আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
حج کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫৬ টি
হাদীস নং: ৮৪৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کے لئے شکار کا گوشت کھانا مکروہ ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ صعب بن جثامہ (رض) نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ابواء یا ودان میں ان کے پاس سے گزرے، تو انہوں نے آپ کو ایک نیل گائے ہدیہ کیا، تو آپ نے اسے لوٹا دیا۔ ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا : ہم تمہیں لوٹاتے نہیں لیکن ہم محرم ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت اسی حدیث کی طرف گئی ہے اور انہوں نے محرم کے لیے شکار کا گوشت کھانے کو مکروہ کہا ہے، ٣- شافعی کہتے ہیں : ہمارے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے وہ گوشت صرف اس لیے لوٹا دیا کہ آپ کو گمان ہوا کہ وہ آپ ہی کی خاطر شکار کیا گیا ہے۔ سو آپ نے اسے تنزیہاً چھوڑ دیا، ٤- زہری کے بعض تلامذہ نے یہ حدیث زہری سے روایت کی ہے۔ اور اس میں «أهدى له حمارا وحشياً» کے بجائے «أهدى له لحم حمارٍ وحشٍ» ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے، ٥- اس باب میں علی اور زید بن ارقم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/جزاء الصید ٦ (١٨٢٥) ، والہبة ٦ (٢٥٧٣) ، و ١٧ (٢٥٩٦) ، صحیح مسلم/الحج ٨ (١١٩٣) ، سنن النسائی/الحج ٧٩ (٢٨٢١، ٢٨٢٢، ٢٨٢٥، ٢٨٢٦) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٢ (٣٠٩٠) ، ( تحفة الأشراف : ٤٩٤٠) ، موطا امام مالک/الحج ٢٤ (٨٣) ، مسند احمد ( ٤/٣٧، ٣٨، ٧١، ٧٣) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٢ (١٨٧٠، و ١٨٧٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 849
حدیث نمبر: 849 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَى لَهُ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِهِ مِنَ الْكَرَاهِيَةِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ وَكَرِهُوا أَكْلَ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّمَا وَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَنَا إِنَّمَا رَدَّهُ عَلَيْهِ، لَمَّا ظَنَّ أَنَّهُ صِيدَ مِنْ أَجْلِهِ وَتَرَكَهُ عَلَى التَّنَزُّهِ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَالَ: أَهْدَى لَهُ لَحْمَ حِمَارٍ وَحْشٍ، وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کہ محرم کے لئے سمندری جانوروں کا شکار حلال ہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے تھے کہ ہمارے سامنے ٹڈی کا ایک دل آگیا، ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے کھاؤ، کیونکہ یہ سمندر کا شکار ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابوالمھزم کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، ٢- ابوالمہزم کا نام یزید بن سفیان ہے۔ شعبہ نے ان میں کلام کیا ہے، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے محرم کو ٹڈی کا شکار کرنے اور اسے کھانے کی رخصت دی ہے، ٤- اور بعض کا خیال ہے کہ اگر وہ اس کا شکار کرے اور اسے کھائے تو اس پر فدیہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحج ٤٢ (١٨٥٤) ، سنن ابن ماجہ/الصید ٢٩ (٣٢٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٤٨٣٢) ، مسند احمد (٢/٣٠٦، ٣٦٤) (ضعیف) (سند میں ابو الہزم ضعیف راوی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (3222) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (693) ، الإرواء (1031) ، ضعيف الجامع الصغير (4207) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 850
حدیث نمبر: 850 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُ بِسِيَاطِنَا وَعِصِيِّنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوهُ فَإِنَّهُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبُو الْمُهَزِّمِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لِلْمُحْرِمِ أَنْ يَصِيدَ الْجَرَادَ وَيَأْكُلَهُ، وَرَأَى بَعْضُهُمْ عَلَيْهِ صَدَقَةً إِذَا اصْطَادَهُ وَأَكَلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کے لئے بجو کے شکار کا حکم
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر (رض) سے پوچھا : کیا لکڑ بگھا شکار میں داخل ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، (پھر) میں نے پوچھا : کیا میں اسے کھا سکتا ہوں ـ؟ انہوں نے کہا : ہاں، میں نے کہا : کیا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید کا بیان ہے کہ یہ حدیث جریر بن حزم نے بھی روایت کی ہے لیکن انہوں نے جابر سے اور جابر نے عمر (رض) سے روایت کی ہے، ابن جریج کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ٣- اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور بعض اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ محرم جب لگڑ بگھا کا شکار کرے یا اسے کھائے تو اس پر فدیہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأطعمة ٣٢ (٣٨٠١) ، سنن النسائی/الحج ٨٩ (٢٨٣٩) ، والصید ٢٨ (٤٣٢٨) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٩٠ (٣٠٨٥) ، والصید ١٥ (٣٢٣٦) ، ( تحفة الأشراف : ٢٣٨١) ، مسند احمد (٣/٢٩٧، ٣١٨، ٣٢٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٩٠ (١٩٨٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3085) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 851
حدیث نمبر: 851 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: الضَّبُعُ أَصَيْدٌ هِيَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ آكُلُهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: وَرَوَى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ، وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَصَحُّ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْمُحْرِمِ إِذَا أَصَابَ ضَبُعًا، أَنَّ عَلَيْهِ الْجَزَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکہ داخل ہونے کے لئے غسل کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مکہ میں داخل ہونے کے لیے (مقام) فخ میں ١ ؎ غسل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، ٢- صحیح وہ روایت ہے جسے نافع نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ وہ مکہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرتے تھے۔ اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں کہ مکہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، ٣- عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہیں۔ احمد بن حنبل اور علی بن مدینی وغیرہما نے ان کی تضعیف کی ہے اور ہم اس حدیث کو صرف انہی کے طریق سے مرفوع جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٧٣٢) (ضعیف الإسناد جدا) (سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم سخت ضعیف ہیں، لیکن مقام ” فخ “ کے ذکر کے بغیر مطلق دخول مکہ کے لیے غسل ابن عمر ہی سے بخاری ومسلم میں مروی ہے) وضاحت : ١ ؎ : مکہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد جدا، لکن رواه الشيخان دون ذکر فخ ، صحيح أبي داود (1629) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 852
حدیث نمبر: 852 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ صَالِحٍ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِدُخُولِهِ مَكَّةَ بِفَخٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَغْتَسِلُ لِدُخُولِ مَكَّةَ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ يُسْتَحَبُّ الِاغْتِسَالُ لِدُخُولِ مَكَّةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُمَا، وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم ﷺ مکہ میں بلندی کی طرف سے باہر نکلے
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ آتے تو بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور نشیب کی طرف سے نکلتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر (رض) سے روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٤١ (١٥٧٦) ، صحیح مسلم/الحج ٣٧ (١٢٥٧) ، سنن ابی داود/ الحج (١٨٦٩) (تحفة الأشراف : ١٦٩٢٣) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/المغازي ٤٩ (٤٢٩٠) ، سنن ابی داود/ الحج ٤٥ (١٨٦٨) من غیر ہذا الطریق۔ وضاحت : ١ ؎ : بلندی سے مراد ثنیہ کداء ہے جو مکہ مکرمہ کی مقبرۃ المعلیٰ کی طرف ہے ، اور بلند ہے اور نشیب سے مراد ثنیۃ کدی ہے جو باب العمرۃ اور اب ملک فہد کی طرف نشیب میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1633) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 853
حدیث نمبر: 853 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ، دَخَلَ مِنْ أَعْلَاهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آنحضرت ﷺ مکہ میں دن کے وقت داخل ہوئے
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں دن کے وقت داخل ہوئے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٦ (٢٩٤١) (تحفة الأشراف : ٧٧٢٣) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” عبداللہ العمری “ ضعیف ہیں، دیکھئے صحیح ابی داود : ١٦٢٩، وسنن ابی داود : ١٨٦٥) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ افضل یہ ہے کہ مکہ میں دن کے وقت داخل ہوا جائے مگر یہ قدرت اور امکان پر منحصر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1629) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 854
حدیث نمبر: 854 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ نَهَارًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت اللہ کے دیکھنے کے وقت ہاتھ اٹھانا مکروہ ہے۔
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ سے پوچھا گیا : جب آدمی بیت اللہ کو دیکھے تو کیا اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ؟ انہوں نے کہا : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا، تو کیا ہم ایسا کرتے تھے ؟۔ امام ترمذی کہتے ہیں : بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے کی حدیث ہم شعبہ ہی کے طریق سے جانتے ہیں، شعبہ ابوقزعہ سے روایت کرتے ہیں، اور ابوقزعہ کا نام سوید بن حجیر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحج ٤٦ (١٨٧٠) ، سنن النسائی/الحج ١٢٢ (٢٨٩٨) ، سنن الدارمی/المناسک ٧٥ (١٩٦١) (تحفة الأشراف : ٣١١٦) (ضعیف) (سند میں مہاجر بن عکرمہ، لین الحدیث راوی ہیں، نیز اس کے متن میں اثبات ونفی تک کا اختلاف ہے) وضاحت : ١ ؎ : یہاں استفہام انکار کے لیے ہے ، ابوداؤد کی روایت میں «أفكنا نفعله» کے بجائے «فلم يكن يفعله» اور نسائی کی روایت میں «فلم نکن نفعله» ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے اس سے استدلال صحیح نہیں اس کے برعکس صحیح احادیث اور آثار سے بیت اللہ پر نظر پڑتے وقت ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ضعيف أبي داود (326) ، المشکاة (2574 / التحقيق الثاني) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 855
حدیث نمبر: 855 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَيَرْفَعُ الرَّجُلُ يَدَيْهِ إِذَا رَأَى الْبَيْتَ ؟ فَقَالَ: حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنَّا نَفْعَلُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: رَفْعُ الْيَدَيْنِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْبَيْتِ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، وَأَبُو قَزَعَةَ اسْمُهُ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت اللہ کے دیکھنے کے وقت ہاتھ اٹھانا مکروہ ہے۔
جابر (رض) کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ آئے تو آپ مسجد الحرام میں داخل ہوئے، اور حجر اسود کا بوسہ لیا، پھر اپنے دائیں جانب چلے آپ نے تین چکر میں رمل کیا ١ ؎ اور چار چکر میں عام چال چلے۔ پھر آپ نے مقام ابراہیم کے پاس آ کر فرمایا : مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ، چناچہ آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور مقام ابراہیم آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان تھا۔ پھر دو رکعت کے بعد حجر اسود کے پاس آ کر اس کا استلام کیا۔ پھر صفا کی طرف گئے۔ میرا خیال ہے کہ (وہاں) آپ نے یہ آیت پڑھی : « (إن الصفا والمروة من شعائر الله» صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- جابر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ١٩ (١٢١٨) ، سنن ابی داود/ الحج ٥٧ (١٩٠٥) ، والحروف ١ (٣٩٦٩) ، سنن النسائی/الحج ١٤٩ (٢٩٤٢) ، ١٦٣ (٢٩٦٤، ٢٩٦٥) ، و ١٦٤ (٢٩٦٦) ، و ١٧٢ (٢٩٧٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٦ (١٠٠٨) ، والمناسک ٢٩ (٢٩٥١) ، و ٨٤ (٣٠٧٤) ، ( تحفة الأشراف : ٢٥٩٤ و ٢٥٩٥ و ٢٥٩٦) ، مسند احمد (٣/٣٢٠) ، سنن الدارمی/المناسک ١١ (١٨٤٦) ، وانظر ما یأتي برقم : ٨٥٧ و ٨٦٢ و ٢٩٦٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : رمل یعنی اکڑ کر مونڈھا ہلاتے ہوئے چلنا جیسے سپاہی جنگ کے لیے چلتا ہے ، یہ طواف کعبہ کے پہلے تین پھیروں میں سنت ہے ، نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو یہ حکم اس لیے دیا تھا کہ وہ کافروں کے سامنے اپنے طاقتور اور توانا ہونے کا مظاہرہ کرسکیں ، کیونکہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ مدینہ کے بخار نے انہیں کمزور کردیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3074) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 856
حدیث نمبر: 856 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ مَضَى عَلَى يَمِينِهِ، فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَى الْمَقَامَ، فَقَالَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَالْمَقَامُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، ثُمَّ أَتَى الْحَجَرَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا أَظُنُّهُ، قَالَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود سے رمل شروع کرنے اور اسی پر ختم کرنا
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین پھیروں میں رمل ١ ؎ کیا اور چار میں عام چل چلے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- جابر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی روایت ہے، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- شافعی کہتے ہیں : جب کوئی جان بوجھ کر رمل کرنا چھوڑ دے تو اس نے غلط کیا لیکن اس پر کوئی چیز واجب نہیں اور جب اس نے ابتدائی تین پھیروں میں رمل نہ کیا ہو تو باقی میں نہیں کرے گا، ٥- بعض اہل علم کہتے ہیں : اہل مکہ کے لیے رمل نہیں ہے اور نہ ہی اس پر جس نے مکہ سے احرام باندھا ہو۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمل حجر اسود سے حجر اسود تک پورے مطاف میں مشروع ہے ، رہی ابن عباس کی روایت جس میں رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلنے کا ذکر ہے تو وہ منسوخ ہے ، اس لیے کہ ابن عباس کی روایت عمرہ قضاء کے موقع کی ہے جو ٧ ھ میں فتح مکہ سے پہلے ہوا ہے اور جابر (رض) کی حدیث حجۃ الوداع کے موقع کی ہے جو ١٠ ھ میں ہوا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3074) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 857
حدیث نمبر: 857 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنْ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: إِذَا تَرَكَ الرَّمَلَ عَمْدًا فَقَدْ أَسَاءَ وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، وَإِذَا لَمْ يَرْمُلْ فِي الْأَشْوَاطِ الثَّلَاثَةِ لَمْ يَرْمُلْ فِيمَا بَقِيَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَيْسَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ رَمَلٌ وَلَا عَلَى مَنْ أَحْرَمَ مِنْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی چیز کو بوسہ نہ دے۔
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے ساتھ تھا، معاویہ (رض) جس رکن کے بھی پاس سے گزرتے، اس کا استلام کرتے ١ ؎ تو ابن عباس نے ان سے کہا : نبی اکرم ﷺ نے حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کا استلام نہیں کیا، اس پر معاویہ (رض) نے کہا : بیت اللہ کی کوئی چیز چھوڑی جانے کے لائق نہیں ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر سے بھی روایت ہے، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی کا استلام نہ کیا جائے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٧٨٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : خانہ کعبہ چار رکنوں پر مشتمل ہے ، پہلے رکن کو دو فضیلتیں حاصل ہیں ، ایک یہ کہ اس میں حجر اسود نصب ہے دوسرے یہ کہ قواعد ابراہیمی پر قائم ہے اور دوسرے رکن کو صرف دوسری فضیلت حاصل ہے یعنی وہ بھی قواعد ابراہیمی پر قائم ہے اور رکن شامی اور رکن عراقی کو ان دونوں فضیلتوں میں سے کوئی بھی فضیلت حاصل نہیں ، یہ دونوں قواعد ابراہیمی پر قائم نہیں اس لیے پہلے کی تقبیل ( بوسہ ) ہے اور دوسرے کا صرف استلام ( چھونا ) ہے اور باقی دونوں کی نہ تقبیل ہے نہ استلام ، یہی جمہور کی رائے ہے ، اور بعض لوگ رکن یمانی کی تقبیل کو بھی مستحب کہتے ہیں ، جو ممنوع نہیں ہے۔ ٢ ؎ : معاویہ (رض) کے اس قول کا جواب امام شافعی نے یہ کہہ کردیا ہے کہ ان رکن شامی اور رکن عراقی دونوں کا استلام نہ کرنا انہیں چھوڑنا نہیں ہے حاجی ان کا طواف کر رہا ہے انہیں چھوڑ نہیں رہا ، بلکہ یہ فعلاً اور ترکاً دونوں اعتبار سے سنت کی اتباع ہے ، اگر ان دونوں کا استلام نہ کرنا انہیں چھوڑنا ہے تو ارکان کے درمیان جو جگہیں ہیں ان کا استلام نہ کرنا بھی انہیں چھوڑنا ہوا حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 858
حدیث نمبر: 858 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُعَاوِيَةُ لَا يَمُرُّ بِرُكْنٍ إِلَّا اسْتَلَمَهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْتَلِمُ إِلَّا الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَيْسَ شَيْءٌ مِنْ الْبَيْتِ مَهْجُورًا. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنْ لَا يَسْتَلِمَ إِلَّا الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ، وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم ﷺ نے اضطباع کی حالت میں طواف کیا
یعلیٰ بن امیہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اضطباع کی حالت میں ١ ؎ بیت اللہ کا طواف کیا، آپ کے جسم مبارک پر ایک چادر تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہی ثوری کی حدیث ہے جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے اور اسے ہم صرف کے انہی طریق سے جانتے ہیں، ٣- عبدالحمید جبیرہ بن شیبہ کے بیٹے ہیں، جنہوں نے ابن یعلیٰ سے اور ابن یعلیٰ نے اپنے والد سے روایت کی ہے اور یعلیٰ سے مراد یعلیٰ بن امیہ ہیں (رض) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحج ٥٠ (١٨٨٣) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٠ (٢٩٥٤) ، ( تحفة الأشراف : ١١٨٣٩) ، مسند احمد (٤/٢٢٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٨ (١٨٨٥) (حسن) وضاحت : ١ ؎ : چادر ایک سرے کو داہنی بغل کے نیچے سے نکال کر سینے سے گزارتے ہوئے پیٹھ کی طرف کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈالنے کو اضطباع کہتے ہیں ، یہ طواف کے سبھی پھیروں میں سنت ہے ، بخلاف رمل کے ، وہ صرف شروع کے تین پھیروں ( چکروں ) میں ہے ، طواف کے علاوہ کسی جگہ اور کسی حالت میں اضطباع نہیں ہے بعض لوگ حج و عمرہ میں احرام ہی کے وقت سے اضطباع کرتے ہیں ، اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ نماز کی حالت میں یہ مکروہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (2954) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 859
حدیث نمبر: 859 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ مُضْطَبِعًا وَعَلَيْهِ بُرْدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ هُوَ ابْنُ جُبَيْرَةَ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود کو بوسہ دینا
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو حجر اسود کا بوسہ لیتے دیکھا، وہ کہہ رہے تھے : میں تیرا بوسہ لے رہا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تیرا بوسہ لیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوبکر اور ابن عمر سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٥٠ (١٥٩٧) ، و ٥٧ (١٦٠٥) ، (١٦١٠) ، صحیح مسلم/الحج ٤١ (١٢٧٠) ، سنن ابی داود/ المناسک ٤٧ (١٨٧٣) ، سنن النسائی/الحج ١٤٧ (٢٩٤٠) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٢٧ (٢٩٤٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٤٧٣) ، مسند احمد (١/٢٦، ٤٦) (صحیح) وأخرجہ کل من : موطا امام مالک/الحج ٣٦ (١١٥) ، مسند احمد (١/٢١، ٣٤، ٣٥، ٣٩، ٥١، ٥٣، ٥٤) ، سنن الدارمی/المناسک ٤٢ (١٩٠٦) من غیر ہذا الطریق۔ وضاحت : ١ ؎ : اپنے اس قول سے عمر (رض) لوگوں کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ حجر اسود کا چومنا رسول اللہ کے فعل کی اتباع میں ہے نہ کہ اس وجہ سے کہ یہ خود نفع و نقصان پہنچا سکتا ہے جیسا کہ جاہلیت میں بتوں کے سلسلہ میں اس طرح کا لوگ عقیدہ رکھتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2943) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 860
حدیث نمبر: 860 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِيُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: إِنِّي أُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجر اسود کو بوسہ دینا
زبیر بن عربی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ابن عمر (رض) سے حجر اسود کا بوسہ لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسے چھوتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔ اس نے کہا : اچھا بتائیے اگر میں وہاں تک پہنچنے میں مغلوب ہوجاؤں اور اگر میں بھیڑ میں پھنس جاؤں ؟ تو اس پر ابن عمر نے کہا : تم (یہ اپنا) اگر مگر یمن میں رکھو ١ ؎ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسے چھوتے اور بوسہ لیتے دیکھا ہے۔ یہ زبیر بن عربی وہی ہیں، جن سے حماد بن زید نے روایت کی ہے، کوفے کے رہنے والے تھے، ان کی کنیت ابوسلمہ ہے۔ انہوں نے انس بن مالک اور دوسرے کئی صحابہ سے حدیثیں روایت کیں ہیں۔ اور ان سے سفیان ثوری اور دوسرے کئی اور ائمہ نے روایت کی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ان سے یہ دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔ ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ حجر اسود کے بوسہ لینے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو اور آدمی وہاں تک نہ پہنچ سکے تو اسے اپنے ہاتھ سے چھو لے اور اپنے ہاتھ کا بوسہ لے لے اور اگر وہ اس تک نہ پہنچ سکے تو جب اس کے سامنے میں پہنچے تو اس کی طرف رخ کرے اور اللہ اکبر کہے، یہ شافعی کا قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٦٠ (١٦١١) ، سنن النسائی/الحج ١٥٥ (٢٩٤٩) ، ( تحفة الأشراف : ٦٧١٩) ، مسند احمد (٢/١٥٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ مطلب یہ ہے کہ اگر مگر چھوڑ دو ، اس طرح کے سوالات سنت رسول کے شیدائیوں کو زیب نہیں دیتے ، یہ تو تارکین سنت کا شیوہ ہے ، سنت رسول کو جان لینے کے بعد اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 861
حدیث نمبر: 861 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ . فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ غُلِبْتُ عَلَيْهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ زُوحِمْتُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ، رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ. قَالَ: وَهَذَا هُوَ الزُّبَيْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ، رَوَى عَنْهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ كُوفِيٌّ يُكْنَى أَبَا سَلَمَةَ، سَمِعَ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ تَقْبِيلَ الْحَجَرِ، فَإِنْ لَمْ يُمْكِنْهُ وَلَمْ يَصِلْ إِلَيْهِ اسْتَلَمَهُ بِيَدِهِ وَقَبَّلَ يَدَهُ، وَإِنْ لَمْ يَصِلْ إِلَيْهِ اسْتَقْبَلَهُ إِذَا حَاذَى بِهِ وَكَبَّرَ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سعی صفا سے شروع کرنا چاہیے
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جس وقت مکہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور یہ آیت پڑھی : « (واتخذوا من مقام إبراهيم مصلی» مقام ابراہیم کو مصلی بناؤ یعنی وہاں نماز پڑھو (البقرہ : ١٢٥) ، پھر مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی، پھر حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا استلام کیا پھر فرمایا : ہم (سعی) اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ نے شروع کیا ہے۔ چناچہ آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور یہ آیت پڑھی : «إن الصفا والمروة من شعائر الله» صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں (البقرہ : ١٥٨) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ سعی مروہ کے بجائے صفا سے شروع کی جائے۔ اگر کسی نے صفا کے بجائے مروہ سے سعی شروع کردی تو یہ سعی کافی نہ ہوگی اور سعی پھر سے صفا سے شروع کرے گا، ٣- اہل علم کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کی، یہاں تک کہ واپس گھر چلا گیا، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر کسی نے صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی یہاں تک کہ وہ مکہ سے باہر نکل آیا پھر اسے یاد آیا، اور وہ مکہ کے قریب ہے تو واپس جا کر صفا و مروہ کی سعی کرے۔ اور اگر اسے یاد نہیں آیا یہاں تک کہ وہ اپنے ملک واپس آگیا تو اسے کافی ہوجائے گا لیکن اس پر دم لازم ہوگا، یہی سفیان ثوری کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اگر اس نے صفا و مروہ کے درمیان سعی چھوڑ دی یہاں تک کہ اپنے ملک واپس آگیا تو یہ اسے کافی نہ ہوگا۔ یہ شافعی کا قول ہے، وہ کہتے ہیں کہ صفا و مروہ کے درمیان سعی واجب ہے، اس کے بغیر حج درست نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم : ٨٥٦ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1374) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 862
حدیث نمبر: 862 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَأَتَى الْمَقَامَ فَقَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 فَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ، ثُمَّ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ قَالَ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا وَقَرَأَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يَبْدَأُ بِالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَةِ، فَإِنْ بَدَأَ بِالْمَرْوَةِ قَبْلَ الصَّفَا لَمْ يُجْزِهِ وَبَدَأَ بِالصَّفَا، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِيمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ حَتَّى رَجَعَ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ: الْعِلْمِ إِنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ، فَإِنْ ذَكَرَ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْهَا رَجَعَ فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَإِنْ لَمْ يَذْكُرْ حَتَّى أَتَى بِلَادَهُ أَجْزَأَهُ وَعَلَيْهِ دَمٌ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنْ تَرَكَ الطَّوَافَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى بِلَادِهِ فَإِنَّهُ لَا يُجْزِيهِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: الطَّوَافُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ وَاجِبٌ لَا يَجُوزُ الْحَجُّ إِلَّا بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی، تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھا سکیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابن عمر اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم اسی کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے، اگر وہ سعی نہ کرے بلکہ صفا و مروہ کے درمیان عام چال چلے تو اسے جائز سمجھتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٧٤١) ، مسند احمد (١/٢٥٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 863
حدیث نمبر: 863 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا سَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَإِنْ لَمْ يَسْعَ وَمَشَى بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ رَأَوْهُ جَائِزًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا
کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو سعی میں عام چال چلتے دیکھا تو میں نے ان سے کہا : کیا آپ صفا و مروہ کی سعی میں عام چال چلتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دوڑتے بھی دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو عام چال چلتے بھی دیکھا ہے، اور میں کافی بوڑھا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عمر سے اسی طرح مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحج ٥٦ (١٩٠٤) ، سنن النسائی/الحج ١٧٤ (٢٩٧٩) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٤٣ (٢٩٨٨) ، ( تحفة الأشراف : ٧٣٧٩) ، مسند احمد (٢/٥٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2988) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 864
حدیث نمبر: 864 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَيَمْشِي فِي السَّعْيِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتَمْشِي فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، قَالَ: لَئِنْ سَعَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَلَئِنْ مَشَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوری پر طواف کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کیا جب ١ ؎ آپ حجر اسود کے پاس پہنچتے تو اس کی طرف اشارہ کرتے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر، ابوالطفیل اور ام سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے بیت اللہ کا طواف، اور صفا و مروہ کی سعی سوار ہو کر کرنے کو مکروہ کہا ہے الا یہ کہ کوئی عذر ہو، یہی شافعی کا بھی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٦١ (١٦١٢) ، و ٦٢ (١٦١٣) ، و ٧٤ (١٦٣٢) ، والطلاق ٢٤ (٥٢٩٣) ، سنن النسائی/الحج ١٦٠ (٢٩٥٨) ، ( تحفة الأشراف : ٦٠٥٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : سواری پر طواف آپ نے اس لیے کیا تھا تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ سے حج کے مسائل پوچھ سکیں کیونکہ لوگ آپ کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھے۔ ٢ ؎ : یہ اشارہ آپ اپنی چھڑی سے کرتے تھے پھر اسے چوم لیتے تھے جیسا کہ ابوالطفیل (رض) کی روایت میں ہے جو صحیح مسلم میں آئی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2948) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 865
حدیث نمبر: 865 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَإِذَا انْتَهَى إِلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ، وَأُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَطُوفَ الرَّجُلُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا إِلَّا مِنْ عُذْرٍ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طواف کی فضیلت کے بارے میں
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے بیت اللہ کا طواف پچاس بار کیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آئے گا جیسے اسی دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں انس اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابن عباس (رض) کی حدیث غریب ہے، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ تو ابن عباس سے ان کے اپنے قول سے روایت کیا جاتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٥٣١) (ضعیف) (سند میں سفیان بن وکیع یحییٰ بن یمان شریک القاضی اور ابواسحاق سبیعی سب میں کلام ہے، صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن عباس کا اپنا قول ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (5102) // ضعيف الجامع الصغير (5682) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 866
حدیث نمبر: 866 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ خَمْسِينَ مَرَّةً، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: إِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طواف کی فضیلت کے بارے میں
ایوب سختیانی کہتے ہیں کہ لوگ عبداللہ بن سعید بن جبیر کو ان کے والد سے افضل شمار کرتے تھے۔ اور عبداللہ کے ایک بھائی ہیں جنہیں عبدالملک بن سعید بن جبیر کہتے ہیں۔ انہوں نے ان سے بھی روایت کی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٨٤٥٢) (صحیح الإسناد) وضاحت : ١ ؎ : مؤلف نے یہ اثر پچھلی حدیث کے راوی عبداللہ بن سعید بن جبیر کی تعریف میں پیش کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 867
حدیث نمبر: 867 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، قَالَ: كَانُوا يَعُدُّونَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَفْضَلَ مِنْ أَبِيهِ، وَلِعَبْدِ اللَّهِ أَخٌ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَيْضًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر اور فجر کے بعد طواف کے دو ( نفل) پڑھنا
جبیر بن مطعم (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بنی عبد مناف ! رات دن کے کسی بھی حصہ میں کسی کو اس گھر کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے نہ روکو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- جبیر مطعم (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- عبداللہ بن ابی نجیح نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن باباہ سے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں ابن عباس اور ابوذر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- مکہ میں عصر کے بعد اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں : عصر کے بعد اور فجر کے بعد نماز پڑھنے اور طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ١ ؎ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی حدیث ٢ ؎ سے دلیل لی ہے۔ اور بعض کہتے ہیں : اگر کوئی عصر کے بعد طواف کرے تو سورج ڈوبنے تک نماز نہ پڑھے۔ اسی طرح اگر کوئی فجر کے بعد طواف کرے تو سورج نکلنے تک نماز نہ پڑھے۔ ان کی دلیل عمر (رض) کی حدیث ہے کہ انہوں نے فجر کے بعد طواف کیا اور نماز نہیں پڑھی پھر مکہ سے نکل گئے یہاں تک کہ وہ ذی طویٰ میں اترے تو سورج نکل جانے کے بعد نماز پڑھی۔ یہ سفیان ثوری اور مالک بن انس کا قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحج ٥٣ (١٨٩٤) ، سنن النسائی/المواقیت ٤١ (٥٨٦) ، والحج ١٣٧ (٢٩٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٩ (١٢٥٦) ، ( تحفة الأشراف : ٣١٨٧) ، مسند احمد (٤/٨٠، ٨١، ٨٤) ، سنن الدارمی/المناسک ٧٩ (١٩٦٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اور یہی ارجح و اشبہ ہے۔ ٢ ؎ : جو اس باب میں مذکور ہے ، اس کا ماحصل یہ ہے کہ مکہ میں مکروہ اور ممنوع اوقات کا لحاظ نہیں ہے۔ ( خاص کر طواف کے بعد دو رکعتوں کے سلسلے میں ) جب کہ عام جگہوں میں فجر و عصر کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1254) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 868
حدیث نمبر: 868 حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَاباهَ، عَنْجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ، وَصَلَّى أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي ذَرٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جُبَيْرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَاباهَ أَيْضًا، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ بِمَكَّةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا بَأْسَ بِالصَّلَاةِ وَالطَّوَافِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا. وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا طَافَ بَعْدَ الْعَصْرِ لَمْ يُصَلِّ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَكَذَلِكَ إِنْ طَافَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ أَيْضًا لَمْ يُصَلِّ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ عُمَرَ أَنَّهُ طَافَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَلَمْ يُصَلِّ، وَخَرَجَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى نَزَلَ بِذِي طُوًى فَصَلَّى بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.
তাহকীক: