কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯০ টি
হাদীস নং: ২২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنابت کے بعد غسل سے پہلے سونا جائز ہے
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ مجھے رات کو جنابت لاحق ہوجاتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : وضو کرلو، اور اپنا عضو تناسل دھو کر سو جاؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ٢٧ (٢٩٠) ، صحیح مسلم/الطہارة ٦ (٣٠٦) ، سنن النسائی/الطھارة ١٦٧، (٢٦١) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٢٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الطھارة ٩٩ (٥٨٥) ، موطا امام مالک/الطہارة ١٩(٧٦) ، مسند احمد (٢/٦٤) ، سنن الدارمی/الطھارة ٧٣ (٧٨٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 221 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، ثُمَّ نَمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنابت کی حالت میں کھانا پینا جائز ہے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حالت جنابت میں جب سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کرلیتے، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٦ (٣٠٥) ، سنن النسائی/الطھارة ١٦٤ (٢٥٦) ، ١٦٥ (٢٥٧) ، ١٦٦ (٢٥٨) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٩٩ (٥٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٦٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الغسل ٢٥ (٢٨٦) ، مسند احمد (٦/٨٥) ، سنن الدارمی/الطھارة ٧٣ (٧٨٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 222 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنابت کی حالت میں کھانا پینا جائز ہے
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ جب آپ ﷺ کھانے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے، تو اپنے ہاتھ دھوتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن وہب نے بھی یونس سے روایت کیا ہے، اور کھانے کے تذکرہ کو ام المؤمنین عائشہ (رض) کا قول قرار دیا ہے، نیز اسے صالح بن ابی الاخضر نے بھی زہری سے روایت کیا ہے، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے، مگر اس میں عن عروة أو أبي سلمة (شک کے ساتھ) ہے نیز اسے اوزاعی نے بھی یونس سے، یونس نے زہری سے، اور زہری نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٧٧٦٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 223 حَدَّثَنَا، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ، غَسَلَ يَدَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، فَجَعَلَ قِصَّةَ الْأَكْلِ قَوْلَ عَائِشَةَ مَقْصُورًا، وَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، إِلَّا أَنَّهُ، قَالَ: عَنْ عُرْوَةَ، أَوْ أَبِي سَلَمَةَ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کھانا کھائے یا سوئے تو پہلے وضو کرلے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے اور آپ حالت جنابت میں ہوتے، تو وضو کرلیتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٦(٣٠٥) ، سنن النسائی/الطہارة ١٦٣ (٢٥٦) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠٣ (٥٩١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٢٦، ١٩١، ١٩٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 224 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ، تَوَضَّأَ تَعْنِي وَهُوَ جُنُبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کھانا کھائے یا سوئے تو پہلے وضو کرلے
عمار بن یاسر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جنبی کو رخصت دی ہے کہ جب وہ کھانے پینے یا سونے کا ارادہ کرے تو وضو کرلے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ بن یعمر اور عمار بن یاسر (رض) کے درمیان اس حدیث میں ایک اور شخص ہے، علی بن ابی طالب، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم نے کہا ہے کہ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو وضو کرے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجمعة ٧٨ (٦١٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٢٠) (ضعیف) (اس میں دو علتیں ہیں : سند میں انقطاع ہے اور عطاء خراسانی ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 225 حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَوْ نَامَ، أَنْ يَتَوَضَّأَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَيْنَ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ رَجُلٌ، وقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: الْجُنُبُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ، تَوَضَّأَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی غسل کرنے میں تاخیر کرسکتا ہے
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے کہا : آپ نے رسول اللہ ﷺ کو رات کے پہلے حصہ میں غسل جنابت کرتے ہوئے دیکھا ہے یا آخری حصہ میں ؟ کہا : کبھی آپ رات کے پہلے حصہ میں غسل فرماتے، کبھی آخری حصہ میں، میں نے کہا : اللہ اکبر ! شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے کہا : آپ نے رسول اللہ ﷺ کو رات کے پہلے حصہ میں وتر پڑھتے دیکھا ہے یا آخری حصہ میں ؟ کہا : کبھی آپ ﷺ رات کے پہلے حصہ میں پڑھتے تھے اور کبھی آخری حصہ میں، میں نے کہا : اللہ اکبر ! اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ پھر میں نے پوچھا : آپ نے رسول اللہ ﷺ کو قرآن زور سے پڑھتے دیکھا ہے یا آہستہ سے ؟ کہا : کبھی آپ ﷺ زور سے پڑھتے اور کبھی آہستہ سے، میں نے کہا : اللہ اکبر ! اس اللہ کا شکر ہے جس نے اس امر میں وسعت رکھی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ١٤١ (٢٢٣) ، والغسل ٦ (٤٠٤) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٧٩(١٣٥٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٢٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 226 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، أَوْ فِي آخِرِهِ ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، أَمْ فِي آخِرِهِ ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ، أَمْ يَخْفُتُ بِهِ ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ، وَرُبَّمَا خَفَتَ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی غسل کرنے میں تاخیر کرسکتا ہے
علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو، یا کتا ہو، یا جنبی ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ١٦٨ (٢٦٢) ، والصید ١١ (٤٢٨٦) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٤ (٣٦٥٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٩١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٨٣، ١٠٤) ، سنن الدارمی/ الاستئذان ٣٤ (٢٧٠٥) ، ویأتي عند المؤلف فی اللباس برقم (٤١٥٢) (ضعیف) (نجی راوی لین الحدیث ہیں )
حدیث نمبر: 227 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، وَلَا كَلْبٌ، وَلَا جُنُبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی غسل کرنے میں تاخیر کرسکتا ہے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنابت کی حالت میں بغیر غسل فرمائے سو جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہم سے حسن بن علی واسطی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : میں نے یزید بن ہارون کو کہتے سنا کہ یہ حدیث یعنی ابواسحاق کی حدیث وہم ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٨٧ (١١٩) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٩٨ (٥٨٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٠٢٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : امام ابن العربی کی تصریح کے مطابق یہ وہم ایک طویل حدیث کے اختصار میں واقع ہوا ہے، ورنہ اصل معنی صحیح ہے، یعنی کبھی کبھی بیان جواز کے لئے آپ ﷺ نے نہ غسل کیا نہ ہی وضو، یا یہ مطلب ہے کہ آپ ﷺ نے پانی نہیں چھوا ، یعنی غسل نہیں کیا، ہاں وضو کیا۔
حدیث نمبر: 228 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَمَسَّ مَاءً، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، يَقُولُ هَذَا الْحَدِيثُ وَهْمٌ يَعْنِي حَدِيثَ أَبِي إِسْحَاقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کے لئے تلاوت کلام پاک جائز نہیں
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں میں اور میرے ساتھ دو آدمی جن میں سے ایک کا تعلق میرے قبیلہ سے تھا اور میرا گمان ہے کہ دوسرا قبیلہ بنو اسد سے تھا، علی (رض) کے پاس آئے، تو آپ نے ان دونوں کو (عامل بنا کر) ایک علاقہ میں بھیجا، اور فرمایا : تم دونوں مضبوط لوگ ہو، لہٰذا اپنے دین کی خاطر جدوجہد کرنا، پھر آپ اٹھے اور پاخانہ میں گئے، پھر نکلے اور پانی منگوایا، اور ایک لپ لے کر اس سے (ہاتھ) دھویا، پھر قرآن پڑھنے لگے، تو لوگوں کو یہ ناگوار لگا، تو آپ نے کہا : رسول اللہ ﷺ بیت الخلاء سے نکل کر ہم کو قرآن پڑھاتے، اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر گوشت کھاتے، آپ ﷺ کو قرآن (پڑھنے پڑھانے) سے جنابت کے علاوہ کوئی چیز نہ روکتی یا مانع نہ ہوتی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ١١١ (١٤٦) ، سنن النسائی/الطھارة ١٧١ (٢٦٦، ٢٦٧) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٠٥ (٥٩٤) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٨٤، ١٢٤) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن سلمہ کا حافظہ اخیر عمر میں کمزور ہوگیا تھا ، اور یہ روایت اسی دور کی ہے )
حدیث نمبر: 229 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَرَجُلَانِ، رَجُلٌ مِنَّا وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ أَحْسِبُ، فَبَعَثَهُمَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَجْهًا، وَقَالَ: إِنَّكُمَا عِلْجَانِ، فَعَالِجَا عَنْ دِينِكُمَا، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْمَخْرَجَ، ثُمَّ خَرَجَ فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأَخَذَ مِنْهُ حَفْنَةً فَتَمَسَّحَ بِهَا، ثُمَّ جَعَلَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْخَلَاءِ فَيُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ، وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ، أَوْ قَالَ: يَحْجُزُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی مصافحہ کرسکتا ہے
حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان سے ملے تو آپ (مصافحہ کے لیے) ہاتھ پھیلاتے ہوئے ان کی طرف بڑھے، حذیفہ نے کہا : میں جنبی ہوں، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : مسلمان نجس نہیں ہوتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطہارة ٢٩ (٣٧٢) ، سنن النسائی/الطھارة ١٧٢ (٢٦٩) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٠ (٥٣٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٣٣٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٨٤، ٤٠٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جنابت نجاست حکمی ہے اس سے آدمی کا بدن یا پسینہ نجس نہیں ہوتا، اسی واسطے جنبی کے ساتھ ملنا بیٹھنا اور کھانا پینا درست ہے۔
حدیث نمبر: 230 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فَأَهْوَى إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي جُنُبٌ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی مصافحہ کرسکتا ہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ مدینہ کے ایک راستے میں مجھ سے رسول اللہ ﷺ کی ملاقات ہوگئی، میں اس وقت جنبی تھا، اس لیے پیچھے ہٹ گیا اور (وہاں سے) چلا گیا، پھر غسل کر کے واپس آیا تو آپ ﷺ نے پوچھا : ابوہریرہ ! تم کہاں (چلے گئے) تھے ؟ ، میں نے عرض کیا : میں جنبی تھا، اس لیے ناپاکی کی حالت میں آپ کے پاس بیٹھنا مجھے نامناسب معلوم ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا : سبحان اللہ ! مسلمان نجس نہیں ہوتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ٢٣ (٢٨٣) ، صحیح مسلم/الحیض ٢٩ (٣٧١) ، سنن الترمذی/الطھارة ٨٩ (١٢١) ، سنن النسائی/الطھارة ١٧٢ (٢٧٠) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨٠ (٥٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٤٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٣٥، ٢٨٢، ٤٧١) (صحیح )
حدیث نمبر: 231 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَبِشْرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَأَنَا جُنُبٌ، فَاخْتَنَسْتُ، فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ. فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ، وقَالَ فِي حَدِيثِ بِشْرٍ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنِي بَكْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کے لئے مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور حال یہ تھا کہ بعض صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد سے لگتے ہوئے کھل رہے تھے ١ ؎ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان گھروں کے رخ مسجد کی طرف سے پھیر کر دوسری جانب کرلو ، پھر نبی اکرم ﷺ (مسجد میں یا صحابہ کرام کے گھروں میں) داخل ہوئے اور لوگوں نے ابھی کوئی تبدیلی نہیں کی تھی، اس امید پر کہ شاید ان کے متعلق کوئی رخصت نازل ہو، پھر جب آپ ﷺ دوبارہ ان کے پاس آئے تو فرمایا : ان گھروں کے رخ مسجد کی طرف سے پھیر لو، کیونکہ میں حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں سمجھتا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٨٢٨) (ضعیف) (اس کی سند میں جسرہ بنت دجاجہ لین الحدیث ہیں، لیکن حدیث کا معنی دیگر احادیث سے ثابت ہے ) وضاحت : ١ ؎ : ان مکانات میں آنے جانے کے لئے لوگ مسجد سے ہو کر آیا جایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 232 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَفْلَتُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دِجَاجَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهُ بُيُوتِ أَصْحَابِهِ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَصْنَعِ الْقَوْمُ شَيْئًا رَجَاءَ أَنْ تَنْزِلَ فِيهِمْ رُخْصَةٌ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بَعْدُ، فَقَالَ: وَجِّهُوا هَذِهِ الْبُيُوتَ عَنِ الْمَسْجِدِ، فَإِنِّي لَا أُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضٍ وَلَا جُنُبٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هُوَ فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی ہو اور نماز کے لئے کھڑا ہوجائے تو کیا کرے؟
ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ نے فجر پڑھانی شروع کردی، پھر ہاتھ سے اشارہ کیا کہ تم سب لوگ اپنی جگہ پر رہو، (پھر آپ ﷺ وہاں سے گھر تشریف لے گئے، غسل فرما کر) واپس آئے، تو آپ ﷺ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اس کے بعد آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٦٦٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٤١، ٤٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 233 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ أَنْ مَكَانَكُمْ، ثُمَّ جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى بِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی ہو اور نماز کے لئے کھڑا ہوجائے تو کیا کرے؟
اس طریق سے بھی حماد بن سلمہ نے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس کے شروع میں ہے : تو آپ ﷺ نے تکبیر تحریمہ کہی ، اور آخر میں یہ ہے کہ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایا : میں بھی انسان ہی ہوں، میں جنبی تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے زہری نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے، اس میں ہے : جب آپ مصلیٰ پر کھڑے ہوگئے اور ہم آپ کی تکبیر (تحریمہ) کا انتظار کرنے لگے، تو آپ (وہاں سے) یہ فرماتے ہوئے پلٹے کہ تم جیسے ہو اسی حالت میں رہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ایوب بن عون اور ہشام نے اسے محمد سے، محمد بن سیرین نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ہے : آپ ﷺ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی، پھر اپنے ہاتھ سے لوگوں کو اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ، پھر آپ ﷺ چلے گئے اور غسل فرمایا۔ اور اسی طرح اسے مالک نے اسماعیل بن ابوحکیم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے (مرسلاً ) روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسی طرح اسے ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ : ہم سے ابان نے بیان کیا ہے، ابان یحییٰ سے، اور یحییٰ ربیع بن محمد سے اور ربیع بن محمد نبی اکرم ﷺ سے (مرسلاً ) روایت کرتے ہیں کہ آپ نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٨٦٣٤، ١١٦٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 234 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ فِي أَوَّلِهِ: فَكَبَّرَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَانْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ، انْصَرَفَ، ثُمَّ قَالَ: كَمَا أَنْتُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ أَيُّوبُ، وَابْنُ عَوْنٍ، وَهِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ مُرْسَلًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَبَّرَ، ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْقَوْمِ أَنِ اجْلِسُوا، فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ حَدَّثَنَاه مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْيَحْيَى، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَبَّرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی ہو اور نماز کے لئے کھڑا ہوجائے تو کیا کرے؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) نماز کے لیے اقامت ہوگئی اور لوگوں نے صفیں باندھیں تو رسول اللہ ﷺ نکلے، یہاں تک کہ جب اپنی جگہ پر (آ کر) کھڑے ہوگئے، تو آپ کو یاد آیا کہ آپ نے غسل نہیں کیا ہے، آپ نے لوگوں سے کہا : تم سب اپنی جگہ پر رہو ، پھر آپ گھر واپس گئے اور ہمارے پاس (واپس) آئے، تو آپ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور حال یہ تھا کہ آپ نے غسل کر رکھا تھا اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔ یہ ابن حرب کے الفاظ ہیں، عیاش نے اپنی روایت میں کہا ہے : ہم لوگ اسی طرح (صف باندھے) کھڑے آپ ﷺ کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائے، آپ غسل کئے ہوئے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ١٧ (٢٧٥) ، والأذان ٢٥ (٦٣٩) ، صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٥) ، سنن النسائی/الإمامة ١٤ (٧٩٣) ، ٢٤ (٨١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٠٠، ١٥٢٦٤، ١٥١٩٣، ١٥٢٧٥، ١٥٣٠٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٣٧، ٢٥٩، ٢٨٣، ٣٣٨، ٣٣٩) ، ویأتي مختصراً برقم : (٥٤١) (صحیح )
حدیث نمبر: 235 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ. ح وحَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْأَزْرَقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ. ح وحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ إِمَامُ مَسْجِدِ صَنْعَاءَ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ مَعْمَرٍ. ح وحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، كُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ وَصَفَّ النَّاسُ صفوفهم، فخرج: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مَقَامِهِ، ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ، فَقَالَ لِلنَّاسِ: مَكَانَكُمْ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَنْطُفُ رَأْسُهُ وَقَدِ اغْتَسَلَ، وَنَحْنُ صُفُوفٌ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنُ حَرْبٍ، وَقَالَ عَيَّاشٌ فِي حَدِيثِهِ: فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اغْتَسَلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سو کر اٹھنے کے بعد کپڑے پر تری دیکھے تو کیا کرے؟
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص (کپڑے پر) تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ ہو تو کیا کرے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ غسل کرے ۔ پھر آپ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص کو ایسا محسوس ہو رہا ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے، مگر وہ تری نہ دیکھے، تو کیا کرے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس پر غسل نہیں ہے ۔ یہ سن کر ام سلیم (رض) نے کہا : اگر عورت (خواب میں) یہی دیکھے تو کیا اس پر بھی غسل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، کیونکہ عورتیں (اصل خلقت اور طبیعت میں) مردوں ہی کی طرح ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٨٢ (١١٣) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٢ (٦١٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٥٣٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٥٦) ، سنن الدارمی/الطھارة (٧٦/٧٩٠) (حسن) إلا قول أم سليم : المرأة ترى ... (ام سلیم کا کلام صحیح نہیں جو عبداللہ العمری کی روایت میں ہے اور یہ ضعیف راوی ہیں، بقیہ ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں )
حدیث نمبر: 236 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا، قَالَ: يَغْتَسِلُ، وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا يَجِدُ الْبَلَلَ، قَالَ: لَا غُسْلَ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: الْمَرْأَةُ تَرَى ذَلِكَ، أَعَلَيْهَا غُسْلٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت مرد کی طرح خواب یا تری دیکھے تو کیا کرے؟
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ام سلیم انصاریہ انس بن مالک (رض) کی والدہ نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ عزوجل حق سے نہیں شرماتا، آپ ہمیں بتائیے اگر عورت سوتے میں وہ چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا وہ غسل کرے یا نہیں ؟ ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں : اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہاں جب وہ تری دیکھے تو ضرور غسل کرے ۔ ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں : میں ام سلیم کی طرف متوجہ ہوئی اور میں نے ان سے کہا : تجھ پر افسوس ! کیا عورت بھی ایسا دیکھتی ہے ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : عائشہ ! تیرا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو ١ ؎ (والدین اور ان کی اولاد میں) مشابہت کہاں سے ہوتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٦٠٧(الف) ، ١٦٧٣٩) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحیض ٧ (٣١١، ٣١٣، ٣١٤) ، سنن الترمذی/الطہارة ٩٠ (١٢٢) ، سنن النسائی/الطہارة ١٣١ (١٩٦) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة (٦٠١) ، موطا امام مالک/الطھارة ٢١ (٨٥) ، مسند احمد (٦/٩٢) ، سنن الدارمی/الطھارة ٧٥ (٧٩٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حیرت و استعجاب کے موقع پر اس طرح کا جملہ بولا جاتا ہے جس کا مقصد بددعا نہیں۔
حدیث نمبر: 237 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ الْأَنْصَارِيَّةَ هِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، أَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ إِذَا رَأَتْ فِي النَّوْمِ مَا يَرَى الرَّجُلُ، أَتَغْتَسِلُ أَمْ لَا ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَلْتَغْتَسِلْ إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا، فَقُلْتُ: أُفٍّ لَكِ، وَهَلْ تَرَى ذَلِكَ الْمَرْأَةُ ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَرِبَتْ يَمِينُكِ يَا عَائِشَةُ، وَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَى عُقيْلٌ، وَالزُّبَيْدِيُّ،وَيُونُسُ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَوَافَقَ الزُّهْرِيُّ مُسَافِعًا الْحَجَبِيَّ، قَالَ: عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ، وَأَمَّا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، فَقَالَ: عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کیلئے پانی کی مقدار
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غسل جنابت ایک ایسے برتن سے کرتے تھے جس کا نام فرق ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن عیینہ نے بھی مالک کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : معمر نے اس حدیث میں زہری سے روایت کی ہے کہ عائشہ (رض) کہتی ہیں : میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے، جس میں ایک فرق (پیمانہ) کی مقدار پانی ہوتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ فرق سولہ رطل کا ہوتا ہے، میں نے انہیں یہ بھی کہتے سنا کہ ابن ابی ذئب کا صاع پانچ رطل اور تہائی رطل کا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کس نے کہا ہے کہ صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے ؟ فرمایا : اس کا یہ (قول) محفوظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے : جس شخص نے صدقہ فطر ہمارے اس رطل سے پانچ رطل اور تہائی رطل دیا اس نے پورا دیا، ان سے کہا گیا : صیحانی ١ ؎ وزنی ہوتی ہے، ابوداؤد نے کہا : صیحانی عمدہ کھجور ہے، آپ نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ٢ (٢٥٠) ، ١٥ (٢٧٢) ، صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢١) ، سنن النسائی/الطھارة ٥٨ (٧٢) ، والغسل ٩ (٤٠٩) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٣٥ (٣٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٩٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٧، ١٧٣، ٢٣٠، ٢٦٥، سنن الدارمی/الطھارة ٦٨ (٧٧٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مدینہ میں ایک قسم کی کھجور کا نام ہے۔
حدیث نمبر: 238 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ هُوَ الْفَرَقُ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَعْمَرٌ: عَنْ الزُّهْرِيِّ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فِيهِ قَدْرُ الْفَرَقِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: الْفَرَقُ: سِتَّةُ عَشَرَ رِطْلًا، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: صَاعُ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ، قَالَ: فَمَنْ قَالَ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ ؟ قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ بِمَحْفُوظٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت أَحْمَدَ يَقُولُ: مَنْ أَعْطَى فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ بِرِطْلِنَا هَذَا خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا، فَقَدْ أَوْفَى، قِيلَ: الصَّيْحَانِيُّ ثَقِيلٌ، قَالَ: الصَّيْحَانِيُّ أَطْيَبُ، قَالَ: لَا أَدْرِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل جنابت کا طریقہ
جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : میں تو تین چلو اپنے سر پر ڈالتا ہوں ، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو بنا کر اشارہ کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ٤ (٢٥٤) ، صحیح مسلم/الحیض ١١ (٣٢٧) ، سنن النسائی/الطھارة ١٥٨ (٢٥١) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٩٥ (٥٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٣١٨٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 239 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّهُمْ ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُسْلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَنَا، فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا، وَأَشَارَ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل جنابت کا طریقہ
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو ایک برتن منگواتے جیسے دودھ دوہنے کا برتن ہوتا ہے، پھر اپنے دونوں ہاتھ سے پانی لے کر سر کی داہنی جانب ڈالتے، پھر بائیں جانب ڈالتے، پھر دونوں ہاتھوں سے پانی لے کر (بیچ) سر پر ڈالتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الغسل ٦ (٢٥٨) ، صحیح مسلم/الحیض ٩ (٣١٨) ، ١٠ (٣٢٠) ، سنن النسائی/الطھارة ١٥٣ (٢٤٥) ، ١٥٦ (٢٤٨) ، ١٥٧ (٢٤٩) ، والغسل ١٦ (٤٢٠) ، ١٩ (٤٢٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٤٧) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الطھارة ٧٦ (١٠٤) ، موطا امام مالک/الطھارة ١٧(٦٧) ، مسند احمد (٦/٩٤، ١١٥، ١٤٣، ١٦١، ١٧٣) ، سنن الدارمی/الطھارة ٦٦ (٧٧٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 240 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، دَعَا بِشَيْءٍ مِنْ نَحْوِ الْحِلَابِ، فَأَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَبَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ.
তাহকীক: