আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
نیکی و صلہ رحمی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪১ টি
হাদীস নং: ১৯৭৬
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعنت بھیجنا
سمرہ بن جندب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ (کسی پر) اللہ کی لعنت نہ بھیجو، نہ اس کے غضب کی لعنت بھیجو اور نہ جہنم کی لعنت بھیجو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، ابن عمر اور عمران بن حصین (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٥٣ (٤٩٠٦) (تحفة الأشراف : ٤٥٩٤) ، وانظر مسند احمد (٥/١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے وقت یہ مت کہو کہ تم پر اللہ کی لعنت ، اس کے غضب کی لعنت اور جہنم کی لعنت ہو ، کیونکہ یہ ساری لعنتیں کفار و مشرکین اور یہود و نصاری کے لیے ہیں ، نہ کہ آپ ﷺ کی امت کے لیے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (893 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1976
حدیث نمبر: 1976 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ، وَلَا بِغَضَبِهِ، وَلَا بِالنَّارِ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭৭
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعنت بھیجنا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بےحیاء اور بدزبان نہیں ہوتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہ حدیث عبداللہ سے دوسری سند سے بھی آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٩٤٣٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں مومن کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں کہ مومن کامل نہ تو کسی کو حقیر و ذلیل سمجھتا ہے ، نہ ہی کسی کی لعنت و ملامت کرتا ہے ، اور نہ ہی کسی کو گالی گلوج دیتا ہے ، اسی طرح چرب زبانی ، زبان درازی اور بےحیائی جیسی مذموم صفات سے بھی وہ خالی ہوتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (320) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1977
حدیث نمبر: 1977 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ، وَلَا اللَّعَّانِ، وَلَا الْفَاحِشِ، وَلَا الْبَذِيءِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭৮
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعنت بھیجنا
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک آدمی نے ہوا پر لعنت بھیجی تو آپ نے فرمایا : ہوا پر لعنت نہ بھیجو اس لیے کہ وہ تو (اللہ کے) حکم کی پابند ہے، اور جس شخص نے کسی ایسی چیز پر لعنت بھیجی جو لعنت کی مستحق نہیں ہے تو لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بشر بن عمر کے علاوہ ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٥٣ (٤٩٠٨) (تحفة الأشراف : ٥٤٢٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (528) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1978
حدیث نمبر: 1978 حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَعَنَ الرِّيحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا تَلْعَنِ الرِّيحَ، فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ، وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ بِشْرِ بْنِ عُمَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭৯
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسب کی تعلیم
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس قدر اپنا نسب جانو جس سے تم اپنے رشتے جوڑ سکو، اس لیے کہ رشتہ جوڑنے سے رشتہ داروں کی محبت بڑھتی ہے، مال و دولت میں اضافہ ہوتا ہے، اور آدمی کی عمر بڑھا دی جاتی ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - «منسأة في الأثر» کا مطلب ہے «الزيادة في العمر» یعنی عمر کے لمبی ہونے کا سبب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦ (١٥٣٥) (تحفة الأشراف : ١٤٨٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : عمر بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ نیک عمل کی توفیق ملتی ہے ، اور مرنے کے بعد لوگوں میں اس کا ذکر جمیل باقی رہتا ہے ، اور اس کی نسل سے صالح اولاد پیدا ہوتی ہیں۔ اگر حقیقی طور پر عمر ان نیک اعمال سے ہوتی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی بعید بات نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (276) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1979
حدیث نمبر: 1979 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عِيسَى الثَّقَفِيِّ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ، فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ، مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ، مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ يَعْنِي: زِيَادَةً فِي الْعُمُرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮০
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے بھائی کے لئے پس پشت دعا کرنا
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کوئی دعا اتنی جلد قبول نہیں ہوتی ہے جتنی جلد غائب آدمی کے حق میں غائب آدمی کی دعا قبول ہوتی ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - راوی افریقی حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، ان کا نام عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦ (١٥٣٥) (تحفة الأشراف : ٨٨٥٢) (ضعیف) (سند میں ” عبدالرحمن بن أبی نعم “ ضعیف راوی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ ایسی دعا ریا کاری اور دکھاوے سے خالی ہوتی ہے ، صدق دلی اور خلوص نیت سے نکلی ہوئی یہ دعا قبولیت سے سرفراز ہوتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ضعيف أبي داود (269 / 2) // عندنا برقم (330 / 1535) ، ضعيف الجامع الصغير (5065) ، المشکاة (2247) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1980
حدیث نمبر: 1980 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا دَعْوَةٌ أَسْرَعَ إِجَابَةً مِنْ دَعْوَةِ غَائِبٍ لِغَائِبٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْأَفْرِيقِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮১
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گالی دینا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گالی گلوچ کرنے والے دو آدمیوں میں سے گالی کا گناہ ان میں سے شروع کرنے والے پر ہوگا، جب تک مظلوم حد سے آگے نہ بڑھ جائے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سعد، ابن مسعود اور عبداللہ بن مغفل (رض) سے بھی حدیثیں مروی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البر والصلة ١٨ (٢٥٨٧) ، سنن ابی داود/ الأدب ٤٧ (٤٨٩٤) (تحفة الأشراف : ١٤٠٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اگر مظلوم بدلہ لینے میں ظالم سے تجاوز کر جائے تو ایسی صورت میں دونوں کے گالی گلوج کا وبال اسی مظلوم کے سر ہوگا نہ کہ ظالم کے سر۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1981
حدیث نمبر: 1981 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِي مِنْهُمَا مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮২
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گالی دینا
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مردوں کو گالی دے کر زندوں کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث کی روایت کرنے میں سفیان کے شاگرد مختلف ہیں، بعض نے حفری کی حدیث کے مثل روایت کی ہے (یعنی : «عن زياد بن علاقة، عن المغيرة» کے طریق سے) اور بعض نے اسے «عن سفيان عن زياد بن علاقة قال سمعت رجلا يحدث عند المغيرة بن شعبة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١١٥٠١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الروض النضير (357) ، التعليق الرغيب (4 / 135) ، الصحيحة (2379) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1982
حدیث نمبر: 1982 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَال: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَتُؤْذُوا الْأَحْيَاءَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدِ اخْتَلَفَ أَصْحَابُ سُفْيَانَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَرَوَى بَعْضُهُمْ مِثْلَ رِوَايَةِ الْحَفَرِيِّ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَال: سَمِعْتُ رَجُلًا يُحَدِّثُ عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৩
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گالی دینا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جھگڑا کرنا کفر ہے ١ ؎۔ راوی زبید بن حارث کہتے ہیں : میں نے ابو وائل شقیق بن سلمہ سے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث عبداللہ بن مسعود (رض) سے سنی ہے ؟ کہا : ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٣٦ (٤٨) ، والأدب ٤٤ (٦٠٤٤) ، والفتن ٨ (٧٠٧٦) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٨ (٦٤) ، سنن النسائی/المحاربة ٢٧ (٤١١٣-٤١١٦) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٦٩) ، والفتن ٤ (٣٩٣٩) (تحفة الأشراف : ٩٢٤٣) ، و مسند احمد (١/٣٨٥، ٤١١، ٤١٧، ٤٣٣، ٤٣٩، ٤٤٦، ٤٥٤، ٤٦٠) ، ویأتي في الإیمان برقم ٢٦٣٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عزت و احترام کا خاص خیال رکھے کیونکہ ناحق کسی کو گالی دینا باعث فسق ہے ، اور ناحق جھگڑا کرنا کفار کا عمل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (69) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1983
حدیث نمبر: 1983 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ، قَالَ زُبَيْدٌ: قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৪
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اچھی بات کہنا
علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا ، (یہ سن کر) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کس کے لیے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جو اچھی طرح بات کرے، کھانا کھلائے، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اسحاق بن عبدالرحمٰن کے حافظے کے تعلق سے بعض محدثین نے کلام کیا ہے، یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں، ٣ - عبدالرحمٰن بن اسحاق نام کے ایک دوسرے راوی ہیں، وہ قرشی اور مدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ ان سے اثبت ہیں، اور دونوں کے دونوں ہم عصر ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤالف وأعادہ في صفة الجنة ٣ (٢٥٢٧) (تحفة الأشراف : ١٠٢٩٦) و مسند احمد (١/١٥٦) (حسن) (سند میں عبد الرحمن بن اسحاق واسطی سخت ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے ) وضاحت : ١ ؎ : خوش کلامی ، کثرت سے روزے رکھنا ، اور رات میں جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں اللہ کے لیے نماز پڑھنی یہ ایسے اعمال ہیں جو جنت کے بالاخانوں تک پہنچانے والے ہیں ، شرط یہ ہے کہ یہ سب اعمال ریاکاری اور دکھاوے سے خالی ہوں۔ قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (2335) ، التعليق الرغيب (2 / 46) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1984
حدیث نمبر: 1984 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا تُرَى ظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا، وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا ، فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَدَامَ الصِّيَامَ، وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق هَذَا مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَهُوَ كُوفِيٌّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق الْقُرَشِيُّ مَدَنِيُّ، وَهُوَ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا، وَكِلَاهُمَا كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৫
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیک غلام کی فضیلت
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان کے لیے کیا ہی اچھا ہے کہ اپنے رب کی اطاعت کریں اور اپنے مالک کا حق ادا کریں ، آپ کے اس فرمان کا مطلب لونڈی و غلام سے تھا ١ ؎۔ کعب (رض) کہتے ہیں : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٢٣٨٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : گویا وہ غلام اور لونڈی جو رب العالمین کی عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے مالک کے جملہ حقوق کو اچھی طرح سے ادا کریں ان کے لیے دو گنا ثواب ہے ، ایک رب کی عبادت کا دوسرا مالک کا حق ادا کرنے کا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (3 / 159) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1985
حدیث نمبر: 1985 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نِعِمَّا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يُطِيعَ رَبَّهُ وَيُؤَدِّيَ حَقَّ سَيِّدِهِ ، يَعْنِي: الْمَمْلُوكَ، وَقَالَ كَعْبٌ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৬
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیک غلام کی فضیلت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین آدمی مشک کے ٹیلے پر ہوں گے، قیامت کے دن، پہلا وہ غلام جو اللہ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں، اور تیسرا وہ آدمی جو رات اور دن میں نماز کے لیے پانچ بار بلاتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں، ٢ - ابوالیقظان کا نام عثمان بن قیس ہے، انہیں عثمان بن عمیر بھی کہا جاتا ہے اور یہی مشہور ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف وأعادہ في صفة الجنة ٢٥ (٢٥٦٦) (تحفة الأشراف : ٦٧١٨) ، وانظر مسند احمد (٢/٢٦) (ضعیف) (سند میں أبوالیقظان ضعیف، مختلط اور مدلس راوی ہے، اور تشیع میں بھی غالی ہے ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اذان دیتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (666) // ضعيف الجامع الصغير (2579) ، وسيأتي برقم (470 / 2705) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1986
حدیث نمبر: 1986 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ، أُرَاهُ قَالَ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ: عَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ، وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ، وَرَجُلٌ يُنَادِي بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ إِلا مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ، وَأَبُو الْيَقْظَانِ اسْمُهُ عُثْمَانُ بْنُ قَيْسٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ أَشْهَرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৭
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو، برائی کے بعد (جو تم سے ہوجائے) بھلائی کرو جو برائی کو مٹا دے ١ ؎ اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١١٩٨٩) ، وانظر مسند احمد (٥/١٥٣، ١٥٨، ١٧٧، ٢٢٨، ٢٣٦) ، وسنن الدارمی/الرقاق ٧٤ (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : مثلاً نماز پڑھو ، صدقہ و خیرات کرو اور کثرت سے توبہ و استغفار کرو۔ قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (5083) ، الروض النضير (855) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1987
حدیث نمبر: 1987 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّقِ اللَّهِ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৮
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بدگمانی کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بدگمانی سے بچو، اس لیے کہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سفیان کہتے ہیں کہ ظن دو طرح کا ہوتا ہے، ایک طرح کا ظن گناہ کا سبب ہے اور ایک طرح کا ظن گناہ کا سبب نہیں ہے، جو ظن گناہ کا سبب ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کسی کے بارے میں گمان کرے اور اسے زبان پر لائے، اور جو ظن گناہ کا سبب نہیں ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کسی کے بارے میں گمان کرے اور اسے زبان پر نہ لائے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ٤٥ (٥١٤٣) ، والأدب ٥٧ (٦٠٦٤) ، و ٥٨ (٦٠٦٦) ، والفرائض ٢ (٦٧٢٤) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٩ (٢٥٦٣) ، سنن ابی داود/ الأدب ٥٦ (٤٩١٧) (تحفة الأشراف : ١٣٧٢٠) ، و مسند احمد (٢/٢٤٥، ٣١٢، ٣٤٢، ٤٦٥، ٤٧٠، ٤٨٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اسی حدیث میں بدگمانی سے بچنے کی سخت تاکید ہے ، کیونکہ یہ جھوٹ کی بدترین قسم ہے اس لیے عام حالات میں ہر مسلمان کی بابت اچھا خیال رکھنا ضروری ہے سوائے اس کے کہ کوئی واضح ثبوت اس کے برعکس موجود ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح غاية المرام (417) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1988
حدیث نمبر: 1988 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: و سَمِعْت عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ يَذْكُرُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: الظَّنُّ ظَنَّانِ: فَظَنٌّ إِثْمٌ، وَظَنٌّ لَيْسَ بِإِثْمٍ، فَأَمَّا الظَّنُّ الَّذِي هُوَ إِثْمٌ فَالَّذِي يَظُنُّ ظَنًّا وَيَتَكَلَّمُ بِهِ، وَأَمَّا الظَّنُّ الَّذِي لَيْسَ بِإِثْمٍ فَالَّذِي يَظُنُّ وَلاَيَتَكَلَّمُ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৯
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزاح کے بارے میں
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر والوں کے ساتھ اس قدر مل جل کر رہتے تھے کہ ہمارے چھوٹے بھائی سے فرماتے : ابوعمیر ! نغیر کا کیا ہوا ؟ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٣٣٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نغیر گوریا کی مانند ایک چڑیا ہے جس کی چونچ لال ہوتی ہے ، ابوعمیر نے اس چڑیا کو پال رکھا تھا اور اس سے بہت پیار کرتے تھے ، جب وہ مرگئی تو نبی اکرم ﷺ تسلی مزاح کے طور پر ان سے پوچھتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح وقد مضی (333) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1989
حدیث نمبر: 1989 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَضَّاحِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَنْ كَانَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَقُولُ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯০
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزاح کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ہم سے ہنسی مذاق کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میں (خوش طبعی اور مزاح میں بھی) حق کے سوا کچھ نہیں کہتا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٢٩٤٩) ، وانظر : مسند احمد (٢/٣٤٠، ٣٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : لوگوں کے سوال کا مقصد یہ تھا کہ آپ نے ہمیں مزاح (ہنسی مذاق) اور خوش طبعی کرنے سے منع فرمایا ہے اور آپ خود خوش طبعی کرتے ہیں ، اسی لیے آپ نے فرمایا کہ مزاح اور خوش طبعی کے وقت بھی میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا ، جب کہ ایسے موقع پر دوسرے لوگ غیر مناسب اور ناحق باتیں بھی کہہ جاتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1726) ، مختصر الشمائل (202) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1990
حدیث نمبر: 1990 حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا، قَالَ: إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ مَعْنَى قَوْلِهِ: إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا: إِنَّمَا يَعْنُونَ إِنَّكَ تُمَازِحُنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯১
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزاح کے بارے میں
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سواری کی درخواست کی، آپ نے فرمایا : میں تمہیں سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا ، اس آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اونٹنی کا بچہ کیا کروں گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بھلا اونٹ کو اونٹنی کے سوا کوئی اور بھی جنتی ہے ؟ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٩٢ (٤٩٩٨) (تحفة الأشراف : ٦٥٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اونٹ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہے ، ایسے ہی آپ ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا تھا : «لا تدخل الجنة عجوز» یعنی بوڑھیا جنت میں نہیں جائیں گی ، جس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں داخل ہوتے وقت ہر عورت نوجوان ہوگی ، اسی طرح نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان : «إني حاملک علی ولد الناقة» کا بھی حال ہے ، مفہوم یہ ہے کہ اگر کہنے والے کی بات پر غور کرلیا جائے تو پھر سوال کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (4886) ، مختصر الشمائل (203) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1991
حدیث نمبر: 1991 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَل رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ النَّاقَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯২
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزاح کے بارے میں
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اے دو کان والے ! محمود بن غیلان کہتے ہیں : ابواسامہ نے کہا، یعنی آپ ﷺ نے اس سے مزاح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٩٢ (٥٠٠٢) ، ویأتي في المناقب ٥٦ (برقم : ٣٨٢٨) (تحفة الأشراف : ٩٣٤) ، و مسند احمد (٣/١١٧، ١٢٧، ٢٤٢، ٢٦٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (200) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1992
حدیث نمبر: 1992 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ ، قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: يَعْنِي مَازَحَهُ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৩
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھگڑے کے بارے میں
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص (جھگڑے کے وقت) جھوٹ بولنا چھوڑ دے حالانکہ وہ ناحق پر ہے، اس کے لیے اطراف جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا، جو شخص حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے اس کے لیے جنت کے بیچ میں ایک مکان بنایا جائے گا اور جو شخص اپنے اخلاق اچھے بنائے اس کے لیے اعلیٰ جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن وردان کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٥١) (تحفة الأشراف : ٨٦٨) (ضعیف) سند میں سلمہ بن وردان لیثی مدنی ضعیف راوی ہیں، صحیح الفاظ ابو امامہ (رض) کی حدیث سے اس طرح ہیں : ” أنا زعیم ببیت في ربض الجنة لمن ترک المزاح و إن کان محقا، و بیت في وسط الجنة لمن ترک الکذب و إن کان مازحا، و بیت في اعلی الجنة لمن حسن خلقہ “ (أبو داود رقم ٤٨٠٠) تفصیل کے لیے دیکھیے الصحیحة ٢٧٣ ) قال الشيخ الألباني : ضعيف بهذا اللفظ، ابن ماجة (51) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (6) ، الصحيحة (273) ، ضعيف الجامع برقم (5522) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1993
حدیث نمبر: 1993 حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكَرِّمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ بُنِيَ لَهُ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا، وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৪
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھگڑے کے بارے میں
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑتے رہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٥٤٠) (ضعیف) (سند میں ” ادریس بن بنت وہب بن منبہ “ مجہول راوی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (4096) // ضعيف الجامع الصغير (4186 ) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1994
حدیث نمبر: 1994 حَدَّثَنَا فَضَالَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَفَى بِكَ إِثْمًا أَنْ لَا تَزَالَ مُخَاصِمًا ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৫
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھگڑے کے بارے میں
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے بھائی سے مت جھگڑو، نہ اس سے ہنسی مذاق کرو، اور نہ اس سے کوئی ایسا وعدہ کرو جس کی تم خلاف ورزی کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦١٥١) (ضعیف) (سند میں ” لیث بن أبی سلیم “ ضعیف راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (4892 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6274) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1995
حدیث نمبر: 1995 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ اللَّيْثِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُمَارِ أَخَاكَ وَلَا تُمَازِحْهُ وَلَا تَعِدْهُ مَوْعِدَةً فَتُخْلِفَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ عِنْدِي هُوَ ابْنُ أَبِي بَشِيرٍ.
তাহকীক: