আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

الجامع الكبير للترمذي

حج کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৫৬ টি

হাদীস নং: ৯৪৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہاجر حج کے بعد تین دن تک مکہ میں رہے۔
علاء بن حضرمی (رض) سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مہاجر اپنے حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھہر سکتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اس سند سے اور طرح سے بھی یہ حدیث مرفوعاً روایت کی گئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٤٧ (٣٩٣٣) ، صحیح مسلم/الحج ٨١ (١٣٥٢) ، سنن ابی داود/ المناسک ٩٢ (٢٠٢٢) ، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ٤ (١٤٥٥) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٦ (١٠٧٣) ، ( تحفة الأشراف : ١١٠٠٨) ، مسند احمد (٥/٥٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٠ (١٢٤٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : پہلے منیٰ سے لوٹنے کے بعد مہاجرین کی مکہ میں اقامت جائز نہیں تھی ، بعد میں اسے جائز کردیا گیا اور تین دن کی تحدید کردی گئی ، اس سے زیادہ کی اقامت اس کے لیے جائز نہیں کیونکہ اس نے اس شہر کو اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دیا ہے لہٰذا اس سے زیادہ وہ وہاں قیام نہ کرے ، ورنہ یہ اس کے واپس آ جانے کے مشابہ ہوگا ( یہ مدینے کے مہاجرین مکہ کے لیے خاص تھا ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1073) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 949
حدیث نمبر: 949 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، سَمِعَ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ يَعْنِي مَرْفُوعًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ بِمَكَّةَ ثَلَاثًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَرْفُوعًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج اور عمرے سے واپسی پر کیا کہے
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کسی غزوے، حج یا عمرے سے لوٹتے اور کسی بلند مقام پر چڑھتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے، پھر کہتے : «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو علی كل شيء قدير آيبون تائبون عابدون سائحون لربنا حامدون صدق اللہ وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ سلطنت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹنے والے ہیں، رجوع کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، سیر و سیاحت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا ہی ساری فوجوں کو شکست دے دی ، امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں براء، انس اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٧٦ (١٣٤٤) ، ( تحفة الأشراف : ٧٥٣٩) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/العمرة ١٢ (١٧٩٧) ، والجہاد ١٣٣ (٢٩٩٥) ، والمغازي ٢٩ (٤١١٦) ، والدعوات ٥٢ (٦٣٨٥) ، صحیح مسلم/الحج ٧٦ (المصدر المذکور) ، سنن ابی داود/ الجہاد ١٧٠ (٢٧٧٠) ، مسند احمد (٢/٥، ١٥، ٢١، ٣٨، ٦٣، ١٠٥) من غیر ہذا الوجہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2475) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 950
حدیث نمبر: 950 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوَةً أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَعَلَا، ‏‏‏‏‏‏فَدْفَدًا مِنَ الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ شَرَفًا كَبَّرَ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَائِحُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، ‏‏‏‏‏‏صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَنَصَرَ عَبْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ . وَفِي الْبَاب:‏‏‏‏ عَنْ الْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم جو احرام میں مر جائے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گرپڑا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا وہ محرم تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے اس کے انہی (احرام کے) دونوں کپڑوں میں کفناؤ اور اس کا سر نہ چھپاؤ، اس لیے کہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٣- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب محرم مرجاتا ہے تو اس کا احرام ختم ہوجاتا ہے، اور اس کے ساتھ بھی وہی سب کچھ کیا جائے گا جو غیر محرم کے ساتھ کیا جاتا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٢١ (١٢٦٨) ، وجزاء الصید ٢٠ (١٨٤٩) ، صحیح مسلم/الحج ١٤ (١٢٠٦) ، سنن ابی داود/ الجنائز ٨٤ (٣٢٢٨) ، سنن النسائی/الجنائز (١٩٠٥) ، والحج ٤٧ (٢٧١٥) ، و ١٠١ (١٨٦١) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٩ (٣٠٨٤) ، ( تحفة الأشراف : ٥٥٨٢) ، مسند احمد (١/٣٤٦) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/الجنائز ١٩ (١٢٦٥) ، و ٢٠ (١٢٦٦) ، و ٢١ (١٢٦٧) ، وجزاء الصید ١٣ (١٨٣٩) ، و ٢١ (١٨٥١) ، صحیح مسلم/الحج (المصدرالمذکور) ، سنن النسائی/الحج ٤٧ (٢٧١٤) ، و ٩٧ (٢٨٥٦) ، و ٩٨ (٢٨٥٧) ، و ٩٩ (٢٨٥٨، ٢٨٥٩) ، و ١٠٠ (٢٨٦٠) ، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٦٦، ٢٨٦) ، سنن الدارمی/المناسک ٣٥ (١٨٩٤) من غیر ہذا الطریق۔ وضاحت : ١ ؎ : یہ قول حنفیہ اور مالکیہ کا ہے ، ان کی دلیل ابوہریرہ کی حدیث «إذا مات ابن آدم انقطع عمله» ہے اور باب کی حدیث کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ ممکن ہے نبی اکرم ﷺ کو وحی کے ذریعہ یہ بتادیا گیا ہو کہ یہ شخص مرنے کے بعد اپنے احرام ہی کی حالت میں باقی رہے گا ، یہ خاص ہے اسی آدمی کے ساتھ ، لیکن کیا اس خصوصیت کی کوئی دلیل ہے ؟ ، ایسی فقہ کا کیا فائدہ جو قرآن وسنت کی نصوص کے ہی خلاف ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3084) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 951
حدیث نمبر: 951 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى رَجُلًا قَدْ سَقَطَ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُهِلُّ أَوْ يُلَبِّي . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا مَاتَ الْمُحْرِمُ انْقَطَعَ إِحْرَامُهُ وَيُصْنَعُ بِهِ كَمَا يُصْنَعُ بِغَيْرِ الْمُحْرِمِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم اگر آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہوجائے تو صَبِر ( ایلوے) کالیپ کرے
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں، وہ احرام سے تھے، انہوں نے ابان بن عثمان سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا : ان میں ایلوے کا لیپ کرلو، کیونکہ میں نے عثمان بن عفان (رض) کو اس کا ذکر کرتے سنا ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا : ان پر ایلوے کا لیپ کرلو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ محرم کے ایسی دوا سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جس میں خوشبو نہ ہو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ١٢ (١٢٠٤) ، سنن ابی داود/ المناسک ٣٧ (١٨٣٨) ، سنن النسائی/المناسک ٤٥ (٢٧١٢) ، ( تحفة الأشراف : ٩٧٧٧) ، مسند احمد (١/٦٠، ٦٥، ٦٨، ٦٩) ، سنن الدارمی/المناسک ٨٣ (١٩٤٦) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایلوے ، یا اس جیسی چیز جس میں خوشبو نہ ہو سے آنکھوں میں لیپ لگانا جائز ہے ، اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں ہوگا ، رہیں ایسی چیزیں جن میں خوشبو ہو تو بوقت ضرورت و حاجت ان سے بھی لیپ کرنا درست ہوگا ، لیکن اس پر فدیہ دینا ہوگا ، علماء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ بوقت ضرورت محرم کے لیے آنکھ میں سرمہ لگانا جس میں خوشبو نہ ہو جائز ہے ، اس سے اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں آئے گا ، البتہ زینت کے لیے سرمہ لگانے کو امام شافعی وغیرہ نے مکروہ کہا ہے ، اور ایک جماعت نے اس سے منع کیا ہے ، امام احمد اور اسحاق کی بھی یہی رائے ہے کہ زینت کے لیے سرمہ لگانا درست نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1612) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 952
حدیث نمبر: 952 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ اشْتَكَى عَيْنَيْهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، فَقَالَ:‏‏‏‏ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَيَذْكُرُهَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يَتَدَاوَى الْمُحْرِمُ بِدَوَاءٍ مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ طِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر محرم احرام کی حالت میں سر منڈ ادے تو کیا حکم ہے
کعب بن عجرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ان کے پاس سے گزرے، وہ حدیبیہ میں تھے، احرام باندھے ہوئے تھے۔ اور ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے۔ جوئیں ان کے منہ پر گر رہی تھیں تو آپ نے پوچھا : کیا یہ جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں ؟ کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : سر منڈوا لو اور چھ مسکینوں کو ایک فرق کھانا کھلا دو ، (فرق تین صاع کا ہوتا ہے) یا تین دن کے روزے رکھ لو۔ یا ایک جانور قربان کر دو ۔ ابن ابی نجیح کی روایت میں ہے یا ایک بکری ذبح کر دو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام (رض) وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ محرم جب اپنا سر مونڈا لے، یا ایسے کپڑے پہن لے جن کا پہننا احرام میں درست نہیں یا خوشبو لگالے۔ تو اس پر اسی کے مثل کفارہ ہوگا جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المحصر (١٨١٤) ، و ٦ (١٨١٥) ، و ٧ (١٨١٦) ، و ٨ (١٨١٧) ، والمغازي ٣٥ (٤١٥٩، ٤١٩٠) ، وتفسیر البقرة ٣٢ (٤٥١٧) ، والمرضی ١٦ (٥٦٦٥) ، والطب ١٦ (٥٧٠٣) ، والکفارات ١ (٦٨٠٨) ، صحیح مسلم/الحج ١٠ (١٢٠١) ، سنن ابی داود/ المناسک ٤٣ (١٨٥٦) ، سنن النسائی/المناسک ٩٦ (٢٨٥٤) ، ( تحفة الأشراف : ١١١١٤) ، موطا امام مالک/الحج ٧٨ (٢٣٨) ، مسند احمد (٤/٢٤٢، ٢٤٣) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح مسلم/الحج ١٠ (المصدر المذکور) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٦ (٣٠٧٩) ، مسند احمد (٤/٢٤٢، ٢٤٣) من غیر ہذا الوجہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3079 و 3080) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 953
حدیث نمبر: 953 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وحميد الأعرج، وعبد الكريم، عَنْمُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ مُحْرِمٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ احْلِقْ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً . قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ:‏‏‏‏ أَوِ اذْبَحْ شَاةً . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الْمُحْرِمَ إِذَا حَلَقَ رَأْسَهُ أَوْ لَبِسَ مِنَ الثِّيَابِ مَا، ‏‏‏‏‏‏لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَلْبَسَ فِي إِحْرَامِهِ أَوْ تَطَيَّبَ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ، ‏‏‏‏‏‏بِمِثْلِ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چرواہوں کو اجازت ہے کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑیں۔
عدی (رض) کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اسی طرح ابن عیینہ نے بھی روایت کی ہے، اور مالک بن انس نے بسند «عبد اللہ بن أبي بکر بن محمد ابن عمرو بن حزم عن أبيه عن أبي البداح بن عدي عن أبيه أن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، اور مالک کی روایت زیادہ صحیح ہے، ٢- اہل علم کی ایک جماعت نے چرواہوں کو رخصت دی ہے کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ترک کردیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحج ٧٨ (١٩٧٥) ، سنن النسائی/الحج ٢٢٥ (٣٠٧١) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٧ (٣٠٣٦) ، ( تحفة الأشراف : ٥٠٣٠) ، مسند احمد (٥/٤٥٠) ، سنن الدارمی/المناسک ٥٨ (١٩٣٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی چرواہوں کے لیے جائز ہے کہ وہ ایام تشریق کے پہلے دن گیارہویں کی رمی کریں پھر وہ اپنے اونٹوں کو چرانے چلے جائیں پھر تیسرے دن یعنی تیرہویں کو دوسرے اور تیسرے یعنی بارہویں اور تیرہویں دونوں دنوں کی رمی کریں ، اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کریں پھر اس کے بعد والے دن گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں اور پھر روانگی کے دن تیرہویں کی رمی کریں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3036) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 954
حدیث نمبر: 954 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، وَرِوَايَةُ مَالِكٍ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چرواہوں کو اجازت ہے کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑیں۔
عاصم بن عدی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ کے چرواہوں کو (منی میں ) رات گزارنے کے سلسلہ میں رخصت دی کہ وہ دسویں ذی الحجہ کو (جمرہ عقبہ کی) رمی کرلیں۔ پھر دسویں ذی الحجہ کے بعد کے دو دنوں کی رمی جمع کر کے ایک دن میں اکٹھی کرلیں ١ ؎ (مالک کہتے ہیں : میرا گمان ہے کہ راوی نے کہا) پہلے دن رمی کرلے پھر کوچ کے دن رمی کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ ابن عیینہ کی عبداللہ بن ابی بکر سے روایت والی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس جمع کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ تیرہویں کو بارہویں اور تیرہویں دونوں دنوں کی رمی ایک ساتھ کریں ، دوسری صورت یہ ہے کہ گیارہویں کو گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی ایک ساتھ کریں پھر تیرہویں کو آ کر رمی کریں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3037) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 955
حدیث نمبر: 955 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرْمُونَهُ فِي أَحَدِهِمَا . قَالَ مَالِكٌ:‏‏‏‏ ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الْأَوَّلِ مِنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ علی (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس یمن سے آئے تو آپ نے پوچھا : تم نے کیا تلبیہ پکارا، اور کون سا احرام باندھا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : میں نے وہی تلبیہ پکارا، اور اسی کا احرام باندھا ہے جس کا تلبیہ رسول اللہ ﷺ نے پکارا، اور جو احرام رسول اللہ ﷺ نے باندھا ہے ١ ؎ آپ نے فرمایا : اگر میرے ساتھ ہدی کے جانور نہ ہوتے تو میں احرام کھول دیتا ٢ ؎، امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٣٢ (١٥٥٨) ، صحیح مسلم/الحج ٣٤ (١٢٥٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٥٨٥) ، مسند احمد (٣/١٨٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے احرام کو دوسرے کے احرام پر معلق کرنا جائز ہے۔ ٢ ؎ : یعنی : عمرہ کے بعد احرام کھول دیتا ، پھر ٨ ذی الحجہ کو حج کے لیے دوبارہ احرام باندھنا ، جیسا کہ حج تمتع میں کیا جاتا ہے ، مذکورہ مجبوری کی وجہ سے آپ نے قران ہی کیا ، ورنہ تمتع کرتے ، اس لیے تمتع افضل ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (1006) ، الحج الکبير صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 956
حدیث نمبر: 956 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ عَلِيًّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ بِمَ أَهْلَلْتَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنَّ مَعِي هَدْيًا لَأَحْلَلْتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : حج اکبر (بڑے حج) کا دن کون سا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : «یوم النحر» قربانی کا دن ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف وأخرجہ في تفسیر التوبة أیضا (٣٠٨٨) (تحفة الأشراف : ١٠٠٤٩) (صحیح) (سند میں حارث اعور سخت ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (1101) ، صحيح أبي داود (1700 و 1701) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 957
حدیث نمبر: 957 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَوْمِ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَوْمُ النَّحْرِ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
علی (رض) کہتے ہیں کہ حج اکبر (بڑے حج) کا دن دسویں ذی الحجہ کا دن ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ابن ابی عمر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے اور ابن عیینہ کی موقوف روایت محمد بن اسحاق کی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح بہت سے حفاظ حدیث نے اسے بسند «أبي إسحق عن الحارث عن علي» موقوفاً روایت کیا ہے، شعبہ نے بھی ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے انہوں نے یوں کہا ہے «عن عبد اللہ بن مرة عن الحارث عن علي موقوفا» ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : دسویں تاریخ کو حج اکبر ( بڑا حج ) اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسی دن حج کے اکثر افعال انجام دیئے جاتے ہیں ، مثلاً جمرہ عقبہ کی رمی ( کنکری مارنا ) ، حلق ( سر منڈوانا ) ، ذبح ، طواف زیارت وغیرہ اعمال حج ، اور عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ حج اکبر اس حج کو کہتے ہیں جس میں دسویں تاریخ جمعہ کو آ پڑی ہو ، تو اس کی کوئی اصل نہیں ، رہی طلحہ بن عبیداللہ بن کرز کی روایت «أفضل الأيام يوم عرفه وإذا وافق يوم جمعة فهو أفضل من سبعين حجة في غير يوم جمعة» تو یہ مرسل ہے ، اور اس کی سند بھی معلوم نہیں ، اور حج اصغر سے جمہور عمرہ مراد لیتے ہیں اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حج اصغر یوم عرفہ ہے اور حج اکبر یوم النحر۔ ٢ ؎ : یعنی شعبہ والی روایت میں ابواسحاق سبیعی اور حارث کے درمیان عبداللہ بن مرہ کے واسطے کا اضافہ ہے جب کہ دیگر حفاظ کی روایت میں ایسا نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (957) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 958
حدیث نمبر: 958 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ مَوْقُوفًا، ‏‏‏‏‏‏أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق مَرْفُوعًا، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) حجر اسود اور رکن یمانی پر ایسی بھیڑ لگاتے تھے جو میں نے صحابہ میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا۔ تو میں نے پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ! آپ دونوں رکن پر ایسی بھیڑ لگاتے ہیں کہ میں نے صحابہ میں سے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا ؟ تو انہوں نے کہا : اگر میں ایسا کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : ان پر ہاتھ پھیرنا گناہوں کا کفارہ ہے ۔ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے : جس نے اس گھر کا طواف سات مرتبہ (سات چکر) کیا اور اسے گنا، تو یہ ایسے ہی ہے گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا۔ اور میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے : وہ جتنے بھی قدم رکھے اور اٹھائے گا اللہ ہر ایک کے بدلے اس کی ایک غلطی معاف کرے گا اور ایک نیکی لکھے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- حماد بن زید نے بطریق : «عطا بن السائب، عن ابن عبید بن عمير، عن ابن عمر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے ابن عبید کے باپ کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٣١٧) (صحیح) قال الشيخ الألباني : (قوله : صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 959
حدیث نمبر: 959 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ. فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّكَ تُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُزَاحِمُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ أَفْعَلْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ مَسْحَهُمَا كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا يَضَعُ قَدَمًا وَلَا يَرْفَعُ أُخْرَى إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيئَةً، ‏‏‏‏‏‏وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیت اللہ کے گرد طواف نماز کے مثل ہے۔ البتہ اس میں تم بول سکتے ہو (جب کہ نماز میں تم بول نہیں سکتے) تو جو اس میں بولے وہ زبان سے بھلی بات ہی نکالے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث ابن طاؤس وغیرہ نے ابن عباس سے موقوفاً روایت کی ہے۔ ہم اسے صرف عطاء بن سائب کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، ٢- اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، یہ لوگ اس بات کو مستحب قرار دیتے ہیں کہ آدمی طواف میں بلا ضرورت نہ بولے (اور اگر بولے) تو اللہ کا ذکر کرے یا پھر علم کی کوئی بات کہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٧٣٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (121) ، المشکاة (2576) ، التعليق الرغيب (2 / 121) ، التعليق علی ابن خزيمة (2739) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 960
حدیث نمبر: 960 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَتَكَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَيْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ لَا يَتَكَلَّمَ الرَّجُلُ فِي الطَّوَافِ إِلَّا لِحَاجَةٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يَذْكُرُ اللَّهَ تَعَالَى، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مِنَ الْعِلْمِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا : اللہ کی قسم ! اللہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جس سے یہ دیکھے گا، ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولے گا۔ اور یہ اس شخص کے ایمان کی گواہی دے گا جس نے حق کے ساتھ (یعنی ایمان اور اجر کی نیت سے) اس کا استلام کیا ہوگا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٧ (٢٧٣٥) ، ( تحفة الأشراف : ٥٥٣٦) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٦ (١٨٨١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اس کو چوما یا چھوا ہوگا یہ حدیث اپنے ظاہر ہی پر محمول ہوگی اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ حجر اسود کو آنکھیں اور زبان دیدے اور دیکھنے اور بولنے کی طاقت بخش دے بعض لوگوں نے اس حدیث کی تاویل کی ہے کہ یہ کنایہ ہے حجر اسود کا استلام کرنے والے کو ثواب دینے اور اور اس کی کوشش کو ضائع نہ کرنے سے لیکن یہ محض فلسفیانہ موشگافی ہے ، صحیح یہی ہے کہ حدیث کو ظاہر ہی پر محمول کیا جائے۔ اور ایسا ہونے پر ایمان لایا جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (2578) ، التعليق الرغيب (2 / 122) ، التعليق علی ابن خزيمة (2735) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 961
حدیث نمبر: 961 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجَرِ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، ‏‏‏‏‏‏وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ عَلَى مَنِ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ حالت احرام میں زیتون کا تیل لگاتے تھے اور یہ (تیل) بغیر خوشبو کے ہوتا تھا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف فرقد سبخی کی روایت سے جانتے ہیں، اور فرقد نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے فرقد سبخی کے سلسلے میں کلام کیا ہے، اور فرقد سے لوگوں نے روایت کی ہے، ٢- مقتت کے معنی خوشبودار کے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٨٨ (٣٠٨٣) ، ( تحفة الأشراف : ٧٠٦٠) (ضعیف الإسناد) (سند میں فرقد سبخی لین الحدیث اور کثیر الخطاء راوی ہں ذ) (وأخرجہ صحیح البخاری/الحج ١٨ (١٥٣٧) موقوفا علی ابن عمر وہو أصح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محرم کے لیے زیتون کا تیل جس میں خوشبو کی ملاوٹ نہ ہو لگانا جائز ہے ، لیکن حدیث ضعیف ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 962
حدیث نمبر: 962 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدَّهِنُ بِالزَّيْتِ وَهُوَ مُحْرِمٌ غَيْرِ الْمُقَتَّتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ الْمُقَتَّتُ الْمُطَيَّبُ، ‏‏‏‏‏‏. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏فِي فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَنْهُ النَّاسُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ زمزم کا پانی ساتھ مدینہ لے جاتی تھیں، اور بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ بھی زمزم ساتھ لے جاتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٦٩٠٥) (صحیح) (سند میں خلاد بن یزید جعفی کے حفظ میں کچھ کلام ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے) وضاحت : ١ ؎ : اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ حاجیوں کے لیے زمزم کا پانی مکہ سے اپنے وطن لے جانا مستحب ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (883) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 963
حدیث نمبر: 963 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْمِلُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَتُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْمِلُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے کہا : مجھ سے آپ کوئی ایسی بات بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے یاد کر رکھی ہو۔ بتائیے آپ نے آٹھویں ذی الحجہ کو ظہر کہاں پڑھی ؟ انہوں نے کہا : منیٰ میں، (پھر) میں نے پوچھا : اور کوچ کے دن عصر کہاں پڑھی ؟ کہا : ابطح میں لیکن تم ویسے ہی کرو جیسے تمہارے امراء و حکام کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اسحاق بن یوسف الازرق کی روایت سے غریب جانی جاتی ہے جسے انہوں نے ثوری سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٨٣ (١٦٥٣) ، و ١٤٦ (١٧٨٣) ، صحیح مسلم/الحج ٥٨ (١٣٠٩) ، سنن ابی داود/ المناسک ٥٩ (١٩١٢) ، سنن النسائی/الحج ١٩٠ (٣٠٠٠) ، ( تحفة الأشراف : ٩٨٨) ، سنن الدارمی/المناسک ٤٦ (١٩١٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1670) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 964
حدیث نمبر: 964 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الْوَاسِطِيُّ المعنى واحد، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْسُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بِمِنًى . قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بِالْأَبْطَحِ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ إِسْحَاق بْنِ يُوسُفَ الْأَزْرَقِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الثَّوْرِيِّ.
tahqiq

তাহকীক: