আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৩ টি
হাদীস নং: ১৫৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجوسیوں سے جزیہ لینا۔
سائب بن یزید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بحرین کے مجوسیوں سے، اور عمر اور عثمان (رض) نے فارس کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مالک روایت کرتے ہیں زہری سے اور زہری نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (وہو في بعض النسخ فحسب ولذا لم یذکرہ المزي في التحفة) (صحیح ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1588
حدیث نمبر: 1588 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَيْنِ، وَأَخَذَهَا عُمَرُ مِنْ فَارِسَ، وَأَخَذَهَا عُثْمَانُ مِنْ الْفُرْسِ ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا، فَقَالَ: هُوَ مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کے مال میں سے کیا حلال ہے۔
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرتے ہیں جو نہ ہماری مہمانی کرتے ہیں، نہ ان پر جو ہمارا حق ہے اسے ادا کرتے ہیں، اور ہم ان سے کچھ نہیں لیتے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر وہ نہ دیں سوائے اس کے کہ تم زبردستی ان سے لو، تو زبردستی لے لو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اسے لیث بن سعد نے بھی یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا ہے (جیسا کہ بخاری کی سند میں ہے) ، ٣ - اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ صحابہ جہاد کے لیے نکلتے تھے تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرتے، جہاں کھانا نہیں پاتے تھے، کہ قیمت سے خریدیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر وہ (کھانا) فروخت کرنے سے انکار کریں سوائے اس کے کہ تم زبردستی لو تو زبردستی لے لو، ٤ - ایک حدیث میں اسی طرح کی وضاحت آئی ہے، عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے، وہ بھی اسی طرح کا حکم دیا کرتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المظالم ١٨ (٢٤٦١) ، والأدب ٨٥ (٦١٣٧) ، صحیح مسلم/اللقطة ٣ (١٧٢٧) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٥ (٣٧٥٢) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥ (٣٦٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٥٤) ، و مسند احمد (٤/١٤٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : امام احمد ، شوکانی اور صاحب تحفہ الاحوذی کے مطابق یہ حدیث اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے ، اس کی کوئی تاویل بلا دلیل ہے ، جیسے : یہ زمن نبوت کے ساتھ خاص تھا ، یا یہ کہ یہ ان اہل ذمہ کے ساتھ خاص تھا جن سے مسلمان لشکریوں کی ضیافت کرنے کی شرط لی گئی تھی ، وغیرہ وغیرہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3676) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1589
حدیث نمبر: 1589 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَمُرُّ بِقَوْمٍ فَلَا هُمْ يُضَيِّفُونَا، وَلَا هُمْ يُؤَدُّونَ مَا لَنَا عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ، وَلَا نَحْنُ نَأْخُذُ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ أَبَوْا إِلَّا أَنْ تَأْخُذُوا كَرْهًا، فَخُذُوا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَيْضًا، وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: أَنَّهُمْ كَانُوا يَخْرُجُونَ فِي الْغَزْوِ، فَيَمُرُّونَ بِقَوْمٍ وَلَا يَجِدُونَ مِنَ الطَّعَامِ مَا يَشْتَرُونَ بِالثَّمَنِ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ أَبَوْا أَنْ يَبِيعُوا إِلَّا أَنْ تَأْخُذُوا كَرْهًا، فَخُذُوا ، هَكَذَا رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ مُفَسَّرًا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِنَحْوِ هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت کے بارے میں۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا : فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے، اور جب تم کو جہاد کے لیے طلب کیا جائے تو نکل پڑو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سفیان ثوری نے بھی منصور بن معتمر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں ابوسعید، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن حبشی (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ١٠ (١٨٣٤) ، والجہاد ١ (٢٧٨٣) ، و ٢٧ (٢٨٢٥) ، و ١٩٤ (٣٠٧٧) ، والجزیة ٢٢ (٣١٨٩) ، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٣) ، والإمارة ٢٠ (١٣٥٣/٨٥) ، سنن ابی داود/ المناسک ٩٠ (٢٠١٨) ، (إشارة) والجہاد ٢ (٢٤٨٠) ، سنن النسائی/البیعة ١٥ (٤١٧٥) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٩ (٢٧٧٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٤٨) ، و مسند احمد (١/٢٢٦، ٢٢٦، ٣١٦، ٣٥٥) ، وسنن الدارمی/السیر ٦٩ (٢٥٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مکہ سے خاص طور پر مدینہ کی طرف ہجرت نہیں ہے کیونکہ مکہ اب دارالسلام بن گیا ہے ، البتہ دارالکفر سے دارالسلام کی طرف ہجرت تاقیامت باقی رہے گی جیسا کہ بعض احادیث سے ثابت ہے اور مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے سبب جس خیر و بھلائی سے لوگ محروم ہوگئے اس کا حصول جہاد اور صالح نیت کے ذریعہ ممکن ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2773) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1590
حدیث نمبر: 1590 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، نَحْوَ هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت نبی اکرم ﷺ۔
جابر بن عبداللہ (رض) سے آیت کریمہ : «لقد رضي اللہ عن المؤمنين إذ يبايعونک تحت الشجرة» اللہ مومنوں سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے ۔ (الفتح : ١٨ ) کے بارے میں روایت ہے، جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے فرار نہ ہونے کی بیعت کی تھی، ہم نے آپ سے موت کے اوپر بیعت نہیں کی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث بسند «عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن جابر بن عبد الله» مروی ہے، اس میں یحییٰ بن ابی کثیر اور جابر بن عبداللہ (رض) کے درمیان ابوسلمہ کے واسطے کا ذکر نہیں ہے، ٢ - اس باب میں سلمہ بن الاکوع، ابن عمر، عبادہ اور جریر بن عبداللہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإمارة ١٨ (١٨٥٦) ، سنن النسائی/البیعة ٧ (٤١٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٣١٦٣) ، و مسند احمد (٣/٣٥٥، ٣٨١، ٣٩٦) ، وسنن الدارمی/السیر ١٨ (٢٤٩٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1591
حدیث نمبر: 1591 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ سورة الفتح آية 18، قَالَ جَابِرٌ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ، وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعُبَادَةَ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ أَبُو سَلَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت نبی اکرم ﷺ۔
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع (رض) سے پوچھا : حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کس بات پر بیعت کی تھی ؟ انہوں نے کہا : موت پر ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ١١٠ (٢٩٦٠) ، والمغازي ٣٥ (٤١٦٩) ، والأحکام ٤٣ (٧٢٠٦) ، و ٤٤ (٧٢٠٨) ، صحیح مسلم/الإمارة ١٨ (١٨٦٠) ، سنن النسائی/البیعة ٨ (٤١٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٣٦) ، و مسند احمد (٤/٤٧، ٥١، ٥٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے ، کیونکہ اس حدیث کا بھی مفہوم یہ ہے کہ ہم نے میدان سے نہ بھاگنے کی بیعت کی تھی ، بھلے ہم اپنی جان سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھو بیٹھیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1592
حدیث نمبر: 1592 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت نبی اکرم ﷺ۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ سے سمع و طاعت (یعنی آپ کے حکم سننے اور آپ کی اطاعت کرنے) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ ہم سے فرماتے : جتنا تم سے ہو سکے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - حدیث جابر اور حدیث سلمہ بن الاکوع (رض) دونوں حدیثوں کا معنی صحیح ہے، (ان میں تعارض نہیں ہے) بعض صحابہ نے آپ ﷺ سے موت پر بیعت کی تھی، ان لوگوں نے کہا تھا : ہم آپ کے سامنے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ قتل کردیئے جائیں، اور دوسرے لوگوں نے آپ سے بیعت کرتے ہوئے کہا تھا : ہم نہیں بھاگیں گے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأحکام ٤٣ (٧٢٠٢) ، صحیح مسلم/الإمارة ٢٢ (١٨٦٧) ، سنن النسائی/البیعة ٢٤ (٤١٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٧١٢٧) ، وط/البیعة ١ (١) ، و مسند احمد (٢/٦٢، ٨١، ١٠١، ١٣٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2606) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1593
حدیث نمبر: 1593 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فَيَقُولُ لَنَا: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ كِلَاهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت نبی اکرم ﷺ۔
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی، ہم نے تو آپ سے بیعت کی تھی کہ نہیں بھاگیں گے (چاہے اس کا انجام کبھی موت ہی کیوں نہ ہوجائے) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٥٩١، (تحفة الأشراف : ٢٧٦٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1594
حدیث نمبر: 1594 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ، إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى كِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ: قَدْ بَايَعَهُ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى الْمَوْتِ، وَإِنَّمَا قَالُوا: لَا نَزَالُ بَيْنَ يَدَيْكَ حَتَّى نُقْتَلَ، وَبَايَعَهُ آخَرُونَ، فَقَالُوا: لَا نَفِرُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت توڑنا۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے : ایک وہ آدمی جس نے کسی امام سے بیعت کی پھر اگر امام نے اسے (اس کی مرضی کے مطابق) دیا تو اس نے بیعت پوری کی اور اگر نہیں دیا تو بیعت پوری نہیں کی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بلا اختلاف اسی کے موافق حکم ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المساقاة ١٠ (٢٣٦٩) ، والشہادات ٢٢ (٢٦٧٢) ، والأحکام ٤٨ (٧٢١٢) ، صحیح مسلم/الإیمان ٤٦ (١٧٣) ، سنن ابی داود/ البیوع ٦٢ (٣٤٧٤) ، سنن النسائی/البیوع ٦ (٤٤٧٤) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٠ (٢٢٠٧) ، والجہاد ٤٢ (٢٨٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٤٧٢) ، و مسند احمد (٢/٢٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : باقی دو آدمی جن کا اس حدیث میں ذکر نہیں ہے وہ یہ ہیں : ایک وہ آدمی جس کے پاس لمبے چوڑے صحراء میں اس کی ضرورتوں سے زائد پانی ہو اور مسافر کو پانی لینے سے منع کرے ، دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد کسی کے ہاتھ سامان بیچا اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اس نے یہ چیز اتنے اتنے میں لی ہے ، پھر خریدار نے اس کی بات کا یقین کرلیا حالانکہ اس نے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2207) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1595
حدیث نمبر: 1595 حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا، فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلَى ذَلِكَ الْأَمْرُ بِلَا اخْتِلَافٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کی بیعت۔
جابر (رض) کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اس نے رسول اللہ ﷺ سے ہجرت پر بیعت کی، نبی اکرم ﷺ نہیں جانتے تھے کہ وہ غلام ہے، اتنے میں اس کا مالک آگیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے اسے بیچ دو ، پھر آپ نے اس کو دو کالے غلام دے کر خرید لیا، اس کے بعد آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک اس سے یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا وہ غلام ہے ؟ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - جابر (رض) کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ہم اس کو صرف ابوالزبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تقدم في البیوع برقم ١٥٩١ (تحفة الأشراف : ٢٧٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدنا اور بیچنا جائز ہے ، اس شرط کے ساتھ کہ یہ خرید و فروخت بصورت نقد ہو ، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بیعت کے لیے آئے ہوئے شخص سے اس کی غلامی و آزادی سے متعلق پوچھ لینا ضروری ہے ، کیونکہ غلام ہونے کی صورت میں اس سے بیعت لینی صحیح نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1596
حدیث نمبر: 1596 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِعْنِيهِ، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، وَلَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ: أَعَبْدٌ هُوَ ؟ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کی بیعت۔
امیمہ بنت رقیقہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے کئی عورتوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، آپ نے ہم سے فرمایا : اطاعت اس میں لازم ہے جو تم سے ہو سکے اور جس کی تمہیں طاقت ہو ، میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ہم پر خود ہم سے زیادہ مہربان ہیں، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم سے بیعت لیجئے (سفیان بن عیینہ کہتے ہیں : ان کا مطلب تھا مصافحہ کیجئے) ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم سو عورتوں کے لیے میرا قول میرے اس قول جیسا ہے جو ایک عورت کے لیے ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف محمد بن منکدر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، سفیان ثوری، مالک بن انس اور کئی لوگوں نے محمد بن منکدر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : میں امیمہ بنت رقیقہ کی اس کے علاوہ دوسری کوئی حدیث نہیں جانتا ہوں، ٣ - امیمہ نام کی ایک دوسری عورت بھی ہیں جن کی رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث آئی ہے۔ ٤ - اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن عمر اور اسماء بنت یزید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/البیعة ١٨ (٤١٨٦) ، و ٢٤ (٤١٩٥) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٣ (٢٨٧٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٨١) ، وط/البیعة ١ (٢) ، و مسند احمد (٦/٣٥٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : زبان ہی سے بیعت لینا عورتوں کے لیے کافی ہے مصافحہ کی ضرورت نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2874) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1597
حدیث نمبر: 1597 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ، تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَنَا: فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ ، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنَّا بِأَنْفُسِنَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْنَا، قَالَ سُفْيَانُ: تَعْنِي: صَافِحْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، نَحْوَهُ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا أَعْرِفُ لِأُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَأُمَيْمَةُ امْرَأَةٌ أُخْرَى لَهَا حَدِيثٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اصحاب بدر کی تعداد۔
براء (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ غزوہ بدر کے دن بدری لوگ تعداد میں طالوت کے ساتھیوں کے برابر تین سو تیرہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ثوری اور دوسرے لوگوں نے بھی ابواسحاق سبیعی سے اس کی روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٦ (٣٩٥٧، ٣٩٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٢٥ (٢٨٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١٩٠٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1598
حدیث نمبر: 1598 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ: أَنَّ أَصْحَابَ بَدْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ، كَعِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ، ثَلَاثُ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس (پانچواں حصہ)۔
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے وفد عبدالقیس سے فرمایا : میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ مال غنیمت سے خمس (یعنی پانچواں حصہ) ادا کرو، امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث میں ایک قصہ ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٤٠ (٥٣) ، والعلم ٢٥ (٨٧) ، والمواقیت ٢ (٥٢٣) ، والزکاة ١ (١٣٩٨) ، والمناقب ٥ (٣٥١٠) ، والمغازي ٦٩ (٤٣٦٩) ، والأدب ٩٨ (٦١٧٦) ، وخبر الواحد ٥ (٧٢٦٦) ، والتوحید ٥٦ (٧٥٥٦) ، صحیح مسلم/الإیمان ٦ (١٧) ، والأشربة ٦ (١٩٩٥) ، سنن ابی داود/ الأشربة ٧ (٣٦٩٢) ، والسنة ١٥ (٤٦٧٧) ، سنن النسائی/الإیمان ٢٥، (٥٠٣٤) ، والأشربہة (٥٥٦٤) ، و ٤٨ (٥٧٠٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٢٤) ، و مسند احمد ١/١٢٨، ٢٧٤، ٢٩١، ٣٠٤، ٣٣٤، ٣٤٠، ٣٥٢، ٣٦١) ، سنن الدارمی/الأشربة ١٤ (٢٧١٥٧) ، ویأتي عندع المؤلف في الإیمان برقم ٢٦١١ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : تفصیل کے لیے دیکھئیے صحیح بخاری وصحیح مسلم کتاب الایمان۔ قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر البخاري (40) ، الإيمان لأبي عبيد (59 / 1) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1599 اس سند سے بھی ابن عباس (رض) سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر البخاري (40) ، الإيمان لأبي عبيد (59 / 1) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1599
حدیث نمبر: 1599 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ: آمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ ، قَالَ: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے کچھ لینا مکروہ ہے۔
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، جلد باز لوگ آگے بڑھے اور غنیمت سے (کھانے پکانے کی چیزیں) جلدی لیا اور (تقسیم سے پہلے اسے) پکانے لگے، رسول اللہ ﷺ ان سے پیچھے آنے والے لوگوں کے ساتھ تھے، آپ ہانڈیوں کے قریب سے گزرے تو آپ نے حکم دیا اور وہ الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا، آپ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - سفیان ثوری نے یہ حدیث بطریق : «عن أبيه سعيد، عن عباية، عن جده رافع بن خديج» روایت کی ہے، اس سند میں عبایہ نے اپنے باپ کے واسطے کا نہیں ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1600 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَتَقَدَّمَ سَرْعَانُ النَّاسِ، فَتَعَجَّلُوا مِنَ الْغَنَائِمِ، فَاطَّبَخُوا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَى النَّاسِ، فَمَرَّ بِالْقُدُورِ، فَأَمَرَ بِهَا، فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمْ، فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍوَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ وَهَذَا أَصَحُّ، وَعَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ سَمِعَ مِنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَجَابِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے کچھ لینا مکروہ ہے۔
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو لوٹ پاٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤٧٩) ، وانظر مسند احمد (٣/١٤٠، ١٩٧، ٣١٢، ٣٢٣، ٣٨٠، ٣٩٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی کسی معصوم کے مال کو اس کی اجازت و رضا مندی کے بغیر ڈاکہ زنی کر کے لینا حرام ہے ، اور اگر کوئی یہ کام حلال سمجھ کر کر رہا ہے تو وہ کافر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (2947 / التخريج الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1601
حدیث نمبر: 1601 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل کتاب کو سلام کرنا۔
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور ان میں سے جب کسی سے تمہارا آمنا سامنا ہوجائے تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، انس (رض) اور ابو بصرہ غفاری (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اور حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ تم خود ان سے سلام نہ کرو (بلکہ ان کے سلام کرنے پر صرف جواب دو ) ، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں : یہ اس لیے ناپسند ہے کہ پہلے سلام کرنے سے ان کی تعظیم ہوگی جب کہ مسلمانوں کو انہیں تذلیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح راستے میں آمنا سامنا ہوجانے پر ان کے لیے راستہ نہ چھوڑے کیونکہ اس سے بھی ان کی تعظیم ہوگی (جو صحیح نہیں ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٤ (٢١٦٧) ، سنن ابی داود/ الأدب ١٤٩ (٥٢٠٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٧٠) ، ویأتي في الاستئذان برقم ٢٧٠٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث کی رو سے مسلمان کا یہود و نصاریٰ اور مجوس وغیرہ کو پہلے سلام کہنا حرام ہے ، جمہور کی یہی رائے ہے۔ راستے میں آمنا سامنا ہونے پر انہیں تنگ راستے کی جانب مجبور کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ چھوٹے لوگ ہیں۔ اور یہ غیر اسلامی حکومتوں میں ممکن نہیں اس لیے بقول ائمہ شر وفتنہ سے بچنے کے لیے جو محتاط طریقہ ہو اسے اپنانا چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (704) ، الإرواء (1271) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1602
حدیث نمبر: 1602 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ، وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِنَّمَا مَعْنَى: الْكَرَاهِيَةِ، لِأَنَّهُ يَكُونُ تَعْظِيمًا لَهُمْ، وَإِنَّمَا أُمِرَ الْمُسْلِمُونَ بِتَذْلِيلِهِمْ، وَكَذَلِكَ إِذَا لَقِيَ أَحَدَهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَلَا يَتْرُكِ الطَّرِيقَ عَلَيْهِ، لِأَنَّ فِيهِ تَعْظِيمًا لَهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل کتاب کو سلام کرنا۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہود میں سے کوئی جب تم لوگوں کو سلام کرتا ہے تو وہ کہتا ہے : «السام عليک» (یعنی تم پر موت ہو) ، اس لیے تم جواب میں صرف «عليک» کہو (یعنی تم پر موت ہو) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستئذان ٢٢ (٦٦٥٧) ، والمرتدین ٤ (٦٩٢٨) ، صحیح مسلم/السلام ٤ (٢١٦٤) ، سنن ابی داود/ الأدب ١٤٩ (٥٢٠٦) ، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ١٣٤ (١٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٧١٢٨) ، وط/السلام ٢ (٣) ، و مسند احمد (٢/١٩) ، وسنن الدارمی/الاستئذان ٧ (٢٦٧٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (5 / 112 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1603
حدیث نمبر: 1603 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقُلْ: عَلَيْكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین میں رہنے کی کراہت۔
جریر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ خثعم کی طرف ایک سریہ روانہ کیا، (کافروں کے درمیان رہنے والے مسلمانوں میں سے) کچھ لوگوں نے سجدہ کے ذریعہ پناہ چاہی، پھر بھی انہیں قتل کرنے میں جلدی کی گئی، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر ملی تو آپ نے ان کو آدھی دیت دینے کا حکم دیا اور فرمایا : میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آخر کیوں ؟ آپ نے فرمایا : (مسلمان کو کافروں سے اتنی دوری پر سکونت پذیر ہونا چاہیئے کہ) وہ دونوں ایک دوسرے (کے کھانا پکانے) کی آگ نہ دیکھ سکیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ١٠٥ (٢٦٤٥) ، سنن النسائی/القسامة ٢٦ (٤٧٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٢٧) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کا مرسل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، دیکھئے : الارواء : رقم ١٢٠٧ ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب مسلمان کفار کے درمیان مقیم ہوں اور مجاہدین کے ہاتھوں ان کا قتل ہوجائے تو مجاہدین پر اس کا کوئی گناہ نہیں ، اور دونوں ایک دوسرے کی آگ نہ دیکھ سکیں کا مطلب یہ ہے کہ حالات کے تقاضے کے مطابق مشرکین کے گھروں اور علاقوں سے ہجرت کرنا ضروری ہے کیونکہ اسلام اور کفر ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ آدھی دیت کا حکم اس لیے دیا کیونکہ باقی آدھی کفار کے ساتھ رہنے کی وجہ سے بطور سزا ساقط ہوگئی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح دون الأمر بنصف العقل، الإرواء (1207) ، صحيح أبي داود (2377) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1604
حدیث نمبر: 1604 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمٍ، فَاعْتَصَمَ نَاسٌ بِالسُّجُودِ، فَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ: أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِمَ ؟ قَالَ: لَا تَرَايَا نَارَاهُمَا ،
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین میں رہنے کی کراہت۔
عبدہ نے یہ حدیث بطریق : «إسمعيل بن أبي خالد عن قيس ابن أبي عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» (مرسلاً ) ابومعاویہ کے مثل حدیث روایت کی ہے، اس میں انہوں (عبدہ) نے جریر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ روایت زیادہ صحیح ہے، ٢ - اسماعیل بن ابی خالد کے اکثر شاگرد اسماعیل کے واسطہ سے قیس بن ابی حازم سے (مرسلاً ) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ روانہ کیا، ان لوگوں نے اس میں جریر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا، اور حماد بن سلمہ نے بطریق : «الحجاج بن أرطاة عن إسمعيل بن أبي خالد عن قيس عن جرير» (مرفوعاً ) ابومعاویہ کے مثل اس کی روایت کی ہے، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : صحیح یہ ہے کہ قیس کی حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرسل ہے، نیز سمرہ بن جندب نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا : مشرکوں کے ساتھ نہ رہو اور نہ ان کی ہم نشینی اختیار کرو، جو ان کے ساتھ رہے گا یا ان کی ہم نشینی اختیار کرے گا وہ بھی انہیں میں سے مانا جائے گا، ٣ - اس باب میں سمرہ سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القسامة ٢٦ (٤٧٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٩٢٣٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : ** صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1605
حدیث نمبر: 1605 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ جَرِيرٍ وَهَذَا أَصَحُّ، وَفِي الْبَاب، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْالْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: الصَّحِيحُ حَدِيثُ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ، وَرَوَى سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُسَاكِنُوا الْمُشْرِكِينَ، وَلَا تُجَامِعُوهُمْ، فَمَنْ سَاكَنَهُمْ أَوْ جَامَعَهُمْ، فَهُوَ مِثْلُهُمْ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکال دینا۔
عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو ضرور نکالوں گا اور اس میں صرف مسلمان کو باقی رکھوں گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1134) ، صحيح أبي داود صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1607
حدیث نمبر: 1607 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، فَلَا أَتْرُكُ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکال دینا۔
عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجہاد ٢١ (١٧٦٧) ، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة ٢٨ (٣٠٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٤١٩) ، و مسند احمد (١/٣٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : جزیرہ عرب وہ حصہ ہے جسے بحر ہند ، بحر احمر ، بحر شام و دجلہ اور فرات نے احاطہٰ کر رکھا ہے ، یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر آبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کی خواہش تھی کہ جزیرہ عرب سے کافروں اور یہود و نصاری کو باہر نکال دیں ، آپ کی زندگی میں اس پر پوری طرح عمل نہ کیا جاسکا ، لیکن عمر (رض) نے اپنے دور خلافت میں آپ ﷺ کی اس خواہش کو کہ عرب میں دو دین نہ رہیں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے جلا وطن کردیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (1605) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1606
حدیث نمبر: 1606 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ .
তাহকীক: