আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
نیکی و صلہ رحمی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪১ টি
হাদীস নং: ১৯১৭
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم پر رحم اور اس کی کفالت کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص کسی مسلمان یتیم کو اپنے ساتھ رکھ کر انہیں کھلائے پلائے، تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، سوائے اس کے کہ وہ ایسا گناہ (شرک) کرے جو مغفرت کے قابل نہ ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - راوی حنش کا نام حسین بن قیس ہے، کنیت ابوعلی رحبی ہے، سلیمان تیمی کہتے ہیں : یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ٢ - اس باب میں مرہ فہری، ابوہریرہ، ابوامامہ اور سہل بن سعد (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٠٢٧) (ضعیف) (سند میں ” حنش “ یعنی حسین بن قیس “ متروک الحدیث ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، التعليق الرغيب (3 / 230) ، الضعيفة (5345) // ضعيف الجامع الصغير (5745) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1917
حدیث نمبر: 1917 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَبَضَ يَتِيمًا بَيْنِ الْمُسْلِمِينَ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ الْبَتَّةَ إِلَّا أَنْ يَعْمَلَ ذَنْبًا لَا يُغْفَرُ لَهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ مُرَّةَ الْفِهْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَنَشٌ هُوَ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ، وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، يَقُولُ: حَنَشٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১৮
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیم پر رحم اور اس کی کفالت کرنا
سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ان دونوں کی طرح ہوں گے ١ ؎ اور آپ نے اپنی شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ٢٥ (٥٣٠٣) ، والأدب ٢٤ (٦٠٠٥) ، سنن ابی داود/ الأدب ١٣١ (٥١٥٠) (تحفة الأشراف : ٤٧١٠) ، و مسند احمد (٥/٣٣٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے اشارہ ہے یتیموں کے سرپرستوں کے درجات کی بلندی کی طرف یعنی یتیموں کی کفالت کرنے والے جنت میں اونچے درجات پر فائز ہوں گے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (800) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1918
حدیث نمبر: 1918 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ أَبُو الْقَاسِمِ الْمَكِّيُّ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ، يَعْنِي: السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১৯
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں پر رحم کرنا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک بوڑھا آیا، وہ نبی اکرم ﷺ سے ملنا چاہتا تھا، لوگوں نے اسے راستہ دینے میں دیر کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - راوی زربی نے انس بن مالک اور دوسرے لوگوں سے کئی منکر حدیثیں روایت کی ہیں، ٣ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوامامہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٨٣٨) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” زربی “ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو : الصحیحہ رقم : ٢١٩٦ ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2196) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1919
حدیث نمبر: 1919 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ زَرْبِيٍّ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: جَاءَ شَيْخٌ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبْطَأَ الْقَوْمُ عَنْهُ أَنْ يُوَسِّعُوا لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَزَرْبِيٌّ لَهُ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২০
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں پر رحم کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا مقام نہ پہچانے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٦٦ (٤٩٤٣) (تحفة الأشراف : ٨٧٨٩) ، و مسند احمد (٢/١٨٥، ٢٠٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (1 / 16) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1920
حدیث نمبر: 1920 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ شَرَفَ كَبِيرِنَا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২১
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں پر رحم کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے، معروف (بھلی باتوں) کا حکم نہ دے اور منکر (بری باتوں) سے منع نہ کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - محمد بن اسحاق کی عمرو بن شعیب کے واسطہ سے مروی حدیث صحیح ہے، ٣ - عبداللہ بن عمرو سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اس قول «ليس منا» کا مفہوم یہ ہے «ليس من سنتنا ليس من أدبنا» یعنی وہ ہمارے طور طریقہ پر نہیں ہے، ٥ - علی بن مدینی کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید نے کہا : سفیان ثوری اس تفسیر کی تردید کرتے تھے اور اس کا مفہوم یہ بیان کرتے تھے کہ «ليس منا» سے مراد «ليس من ملتنا» ہے، یعنی وہ ہماری ملت کا نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٢٠٧) ، و مسند احمد (١/٢٥٧) (ضعیف) (سند میں لیث بن أبي سلیم اور شریک القاضي دونوں ضعیف ہیں، مگر پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں، دیکھیے پچھلی دونوں حدیثیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (4970) ، التعليق الرغيب (3 / 173) // ضعيف الجامع الصغير (4938) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1921
حدیث نمبر: 1921 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا، وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا، يَقُولُ: لَيْسَ مِنْ سُنَّتِنَا، لَيْسَ مِنْ أَدَبِنَا، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يُنْكِرُ هَذَا التَّفْسِيرَ: لَيْسَ مِنَّا، يَقُولُ: لَيْسَ مِلَّتِنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২২
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں پر رحم کرنا
جریر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص لوگوں پر مہربانی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر مہربانی نہیں کرے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، ابو سعید خدری، ابن عمر، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التوحید ٢ (٧٣٧٦) (وانظر أیضا : الأدب ٢٧ (٦٠١٣) ، صحیح مسلم/الفضائل ١٥ (٢٣١٩) (تحفة الأشراف : ٣٢٢٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح تخريج مشكلة الفقر (108) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1922
حدیث نمبر: 1922 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنَاجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ لَا يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৩
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں پر رحم کرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم ﷺ کو فرماتے سنا : صرف بدبخت ہی (کے دل) سے رحم ختم کیا جاتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ابوعثمان جنہوں نے ابوہریرہ سے یہ حدیث روایت کی ہے ان کا نام نہیں معلوم ہے، کہا جاتا ہے، وہ اس موسیٰ بن ابوعثمان کے والد ہیں جن سے ابوالزناد نے روایت کی ہے، ابوالزناد نے «عن موسیٰ بن أبي عثمان عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٦٦ (٤٩٤٢) (تحفة الأشراف : ١٣٣٩١) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (4968 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1923
حدیث نمبر: 1923 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: كَتَبَ بِهِ إِلَيَّ مَنْصُورٌ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، سَمِعَ أَبَا عُثْمَانَمَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ ، قَالَ: وَأَبُو عُثْمَانَ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يُعْرَفُ اسْمُهُ، وَيُقَالُ: هُوَ وَالِدُ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ أَبُو الزِّنَادِ، وَقَدْ رَوَى أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ حَدِيثٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৪
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں پر رحم کرنا
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم لوگ زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا، رحم رحمن سے مشتق (نکلا) ہے، جس نے اس کو جوڑا اللہ اس کو (اپنی رحمت سے) جوڑے گا اور جس نے اس کو توڑا اللہ اس کو اپنی رحمت سے کاٹ دے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٦٦ (٤٩٤١) (تحفة الأشراف : ٨٩٦٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (922) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1924
حدیث نمبر: 1924 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي قَابُوسَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ، الرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعَهُ اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৫
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نصیحت کے بارے میں
جریر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز قائم کرنے، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٤٢ (٥٧) ، والمواقیت ٣ (٥٢٤) ، والزکاة ٢ (١٤٠١) ، والبیوع ٥٨ (٢١٥٧) ، والشروط ١ (٢٧١٤، ٢٧١٥) ، والأحکام ٤٣ (٧٢٠٤) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٣ (٥٦) ، سنن النسائی/البیعة ٦ (٤١٦١) ، و ١٦ (٤١٧٩) ، و ١٧ (٤١٨٢) ، و ٢٤ (٤١٩٤) (تحفة الأشراف : ٣٢٢٦) ، و مسند احمد (٤/٣٥٨، ٣٦١، ٣٦٤، ٣٦٥) ، وسنن الدارمی/البیوع ٩ (٢٥٨٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مالی اور بدنی عبادتوں میں نماز اور زکاۃ سب سے اصل ہیں ، نیز «لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ» کی شہادت و اعتراف کے بعد ارکان اسلام میں یہ دونوں (زکاۃ و صلاۃ) سب سے اہم ہیں اسی لیے ان کا تذکرہ خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خیر خواہی عام وخاص سب کے لیے ہے ، طبرانی میں ہے کہ جریر (رض) نے اپنے غلام کو تین سو درہم کا ایک گھوڑا خریدنے کا حکم دیا ، غلام گھوڑے کے ساتھ گھوڑے کے مالک کو بھی لے آیا ، جریر (رض) نے کہا کہ تمہارا گھوڑا تین سو درہم سے زیادہ قیمت کا ہے ، کیا اسے چار سو میں بیچو گے ؟ وہ راضی ہوگیا ، پھر آپ نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ قیمت کا ہے کیا پانچ سو درہم میں فروخت کرو گے ، چناچہ وہ راضی ہوگیا ، پھر اسی طرح اس کی قیمت بڑھاتے رہے یہاں تک کہ اسے آٹھ سو درہم میں خریدا ، اس سلسلہ میں ان سے عرض کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ پر ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کی بیعت کی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1925
حدیث نمبر: 1925 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ، قَالَ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৬
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نصیحت کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا : دین سراپا خیر خواہی ہے ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کس کے لیے ؟ فرمایا : اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ (حکمرانوں) اور عام مسلمانوں کے لیے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٢٨٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا اور اس کی ذات پر صحیح طور پر ایمان رکھنا یہ اللہ کے ساتھ خیر خواہی ہے ، جس کا فائدہ انسان کو خود اپنی ذات کو پہنچتا ہے ، ورنہ اللہ عزوجل کی خیر خواہی کون کرسکتا ہے ، اس کا دوسرا معنی یہ بھی ہے کہ نصیحت اور خیر خواہی کا حق اللہ کے لیے ہے جو وہ اپنی مخلوق سے کرتا ہے ، اور اس کی کتاب (قرآن) کے ساتھ خیر خواہی اس کے احکام پر عمل کرنا ہے ، اس میں غور و فکر اور تدبر کرنا اس کی تعلیمات کو پھیلانا اس میں تحریف سے بچنا ، اس کی تصدیق کرنے کے ساتھ اس کی تلاوت کا التزام کرنا ہے ، رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کا پابند ہونا ، اس کی رسالت کی تصدیق کرنا اور اس کی فرماں برداری کرنا یہ رسول کی خیر خواہی ہے ، مسلمان حکمراں اور ائمہ کی خیر خواہی یہ ہے کہ حق اور غیر معصیت میں ان کی اعانت و اطاعت کی جائے ، سیدھے راستے سے انحراف کرنے کی صورت میں ان کے خلاف خروج و بغاوت سے گریز کرتے ہوئے انہیں معروف کا حکم دیا جائے ، سوائے اس کے کہ ان سے صریحاً کفر کا اظہار ہو تو ایسی صورت میں ترک اعانت ضروری ہے ، عام مسلمانوں کی خیر خواہی یہ ہے کہ دنیا و آخرت سے متعلق جو بھی خیر اور بھلائی کے کام ہیں ان سے انہیں آگاہ کیا جائے ، اور شر و فساد کے کاموں میں ان کی صحیح رہنمائی کی جائے ، اور برائی سے روکا جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (26) ، غاية المرام (332) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1926
حدیث نمبر: 1926 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الدِّينُ النَّصِيحَةُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَنْ ؟ قَالَ: لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَتَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَجَرِيرٍ، وَحَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، وَثَوْبَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৭
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کی مسلمان پر شفقت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اس کے ساتھ خیانت نہ کرے، اس سے جھوٹ نہ بولے، اور اس کو بےیار و مددگار نہ چھوڑے، ہر مسلمان کی عزت، دولت اور خون دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے، تقویٰ یہاں (دل میں) ہے، ایک شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر و کمتر سمجھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں علی اور ابوایوب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البر والصلة ١٠ (٢٥٦٤) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٣ (٤٢١٣) (تحفة الأشراف : ١٢٣١٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں مسلمانوں کی عزت آبرو اور جان و مال کی حفاظت کرنے کی تاکید کے ساتھ ساتھ ایک اہم بات یہ بتائی گئی ہے کہ تقویٰ کا معاملہ انسان کا اندرونی معاملہ ہے ، اس کا تعلق دل سے ہے ، اس کا حال اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا ، اس لیے دوسرے مسلمان کو حقیر سمجھتے ہوئے اپنے بارے میں قطعا یہ گمان نہیں کرنا چاہیئے کہ میں زہد و تقویٰ کے اونچے مقام پر فائز ہوں ، کیونکہ اس کا صحیح علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (8 / 99 - 100) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1927
حدیث نمبر: 1927 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَخُونُهُ وَلَا يَكْذِبُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، عِرْضُهُ وَمَالُهُ وَدَمُهُ، التَّقْوَى هَا هُنَا، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْتَقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي أَيُّوبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৮
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کی مسلمان پر شفقت
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کرتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٨٨ (٤٨١) ، والمظالم ٥ (٢٤٤٦) ، والأدب ٢٦ (٦٠٢٦) ، صحیح مسلم/البر والصلة ١٧ (٢٥٨٥) ، سنن النسائی/الزکاة ٦٧ (٢٥٦١) (تحفة الأشراف : ٩٠٤٠) ، و مسند احمد (٤/٣٩٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح تخريج المشکاة (104) ، إيمان ابن أبى شيبة (90) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1928
حدیث نمبر: 1928 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وَغَيْرَ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِأَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৯
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کی مسلمان پر شفقت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ہر آدمی اپنے بھائی کے لیے آئینہ ہے، اگر وہ اپنے بھائی کے اندر کوئی عیب دیکھے تو اسے (اطلاع کے ذریعہ) دور کر دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - شعبہ نے یحییٰ بن عبیداللہ کو ضعیف کہا ہے، ٢ - اس باب میں انس (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٤١٢١) (ضعیف جداً ) (سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک الحدیث راوی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، الضعيفة (1889) // ضعيف الجامع الصغير (1371) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1929
حدیث نمبر: 1929 حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ مِرْآةُ أَخِيهِ، فَإِنْ رَأَى بِهِ أَذًى فَلْيُمِطْهُ عَنْهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩০
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کی پردہ پوشی
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی مسلمان کی کوئی دنیاوی تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور فرما دے گا، جس نے دنیا میں کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا اور آخرت دونوں میں آسانی کرے گا، اور جس نے دنیا میں کسی مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے عیب کی پردہ پوشی کرے گا، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد میں ہوتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کو ابو عوانہ اور کئی لوگوں نے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، لیکن اس میں «حدثت عن أبي صالح» کے الفاظ نہیں بیان کیے ہیں، ٣ - اس باب میں ابن عمر اور عقبہ بن عامر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٤٢٥ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رضا کی خاطر دنیاوی مفاد کے بغیر جو کوئی مسلمانوں کی حاجات و ضروریات کا خاص خیال رکھے اور انہیں پوری کرے تو اس کا یہ عمل نہایت فضیلت والا ہے ، ایسے شخص کی حاجات خود رب العالمین پوری کرتا ہے ، مزید اسے آخرت میں اجر عظیم سے بھی نوازے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1225) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1930
حدیث نمبر: 1930 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حُدِّثْتُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ فِي الدُّنْيَا يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ فِي الدُّنْيَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى أَبُو عَوَانَةَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ: حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩১
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان سے مصیبت دور کرنا
ابو الدرداء (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنے بھائی کی عزت (اس کی غیر موجودگی میں) بچائے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم سے بچائے گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں اسماء بنت یزید (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٩٩٥) (وانظر حم : ٦/٤٤٩، ٤٥٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بعض احادیث میں «عن عرض أخيه» کے بعد «بالغيب» کا اضافہ ہے ، مفہوم یہ ہے کہ جو اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کا دفاع کرے اور اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے اس کی بڑی فضیلت ہے ، اور اس کا بڑا مقام ہے ، اس سے بڑی فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ رب العالمین اسے جہنم کی آگ سے قیامت کے دن محفوظ رکھے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح غاية المرام (431) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1931
حدیث نمبر: 1931 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ النَّهْشَلِيِّ، عَنْ مَرْزُوقٍ أَبِي بَكْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ، رَدَّ اللَّهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩২
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترک ملاقات کی ممانعت
ابوایوب انصاری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے (کسی دوسرے مسلمان) بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام بند رکھے، جب دونوں کا آمنا سامنا ہو تو وہ اس سے منہ پھیر لے اور یہ اس سے منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود، انس، ابوہریرہ، ہشام بن عامر اور ابوہند داری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٦٢ (٦٠٧٧) ، والإستئذان ٩ (٦٢٣٧) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٨ (٢٥٦٠) (تحفة الأشراف : ٣٤٧٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان بھائی سے ذاتی نوعیت کے معاملات کی وجہ سے ناراض رہنا درست نہیں ، اور اگر اس ناراضگی کا تعلق کسی دینی معاملہ سے ہو تو علماء کا کہنا ہے کہ اس وقت تک قطع تعلق درست ہے جب تک وہ سبب دور نہ ہوجائے جس سے یہ دینی ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2029) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1932
حدیث نمبر: 1932 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ. ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৩
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان بھائی کی غم خواری
انس (رض) کہتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف (رض) (ہجرت کر کے) مدینہ آئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، سعد بن ربیع نے عبدالرحمٰن بن عوف (رض) سے کہا : آؤ تمہارے لیے اپنا آدھا مال بانٹ دوں، اور میرے پاس دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، جب اس کی عدت گزر جائے تو اس سے شادی کرلو، عبدالرحمٰن بن عوف (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہارے مال اور تمہاری اولاد میں برکت دے، مجھے بازار کا راستہ بتاؤ، انہوں نے ان کو بازار کا راستہ بتادیا، اس دن وہ (بازار سے) کچھ پنیر اور گھی لے کر ہی لوٹے جو نفع میں انہیں حاصل ہوا تھا، اس کے (کچھ دنوں) بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کے اوپر زردی کا اثر دیکھا تو پوچھا : کیا بات ہے ؟ (یہ زردی کیسی) کہا : میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے، آپ نے پوچھا : اس کو مہر میں تم نے کیا دیا ؟ کہا : ایک (سونے کی) گٹھلی، (یا گٹھلی کے برابر سونا) آپ نے فرمایا : ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - احمد کہتے ہیں : گٹھلی کے برابر سونا سوا تین درہم کے برابر ہوتا ہے، ٣ - اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں : گٹھلی کے برابر سونا، پانچ درہم کے برابر ہوتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ١ (٢٠٤٩) ، والکفالة ٢ (٢٢٩٣) ، مناقب الأنصار ٣ (٣٧٨١) ، و ٥٠ (٣٩٣٧) ، والنکاح ٦٨ (٥١٦٧) ، والأدب ٦٧ (٦٠٨٢) (تحفة الأشراف : ٥٧١) ، و مسند احمد (٣/١٩٠، ٢٠٤، ٢٧١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1907) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1933
حدیث نمبر: 1933 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ، آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالَ لَهُ: هَلُمَّ أُقَاسِمُكَ مَالِي نِصْفَيْنِ، وَلِيَ امْرَأَتَانِ، فَأُطَلِّقُ إِحْدَاهُمَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ عَلَى السُّوقِ فَمَا رَجَعَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدِ اسْتَفْضَلَهُ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: مَهْيَمْ ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَمَا أَصْدَقْتَهَا ؟ قَالَ: نَوَاةً، قَالَ حُمَيْدٌ: أَوْ قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ؟ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَزْنُ ثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَثُلُثٍ، وَقَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ: وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَزْنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ، سَمِعْتُ إِسْحَاق بْنَ مَنْصُورٍ يَذْكُرُ عَنْهُمَا هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৪
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غیبت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ کسی نے کہا : اللہ کے رسول ! غیبت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس انداز سے اپنے بھائی کا تمہارا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرے ، اس نے کہا : آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ چیز اس میں موجود ہو جسے میں بیان کر رہا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت (چغلی) کی، اور جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود نہیں ہے تو تم نے اس پر تہمت باندھی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبرزہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البر والصلة ٢٠ (٢٥٨٩) ، سنن ابی داود/ الأدب ٤٠ (٤٨٧٤) (تحفة الأشراف : ١٤٠٥٤) ، و مسند احمد (٢/٢٣٠، ٤٥٨) ، سنن الدارمی/الرقاق ٦ (٢٧٥٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : غیبت (چغلی) حرام اور کبیرہ گناہ ہے ، قرآن کریم میں اسے مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے ، اس حدیث میں بھی اس کی قباحت بیان ہوئی ، اور قباحت کی وجہ یہ ہے کہ غیبت کرنے والا اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت و ناموس پر حملہ کرتا ہے ، اور اس کی دل آزاری کا باعث بنتا ہے ، غیبت یہ ہے کہ کسی آدمی کا تذکرہ اس طور پر کیا جائے کہ جو اسے ناپسند ہو ، یہ تذکرہ الفاظ میں ہو ، یا اشارہ و کنایہ میں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح غاية المرام (426) ، نقد الکتانی (36) ، الصحيحة (2667) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1934
حدیث نمبر: 1934 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْغِيبَةُ ؟ قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ ؟ قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৫
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حسد
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آپس میں قطع تعلق نہ کرو، ایک دوسرے سے بےرخی نہ اختیار کرو، باہم دشمنی و بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اللہ کے بندو ! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے سلام کلام بند رکھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکر صدیق، زبیر بن عوام، ابن مسعود اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٥٧ (٦٠٦٥) ، ٦٢ (٦٠٧٦) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٧ (٢٥٥٩) ، سنن ابی داود/ الأدب ٥٥ (٤٩١٠) (تحفة الأشراف : ١٤٨٨) ، و مسند احمد (٣/١٩٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اسلام نے مسلم معاشرہ کی اصلاح اور اس کی بہتری کا خاص خیال رکھا ہے ، اس حدیث میں جن باتوں کا ذکر ہے ان کا تعلق بھی اصلاح معاشرہ اور سماج کی سدھار سے ہے ، صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے ، ہاہمی بغض و عناد اور دشمنی سے باز رہنے کو کہا گیا ہے ، حسد جو معاشرہ کے لیے ایسی مہلک بیماری ہے جس سے نیکیاں جل کر راکھ ہوجاتی ہیں ، اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (7 / 93 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1935
حدیث نمبر: 1935 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقَاطَعُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৬
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حسد
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا چاہیئے، ایک اس آدمی پر جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اس میں سے رات دن (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتا ہے، دوسرا اس آدمی پر جس کو اللہ تعالیٰ نے علم قرآن دیا اور وہ رات دن اس کا حق ادا کرتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابن مسعود اور ابوہریرہ (رض) کے واسطہ سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التوحید ٤٥ (٧٥٢٩) ، صحیح مسلم/ صلاة المسافرین ٤٧ (٨١٥) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٢ (٤٢٠٩) (تحفة الأشراف : ٦٨١٥) ، و مسند احمد (٢/٩، ٣٦، ٨٨، ١٣٣، ١٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حسد کی دو قسمیں ہیں : حقیقی اور مجازی ، حقیقی حسد یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے پاس موجود نعمت کے ختم ہوجانے کی تمنا و خواہش کرے ، حسد کی یہ قسم بالاتفاق حرام ہے ، اس کی حرمت سے متعلق صحیح نصوص وارد ہیں ، اسی لیے اس کی حرمت پر امت کا اجماع ہے ، حسد کی دوسری قسم رشک ہے ، یعنی دوسرے کی نعمت کے خاتمہ کی تمنا کیے بغیر اس نعمت کے مثل نعمت کے حصول کی تمنا کرنا ، اس حدیث میں حسد کی یہی دوسری قسم مراد ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الروض النضير (897) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1936
حدیث نمبر: 1936 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.
তাহকীক: