আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০৪ টি
হাদীস নং: ৩৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بکریوں اور اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو ١ ؎ اور اونٹ باندھنے کی جگہ میں نہ پڑھو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف : ١٤٥٦٧) ، وانظر مسند احمد (٢/٤٥١، ٤٩١، ٥٠٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : «صلوا في مرابض الغنم» میں امر اباحت کے لیے ہے یعنی بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنا جائز اور مباح ہے تم اس میں نماز پڑھ سکتے ہو اور «ولا تصلوا في أعطان الإبل» میں نہی تحریمی ہے ، یعنی حرام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (768) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 348
حدیث نمبر: 348 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بکریوں اور اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنا
اس سند سے بھی اسی کے مثل یا اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ہمارے اصحاب کے نزدیک عمل اسی پر ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ٢- ابوحصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق : «أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے غریب ہے، ٣- اسے اسرائیل نے بطریق : «أبي حصين عن أبي صالح عن أبي هريرة» موقوفاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ٤- اس باب میں جابر بن سمرہ، براء، سبرہ بن معبد جہنی، عبداللہ بن مغفل، ابن عمر اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : ١٢٨٤٩) (صحیح) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 349
حدیث نمبر: 349 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ أَوْ بِنَحْوِهِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَالْبَرَاءِ، وَسَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق وَحَدِيثُ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَاسْمُ أَبِي حَصِينٍ: عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بکریوں اور اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنا
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٦٦ (٢٣٤) ، والصلاة ٤٩ (٤٢٩) ، صحیح مسلم/المساجد ١ (٥٢٤) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٩٣) ، مسند احمد (٣/١٢٣، ١٣١، ١٩٤، ٢١٢، ٢٤٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 350
حدیث نمبر: 350 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو التَّيَّاحِ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ: يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری پر نماز پڑھنا خواہ اس کا رخ جدھر بھی ہو
جابر (رض) کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے ایک ضرورت سے بھیجا تو میں ضرورت پوری کر کے آیا تو (دیکھا کہ) آپ اپنی سواری پر مشرق (پورب) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- جابر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی جابر سے مروی ہے، ٢- اس باب میں انس، ابن عمر، ابوسعید، عامر بن ربیعہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی پر بیشتر اہل علم کے نزدیک عمل ہے، ہم ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے، یہ لوگ آدمی کے اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، خواہ اس کا رخ قبلہ کی طرف ہو یا کسی اور طرف ہو۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٢٧٧ (١٢٢٧) ، وراجع أیضا : صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٤٠) ، سنن النسائی/السہو ٦ (١١٩٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٩ (١٠١٨) ، ( تحفة الأشراف : ٢٧٥٠) ، مسند احمد (٣/٣٣٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : واضح رہے کہ یہ جواز صرف سنن و نوافل کے لیے ہے ، نہ کہ فرائض کے لیے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1112) دون السجود صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 351
حدیث نمبر: 351 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا، لَا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا حَيْثُ مَا كَانَ وَجْهُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری کی طرف نماز پڑھنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اونٹ یا اپنی سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی، نیز اپنی سواری پر نماز پڑھتے رہتے چاہے وہ جس طرف متوجہ ہوتی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہی بعض اہل علم کا قول ہے کہ اونٹ کو سترہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٢) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٠٤ (٦٩٢) ، ( تحفة الأشراف : ٧٩٠٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٦ (١٤٥٢) ، وراجع إیضا : صحیح البخاری/الصلاة ٥٠ (٤٣٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : پچھلی حدیث کے حاشیہ میں امام ترمذی نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے ، ایسے میں شرط صرف یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت منہ قبلہ کی طرف کر کے اس کے بعد سواری چاہے جدھر جائے ، لیکن یہ صرف نفل نمازوں میں تھا ، فرض نماز میں سواری سے اتر کر قبلہ رخ ہو کر ہی پڑھتے تھے۔ ٢ ؎ : اور وہ جو گزرا کہ آپ اونٹوں کے باڑے میں نماز نہیں پڑھتے تھے اور اس سے منع فرمایا ، تو باڑے کے اندر معاملہ دوسرا ہے ، اور کہیں راستے میں صرف اونٹ کو بیٹھا کر اس کے سامنے پڑھنے کا معاملہ دوسرا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صفة الصلاة // 55 //، صحيح أبي داود (691 - 1109) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 352
حدیث نمبر: 352 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى بَعِيرِهِ أَوْ رَاحِلَتِهِ وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ مَا تَوَجَّهَتْ بِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِالصَّلَاةِ إِلَى الْبَعِيرِ بَأْسًا أَنْ يَسْتَتِرَ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لئے جماعت کھڑی ہوجائے اور کھانا حاضر ہو تو کھانا پہلے کھایا جائے
انس (رض) سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب شام کا کھانا حاضر ہو، اور نماز کھڑی کردی جائے ١ ؎ تو پہلے کھالو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابن عمر، سلمہ بن اکوع، اور ام سلمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ انہیں میں سے ابوبکر، عمر اور ابن عمر (رض) بھی ہیں، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے کھانا کھائے اگرچہ جماعت چھوٹ جائے۔ ٤- اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ پہلے کھانا کھائے گا جب اسے کھانا خراب ہونے کا اندیشہ ہو، لیکن جس کی طرف صحابہ کرام وغیرہ میں سے بعض اہل علم گئے ہیں، وہ اتباع کے زیادہ لائق ہے، ان لوگوں کا مقصود یہ ہے کہ آدمی ایسی حالت میں نماز میں نہ کھڑا ہو کہ اس کا دل کسی چیز کے سبب مشغول ہو، اور ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ہم نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوتے جب تک ہمارا دل کسی اور چیز میں لگا ہوتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٤٢ (٦٧٢) ، الأطعمة ٥٨ (٥٤٦٣) ، صحیح مسلم/المساجد ٦ (٥٥٧) ، سنن النسائی/الإمامة ٥١ (٨٥٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٤ (٩٣٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٤٨٦) ، مسند احمد ( ٣/١٠٠، ١١٠، ١٦١، ٢٣١، ٢٣٨، ٢٤٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ٥٨ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : بعض لوگوں نے نماز سے مغرب کی نماز مراد لی ہے اور اس میں وارد حکم کو صائم کے لیے خاص مانا ہے ، لیکن مناسب یہی ہے کہ اس حکم کی علّت کے پیش نظر اسے عموم پر محمول کیا جائے ، خواہ دوپہر کا کھانا ہو یا شام کا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (933) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 353
حدیث نمبر: 353 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ وَأُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَابْنُ عُمَرَ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق يَقُولَانِ: يَبْدَأُ بِالْعَشَاءِ وَإِنْ فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ فِي الْجَمَاعَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: يَبْدَأُ بِالْعَشَاءِ إِذَا كَانَ طَعَامًا يَخَافُ فَسَادَهُ وَالَّذِي ذَهَبَ إِلَيْهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ أَشْبَهُ بِالِاتِّبَاعِ، وَإِنَّمَا أَرَادُوا أَنْ لَا يَقُومَ الرَّجُلُ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَلْبُهُ مَشْغُولٌ بِسَبَبِ شَيْءٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَا نَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَفِي أَنْفُسِنَا شَيْءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے لئے جماعت کھڑی ہوجائے اور کھانا حاضر ہو تو کھانا پہلے کھایا جائے
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب شام کا کھانا (تمہارے سامنے) رکھ دیا جائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھاؤ، ابن عمر (رض) شام کا کھانا کھا رہے تھے اور امام کی قرأت سن رہے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ٤٢ (٦٧٣، ٦٧٤) ، صحیح مسلم/المساجد ٦ (٥٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٤ (٩٣٥) ، ( تحفة الأشراف : ٧٨٢٥) ، کذا (٨٢١٢) ، مسند احمد (٢/١٠٣) (صحیح) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 354
حدیث نمبر: 354 وَرُوِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ قَالَ: وَتَعَشَّى ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ يَسْمَعُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونگھتے وقت نماز پڑھنا
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اونگھے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو سو جائے یہاں تک کہ اس سے نیند چلی جائے، اس لیے کہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھے اور اونگھ رہا ہو تو شاید وہ استغفار کرنا چاہتا ہو لیکن اپنے آپ کو گالیاں دے بیٹھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ام المؤمنین عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٥٣ (٢١٢) ، صحیح مسلم/المسافرین ٣١ (٧٨٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٠٨ (١٣١٠) ، سنن النسائی/الطہارة ١١٧ (١٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٤ (١٣٨٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٧٠٨٧) ، مسند احمد (٦/٥٦، ٢٠٢، ٢٠٥، ٢٥٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٧ (١٤٢٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1370) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 355
حدیث نمبر: 355 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ يَنْعَسُ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی کسی کی ملاقات کے لئے جائے وہ ان کی امامت نہ کرے
ابوعطیہ عقیلی کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث (رض) ہماری نماز پڑھنے کی جگہ میں آتے اور حدیث بیان کرتے تھے تو ایک دن نماز کا وقت ہوا تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ آگے بڑھئیے (اور نماز پڑھائیے) ۔ انہوں نے کہا : تمہیں میں سے کوئی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے یہاں تک کہ میں تمہیں بتاؤں کہ میں کیوں نہیں آگے بڑھتا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : جو کسی قوم کی زیارت کو جائے تو ان کی امامت نہ کرے بلکہ ان کی امامت ان ہی میں سے کسی آدمی کو کرنی چاہیئے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ صاحب خانہ زیارت کرنے والے سے زیادہ امامت کا حقدار ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب اسے اجازت دے دی جائے تو اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اسحاق بن راہویہ نے مالک بن حویرث (رض) کی حدیث کے مطابق کہا ہے اور انہوں نے اس مسئلہ میں سختی برتی ہے کہ صاحب خانہ کو کوئی اور نماز نہ پڑھائے اگرچہ صاحب خانہ اسے اجازت دیدے، نیز وہ کہتے ہیں : اسی طرح کا حکم مسجد کے بارے میں بھی ہے کہ وہ جب ان کی زیارت کے لیے آیا ہو انہیں میں سے کسی آدمی کو ان کی نماز پڑھانی چاہیئے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٦٦ (٥٩٦) ، سنن النسائی/الإمامة ٩ (٧٨٨) ، مسند احمد (٣/٤٣٦) ، ( تحفة الأشراف : ١١١٨٦) (صحیح) (مالک بن حویرث کا مذکورہ قصہ صحیح نہیں ہے، صرف متن حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو : تراجع الألبانی ٤٨١) قال الشيخ الألباني : صحيح دون قصة مالک، صحيح أبي داود (609) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 356
حدیث نمبر: 356 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبَانَ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارِ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْأَبِي عَطِيَّةَ، رَجُلٍ مِنْهُمْ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فِي مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا، فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمْ، فَقَالَ: لِيَتَقَدَّمْ بَعْضُكُمْ حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لَا أَتَقَدَّمُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَّهُمْ وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمْ قَالُوا: صَاحِبُ الْمَنْزِلِ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ مِنَ الزَّائِرِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا أَذِنَ لَهُ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ بِهِ، وقَالَ إِسْحَاق: بِحَدِيثِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، وَشَدَّدَ فِي أَنْ لَا يُصَلِّيَ أَحَدٌ بِصَاحِبِ الْمَنْزِلِ، وَإِنْ أَذِنَ لَهُ صَاحِبُ الْمَنْزِلِ، قَالَ: وَكَذَلِكَ فِي الْمَسْجِدِ لَا يُصَلِّي بِهِمْ فِي الْمَسْجِدِ إِذَا زَارَهُمْ يَقُولُ: لِيُصَلِّ بِهِمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا دعا کے لئے اپنے آپ کو مخصوص کرنا مکروہ ہے
ثوبان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کے گھر کے اندر جھانک کر دیکھے جب تک کہ گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ لے لے۔ اگر اس نے (جھانک کر) دیکھا تو گویا وہ اندر داخل ہوگیا۔ اور کوئی لوگوں کی امامت اس طرح نہ کرے کہ ان کو چھوڑ کر دعا کو صرف اپنے لیے خاص کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی، اور نہ کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو اور حال یہ ہو کہ وہ پاخانہ اور پیشاب کو روکے ہوئے ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ثوبان (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢- یہ حدیث معاویہ بن صالح سے بھی مروی ہے، معاویہ نے اس کو بطریق : «سفر بن نسير عن يزيد بن شريح عن أبي أمامة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، نیز یہ حدیث یزید بن شریح ہی کے واسطے سے بطریق : «أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی گئی ہے۔ یزید بن شریح کی حدیث بطریق : «أبي حی المؤذن عن ثوبان» سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور مشہور ہے، ٣- اس باب میں ابوہریرہ اور ابوامامہ (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : الطہارة ٤٣ (٩٠) ، سنن ابن ماجہ/الإمامة ٣١ (٩٢٣) ، ( تحفة الأشراف : ٢٠٨٩) ، مسند احمد (٥/٢٨٠) (ضعیف) (سند میں ” یزید بن شریح “ ضعیف ہیں، مگر اس کے ” ولا يقوم إلى الصلاة و هو حقن “ پیشاب… “ والے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، لکن الجملة الأخيرة منه صحيحة، ابن ماجة (617) ، ضعيف أبي داود (11 و 12) // عندنا برقم (15 / 90 و 16 / 91) ، صحيح سنن ابن ماجة برقم (500) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 357
حدیث نمبر: 357 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ الْحِمْصِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ أَنْ يَنْظُرَ فِي جَوْفِ بَيْتِ امْرِئٍ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ، فَإِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَخَلَ، وَلَا يَؤُمَّ قَوْمًا فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، وَلَا يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَهُوَ حَقِنٌ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ثَوْبَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ السَّفْرِ بْنِ نُسَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَأَنَّ حَدِيثَ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ ثَوْبَانَ فِي هَذَا أَجْوَدُ إِسْنَادًا وَأَشْهَرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ امام جس کو مقتدی ناپسند کریں
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین لوگوں پر لعنت فرمائی ہے : ایک وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔ دوسری وہ عورت جو رات گزارے اور اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، تیسرا وہ جو «حي علی الفلاح» سنے اور اس کا جواب نہ دے (یعنی جماعت میں حاضر نہ ہو) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- انس (رض) کی یہ حدیث صحیح نہیں ہے کیونکہ حقیقت میں یہ حدیث حسن (بصریٰ ) سے بغیر کسی واسطے کے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً مروی ہے، ٢- محمد بن قاسم کے سلسلہ میں احمد بن حنبل نے کلام کیا ہے، انہوں نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ اور یہ کہ وہ حافظ نہیں ہیں ١ ؎، ٣- اس باب میں ابن عباس، طلحہ، عبداللہ بن عمرو اور ابوامامہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- بعض اہل علم کے یہاں یہ مکروہ ہے کہ آدمی لوگوں کی امامت کرے اور وہ اسے ناپسند کرتے ہوں اور جب امام ظالم (قصوروار) نہ ہو تو گناہ اسی پر ہوگا جو ناپسند کرے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اس سلسلہ میں یہ کہنا ہے کہ جب ایک یا دو یا تین لوگ ناپسند کریں تو اس کے انہیں نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں، الا یہ کہ لوگوں کی اکثریت اسے ناپسند کرتی ہو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٢٨) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن القاسم کی علماء نے تکذیب کی ہے، اس لیے اس کی سند سخت ضعیف ہے، لیکن اس کے پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجود ہیں، دیکھیے اگلی دونوں حدیثیں) وضاحت : ١ ؎ : اس عبارت کا ماحصل یہ ہے کہ اس کا موصول ہونا صحیح نہیں ہے اس لیے محمد بن قاسم اسے موصول روایت کرنے میں منفرد ہیں اور وہ ضعیف ہیں اس لیے صحیح یہی ہے کہ یہ مرسل ہے ، اور مرسل ضعیف ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد جدا صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 358
حدیث نمبر: 358 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ دَلْهَمٍ، عَنْالْحَسَنِ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةً: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ، وَرَجُلٌ سَمِعَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ثُمَّ لَمْ يُجِبْ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَطَلْحَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ لَا يَصِحُّ لِأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ تَكَلَّمَ فِيهِ، أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَضَعَّفَهُ وَلَيْسَ بِالْحَافِظِ، وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَؤُمَّ الرَّجُلُ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، فَإِذَا كَانَ الْإِمَامُ غَيْرَ ظَالِمٍ، فَإِنَّمَا الْإِثْمُ عَلَى مَنْ كَرِهَهُ، وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق فِي هَذَا: إِذَا كَرِهَ وَاحِدٌ أَوِ اثْنَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ بِهِمْ حَتَّى يَكْرَهَهُ أَكْثَرُ الْقَوْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ امام جس کو مقتدی ناپسند کریں
عمرو بن حارث بن مصطلق کہتے ہیں : کہا جاتا تھا کہ قیامت کے روز سب سے سخت عذاب دو طرح کے لوگوں کو ہوگا : ایک اس عورت کو جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرے، دوسرے اس امام کو جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں۔ منصور کہتے ہیں کہ ہم نے امام کے معاملے میں پوچھا تو ہمیں بتایا گیا کہ اس سے مراد ظالم ائمہ ہیں، لیکن جو امام سنت قائم کرے تو گناہ اس پر ہوگا جو اسے ناپسند کرے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٧١٤) (صحیح الإسناد) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 359
حدیث نمبر: 359 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ اثْنَانِ، امْرَأَةٌ عَصَتْ زَوْجَهَا، وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ . قَالَ هَنَّادٌ، قَالَ جَرِيرٌ، قَالَ: مَنْصُورٌ: فَسَأَلْنَا عَنْ أَمْرِ الْإِمَامِ، فَقِيلَ لَنَا: إِنَّمَا عَنَى بِهَذَا أَئِمَّةً ظَلَمَةً فَأَمَّا مَنْ أَقَامَ السُّنَّةَ فَإِنَّمَا الْإِثْمُ عَلَى مَنْ كَرِهَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وہ امام جس کو مقتدی ناپسند کریں
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ( ﷺ ) نے فرمایا : تین لوگوں کی نماز ان کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی : ایک بھگوڑے غلام کی جب تک کہ وہ (اپنے مالک کے پاس) لوٹ نہ آئے، دوسرے عورت کی جو رات گزارے اور اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، تیسرے اس امام کی جسے لوگ ناپسند کرتے ہوں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٩٣٧) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (1122) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 360
حدیث نمبر: 360 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ: الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ، وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ، وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو غَالِبٍ اسْمُهُ: حَزَوَّرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پرھو
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھوڑے سے گرپڑے، آپ کو خراش آ گئی ١ ؎ تو آپ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر آپ نے ہماری طرف پلٹ کر فرمایا : امام ہوتا ہی اس لیے ہے یا امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ «الله أكبر» کہے تو تم بھی «الله أكبر» کہو، اور جب وہ رکوع کرے، تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لک الحمد» کہو، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- انس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، جابر، ابن عمر اور معاویہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض صحابہ کرام جن میں میں جابر بن عبداللہ، اسید بن حضیر اور ابوہریرہ (رض) وغیرہ ہیں اسی حدیث کی طرف گئے ہیں اور یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے، ٤- بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب امام بیٹھ کر پڑھے تو مقتدی کھڑے ہو کر ہی پڑھیں، اگر انہوں نے بیٹھ کر پڑھی تو یہ نماز انہیں کافی نہ ہوگی، یہ سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٨) ، والأذان ٥١ (٦٨٩) ، و ٨٢ (٨٣٢) ، و ١٢٨ (٨٠٥) ، وتقصیر الصلاة ١٧ (١١١٤) ، صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١١) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٦٩ (٦٠١) ، سنن النسائی/الإمامة ١٦ (٧٩٥) ، و ٤٠ (٨٣٣) ، والتطبیق ٢٢ (١٠٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٤ (١٢٣٨) ، ( تحفة الأشراف : ٥١٢٣) ، وکذا (١٥٢٩) ، موطا امام مالک/الجماعة ٥ (١٦) ، مسند احمد (٣/١١٠، ١٦٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی دائیں پہلو کی جلد چھل گئی جس کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مشکل اور دشوار ہوگیا۔ ٢ ؎ : اور یہی راجح قول ہے ، اس حدیث میں مذکور واقعہ پہلے کا ہے ، اس کے بعد مرض الموت میں آپ ﷺ نے بیٹھ کر امامت کی تو ابوبکر اور صحابہ (رض) نے کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھی ، اس لیے بیٹھ کر اقتداء کرنے کی بات منسوخ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1238) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 361
حدیث نمبر: 361 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسٍ، فَجُحِشَ، فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُودًا ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: إِنَّمَا الْإِمَامُ أَوْ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ وَمُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ عَنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ . حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، مِنْهُمْ جَابِر بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَغَيْرُهُمْ، وَبِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ جَالِسًا لَمْ يُصَلِّ مَنْ خَلْفَهُ إِلَّا قِيَامًا، فَإِنْ صَلَّوْا قُعُودًا لَمْ تُجْزِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ: سفيان الثوري، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسی سے متعلق
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی ابوبکر کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اور عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو ، اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی بیماری میں نکلے اور ابوبکر (رض) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے تو آپ نے ابوبکر (رض) کے پہلو میں نماز پڑھی، لوگ ابوبکر (رض) کی اقتداء کر رہے تھے اور ابوبکر (رض) نبی اکرم ﷺ کی اقتداء کر رہے تھے۔ اور انہی سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر (رض) کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ اور انس بن مالک سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر (رض) کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الإمامة ٨ (٧٨٧) ، ولیس عندہ ” قاعداً “ ( تحفة الأشراف : ١٧٦١٢) ، مسند احمد (٦/١٥٩) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1232) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 362
حدیث نمبر: 362 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَاعِدًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا وَرُوِيَ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي مَرَضِهِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَصَلَّى إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ، وَأَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَرُوِيَ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَاعِدًا . وَرُوِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ قَاعِدٌ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسی سے متعلق
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری میں ابوبکر (رض) کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی اور آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب نے بھی حمید سے، اور حمید نے ثابت سے اور ثابت نے انس (رض) سے روایت کیا ہے، ٣- نیز اسے اور بھی کئی لوگوں نے حمید سے اور حمید نے انس (رض) سے روایت کیا ہے، اور ان لوگوں نے اس میں ثابت کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، لیکن جس نے ثابت کے واسطے کا ذکر کیا ہے، وہ زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد المؤلف ( تحفة الأشراف : ٣٩٧) ، وانظر مسند احمد (٣/١٥٩، ٢١٦، ٢٤٣) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 363
حدیث نمبر: 363 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ قَاعِدًا فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَهَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ، عَنْ ثَابِتٍ، وَمَنْ ذَكَرَ فِيهِ عَنْ ثَابِتٍ فَهُوَ أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو رکعتوں کے بعد امام کا بھول کر کھڑے ہو جانا
عامر بن شراخیل شعبی کہتے ہیں : ہمیں مغیرہ بن شعبہ (رض) نے نماز پڑھائی، دو رکعت کے بعد (بیٹھنے کے بجائے) وہ کھڑے ہوگئے، تو لوگوں نے انہیں «سبحان الله» کہہ کر یاد دلایا کہ وہ بیٹھ جائیں تو انہوں نے «سبحان الله» کہہ کر انہیں اشارہ کیا کہ وہ لوگ کھڑے ہوجائیں، پھر جب انہوں نے اپنی بقیہ نماز پڑھ لی تو سلام پھیرا پھر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کئے۔ پھر لوگوں سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا جیسے انہوں نے (مغیرہ نے) کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- مغیرہ بن شعبہ (رض) کی حدیث ان سے کئی اور بھی سندوں سے مروی ہے، ٢- بعض اہل علم نے ابن ابی لیلیٰ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔ احمد کہتے ہیں : ابن ابی لیلیٰ کی حدیث لائق استدلال ہیں، ٣۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابن ابی لیلیٰ صدوق (سچے) ہیں لیکن میں ان سے روایت نہیں کرتا اس لیے کہ یہ نہیں معلوم کہ ان کی حدیثیں کون سی صحیح ہیں اور کون سی ضعیف ہیں، اور جو بھی ایسا ہو میں اس سے روایت نہیں کرتا، ٤- یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ (رض) سے اور بھی سندوں سے مروی ہے، ٥- اسے سفیان نے بطریق : «جابر عن المغيرة بن شبيل عن قيس بن أبي حازم عن المغيرة بن شعبة» روایت کیا ہے۔ اور جابر جعفی کو بعض اہل علم نے ضعیف قرار دیا ہے، یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہ نے ان سے حدیثیں نہیں لی ہیں، ٦- اس باب میں عقبہ بن عامر، سعد اور عبداللہ بن بحینہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٧- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ آدمی جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑا ہوجائے تو اپنی نماز جاری رکھے اور (اخیر میں) دو سجدے کرلے، ٨- ان میں سے بعض کا خیال ہے کہ سجدے سلام پھیرنے سے پہلے کرے اور بعض کا خیال ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد کرے۔ ٩- جس کا خیال ہے کہ سلام پھیر نے سے پہلے کرے اس کی حدیث زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ اسے زہری اور یحییٰ بن سعید انصاری نے عبدالرحمٰن بن اعرج سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ ابن بحینہ (رض) سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة (١٠٣٧) ، ( تحفة الأشراف : ١١٥٠٤) ، مسند احمد (٤/٢٤٧، ٢٥٣، ٢٥٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٦ (١٥٤٢) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح جه (1208) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 364
حدیث نمبر: 364 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَسَبَّحَ بِهِ الْقَوْمُ وَسَبَّحَ بِهِمْ، فَلَمَّا صَلَّى بَقِيَّةَ صَلَاتِهِ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ بِهِمْ مِثْلَ الَّذِي فَعَلَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَسَعْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ابْنِ أَبِي لَيْلَى مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، قَالَ أَحْمَدُ: لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنُ أَبِي لَيْلَى هُوَ صَدُوقٌ وَلَا أَرْوِي عَنْهُ، لِأَنَّهُ لَا يَدْرِي صَحِيحَ حَدِيثِهِ مِنْ سَقِيمِهِ، وَكُلُّ مَنْ كَانَ مِثْلَ هَذَا فَلَا أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، رَوَاهُ سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَجَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، تَرَكَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُمَا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مَضَى فِي صَلَاتِهِ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، مِنْهُمْ مَنْ رَأَى قَبْلَ التَّسْلِيمِ، وَمِنْهُمْ مَنْ رَأَى بَعْدَ التَّسْلِيمِ، وَمَنْ رَأَى قَبْلَ التَّسْلِيمِ فَحَدِيثُهُ أَصَحُّ، لِمَا رَوَى الزُّهْرِيُّ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو رکعتوں کے بعد امام کا بھول کر کھڑے ہو جانا
زیاد بن علاقہ کہتے ہیں کہ ہمیں مغیرہ بن شعبہ (رض) نے نماز پڑھائی، جب دو رکعتیں پڑھ چکے تو (تشہد میں) بغیر بیٹھے کھڑے ہوگئے۔ تو جو لوگ ان کے پیچھے تھے انہوں نے سبحان اللہ کہا، تو انہوں نے انہیں اشارہ کیا کہ تم بھی کھڑے ہوجاؤ پھر جب وہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیرا، اور کہا : ایسے ہی رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث مغیرہ بن شعبہ (رض) کے واسطے سے اور بھی سندوں سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : ١١٥٠) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر الذي قبله (364) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 365
حدیث نمبر: 365 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَلَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَامَ وَلَمْ يَجْلِسْ فَسَبَّحَ بِهِ مَنْ خَلْفَهُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ قُومُوا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَلَّمَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: هَكَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قعدہ اولی کی مقدار
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب پہلی دونوں رکعتوں میں بیٹھتے تو ایسا لگتا گویا آپ گرم پتھر پر بیٹھے ہیں ١ ؎، شعبہ (راوی) کہتے ہیں : پھر سعد نے اپنے دونوں ہونٹوں کو کسی چیز کے ساتھ حرکت دی ٢ ؎ تو میں نے کہا : یہاں تک کہ آپ کھڑے ہوجاتے ؟ تو انہوں نے کہا : یہاں تک کہ آپ کھڑے ہوجاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، مگر ابوعبیدہ کا اپنے باپ سے سماع نہیں ہے، ٢- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ اسی کو پسند کرتے ہیں کہ آدمی پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ کو لمبا نہ کرے اور تشہد سے زیادہ کچھ نہ پڑھے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اس نے تشہد سے زیادہ کوئی چیز پڑھی تو اس پر سہو کے دو سجدے لازم ہوجائیں گے، شعبی وغیرہ سے اسی طرح مروی ہے ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٨٨ (٩٩٥) ، سنن النسائی/التطبیق ١٠٥ (١١٧٧) ، ( تحفة الأشراف : ٩٦٠٩) ، مسند احمد (١/٣٨٦، ٤١٠، ٤٢٨، ٤٦٠) (ضعیف) (ابو عبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود (رض) سے سماع نہیں ہے) وضاحت : ١ ؎ : یعنی بہت جلد اٹھ جاتے۔ ٢ ؎ : یعنی چپکے سے کوئی بات کہی جسے میں سن نہیں سکا۔ ٣ ؎ : ابن مسعود (رض) کا یہ اثر تو سنداً ضعیف ہے ، مگر ابوبکر (رض) سے مروی اثر جو اسی معنی میں ہے صحیح ہے ، اور اسی پر امت کا تعامل ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (915) ، ضعيف أبي داود (177) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 366
حدیث نمبر: 366 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ . قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ حَرَّكَ سَعْدٌ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ، فَأَقُولُ: حَتَّى يَقُومَ، فَيَقُولُ حَتَّى يَقُومَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ أَنْ لَا يُطِيلَ الرَّجُلُ الْقُعُودَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وَلَا يَزِيدَ عَلَى التَّشَهُّدِ شَيْئًا، وَقَالُوا: إِنْ زَادَ عَلَى التَّشَهُّدِ فَعَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ، هَكَذَا رُوِيَ عَنْ الشَّعْبِيِّ وَغَيْرِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں اشارہ کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ صہیب (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام کیا تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، راوی (ابن عمر) کہتے ہیں کہ میرا یہی خیال ہے کہ صہیب نے کہا : آپ نے اپنی انگلی کے اشارے سے جواب دیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- صہیب کی حدیث حسن ہے ٢ ؎، ٢- اس باب میں بلال، ابوہریرہ، انس، ام المؤمنین عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ١٧٠ (٩٢٥) ، سنن النسائی/السہو ٦ (١١٧٨) ، ( تحفة الأشراف : ٤٩٦٦) ، مسند احمد (٤/٣٣٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ٩٤ (١٤٠١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز میں سلام کا جواب اشارہ سے دینا مشروع ہے ، یہی جمہور کی رائے ہے ، بعض لوگ اسے ممنوع کہتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ پہلے جائز تھا بعد میں منسوخ ہوگیا ، لیکن یہ صحیح نہیں ، بلکہ صحیح یہ ہے کہ پہلے نماز میں کلام کرنا جائز تھا تو لوگ سلام کا جواب بھی وعلیکم السلام کہہ کردیتے تھے ، پھر جب نماز میں کلام کرنا ناجائز قرار دے دیا گیا تو وعلیکم السلام کہہ کر سلام کا جواب دینا بھی ناجائز ہوگیا اور اس کے بدلے اشارے سے سلام کا جواب دینا مشروع ہوا ، اس اشارے کی نوعیت کے سلسلہ میں احادیث مختلف ہیں ، بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا اس طرح کہ ہاتھ کی پشت اوپر تھی اور ہتھیلی نیچے تھی ، اور بعض احادیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے سر سے اشارہ کیا ان سب سے معلوم ہوا کہ یہ تینوں صورتیں جائز ہیں۔ ٢ ؎ : اگلی حدیث نمبر ٣٦٨ کے تحت مولف نے اس حدیث پر حکم لگایا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (858) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 367
حدیث نمبر: 367 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَابِلٍ صَاحِبِ الْعَبَاءِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً، وَقَالَ: لَا أَعْلَمُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِشَارَةً بِإِصْبَعِهِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ بِلَالٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَعَائِشَةَ.
তাহকীক: