কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৯০ টি
হাদীস নং: ২৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ عورت کا بیان اور اس بات کا بیان کہ مستحاضہ عورت اپنے ایام حیض کے بقدر نماز چھوڑ دے
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ بنت ابی حبیش (رض) نے بیان کیا کہ انہوں نے اسماء (رض) کو حکم دیا، یا اسماء نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کو فاطمہ بنت ابی حبیش نے حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے (استحاضہ کے خون کے بارے میں) دریافت کریں، تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ جتنے دن وہ (حیض کے لیے) بیٹھتی تھیں بیٹھی رہیں، پھر غسل کرلیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے قتادہ نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے زینب بنت ام سلمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش (رض) کو استحاضہ کا خون آیا، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے ایام حیض میں نماز چھوڑ دیں، پھر غسل کریں، اور نماز پڑھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : قتادہ نے عروہ سے کچھ نہیں سنا ہے، اور ابن عیینہ نے زہری کی حدیث میں (جسے انہوں نے عمرہ سے اور عمرہ نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے) اضافہ کیا ہے کہ ام حبیبہ (رض) کو استحاضہ کی شکایت تھی، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے انہیں ایام حیض میں نماز چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ابن عیینہ کا وہم ہے، کیونکہ زہری سے روایت کرنے والے حفاظ کی روایتوں میں یہ نہیں ہے، اس میں صرف وہی ہے جس کا ذکر سہیل بن ابی صالح نے کیا ہے، حمیدی نے بھی اس حدیث کو ابن عیینہ سے روایت کیا ہے، اس میں ایام حیض میں نماز چھوڑ دینے کا ذکر نہیں ہے۔ مسروق کی بیوی قمیر (قمیر بنت عمرو) نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی۔ عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں ان کے حیض کے بقدر نماز چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ ابوبشر جعفر بن ابی وحشیہ نے عکرمہ (رض) سے عکرمہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ ام حبیبہ بنت حجش (رض) کو استحاضہ کا خون آیا، پھر راوی نے پوری حدیث اسی کے ہم مثل بیان کی۔ شریک نے ابوالیقظان سے، انہوں نے عدی بن ثابت سے، عدی نے اپنے والد ثابت سے، ثابت نے اپنے دادا سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ مستحاضہ اپنے حیض کے ایام میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے۔ اور علاء بن مسیب نے حکم سے انہوں نے ابو جعفر سے روایت کی ہے کہ سودہ (رض) کو استحاضہ کا خون آیا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ جب ان کے ایام حیض گزر جائیں تو وہ غسل کریں اور نماز پڑھیں۔ نیز سعید بن جبیر نے علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے کہ مستحاضہ اپنے ایام حیض میں بیٹھی رہے گی (نماز نہ پڑھے گی) ، اور اسی طرح اسے عمار مولی بنی ہاشم اور طلق بن حبیب نے ابن عباس سے روایت کیا ہے، اور اسی طرح معقل خثعمی نے علی سے، اور اسی طرح شعبی نے مسروق کی بیوی قمیر سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حسن، سعید بن مسیب، عطاء، مکحول، ابراہیم، سالم اور قاسم کا بھی یہی قول ہے کہ مستحاضہ اپنے ایام حیض میں نماز چھوڑ دے گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : قتادہ نے عروہ سے کچھ نہیں سنا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٨٠١٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 281 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا أَمَرَتْ أَسْمَاءَ، أَوْ أَسْمَاءُ حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا أَمَرَتْهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنْ تَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْعُدَ الْأَيَّامَ الَّتِي كَانَتْ تَقْعُدُ ثُمَّ تَغْتَسِلُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ عُرْوَةَ شَيْئًا، وَزَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، لَيْسَ هَذَا فِي حَدِيثِ الْحِفَاظِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، إِلَّا مَا ذَكَرَ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، وَقَدْ رَوَى الْحُمَيْدِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، وَرَوَتْ قَمِيرُ بِنْتُ عَمْرٍو زَوْجُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، الْمُسْتَحَاضَةُ تَتْرُكُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ،وقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ: عَنْ أَبِيهِ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَهَا أَنْ تَتْرُكَ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا، وَرَوَى أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ،عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَرَوَى شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، وَرَوَى الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ سَوْدَةَ اسْتُحِيضَتْ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَضَتْ أَيَّامُهَا، اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ، وَرَوَى سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ،وَابْنِ عَبَّاسٍ، الْمُسْتَحَاضَةُ تَجْلِسُ أَيَّامَ قُرْئِهَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ وَطَلْقُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْقِلٌ الْخَثْعَمِيُّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَذَلِكَ رَوَى الشَّعْبِيُّ، عَنْ قَمِيرَ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاء، وَمَكْحُولٍ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَسَالِمٍ، وَالْقَاسِمِ، أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ عُرْوَةَ شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ ایام حیض میں نماز نہ پڑھے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا : میں ایک ایسی عورت ہوں جس کو برابر استحاضہ کا خون آتا ہے، کبھی پاک نہیں رہتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ی ہ تو صرف ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے، تم کو حیض آئے تو نماز چھوڑ دو ، اور جب وہ ختم ہوجائے تو خون دھو لو، پھر (غسل کر کے) نماز پڑھ لو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٦٣ (٢٢٨) ، والحیض ٨ (٣٠٦) ، ١٩ (٣٢٠) ، ٢٤ (٣٢٥) ، ٢٦ (٣٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٨٩٨) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحیض ١٤ (٣٣٣) ، سنن الترمذی/الطھارة ٩٣ (١٢٥) ، سنن النسائی/الطھارة ١٣٤ (٢٠١) ، ١٣٥ (٢١٢) ، والحیض ٤ (٣٥٨) ، ٦ (٣٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٥ (٦٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٨٣، ١٤١، ١٨٧، سنن الدارمی/الطھارة ٨٣ (٨٠١) (صحیح )
حدیث نمبر: 282 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ قَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ، ثُمَّ صَلِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ ایام حیض میں نماز نہ پڑھے
اس طریق سے بھی ہشام نے زہیر کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ہے، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو ، پھر جب اس کے بقدر (دن) گزر جائیں تو اپنے سے خون دھو ڈالو، اور (غسل کر کے) نماز پڑھ لو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ٨(٣٠٦) ، سنن النسائی/الطہارة (١٣٨ (٢١٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧١٤٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 283 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامٍ، بِإِسْنَادِ زُهَيْرٍ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ: فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي الدَّمَ عَنْكِ وَصَلِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ ایام حیض میں نماز نہ پڑھے
بہیہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو ام المؤمنین عائشہ (رض) سے ایک عورت کے بارے میں جس کا حیض بگڑ گیا تھا اور خون برابر آ رہا تھا (مسئلہ) پوچھتے ہوئے سنا (ام المؤمنین عائشہ کہتی ہیں) : تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ میں اسے بتاؤں کہ وہ دیکھ لے کہ جب اس کا حیض صحیح تھا تو اسے ہر مہینے کتنے دن حیض آتا تھا ؟ پھر اسی کے بقدر ایام شمار کر کے ان میں یا انہیں کے بقدر ایام میں نماز چھوڑ دے، غسل کرے، کپڑے کا لنگوٹ باندھے پھر نماز پڑھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٨٢٦) (ضعیف) (اس کی سند میں واقع بہیَّہ مجہول ہیں )
حدیث نمبر: 284 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ بُهَيَّةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ عَائِشَةَ عَنِ امْرَأَةٍ فَسَدَ حَيْضُهَا وَأُهْرِيقَتْ دَمًا، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آمُرَهَا فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحِيضُ فِي كُلِّ شَهْرٍ وَحَيْضُهَا مُسْتَقِيمٌ، فَلْتَعْتَدَّ بِقَدْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَيَّامِ، ثُمَّ لِتَدَعِ الصَّلَاةَ فِيهِنَّ أَوْ بِقَدْرِهِنَّ، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ لِتُصَلِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ ایام حیض میں نماز نہ پڑھے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی سالی اور عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کی بیوی ام حبیبہ بنت حجش (رض) کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا، تو آپ نے فرمایا : یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ رگ (کا خون) ہے، لہٰذا غسل کر کے نماز پڑھتی رہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث میں اوزاعی نے زہری سے، زہری نے عروہ اور عمرہ سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے یوں اضافہ کیا ہے کہ : ام حبیبہ بنت حجش (رض) کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کے عقد میں تھیں، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ جب حیض آجائے تو نماز چھوڑ دو ، اور جب ختم ہوجائے تو غسل کر کے نماز پڑھو۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اوزاعی کے علاوہ زہری کے کسی اور شاگرد نے یہ بات ذکر نہیں کی ہے، اسے زہری سے عمرو بن حارث، لیث، یونس، ابن ابی ذئب، معمر، ابراہیم بن سعد، سلیمان بن کثیر، ابن اسحاق اور سفیان بن عیینہ نے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے یہ بات ذکر نہیں کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ صرف ہشام بن عروہ کی حدیث کے الفاظ ہیں جسے انہوں نے اپنے والد سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ ابن عیینہ نے اس میں یہ بھی اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دینے کا حکم دیا، یہ ابن عیینہ کا وہم ہے ١ ؎، البتہ محمد بن عمرو کی حدیث میں جسے انہوں نے زہری سے نقل کیا ہے کچھ ایسی چیز ہے، جو اوزاعی کے اضافہ کے قریب قریب ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ٢٧ (٣٢٧) ، صحیح مسلم/الحیض ١٤(٣٣٤) ، سنن النسائی/الطہارة ١٣٥ (٢١١) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٥ (٦٢٦) (تحفة الأشراف : ١٧٩٢٢، ١٦٥٧٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ابوداؤد کا یہ قول حدیث نمبر ٢٨١ میں گزر چکا ہے۔ ٢ ؎ : اس حدیث کو مختلف رواۃ نے متعدد طریقے اور الفاظ سے روایت کیا ہے اس سے اصل مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مستحاضہ حیض کے دنوں میں نماز نہیں پڑھے گی اور ان مخصوص ایام کے گزر جانے کے بعد وہ غسل کر کے ہر نماز کے لئے نیا وضو کرے اور شرمگاہ پر لنگوٹ کس کر نماز پڑھا کرے گی، یا پھر دو دو نماز کے لئے ایک بار وضو کرے گی۔
حدیث نمبر: 285 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ الْأَوْزَاعِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْكَلَامَ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ غَيْرُ الْأَوْزَاعِيِّ، وَرَوَاهُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ، وَيُونُسُ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَمَعْمَرٌ،وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، وَابْنُ إِسْحَاقَ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا هَذَا الْكَلَامَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَإِنَّمَا هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَزَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِيهِ أَيْضًا: أَمَرَهَا أَنْ تَدَعَ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، وَهُوَ وَهْمٌ مِنَ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ الزُّهْرِيِّ، فِيهِ شَيْءٌ يَقْرُبُ مِنَ الَّذِي زَادَ الْأَوْزَاعِيُّ فِي حَدِيثِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ ایام حیض میں نماز نہ پڑھے
فاطمہ بنت ابی حبیش (رض) کہتی ہیں کہ انہیں استحاضہ کا خون آتا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے جو پہچان لیا جاتا ہے، جب یہ خون آئے تو نماز سے رک جاؤ، اور جب اس کے علاوہ خون ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو، کیونکہ یہ رگ (کا خون) ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن مثنی کا بیان ہے کہ ابن ابی عدی نے اسے ہم سے اپنی کتاب سے اسی طرح بیان کی ہے پھر اس کے بعد انہوں نے ہم سے اسے زبانی بھی بیان کیا، وہ کہتے ہیں : ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا ہے، انہوں نے زہری سے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ فاطمہ (رض) کو استحاضہ کا خون آتا تھا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : انس بن سیرین نے مستحاضہ کے سلسلے میں ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جب وہ گاڑھا کالا خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب پاکی دیکھے (یعنی کالا خون کا آنا بند ہوجائے) خواہ تھوڑی ہی دیر سہی، تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔ اور مکحول نے کہا ہے کہ عورتوں سے حیض کا خون پوشیدہ نہیں ہوتا، اس کا خون کالا اور گاڑھا ہوتا ہے، جب یہ ختم ہوجائے اور زرد اور پتلا ہوجائے، تو وہ (عورت) مستحاضہ ہے، اب اسے غسل کر کے نماز پڑھنی چاہیئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مستحاضہ کے بارے میں حماد بن زید نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے قعقاع بن حکیم سے، قعقاع نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ جب حیض آئے تو نماز ترک کر دے، اور جب حیض آنا بند ہوجائے تو غسل کر کے نماز پڑھے۔ سمیّ وغیرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے کہ وہ ایام حیض میں بیٹھی رہے (یعنی نماز سے رکی رہے) ۔ ایسے ہی اسے حماد بن سلمہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور یونس نے حسن سے روایت کی ہے کہ حائضہ عورت کا خون جب زیادہ دن تک جاری رہے تو وہ اپنے حیض کے بعد ایک یا دو دن نماز سے رکی رہے، پھر وہ مستحاضہ ہوگی۔ تیمی، قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب اس کے حیض کے دنوں سے پانچ دن زیادہ گزر جائیں، تو اب وہ نماز پڑھے۔ تیمی کا بیان ہے کہ میں اس میں سے کم کرتے کرتے دو دن تک آگیا : جب دو دن زیادہ ہوں تو وہ حیض کے ہی ہیں۔ ابن سیرین سے جب اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا : عورتیں اسے زیادہ جانتی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطہارة ١٣٥ (٢١١) (تحفة الأشراف : ١٨٠١٩، ١٦٦٢٦) (حسن )
حدیث نمبر: 286 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضَةِ، فَإِنَّهُ أَسْوَدُ يُعْرَفُ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي، فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، مِنْ كِتَابِهِ هَكَذَا، ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ بَعْدُ حِفْظًا، قَالَ: حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ رَوَى أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، قَالَ: إِذَا رَأَتِ الدَّمَ الْبَحْرَانِيَّ فَلَا تُصَلِّي، وَإِذَا رَأَتِ الطُّهْرَ وَلَوْ سَاعَةً فَلْتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّي، وقَالَ مَكْحُولٌ: إِنَّ النِّسَاءَ لَا تَخْفَى عَلَيْهِنَّ الْحَيْضَةُ، إِنَّ دَمَهَا أَسْوَدُ غَلِيظٌ، فَإِذَا ذَهَبَ ذَلِكَ وَصَارَتْ صُفْرَةً رَقِيقَةً، فَإِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ تَرَكَتِ الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتِ اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ، وَرَوَى سُمَيٌّ وَغَيْرُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، الْحَائِضُ إِذَا مَدَّ بِهَا الدَّمُ تُمْسِكُ بَعْدَ حَيْضَتِهَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ، وقَالَ التَّيْمِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، إِذَا زَادَ عَلَى أَيَّامِ حَيْضِهَا خَمْسَةُ أَيَّامٍ، فَلْتُصَلِّ، وقَالَ التَّيْمِيُّ: فَجَعَلْتُ أَنْقُصُ حَتَّى بَلَغَتْ يَوْمَيْنِ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمَيْنِ فَهُوَ مِنْ حَيْضِهَا، وسُئِلَ ابْنُ سِيرِينَ عَنْهُ، فَقَالَ: النِّسَاءُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ ایام حیض میں نماز نہ پڑھے
حمنہ بنت حجش (رض) کہتی ہیں کہ مجھے استحاضہ کا خون کثرت سے آتا تھا، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ سے مسئلہ پوچھنے، اور آپ کو اس کی خبر دینے آئی، میں نے آپ ﷺ کو اپنی بہن زینب بنت حجش (رض) کے گھر پایا، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بہت زیادہ خون آتا ہے، اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ اس نے مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : میں تمہیں (شرمگاہ پر) روئی رکھنے کا مشورہ دیتا ہوں، کیونکہ اس سے خون بند ہوجائے گا ، حمنہ نے کہا : وہ اس سے بھی زیادہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : لنگوٹ باندھ کر اس کے نیچے کپڑا رکھ لو ، انہوں نے کہا : وہ اس سے بھی زیادہ ہے، بہت تیزی سے نکلتا ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں، ان دونوں میں سے جس کو بھی تم اختیار کرلو وہ تمہارے لیے کافی ہے، اور اگر تمہارے اندر دونوں پر عمل کرنے کی طاقت ہو تو تم اسے زیادہ جانتی ہو ، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : یہ تو شیطان کی لات ہے، لہٰذا تم (ہر ماہ) اپنے آپ کو چھ یا سات دن تک حائضہ سمجھو، پھر غسل کرو، اور جب تم اپنے آپ کو پاک و صاف سمجھ لو تو تیئس یا چوبیس روز نماز ادا کرو اور روزے رکھو، یہ تمہارے لیے کافی ہے، اور جس طرح عورتیں حیض و طہر کے اوقات میں کرتی ہیں اسی طرح ہر ماہ تم بھی کرلیا کرو، اور اگر تم ظہر کی نماز مؤخر کرنے اور عصر کی نماز جلدی پڑھنے پر قادر ہو تو غسل کر کے ظہر اور عصر کو جمع کرلو اور مغرب کو مؤخر کرو، اور عشاء میں جلدی کرو اور غسل کر کے دونوں نماز کو ایک ساتھ ادا کرو، اور ایک نماز فجر کے لیے غسل کرلیا کرو، تو اسی طرح کرو، اور روزہ رکھو، اگر تم اس پر قادر ہو ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان دونوں باتوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عمرو بن ثابت نے ابن عقیل سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ حمنہ (رض) نے کہا : یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے، انہوں نے اسے نبی اکرم ﷺ کا قول نہیں بلکہ حمنہ (رض) کا قول قرار دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمرو بن ثابت رافضی برا آدمی ہے، لیکن حدیث میں صدوق ہے۔ اور ثابت بن مقدام ثقہ آدمی ہیں۔ ١ ؎، اس کا ذکر انہوں نے یحییٰ بن معین کے واسطے سے کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا : ابن عقیل کی حدیث کے بارے میں میرے دل میں بےاطمینانی ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٩٥ (١٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٥ (٦٢٢، ٦٢٧) (تحفة الأشراف : ١٥٨٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٣٩، سنن الدارمی/الطھارة ٨٣ (٨١٢) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : ثابت بن مقدام کا تذکرہ مؤلف نے برسبیل تذکرہ عمرو بن ثابت بن ابی المقدام کی وجہ سے کردیا ہے، ورنہ یہاں کسی سند میں ان کا نام نہیں آیا ہے، عمرو بن ثابت کو حافظ ابن حجر نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے۔ ٢ ؎ : لیکن بتصریح ترمذی امام بخاری نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے حتی کہ امام احمد نے بھی اس کی تحسین کی ہے، حافظ ابن القیم نے اس پر مفصل بحث کی ہے، اس کی تائید حدیث نمبر : (٣٩٤) سے بھی ہو رہی ہے۔
حدیث نمبر: 287 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَغَيْرُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ، فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً، فَمَا تَرَى فِيهَا قَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ ؟ فَقَالَ: أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ، فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ، قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَاتَّخِذِي ثَوْبًا، فَقَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ، أَيَّهُمَا فَعَلْتِ أَجْزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ، قَالَ لَهَا: إِنَّمَا هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي، فَإِنَّ ذَلِكَ يَجْزِيكِ، وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي فِي كُلِّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ مِيقَاتُ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَتُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، فَافْعَلِي، وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الْفَجْرِ، فَافْعَلِي وَصُومِي إِنْ قَدِرْتِ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: فَقَالَتْ حَمْنَةُ: فَقُلْتُ: هَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ، لَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَهُ كَلَامَ حَمْنَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ رَافِضِيٌّ رَجُلُ سُوءٍ، وَلَكِنَّهُ كَانَ صَدُوقًا فِي الْحَدِيثِ، وَثَابِتُ بْنُ الْمِقْدَامِ رَجُلٌ ثِقَةٌ، وَذَكَرَهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ، يَقُولُ: حَدِيثُ ابْنِ عَقِيلٍ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی سالی اور عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کی بیوی ام حبیبہ بنت جحش (رض) کو سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ حیض نہیں ہے، بلکہ یہ رگ (کا خون) ہے، لہٰذا غسل کرو اور نماز پڑھو ۔ ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں : تو وہ اپنی بہن زینب بنت حجش (رض) کے حجرے میں ایک بڑے لگن میں غسل کرتی تھیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی پر غالب آجاتی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٨٥، (تحفة الأشراف : ١٧٩٢٢، ١٦٥٧٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 288 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ خَتَنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا بیان
اس سند سے ام حبیبہ (رض) سے بھی یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) نے کہا : تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٢٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٢١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٣٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 289 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا بیان
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ (رض) سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے وہ (ام حبیبہ رضی اللہ عنہا) ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے قاسم بن مبرور نے یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے، اور انہوں نے ام حبیبہ بنت جحش (رض) سے روایت کی ہے، اور اسی طرح اسے معمر نے زہری سے، انہوں نے عمرہ سے، اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ سے روایت کی ہے، اور کبھی کبھی معمر نے عمرہ سے، انہوں نے ام حبیبہ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، اور اسی طرح اسے ابراہیم بن سعد اور ابن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، اور ابن عیینہ نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ انہوں (زہری) نے یہ نہیں کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں (ام حبیبہ کو) غسل کرنے کا حکم دیا، نیز اسی طرح اسے اوزاعی نے بھی روایت کی ہے اس میں ہے کہ عائشہ نے کہا : وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ١٤ (٣٣٤) ، سنن الترمذی/الطہارة ٩٦ (١٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦٥٨٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 290 حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، بِمَعْنَاهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي حَدِيثِهِ: وَلَمْ يَقُلْ إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ أَيْضًا، قَالَ فِيهِ: قَالَتْ عَائِشَة: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا (حمنہ) کو سات سال تک استحاضہ کی شکایت رہی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں غسل کرنے کا حکم دیا، چناچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ٢٧ (٣٢٧) (تحفة الأشراف : ١٧٩١٠، ١٦٦١٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 291 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش (رض) کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں استحاضہ کی شکایت ہوئی، تو آپ ﷺ نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوالولید طیالسی نے روایت کیا ہے لیکن اسے میں نے ان سے نہیں سنا ہے، انہوں نے سلیمان بن کثیر سے، سلیمان نے زہری سے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں : ام المؤمنین زینب بنت حجش (رض) کو استحاضہ ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم ہر نماز کے لیے غسل کرلیا کرو ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نیز اسے عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : تم ہر نماز کے لیے وضو کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ عبدالصمد کا وہم ہے اور اس سلسلے میں ابوالولید کا قول ہی صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف : ١٦٦١٠، ١٦٤٦٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٣٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 292 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ الزُّهْرِيّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، وَالْقَوْلُ فِيهِ قَوْلُ أَبِي الْوَلِيدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا بیان
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ (رض) نے مجھے خبر دی کہ ایک عورت کو استحاضہ کی شکایت تھی اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کے عقد میں تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ (یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن) نے مجھے خبر دی کہ ام بکر نے انہیں خبر دی ہے کہ عائشہ (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے متعلق جو طہر کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں ڈال دے، فرمایا : یہ تو بس ایک رگ ہے ، یا فرمایا : یہ تو بس رگیں ہیں ، راوی کو شک ہے کہ إنما هي عرق کہا یا إنما هو عروق کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن عقیل کی حدیث میں دونوں امر ایک ساتھ ہیں، اس میں ہے : آپ ﷺ نے فرمایا : اگر ہو سکے تو تم ہر نماز کے لیے غسل کرو، ورنہ دو دو نماز کو جمع کرلو ، جیسا کہ قاسم نے اپنی حدیث میں کہا ہے، نیز یہ قول سعید بن جبیر سے بھی مروی ہے، وہ علی اور ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٩٧٦، ١٥٨٨٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 293 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ الْحُسَيْنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي، وأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّعَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى مَا يُرِيبُهَا بَعْدَ الطُّهْرِ: إِنَّمَا هِيَ، أَوْ قَالَ: إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، أَوْ قَالَ: عُرُوقٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَقِيلٍ الْأَمْرَانِ جَمِيعًا، وَقَالَ: إِنْ قَوِيتِ فَاغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَإِلَّا فَاجْمَعِي، كَمَا قَالَ الْقَاسِمُ فِي حَدِيثِهِ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْقَوْلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ دو نمازوں کے لئے ایک غسل کرے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کو استحاضہ ہوا تو اسے حکم دیا گیا کہ عصر جلدی پڑھے اور ظہر میں دیر کرے، اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب کو مؤخر کرے، اور عشاء میں جلدی کرے اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور فجر کے لیے ایک غسل کرے۔ شعبہ کہتے ہیں : تو میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے پوچھا : کیا یہ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے ؟ اس پر انہوں نے کہا : میں جو کچھ تم سے بیان کرتا ہوں وہ نبی اکرم ﷺ ہی سے مروی ہوتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطھارة ١٣٦ (٢١٤) ، والحیض ٥ (٣٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٩٥) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الطھارة ٨٢ (٧٩٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اصل میں عبارت یوں ہے : لا أحدثک إلا عن النبي ﷺ شيء جو معنوی اعتبار سے یوں ہے :لاأحدثک بشيء إلا عن النبي ﷺ ، ترجمہ اسی اعتبار سے کیا گیا ہے، اور بعض نسخوں میں عبارت یوں ہے :لاأحدثک عن النبي ﷺ بشيء ، یعنی غصہ سے کہا کہ :” اب میں تم کو نبی اکرم ﷺ سے کچھ روایت نہیں کیا کروں گا “۔
حدیث نمبر: 294 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُمِرَتْ أَنْ تُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَأَنْ تُؤُخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا، فَقُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ دو نمازوں کے لئے ایک غسل کرے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ سہلہ بنت سہیل (رض) کو استحاضہ ہوا، چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، تو آپ ﷺ نے انہیں ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا، جب ان پر یہ شاق گزرا تو آپ ﷺ نے انہیں ایک غسل سے ظہر اور عصر پڑھنے، اور ایک غسل سے مغرب و عشاء پڑھنے اور ایک غسل سے فجر پڑھنے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے ابن عیینہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت کو استحاضہ ہوا تو اس نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے اسے حکم دیا، پھر اس راوی نے اوپر والی روایت کے ہم معنی روایت کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٥٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١١٩، ١٣٩) (ضعیف) (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے لیکن متن دوسری روایتوں سے ثابت ہے) ۔
حدیث نمبر: 295 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ، اسْتُحِيضَتْ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ، أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ، وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً اسْتُحِيضَتْ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا بِمَعْنَاهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ دو نمازوں کے لئے ایک غسل کرے
اسماء بنت عمیس (رض) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! فاطمہ بنت ابی حبیش کو اتنے اتنے دنوں سے (خون) استحاضہ آ رہا ہے تو وہ نماز نہیں پڑھ سکی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : سبحان اللہ ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے، وہ ایک لگن میں بیٹھ جائیں، جب پانی پر زردی دیکھیں تو ظہر و عصر کے لیے ایک غسل، مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل، اور فجر کے لیے ایک غسل کریں، اور اس کے درمیان میں وضو کرتی رہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے مجاہد نے ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ جب ان پر غسل کرنا دشوار ہوگیا تو آپ ﷺ نے انہیں ایک غسل سے دو نمازیں جمع کرنے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نیز اسے ابراہیم نے بھی ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے اور یہی قول ابراہیم نخعی اور عبداللہ بن شداد کا بھی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٧٦٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 296 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ، لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ فَإِذَا رَأَتْ صُفْرَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلْ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَتَوَضَّأْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مُجَاهِدٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، لَمَّا اشْتَدَّ عَلَيْهَا الْغُسْلُ، أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ جب حیض سے فارغ ہو تو غسل کرے۔
عدی بن ثابت کے دادا ١ ؎ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا : وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑے رہے، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے، اور ہر نماز کے وقت وضو کرے ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عثمان نے یہ اضافہ کیا ہے کہ اور روزے رکھے، اور نماز پڑھے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ٩٤ (١٢٦) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٥ (٦٢٥) ، سنن الدارمی/الطھارة ٨٣ (٨٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٤٢) (صحیح) (اس سند میں ابوالیقظان ضعیف ہیں، دوسری سندوں اور حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہوئی ہے ) وضاحت : ١ ؎ : امام مزی نے دینار ، جدعدی بن ثابت انصاری کی مسند میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے ، اور ابوداؤد کا یہ قول نقل کیا ہے :ھو حدیث ضعیف ( یہ حدیث ضعیف ہے) اور حافظ ابن حجر نے النکت الظراف میں لکھا ہے کہ عدی کے دادا کا نام راجح یہ ہے کہ ثابت بن قیس ابن الخطیم ہے ( تحفۃ الأشراف : ٣٥٤٢) ٢ ؎ : جمہور کا یہی مذہب ہے ، اور دلیل سے یہی قوی ہے ، اور ہر نماز کے وقت غسل والی روایتیں استحباب پر محمول ہیں۔
حدیث نمبر: 297 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، وَالْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ عُثْمَانُ: وَتَصُومُ وَتُصَلِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ جب حیض سے فارغ ہو تو غسل کرے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش (رض) نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئیں۔ پھر راوی نے ان کا واقعہ بیان کیا، اس میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا : پھر تم غسل کرو اور ہر نماز کے لیے وضو کرو اور نماز پڑھو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٥ (٦٢٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٣٧٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 298 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ خَبَرَهَا، وَقَالَ: ثُمَّ اغْتَسِلِي، ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ وَصَلِّي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ جب حیض سے فارغ ہو تو غسل کرے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) مستحاضہ کے بارے میں کہتی ہیں کہ وہ غسل کرے گی، یعنی ایک مرتبہ (غسل کرے گی) پھر اپنے حیض آنے تک وضو کرتی رہے گی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، سنن الدارمی/الطھارة ٨٤ (٨١٧) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٥٨ و ١٧٩٨٩) (صحیح) (اس سند میں ایوب ضعیف ہیں، دوسری سندوں اور حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہوئی ہے )
حدیث نمبر: 299 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي مِسْكِينٍ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْعَائِشَةَ، فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَغْتَسِلُ تَعْنِي مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ تَوَضَّأُ إِلَى أَيَّامِ أَقْرَائِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحاضہ جب حیض سے فارغ ہو تو غسل کرے۔
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں عدی بن ثابت اور اعمش کی حدیث جو انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اور ایوب ابوالعلاء کی حدیث یہ سب کی سب ضعیف ہیں، صحیح نہیں ہیں، اور اعمش کی حدیث جسے انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اس کے ضعف پر یہی حدیث دلیل ہے، جسے حفص بن غیاث نے اعمش سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور حفص بن غیاث نے حبیب کی حدیث کے مرفوعاً ہونے کا انکار کیا ہے، نیز اسے اسباط نے بھی اعمش سے، اور اعمش نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے موقوفاً روایت کیا ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس کے ابتدائی حصہ کو ابن داود نے اعمش سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں ہر نماز کے وقت وضو کے ہونے کا انکار کیا ہے۔ حبیب کی حدیث کے ضعف کی دلیل یہ بھی ہے کہ زہری کی روایت بواسطہ عروہ، عائشہ (رض) سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابوالیقظان نے عدی بن ثابت سے، عدی نے اپنے والد ثابت سے، ثابت نے علی (رض) سے، اور بنو ہاشم کے غلام عمار نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے، اور عبدالملک بن میسرہ، بیان، مغیرہ، فراس اور مجالد نے شعبی سے اور شعبی نے قمیر کی حدیث عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ : تم ہر نماز کے لیے وضو کرو ۔ اور داود اور عاصم کی روایت میں جسے انہوں نے شعبی سے، شعبی نے قمیر سے، اور قمیر نے عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ وہ روزانہ ایک بار غسل کرے۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ : مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے ۔ یہ ساری حدیثیں ضعیف ہیں سوائے تین حدیثوں کے : ایک قمیر کی حدیث (جو عائشہ (رض) سے مروی ہے) ، دوسری عمار مولی بنی ہاشم کی حدیث (جو ابن عباس (رض) سے مروی ہے) ، اور تیسری ہشام بن عروہ کی حدیث جو ان کے والد سے مروی ہے، ابن عباس سے مشہور ہر نماز کے لیے غسل ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبله، (تحفة الأشراف : ١٧٩٥٨ و ١٧٩٨٩) (صحیح) (اس کے راوی ایوب ضعیف ہیں ، دوسری حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے ) وضاحت : ١ ؎ : مؤلف کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اعمش کی حدیث جسے انہوں نے حبیب کے طریق سے روایت کیا ہے دو وجہوں سے ضعیف ہے ایک یہ کہ حفص بن غیاث نے بھی اسے اعمش سے روایت کیا ہے ؛ لیکن انہوں نے اسے ام المومنین عائشہ (رض) پر موقوف قرار دیا ہے اور اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے، اور اسباط بن محمد نے بھی اسے اعمش سے موقوفاً ہی روایت کیا ہے اور خود اعمش نے بھی صرف اس کے ابتدائی حصہ کو مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں ہر نماز کے وقت وضو کے ذکر کا انکار کیا ہے، دوسری یہ کہ حبیب بن ثابت نے زہری کی مخالفت کی ہے کیونکہ زہری نے اپنی روایت میں (جسے انہوں نے بواسطہ عروہ ام المومنین عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے) ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا ذکر کیا ہے اور حبیب کی روایت میں ہر نماز کے لئے وضو کا ذکر ہے۔ وضاحت : خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مؤلف نے اس باب میں نو روایتیں ذکر کی ہیں جن میں سے تین مرفوع ، چھ موقوف ہیں ، یہ ساری روایتیں ضعیف ہیں سوائے ان تین آثار کے جن کا ذکر انہوں نے آخر میں کیا ہے (تینوں مرفوع روایات بھی متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر معناً صحیح ہیں) ۔
حدیث نمبر: 300 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ،وَأَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ، كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ لَا تَصِحُّ، وَدَلَّ عَلَى ضُعْفِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ، هَذَا الْحَدِيثُ أَوْقَفَهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَنْكَرَ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ أَنْ يَكُونَ حَدِيثُ حَبِيبٍ مَرْفُوعًا، وَأَوْقَفَهُ أَيْضًا أَسْبَاطٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، مَوْقُوفٌ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ ابْنُ دَاوُدَ عَنِ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا أَوَّلُهُ، وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَدَلَّ عَلَى ضُعْفِ حَدِيثِ حَبِيبٍ هَذَا، أَنَّ رِوَايَةَ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فِي حَدِيثِ الْمُسْتَحَاضَةِ، وَرَوَى أَبُو الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرَوَى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَالْمُغِيرَةُ، وَفِرَاسٌ، وَمُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ حَدِيثِ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ، تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ،وَرِوَايَةَ دَاوُدَ وَعَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَمِيرَ عَنْ عَائِشَةَ، تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً، وَرَوَى هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، الْمُسْتَحَاضَةُ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ، إِلَّا حَدِيثَ قَمِيرَ، وَحَدِيثَ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَحَدِيثَ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَالْمَعْرُوفُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: الْغُسْلُ.
তাহকীক: