আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৩ টি
হাদীস নং: ১৬০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم ﷺ کا ترکہ۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ فاطمہ (رض) نے ابوبکر (رض) کے پاس آ کر کہا : آپ کی وفات کے بعد آپ کا وارث کون ہوگا ؟ انہوں نے کہا : میرے گھر والے اور میری اولاد، فاطمہ (رض) نے کہا : پھر کیا وجہ ہے کہ میں اپنے باپ کی وارث نہ بنوں ؟ ابوبکر (رض) نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ہم (انبیاء) کا کوئی وارث نہیں ہوتا (پھر ابوبکر (رض) نے کہا) لیکن رسول اللہ ﷺ جس کی کفالت کرتے تھے ہم بھی اس کی کفالت کریں گے اور آپ ﷺ جس پر خرچ کرتے تھے ہم بھی اس پر خرچ کریں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابوہریرہ (رض) کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اسے حماد بن سلمہ اور عبدالوہاب بن عطاء نے مسنداً روایت کیا ہے یہ دونوں اور محمد بن عمر سے اور محمد ابوسلمہ سے، اور ابوسلمہ ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں کہا : میں حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا ہوں جس نے اس حدیث کو محمد بن عمرو سے محمد نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے (مرفوعاً ) روایت کی ہو۔ (ترمذی کہتے ہیں : ہاں) عبدالوہاب بن عطاء نے بھی محمد بن عمرو سے اور محمد نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں عمر، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ٦٦٢٥) وانظر : صحیح البخاری/الخمس ١ (٣٠٩٢، ٣٠٩٣) ، والنفقات ٣ (٦٧٢٥ و ٦٧٢٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل المحمدية (337) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1608
حدیث نمبر: 1608 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ: مَنْ يَرِثُكَ ؟ قَالَ: أَهْلِي وَوَلَدِي قَالَتْ: فَمَا لِي لَا أَرِثُ أَبِي ؟ فَقَالَأَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا نُورَثُ، وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُولُهُ، وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدٍ، وَعَائِشَةَ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، إِنَّمَا أَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، إِلَّا حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ، وَرَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَ رِوَايَةِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم ﷺ کا ترکہ۔
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ فاطمہ (رض) ابوبکر اور عمر (رض) کے پاس رسول اللہ ﷺ کی میراث سے اپنا حصہ طلب کرنے آئیں، ان دونوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : میرا کوئی وارث نہیں ہوگا ، فاطمہ (رض) بولیں : اللہ کی قسم ! میں تم دونوں سے کبھی بات نہیں کروں گی، چناچہ وہ انتقال کر گئیں، لیکن ان دونوں سے بات نہیں کی۔ راوی علی بن عیسیٰ کہتے ہیں : «لا أكلمکما» کا مفہوم یہ ہے کہ میں اس میراث کے سلسلے میں کبھی بھی آپ دونوں سے بات نہیں کروں گی، آپ دونوں سچے ہیں۔ ( امام ترمذی کہتے ہیں) یہ حدیث کئی سندوں سے ابوبکر (رض) کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1609
حدیث نمبر: 1609 حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، تَسْأَلُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنِّي لَا أُورَثُ ، قَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكُمَا أَبَدًا، فَمَاتَتْ وَلَا تُكَلِّمُهُمَا، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى: مَعْنَى لَا أُكَلِّمُكُمَا تَعْنِي: فِي هَذَا الْمِيرَاثِ أَبَدًا أَنْتُمَا صَادِقَانِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم ﷺ کا ترکہ۔
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب (رض) کے پاس گیا، اسی دوران ان کے پاس عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص (رض) بھی پہنچے، پھر علی اور عباس (رض) جھگڑتے ہوئے آئے، عمر (رض) نے ان سے کہا : میں تم لوگوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہے، تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ہمارا (یعنی انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ، لوگوں نے کہا : ہاں ! عمر (رض) نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے، ابوبکر (رض) نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کا جانشین ہوں، پھر تم اپنے بھتیجے کی میراث میں سے اپنا حصہ طلب کرنے اور یہ اپنی بیوی کے باپ کی میراث طلب کرنے کے لیے ابوبکر (رض) کے پاس آئے، ابوبکر (رض) نے کہا : بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہمارا (یعنی انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ، (عمر (رض) نے کہا) اللہ خوب جانتا ہے ابوبکر سچے، نیک، بھلے اور حق کی پیروی کرنے والے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث میں تفصیل ہے، یہ حدیث مالک بن اوس ١ ؎ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الخمس ١ (٣٠٩٤) ، والمغازي ١٤ (٤٠٣٣) ، والنفقات ٣ (٥٣٥٧) ، والفرائض ٣ (٦٧٢٨) ، والاعتصام ٥ (٧٣٠٥) ، صحیح مسلم/الجہاد ١٥ (١٧٥٧/٤٩) ، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة ١٩ (٢٩٦٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٣٢) ، و مسند احمد (١/٢٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ترمذی کے نسخوں میں «مالک بن أنس» ظاہر ہے کہ یہاں تفرد «مالک بن أوس» کا عمر بن خطاب سے ، جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے اس لیے صواب «مالک بن أوس» ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (341) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1610
حدیث نمبر: 1610 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَدَخَلَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ، يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ عُمَرُ لَهُمْ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ؟ ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتَ أَنْتَ وَهَذَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَطْلُبُ أَنْتَ مِيرَاثَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کا فرمان کہ آج کے بعد مکہ میں جہاد نہ کیا جائے گا۔
حارث بن مالک بن برصاء (رض) کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا : مکہ میں آج کے بعد قیامت تک (کافروں سے) جہاد نہیں کیا جائے گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یعنی زکریا بن ابی زائدہ کی حدیث جو شعبی کے واسطہ سے آئی ہے، ٢ - ہم اس حدیث کو صرف ان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں ابن عباس، سلیمان بن صرد اور مطیع (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٣٢٨٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی مکہ اب دارالحرب اور کفار کا مسکن نہیں ہوگا کہ یہاں جہاد کی پھر ضرورت پیش آئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2427) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1611
حدیث نمبر: 1611 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْبَرْصَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ: لَا تُغْزَى هَذِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَمُطِيعٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ حَدِيثُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، فَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتال کے مستحب اوقات۔
نعمان بن مقرن (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جہاد کیا، جب فجر طلوع ہوتی تو آپ (قتال سے) ٹھہر جاتے یہاں تک کہ سورج نکل جاتا، جب سورج نکل جاتا تو آپ جہاد میں لگ جاتے، پھر جب دوپہر ہوتی آپ رک جاتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ عصر تک جہاد کرتے، پھر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ عصر پڑھ لیتے، پھر جہاد (شروع) کرتے۔ کہا جاتا تھا کہ اس وقت نصرت الٰہی کی ہوا چلتی ہے اور مومن اپنے مجاہدین کے لیے نماز میں دعائیں کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : نعمان بن مقرن (رض) سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے جو موصول ہے، قتادہ کی ملاقات نعمان سے نہیں ہے، نعمان بن مقرن کی وفات عمر بن خطاب (رض) کے دور خلافت میں ہوئی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف وانظر الحدیث الآتي (تحفة الأشراف : ١١٦٤٩) ، (ضعیف الإسناد) (قتادہ کی نعمان بن مقرن (رض) سے لقاء نہیں اس لیے اس سند میں انقطاع ہے، اگلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (3934 / التحقيق الثاني) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1612
حدیث نمبر: 1612 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، أَمْسَكَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ، قَاتَلَ، فَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ، أَمْسَكَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، قَاتَلَ حَتَّى الْعَصْرِ، ثُمَّ أَمْسَكَ حَتَّى يُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ يُقَاتِلُ، قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ: عِنْدَ ذَلِكَ تَهِيجُ رِيَاحُ النَّصْرِ، وَيَدْعُو الْمُؤْمِنُونَ لِجُيُوشِهِمْ فِي صَلَاتِهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ بِإِسْنَادٍ أَوْصَلَ مِنْ هَذَا، وَقَتَادَةُ لَمْ يُدْرِكْ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ، وَمَاتَ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتال کے مستحب اوقات۔
معقل بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے نعمان بن مقرن (رض) کو ہرمز ان کے پاس بھیجا، پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی، نعمان بن مقرن (رض) نے کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (کسی غزوہ میں) حاضر ہوا، جب آپ دن کے شروع حصہ میں نہیں لڑتے تو انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، ہوا چلنے لگتی اور نصرت الٰہی کا نزول ہوتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجزیة ١ (٣١٦٠) ، سنن ابی داود/ الجہاد ١١١ (٢٦٥٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٠٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2385) ، المشکاة (3933 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1613
حدیث نمبر: 1613 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَاأَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَعَثَ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ إِلَى الْهُرْمُزَانِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، فَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ، انْتَظَرَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ وَيَنْزِلَ النَّصْرُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طیرہ کے بارے میں۔
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بدفالی شرک ہے ١ ؎۔ (ابن مسعود کہتے ہیں) ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس کا وہم و خیال نہ پیدا ہو، لیکن اللہ تعالیٰ اس وہم و خیال کو توکل کی وجہ سے زائل کردیتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - شعبہ نے بھی سلمہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے، امام ترمذی کہتے ہیں : ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : سلیمان بن حرب اس حدیث میں «وما منا ولکن اللہ يذهبه بالتوکل» کی بابت کہتے تھے کہ «وما منا» میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود (رض) کا قول ہے، ٤ - اس باب میں ابوہریرہ، حابس تمیمی، عائشہ، ابن عمر اور سعد (رض) سے بھی روایتیں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطب ٢٤ (٣٩١٠) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٤٣ (٣٥٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ اعتقاد رکھنا کہ «طیرہ» یعنی بدفالی نفع یا نقصان پہنچانے میں موثر ہے شرک ہے ، اور اس عقیدے کے ساتھ اس پر عمل کرنا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ، اس لیے اس طرح کا خیال آنے پر «لا إله إلا الله» پڑھنا بہتر ہوگا ، کیونکہ جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اسے پڑھنے اور اللہ پر توکل کرنے کی وجہ سے اللہ یہ خیال اس سے دور فرما دے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3538) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1614
حدیث نمبر: 1614 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الطِّيَرَةُ مِنَ الشِّرْكِ وَمَا مِنَّا، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَحَابِسٍ التَّمِيمِيِّ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَسَعْدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَرَوَى شُعْبَةُ أَيْضًا، عَنْ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَمَا مِنَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ ، قَالَ سُلَيْمَانُ: هَذَا عِنْدِي قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: وَمَا مِنَّا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طیرہ کے بارے میں۔
انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانے اور بدفالی و بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ١ ؎ اور مجھ کو فال نیک پسند ہے ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! فال نیک کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : اچھی بات ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٤٤ (٥٧٥٦) ، و ٥٤ (٥٧٧٦) ، صحیح مسلم/السلام ٣٤٢ (٢٢٢٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٥٨) ، و مسند احمد (٣/١١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : چھوت چھات یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی ، بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر پر ہوتا ہے ، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3537) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1615
حدیث نمبر: 1615 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ: الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طیرہ کے بارے میں۔
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو یہ سننا اچھا لگتا تھا کہ جب کسی ضرورت سے نکلیں تو کوئی یا راشد یا نجیح کہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٢٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : راشد کا مطلب ہے صحیح راستہ اپنانے والا ، اور نجیح کا مفہوم ہے جس کی ضرورت پوری کردی گئی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الروض النضير (86) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1616
حدیث نمبر: 1616 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُعْجِبُهُ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَةٍ، أَنْ يَسْمَعَ يَا رَاشِدُ يَا نَجِيحُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ کے متعلق نبی اکرم ﷺ کی وصیت۔
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر پر امیر مقرر کرتے تو اسے خاص اپنے نفس کے بارے میں سے اللہ سے ڈرنے اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتے تھے، اس کے بعد آپ فرماتے : اللہ کے نام سے اور اس کے راستے میں جہاد کرو، ان لوگوں سے جو اللہ کا انکار کرنے والے ہیں، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، عہد نہ توڑو، مثلہ نہ کرو، بچوں کو قتل نہ کرو اور جب تم اپنے مشرک دشمنوں کے سامنے جاؤ تو ان کو تین میں سے کسی ایک بات کی دعوت دو ان میں سے جسے وہ مان لیں قبول کرلو اور ان کے ساتھ لڑائی سے باز رہو : ان کو اسلام لانے اور اپنے وطن سے مہاجرین کے وطن کی طرف ہجرت کرنے کی دعوت دو ، اور ان کو بتادو کہ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کے لیے وہی حقوق ہیں جو مہاجرین کے لیے ہیں اور ان کے اوپر وہی ذمہ داریاں ہیں جو مہاجرین پر ہیں، اور اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو ان کو بتادو کہ وہ بدوی مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان کے اوپر وہی احکام جاری ہوں گے جو بدوی مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں : مال غنیمت اور فئی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں، پھر اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کریں تو ان پر فتح یاب ہونے کے لیے اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے جہاد شروع کر دو ، جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ اور اس کے نبی کی پناہ دو تو تم ان کو اللہ اور اس کے نبی کی پناہ نہ دو ، بلکہ تم اپنی اور اپنے ساتھیوں کی پناہ دو ، (اس کے خلاف نہ کرنا) اس لیے کہ اگر تم اپنا اور اپنے ساتھیوں کا عہد توڑتے ہو تو یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑو، اور جب تم کسی قلعے والے کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے فیصلہ پر اتارو تو ان کو اللہ کے فیصلہ پر مت اتارو بلکہ اپنے فیصلہ پر اتارو، اس لیے کہ تم نہیں جانتے کہ ان کے سلسلے میں اللہ کے فیصلہ پر پہنچ سکو گے یا نہیں ، آپ نے اسی طرح کچھ اور بھی فرمایا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں نعمان بن مقرن (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجہاد ٢ (١٧٣١) ، سنن ابی داود/ الجہاد ٩٠ (٢٦١٢) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٣٨ (٢٨٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٩٢٩) ، و مسند احمد (٥/٣٥٢، ٣٥٨) ، سنن الدارمی/السیر ٥ (٣٤٨٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اگر کفار و مشرکین غیر مشروط طور پر بغیر کسی معین شرط اور پختہ عہد کے اپنے آپ کو امیر لشکر کے حوالہ کرنے پر تیار ہوں تو بہتر ، ورنہ صرف اللہ کے حکم کے مطابق امیر سے معاملہ کرنا چاہیں تو امیر کو ایسا نہیں کرنا ہے ، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اللہ نے ان کے بارے میں کیا فیصلہ کیا ہے ، یہ حدیث اصول جہاد کے بڑے معتبر اصولوں پر مشتمل ہے جو معمولی سے غور وتامل سے واضح ہوجاتے ہیں۔ حدیث میں موجود نصوص کو مطلق طور پر اپنانا بحث و مباحثہ میں جانے سے کہیں بہتر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2858) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1617
حدیث نمبر: 1617 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ، أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، وَقَالَ: اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، فَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ، أَيَّتُهَا أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ وَادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَالتَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ، فَإِنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُوا كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ مَا يَجْرِي عَلَى الْأَعْرَابِ، لَيْسَ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا، فَإِنْ أَبَوْا، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَيْهِمْ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ، فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ، وَاجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَمَ أَصْحَابِكَ، لِأَنَّكُمْ إِنْ تَخْفِرُوا ذِمَّتَكُمْ وَذِمَمَ أَصْحَابِكُمْ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، فَلَا تُنْزِلُوهُمْ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا أَوْ نَحْوَ هَذَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، وَحَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ کے متعلق نبی اکرم ﷺ کی وصیت۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز فجر کے وقت ہی حملہ کرتے تھے، اگر آپ اذان سن لیتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کردیتے، ایک دن آپ نے کان لگایا تو ایک آدمی کو کہتے سنا : «الله أكبر اللہ أكبر» ، آپ نے فرمایا : فطرت (دین اسلام) پر ہے، جب اس نے «أشهد أن لا إله إلا الله» کہا، تو آپ نے فرمایا : تو جہنم سے نکل گیا ۔ حسن کہتے ہیں : ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : ہم سے حماد بن سلمہ نے اسی سند سے اسی کے مثل بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٦ (٣٨٢) ، سنن ابی داود/ الجہاد ١٠٠ (٢٦٣٤) ، (تحفة الأشراف : ٣١٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2368) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1618
حدیث نمبر: 1618 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُغيِرُ إِلَّا عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ، فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَقَالَ: خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ ، قَالَالْحَسَنُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ بِهَذَا الَإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی فضیلت۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ کہا گیا : اللہ کے رسول ! کون سا عمل (اجر و ثواب میں) جہاد کے برابر ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے ، صحابہ نے دو یا تین مرتبہ آپ کے سامنے یہی سوال دہرایا، آپ ہر مرتبہ کہتے : تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے ، تیسری مرتبہ آپ نے فرمایا : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس نمازی اور روزہ دار کی ہے جو نماز اور روزے سے نہیں رکتا (یہ دونوں عمل مسلسل کرتا ہی چلا جاتا) ہے یہاں تک کہ اللہ کی راہ کا مجاہد واپس آ جائے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ٣ - اس باب میں شفاء، عبداللہ بن حبشی، ابوموسیٰ ، ابوسعید، ام مالک بہز یہ اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإمارة ٢٩ (١٨٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٧٩١) ، و مسند احمد (٢/٤٢٤، ٤٣٨، ٤٦٥) (صحیح) (وانظر أیضا : صحیح البخاری/الجہاد ٢ ٢٧٨٧) ، و سنن النسائی/الجہاد ١٤ (٣١٢٦ ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جس طرح اللہ کی عبادت میں ہر آن اور ہر گھڑی مشغول رہنے والے روزہ دار اور نمازی کا ثواب برابر جاری رہتا ہے ، اسی طرح اللہ کی راہ کے مجاہد کا کوئی وقت ثواب سے خالی نہیں جاتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1619
حدیث نمبر: 1619 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ ؟ قَالَ: إِنَّكُمْ لَا تَسْتَطِيعُونَهُ ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ، يَقُولُ: لَا تَسْتَطِيعُونَهُ ، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ: مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَثَلُ الْقَائِمِ الصَّائِمِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ مِنْ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَفِي الْبَاب، عَنْ الشِّفَاءِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، وَأَبِي مُوسَى، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ، وَأَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی فضیلت۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ عزوجل فرماتا ہے : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کا ضامن میں ہوں، اگر میں اس کی روح قبض کروں تو اس کو جنت کا وارث بناؤں گا، اور اگر میں اسے (اس کے گھر) واپس بھیجوں تو اجر یا غنیمت کے ساتھ واپس بھیجوں گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٣٣٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (2 / 178 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1620
حدیث نمبر: 1620 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي مَرْزُوقٌ أَبُو بَكْرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ هُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ، إِنْ قَبَضْتُهُ، أَوْرَثْتُهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ رَجَعْتُهُ، رَجَعْتُهُ بِأَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ، قَالَ: هُوَ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہد کی موت کی فضیلت۔
فضالہ بن عبید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر میت کے عمل کا سلسلہ بند کردیا جاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستے میں سرحد کی پاسبانی کرتے ہوئے مرے، تو اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھایا جاتا رہے گا اور وہ قبر کے فتنہ سے مامون رہے گا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا : مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - فضالہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عقبہ بن عامر اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ١٦ (٢٥٠٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٣٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی نفس امارہ جو آدمی کو برائی پر ابھارتا ہے ، وہ اسے کچل کر رکھ دیتا ہے ، خواہشات نفس کا تابع نہیں ہوتا اور اطاعت الٰہی میں جو مشکلات اور رکاوٹیں آتی ہیں ، ان پر صبر کرتا ہے ، یہی جہاد اکبر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (34 / التحقيق الثانی و 3823) ، التعليق الرغيب (2 / 150) ، الصحيحة (549) ، صحيح أبي داود (1258) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1621
حدیث نمبر: 1621 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّعَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ يُنْمَى لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَيَأْمَنُ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَجَابِرٍ، وَحَدِيثُ فَضَالَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے دوران روزہ رکھنے کی فضیلت۔
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص جہاد کرتے وقت ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اسے ستر سال کی مسافت تک جہنم سے دور کرے گا ١ ؎۔ عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار میں سے ایک نے ستر برس کہا ہے اور دوسرے نے چالیس برس ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - راوی ابوالاسود کا نام محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل اسدی مدنی ہے، ٣ - اس باب میں ابوسعید، انس، عقبہ بن عامر اور ابوامامہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصیام ٤٤ (٢٢٤٦، ٢٢٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٤ (١٧١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٨٦) ، و مسند احمد (٢/٣٠٠، ٣٥٧) (صحیح) (اگلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ” ابن لہیعہ “ ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : جہاد کرتے وقت روزہ رکھنے کی فضیلت کے حامل وہ مجاہدین ہیں جنہیں روزہ رکھ کر کمزوری کا احساس نہ ہو ، اور جنہیں کمزوری لاحق ہونے کا خدشہ ہو وہ اس فضیلت کے حامل نہیں ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح باللفظ الأول، التعليق الرغيب (2 / 62) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1622
حدیث نمبر: 1622 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أنهما حدثاه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، زَحْزَحَهُ اللَّهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ، أَحَدُهُمَا يَقُولُ: سَبْعِينَ ، وَالْآخَرُ يَقُولُ: أَرْبَعِينَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَسَدِيُّ الْمَدَنِيُّ، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے دوران روزہ رکھنے کی فضیلت۔
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : راہ جہاد میں کوئی بندہ ایک دن بھی روزہ رکھتا ہے تو وہ دن اس کے چہرے سے ستر سال کی مسافت تک جہنم کی آگ کو دور کر دے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٣٦ (٢٨٤٠) ، صحیح مسلم/الصوم ٣١ (١١٥٣) ، سنن النسائی/الصیام ٤٤ (٢٢٤٧) ، ٢٢٤٩-٢٢٥٢) ، و ٤٥ ٢٢٥٣-٢٢٥٥) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ٣٤ (١٧١٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٣٨٨) ، و مسند احمد (٣/٢٦، ٤٥، ٥٩، ٨٣) ، سنن الدارمی/الجہاد ١٠ (٢٤٠٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1717) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1623
حدیث نمبر: 1623 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، قَالَ: وحَدَّثَنَامَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا بَاعَدَ ذَلِكَ الْيَوْمُ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے دوران روزہ رکھنے کی فضیلت۔
ابوامامہ باہلی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جہاد میں جو شخص ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان اسی طرح کی ایک خندق بنا دے گا جیسی زمین و آسمان کے درمیان ہے ۔ یہ حدیث ابوامامہ کی روایت سے غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ٤٩٠٤) (حسن صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن صحیح ہے، ورنہ ” ولید “ اور ان کے شیخ میں قدرے کلام ہے، دیکھیے الصحیحة رقم ٥٦٣ ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، الصحيحة (563) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1624
حدیث نمبر: 1624 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ خَنْدَقًا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں مال خرچ کرنے کی فضیلت۔
خریم بن فاتک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اللہ کے راستے (جہاد) میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے سات سو گنا (ثواب) لکھ لیا گیا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، اس حدیث کو ہم رکین بن ربیع ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الجہاد ٤٥ (٣١٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٢٦) ، و مسند احمد (٤/٣٥٢٢، ٣٤٥، ٣٤٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (3826) ، التعليق الرغيب (2 / 156) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1625
حدیث نمبر: 1625 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كُتِبَتْ لَهُ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں خدمت گاری کی فضیلت۔
عدی بن حاتم طائی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کے راستے میں (کسی مجاہد کو) غلام کا عطیہ دینا یا (مجاہدین کے لیے) خیمہ کا سایہ کرنا، یا اللہ کے راستے میں جوان اونٹنی دینا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - معاویہ بن صالح سے یہ حدیث مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے، ٢ - بعض اسناد (طرق) میں زید (بن حباب) کی مخالفت کی گئی ہے، اس حدیث کو ولید بن جمیل نے قاسم ابوعبدالرحمٰن سے، قاسم نے ابوامامہ سے، اور ابوامامہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ہم سے اس حدیث کو زیاد بن ایوب نے بیان کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف : ٩٨٧٣) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن، التعليق الرغيب (2 / 158 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1626
حدیث نمبر: 1626 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: خِدْمَةُ عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ ظِلُّ فُسْطَاطٍ، أَوْ طَرُوقَةُ فَحْلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ هَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلًا، وَخُولِفَ زَيْدٌ فِي بَعْضِ إِسْنَادِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں خدمت گاری کی فضیلت۔
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہاد میں (مجاہدین کے لیے) خیمہ کا سایہ کرنا، خادم کا عطیہ دینا اور جوان اونٹنی دینا سب سے افضل و بہتر صدقہ ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - میرے نزدیک یہ معاویہ بن صالح کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤٩٠٥) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن انظر ما قبله (1626) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1627
حدیث نمبر: 1627 قَالَ: وَرَوَى الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصَّدَقَاتِ: ظِلُّ فُسْطَاطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنِيحَةُ خَادِمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ طَرُوقَةُ فَحْلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ أَصَحُّ عِنْدِي مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ.
তাহকীক: