আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
لباس کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৯ টি
হাদীস নং: ১৭৭৯
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک جوتا پہن کر چلنے کی اجازت
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جب کوئی جوتا پہنے تو داہنے پیر سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں سے شروع کرے، پہننے میں داہنا پاؤں پہلے اور اتارنے میں پیچھے ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٣٩ (٥٨٥٤) ، سنن ابی داود/ اللباس ٤٤ (٤١٣٩) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٨ (٣٦١٦) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨١٤) ، وط/اللباس ٧ (١٥) ، و مسند احمد (٢/٢٨٣، ٤٣٠، ٤٧٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جوتا پہننا پاؤں کے لیے عزت و تکریم کا باعث ہے ، اس لحاظ سے اس تکریم کا مستحق داہنا پاؤں سب سے زیادہ ہے ، کیونکہ دایاں پاؤں بائیں سے بہتر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3616) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1779
حدیث نمبر: 1779 حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ فَلْتَكُنْ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮০
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کپڑوں میں پیوند لگانا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اگر تم (آخرت میں) مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو دنیا سے مسافر کے سامان سفر کے برابر حاصل کرنے پر اکتفا کرو، مالداروں کی صحبت سے بچو اور کسی کپڑے کو اس وقت تک پرانا نہ سمجھ یہاں تک کہ اس میں پیوند لگا لو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف صالح بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : صالح بن حسان منکر حدیث ہیں اور صالح بن ابی حسان جن سے ابن ابی ذئب نے روایت کی ہے وہ ثقہ ہیں، ٤ - تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٦٣٤٧) (ضعیف جداً ) (سند میں ” صالح بن حسان “ متروک ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، الضعيفة (1294) ، التعليق الرغيب (4 / 98) ، المشکاة (4344 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1288) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1780 امام ترمذی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے فرمان «إياک ومجالسة الأغيناء» کا مطلب اسی طرح ہے جیسا کہ ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اس آدمی کو دیکھے جس کو صورت اور رزق میں اس پر فضیلت دی گئی ہو، تو اسے چاہیئے کہ اپنے سے کم تر کو دیکھے جس کے اوپر اس کو فضیلت دی گئی ہے، کیونکہ اس کے لیے مناسب ہے کہ اپنے اوپر کی گئی اللہ کی نعمت کی تحقیر نہ کرے ، ٤ - عون بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں : میں مالداروں کے ساتھ رہا تو اپنے سے زیادہ کسی کو غمزدہ نہیں دیکھا، کیونکہ میں اپنے سے بہتر سواری اور اپنے سے بہتر کپڑا دیکھتا تھا اور جب میں غریبوں کے ساتھ رہا تو میں نے راحت محسوس کی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الترجل ١٢ (٤١٩١) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٦ (٣٦٣١) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠١١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، الضعيفة (1294) ، التعليق الرغيب (4 / 98) ، المشکاة (4344 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1288) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1780
حدیث نمبر: 1780 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، وَأَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيّ، قَالَا: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْعُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ وَلَا تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتَّى تُرَقِّعِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ: وَسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ثِقَةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ عَلَى نَحْوِ مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ رَأَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْخَلْقِ وَالرِّزْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ هُوَ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا يَزْدَرِيَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَيُرْوَى عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: صَحِبْتُ الْأَغْنِيَاءَ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَكْبَرَهَمًّا مِنِّي أَرَى دَابَّةً خَيْرًا مِنْ دَابَّتِي وَثَوْبًا خَيْرًا مِنْ ثَوْبِي، وَصَحِبْتُ الْفُقَرَاءَ فَاسْتَرَحْتُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮১
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ام ہانی (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ اس حال میں آئے کہ آپ کی چار چوٹیاں تھیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ام ہانی سے مجاہد کا سماع میں نہیں جانتا ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ممکن ہے گردوغبار سے بالوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو ، کیونکہ اس وقت آپ سفر میں تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3631) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1781
حدیث نمبر: 1781 حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: لَا أَعْرِفُ لِمُجَاهِدٍ سَمَاعًا مِنْ أُمِّ هَانِئٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮২
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابوکبشہ انماری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی آستینیں کشادہ تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث منکر ہے، ٢ - عبداللہ بن بسر بصرہ کے رہنے والے ہیں، محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعید وغیرہ نے انہیں ضعیف کہا ہے، ٣ - «بطح» چوڑی اور کشادہ چیز کو کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٢١٤٤) (ضعیف) (اس کے راوی عبد اللہ بن بسر مکی ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (4333 / التحقيق الثاني) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1782
حدیث نمبر: 1782 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ يَقُولُ: كَانَتْ كِمَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحًا قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ بَصْرِيٌّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ، وَبُطْحٌ يَعْنِي وَاسِعَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৩
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
حذیفہ بن یمان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی یا میری پنڈلی کا گوشت پکڑا اور فرمایا : یہ تہبند کی جگہ ہے، اگر اس پر راضی نہ ہو تو تھوڑا اور نیچا کرلو، پھر اگر اور نیچا کرنا چاہو تو تہ بند ٹخنوں سے نیچا نہیں کرسکتے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے، ثوری اور شعبہ نے بھی اس کو ابواسحاق سبیعی سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/اللباس ٧ (٣٥٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٣٨٣) و مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٩٦، ٣٩٨، ٤٠٠، ٤٠١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی تہ بند باندھنے کی اصل جگہ آدھی پنڈلی تک اگر اس سے نیچا رکھنا ہے تو ٹخنوں سے کچھ اوپر تک رکھنے کی گنجائش ہے ، اس سے نیچا رکھنا منع ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3572) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1783
حدیث نمبر: 1783 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نَذِيرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ، فَقَالَ: هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৪
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
محمد بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ نے نبی اکرم ﷺ سے کشتی لڑی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے پچھاڑ دیا، رکانہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا : ہمارے اور مشرکوں کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنے کا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس کی سند قائم (صحیح) نہیں ہے، ٣ - ہم ابوالحسن عسقلانی اور ابن رکانہ کو نہیں جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ اللباس ٢٤ (٤٠٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٦١٤) (ضعیف) (اس کے راوی ابو جعفر بن محمد مجہول ہیں نیز محمد بن علی یزید بن رکانہ اور ان کے پردادا رکانہ یا محمد بن یزید بن رکانہ ان کے دادا کے درمیان انقطاع ہے، اس بابت سخت اختلاف ہے دیکھئے : تہذیب الکمال ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (4340) ، الإرواء (1503) // ضعيف الجامع الصغير (3959) ، ضعيف أبي داود (882 / 4078) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1784
حدیث نمبر: 1784 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُكَانَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ فَرْقَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَائِمِ وَلَا نَعْرِفُ أَبَا الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيَّ، وَلَا ابْنَ رُكَانَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৫
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوہے اور پیتل کی انگوٹھی۔
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا : کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہو ؟ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا : کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبو آرہی ہے ؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ نے فرمایا : کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جنتیوں کا زیور پہنے ہو ؟ اس نے پوچھا : میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں ؟ آپ نے فرمایا : چاندی کی اور (وزن میں) ایک مثقال سے کم رکھو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے، ٣ - عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اور وہ عبداللہ بن مسلم مروزی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الخاتم ٤ (٤٢٢٣) ، سنن النسائی/الزینة ٤٦ (٥١٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٩٨٢) ، و مسند احمد (٥/٣٥٩) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن مسلم ابو طیبہ حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں اکثر وہم ہوجایا کرتا تھا ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (4396) ، آداب الزفاف (128) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1785
حدیث نمبر: 1785 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ: مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ ، ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ: مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ ، ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: مَالِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، قَالَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ، قَالَ: مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ يُكْنَى أَبَا طَيْبَةَ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৬
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریشمی کپڑا پہننے کی ممانعت
علی (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے «قسي» (ایک ریشمی کپڑا) سرخ (رنگ کا ریشمی) زین پوش اور اس انگلی اور اس انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا اور انہوں نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ١٦ (٢٠٨٧) ، والذکر ١٨ (٢٧٢٥) ، سنن ابی داود/ الخاتم ٤ (٤٢٢٥) ، سنن النسائی/الزینة ٥٢ (٥٢١٣) ، ٧٩ (٥٢٨٨) ، و ١٢١ (٥٣٧٨) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٣ (٣٦٤٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣١٨) ، و مسند احمد (١/٨٨، ١٣٤، ١٣٨) (صحیح) ہذہ أو ہذہ کے لفظ سے صحیح ہے، اور دونوں سیاق کا معنی ایک ہی ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح - بلفظ فی هذه أو هذه شک عاصم - الضعيفة (5499) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1786
حدیث نمبر: 1786 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُوسَى، قَال: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: نَهَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَائِ وَأَنْ أَلْبَسَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ وَفِي هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৮৭
لباس کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا پسندیدہ کپڑا جسے آپ پہنتے تھے وہ دھاری دار یمنی چادر تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ١٨ (٥٨١٢) ، صحیح مسلم/اللباس ٥ (٢٠٧٩) ، سنن النسائی/الزینة ٩٤ (٥٣١٧) ، والمؤلف في الشمائل ٨ (تحفة الأشراف : ١٣٥٣) ، و مسند احمد (٣/١٣٤، ١٨٤، ٢٥١، ٢٩١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل المحمدية (51) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1787
حدیث نمبر: 1787 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا الْحِبَرَةُ. قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب.
তাহকীক: