কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯০ টি
হাদীস নং: ২০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں عشاء کی نماز کی اقامت کہی گئی، اتنے میں ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، اور کھڑے ہو کر آپ سے سرگوشی کرنے لگا یہاں تک کہ لوگوں کو یا بعض لوگوں کو نیند آگئی، پھر آپ ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی۔ ثابت بنانی نے وضو کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٣٣(٣٧٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٦٠، ٢٦٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 201 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍقَالَ: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي حَاجَةً، فَقَامَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سجدہ کرتے اور (سجدہ میں) سو جاتے، اور خراٹے لینے لگتے تھے، پھر اٹھتے اور نماز پڑھتے، اور وضو نہیں کرتے تھے، (ایک بار) میں نے آپ ﷺ سے کہا : آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا، حالانکہ آپ سو گئے تھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وضو تو اس شخص پر (لازم آتا) ہے جو لیٹ کر سوئے ۔ عثمان اور ہناد نے فإنه إذا اضطجع استرخت مفاصله (کیونکہ جب کوئی چت لیٹ کر سوتا ہے تو اس کے اعضاء اور جوڑ ڈھیلے ہوجاتے ہیں) کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ حدیث کا یہ ٹکڑا : وضو اس شخص پر لازم ہے جو چت لیٹ کر سوئے منکر ہے، اسے صرف یزید ابوخالد دالانی نے قتادہ سے روایت کیا ہے، اور حدیث کے ابتدائی حصہ کو ایک جماعت نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے، ان لوگوں نے اس میں سے کچھ ذکر نہیں کیا ہے۔ نیز ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اس طرح (غفلت) کی نیند سے محفوظ تھے۔ اور ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا ۔ اور شعبہ کہتے ہیں کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں : ایک یونس بن متی کی، دوسری ابن عمر (رض) کی جو نماز کے باب میں مروی ہے، تیسری حدیث القضاة ثلاثة ہے، اور چوتھی ابن عباس (رض) کی حدیث : حدثني رجال مرضيون منهم عمر وأرضاهم عندي عمر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے یزید دالانی کی روایت کا احمد بن حنبل سے ذکر کیا، تو انہوں نے مجھے اسے بڑی بات سمجھتے ہوئے ڈانٹا : اور کہا یزید دالانی کو کیا ہے ؟ وہ قتادہ کے شاگردوں کی طرف ایسی باتیں منسوب کردیتے ہیں جنہیں ان لوگوں نے روایت نہیں کی ہیں، امام احمد نے (دالانی کے ضعیف ہونے کی وجہ سے) اس حدیث کی پرواہ نہیں کی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٥٧ (٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٥٦) (ضعیف) (مؤلف نے سبب ضعف بیان کردیا ہے )
حدیث نمبر: 202 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْجُدُ وَيَنَامُ وَيَنْفُخُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: صَلَّيْتَ وَلَمْ تَتَوَضَّأْ وَقَدْ نِمْتَ، فَقَالَ: إِنَّمَا الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا، زَادَ عُثْمَانُ، وَهَنَّادٌ: فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَوْلُهُ الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا هُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، وَرَوَى أَوَّلَهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا شَيْئًا مِنْ هَذَا، وَقَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا، وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي، وقَالَ شُعْبَةُ: إِنَّمَا سَمِعَ قَتَادَةُ مِنْ أَبِي الْعَالِيَةِ أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ: حَدِيثَ يُونُسَ بْنِ مَتَّى، وَحَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّلَاةِ، وَحَدِيثَ الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ، وَحَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ مِنْهُمْ: عُمَرُ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَذَكَرْتُ حَدِيثَ يَزِيدَ الدَّالَانِيِّ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، فَانْتَهَرَنِي اسْتِعْظَامًا لَهُ، وَقَالَ: مَا لِيَزِيدَ الدَّالَانِيِّ يُدْخِلُ عَلَى أَصْحَابِ قَتَادَةَ ؟ وَلَمْ يَعْبَأْ بِالْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سرین کا بندھن دونوں آنکھیں (بیداری) ہیں، پس جو سو جائے وہ وضو کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٦٢ (٤٧٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١١١، ٤/٩٧) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : جمہور علماء کے نزدیک گہری نیند وضو کی ناقض یعنی توڑ دینے والی ہے ، اور ہلکی نیند وضو نہیں توڑتی ، کتب احکام میں قلیل و کثیر ( ہلکی اور گہری نیند) کی تحدید میں قدرے تفصیل بھی مذکور ہے ، صفوان بن عسال (رض) کی حدیث سے ثابت ہے کہ نیند پاخانہ اور پیشاب کی طرح ناقض وضو ہے ، جبکہ انس (رض) کی حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عشاء کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے سو جاتے ، پھر بلاوضو جدید نماز ادا کرتے تھے ، اس سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ ہلکی نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
حدیث نمبر: 203 حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وِكَاءُ السَّهِ الْعَيْنَانِ، فَمَنْ نَامَ فَلْيَتَوَضَّأْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا نجاست پر چلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ہم راستہ میں چل کر پاؤں نہیں دھلتے تھے، اور نہ ہی ہم بالوں اور کپڑوں کو سمیٹتے تھے (یعنی اسی طرح نماز پڑھ لیتے تھے) ۔ تخریج دارالدعوہ : حدیث ابراہیم بن أبی معاویة عن أبی معاویة تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩٥٦٤) ، وحدیث ہناد عن أبی معاویة و عثمان عن شریک وجریر و عبداللہ بن ادریس، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ١٠٩ (١٤٣) تعلیقًا : سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٧ (١٠٤١) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٦٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 204 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي شَرِيكٌ، وَجَرِيرٌ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِكُنَّا لَا نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ، وَلَا نَكُفُّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مُعَاوِيَةَ فِيهِ: عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَوْ حَدَّثَهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقَالَ هَنَّادٌ: عَنْ شَقِيقٍ، أَوْ حَدَّثَهُ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے درمیان وضو ٹوٹ جانے کا بیان
علی بن طلق (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو نماز میں ہوا خارج ہوجائے تو وہ نماز چھوڑ کر چلا جائے، پھر وضو کرے، اور نماز کا اعادہ کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الرضاع ١٢ (١١٦٤) ، سنن النسائی/الکبری، عشرة النساء (٩٠٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٤٤) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الطھارة ١١٤ (١١٨١) ، مسند احمد (١/٨٦) ویأتي عند المؤلف برقم : ١٠٠٥ (ضعیف) (اس کے دو راوی عیسیٰ اور مسلم لَیِّن الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 205 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذی کا بیان
علی (رض) کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے مذی ١ ؎ بہت نکلا کرتی تھی، تو میں باربار غسل کرتا تھا، یہاں تک کہ میری پیٹھ پھٹ گئی ٢ ؎ تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، یا آپ سے اس کا ذکر کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو، جب تم مذی دیکھو تو صرف اپنے عضو مخصوص کو دھو ڈالو اور وضو کرلو، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، البتہ جب پانی ٣ ؎ اچھلتے ہوئے نکلے تو غسل کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ١١١ (١٥٢) ، والغسل ٢٨ (٤٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠٠٧٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الغسل ١٣(٢٦٩) ، سنن الترمذی/الطھارة ٨٣ (١١٤) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٠ (٥٠٤) ، مسند احمد (١/١٠٩، ١٢٥، ١٤٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مذی ایسی رطوبت کو کہتے ہیں جو عورت سے بوس وکنار کے وقت مرد کے ذکر سے بغیر اچھلے نکلتی ہے۔ ٢ ؎ : یعنی ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے کرتے پیٹھ کی کھال پھٹ گئی، جیسے سردی میں ہاتھ پاؤں پھٹ جاتے ہیں۔ ٣ ؎ : اس سے مراد منی ہے یعنی وہ رطوبت جو شہوت کے وقت اچھل کر نکلتی ہے۔
حدیث نمبر: 206 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ، عَنْ الرَّكِينِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَفْعَلْ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ، فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذی کا بیان
مقداد بن اسود (رض) کہتے ہیں کہ علی (رض) نے انہیں رسول اللہ ﷺ سے (اپنے لیے) یہ مسئلہ پوچھنے کا حکم دیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے اور مذی نکل آئے تو کیا کرے ؟ (انہوں نے کہا) چونکہ میرے نکاح میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) ہیں، اس لیے مجھے آپ سے یہ مسئلہ پوچھنے میں شرم آتی ہے۔ مقداد (رض) کہتے ہیں : تو میں نے جا کر پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اپنی شرمگاہ کو دھو ڈالے اور وضو کرے جیسے نماز کے لیے وضو کرتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطہارة ١١٢ (١٥٦) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٠ (٥٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٤٤) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الطہارة ٨٣ (١٥٦) ، موطا امام مالک/الطہارة ١٣ (٥٣) ، مسند احمد (٦/٤، ٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 207 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ لَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ، مَاذَا عَلَيْهِ ؟، فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، قَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ، فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذی کا بیان
عروہ سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب (رض) نے مقداد (رض) سے کہا، پھر راوی نے آگے اسی طرح کی روایت ذکر کی، اس میں ہے کہ مقداد نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چاہیئے کہ وہ شرمگاہ (عضو مخصوص) اور فوطوں کو دھو ڈالے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ثوری اور ایک جماعت نے ہشام سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے مقداد (رض) سے، مقداد (رض) نے علی (رض) سے، اور علی (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطہارة ١١٢ (١٥٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٢٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 208 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ لِلْمِقْدَادِ وَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا، قَالَ: فَسَأَلَهُ الْمِقْدَادُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَجَمَاعَةٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمِقْدَادِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِيهِ: وَالأُنْثَيَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذی کا بیان
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے مقداد (رض) سے کہا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے مفضل بن فضالہ، ایک جماعت، ثوری اور ابن عیینہ نے ہشام سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے علی بن ابی طالب سے روایت کیا ہے، نیز اسے ابن اسحاق نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے مقداد (رض) سے اور مقداد نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، مگر اس میں لفظ أنثييه دونوں فوطوں کا ذکر نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٠٢٤١) (صحیح )
حدیث نمبر: 209 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَدِيثٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِلْمِقْدَادِ: فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد، وَرَوَاهُ الْمُفَضَّلُ بن فضالة وجماعة، والثوري، وابن عيينة، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمِقْدَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرْ: أُنْثَيَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذی کا بیان
سہل بن حنیف (رض) کہتے ہیں کہ مجھے مذی سے بڑی تکلیف ہوتی تھی، باربار غسل کرتا تھا، لہٰذا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : اس میں صرف وضو کافی ہے ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! کپڑے میں جو لگ جائے اس کا کیا ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ایک چلو پانی لے کر کپڑے پر جہاں تم سمجھو کہ مذی لگ گئی ہے چھڑک لو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٨٤ (١١٥) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٠ (٥٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٦٦٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٨٥، سنن الدارمی/الطھارة ٤٩ (٧٥٠) (حسن )
حدیث نمبر: 210 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً، وَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنَ الِاغْتِسَالِ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ ؟ قَالَ: يَكْفِيكَ بِأَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مذی کا بیان
عبداللہ بن سعد انصاری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں پوچھا جو غسل کو واجب کرتی ہے، اور اس پانی کے بارے میں پوچھا جو غسل کے بعد عضو مخصوص سے نکل آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہی مذی ہے، اور ہر مرد کو مذی نکلتی ہے، لہٰذا تم اپنی شرمگاہ اور اپنے دونوں فوطوں کو دھو ڈالو، اور وضو کرو جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٣٢٨) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الطھارة ١٠٠ (١٣٣) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٣٠ (٦٥١) ، مسند احمد (٤/٣٤٢، ٥/٢٩٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 211 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْحَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ، وَعَنِ الْمَاءِ يَكُونَ بَعْدَ الْمَاءِ، فَقَالَ: ذَاكَ الْمَذْيُ، وَكُلُّ فَحْلٍ يَمْذِي، فَتَغْسِلُ مِنْ ذَلِكَ فَرْجَكَ وَأُنْثَيَيْكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور مباشرت کا حکم
عبداللہ بن سعد انصاری (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : جب میری بیوی حائضہ ہو تو اس کی کیا چیز میرے لیے حلال ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارے لیے لنگی (تہبند) کے اوپر والے حصہ (سے لطف اندوز ہونا) درست ہے ، نیز اس کے ساتھ حائضہ کے ساتھ کھانے کھلانے کا بھی ذکر کیا، پھر راوی نے (سابقہ) پوری حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطہارة ١٠٠(١٣٣) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٣٠ (٦٥١) ، (تحفة الأشراف : ٥٣٢٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 212 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ،عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَحِلُّ لِي مِنَ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: لَكَ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ، وَذَكَرَ مُؤَاكَلَةَ الْحَائِضِ أَيْضًا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حائضہ عورت کے ساتھ کھانے پینے اور مباشرت کا حکم
معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : مرد کے لیے اس کی حائضہ بیوی کی کیا چیز حلال ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : لنگی (تہبند) کے اوپر کا حصہ (اس سے لطف اندوز ہونا) جائز ہے، لیکن اس سے بھی بچنا افضل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٣٣٢) (ضعیف) (سعدالأغطش لین الحدیث اور بقیہ مدلس ہیں )
حدیث نمبر: 213 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْيَزَنِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سَعْدٍ الْأَغْطَشِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ، قَالَ هِشَامٌ وَهُوَ ابْنُ قُرْطٍ أَمِيرُ حِمْصَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنَ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: فَقَالَ: مَا فَوْقَ الْإِزَارِ، وَالتَّعَفُّفُ عَنْ ذَلِكَ أَفْضَلُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ هُوَ يَعْنِي الْحَدِيثَ بِالْقَوِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل دخول سے واجب ہوتا ہے یا انزال سے
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو یہ رخصت ابتدائے اسلام میں کپڑوں کی کمی کی وجہ سے دی تھی (کہ اگر کوئی دخول کرے اور انزال نہ ہو تو غسل واجب نہ ہوگا) پھر آپ ﷺ نے صرف دخول کرنے اور انزال نہ ہونے کی صورت میں غسل کرنے کا حکم فرما دیا، اور غسل نہ کرنے کو منع فرما دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نهى عن ذلك یعنی ممانعت سے مراد الماء من الماء (غسل منی نکلنے کی صورت میں واجب ہے) والی حدیث پر عمل کرنے سے منع کردیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٨١ (١١٠) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١١ (٦٠٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الغسل ١٢ (٢٦٧) ، صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٩) ، سنن النسائی/الطہارة ١٧٠ (٢٦٤ ، ٢٦٥) ، مسند احمد (٥/١١٥، ١١٦) ، سنن الدارمی/الطھارة ٧٤ (٧٨٦) (صحیح) (اگلی سند نیز دیگر اسانید سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں ایک مبہم راوی ہیں، علماء کی تصریح کے مطابق یہ مبہم راوی ابوحازم ہیں، نیز زہری خود سہل سے بھی براہ راست روایت کرتے ہیں) ، (دیکھئے حاشیہ ترمذی از علامہ احمد محمد شاکر) ۔
حدیث نمبر: 214 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ أَرْضَي، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ ذَلِكَ رُخْصَةً لِلنَّاسِ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِقِلَّةِ الثِّيَابِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُسْلِ وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل دخول سے واجب ہوتا ہے یا انزال سے
سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ ابی بن کعب (رض) نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو یہ فتوی دیا کرتے تھے کہ منی کے انزال ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے، یہ رخصت رسول اللہ ﷺ نے ابتدائے اسلام میں دی تھی پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے غسل کرنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ٢٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 215 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْبَزَّازُ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يَفْتُونَ أَنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ كَانَتْ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ فِي بَدْءِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالِاغْتِسَالِ بَعْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل دخول سے واجب ہوتا ہے یا انزال سے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب مرد عورت کی چاروں شاخوں (دونوں پنڈلیوں اور دونوں رانوں یا دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں) کے درمیان بیٹھے اور مرد کا ختنہ عورت کے ختنہ سے مل جائے (یعنی مرد کے عضو تناسل کی سپاری عورت کی شرمگاہ کے اندر داخل ہوجائے) تو غسل واجب ہوگیا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ٢٨ (٢٩١) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢٢ (٣٤٨) ، سنن النسائی/الطھارة ١٢٩ (١٩١) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١١ (٦١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٣٤، ٢٤٧، ٣٩٣، ٤٧١، ٥٢٠) ، سنن الدارمی/الطھارة ٧٥ (٧٨٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 216 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَرَاهِيدِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَأَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل دخول سے واجب ہوتا ہے یا انزال سے
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانی پانی سے ہے (یعنی منی نکلنے سے غسل واجب ہوتا ہے) اور ابوسلمہ ایسا ہی کرتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢١ (٣٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٩، ٣٦، ٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ وہ اسے منسوخ نہیں مانتے تھے۔
حدیث نمبر: 217 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ، وَكَانَ أَبُو سَلَمَةَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کیا جنبی غسل سے پہلے دوسرا جماع کرسکتا ہے؟
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ایک ہی غسل سے اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسی طرح اسے ہشام بن زید نے انس سے اور معمر نے قتادہ سے، اور قتادہ نے انس سے اور صالح بن ابی الاخضر نے زہری سے اور ان سب نے انس (رض) سے اور انس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ١٧٠ (١٩٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٠٣، ٥٦٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الغسل ١٢ (٢٦٨) ، ١٧ (٢٧٥) ، والنکاح ٤ (٥٠٦٨) ، ١٠٢ (٥٢١٥) ، صحیح مسلم/الطہارة ٦ (٣٠٩) ، سنن الترمذی/الطھارة ١٠٦ (١٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠١ (١٤٠) ، مسند احمد (٣/٢٢٥، سنن الدارمی/الطھارة ٧١ (٧٨٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی سب سے صحبت کی، اور پھر آخر میں غسل کیا۔
حدیث نمبر: 218 حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، كُلُّهُمْ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وضو کرے
ابورافع (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک دن اپنی بیویوں کے پاس گئے، ہر ایک کے پاس غسل کرتے تھے ١ ؎۔ ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! ایک ہی بار غسل کیوں نہیں کرلیتے ؟ آپ نے فرمایا : یہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور اچھا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : انس (رض) کی روایت اس سے زیادہ صحیح ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٢ (٥٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٨، ٩، ٣٩١) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ہر ایک سے جماع کر کے غسل کرتے تھے۔ ٢ ؎ : یعنی اس سے پہلے والی حدیث (٢١٨) ۔
حدیث نمبر: 219 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ يَغْتَسِلُ عِنْدَ هَذِهِ وَعِنْدَ هَذِهِ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا ؟ قَالَ: هَذَا أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ أَنَسٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وضو کرے
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے ١ ؎ پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے، تو ان دونوں کے درمیان وضو کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٦ (٣٠٨) ، سنن الترمذی/الطھارة ١٠٧ (١٤١) ، سنن النسائی/الطھارة ١٦٩ (٢٦٣) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٠ (٥٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٧، ٢١، ٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی صحبت کرے۔
حدیث نمبر: 220 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُعَاوِدَ، فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا.
তাহকীক: