پڑھائی، جب ہم پہنچے تو عبدالرحمٰن بن عوف فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے، رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کے ساتھ صف میں شریک ہوگئے، آپ ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے دوسری رکعت پڑھی، پھر جب عبدالرحمٰن نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے، اور لوگ سبحان اللہ کہنے لگے، کیونکہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پہلے نماز شروع کردی تھی، جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو ان سے فرمایا : تم لوگوں نے ٹھیک کیا ، یا فرمایا : تم لوگوں نے اچھا کیا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٣٥(١٨٢) ، ٤٨ (٢٠٣) ، ٤٩ (٢٠٦) ، المغازي ٨١ (٤٤٢١) ، اللباس ١١ (٥٧٩٩) ، صحیح مسلم/الطھارة ٢٣ (٢٧٤) ، سنن النسائی/الطھارة ٦٣ (٧٩) ، ٦٦ (٨٢) ، ٩٦ (١٢٤) ، ٩٧ (١٢٥) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٤ (٥٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٥١٤) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الطھارة ٨ (٤١) ، مسند احمد (٤/ ٢٤٩، ٢٥١، ٢٥٤، ٢٥٥) ، سنن الدارمی/الطھارة ٤١ (٧٤٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 149 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ الْمُغِيرَةَ يَقُولُ: عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَعَدَلْتُ مَعَهُ، فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدِهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ، فَأَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى نَجِدَ النَّاسَ فِي الصَّلَاةِ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى بِهِمْ حِينَ كَانَ وَقْتُ الصَّلَاةِ، وَوَجَدْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَصَلَّى وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ، فَفَزِعَ الْمُسْلِمُونَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ لِأَنَّهُمْ سَبَقُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ: قَدْ أَصَبْتُمْ، أَوْ قَدْ أَحْسَنْتُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کا بیان
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، اپنی پیشانی پر مسح کیا، مغیرہ نے عمامہ (پگڑی) کے اوپر مسح کا بھی ذکر کیا۔ ایک دوسری روایت میں مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دونوں موزوں پر اور اپنی پیشانی اور اپنے عمامہ (پگڑی) پر مسح کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٣ (٢٧٤) ، سنن الترمذی/الطہارة ٧٤ (١٠٠) ، سنن النسائی/الطہارة ٨٧ (١٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 150 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِالْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ نَاصِيَتَهُ، وَذَكَرَ فَوْقَ الْعِمَامَةِ، قَالَ: عَنْ الْمُعْتَمِرِ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَعَلَى نَاصِيَتِهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ، قَالَبَكْرٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کا بیان
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چند سواروں میں تھے اور میرے ساتھ ایک چھاگل (چھوٹا برتن) تھی، آپ ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے پھر واپس آئے تو میں چھاگل لے کر آپ کے پاس پہنچا، میں نے آپ (کے ہاتھ) پر پانی ڈالا، آپ ﷺ نے اپنے دونوں پہونچے اور چہرہ مبارک دھویا، پھر دونوں ہاتھ آستین سے نکالنا چاہا، آپ ﷺ ملک روم کے بنے ہوئے جبوں میں سے ایک جبہ زیب تن کئے ہوئے تھے، جس کی آستین تنگ و چست تھی، اس کی وجہ سے ہاتھ نہ نکل سکے تو آپ ﷺ نے انہیں اندر ہی سے نکال لیا، پھر میں آپ کے پاؤں سے موزے نکالنے کے لیے جھکا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : موزوں کو رہنے دو ، میں نے یہ پاکی کی حالت میں پہنے ہیں ، پھر آپ ﷺ نے ان پر مسح کیا۔ شعبی کہتے ہیں : یقیناً میرے سامنے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد سے اسے روایت کیا ہے اور یقیناً ان کے والد نے رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظرحدیث رقم : ١٤٩ ، (تحفة الأشراف : ١١٥١٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 151 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبِهِ وَمَعِي إِدَاوَةٌ، فَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَتَلَقَّيْتُهُ بِالْإِدَاوَةِ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ مِنْ جِبَابِ الرُّومِ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَضَاقَتْ فَادَّرَعَهُمَا ادِّرَاعًا، ثُمَّ أَهْوَيْتُ إِلَى الْخُفَّيْنِ لِأَنْزَعَهُمَا، فَقَالَ لِي: دَعِ الْخُفَّيْنِ، فَإِنِّي أَدْخَلْتُ الْقَدَمَيْنِ الْخُفَّيْنِ وَهُمَا طَاهِرَتَانِ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا، قَالَ أَبِي: قَالَ الشَّعْبِيُّ: شَهِدَ لِي عُرْوَةُ عَلَى أَبِيهِ، وَشَهِدَ أَبُوهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کا بیان
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (سفر میں لوگوں کی جماعت سے) پیچھے رہ گئے، پھر انہوں نے اسی واقعہ کا ذکر کیا۔ مغیرہ کہتے ہیں : جب ہم لوگوں کے پاس آئے تو عبدالرحمٰن بن عوف (رض) انہیں صبح کی نماز پڑھا رہے تھے، جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، تو پیچھے ہٹنا چاہا، آپ ﷺ نے انہیں نماز جاری رکھنے کا اشارہ کیا۔ مغیرہ کہتے ہیں : تو میں نے اور نبی اکرم ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف کے پیچھے ایک رکعت پڑھی، اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ نے اٹھ کر وہ رکعت ادا کی جو رہ گئی تھی، اس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابو سعید خدری، ابن زبیر، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں : جو شخص امام کے ساتھ نماز کی طاق رکعت پائے، تو اس پر سہو کے دو سجدے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١١٤٩٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : علامہ البانی نے اس اثر کو ضعیف کہا ہے، اس لئے اس سے استدلال درست نہیں ہے، جمہور نے اس کو رد کردیا ہے۔
حدیث نمبر: 152 حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَعَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ، قَالَ: فَأَتَيْنَا النَّاسَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُصَلِّ بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَمْضِيَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ رَكْعَةً، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقَ بِهَا وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ عُمَرَ، يَقُولُونَ: مَنْ أَدْرَكَ الْفَرْدَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کا بیان
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ وہ عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کے پاس اس وقت موجود تھے جب وہ بلال (رض) سے رسول اللہ ﷺ کے وضو کے بارے میں پوچھ رہے تھے، بلال نے کہا : آپ ﷺ قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے لیے تشریف لے جاتے، پھر میں آپ کے پاس پانی لاتا، آپ ﷺ وضو کرتے اور اپنے عمامہ (پگڑی) اور دونوں موق (جسے موزوں کے اوپر پہنا جاتا ہے) پر مسح کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف : ٢٠٤٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الطھارة ٢٣ (٢٧٥) ، سنن الترمذی/الطھارة ٧٥ (١٠٠) ، سنن النسائی/الطھارة ٨٦ (١٠٥) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٩ (٥٦١) ، مسند احمد (٦/١٢، ١٣، ١٤، ١٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 153 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ، سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَسْأَلُ بِلَالًا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَ يَخْرُجُ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَآتِيهِ بِالْمَاءِ فَيَتَوَضَّأُ، وَيَمْسَحُ عَلَى عِمَامَتِهِ وَمُوقَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کا بیان
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کہتے ہیں کہ جریر (رض) نے پیشاب کیا پھر وضو کیا تو دونوں موزوں پر مسح کیا اور کہا کہ مجھے مسح کرنے سے کیا چیز روک سکتی ہے جب کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (موزوں پر) مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس پر لوگوں نے کہا : آپ ﷺ کا یہ فعل سورة المائدہ کے نزول سے پہلے کا ہوگا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : میں نے سورة المائدہ کے نزول کے بعد ہی اسلام قبول کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابوداود (تحفة الأشراف : ٣٢٤٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصلاة ٢٥ (٣٨٧) ، صحیح مسلم/الطھارة ٢٢ (٢٧٢) ، سنن الترمذی/الطھارة ٧٠ (٩٤) ، سنن النسائی/الطھارة ٩٦ (١١٨) ، القبلة ٢٣ (٧٧٥) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٤ (٥٤٣) ، مسند احمد (٤/٣٥٨، ٣٦٣، ٣٦٤) (حسن) (مؤلف کی سند سے حسن ہے، ورنہ اصل حدیث صحیحین میں بھی ہے )
حدیث نمبر: 154 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ دَاوُدَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، أَنَّجَرِيرً بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَقَالَ: مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَمْسَحَ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ ؟ قَالُوا: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ، قَالَ: مَا أَسْلَمْتُ إِلَّا بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کا بیان
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ نجاشی (اصحمہ بن بحر) نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دو سادہ سیاہ موزے ہدیے میں بھیجے، تو آپ ﷺ نے انہیں پہنا، پھر وضو کیا اور ان پر مسح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأدب ٥٥ (٢٨٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٤ (٥٤٩) ، مسند احمد (٥/٣٥٢، (تحفة الأشراف : ١٩٥٦) (حسن )
حدیث نمبر: 155 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا دَلْهَمُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا، قَالَ مُسَدَّدٌ، عَنْ دَلْهَمِ بْنِ صَالِحٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْبَصْرَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موزوں پر مسح کرنے کا بیان
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے موزوں پر مسح کیا تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ بھول گئے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : بلکہ تم بھول گئے ہو، میرے رب نے مجھے اسی کا حکم دیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف : ١١٥٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٤٦، ٢٥٣) (ضعیف) (اس کے راوی بکیر ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 156 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ حَيٍّ هُوَ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ ؟ قَالَ: بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ، بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسح کی مدت کا بیان
خزیمہ بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : موزوں پر مسح کرنے کی مدت مسافر کے لیے تین دن، اور مقیم کے لیے ایک دن ایک رات ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : منصور بن معتمر نے اسے ابراہیم تیمی سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ اگر ہم آپ ﷺ سے (اس مدت کو) بڑھانے کے لیے کہتے تو آپ اسے ہمارے لیے بڑھا دیتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٧١ (٩٥) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٦ (٥٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٢٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢١٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 157 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، بِإِسْنَادِهِ، قَالَ فِيهِ وَلَوِ اسْتَزَدْنَاهُ لَزَادَنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسح کی مدت کا بیان
ابی بن عمارہ (رض) سے روایت ہے، یحییٰ بن ایوب کا بیان ہے کہ ابی بن عمارہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دونوں قبلوں (بیت المقدس اور بیت اللہ) کی طرف نماز پڑھی ہے ۔ آپ نے کہا کہ اللہ کے رسول ! کیا میں موزوں پر مسح کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ، ابی نے کہا : ایک دن تک ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ایک دن تک ، ابی نے کہا : اور دو دن تک ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : دو دن تک ، ابی نے کہا : اور تین دن تک ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، اور اسے تم جتنا چاہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن ابی مریم مصری نے اسے یحییٰ بن ایوب سے یحییٰ نے عبدالرحمٰن بن رزین سے، عبدالرحمٰن نے محمد بن یزید بن ابی زیاد سے، محمد نے عبادہ بن نسی سے، عبادہ نے ابی بن عمارہ سے روایت کیا ہے مگر اس میں ہے : یہاں تک کہ (پوچھتے پوچھتے) سات تک پہنچ گئے اور رسول اللہ ﷺ فرماتے گئے : ہاں، جتنا تم چاہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس کی سند میں اختلاف ہے، یہ قوی نہیں ہے، اسے ابن ابی مریم اور یحییٰ بن اسحاق سیلحینی نے یحییٰ بن ایوب سے روایت کیا ہے مگر اس کی سند میں بھی اختلاف ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٧ (٥٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٦) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن یزید مجہول ہیں، اس میں ثقات کی مخالفت بھی ہے اس لئے یہ حدیث منکر بھی ہے )
حدیث نمبر: 158 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ، قَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَكَانَ قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقِبْلَتَيْنِ: أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَوْمًا ؟، قَالَ: يَوْمًا، قَالَ: وَيَوْمَيْنِ ؟ قَالَ: وَيَوْمَيْنِ، قَالَ: وَثَلَاثَةً ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَا شِئْتَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْمِصْرِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسِيٍّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ، قَالَ فِيهِ حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، وَمَا بَدَا لَكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ، وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ،وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيَّوبَ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جراب پر مسح کرنے کا بیان
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور دونوں جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن مہدی نہیں بیان کرتے تھے کیونکہ مغیرہ (رض) سے معروف و مشہور روایت یہی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ابوموسیٰ اشعری (رض) سے بھی مروی ہے، اور ابوموسیٰ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے جرابوں پر مسح کیا، مگر اس کی سند نہ متصل ہے اور نہ قوی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : علی بن ابی طالب، ابن مسعود، براء بن عازب، انس بن مالک، ابوامامہ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث رضی اللہ عنہم نے جرابوں پر مسح کیا ہے، اور یہ عمر بن خطاب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٧٤ (٩٩) ، سنن النسائی/الطھارة ٩٦ (١٢٣) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٨ (٥٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٣٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٥٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 159 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ، عَنْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ لَا يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، لِأَنَّ الْمَعْرُوفَ عَنْ الْمُغِيرَةِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرُوِيَ هَذَا أَيْضًا، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ، وَلَيْسَ بِالْمُتَّصِلِ وَلَا بِالْقَوِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَبُو أُمَامَةَ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلا ترجمہ
اوس بن ابی اوس ثقفی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا اور اپنے جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا۔ عباد کی روایت میں ہے : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ایک قوم کے کظامة یعنی وضو کی جگہ پر تشریف لائے۔ مسدد کی روایت میں ميضأة اور کظامة کا ذکر نہیں ہے، پھر آگے مسدد اور عباد دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ آپ ﷺ نے وضو کیا اور اپنے دونوں جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٣٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 160 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَبَّادٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَوْسُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ، وَقَالَ عَبَّادٌ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى كِظَامَةَ قَوْمٍ يَعْنِي الْمِيضَأَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمِيضَأَةَ وَالْكِظَامَةَ، ثُمَّ اتَّفَقَا، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ.
তাহকীক: