আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৩ টি
হাদীস নং: ১৬৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت ثابت قدم رہنا
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ ہم سے ایک آدمی نے کہا : ابوعمارہ ! ١ ؎ کیا آپ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے فرار ہوگئے تھے ؟ کہا : نہیں، اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے پیٹھ نہیں پھیری، بلکہ جلد باز لوگوں نے پیٹھ پھیری تھی، قبیلہ ہوازن نے ان پر تیروں سے حملہ کردیا تھا، رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے، ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے ٢ ؎، اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : میں نبی ہوں، جھوٹا نہیں ہوں، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ٣ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٦١ (٢٨٨٤) ، و ٩٧ (٢٩٣٠) ، والمغازي ٥٤ (٤٣١٥-٤٣١٧) ، صحیح مسلم/الجہاد ٢٨ (١٧٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٨٤٨) ، و مسند احمد (٤/٢٨٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ براء بن عازب (رض) کی کنیت ہے۔ ٢ ؎ : ابوسفیان بن حارث نبی اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں ، مکہ فتح ہونے سے پہلے اسلام لے آئے تھے ، نبی اکرم ﷺ مکہ کی جانب فتح مکہ کے سال روانہ تھے ، اسی دوران ابوسفیان مکہ سے نکل کر نبی اکرم ﷺ سے راستہ ہی میں جا ملے ، اور اسلام قبول کرلیا ، پھر غزوہ حنین میں شریک ہوئے اور ثبات قدمی کا مظاہرہ کیا۔ ٣ ؎ : اس طرح کے موزون کلام آپ ﷺ کی زبان مبارک سے بلاقصد و ارادہ نکلے تھے ، اس لیے اس سے استدلال کرنا کہ آپ شعر بھی کہہ لیتے تھے درست نہیں ، اور یہ کیسے ممکن ہے جب کہ قرآن خود شہادت دے رہا ہے کہ آپ کے لیے شاعری قطعاً مناسب نہیں ، عبدالمطلب کی طرف نسبت کی وجہ غالباً یہ ہے کہ یہ لوگوں میں مشہور شخصیت تھی ، یہی وجہ ہے کہ عربوں کی اکثریت آپ ﷺ کو ابن عبدالمطلب کہہ کر پکارتی تھی ، چناچہ ضمام بن ثعلبہ (رض) نے جب آپ کے متعلق پوچھا تو یہ کہہ کر پوچھا :«أيكم ابن عبدالمطلب ؟»۔ قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (209) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1688
حدیث نمبر: 1688 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بِنِ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَجُلٌ: أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا عُمَارَةَ ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ، مَا وَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ وَلَّى سَرَعَانُ النَّاسِ تَلَقَّتْهُمْ هَوَازِنُ بِالنَّبْلِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کے وقت ثابت قدم رہنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن ہماری صورت حالت یہ تھی کہ مسلمانوں کی دونوں جماعت پیٹھ پھیرے ہوئی تھی، اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سو آدمی بھی نہیں تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اسے ہم عبیداللہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٧٨٩٤) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1689
حدیث نمبر: 1689 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ حُنَيْنٍ وَإِنَّ الْفِئَتَيْنِ لَمُوَلِّيَتَانِ، وَمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةُ رَجُلٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلوار اور اس کی زینت
مزیدہ (رض) کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ مکہ داخل ہوئے اور آپ کی تلوار سونا اور چاندی سے مزین تھی، راوی طالب کہتے ہیں : میں نے ہود بن عبداللہ سے چاندی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہود کے دادا کا نام مزیدہ عصری ہے، ٣ - اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر ما یأتي (تحفة الأشراف : ١١٢٥٤) (ضعیف) (سند میں ” ہود “ لین الحدیث ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : تلوار میں سونے یا چاندی کا استعمال دشمنوں پر رعب قائم کرنے کے لیے ہوا ہوگا ، ورنہ صحابہ کرام جو اپنے ایمان میں اعلی مقام پر فائز تھے ، ان کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ سونے یا چاندی کا استعمال بطور زیب و زینت کریں ، یہ لوگ اپنی ایمانی قوت کے سبب ان سب چیزوں سے بےنیاز تھے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف مختصر الشمائل المحمدية (87) ، الإرواء (3 / 306) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (822) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1690
حدیث نمبر: 1690 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ حُجَيْرٍ، عَنْ هُودِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَدِّهِ مَزِيدَةَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى سَيْفِهِ ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ، قَالَ طَالِبٌ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْفِضَّةِ، فَقَالَ: كَانَتْ قَبِيعَةُ السَّيْفِ فِضَّةً ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَجَدُّ هُودٍ اسْمُهُ: مَزِيدَةُ الْعَصَرِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلوار اور اس کی زینت
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اسی طرح اس حدیث کو ہمام، قتادہ سے اور قتادہ، انس سے روایت کرتے ہیں، بعض لوگوں نے قتادہ کے واسطہ سے، سعید بن ابی الحسن سے بھی روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ٧١ (٢٥٨٣، ٢٥٨٤) ، سنن النسائی/الزینة ١٢٠ (٥٣٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٦) ، سنن الدارمی/السیر ٢١ (٢٥٠١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2326 - 2328) ، الإرواء (822) ، مختصر الشمائل (85 و 86) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1691
حدیث نمبر: 1691 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زرّہ
زبیر بن عوام (رض) کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم ﷺ کے جسم پر دو زرہیں تھیں ١ ؎، آپ چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن نہیں چڑھ سکے، آپ نے طلحہ بن عبیداللہ کو اپنے نیچے بٹھایا، پھر آپ ان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہوگئے، زبیر کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا : طلحہ نے (اپنے عمل سے جنت) واجب کرلی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں صفوان بن امیہ اور سائب بن یزید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف وأعادہ في المناقب برقم ٣٧٣٨ (تحفة الأشراف : ٣٦٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نبی اکرم ﷺ کا دو زرہیں پہننا توکل اور تسلیم و رضا کے منافی نہیں ہے ، بلکہ اسباب و وسائل کو اپنانا توکل ورضاء الٰہی کے عین مطابق ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (6112) ، مختصر الشمائل (89) ، صحيح أبي داود (2332) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1692
حدیث نمبر: 1692 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، قَالَ: كَانَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعَانِ يَوْمَ أُحُدٍ، فَنَهَضَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ، فَأَقْعَدَ طَلْحَةَ تَحْتَهُ، فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَوْجَبَ طَلْحَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَالسَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خود پہننا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا، آپ سے کہا گیا : ابن خطل ١ ؎ کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اسے قتل کر دو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ہم میں سے اکثر لوگوں کے نزدیک زہری سے مالک کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ١٨ (١٨٤٦) ، والجہاد ١٦٩ (٣٠٤٤) ، والمغازي ٤٨ (٤٢٨٦) ، واللباس ١٧ (٥٨٠٨) ، صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٧) ، سنن ابی داود/ الجہاد ١٢٧ (٢٦٨٥) ، سنن النسائی/الحج ١٠٧ (٢٧٨٠) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٨ (١٨٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٧) ، وط/الحج ٨١ (٢٤٧) ، و مسند احمد (٣/١٠٩، ١٦٤، ١٨٠، ١٨٦، ٢٢٤، ٢٣١، ٢٣٢، ٢٤٠) سنن الدارمی/المناسک ٨٨ (١٩٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ابن خطل کا نام عبداللہ یا عبدالعزی تھا ، نبی اکرم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا : جو ہم سے قتال کرے اسے قتل کردیا جائے ، اس کے بعد کچھ لوگوں کا نام لیا ، ان میں ابن خطل کا نام بھی تھا ، آپ نے ان سب کے بارے میں فرمایا کہ یہ جہاں کہیں ملیں انہیں قتل کردیا جائے خواہ خانہ کعبہ کے پردے ہی میں کیوں نہ چھپے ہوں ، ابن خطل مسلمان ہوا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے اسے زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ، ایک انصاری مسلمان کو بھی اس کے ساتھ کردیا ، ابن خطل کا ایک غلام جو مسلمان تھا ، اس کی خدمت کے لیے اس کے ساتھ تھا ، اس نے اپنے مسلمان غلام کو ایک مینڈھا ذبح کر کے کھانا تیار کرنے کے لیے کہا ، اتفاق سے وہ غلام سو گیا ، اور جب بیدار ہوا تو کھانا تیار نہیں تھا ، چناچہ ابن خطل نے اپنے اس مسلمان غلام کو قتل کردیا ، اور مرتد ہو کر مشرک ہوگیا ، اس کے پاس دو گانے بجانے والی لونڈیاں تھیں ، یہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخیاں کیا کرتی تھیں ، یہی وجہ ہے کہ آپ نے اسے قتل کردینے کا حکم دیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2805) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1693
حدیث نمبر: 1693 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، فَقِيلَ لَهُ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُ كَبِيرَ أَحَدٍ رَوَاهُ غَيْرَ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑوں کی فضلیت
عروہ بارقی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر (بھلائی) بندھی ہوئی ہے، خیر سے مراد اجر اور غنیمت ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری، جریر، ابوہریرہ، اسماء بنت یزید، مغیرہ بن شعبہ اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - امام احمد بن حنبل کہتے ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد کا حکم ہر امام کے ساتھ قیامت تک باقی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٤٣ (٢٧٥٠) ، و ٤٤ (٢٧٥٢) ، والخمس ٨ (٣١١٩) ، والمناقب ٢٨ (٣٦٤٣) ، صحیح مسلم/الإمارة ٢٦ (١٨٧٣) ، سنن النسائی/الخیل ٧ (٤٦٠٤، ٣٦٠٥) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٩ (٢٣٠٥) ، والجہاد ١٤ (٢٧٨٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٩٧) ، و مسند احمد (٤/٣٧٥، ٣٧٦) ، سنن الدارمی/الجہاد ٢٤ (٣١١٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ وہ گھوڑے ہیں جو جہاد کے لیے استعمال یا جہاد کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1694
حدیث نمبر: 1694 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَرِيرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعُرْوَةُ هُوَ ابْنُ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيُّ وَيُقَالُ: هُوَ عُرْوَةُ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَفِقْهُ هَذَا الْحَدِيثِ: أَنَّ الْجِهَادَ مَعَ كُلِّ إِمَامٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پسندیدہ گھوڑے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سرخ رنگ کے گھوڑوں میں برکت ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف شیبان کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ٤٤ (٢٥٤٥) ، (تحفة الأشراف : ٦٢٩٠) ، و مسند احمد (١/٢٧٢) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، المشکاة (3879) ، التعليق الرغيب (2 / 162) ، صحيح أبي داود (2293) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1695
حدیث نمبر: 1695 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ يعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُمْنُ الْخَيْلِ فِي الشُّقْرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ شَيْبَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پسندیدہ گھوڑے
ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بہتر گھوڑے وہ ہیں جو کالے رنگ کے ہوں، جن کی پیشانی اور اوپر کا ہونٹ سفید ہو، پھر ان کے بعد وہ گھوڑے ہیں جن کے چاروں پیر اور پیشانی سفید ہو، اگر گھوڑا کالے رنگ کا نہ ہو تو انہیں صفات کا سرخ سیاہی مائل عمدہ گھوڑا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٤ (٢٧٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٢١) ، و مسند احمد (٥/٣٠٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2789) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1696
حدیث نمبر: 1696 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُ الْخَيْلِ: الْأَدْهَمُ الْأَقْرَحُ الْأَرْثَمُ، ثُمَّ الْأَقْرَحُ الْمُحَجَّلُ طَلْقُ الْيَمِينِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَدْهَمَ، فَكُمَيْتٌ عَلَى هَذِهِ الشِّيَةِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پسندیدہ گھوڑے
یزید بن ابی حبیب سے اسی سند سے اسی معنی کی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : ** صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1697
حدیث نمبر: 1697 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناپسندیدہ گھوڑے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو گھوڑوں میں سے «شکال» گھوڑا ناپسند تھا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شعبہ نے عبداللہ بن یزید خثعمی سے، بسند «أبي زرعة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ابوزرعہ عمرو بن جریر کا نام ہرم ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإمارة ٢٧ (١٨٧٥) ، سنن ابی داود/ الجہاد ٤٦ (٢٥٤٧) ، سنن النسائی/الخیل ٤ (٣٥٩٦) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٤ (٢٧٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٩٠) ، و مسند احمد (٢/٢٥٠، ٤٣٦، ٤٦١، ٤٧٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : «شکال» اس گھوڑے کو کہتے ہیں : جس کے تین پیر سفید ہوں اور ایک دوسرے رنگ کا ہو یا جس کا ایک پیر سفید ہو اور باقی دوسرے رنگ کے ہوں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (7290) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1698
حدیث نمبر: 1698 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَرِهَ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَأَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ اسْمُهُ: هَرِمٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، قَالَ: قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، إِذَا حَدَّثْتَنِي فَحَدِّثْنِي عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي مَرَّةً بِحَدِيثٍ ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِسِنِينَ، فَمَا أَخْرَمَ مِنْهُ حَرْفًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھڑ دوڑ
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «تضمیر» کیے ہوئے گھوڑوں کی مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان چھ میل کا فاصلہ ہے، اور جو «تضمیر» کیے ہوئے نہیں تھے ان کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک گھڑ دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہے، گھڑ دوڑ کے مقابلہ میں میں بھی شامل تھا، چناچہ میرا گھوڑا مجھے لے کر ایک دیوار کود گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ثوری کی روایت سے یہ حدیث صحیح حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، جابر، عائشہ اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٥٦ (٢٨٦٨) ، و ٥٧ (٢٨٦٩) ، و ٥٨ (٢٨٧٠) ، والاعتصام ٦ (٧٣٣٦) ، صحیح مسلم/الإمارة ٢٥ (١٨٧٠) ، سنن ابی داود/ الجہاد ٦٧ (٢٥٧٥) ، سنن النسائی/الخیل ١٢ (٣٦١٣) ، و ١٣ (٣٦١٤) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٤ (٢٨٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٧٨٩٥) ، وط/الجہاد ١٩ (٤٥) ، و مسند احمد (٢/٥، ٥٥-٥٦) سنن الدارمی/الجہاد ٣٦ (٢٤٧٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے جہاد کی تیاری کے لیے گھڑ دوڑ ، تیر اندازی ، اور نیزہ بازی کا جواز ثابت ہوتا ہے ، نبی اکرم ﷺ کے دور میں عموماً یہی چیزیں جنگ میں کام آتی تھیں ، حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے ضرورت ہے کہ آج کے دور میں راکٹ ، میزائل ، ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں چلانے کا تجربہ حاصل کیا جائے ، ساتھ ہی بندوق توپ اور ہر قسم کے جدید جنگی آلات کی تربیت حاصل کی جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2877) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1699
حدیث نمبر: 1699 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجْرَى الْمُضَمَّرَ مِنَ الْخَيْلِ مِنْ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ وَبَيْنَهُمَا سِتَّةُ أَمْيَالٍ، وَمَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنَ الْخَيْلِ مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ وَبَيْنَهُمَا مِيلٌ، وَكُنْتُ فِيمَنْ أَجْرَى، فَوَثَبَ بِي فَرَسِي جِدَارًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھڑ دوڑ
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا : مقابلہ صرف تیر، اونٹ اور گھوڑوں میں جائز ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ٦٧ (٢٥٧٤) ، سنن النسائی/الخیل ١٤ (٣٦١٥، ٣٦١٦، ٣٦١٩) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٤ (٢٨٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٣٨) ، و مسند احمد (٢/٢٥٦، ٣٥٨، ٤٢٥، ٤٧٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بشرطیکہ یہ انعام کا مال مقابلے میں حصہ لینے والوں کی طرف سے نہ ہو ، اگر ان کی طرف سے ہے تو یہ قمار و جوا ہے جو جائز نہیں ہے ، معلوم ہوا کہ مقررہ انعام کی صورت میں مقابلے کرانا درست ہے ، لیکن یہ مقابلے صرف انہی کھیلوں میں جائز ہیں ، جن کے ذریعہ نوجوانوں میں جنگی و دفاعی ٹریننگ ہو ، کبوتر بازی ، غلیل بازی ، پتنگ بازی وغیرہ کے مقابلے تو سراسر ذہنی عیاشی کے سامان ہیں ، موجودہ دور کے کھیل بھی بیکار ہی ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2878) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1700
حدیث نمبر: 1700 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ، أَوْ خُفٍّ، أَوْ حَافِرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑی پر گدھا چھوڑنے کی کراہت
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مامور بندے تھے، آپ نے ہم کو دوسروں کی بنسبت تین چیزوں کا خصوصی حکم دیا : ہم کو حکم دیا ١ ؎ کہ پوری طرح وضو کریں، صدقہ نہ کھائیں اور گھوڑی پر گدھا نہ چھوڑیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سفیان ثوری نے ابوجہضم سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث کی سند یوں بیان کی، «عن عبيد اللہ بن عبد اللہ بن عباس عن ابن عباس» ، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ثوری کی حدیث غیر محفوظ ہے، اس میں ثوری سے وہم ہوا ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے اسماعیل بن علیہ اور عبدالوارث بن سعید نے ابوجہضم سے، ابوجہضم عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس سے، اور عبیداللہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے، ٤ - اس باب میں علی (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٣١ (٨٠٨) ، سنن النسائی/الطہارة ١٠٦ (١٤١) ، والخیل ١٠ (٣٦١١) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٤٩ (٤٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٩١) ، و مسند احمد (١/٢٢٥، ٢٣٥، ٢٤٩) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حکم ایجابی تھا ، ورنہ اتمام وضوء سب کے لیے مستحب ہے ، اور گدھے کو گھوڑی پر چھوڑنا سب کے لیے مکروہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1701
حدیث نمبر: 1701 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو جَهْضَمٍ مُوسَى بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مَأْمُورًا، مَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلَّا بِثَلَاثٍ: أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَأَنْ لَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ، فَقَالَ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَوَهِمَ فِيهِ الثَّوْرِيُّ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فقراء مساکین سے دعائے خیر کرانا
ابو الدرداء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا : مجھے اپنے ضعیفوں اور کمزوروں میں تلاش کرو، اس لیے کہ تم اپنے ضعیفوں اور کمزوروں کی (دعاؤں کی برکت کی) وجہ سے رزق دیئے جاتے ہو اور تمہاری مدد کی جاتی ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ٧٧ (٢٥٩٤) ، سنن النسائی/الجہاد ٤٣ (٣١٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٢٣) ، و مسند احمد (٥/١٩٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں مالدار لوگوں کے لیے نصیحت ہے کہ وہ اپنے سے کمتر درجے کے لوگوں کو حقیر نہ سمجھیں ، کیونکہ انہیں دنیاوی اعتبار سے جو آسانیاں حاصل ہیں یہ کمزوروں کے باعث ہی ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کمزور مسلمانوں کی دعائیں بہت کام آتی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول نے ان کمزور مسلمانوں کی دعا سے مدد طلب کرنے کو کہا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (779) ، صحيح أبي داود (2335) ، التعليق الرغيب (1 / 24) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1702
حدیث نمبر: 1702 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنَازَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ابْغُونِي ضُعَفَاءَكُمْ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھوڑوں کے گھلے میں گھنٹیاں لٹکانا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فرشتے مسافروں کی اس جماعت کے ساتھ نہیں رہتے ہیں جس میں کتا یا گھنٹی ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، عائشہ، ام حبیبہ اور ام سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ٢٧ (٢١١٣) ، سنن ابی داود/ الجہاد ٥١ (٢٥٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٧٠٣) ، و مسند احمد (٢/٢٦٣، ٣١١، ٣٢٧، ٣٤٣، ٣٨٥، ٣٩٢، ٤١٤، ٤٤٤، ٤٧٦) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٤٤ (٢٧١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ایسے کتے جو شکار یا نگرانی کے لیے ہوں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں ، گھوڑے کے گلے میں گھنٹی لٹکانے سے دشمن کو گھوڑے کے مالک کی بابت اطلاع ہوجاتی ہے ، اس لیے اسے ناپسند کیا گیا ، اور گھنٹی سے مراد ہر وہ چیز ہے جو جانور کی گردن میں لٹکا دی جائے تو حرکت کے ساتھ آواز ہوتی رہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (4 / 494) ، صحيح أبي داود (2303) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1703
حدیث نمبر: 1703 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ، وَلَا جَرَسٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ کا امیر مقرر کرنا
براء (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو لشکر روانہ کیا ١ ؎، ایک پر علی بن ابی طالب (رض) کو اور دوسرے پر خالد بن ولید (رض) کو امیر مقرر کیا اور فرمایا : جب جنگ ہو تو علی امیر ہوں گے ٢ ؎، علی (رض) نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس میں سے ایک لونڈی لے لی، خالد بن ولید (رض) نے مجھ کو خط کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس روانہ کیا، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہوگیا، پھر آپ نے فرمایا : اس آدمی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : میں اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں میں تو صرف قاصد ہوں، لہٰذا آپ خاموش ہوگئے ٣ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف احوص بن جواب کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں ابن عمر سے بھی حدیث مروی ہے، ٣ - «يشي به» کا معنی چغل خوری ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف واعادہ في المناقب برقم ٣٧٢٥، (تحفة الأشراف : ١٩٠١) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ابواسحاق مدلس ومختلط ہیں، لیکن عمران بن حصین (عند المؤلف برقم ٣٧١٢) کی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎ : یہ دونوں لشکر یمن کی طرف روانہ کئے گئے تھے۔ ٢ ؎ : یعنی پہنچتے ہی اگر دشمن سے مقابلہ شروع ہوجائے تو علی (رض) اس کے امیر ہوں گے ، اور اگر دونوں لشکر علیحدہ علیحدہ رہیں تو ایک کے علی (رض) اور دوسرے کے خالد (رض) امیر ہوں گے۔ ٣ ؎ : یعنی ایک آدمی کی ماتحتی میں نبی اکرم ﷺ نے مجھے بھیجا ، اس کی ماتحتی قبول کرتے ہوئے اس کی اطاعت کی اور اس کے قلم سے یہ خط لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اب اس میں میرا کیا قصور ہے یہ سن کر آپ خاموش رہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد // وسيأتي (776 / 3991) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1704
حدیث نمبر: 1704 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ الْجَوَّابِ أَبُو الْجَوَّابِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَعَثَ جَيْشَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ الْقِتَالُ، فَعَلِيٌّ ، قَالَ: فَافْتَتَحَ عَلِيٌّ حِصْنًا فَأَخَذَ مِنْهُ جَارِيَةً، فَكَتَبَ مَعِي خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشِي بِهِ، فَقَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ الْكِتَابَ، فَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ ثُمَّ قَالَ: مَا تَرَى فِي رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ: قُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، وَإِنَّمَا أَنَا رَسُولٌ، فَسَكَتَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْأَحْوَصِ بْنِ جَوَّابٍ، قَوْلُهُ يَشِي بِهِ، يَعْنِي: النَّمِيمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ کا امیر مقرر کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے ہر آدمی نگہبان ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے، چناچہ لوگوں کا امیر ان کا نگہبان ہے اور وہ اپنی رعایا کے بارے میں جواب دہ ہے، اسی طرح مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور ان کے بارے میں جواب دہ ہے، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے، غلام اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس کے بارے میں جواب دہ ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوموسیٰ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - ابوموسیٰ کی حدیث غیر محفوظ ہے، اور انس کی حدیث بھی غیر محفوظ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اسے ابراہیم بن بشار رمادی نے بسند «سفيان بن عيينة عن بريد بن عبد اللہ بن أبي بردة عن أبي بردة عن أبي موسیٰ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، اس حدیث کو کئی لوگوں نے بسند «سفيان عن بريد عن أبي بردة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، مگر یہ مرسل روایت زیادہ صحیح ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : اسحاق بن ابراہیم نے بسند «معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن أنس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے : بیشک اللہ تعالیٰ ہر نگہبان سے پوچھے گا اس چیز کے بارے میں جس کی نگہبانی کے لیے اس کو رکھا ہے، امام ترمذی کہتے ہیں : میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : یہ روایت غیر محفوظ ہے، صحیح وہی ہے جو «عن معاذ بن هشام عن أبيه عن قتادة عن الحسن عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ١١ (٨٩٣) ، والاستقراض ٢٠ (٢٤٠٩) ، والعتق ١٧ (٢٥٥٤) ، والوصایا ٩ (٢٧٥١) ، والنکاح ٨١ (٥٢٠٠) ، والأحکام ١ (٧١٣٨) ، صحیح مسلم/الإمارة ٥ (١٨٢٩) ، سنن ابی داود/ الخراج ١ (٢٩٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٥) ، و مسند احمد (٢/٥، ٤٥، ١١١، ١٢١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جو جس چیز کا ذمہ دار ہے اس سے اس چیز کے متعلق باز پرس بھی ہوگی ، اب یہ ذمہ دار کا کام ہے کہ اپنے متعلق یہ احساس و خیال رکھے کہ اسے اس ذمہ داری کا حساب و کتاب بھی دینا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2600) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1705
حدیث نمبر: 1705 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ بَعْلِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَحَدِيثُ أَنَسٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: حَكَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ مُحَمَّدٌ بِنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَشَّارٍ، قَالَ: وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَهَذَا أَصَحُّ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَرَوَى إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ سَائِلٌ كُلَّ رَاعٍ عَمَّا اسْتَرْعَاهُ ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: هَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَإِنَّمَا الصَّحِيحُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کی اطاعت
ام حصین احمسیہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جسے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹے ہوئے تھے، (گویا میں) آپ کے بازو کا پھڑکتا ہوا گوشت دیکھ رہی ہوں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا : لوگو ! اللہ سے ڈرو، اور اگر کان کٹا ہوا حبشی غلام بھی تمہارا حاکم بنادیا جائے تو اس کی بات مانو اور اس کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہارے لیے کتاب اللہ کو قائم کرے (یعنی کتاب اللہ کے موافق حکم دے) ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - (یہ حدیث) دوسری سندوں سے بھی ام حصین سے مروی ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ اور عرباض بن ساریہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٥١ (١٢٩٨/٣١١) ، والإمارة (١٨٣٨/٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣١٣) ، و مسند احمد (٦/٤٠٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں امیر کی اطاعت اور اس کی ماتحتی میں رہنے کی ترغیب دی جا رہی ہے ، اور ہر ایسے عمل سے دور رہنے کا حکم دیا جا رہا ہے جس سے فتنہ کے سر اٹھانے اور مسلمانوں کی اجتماعیت میں انتشار پید ہونے کا اندیشہ ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2861) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1706
حدیث نمبر: 1706 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ الْأَحْمَسِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ قَدِ الْتَفَعَ بِهِ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ، قَالَتْ: فَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى عَضَلَةِ عَضُدِهِ تَرْتَجُّ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللَّهَ، وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ، فَاسْمَعُوا لَهُ، وَأَطِيعُوا مَا أَقَامَ لَكُمْ كِتَابَ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أُمِّ حُصَيْنٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تک معصیت کا حکم نہ دیا جائے مسلمان پر سمع و طاعت لازم ہے خواہ وہ پسند کرے یا ناپسند کرے، اور اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ اس کے لیے سننا ضروری ہے اور نہ اطاعت کرنا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، عمران بن حصین اور حکم بن عمر و غفاری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ١٠٨ (٢٩٥٥) ، والأحکام ٤ (٧١٤٤) ، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٣٩) ، سنن ابی داود/ الجہاد ٩٦ (٢٦٢٦) ، سنن النسائی/البیعة ٣٤ (٤٢١١) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٠ (٢٨٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٠٨٨) ، و مسند احمد (٢/١٧، ٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی امام کا حکم پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ اسے بجا لانا ضروری ہے ، بشرطیکہ معصیت سے اس کا تعلق نہ ہو ، اگر معصیت سے متعلق ہے تو اس سے گریز کیا جائے گا ، لیکن ایسی صورت سے بچنا ہے جس سے امام کی مخالفت سے فتنہ و فساد کے رونما ہونے کا خدشہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1707
حدیث نمبر: 1707 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلَا سَمْعَ عَلَيْهِ وَلَا طَاعَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَالْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক: