আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
حج کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৬ টি
হাদীস নং: ৮৮৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کو مزدلفہ میں پا نے والے نے حج کو پا لیا
عبدالرحمٰن بن یعمر (رض) کہتے ہیں کہ نجد کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اس وقت آپ عرفہ میں تھے۔ انہوں نے آپ سے حج کے متعلق پوچھا تو آپ نے منادی کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا : حج عرفات میں ٹھہرنا ہے ١ ؎ جو کوئی مزدلفہ کی رات کو طلوع فجر سے پہلے عرفہ آ جائے، اس نے حج کو پا لیا ٢ ؎ منی کے تین دن ہیں، جو جلدی کرے اور دو دن ہی میں چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو دیر کرے تیسرے دن جائے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ (یحییٰ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ) آپ نے ایک شخص کو پیچھے بٹھایا اور اس نے آواز لگائی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحج ٦٩ (١٩٤٩) ، سنن النسائی/الحج ٢٠٣ (٣٠١٩) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٧ (٣٠١٥) ، ( تحفة الأشراف : ٩٧٣٥) ، مسند احمد (٤/٣٠٩، ٣١٠، ٣٣٥) ، سنن الدارمی/المناسک ٥٤ (١٩٢٩) ، ویأتي في التفسیر برقم : ٢٩٧٥ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اصل حج عرفات میں وقوف ہے کیونکہ اس کے فوت ہوجانے سے حج فوت ہوجاتا ہے۔ ٢ ؎ : یعنی اس نے عرفہ کا وقوف پا لیا جو حج کا ایک رکن ہے اور حج کے فوت ہوجانے سے مامون و بےخوف ہوگیا ، یہ مطلب نہیں کہ اس کا حج پورا ہوگیا اور اسے اب کچھ اور نہیں کرنا ہے ، ابھی تو طواف افاضہ جو حج کا ایک اہم رکن ہے باقی ہے بغیر اس کے حج کیسے پورا ہوسکتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3015) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 889
حدیث نمبر: 889 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ، فَسَأَلُوهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: الْحَجُّ عَرَفَةُ، مَنْ جَاءَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ . قَالَ مُحَمْدٍ: وَزَادَ يَحْيَى: وَأَرْدَفَ رَجُلًا فَنَادَى بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کو مزدلفہ میں پا نے والے نے حج کو پا لیا
- ابن ابی عمر نے بسند سفیان بن عیینہ عن سفیان الثوری عن بکیر بن عطاء عن عبدالرحمٰن بن یعمر عن النبی کریم ﷺ اسی طرح اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں : قال سفیان بن عیینہ، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جسے سفیان ثوری نے روایت کی ہے۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ١- شعبہ نے بھی بکیر بن عطا سے ثوری ہی کی طرح روایت کی ہے، ٢- وکیع نے اس حدیث کا ذکر کیا تو کہا کہ یہ حدیث حج کے سلسلہ میں ام المناسک کی حیثیت رکھتی ہے، ٣- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل عبدالرحمٰن بن یعمر کی حدیث پر ہے کہ جو طلوع فجر سے پہلے عرفات میں نہیں ٹھہرا، اس کا حج فوت ہوگیا، اور اگر وہ طلوع فجر کے بعد آئے تو یہ اسے کافی نہیں ہوگا۔ اسے عمرہ بنا لے اور اگلے سال حج کرے ، یہ ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ابن ابی عمر نے بسند «سفيان الثوري عن بكير بن عطاء عن عبدالرحمٰن بن يعمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں : «قال سفيان بن عيينة» ، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جسے سفیان ثوری نے روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- شعبہ نے بھی بکیر بن عطا سے ثوری ہی کی طرح روایت کی ہے، ٢- وکیع نے اس حدیث کا ذکر کیا تو کہا کہ یہ حدیث حج کے سلسلہ میں ام المناسک کی حیثیت رکھتی ہے، ٣- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل عبدالرحمٰن بن یعمر کی حدیث پر ہے کہ جو طلوع فجر سے پہلے عرفات میں نہیں ٹھہرا، اس کا حج فوت ہوگیا، اور اگر وہ طلوع فجر کے بعد آئے تو یہ اسے کافی نہیں ہوگا۔ اسے عمرہ بنا لے اور اگلے سال حج کرے ، یہ ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : ** صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 890
حدیث نمبر: 890 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: وَهَذَا أَجْوَدُ حَدِيثٍ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّهُ مَنْ لَمْ يَقِفْ بِعَرَفَاتٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ وَلَا يُجْزِئُ عَنْهُ إِنْ جَاءَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ وَيَجْعَلُهَا عُمْرَةً وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ نَحْوَ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، قَالَ: وسَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا أَنَّهُ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هَذَا الْحَدِيثُ أُمُّ الْمَنَاسِكِ. ۸۹۰
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کو مزدلفہ میں پا نے والے نے حج کو پا لیا
عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام الطائی (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس مزدلفہ آیا، جس وقت آپ نماز کے لیے نکلے تو میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں قبیلہ طی کے دونوں پہاڑوں سے ہوتا ہوا آیا ہوں، میں نے اپنی سواری کو اور خود اپنے کو خوب تھکا دیا ہے، اللہ کی قسم ! میں نے کوئی پہاڑ نہیں چھوڑا جہاں میں نے (یہ سوچ کر کہ عرفات کا ٹیلہ ہے) وقوف نہ کیا ہو تو کیا میرا حج ہوگیا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو بھی ہماری اس نماز میں حاضر رہا اور اس نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہم یہاں سے روانہ ہوں اور وہ اس سے پہلے دن یا رات میں عرفہ میں وقوف کرچکا ہو ١ ؎ تو اس نے اپنا حج پورا کرلیا، اور اپنا میل کچیل ختم کرلیا ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- «تَفَثَهُ» کے معنی «نسكه» کے ہیں یعنی مناسک حج کے ہیں۔ اور اس کے قول : «ما ترکت من حبل إلا وقفت عليه» کوئی ٹیلہ ایسا نہ تھا جہاں میں نے وقوف نہ کیا ہو کے سلسلے میں یہ ہے کہ جب ریت کا ٹیلہ ہو تو اسے حبل اور جب پتھر کا ہو تو اسے جبل کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحج ٦٩ (١٩٥٠) ، سنن النسائی/الحج ٢١١ (٣٠٤٣) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٥٧ (٣٠١٦) ، ( تحفة الأشراف : ٩٩٠٠) ، مسند احمد (٤/٢٦١، ٢٦٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٥٤ (١٩٣٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ عرفات میں ٹھہرنا ضروری ہے اور اس کا وقت نو ذی الحجہ کو سورج ڈھلنے سے لے کر دسویں تاریخ کے طلوع فجر تک ہے ان دونوں وقتوں کے بیچ اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی عرفات میں وقوف مل جائے تو اس کا حج ادا ہوجائے گا۔ ٢ ؎ : یعنی حالت احرام میں پراگندہ ہو کر رہنے کی مدت اس نے پوری کرلی اب وہ اپنا سارا میل کچیل جو چھوڑ رکھا تھا دور کرسکتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3016) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 891
حدیث نمبر: 891 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَزَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لاَمٍ الطَّائِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، حِينَ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ، فَقُلْتُ: يَارَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي جِئْتُ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي وَاللهِ! مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلاَّ وَقَفْتُ عَلَيْهِ. فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ شَهِدَ صَلاَتَنَا هَذِهِ وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نَدْفَعَ، وَقَدْ وَقَفَ بِعَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلاً أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ أَتَمَّ حَجَّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ: قَوْلُهُ تَفَثَهُ يَعْنِي نُسُكَهُ. قَوْلُهُ مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلاَّ وَقَفْتُ عَلَيْهِ. إِذَا كَانَ مِنْ رَمْلٍ يُقَالُ لَهُ حَبْلٌ. وَإِذَا كَانَ مِنْ حِجَارَةٍ يُقَالُ لَهُ جَبَلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ضعیف لوگوں کو مزدلفہ سے جلدی روانہ کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے مجھے مزدلفہ سے رات ہی میں اسباب (کمزور عورتوں اور ان کے اسباب) کے ساتھ روانہ کردیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں عائشہ (رض)، ام حبیبہ، اسماء بنت ابی بکر اور فضل بن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٩٨ (١٦٧٧) ، ( تحفة الأشراف : ٥٩٩٧) ، مسند احمد (١/٢٤٥، ٣٣٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3026) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 892
حدیث نمبر: 892 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَقَلٍ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ، بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَقَلٍ، حَدِيثٌ صَحِيحٌ، رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مُشَاشٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ وَهَذَا حَدِيثٌ خَطَأٌ أَخْطَأَ فِيهِ مُشَاشٌ وَزَادَ فِيهِ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَرَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَمُشَاشٌ بَصْرِيٌّ، رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ضعیف لوگوں کو مزدلفہ سے جلدی روانہ کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے گھر والوں میں سے کمزوروں (یعنی عورتوں اور بچوں) کو پہلے ہی روانہ کردیا، اور آپ نے (ان سے) فرمایا : جب تک سورج نہ نکل جائے رمی جمار نہ کرنا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابن عباس (رض) کی حدیث «بعثني رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم في ثقل» صحیح حدیث ہے، یہ ان سے کئی سندوں سے مروی ہے، شعبہ نے یہ حدیث مشاش سے اور مشاش نے عطاء سے اور عطا نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے فضل بن عباس سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے گھر والوں میں سے کمزور لوگوں کو پہلے ہی رات کے وقت مزدلفہ سے منیٰ کے لیے روانہ کردیا تھا، یہ حدیث غلط ہے۔ مشاش نے اس میں غلطی کی ہے، انہوں نے اس میں فضل بن عباس کا اضافہ کردیا ہے۔ ابن جریج اور دیگر لوگوں نے یہ حدیث عطاء سے اور عطاء نے ابن عباس سے روایت کی ہے اور اس میں فضل بن عباس کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣- مشاش بصرہ کے رہنے والے ہیں اور ان سے شعبہ نے روایت کی ہے، ٤- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے کہ کمزور لوگ مزدلفہ سے رات ہی کو منیٰ کے لیے روانہ ہوجائیں، ٥- اکثر اہل علم نے نبی اکرم ﷺ کی حدیث کے مطابق ہی کہا ہے کہ لوگ جب تک سورج طلوع نہ ہو رمی نہ کریں، ٦- اور بعض اہل علم نے رات ہی کو رمی کرلینے کی رخصت دی ہے۔ اور عمل نبی اکرم ﷺ کی حدیث پر ہے کہ وہ رمی نہ کریں جب تک کہ سورج نہ نکل جائے، یہی سفیان ثوری اور شافعی کا قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٤٧٢) (صحیح) وأخرجہ کل من : سنن ابی داود/ الحج ٦٦ (١٩٤٠) ، سنن النسائی/الحج ٢٢٢ (٣٠٦٦) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٢ (٣٠٢٥) ، مسند احمد (١/٢٣٤، ٣١١) من غیر ہذا الطریق۔ وضاحت : ١ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ سے رات ہی میں منیٰ بھیج دینا جائز ہے تاکہ وہ بھیڑ بھاڑ سے پہلے کنکریاں مار کر فارغ ہوجائیں لیکن سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں ، ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہماری رانوں پر دھیرے سے مارتے تھے اور فرماتے تھے : اے میرے بچو جمرہ پر کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ سورج نہ نکل جائے ، یہی قول راجح ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3025) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 893
حدیث نمبر: 893 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، وَقَالَ: لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَرَوْا بَأْسًا أَنْ يَتَقَدَّمَ الضَّعَفَةُ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ يَصِيرُونَ إِلَى مِنًى، وقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُمْ لَا يَرْمُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي أَنْ يَرْمُوا بِلَيْلٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ لَا يَرْمُونَ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دسویں ذی الحجہ کو (ٹھنڈی) چاشت کے وقت رمی کرتے تھے اور اس کے بعد زوال کے بعد کرتے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ وہ دسویں ذی الحجہ کے زوال بعد کے بعد ہی رمی کرے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٥٣ (١٢٩٩) ، سنن ابی داود/ الحج ٧٨ (١٩٧١) ، سنن النسائی/الحج ٢٢١ (٣٠٦٥) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٥ (٣٠٥٣) ، سنن ابی داود/ المناسک ٥٨ (١٩٣٧) (تحفة الأشراف : ٢٧٩٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ سنت یہی ہے کہ یوم النحر ( دسویں ذوالحجہ ، قربانی والے دن ) کے علاوہ دوسرے ، گیارہ اور بارہ والے دنوں میں رمی سورج ڈھلنے کے بعد کی جائے ، یہی جمہور کا قول ہے اور عطاء و طاؤس نے اسے زوال سے پہلے مطلقاً جائز کہا ہے ، اور حنفیہ نے کوچ کے دن زوال سے پہلے رمی کی رخصت دی ہے ، عطاء و طاؤس کے قول پر نبی اکرم ﷺ کے فعل و قول سے کوئی دلیل نہیں ہے ، البتہ حنفیہ نے اپنے قول پر ابن عباس کے ایک اثر سے استدلال کیا ہے ، لیکن وہ اثر ضعیف ہے اس لیے جمہو رہی کا قول قابل اعتماد ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3053) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 894
حدیث نمبر: 894 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّهُ لَا يَرْمِي بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ إِلَّا بَعْدَ الزَّوَالِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ طلوع آفتاب سے پہلے نکلنا
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ (مزدلفہ سے) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر (رض) سے بھی روایت ہے، ٣- جاہلیت کے زمانے میں لوگ انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا پھر لوٹتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٤٧٣) (صحیح بما بعدہ) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” حکم “ نے ” مقسم “ سے صرف پانچ احادیث سنی ہیں، اور یہ حدیث شاید ان میں سے نہیں ہے ؟ ) قال الشيخ الألباني : صحيح بما بعده (896) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 895
حدیث نمبر: 895 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَنْتَظِرُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ يُفِيضُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ طلوع آفتاب سے پہلے نکلنا
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے، عمر بن خطاب (رض) نے کہا : مشرکین جب تک کہ سورج نکل نہیں آتا نہیں لوٹتے تھے اور کہتے تھے : ثبیر ! تو روشن ہوجا (تب ہم لوٹیں گے) ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی مخالفت کی، چناچہ عمر (رض) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١٠٠ (١٦٨٤) ، ومناقب الأنصار ٢٦ (٣٨٣٨) ، سنن ابی داود/ الحج ٦٥ (١٩٣٨) ، سنن النسائی/الحج ٢١٣ (٣٠٥٠) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٦١ (٣٠٢٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٦١٦) ، مسند احمد (١/١٤، ٢٩، ٣٩، ٤٢، ٥٠) ، سنن الدارمی/المناسک ٥٥ (١٩٣٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3022) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 896
حدیث نمبر: 896 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق قَال: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍيُحَدِّثُ، يَقُولُ: كُنَّا وُقُوفًا بِجَمْعٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَكَانُوا يَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ، فَأَفَاضَ عُمَرُ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھوٹی چھوٹی کنکریاں مارنا
جابر (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ایسی کنکریوں سے رمی جمار کر رہے تھے جو انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کے درمیان پکڑی جاسکتی تھیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سلیمان بن عمرو بن احوص (جو اپنی ماں ام جندب ازدیہ سے روایت کرتے ہیں) ، ابن عباس، فضل بن عباس، عبدالرحمٰن بن عثمان تمیمی اور عبدالرحمٰن بن معاذ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی کو اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ کنکریاں جن سے رمی کی جاتی ہے ایسی ہوں جو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑی جاسکیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم : ٨٨٦ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ کنکریاں «باقلاّ» کے دانے کے برابر ہوتی تھیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3023) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 897
حدیث نمبر: 897 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ وَهِيَ أُمُّ جُنْدُبٍ الْأَزْدِيَّةُ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ تَكُونَ الْجِمَارُ الَّتِي يُرْمَى بِهَا مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زوال آفتاب کے بعد کنکریاں مارنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمی جمار اس وقت کرتے جب سورج ڈھل جاتا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٥ (٣٠٥٤) (تحفة الأشراف : ٦٤٦٦) (صحیح) (سابقہ حدیث نمبر ٨٩٤ سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، حکم نے مقسم سے صرف پانچ احادیث ہی سنی ہیں، اور یہ شاید ان میں سے نہیں) وضاحت : ١ ؎ : یعنی یوم النحر کے علاوہ باقی دنوں میں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح بحديث جابر رقم (901) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 898
حدیث نمبر: 898 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجِمَارَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر کنکریاں مارنا
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دسویں ذی الحجہ کو جمرہ کی رمی سواری پر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں جابر، قدامہ بن عبداللہ، اور سلیمان بن عمرو بن احوص کی ماں (رضی اللہ عنہم) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- بعض نے یہ پسند کیا ہے کہ وہ جمرات تک پیدل چل کر جائیں، ٥- ابن عمر سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ جمرات تک پیدل چل کر جاتے، ٦- ہمارے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے کبھی کبھار سواری پر رمی اس لیے کی تاکہ آپ کے اس فعل کی بھی لوگ پیروی کریں۔ اور دونوں ہی حدیثوں پر اہل علم کا عمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٦٦ (٣٠٣٤) (تحفة الأشراف : ٦٤٦٧) (صحیح) (سابقہ جابر کی حدیث نمبر ٨٨٦ سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح، وانظر الحديث (887) ، ابن ماجة (3034) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 899
حدیث نمبر: 899 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَقُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأُمِّ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْجِمَارِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي إِلَى الْجِمَارِ وَوَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَنَا أَنَّهُ رَكِبَ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ لِيُقْتَدَى بِهِ فِي فِعْلِهِ، وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ مُسْتَعْمَلٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوار ہو کر کنکریاں مارنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب رمی جمار کرتے، تو جمرات تک پیدل آتے جاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض لوگوں نے اسے عبیداللہ (العمری) سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہوسکتا ہے، اور دسویں کے بعد باقی دنوں میں پیدل جائے گا۔ گویا جس نے یہ کہا ہے اس کے پیش نظر صرف نبی اکرم ﷺ کے اس فعل کی اتباع ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہوئے جب آپ رمی جمار کرنے گئے۔ اور دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرہ عقبہ ہی کی رمی کرے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٨٠١١) (صحیح) وأخرجہ مسند احمد (٢/١٣٨) من طریق عبد العمری عن نافع بہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2072) ، صحيح أبي داود (1718) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 900
حدیث نمبر: 900 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجِمَارَ مَشَى إِلَيْهَا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: يَرْكَبُ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَمْشِي فِي الْأَيَّامِ الَّتِي بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَكَأَنَّ مَنْ قَالَ: هَذَا إِنَّمَا أَرَادَ اتِّبَاعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِعْلِهِ، لِأَنَّهُ إِنَّمَا رُوِيَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَكِبَ يَوْمَ النَّحْرِ حَيْثُ ذَهَبَ يَرْمِي الْجِمَارُ، وَلَا يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ إِلَّا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاب کنکریاں کیسے ماری جائیں
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ جب عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے بیچ میں کھڑے ہوئے اور قبلہ رخ ہو کر اپنے داہنے ابرو کے مقابل رمی شروع کی۔ پھر سات کنکریوں سے رمی کی۔ ہر کنکری پر وہ اللہ اکبر کہتے تھے، پھر انہوں نے کہا : اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس ذات نے بھی یہیں سے رمی کی جس پر سورة البقرہ نازل کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 901 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: لَمَّا أَتَى عَبْدُ اللَّهِ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَجَعَلَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مِنْ هَاهُنَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاب کنکریاں کیسے ماری جائیں
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جمرات کی رمی اور صفا و مروہ کی سعی اللہ کے ذکر کو قائم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحج ٩١ (١٨٨٨) (تحفة الأشراف : ١٧٥٣٣) ، مسند احمد (٦/١٣٩) ، سنن الدارمی/المناسک ٣٦ (١٨٩٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبیداللہ بن ابی زیاد “ ضعیف ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (2624) ، ضعيف أبي داود (328) // عندنا برقم (410 / 1888) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 902
حدیث نمبر: 902 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الْجِمَارِ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایک اونٹنی پر جمرات کی رمی کر رہے تھے، نہ لوگوں کو دھکیلنے اور ہانکنے کی آواز تھی اور نہ ہٹو ہٹو کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- قدامہ بن عبداللہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اسی طریق سے جانی جاتی ہے، یہ ایمن بن نابل کی حدیث ہے۔ اور ایمن اہل حدیث ( محدثین ) کے نزدیک ثقہ ہیں، ۳- اس باب میں عبداللہ بن حنظلہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجِمَارُ عَلَى نَاقَةٍ لَيْسَ ضَرْبٌ وَلَا طَرْدٌ وَلَا إِلَيْكَ إِلَيْكَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهُوَ حَدِيثُ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ اور گائے میں شراکت
جابر (رض) کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گائے اور اونٹ کو سات سات آدمیوں کی جانب سے نحر (ذبح) کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- جابر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، عائشہ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ اونٹ سات لوگوں کی طرف سے اور گائے سات لوگوں کی طرف سے ہوگی۔ اور یہی سفیان ثوری، شافعی اور احمد کا قول ہے، ٤- ابن عباس (رض) نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ گائے سات لوگوں کی طرف سے اور اونٹ دس لوگوں کی طرف سے کافی ہوگا ١ ؎۔ یہ اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل لی ہے۔ ابن عباس کی حدیث کو ہم صرف ایک ہی طریق سے جانتے ہیں (ملاحظہ ہو آنے والی حدیث : ٩٠٥) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٦٢ (١٣١٨) ، سنن ابی داود/ الضحایا ٧ (٢٨٠٩) ، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ٥ (٣١٣٢) (تحفة الأشراف : ٢٩٣٣) ، موطا امام مالک/الضحایا ٥ (٩) ، ویأتي عند المؤلف في الأضاحي ٨ (١٥٠٢) (صحیح) وأخرجہ کل من : (صحیح مسلم/المصدر المذکور) ، سنن ابی داود/ المصدر المذکور سنن النسائی/الضحایا ١٦ (٤٣٩٨) من غیر ہذا الطریق۔ وضاحت : ١ ؎ : جابر (رض) کی یہ حدیث حج و عمرہ کے «ھدی» کے بارے میں ہے ، جس کے اندر ابن عباس (رض) کی اگلی حدیث قربانی کے بارے میں ہے ( اور اس کی تائید صحیحین میں مروی رافع بن خدیج کی حدیث سے بھی ہوتی ہے ، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مال غنیمت میں ایک اونٹ کے بدلے دس بکریاں تقسیم کیں ، یعنی : ایک اونٹ برابر دس بکریوں کے ہے ) شوکانی نے ان دونوں حدیثوں میں یہی تطبیق دی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3132) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 904
حدیث نمبر: 904 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَحَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ يَرَوْنَ الْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ وَرُوِي، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْجَزُورَ عَنْ عَشَرَةٍ . وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاق، وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ وَجْهٍ وَاحِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ عید الاضحی کا دن آ گیا، چنانچہ گائے میں ہم سات سات لوگ اور اونٹ میں دس دس لوگ شریک ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ حسین بن واقد کی حدیث ( روایت ) ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَ الْأَضْحَى فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةً، وَفِي الْجَزُورِ عَشَرَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ حَدِيثُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے اونٹ کا اشعار
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ذو الحلیفہ میں (ہدی کے جانور کو) دو جوتیوں کے ہار پہنائے اور ان کی کوہان کے دائیں طرف اشعار ١ ؎ کیا اور اس سے خون صاف کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام (رض) وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اشعار کے قائل ہیں۔ یہی ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٣- یوسف بن عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے وکیع کو کہتے سنا جس وقت انہوں نے یہ حدیث روایت کی کہ اس سلسلے میں اہل رائے کے قول کو نہ دیکھو، کیونکہ اشعار سنت ہے اور ان کا قول بدعت ہے، ٤- میں نے ابوسائب کو کہتے سنا کہ ہم لوگ وکیع کے پاس تھے تو انہوں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے جو ان لوگوں میں سے تھا جو رائے میں غور و فکر کرتے ہیں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اشعار کیا ہے، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ وہ مثلہ ہے تو اس آدمی نے کہا : ابراہیم نخعی سے مروی ہے انہوں نے بھی کہا ہے کہ اشعار مثلہ ہے، ابوسائب کہتے ہیں : تو میں نے وکیع کو دیکھا کہ (اس کی اس بات سے) وہ سخت ناراض ہوئے اور کہا : میں تم سے کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اور تم کہتے ہو : ابراہیم نے کہا : تم تو اس لائق ہو کہ تمہیں قید کردیا جائے پھر اس وقت تک قید سے تمہیں نہ نکالا جائے جب تک کہ تم اپنے اس قول سے باز نہ آ جاؤ ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٣٢ (١٢٤٣) ، سنن ابی داود/ الحج ١٥ (١٧٥٢) ، سنن النسائی/الحج ٦٣ (٢٧٧٥) ، و ٦٧ (٢٧٨٤) ، و ٧٠ (٢٧٩٣) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٦ (٣٠٩٧) ، ( تحفة الأشراف : ٦٤٥٩) ، مسند احمد (١/٢١٦، ٢٤٥، ٢٨٠، ٣٣٩، ٣٤٤، ٣٤٧، ٣٧٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٦٨ (١٩٥٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ہدی کے اونٹ کی کوہان پر داہنے جانب چیر کر خون نکالنے اور اس کے آس پاس مل دینے کا نام اشعار ہے ، یہ ہدی کے جانوروں کی علامت اور پہچان ہے۔ ٢ ؎ : وکیع کے اس قول سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیئے جو ائمہ کے اقوال کو حدیث رسول کے مخالف پا کر بھی انہیں اقوال سے حجت پکڑتے ہیں اور حدیث رسول کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ اس حدیث میں اندھی تقلید کا زبردست رد ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3097) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 906
حدیث نمبر: 906 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّدَ نَعْلَيْنِ، وَأَشْعَرَ الْهَدْيَ فِي الشِّقِّ الْأَيْمَنِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو حَسَّانَ الْأَعْرَجُ اسْمُهُ مُسْلِمٌ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ يَرَوْنَ الْإِشْعَارَ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالَ: سَمِعْت يُوسُفَ بْنَ عِيسَى، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ حِينَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: لَا تَنْظُرُوا إِلَى قَوْلِ أَهْلِ الرَّأْيِ فِي هَذَا، فَإِنَّ الْإِشْعَارَ سُنَّةٌ وَقَوْلُهُمْ بِدْعَةٌ. قَالَ: وسَمِعْت أَبَا السَّائِبِ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ وَكِيعٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ مِمَّنْ يَنْظُرُ فِي الرَّأْيِ: أَشْعَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ أَبُو حَنِيفَةَ هُوَ مُثْلَةٌ، قَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: الْإِشْعَارُ مُثْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ وَكِيعًا غَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: أَقُولُ لَكَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: مَا أَحَقَّكَ بِأَنْ تُحْبَسَ، ثُمَّ لَا تَخْرُجَ حَتَّى تَنْزِعَ عَنْ قَوْلِكَ هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہدی کا جانور قدید سے خریدا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے ثوری کی حدیث سے صرف یحییٰ بن یمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں : اور نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر نے قدید ١ ؎ سے خریدا، اور یہ زیادہ صحیح ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٩ (٣٠٩٨) (تحفة الأشراف : ٧٨٩٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں یحییٰ بن یمان اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے، صحیح بات یہ ہے کہ قدید سے ہدی کا جانور خود ابن عمر (رض) نے خریدا تھا جیسا کہ بخاری نے روایت کی ہے (الحج ١٠٥ ح ١٦٩٣) یحییٰ بن یمان نے اس کو مرفوع کردیا ہے) وضاحت : ١ ؎ : قدید مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔ ٢ ؎ : یعنی یہ موقوف اثر اس مرفوع حدیث سے کہ جسے یحییٰ بن یمان نے ثوری سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد، ابن ماجة (3102) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 907
حدیث نمبر: 907 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ، وَرُوِيَ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقیم کا ہدی کے گلے میں ہار ڈالنا۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے قلادے بٹے، پھر آپ نہ محرم ہوئے اور نہ ہی آپ نے کوئی کپڑا پہننا چھوڑا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی ہدی (کے جانور) کو قلادہ پہنا دے اور وہ حج کا ارادہ رکھتا ہو تو اس پر کپڑا پہننا یا خوشبو لگانا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ وہ احرام نہ باندھ لے، ٣- اور بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب آدمی اپنے ہدی (کے جانور) کو قلادہ پہنا دے تو اس پر وہ سب واجب ہوجاتا ہے جو ایک محرم پر واجب ہوتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الحج ٦٨ (٢٧٨٦) (تحفة الأشراف : ١٧٥١٣) ، مسند احمد (٦/٨٥) (صحیح) (وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/الحج ١٠٦ (١٦٩٨) ، و ١٠٧ (١٦٩٩) ، و ١٠٨ (١٦٩٩) ، و ١٠٩ (١٧٠٠) ، و ١١٠ (١٧٠٢، ١٧٠٣) ، الوکالة ١٤ (٢٣١٧) ، والأضاحي ١٥ (٥٥٦٦) ، صحیح مسلم/الحج ٦٤ (١٣٢١) ، سنن ابی داود/ الحج ١٧ (١٧٥٨) ، سنن النسائی/الحج ٦٥ (٢٧٧٧-٢٧٨١) ، و ٦٦ (٢٧٨٢) ، ٦٨ (٢٧٨٥) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٤ (٣٠٩٥) ، مسند احمد (٦/٣٥، ٣٦، ٧٨، ٩١، ١٠٢، ١٢٧، ١٧٤، ١٨٠، ١٨٥، ١٩٠، ١٩١، ٢٠٠، ٢٠٨، ٢١٣، ٢١٦، ٢٢٥، ٢٣٦، ٢٥٣، ٢٦٢) من غیر ہذا الطریق۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3098) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 908
حدیث نمبر: 908 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَمْ يُحْرِمْ وَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: إِذَا قَلَّدَ الرَّجُلُ الْهَدْيَ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ، لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنَ الثِّيَابِ وَالطِّيبِ حَتَّى يُحْرِمَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا قَلَّدَ الرَّجُلُ هَدْيَهُ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ مَا وَجَبَ عَلَى الْمُحْرِمِ.
তাহকীক: