কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯০ টি
হাদীস নং: ১৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کے ٹوٹ جانے کا بیان
عبداللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ انہوں نے عروہ کو کہتے سنا : میں مروان بن حکم کے پاس گیا اور ان چیزوں کا تذکرہ کیا جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو مروان نے کہا : اور عضو تناسل چھونے سے بھی (وضو ہے) ، اس پر عروہ نے کہا : مجھے یہ معلوم نہیں، تو مروان نے کہا : مجھے بسرہ بنت صفوان (رض) نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جو اپنا عضو تناسل چھوئے وہ وضو کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٦١ (٨٢) ، سنن النسائی/الطھارة ١١٨ (١٦٣) ، الغسل ٣٠ (٤٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٣ (٤٧٩) ، موطا امام مالک/الطھارة ١٥(٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٨٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٠٦، ٤٠٧) ، سنن الدارمی/الطھارة ٥٠ (٧٥١) (صحیح )
حدیث نمبر: 181 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: وَمِنْ مَسِّ الذَّكَرِ ؟، فَقَالَ عُرْوَةُ: مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کے نہ ٹوٹنے کا بیان
طلق بن علی (رض) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اتنے میں ایک شخص آیا وہ دیہاتی لگ رہا تھا، اس نے کہا : اللہ کے نبی ! وضو کرلینے کے بعد آدمی کے اپنے عضو تناسل چھونے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ تو اسی کا ایک لوتھڑا ہے ، یا کہا : ٹکڑا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٦٢ (٨٥) ، سنن النسائی/الطھارة ١١٩ (١٦٥) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٤ (٤٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٠٢٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٢، ٢٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : طلق بن علی (رض) کی حدیث میں عضو تناسل کے چھونے سے وضو نہ ٹوٹنے کی دلیل ہے ، جب کہ بسرہ بنت صفوان (رض) کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عضو تناسل کے مس (چھونے) کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، دونوں حدیثیں صحیح ہیں ، اس لئے علماء نے ان دونوں کے درمیان تطبیق و توفیق کی صورت یہ نکالی ہے کہ عضو تناسل پر پردہ ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا، اور پردہ نہ ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ طلق بن علی کی حدیث کے الفاظ الرجل يمس ذكره في الصلاة سے یہی مفہوم نکلتا ہے، دوسری صورت تطبیق کی یہ ہے کہ اگر شہوت کے ساتھ ہے تو ناقض وضو ہے بصورت دیگر نہیں ، واللہ اعلم بالصواب۔
حدیث نمبر: 182 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَ مَا يَتَوَضَّأُ ؟ فَقَالَ: هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ مِنْهُ ؟ أَوْ قَالَ: بَضْعَةٌ مِنْهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وشعبة، وابن عيينة، وجرير الرازي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کے نہ ٹوٹنے کا بیان
مسدد کا بیان ہے کہ ہم سے محمد بن جابر نے بیان کیا ہے، محمد بن جابر نے قیس بن طلق سے، قیس نے اپنے والد طلق سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اور اس میں في الصلاة کا اضافہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٥٠٢٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 183 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ فِي الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو لازم ہونے کا بیان
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس سے وضو کرو ، اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس سے وضو نہ کرو ، آپ سے اونٹ کے باڑے (بیٹھنے کی جگہ) میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیاطین میں سے ہے ، اور آپ سے بکریوں کے باڑے (رہنے کی جگہ) میں نماز پڑھنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس میں نماز پڑھو کیونکہ وہ برکت والی ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٦٠ (٨١) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٧ (٤٩٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٨٨) ، ویأتی المؤلف برقم : (٤٩٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 184 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: تَوَضَّئُوا مِنْهَا، وَسُئِلَ عَنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: لَا تَوَضَّئُوا مِنْهَا، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: لَا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: صَلُّوا فِيهَا فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کچا گوشت چھونے سے وضو کرنے یا ہاتھ دھونے کا بیان
ابوسعید (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا، وہ ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : تم ہٹ جاؤ، میں تمہیں (عملی طور پر کھال اتار کر) دکھاتا ہوں ، چناچہ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا، اور اسے دبایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک چھپ گیا، پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور (پھر سے) وضو نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے پانی چھوا تک نہیں، نیز عمرو نے اپنی روایت میں أخبرنا هلال بن ميمون الجهني کے بجائے عن هلال بن ميمون الرملي (بصیغہ عنعنہ) کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے عبدالواحد بن زیاد اور ابومعاویہ نے ہلال سے، ہلال نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور ابوسعید (صحابی) کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الذبائح ٦ (٣١٧٩) ، (تحفة الأشراف : ٤١٥٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 185 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ المعنى، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، قَالَ هِلَالٌ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَقَالَ أَيُّوبُ وَعَمْرٌو أراه عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِغُلَامٍ وَهُوَ يَسْلُخُ شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الْإِبْطِ، ثُمَّ مَضَى فَصَلَّى لِلنَّاسِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي لَمْ يَمَسَّ مَاءً، وَقَالَ: عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُرْسَلًا، لَمْ يَذْكُرْا أَبَا سَعِيدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردہ کو چھونے سے وضو لازم نہیں ہوتا
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ کے قریب کی بستیوں میں سے ایک بستی کی طرف سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے، اور لوگ آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے دائیں بائیں جانب ہو کر چل رہے تھے، آپ چھوٹے کان والی بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے اس کا کان پکڑ کر اٹھایا، پھر فرمایا : تم میں سے کون شخص اس کو لینا چاہے گا ؟ ، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزھد ١ (٢٩٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٠١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٦٥) ، والبخاری فی الأدب المفرد (٩٦٢) من حدیث جعفر (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ حلال جانوروں کے مردار کا چھونا جائز ہے، اور اس کے چھونے سے دوبارہ وضو کی حاجت نہیں۔
حدیث نمبر: 186 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالسُّوقِ دَاخِلًا مِنْ بَعْضِ الْعَالِيَةِ وَالنَّاسُ كَنَفَتَيْهِ، فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ، فَتَنَاوَلَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ ؟وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٤ (٣٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٧٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الوضوء ١٥ (٢٠٧) ، سنن النسائی/الطھارة ١٢٣ (١٨٤) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٦ (٤٨٨) ، موطا امام مالک/الطھارة ٥(١٩) ، مسند احمد (١/٢٢٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 187 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ میں ایک رات نبی اکرم ﷺ کا مہمان ہوا تو آپ نے بکری کی ران بھوننے کا حکم دیا، وہ بھونی گئی، آپ ﷺ نے چھری لی، اور میرے لیے اس میں سے گوشت کاٹنے لگے، اتنے میں بلال (رض) آئے، اور آپ ﷺ کو نماز کی خبر دی، تو آپ نے چھری رکھ دی، اور فرمایا : اسے کیا ہوگیا ؟ اس کے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ؟ ، اور اٹھ کر نماز پڑھنے کھڑے ہوئے۔ انباری کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : میری موچھیں بڑھ گئی تھیں، تو آپ ﷺ نے مونچھوں کے تلے ایک مسواک رکھ کر ان کو کتر دیا ، یا فرمایا : میں ایک مسواک رکھ کر تمہارے یہ بال کتر دوں گا ۔ تخریج دارالدعوہ : * تخريج : تفرد بہ أبو داود، سنن الترمذی/الشمائل (١٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اسے اتنی جلدی پڑی تھی کہ میرے کھانے سے فارغ ہوجانے کا انتظار تک نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 188 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: ضِفْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ، وَأَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ، قَالَ: فَجَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، قَالَ: فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ، وَقَالَ: مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ ؟ وَقَامَ يُصَلِّ، زَادَ الْأَنْبَارِيُّ: وَكَانَ شَارِبِي وَفَى فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ، أَوْ قَالَ: أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کا شانہ کھایا پھر اپنا ہاتھ اس ٹاٹ سے پوچھا جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ٦٦ (٤٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٦١١٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 189 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کے دست کا گوشت نوچ کر کھایا پھر نماز پڑھی اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف : ٦٥٥١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٧٩، ٣٦١) (صحیح )
حدیث نمبر: 190 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَشَ مِنْ كَتِفٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو روٹی اور گوشت پیش کیا، تو آپ نے کھایا، پھر وضو کے لیے پانی منگایا، اور اس سے وضو کیا، پھر ظہر کی نماز ادا کی، پھر اپنا بچا ہوا کھانا منگایا اور کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٠٦٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأطعمة ٥٣ (٥٤٥٧) ، سنن الترمذی/الطھارة ٥٩ (٨٠) ، سنن النسائی/الطھارة ١٢٣ (١٨٥) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٦ (٤٨٩) ، مسند احمد (٣/٣٢٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 191 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَثْعَمِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: قَرَّبْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا وَلَحْمًا فَأَكَلَ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری فعل یہی تھا کہ آپ آگ کی پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ پہلی حدیث کا اختصار ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/ الطہارة ١٢٣ (١٨٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٤٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 192 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ أَبُو عِمْرَانَ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ آخِرَ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا اخْتِصَارٌ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم نہ ہونے کا بیان
عبید بن ثمامہ مرادی کا بیان ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن حارث بن جزء (رض) مصر میں ہمارے پاس آئے، تو میں نے ان کو مصر کی مسجد میں حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا : ایک آدمی کے گھر میں مجھ سمیت سات یا چھ اشخاص رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ موجود تھے کہ اتنے میں بلال (رض) گزرے اور آپ کو نماز کے لیے آواز دی، ہم نکلے اور راستے میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جس کی ہانڈی آگ پر چڑھی ہوئی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی سے پوچھا : کیا تمہاری ہانڈی پک گئی ؟ ، اس نے جواب دیا : ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، پھر آپ ﷺ نے اس ہانڈی سے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اس کو چباتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے نماز کے لیے تکبیر (تحریمہ) کہی اور میں آپ کو دیکھ رہا تھا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٢٣٣) (ضعیف) (اس کا راوی عبید بن ثمامہ لَیِّن الحدیث ہے )
حدیث نمبر: 193 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ مِنْ خِيَارِ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ ثُمَامَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مِصْرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ فِي مَسْجِدِ مِصْرَ،قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ سَادِسَ سِتَّةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِ رَجُلٍ، فَمَرَّ بِلَالٌ فَنَادَاهُ بِالصَّلَاةِ، فَخَرَجْنَا فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ وَبُرْمَتُهُ عَلَى النَّارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَطَابَتْ بُرْمَتُكَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، فَتَنَاوَلَ مِنْهَا بَضْعَةً، فَلَمْ يَزَلْ يَعْلُكُهَا حَتَّى أَحْرَمَ بِالصَّلَاةِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم ہونے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٤٧٠) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٣ (٣٥٢) ، سنن الترمذی/الطھارة ٥٨ (٧٩) ، سنن النسائی/الطھارة ١٢٢ (١٧١، ١٧٢، ١٧٣، ١٧٤) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٥ (٤٨٥) ، مسند احمد (٢/٤٥٨، ٥٠٣، ٥٢٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حکم پہلے تھا بعد میں منسوخ ہوگیا ، ناسخ احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
حدیث نمبر: 194 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْوُضُوءُ مِمَّا أَنْضَجَتِ النَّارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو لازم ہونے کا بیان
ابوسفیان بن سعید بن مغیرہ کا بیان ہے کہ وہ ام المؤمنین ام حبیبہ (رض) کے پاس آئے، تو ام حبیبہ (رض) نے انہیں ایک پیالہ ستو پلایا، پھر (ابوسفیان) نے پانی منگا کر کلی کی، ام حبیبہ (رض) نے کہا : میرے بھانجے ! تم وضو کیوں نہیں کرتے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے : جنہیں آگ نے بدل ڈالا ہو ، یا فرمایا : جنہیں آگ نے چھوا ہو، ان چیزوں سے وضو کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : زہری کی حدیث میں لفظ : يا ابن أخي اے میرے بھتیجے ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ١٢٢ (١٨٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٢٦، ٣٢٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 195 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَسَقَتْهُ قَدَحًا مِنْ سَوِيقٍ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ، فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي أَلَا تَوَضَّأُ ؟، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ، أَوْ قَالَ: مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، يَا ابْنَ أَخِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ پی کلی کرنے کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دودھ پیا، پھر پانی منگا کر کلی کی اور فرمایا : اس میں چکنائی ہوتی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٥٢ (٢١١) ، والأشربة ١٢ (٥٦٠٩) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢٤ (٣٥٨) ، سنن الترمذی/الطھارة ٦٦ (٨٩) ، سنن النسائی/الطھارة ١٢٥ (١٨٧) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٨ (٤٩٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٨٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢٣، ٢٢٧، ٣٢٩، ٣٣٧، ٣٧٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : لیکن ایسا کرنا مستحب ہے واجب نہیں ہے ، جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 196 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ پی کر کلی نہ کرنے کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دودھ پیا پھر نہ کلی کی اور نہ (دوبارہ) وضو کیا اور نماز پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٥٨) (حسن )
حدیث نمبر: 197 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، عَنْ مُطِيعِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، فَلَمْ يُمَضْمِضْ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَصَلَّى، قَالَ زَيْدٌ: دَلَّنِي شُعْبَةُ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خون نکلنے سے وضو ٹوٹنے کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں نکلے، تو ایک مسلمان نے کسی مشرک کی عورت کو قتل کردیا، اس مشرک نے قسم کھائی کہ جب تک میں محمد ﷺ کے اصحاب میں سے کسی کا خون نہ بہا دوں باز نہیں آسکتا، چناچہ وہ (اسی تلاش میں) نکلا اور نبی اکرم ﷺ کے نقش قدم ڈھونڈتے ہوئے آپ کے پیچھے پیچھے چلا، نبی اکرم ﷺ ایک منزل میں اترے، اور فرمایا : ہماری حفاظت کون کرے گا ؟ ، تو ایک مہاجر اور ایک انصاری اس مہم کے لیے مستعد ہوئے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : تم دونوں گھاٹی کے سرے پر رہو ، جب دونوں گھاٹی کے سرے کی طرف چلے (اور وہاں پہنچے) تو مہاجر (صحابی) لیٹ گئے، اور انصاری کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، وہ مشرک آیا، جب اس نے (دور سے) اس انصاری کے جسم کو دیکھا تو پہچان لیا کہ یہی قوم کا محافظ و نگہبان ہے، اس کافر نے آپ پر تیر چلایا، جو آپ کو لگا، تو آپ نے اسے نکالا، یہاں تک کہ اس نے آپ کو تین تیر مارے، پھر آپ نے رکوع اور سجدہ کیا، پھر اپنے مہاجر ساتھی کو جگایا، جب اسے معلوم ہوا کہ یہ لوگ ہوشیار اور چوکنا ہوگئے ہیں، تو بھاگ گیا، جب مہاجر نے انصاری کا خون دیکھا تو کہا : سبحان اللہ ! آپ نے پہلے ہی تیر میں مجھے کیوں نہیں بیدار کیا ؟ تو انصاری نے کہا : میں (نماز میں قرآن کی) ایک سورة پڑھ رہا تھا، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اسے بند کروں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٤٩٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٤٣، ٣٥٩) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث واضح طور سے اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ پیشاب اور پاخانہ کے مقام کے علاوہ جسم کے کسی اور مقام سے خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، خواہ خون اپنے نکلنے کی جگہ تک رہ جائے یا وہاں سے بہہ نکلے، یہی اکثر علماء کا قول ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ زخم کا خون زخمیوں کے لئے پاک ہے، یہ مالکیہ کا مذہب ہے اور یہی صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 198 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ، فَأَصَابَ رَجُلٌ امْرَأَةَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَحَلَفَ أَنْ لَا أَنْتَهِيَ حَتَّى أُهَرِيقَ دَمًا فِي أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ، فَخَرَجَ يَتْبَعُ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَقَالَ: مَنْ رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا ؟ فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: كُونَا بِفَمِ الشِّعْبِ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلَى فَمِ الشِّعْبِ، اضْطَجَعَ الْمُهَاجِرِيُّ وَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ يُصَلِّ، وَأَتَى الرَّجُلُ، فَلَمَّا رَأَى شَخْصَهُ عَرَفَ أَنَّهُ رَبِيئَةٌ لِلْقَوْمِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَوَضَعَهُ فِيهِ فَنَزَعَهُ حَتَّى رَمَاهُ بِثَلَاثَةِ أَسْهُمٍ، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ انْتَبَهَ صَاحِبُهُ، فَلَمَّا عَرِفَ أَنَّهُمْ قَدْ نَذِرُوا بِهِ هَرَبَ، وَلَمَّا رَأَى الْمُهَاجِرِيُّ مَا بِالْأَنْصَارِيِّ مِنَ الدَّمِ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، أَلَا أَنْبَهْتَنِي أَوَّلَ مَا رَمَى ؟ قَالَ: كُنْتَ فِي سُورَةٍ أَقْرَؤُهَا فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَقْطَعَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے لشکر کی تیاری میں مصروفیت کی بناء پر عشاء کی نماز میں دیر کردی، یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے، پھر جاگے پھر سو گئے، پھر جاگے پھر سو گئے، پھر آپ ﷺ نکلے اور فرمایا : (اس وقت) تمہارے علاوہ کوئی اور نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/مواقیت الصلاة ٢٤ (٥٧٠) ، صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٣٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٧٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٨٨، ١٢٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 199 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: لَيْسَ أَحَدٌ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب عشاء کی نماز کا انتظار کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کے سر (نیند کے غلبہ سے) جھک جھک جاتے تھے، پھر وہ نماز ادا کرتے اور (دوبارہ) وضو نہیں کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس میں شعبہ نے قتادہ سے یہ اضافہ کیا ہے کہ : ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نماز کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے نیند کے غلبہ کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے، اور اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے دوسرے الفاظ میں روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابوداود (تحفة الأشراف : ١٣٨٤) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحیض ٣٣ (٣٧٦) ، سنن الترمذی/الطھارة ٥٧ (٧٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 200 حَدَّثَنَا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ /agt;، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ حَتَّى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ فِيهِ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كُنَّا نَخْفِقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، بِلَفْظٍ آخَرَ.
তাহকীক: