আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৩ টি
হাদীস নং: ১৭০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کو لڑانا اور چہرہ داغنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ٥٦ (٢٥٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٦٤٣١) (ضعیف) (اس کے راوی ابو یحییٰ قتات ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : منع کرنے کا سبب یہ ہے کہ اس سے جانوروں کو تکلیف اور تکان لاحق ہوگی ، نیز اس کام سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ، بلکہ یہ عبث اور لایعنی کاموں میں سے ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف غاية المرام (383) ، ضعيف أبي داود (443) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1708
حدیث نمبر: 1708 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کو لڑانا اور چہرہ داغنا
مجاہد سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس سند میں راوی نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے، ٢ - کہا جاتا ہے، قطبہ کی (اگلی) حدیث سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، اس حدیث کو شریک نے بطریق «مجاهد عن ابن عباس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں ابویحییٰ کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣ - اور ابومعاویہ نے اس کو بطریق «الأعمش عن مجاهد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے، ابویحییٰ سے مراد ابویحییٰ قتات کوفی ہیں، کہا جاتا ہے ان کا نام زاذان ہے، ٤ - اس باب میں طلحہ، جابر، ابوسعید اور عکراش بن ذؤیب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٩٢٨٠) (ضعیف) (ابو یحییٰ قتات ضعیف ہیں، نیز یہ روایت مرسل ہے ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1709
حدیث نمبر: 1709 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ التَّحْرِيشِ بَيْنَ الْبَهَائِمِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَيُقَالُ: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ قُطْبَةَ، وَرَوَى شَرِيكٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي يَحْيَى، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، وَرَوَى أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَأَبُو يَحْيَى هُوَ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ وَيُقَالُ اسْمُهُ: زَاذَانُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ طَلْحَةَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جانوروں کو لڑانا اور چہرہ داغنا
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چہرے پر مارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ٢٩ (٢١١٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٨١٦) ، و مسند احمد (٣/٣١٨، ٣٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : چہرہ جسم کے اعضاء میں سب سے افضل و اشرف ہے ، چہرہ پر مارنے سے بعض حواس ناکام ہوسکتے ہیں ، ساتھ ہی چہرہ کے عیب دار ہونے کا بھی خطرہ ہے ، اسی لیے مارنے کے ساتھ اس پر کسی طرح کا داغ لگانا بھی ناپسند سمجھا گیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2185) ، صحيح أبي داود (2310) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1710
حدیث نمبر: 1710 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بلوغت کی حد اور مال غنیمت میں حصہ دینا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک لشکر میں مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، میں چودہ سال کا تھا، تو آپ نے مجھے (جہاد میں لڑنے کے لیے) قبول نہیں کیا، پھر مجھے آپ کے سامنے آئندہ سال ایک لشکر میں پیش کیا گیا اور میں پندرہ سال کا تھا، تو آپ نے مجھے (لشکر میں) قبول کرلیا، نافع کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو عمر بن عبدالعزیز سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : چھوٹے اور بڑے کے درمیان یہی حد ہے، پھر انہوں نے فرمان جاری کیا کہ جو پندرہ سال کا ہوجائے اسے مال غنیمت سے حصہ دیا جائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٣٦١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : لڑکا یا لڑکی کی عمر سن ہجری سے جب پندرہ سال کی ہوجائے تو وہ بلوغت کی حد کو پہنچ جاتا ہے ، اسی طرح سے زیر ناف بال نکل آنا اور احتلام کا ہونا بھی بلوغت کی علامات میں سے ہے ، اور لڑکی کو حیض آ جائے تو یہ بھی بلوغت کی نشانی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2543) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1711
حدیث نمبر: 1711 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَيْشٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يَقْبَلْنِي، ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ مِنْ قَابِلٍ فِي جَيْشٍ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَقَبِلَنِي ، قَالَ نَافِعٌ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ: هَذَا حَدُّ مَا بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، ثُمَّ كَتَبَ أَنْ يُفْرَضَ لِمَنْ بَلَغَ الْخَمْسَ عَشْرَةَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہید کا قرض
ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کے بیچ کھڑے ہو کر ان سے بیان کیا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے ١ ؎، (یہ سن کر) ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہوجاؤں، تو کیا میرے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہاں اگر تم اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے اس حال میں کہ تم صبر کرنے والے، ثواب کی امید رکھنے والے ہو، آگے بڑھنے والے ہو، پیچھے مڑنے والے نہ ہو ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے کیسے کہا ہے ؟ عرض کیا : آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہوجاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہاں اگر تم صبر کرنے والے، ثواب کی امید رکھنے والے ہو اور آگے بڑھنے والے ہو پیچھے مڑنے والے نہ ہو، سوائے قرض کے ٢ ؎، یہ مجھ سے جبرائیل نے (ابھی) کہا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض لوگوں نے یہ حدیث بسند «سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، یحییٰ بن سعید انصاری اور کئی لوگوں نے اس کو بسند «سعيد المقبري عن عبد اللہ ابن أبي قتادة عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» سے روایت کی ہے، یہ روایت سعید مقبری کی روایت سے جو بواسطہ ابوہریرہ آئی ہے، زیادہ صحیح ہے، ٤ - اس باب میں انس، محمد بن جحش اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإمارة ٣٢ (١٨٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٩٨) ، وط/الجہاد ١٤ (٣١) ، و مسند احمد (٥/٢٩٧، ٣٠٤، ٣٠٨) ، سنن الدارمی/الجہاد ٢١ (٢٤٥٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : افضل اعمال کے سلسلہ میں مختلف احادیث میں مختلف اعمال کو افضل بتایا گیا ہے ، اس کی مختلف توجیہیں کی گئی ہیں ، ان احادیث میں «أفضل الأعمال» سے پہلے «من» پوشیدہ مانا جائے ، مفہوم یہ ہوگا کہ یہ اعمال افضل ہیں ، یا ان کا تذکرہ احوال واوقات اور جگہوں کے مختلف ہونے کے اعتبار سے ہے ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مخاطب کی رو سے مختلف اعمال کی ا فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔ ٢ ؎ : یعنی وہ قرض جس کی ادائیگی کی نیت نہ ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (1197) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1712
حدیث نمبر: 1712 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ: أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ، أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يُكَفِّرُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ قُلْتَ ؟ ، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَيُكَفِّرُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ، إِلَّا الدَّيْنَ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِي ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہداء کی تدفین
ہشام بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ سے زخموں کی شکایت کی گئی ١ ؎، آپ نے فرمایا : قبر کھودو اور اسے کشادہ اور اچھی بناؤ، ایک قبر میں دو یا تین آدمیوں کو دفن کرو، اور جسے زیادہ قرآن یاد ہو اسے (قبلہ کی طرف) آگے کرو ، ہشام بن عامر کہتے ہیں : میرے والد بھی وفات پائے تھے، چناچہ ان کو ان کے دو ساتھیوں پر مقدم (یعنی قبلہ کی طرف آگے) کیا گیا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سفیان ثوری اور دوسرے لوگوں نے اس حدیث کو بسند «أيوب عن حميد بن هلال عن هشام بن عامر» روایت کیا ہے، ٣ - اس باب میں خباب، جابر اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجنائز ١ ٧ (٣٢١٥) ، سنن النسائی/الجنائز ٨٦ (٢٠١٢) ، و ٩٠ (٢٠١٧) ، و ٩١ (٢٠٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤١ (١٥٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٣١) ، و مسند احمد (٤/١٩، ٢٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی صحابہ کرام نے یہ شکایت کی ، اللہ کے رسول ہم زخموں سے چور ہیں ، اس لائق نہیں ہیں کہ شہداء کی الگ الگ قبریں تیار کرسکیں ، ایسی صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ، کیونکہ الگ الگ قبر کھودنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1560) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1713
حدیث نمبر: 1713 حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: شُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِرَاحَاتُ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا ، فَمَاتَ أَبِي، فَقُدِّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلَيْنِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ خَبَّابٍ، وَجَابِرٍ، وَأَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبُو الدَّهْمَاءِ اسْمُهُ: قِرْفَةُ بْنُ بُهَيْسٍ أَوْ بَيْهَسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشورے کے بارے میں
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جب بدر کے دن قیدیوں کو لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو ، پھر راوی نے اس حدیث میں ایک طویل قصہ بیان کیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ابوعبیدہ نے اپنے باپ سے نہیں سنا ہے، ٣ - ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا جو اپنے ساتھیوں سے زیادہ مشورہ لیتا ہو ٢ ؎، ٤ - اس حدیث میں عمر، ابوایوب، انس اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف وأعادہ في تفسیر الأنفال (٣٠٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٢٨) (ضعیف) (ابو عبیدہ کا اپنے باپ ابن مسعود (رض) سے سماع نہیں ہے ) وضاحت : ١ ؎ : قصہ (اختصار کے ساتھ) یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں : بدر کے قیدیوں کی بابت نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے مشورہ لیا ، ابوبکر (رض) کی رائے تھی کہ ان کے ساتھ نرم دلی برتی جائے اور ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے ، عمر (رض) نے کہا : یہ آپ کی تکذیب کرنے والے لوگ ہیں ، انہیں معاف کرنا صحیح نہیں ہے ، بلکہ آپ حکم دیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے قریبی ساتھی کا سر قلم کرے ، جب کہ بعض کی رائے تھی کہ سوکھی لکڑیوں کے انبار میں سب کو ڈال کر جلا دیا جائے ، نبی اکرم ﷺ سب کی باتیں سن کر خاموش رہے ، اندر گئے پھر باہر آ کر فرمایا : اللہ تعالیٰ بعض دلوں کو دودھ کی طرح نرم کردیتا ہے جب کہ بعض کو پتھر کی طرح سخت کردیتا ہے ، ابوبکر (رض) کی مثال ابراہیم و عیسیٰ سے دی ، عمر (رض) کی نوح سے اور عبداللہ بن رواحہ (رض) کی موسیٰ (علیہ السلام) سے ، پھر آپ نے ابوبکر (رض) کی رائے پسند کی اور فدیہ لے کر سب کو چھوڑ دیا ، دوسرے دن جب عمر (رض) آئے تو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) کو روتا دیکھ کر عرض کیا ، اللہ کے رسول ! رونے کا کیا سبب ہے ؟ اگر مجھے معلوم ہوجاتا تو میں بھی شامل ہوجاتا ، یا روہانسی صورت بنا لیتا ، آپ ﷺ نے فرمایا : بدر کے قیدیوں سے فدیہ قبول کرنے کے سبب تمہارے ساتھیوں پر جو عذاب آنے والا تھا اور اس درخت سے قریب ہوگیا تھا اس کے سبب رو رہا ہوں ، پھر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «ما کان لنبي أن يكون له أسری حتی يثخن في الأرض» (الأنفال : ٦٧ ) ۔ ٢ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام میں مشورہ کی کافی اہمیت ہے ، اگر مسلمانوں کے سارے کام باہمی مشورہ سے انجام دیئے جائیں تو ان میں کافی خیر و برکت ہوگی ، اور رب العالمین کی طرف سے ان کاموں کے لیے آسانیاں فراہم ہوں گی اور اس کی مدد شامل حال ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، الإرواء (5 / 47 - 48) ، وسيأتي (5080 // 598 / 3293 // بزيادة في المتن) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1714
حدیث نمبر: 1714 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ، وَجِيءَ بِالْأُسَارَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى ؟ ، فَذَكَرَ قِصَّةً فِي هَذَا الْحَدِيثِ طَوِيلَةً، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ، وَيُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ مَشُورَةً لِأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر قیدی کی لاش فدیہ لے کر نہ دی جائے
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مشرکین نے ایک مشرک کی لاش کو خریدنا چاہا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بیچنے سے انکار کردیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف حکم کی روایت سے جانتے ہیں، اس کو حجاج بن ارطاۃ نے بھی حکم سے روایت کیا ہے، ٣ - احمد بن حنبل کہتے ہیں : ابن ابی لیلیٰ کی حدیث قابل حجت نہیں ہے، ٤ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابن ابی لیلیٰ صدوق ہیں لیکن ہم کو ان کی صحیح حدیثیں ان کی ضعیف حدیثوں سے پہچان نہیں پاتے، میں ان سے کچھ نہیں روایت کرتا ہوں، ابن ابی لیلیٰ صدوق ہیں فقیہ ہیں، لیکن بسا اوقات ان سے سندوں میں وہم ہوجاتا ہے، ٥ - سفیان ثوری کہتے ہیں : ہمارے فقہاء ابن ابی لیلیٰ اور عبداللہ بن شبرمہ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ٦٤٧٥) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1715
حدیث نمبر: 1715 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ أَرَادُوا أَنْ يَشْتَرُوا جَسَدَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَهُمْ إِيَّاهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَكَمِ، وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ أَيْضًا عَنْ الْحَكَمِ، وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ: سَمِعْتُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، يَقولُ: ابْنُ أَبِي لَيْلَى لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: ابْنُ أَبِي لَيْلَى صَدُوقٌ وَلَكِنْ لَا نَعْرِفُ صَحِيحَ حَدِيثِهِ مِنْ سَقِيمِهِ وَلَا أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى صَدُوقٌ فَقِيهٌ، وَرُبَّمَا يَهِمُ فِي الْإِسْنَادِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، قَالَ: فُقَهَاؤُنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شُبْرُمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد سے فرار
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ایک سریہ میں روانہ کیا، (پھر ہم) لوگ لڑائی سے بھاگ کھڑے ہوئے، مدینہ آئے تو شرم کی وجہ سے چھپ گئے اور ہم نے کہا : ہلاک ہوگئے، پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم بھگوڑے ہیں، آپ نے فرمایا : بلکہ تم لوگ پیچھے ہٹ کر حملہ کرنے والے ہو اور میں تمہارا پشت پناہ ہوں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف یزید بن ابی زیاد کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - «فحاص الناس حيصة» کا معنی یہ ہے کہ لوگ لڑائی سے فرار ہوگئے، ٣ - اور «بل أنتم العکارون» اس کو کہتے ہیں : جو فرار ہو کر اپنے امام (کمانڈر) کے پاس آ جائے تاکہ وہ اس کی مدد کرے نہ کہ لڑائی سے فرار ہونے کا ارادہ رکھتا ہو۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ١٠٦ (٢٦٤٧) ، (تحفة الأشراف : ٧٢٩٨) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الإرواء (1203) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1716
حدیث نمبر: 1716 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً، فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَاخْتَبَيْنَا بِهَا وَقُلْنَا: هَلَكْنَا، ثُمَّ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ الْفَرَّارُونَ ، قَالَ: بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ وَأَنَا فِئَتُكُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً، يَعْنِي: أَنَّهُمْ فَرُّوا مِنَ الْقِتَالِ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ ، وَالْعَكَّارُ: الَّذِي يَفِرُّ إِلَى إِمَامِهِ لِيَنْصُرَهُ، لَيْسَ يُرِيدُ الْفِرَارَ مِنَ الزَّحْفِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد سے فرار
جابر (رض) کہتے ہیں کہ احد کے دن میری پھوپھی میرے باپ کو لے کر آئیں تاکہ انہیں ہمارے قبرستان میں دفن کریں، تو رسول اللہ ﷺ کے ایک منادی نے پکارا : مقتولوں کو ان کی قتل گاہوں میں لوٹا دو (دفن کرو) ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور نبی ح ثقہ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجنائز ٤٢ (٣١٦٥) ، سنن النسائی/الجنائز ٨٣ (٢٠٠٦) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٨ (١٥١٦) ، (تحفة الأشراف : ٣١١٧) ، سنن الدارمی/المقدمة ٧ (٤٦) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے ورنہ اس کے راوی نبی ح عنزی لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حکم شہداء کے لیے خاص ہے ، حکمت یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ شہداء موت و حیات اور بعث و حشر میں بھی ایک ساتھ رہیں ، عام میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اشد ضرورت کے تحت منتقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، شرط یہ ہے کہ نعش کی بےحرمتی نہ ہو اور آب و ہوا کے اثر سے اس میں کوئی تغیر نہ ہو ، سعید ابن ابی وقاص کو صحابہ کی موجودگی میں مدینہ منتقل کیا گیا تھا ، کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2516) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1717
حدیث نمبر: 1717 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَال: سَمِعْتُ نُبَيْحًا الْعَنَزِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ، جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي لِتَدْفِنَهُ فِي مَقَابِرِنَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُدُّوا الْقَتْلَى إِلَى مَضَاجِعِهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَنُبَيْحٌ ثِقَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر سے واپس آنے والے کا استقبال کرنا
سائب بن یزید (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس آئے تو لوگ آپ کے استقبال کے لیے ثنیۃ الوداع تک نکلے : میں بھی لوگوں کے ساتھ نکلا حالانکہ میں کم عمر تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ١٩٦ (٣٠٨٢) ، والمغازي ٨٢ (٤٤٢٦) ، سنن ابی داود/ الجہاد ١٧٦ (٢٧٧٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٨٠٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1718
حدیث نمبر: 1718 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْالسَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ، خَرَجَ النَّاسُ يَتَلَقَّوْنَهُ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ ، قَالَ السَّائِبُ: فَخَرَجْتُ مَعَ النَّاسِ وَأَنَا غُلَامٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال فئی
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ اسود کے قبیلہ بنی نضیر کے اموال ان میں سے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بطور «فے» ١ ؎ عطا کیا تھا، اس کے لیے مسلمانوں نے نہ تو گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ ہی اونٹ، یہ پورے کا پورا مال خالص اللہ کے رسول ﷺ کے لیے تھا، رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے لیے اس میں سے ایک سال کا خرچ الگ کرلیتے، پھر جو باقی بچتا اسے جہاد کی تیاری کے لیے گھوڑوں اور ہتھیاروں میں خرچ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سفیان بن عیینہ نے اس حدیث کو معمر کے واسطہ سے ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٨٠ (٢٩٠٤) ، وتفسیر الحشر ٣ (٤٨٨٥) ، صحیح مسلم/الجہاد ١٥ (١٧٥٧) ، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة ١٩ (٢٩٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٣١) ، و مسند احمد (١/٢٥) (وانظر أیضا حدیث رقم ١٦١٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : «فئی» : وہ مال ہے جو کافروں سے جنگ کیے بغیر مسلمانوں کے ہاتھ آئے ، یہ مال آپ کے لیے خاص تھا ، مال غنیمت نہ تھا کہ مجاہدین میں تقسیم کیا جاتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (341) ، صحيح أبي داود (2624 - 2626) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1719
حدیث نمبر: 1719 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، وَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَعْزِلُ نَفَقَةَ أَهْلِهِ سَنَةً، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي الْكُرَاعِ وَالسَّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ شِهابٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے برتن استعمال کرنا۔
ابوثعلبہ خشنی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے سوال کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ اہل کتاب کی سر زمین میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکائیں اور ان کے برتنوں میں پانی پئیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی برتن نہ مل سکے تو اسے پانی سے دھو لو ، پھر انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ہم شکار والی سر زمین میں رہتے ہیں کیسے کریں ؟ آپ نے فرمایا : جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا روانہ کرو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر وہ شکار مار ڈالے تو اسے کھاؤ، اور اگر کتا سدھایا ہوا نہ ہو اور شکار ذبح کردیا جائے تو اسے کھاؤ اور جب تم تیر مارو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر اس سے شکار ہوجائے تو اسے کھاؤ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٤٦٤ و ١٥٦٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3207) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1797
حدیث نمبر: 1797 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ،وَقَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَطْبُخُ فِي قُدُورِهِمْ وَنَشْرَبُ فِي آنِيَتِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَكَيْفَ نَصْنَعُ قَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُكَلَّبٍ فَذُكِّيَ فَكُلْ وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক: