আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
نیکی و صلہ رحمی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪১ টি
হাদীস নং: ১৯৫৭
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاریت دینا
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جس شخص نے دودھ کا عطیہ دیا ١ ؎، یا چاندی قرض دی، یا کسی کو راستہ بتایا، اسے غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث ابواسحاق کی روایت سے جسے وہ طلحہ بن مصرف سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - منصور بن معتمر اور شعبہ نے بھی اس حدیث کی روایت طلحہ بن مصرف سے کیا ہے، ٣ - اس باب میں نعمان بن بشیر (رض) سے بھی حدیث آئی ہے، ٤ -«من منح منيحة ورق» کا مطلب ہے بطور قرض دینا «هدى زقاقا» کا مطلب ہے راستہ دکھانا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٨٨٧) ، وانظر مسند احمد (٤/٢٩٦، ٣٠٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کسی کو اونٹ ، گائے یا بکری دیا تاکہ وہ دودھ سے فائدہ اٹھائے اور پھر جانور واپس کر دے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (2 / 34 و 241) ، المشکاة (1917 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1957
حدیث نمبر: 1957 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ لَبَنٍ أَوْ وَرِقٍ أَوْ هَدَى زُقَاقًا كَانَ لَهُ مِثْلَ عِتْقِ رَقَبَةٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رَوَى مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، وَشُعْبَةُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، هَذَا الْحَدِيثَ، وَفِي الْبَابِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ وَرِقٍ إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ: قَرْضَ الدَّرَاهِمِ، قَوْلُهُ: أَوْ هَدَى زُقَاقًا يَعْنِي بِهِ: هِدَايَةَ الطَّرِيقِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৮
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ راستہ میں سے تکلیف دہ چیز ہٹانا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک آدمی راستے پر چل رہا تھا کہ اسے ایک کانٹے دار ڈالی ملی، اس نے اسے راستے سے ہٹا دیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس کام سے خوش ہو کر اس کو بدلہ دیا یعنی اس کی مغفرت فرما دی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبرزہ، ابن عباس اور ابوذر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٣٢ (٦٥٢) والمظالم ٢٨ (٢٤٧٢) ، صحیح مسلم/الإمارة ٥١ (١٩١٤/١٦٤) ، والبر والصلة (١٩١٤/١٢٧) (تحفة الأشراف : ١٢٥٧٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1958
حدیث نمبر: 1958 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي طَرِيقٍ إِذْ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৫৯
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجالس امانت کے ساتھ ہیں۔
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب کوئی آدمی تم سے کوئی بات بیان کرے پھر (اسے راز میں رکھنے کے لیے) دائیں بائیں مڑ کر دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ہم اسے صرف ابن ابی ذئب کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ١٣٧ (٤٨٦٨) (تحفة الأشراف : ٢٣٨٤) ، و مسند احمد (٣/٣٨٠) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص تم سے کوئی بات کہے اور کہتے ہوئے مڑ کر دائیں بائیں دیکھے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ راز کی بات ہے جو صرف تم سے ہو رہی ہے کسی دوسرے کو اس کی خبر نہ ہو لہٰذا سننے والے کی امانت داری میں سے ہے کہ وہ اسے راز رکھے کیونکہ یہ مجلس کے آداب میں سے ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1089) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1959
حدیث نمبر: 1959 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْحَدِيثَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬০
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخاوت کے بارے میں
اسماء بنت ابوبکر (رض) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے گھر میں صرف زبیر کی کمائی ہے، کیا میں اس میں سے صدقہ و خیرات کروں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، صدقہ کرو اور گرہ مت لگاؤ ورنہ تمہارے اوپر گرہ لگا دی جائے گی ١ ؎۔ «لا توكي فيوكى عليك» کا مطلب یہ ہے کہ شمار کر کے صدقہ نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی شمار کرے گا اور برکت ختم کر دے گا ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض راویوں نے اس حدیث کو «عن ابن أبي مليكة عن عباد بن عبد اللہ بن الزبير عن أسماء بنت أبي بکر رضي اللہ عنهما» کی سند سے روایت کی ہے ٣ ؎، کئی لوگوں نے اس حدیث کی روایت ایوب سے کی ہے اور اس میں عباد بن عبیداللہ بن زبیر کا ذکر نہیں کیا، ٣ - اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٢١ (١٤٣٣) ، و ٢٢ (١٤٣٤) ، والہبة ١٥ (٢٥٩٠) ، صحیح مسلم/الزکاة ٢٨ (١٠٢٩) ، سنن ابی داود/ الزکاة ٤٦ (١٦٩٩) ، سنن النسائی/الزکاة ٦٢ (٢٥٥٢) (تحفة الأشراف : ١٥٧١٨) ، و مسند احمد (٦/٣٤٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بخل نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ برکت ختم کر دے گا۔ ٢ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال کے ختم ہوجانے کے ڈر سے صدقہ خیرات نہ کرنا منع ہے ، کیونکہ صدقہ و خیرات نہ کرنا ایک اہم سبب ہے جس سے برکت کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے ، اس لیے کہ رب العالمین خرچ کرنے اور صدقہ دینے پر بیشمار ثواب اور برکت سے نوازتا ہے ، مگر شوہر کی کمائی میں سے صدقہ اس کی اجازت ہی سے کی جاسکتی ہے جیسا کہ دیگر احادیث میں اس کی صراحت آئی ہے۔ ٣ ؎ : یعنی ابن ابی ملیکہ اور اسماء بنت ابی بکر کے درمیان عباد بن عبداللہ بن زبیر کا اضافہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1490) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1960
حدیث نمبر: 1960 حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنْ بَيْتِي إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، أَفَأُعْطِي ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَا تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ يَقُولُ: لَا تُحْصِي فَيُحْصَى عَلَيْكِ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا، عَنْ أَيُّوبَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬১
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سخاوت کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سخی آدمی اللہ سے قریب ہے، جنت سے قریب ہے، لوگوں سے قریب ہے اور جہنم سے دور ہے، بخیل آدمی اللہ سے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے، اور جہنم سے قریب ہے، جاہل سخی اللہ کے نزدیک بخیل عابد سے کہیں زیادہ محبوب ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے «يحيى بن سعيد عن الأعرج عن أبي هريرة» کی سند سے صرف سعد بن محمد کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سعید سے اس حدیث کی روایت کرنے میں سعید بن محمد کی مخالفت کی گئی ہے، (سعید بن محمد نے تو اس سند سے روایت کی ہے جو اوپر مذکور ہے) جب کہ یہ «عن يحيى بن سعيد عن عائشة» کی سند سے بھی مرسلاً مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٣٩٧٣) (ضعیف جداً ) (سند میں ” سعید بن محمد الوراق “ سخت ضعیف ہے، بلکہ بعض کے نزدیک متروک الحدیث راوی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا الضعيفة (154) // ضعيف الجامع الصغير (3341) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1961
حدیث نمبر: 1961 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللَّهِ، قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّاسِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ، وَالْبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ، بَعِيدٌ مِنَ الْجَنَّةِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ، وَلَجَاهِلٌ سَخِيٌّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ عَالِمٍ بَخِيلٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَقَدْ خُولِفَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، إِنَّمَا يُرْوَى عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَائِشَةَ شَيْءٌ مُرْسَلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬২
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بخل کے بارے میں
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن کے اندر دو خصلتیں بخل اور بداخلاقی جمع نہیں ہوسکتیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف صدقہ بن موسیٰ کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ ٢ - اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤١١٠) (ضعیف) (سند میں ” صدقہ بن موسیٰ “ حافظہ کے کمزور ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ حسن خلق اور خیر خواہی کا نام ایمان ہے ، اس لیے جس شخص میں یہ دونوں خوبیاں پائی جائے گی وہ مومن کامل ہوگا ، اور ایسا مومن کامل بخیل اور بداخلاقی جیسی بری اور قابل مذمت صفات سے دور ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الضعيفة (1119) ، نقد الکتاني (33 / 33) // ضعيف الجامع الصغير (2833) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1962
حدیث نمبر: 1962 حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَالِبٍ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِي مُؤْمِنٍ: الْبُخْلُ، وَسُوءُ الْخُلُقِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ صَدَقَةَ بْنِ مُوسَى، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৩
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بخل کے بارے میں
ابوبکر صدیق (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دھوکہ باز، احسان جتانے والا اور بخیل جنت میں نہیں داخل ہوں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٦٢٠) (ضعیف) (سند میں صدقہ بن موسیٰ ، اور فرقد سبخی دونوں ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف أحاديث البيوع // ضعيف الجامع الصغير (6339) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1963
حدیث نمبر: 1963 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ، عَنْأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ خِبٌّ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا بَخِيلٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৪
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بخل کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے، اور فاجر دھوکہ باز اور کمینہ خصلت ہوتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٦ (٤٧٩٠) (تحفة الأشراف : ١٥٣٦٢) ، و مسند احمد (٢/٣٩٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی مومن اپنی شرافت اور سادگی کی وجہ سے دنیاوی منفعت کو منفعت سمجھتے ہوئے اس کا حریص نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات دھوکہ کھا کر اسے نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے ، اس کے برعکس ایک فاجر شخص دوسروں کو دھوکہ دے کر انہیں نقصان پہنچاتا ہے جو اس کے کمینہ خصلت ہونے کی دلیل ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، الصحيحة (932) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1964
حدیث نمبر: 1964 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ بِشْرِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ، وَالْفَاجِرُ خِبٌّ لَئِيمٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৫
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل وعیال پر خرچ کرنا
ابومسعود انصاری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آدمی کا اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عمرو بن امیہ ضمری اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٤٢ (٥٥) ، والمغازي ١٢ (٤٠٠٦) ، والنفقات ١ (٥٣٥١) ، صحیح مسلم/الزکاة ١٤ (١٠٠٢) ، سنن النسائی/الزکاة ٦٠ (٢٥٤٦) (تحفة الأشراف : ٩٩٩٦) ، و مسند احمد (٤/١٢٠، ١٢٢) ، و (٥/٢٧٣) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٣٥ (٢٦٦٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (982) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1965
حدیث نمبر: 1965 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৬
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل وعیال پر خرچ کرنا
ثوبان (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سب سے بہتر دینار وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے جہاد کی سواری پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے ، ابوقلابہ کہتے ہیں : آپ نے بال بچوں کے نفقہ (اخراجات) سے شروعات کی پھر فرمایا : اس آدمی سے بڑا اجر و ثواب والا کون ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے، جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں حرام چیزوں سے بچاتا ہے اور انہیں مالدار بناتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزکاة ١٢ (٩٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٤ (٢٧٦٠) (تحفة الأشراف : ٢١٠١) ، و مسند احمد (٥/٢٧٧، ٢٧٩، ٢٨٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2760) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1966
حدیث نمبر: 1966 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَفْضَلُ الدِّينَارِ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: بَدَأَ بِالْعِيَالِ، ثُمَّ قَالَ: فَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ لَهُ صِغَارٍ يُعِفُّهُمُ اللَّهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمُ اللَّهُ بِهِ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৭
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہمان نوازی کے بارے
ابوشریح عدوی (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ یہ حدیث بیان فرما رہے تھے تو میری آنکھوں نے آپ کو دیکھا اور کانوں نے آپ سے سنا، آپ نے فرمایا : جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرتے ہوئے اس کا حق ادا کرے ، صحابہ نے عرض کیا، مہمان کی عزت و تکریم اور آؤ بھگت کیا ہے ؟ ١ ؎ آپ نے فرمایا : ایک دن اور ایک رات، اور مہمان نوازی تین دن تک ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ صدقہ ہے، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٣١ (٦٠١٩) و ٨٥ (٦١٣٥) ، والرقاق ٢٣ (٦٤٧٦) ، صحیح مسلم/الإیمان ١٩ (٤٨) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٥ (٣٧٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥ (٣٦٧٥) (تحفة الأشراف : ١٢٠٥٦) ، وط/صفة النبي ﷺ ١٠ (٢٢) ، و مسند احمد (٤/٣١) ، و (٦/٣٨٤) ، وسنن الدارمی/الأطعمة ١١ (٢٠٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی کتنے دن تک اس کے لیے پرتکلف کھانا بنایا جائے۔ ٢ ؎ : اس حدیث میں ضیافت اور مہمان نوازی سے متعلق اہم باتیں مذکور ہیں ، مہمان کی عزت و تکریم کا یہ مطلب ہے کہ خوشی سے اس کا استقبال کیا جائے ، اس کی مہمان نوازی کی جائے ، پہلے دن اور رات میں اس کے لیے پرتکلف کھانے کا انتظام کیا جائے ، مزید اس کے بعد تین دن تک معمول کے مطابق مہمان نوازی کی جائے ، اپنی زبان ذکر الٰہی ، توبہ و استغفار اور کلمہ خیر کے لیے وقف رکھے یا بےفائدہ فضول باتوں سے گریز کرتے ہوئے اسے خاموش رکھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3675) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1967
حدیث نمبر: 1967 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَتْهُ أُذُنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ ، قَالُوا: وَمَا جَائِزَتُهُ ؟ قَالَ: يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَمَا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৮
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہمان نوازی کے بارے
ابوشریح کعبی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ضیافت (مہمان نوازی) تین دین تک ہے، اور مہمان کا عطیہ (یعنی اس کے لیے پرتکلف کھانے کا انتظام کرنا) ایک دن اور ایک رات تک ہے، اس کے بعد جو کچھ اس پر خرچ کیا جائے گا وہ صدقہ ہے، مہمان کے لیے جائز نہیں کہ میزبان کے پاس (تین دن کے بعد بھی) ٹھہرا رہے جس سے اپنے میزبان کو پریشانی و مشقت میں ڈال دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - مالک بن انس اور لیث بن سعد نے اس حدیث کی روایت سعید مقبری سے کی ہے، ٣ - ابوشریح خزاعی کی نسبت الکعبی اور العدوی ہے، اور ان کا نام خویلد بن عمرو ہے، ٤ - اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٥ - «لا يثوي عنده» کا مطلب یہ ہے کہ مہمان گھر والے کے پاس ٹھہرا نہ رہے تاکہ اس پر گراں گزرے، ٦ - «الحرج» کا معنی «الضيق» (تنگی ہے) اور «حتی يحرجه» کا مطلب ہے «يضيق عليه» یہاں تک کہ وہ اسے پریشانی و مشقت میں ڈال دے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٣١ (٦٠١٩) ، و ٨٥ (٦١٣٥) ، والرقاق ٢٣ (٦٤٧٦) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٥ (٣٧٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥ (٣٦٧٥) (تحفة الأشراف : ٢٠٥٦) و موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ ١٠ (٢٢) ، و مسند احمد (٤/٣١) ، و (٦/٣٨٤) ، و سنن الدارمی/الأطعمة ١١ (٢٠٧٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (3 / 242) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1968
حدیث نمبر: 1968 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَمَا أُنْفِقَ عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيُّ هُوَ الْكَعْبِيُّ، وَهُوَ الْعَدَوِيُّ اسْمُهُ خُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: لَا يَثْوِي عِنْدَهُ يَعْنِي: الضَّيْفَ، لَا يُقِيمُ عِنْدَهُ حَتَّى يَشْتَدَّ عَلَى صَاحِبِ الْمَنْزِلِ، وَالْحَرَجُ: هُوَ الضِّيقُ، إِنَّمَا قَوْلُهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ يَقُولُ حَتَّى يُضَيِّقَ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৯
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیموں اور بیواؤں کی خبرگیری
صفوان بن سلیم نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بیوہ اور مسکین پر خرچ کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یا اس آدمی کی طرح ہے جو دن میں روزہ رکھتا ہے اور رات میں عبادت کرتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٢٥ (٦٠٠٦) ، (تحفة الأشراف : ١٨٨١٨) (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، صفوان تابعی ہیں، اگلی روایت کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، مالک کے طرق کے لیے دیکھئے : فتح الباری ٩/٤٩٩ ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2140) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1969
حدیث نمبر: 1969 حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ كَالَّذِي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৯
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یتیموں اور بیواؤں کی خبرگیری
اس سند سے ابوہریرہ (رض) سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النفقات ١ (٥٣٥٣) ، والأدب ٢٦ (٦٠٠٧) ، صحیح مسلم/الزہد ٢ (٢٩٨٢) ، سنن النسائی/الزکاة ٧٨ (٢٥٧٨) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ١ (٢١٤٠) (تحفة الأشراف : ١٢٩١٤) ، و مسند احمد (٢/٣٦١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2140) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1969
حدیث نمبر: 1969 حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْغَيْثِ اسْمُهُ سَالِمٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، وَثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ مَدَنِيٌّ، وَثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ شَامِيٌّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭০
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کشادہ پیشانی اور بشاش چہرے سے ملنا
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر بھلائی صدقہ ہے، اور بھلائی یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خوش مزاجی کے ساتھ ملو اور اپنے ڈول سے اس کے ڈول میں پانی ڈال دو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوذر (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٣٠٨٥) (وانظر : مسند احمد (٣/٣٤٤، ٣٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف مال ہی خرچ کرنا صدقہ نہیں ہے ، بلکہ ہر نیکی صدقہ ہے ، چناچہ اپنے ڈول سے دوسرے بھائی کے ڈول میں کچھ پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے ، اور دوسرے مسلمان بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (3 / 264) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1970
حدیث نمبر: 1970 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭১
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سچ اور جھوٹ
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سچ بولو، اس لیے کہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے، آدمی ہمیشہ سچ بولتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ گناہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور گناہ جہنم میں لے جاتا ہے، آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکر صدیق، عمر، عبداللہ بن شخیر اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٦٩ (٦٠٩٤) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٢٩ (٢٦٠٧) ، و القدر ١ (٢٦٤٣) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٤٦) (تحفة الأشراف : ٩٢٦١) ، و مسند احمد (١/٣٨٤، ٤٠٥) ، و سنن الدارمی/الرقاق ٧ (٢٧٥٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ ہمیشہ جھوٹ سے بچنا اور سچائی کو اختیار کرنا چاہیئے ، کیونکہ جھوٹ کا نتیجہ جہنم اور سچائی کا نتیجہ جنت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1971
حدیث نمبر: 1971 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَمَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَعُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭২
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سچ اور جھوٹ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور بھاگتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن جید غریب ہے ٢ - یحییٰ بن موسیٰ کہتے ہیں : میں نے عبدالرحیم بن ہارون سے پوچھا : کیا آپ سے عبدالعزیز بن ابی داود نے یہ حدیث بیان کی ؟ کہا : ہاں، ٣ - ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اس کی روایت کرنے میں عبدالرحیم بن ہارون منفرد ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٧٧٦٧) (ضعیف جداً ) (سند میں ” عبد الرحیم بن ہارون “ سخت ضعیف راوی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، الضعيفة (1828) // ضعيف الجامع الصغير (680) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1972
حدیث نمبر: 1972 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ هَارُونَ الْغَسَّانِيِّ: حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَذَبَ الْعَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْهُ الْمَلَكُ مِيلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِهِ ، قَالَ يَحْيَى: فَأَقَرَّ بِهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ هَارُونَ، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ هَارُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭৩
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سچ اور جھوٹ
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک جھوٹ سے بڑھ کر کوئی اور عادت نفرت کے قابل ناپسندیدہ نہیں تھی، اور جب کوئی آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس جھوٹ بولتا تو وہ ہمیشہ آپ کی نظر میں قابل نفرت رہتا یہاں تک کہ آپ جان لیتے کہ اس نے جھوٹ سے توبہ کرلی ہے، امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (لم یذکرہ المزي ولا یوجد ھو في أکثر النسخ) (صحیح ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1973
حدیث نمبر: 1973 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا كَانَ خُلُقٌ أَبْغَضَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَذِبِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُحَدِّثُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكِذْبَةِ فَمَا يَزَالُ فِي نَفْسِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْهَا تَوْبَةً ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭৪
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بے حیائی کے بارے میں
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس چیز میں بھی بےحیائی آتی ہے اسے عیب دار کردیتی ہے اور جس چیز میں حیاء آتی ہے اسے زینت بخشتی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں عائشہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزہد ١٧ (٤١٨٥) (تحفة الأشراف : ٤٧٢) ، و مسند احمد (٣/١٦٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4185) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1974
حدیث نمبر: 1974 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ، وَمَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭৫
نیکی و صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بے حیائی کے بارے میں
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں بہتر ہیں، نبی اکرم ﷺ بےحیاء اور بدزبان نہیں تھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥٩) ، وفضائل الصحابة ٢٧ (٣٧٥٩) ، صحیح مسلم/الفضائل ١٦ (٢٣٢١) (تحفة الأشراف : ٨٩٣٣) ، و مسند احمد (٢/١٦١، ١٨٩، ١٩٣، ٢١٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (791) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1975
حدیث نمبر: 1975 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا ، وَلَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক: