আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৩ টি
হাদীস নং: ১৬৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شہید کو قتل سے صرف اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی تکلیف تم میں سے کسی کو چٹکی لینے سے ہوتی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الجہاد ٣٥ (٣١٦٣) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٦ (٢٨٠٢) ، (تحفة الأشراف : ١٢٨٦١) ، و مسند احمد (٢/٢٩٧) (حسن صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (2802) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1668
حدیث نمبر: 1668 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، وغير واحد، قَالُوا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ، إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مِنْ مَسِّ الْقَرْصَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ابوامامہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو دو قطروں اور دو نشانیوں سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ہے : آنسو کا ایک قطرہ جو اللہ کے خوف کی وجہ سے نکلے اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو اللہ کے راستہ میں بہے، دو نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ ہے جو اللہ کی راہ میں لگے اور دوسری نشانی وہ ہے جو اللہ کے فرائض میں سے کسی فریضہ کی ادائیگی کی حالت میں لگے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤٩٠٦) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (3837) ، التعليق الرغيب (2 / 180) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1669
حدیث نمبر: 1669 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ الْفِلَسْطِينِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى اللهِ مِنْ قَطْرَتَيْنِ، وَأَثَرَيْنِ: قَطْرَةٌ مِنْ دُمُوعٍ فِي خَشْيَةِ اللهِ، وَقَطْرَةُ دَمٍ تُهَرَاقُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَأَمَّا الْأَثَرَانِ: فَأَثَرٌ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَأَثَرٌ فِي فَرِيضَةٍ مِنْ فَرَائِضِ اللهِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل عذر کو جہاد میں عدم شرکت کی اجازت
براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس «شانہ» (کی ہڈی) یا تختی لاؤ، پھر آپ نے لکھوایا ١ ؎: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» یعنی جہاد سے بیٹھے رہنے والے مومن (مجاہدین کے) برابر نہیں ہوسکتے ہیں نابینا صحابی ، عمرو ابن ام مکتوم (رض) آپ کے پیچھے تھے، انہوں نے پوچھا : کیا میرے لیے اجازت ہے ؟ چناچہ (آیت کا) یہ ٹکڑا نازل ہوا : «غير أول الضرر» ، (معذورین کے) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث بروایت «سليمان التيمي عن أبي إسحق» غریب ہے، اس حدیث کو شعبہ اور ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے، ٣ - اس باب میں ابن عباس، جابر اور زید بن ثابت (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٣١ (٢٨٣١) ، وتفسیر سورة النساء ١٨ (٤٥٩٣) ، وفضائل القرآن ٤ (٤٩٩٠) ، صحیح مسلم/الإمارة ٤٠ (١٨٩٨) ، سنن النسائی/الجہاد ٤ (٣١٠٣) ، (تحفة الأشراف : ١٨٥٩) ، و مسند احمد (٤/٢٨٣، ٢٩٠، ٣٣٠) ، سنن الدارمی/الجہاد ٢٨ (٢٤٦٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تختیوں اور ذبح شدہ جانوروں کی ہڈیوں پر گرانی آیات و سورة کا لکھنا جائز ہے اور مذبوح جانوروں کی ہڈیوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1670
حدیث نمبر: 1670 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ائْتُونِي بِالْكَتِفِ أَوِ اللَّوْحِ، فَكَتَبَ: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95 ، وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَقَالَ: هَلْ لِي مِنْ رُخْصَةٍ ؟ فَنَزَلَتْ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، هَذَا الْحَدِيثَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو والدین کو چھوڑ کر جہاد میں جائے
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے پوچھا : کیا تمہارے ماں باپ (زندہ) ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : ان کی خدمت کی کوشش میں لگے رہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ١٣٨ (٣٠٠٤) ، والأدب ٣ (٥٩٧٢) ، صحیح مسلم/البر والصلة ١ (٢٥٤٩) ، سنن ابی داود/ الجہاد ٣٣ (٢٥٢٩) ، سنن النسائی/الجہاد ٥ (٣١٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٣٤) ، و مسند احمد (٢/١٦٥، ١٧٢، ١٨٨، ١٩٣، ١٩٧، ٢٢١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ماں باپ کی پوری پوری خدمت کرو ، کیونکہ وہ تمہاری خدمت کے محتاج ہیں ، اسی سے تمہیں جہاد کا ثواب حاصل ہوگا ، بعض علماء کا کہنا ہے کہ اگر رضاکارانہ طور پر جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہے تو ماں باپ کی اجازت ضروری ہے ، لیکن اگر حالات و ظروف کے لحاظ سے جہاد فرض عین ہے تو ایسی صورت میں اجازت کی ضرورت نہیں ، بلکہ روکنے کے باوجود وہ جہاد میں شریک ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2782) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1671
حدیث نمبر: 1671 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ: أَلَكَ وَالِدَانِ ؟ ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الشَّاعِرُ الْأَعْمَى الْمَكِّيُّ وَاسْمُهُ: السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک شخص کو بطور لشکر بھیجنا
ابن عباس (رض) آیت کریمہ : «أطيعوا اللہ وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منکم» کی تفسیر میں کہتے ہیں : عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی کو رسول اللہ ﷺ نے (اکیلا) سریہ بنا کر بھیجا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة النساء ١١ (٤٥٨٤) ، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٣٤) ، سنن ابی داود/ الجہاد ٩٦ (٢٦٢٤) ، سنن النسائی/البیعة ٢٨ (٤٢٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٦٥١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : حدیث میں «أولو الأمر» کے سلسلہ میں کئی اقوال ہیں ، مفسرین اور فقہاء کے نزدیک اس سے مراد وہ «ولا ۃ و أمراء» ہیں جن کی اطاعت واجب کی ہے ، بعض لوگ اس سے علماء کو مراد لیتے ہیں ، ایک قول یہ ہے کہ علما اور امرا دونوں مراد ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2359) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1672
حدیث نمبر: 1672 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ فِي قَوْلِهِ: أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59، قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيُّ: بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ، أَخْبَرَنِيهِ يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکیلے سفر کرنے کی کراہت کے بارے میں
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر لوگ تنہائی کا وہ نقصان جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات میں تنہا نہ چلے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ١٣ (٢٩٩٨) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٥ (٣٧٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٤١٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اگر حالات ایسے ہیں کہ راستے غیر مامون ہیں ، جان و مال کا خطرہ ہے تو ایسی صورت میں بلا ضرورت تنہا سفر کرنا ممنوع ہے ، اور اگر کوئی مجبوری درپیش ہے تو کوئی حرج نہیں ، نبی اکرم ﷺ نے بعض صحابہ کو بوقت ضرورت تنہا سفر پر بھیجا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3768) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1673
حدیث نمبر: 1673 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ أَنَّ النَّاسَ يَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ مِنَ الْوِحْدَةِ، مَا سَرَى رَاكِبٌ بِلَيْلٍ ، يَعْنِي: وَحْدَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکیلے سفر کرنے کی کراہت کے بارے میں
عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اکیلا سوار شیطان ہے، دو سوار بھی شیطان ہیں اور تین سوار قافلہ والے ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ٨٦ (٢٦٠٧) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٤٠) ، وط/الاستئذان ١٤ (٣٥) ، و مسند احمد (٢/١٨٦، ٢١٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اکیلا یا دو آدمیوں کا سفر کرنا صحیح نہیں ہے ، تنہا ہونے میں کسی حادثہ کے وقت کوئی اس کا معاون و مددگار نہیں رہے گا ، اسی طرح دو ہونے کی صورت میں ایک کو کسی ضرورت کے لیے جانا پڑا تو ایسی صورت میں پھر دونوں تنہا ہوجائیں گے ، اور اگر ایک دوسرے کو وصیت کرنا چاہے تو اس کے لیے کوئی گواہ نہیں ہوگا جب کہ دو گواہ کی ضرورت پڑے گی۔ قال الشيخ الألباني : حسن، الصحيحة (64) ، المشکاة (3910) ، صحيح أبي داود (2346) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1674
حدیث نمبر: 1674 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ، وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: هُوَ ثِقَةٌ صَدُوقٌ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ لَا أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں جھوٹ اور فریب کی اجازت
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لڑائی دھوکہ و فریب کا نام ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، زید بن ثابت، عائشہ ابن عباس، اسماء بنت یزید بن سکن، کعب بن مالک اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ١٥٧ (٣٠٣٠) ، صحیح مسلم/الجہاد ٥ (١٧٤٠) ، سنن ابی داود/ الجہاد ١٠١ (٢٦٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٢٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جنگ ان تین مقامات میں سے ایک ہے جہاں جھوٹ ، دھوکہ اور فریب کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ لڑائی کے ایام میں جہاں تک ممکن ہو کفار کو دھوکہ دینا جائز ہے ، لیکن یہ ان سے کیے گئے کسی عہد و پیمان کے توڑنے کا سبب نہ بنے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2833 و 2834 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1675
حدیث نمبر: 1675 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَرْبُ خُدْعَةٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عزوات نبوی کی تعداد۔
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ میں زید بن ارقم (رض) کے بغل میں تھا کہ ان سے پوچھا گیا : نبی اکرم ﷺ نے کتنے غزوات کیے ؟ کہا : انیس ١ ؎، میں نے پوچھا : آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کتنے غزوات میں شریک رہے ؟ کہا : سترہ میں، میں نے پوچھا : کون سا غزوہ پہلے ہوا تھا ؟ کہا : ذات العشیر یا ذات العشیرہ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ١ (٣٩٤٩) ، و ٧٧ (٤٤٠٤) ، و ٨٩ (٤٤٧١) ، صحیح مسلم/الحج ٣٥ (١٢٥٤) ، والجہاد ٤٩ (١٢٥٤/١٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٧٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مراد وہ غزوات ہیں جن میں نبی اکرم ﷺ خود شریک رہے ، خواہ قتال کیا ہو یا نہ کیا ہو ، صحیح مسلم میں جابر (رض) سے مروی ہے کہ غزوات کی تعداد اکیس ( ٢١ ) ہے ، ایسی صورت میں ممکن ہے زید بن ارقم نے دوکا تذکرہ جنہیں غزوہ ابوا اور غزوہ بواط کہا جاتا ہے اس لیے نہ کیا ہو کہ ان کا معاملہ ان دونوں کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان سے مخفی رہ گیا ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1676
حدیث نمبر: 1676 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، فَقِيلَ لَهُ: كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ ؟ قَالَ: تِسْعَ عَشْرَةَ ، فَقُلْتُ: كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ ؟ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ ، قُلْتُ: أَيَّتُهُنَّ كَانَ أَوَّلَ ؟ قَالَ: ذَاتُ الْعُشَيْرِ، أَوْ الْعُشَيْرَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں صف بندی اور ترتیب
عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مقام بدر میں رات کے وقت ہمیں مناسب جگہوں پر متعین کیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس باب میں ابوایوب سے بھی روایت ہے، یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا : تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا : محمد بن اسحاق کا سماع عکرمہ سے ثابت ہے، اور جب میں نے بخاری سے ملاقات کی تھی تو وہ محمد بن حمید الرازی کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے، پھر بعد میں ان کو ضعیف قرار دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٩٧٢٤) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دشمنوں سے مقابلہ آرائی سے پہلے مجاہدین کی صف بندی کرنا اور مناسب جگہوں پر انہیں متعین کرنا ضروری ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1677
حدیث نمبر: 1677 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: عَبَّأَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدْرٍ لَيْلًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، وَقَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، سَمِعَ مِنْ عِكْرِمَةَ، وَحِينَ رَأَيْتُهُ كَانَ حَسَنَ الرَّأْيِ فِي مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ الرَّازِيِّ، ثُمَّ ضَعَّفَهُ بَعْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت دعا کرنا
ابن ابی اوفی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو (غزوہ احزاب میں) کفار کے لشکروں پر بد دعا کرتے ہوئے سنا، آپ نے ان الفاظ میں بد دعا کی «اللهم منزل الکتاب سريع الحساب اهزم الأحزاب اللهم اهزمهم وزلزلهم» کتاب نازل کرنے اور جلد حساب کرنے والے اللہ ! کفار کے لشکروں کو شکست سے دوچار کر، ان کو شکست دے اور ان کے قدم اکھاڑ دے ۔ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود (رض) سے بھی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٩٨ (٢٩٣٣) ، و ١١٢ (٢٩٦٥) ، و ١٥٦ (٣٠٢٥) ، والمغازي ٢٩ (٤١١٥) ، والدعوات ٥٨ (٦٣٩٢) ، والتوحید ٣٤ (٧٤٨٩) ، صحیح مسلم/الجہاد ٦ ٧٠ (١٧٤٢) ، سنن ابی داود/ الجہاد ٩٨ (٢٦٣١) ، سنن النسائی/عمل الیوم و اللیلة (٦٠٢) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٥ (٢٧٩٦) ، (تحفة الأشراف : ٥١٥٤) ، و مسند احمد (٤/٣٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس ضمن میں اور بھی بہت ساری دعائیں احادیث کی کتب میں موجود ہیں ، بعض دعائیں امام نووی نے اپنی کتاب الأذکار میں جمع کردی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2365) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1678
حدیث نمبر: 1678 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَى الْأَحْزَابِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمْ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: فِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکر کے چھوٹے جھنڈے
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا پرچم سفید تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن آدم کی روایت سے جانتے ہیں اور یحییٰ شریک سے روایت کرتے ہیں، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا : تو انہوں نے کہا : یحییٰ بن آدم شریک سے روایت کرتے ہیں، اور کہا : ہم سے کئی لوگوں نے «شريك عن عمار عن أبي الزبير عن جابر» کی سند سے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور اس وقت آپ کے سر پر کالا عمامہ تھا، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : اور (محفوظ) حدیث یہی ہے، ٣ - «الدهن» قبیلہ بجیلہ کی ایک شاخ ہے، عمار دہنی معاویہ دہنی کے بیٹے ہیں، ان کی کنیت ابومعاویہ ہے، وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں اور محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ٧٦ (٢٥٩٢) ، سنن النسائی/الحج ١٠٦ (٢٨٦٩) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢٠ (٢٨١٧) (تحفة الأشراف : ٢٨٨٩) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (3817) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1679
حدیث نمبر: 1679 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَمَّارٍ يَعْنِي: الدُّهْنِيَّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ. وقَالَ: حَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَالْحَدِيثُ هُوَ هَذَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالدُّهْنُ بَطْنٌ مِنْ بَجِيلَةَ، وَعَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ هُوَ عَمَّارُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الدُّهْنِيُّ وَيُكْنَى أَبَا مُعَاوِيَةَ وَهُوَ كُوفِيٌّ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے جھنڈے
یونس بن عبید مولیٰ محمد بن قاسم کہتے ہیں کہ مجھ کو محمد بن قاسم نے براء بن عازب (رض) کے پاس رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا، براء نے کہا : آپ کا جھنڈا دھاری دار چوکور اور کالا تھا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف ابن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں علی، حارث بن حسان اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - ابویعقوب ثقفی کا نام اسحاق بن ابراہیم ہے، ان سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بھی روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ٧٦ (٢٥٩١) ، (تحفة الأشراف : ١٩٢٢) (صحیح) (لیکن ” چوکور “ کا لفظ صحیح نہیں ہے، اس کے راوی ابو یعقوب الثقفی ضعیف ہیں اور اس لفظ میں ان کا متابع یا شاہد نہیں ہے ) وضاحت : ١ ؎ : بعض روایات سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے جھنڈے پر «لا إله إلا اللہ محمد رسول الله» لکھا ہوا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح دون قوله مربعة ، صحيح أبي داود (2333) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1680
حدیث نمبر: 1680 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: بَعَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ إِلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَسْأَلُهُ عَنْ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَالْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَأَبُو يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ اسْمُهُ: إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَى عَنْهُ أَيْضًا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بڑے جھنڈے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا کالا اور پرچم سفید تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ابن عباس کی یہ روایت اس سند سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢٠ (٢٨١٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٤٢) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (2818) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1681
حدیث نمبر: 1681 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق وَهُوَ السَّالِحَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ لَاحِقَ بْنَ حُمَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَتْ رَايَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَاءَ، وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعار
مہلب بن ابی صفرۃ ان لوگوں سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے : اگر رات میں تم پر دشمن حملہ کریں تو تم «حم لا ينصرون» کہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - بعض لوگوں نے اسی طرح ثوری کی روایت کے مثل ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے، اور ابواسحاق سے یہ حدیث بواسطہ «عن المهلب بن أبي صفرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» سے مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے، ٢ - اس باب میں سلمہ بن الاکوع (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ٧٨ (٢٥٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٦٧٩) ، و مسند احمد (٤/٢٨٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : «شعار» اس مخصوص لفظ کو کہتے ہیں : جس کو لشکر والے خفیہ کوڈ کے طور پر آپس میں استعمال کرتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (3948 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1682
حدیث نمبر: 1682 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ، عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنْ بَيَّتَكُمُ الْعَدُوُّ فَقُولُوا: حم لَا يُنْصَرُونَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَهَكَذَا رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، مِثْلَ رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ، وَرُوِيَ عَنْهُ، عَنْ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ ﷺ کی تلوار
ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے اپنی تلوار سمرہ بن جندب (رض) کی تلوار کی طرح بنائی، اور سمرہ (رض) کا خیال تھا کہ انہوں نے اپنی تلوار رسول اللہ ﷺ کے تلوار کی طرح بنائی تھی اور آپ کی تلوار قبیلہ بنو حنیفہ کے طرز پر بنائی گئی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - یحییٰ بن سعید قطان نے عثمان بن سعد کاتب کے سلسلے میں کلام کیا ہے اور حافظہ میں انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤٦٣٢) (ضعیف) (اس کے راوی عثمان بن سعد الکاتب ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف مختصر الشمائل المحمدية (88) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1683
حدیث نمبر: 1683 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، وَزَعَمَ سَمُرَةُ أَنَّهُ صَنَعَ سَيْفَهُ عَلَى سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ حَنَفِيًّا قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، فِي عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ الْكَاتِبِ، وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ کے وقت روزہ افطار کرنا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال جب نبی اکرم ﷺ مرالظہران ١ ؎ پہنچے اور ہم کو دشمن سے مقابلہ کی خبر دی تو آپ نے روزہ توڑنے کا حکم دیا، لہٰذا ہم سب لوگوں نے روزہ توڑ دیا ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ٤٢٨٤) (صحیح) وأخرجہ : صحیح مسلم/الصیام ١٦ (١١٢٠) ، سنن ابی داود/ الصیام ٤٢ (٢٤٠٦) ، سنن النسائی/الصیام ٥٩ (٢٣١١ ) وضاحت : ١ ؎ : مکہ اور عسفان کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔ ٢ ؎ : اگر مجاہدین ایسے مقام تک پہنچ چکے ہیں جس سے آگے دشمن سے ملاقات کا ڈر ہے تو ایسی صورت میں روزہ توڑ دینا بہتر ہے ، اور اگر یہ امر یقینی ہے کہ دشمن آگے مقابلہ کے لیے موجود ہے تو روزہ توڑ دینا ضروری ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2081) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1684
حدیث نمبر: 1684 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، مَرَّ الظَّهْرَانِ، فَآذَنَنَا بِلِقَاءِ الْعَدُوِّ، فَأَمَرَنَا بِالْفِطْرِ، فَأَفْطَرْنَا أَجْمَعُونَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھبراہٹ کے وقت باہر نکلنا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہوگئے اس گھوڑے کو «مندوب» کہا جاتا تھا : کوئی گھبراہٹ کی بات نہیں تھی، اس گھوڑے کو ہم نے چال میں سمندر پایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الہبة ٣٣ (٢٦٢٧) ، والجہاد ٥٥ (٢٨٦٧) ، صحیح مسلم/الفضائل ١١ (٢٣٠٧/٤٩) ، سنن ابی داود/ الأدب ٨٧ (٤٩٨٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی بےانتہا تیز رفتار تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2772) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1685
حدیث نمبر: 1685 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: رَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ: مَنْدُوبٌ، فَقَالَ: مَا كَانَ مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھبراہٹ کے وقت باہر نکلنا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ مدینہ میں گھبراہٹ کا ماحول تھا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے «مندوب» نامی گھوڑے کو ہم سے عاریۃ لیا ہم نے کوئی گھبراہٹ نہیں دیکھی اور گھوڑے کو چال میں ہم نے سمندر پایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (1685) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1686
حدیث نمبر: 1686 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وأبو داود، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ، فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لَنَا يُقَالُ لَهُ: مَنْدُوبٌ، فَقَالَ: مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت ثابت قدم رہنا
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سب سے جری (نڈر) ، سب سے سخی، اور سب سے بہادر تھے، ایک رات مدینہ والے گھبرا گئے، ان لوگوں نے کوئی آواز سنی، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے تلوار لٹکائے ابوطلحہ کے ایک ننگی پیٹھ والے گھوڑے پر سوار ہو کر لوگوں کے پاس پہنچے اور فرمایا : تم لوگ فکر نہ کرو، تم لوگ فکر نہ کرو ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے چال میں گھوڑے کو سمندر پایا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٤ ٢ (٢٨٢٠) ، و ٨٢ (٢٩٠٨) ، و ١٦٥ (٣٠٤٠) ، والأدب ٣٩ (٦٠٣٣) ، صحیح مسلم/الفضائل ١١ (٢٣٠٧/٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٩ (٢٧٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٩) ، (وانظر ما تقدم برقم ١٦٨٥) (صحیح ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1687
حدیث نمبر: 1687 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، وَأَجْوَدِ النَّاسِ، وَأَشْجَعِ النَّاسِ، قَالَ: وَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً سَمِعُوا صَوْتًا، قَالَ: فَتَلَقَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ وَهُوَ مُتَقَلِّدٌ سَيْفَهُ، فَقَالَ: لَمْ تُرَاعُوا، لَمْ تُرَاعُوا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَدْتُهُ بَحْرًا ، يَعْنِي: الْفَرَسَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক: