আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

طلاق کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯১ টি

হাদীস নং: ৩৭১২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، ابی بکربن ابی جہم بن صخیر عدوی، حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ اس کے خاوند نے اسے تین طلاق دے دیں اور رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے نہ مکان تجویز کیا نہ نفقہ۔ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا تم جب اپنی عدت پوری کر چکو تو مجھے اطلاع دینا میں نے آپ ﷺ کو اطلاع دی کہ معاویہ اور ابوجہم اور اسامہ بن زید (رض) نے مجھے پیغام نکاح بھیجے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معاویہ تو غریب مفلس آدمی ہے کہ اس کے پاس مال نہیں ہے اور ابوجہم عورتوں کو بہت مارنے والا آدمی ہے لیکن اسامہ بہتر ہے تو فاطمہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا اسامہ ؟ اسامہ ؟ یعنی انکار کیا اور آپ ﷺ نے اسے فرمایا اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں تیرے لئے بہتری ہے میں نے اس سے شادی کرلی تو مجھ پر رشک کیا جانے لگا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُولُ إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُکْنَی وَلَا نَفَقَةً قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي فَآذَنْتُهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمٍ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَائِ وَلَکِنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَکَذَا أُسَامَةُ أُسَامَةُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَکِ قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُهُ فَاغْتَبَطْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
اسحاق بن منصور، عبدالرحمن، سفیان، ابی بکر بن ابی جہم، حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے میری طرف عیاش بن ابی ربیعہ کو طلاق دے کر بھیجا جبکہ اس کے ساتھ پانچ صاع کھجور اور پانچ صاع جَو بھی بھیجے میں نے کہا کیا میرے لئے اس کے علاوہ کوئی نفقہ نہیں ہے اور کیا میں عدت بھی تمہارے گھر نہ گزاروں گی ؟ اس نے کہا نہیں۔ کہتی ہیں میں نے اپنے کپڑے پہنے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ ﷺ نے فرمایا اس نے تجھے کتنی طلاقیں دیں میں نے کہا تین آپ ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا تیرا نفقہ نہیں ہے اور تو اپنی عدت اپنے چچا کے بیٹے ابن ام مکتوم کے پاس پوری کر وہ نابینا ہیں تو اپنے کپڑے اس کے ہاں اتار سکتی ہے پس جب تیری عدت پوری ہوجائے تو مجھے اطلاع کرنا پس مجھے پیغام نکاح دئیے گئے اور ان میں معاویہ اور ابوجہم بھی تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ معاویہ غریب اور کمزور حالات والے ہیں اور ابوجہم کی طرف سے عورت پر سختی ہوتی ہے یا عورتوں کو مارتا ہے یا اسی طرح فرمایا لیکن تم اسامہ بن زید کو اختیار (نکاح) کرلو۔
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُولُ أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلَاقِي وَأَرْسَلَ مَعَهُ بِخَمْسَةِ آصُعِ تَمْرٍ وَخَمْسَةِ آصُعِ شَعِيرٍ فَقُلْتُ أَمَا لِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا وَلَا أَعْتَدُّ فِي مَنْزِلِکُمْ قَالَ لَا قَالَتْ فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي وَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کَمْ طَلَّقَکِ قُلْتُ ثَلَاثًا قَالَ صَدَقَ لَيْسَ لَکِ نَفَقَةٌ اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّکِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ تُلْقِي ثَوْبَکِ عِنْدَهُ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُکِ فَآذِنِينِي قَالَتْ فَخَطَبَنِي خُطَّابٌ مِنْهُمْ مُعَاوِيَةُ وَأَبُو الْجَهْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مُعَاوِيَةَ تَرِبٌ خَفِيفُ الْحَالِ وَأَبُو الْجَهْمِ مِنْهُ شِدَّةٌ عَلَی النِّسَائِ أَوْ يَضْرِبُ النِّسَائَ أَوْ نَحْوَ هَذَا وَلَکِنْ عَلَيْکِ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
اسحاق بن منصور، ابوعاصم، سفیان ثوری، حضرت ابوبکر بن ابوجہم سے روایت ہے کہ میں اور ابا سلمہ بن عبدالرحمن فاطمہ بنت قیس کے پاس گئے اور ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں ابوعمر بن حفص بن مغیرہ کے پاس تھی وہ غزوہ نجران میں نکلے باقی حدیث گزر چکی اس میں یہ زیادتی ہے کہ میں نے اسامہ (رض) سے شادی کرلی تو اللہ نے مجھے ابوزید کی وجہ سے معزز بنایا اور اللہ نے مجھے ابوزید کی وجہ سے مکرم بنایا۔
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَی فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْنَاهَا فَقَالَتْ کُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَخَرَجَ فِي غَزْوَةِ نَجْرَانَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَزَادَ قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُهُ فَشَرَّفَنِي اللَّهُ بِأَبِي زَيْدٍ وَکَرَّمَنِي اللَّهُ بِأَبِي زَيْدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حضرت ابوبکر، فاطمہ بنت قیس، ابن زبیر سے روایت ہے کہ میں اور ابوسلمہ ابن زبیر (رض) کے زمانہ خلافت میں فاطمہ بنت قیس کے پاس آئے اس نے ہمیں بیان کیا کہ اس کے شوہر نے اسے قطعی طلاق دے دی تھی حدیث مبارکہ حدیث سفیان کی طرح ہے۔
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَلَمَةَ عَلَی فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ زَمَنَ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا طَلَاقًا بَاتًّا بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
حسن بن علی حلوائی، یحییٰ بن آدم، حسن بن صالح، حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاق دے دیں اور رسول اللہ ﷺ نے میرے لئے مکان اور نفقہ کو لازم قرار نہ دیا۔
و حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ الْبَهِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَلَمْ يَجْعَلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُکْنَی وَلَا نَفَقَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
ابوکریب، ابواسامہ، حضرت ہشام سے روایت ہے کہ مجھے میرے باپ نے حدیث بیان کی کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی سے نکاح کیا پھر اسے طلاق دی تو اسے اپنے پاس سے نکال دیا تو عروہ نے ان لوگوں پر عیب لگایا جنہوں نے اس پر رضا مندی ظاہر کی انہوں نے کہا فاطمہ کو بھی نکال دیا تھا عروہ نے کہا میں عائشہ (رض) کے پاس آیا اور آپ کو اس بات کی خبر دی تو انہوں نے کہا کہ فاطمہ بنت قیس (رض) کے لئے بھلائی نہیں کہ وہ اس حدیث کو ذکر کرے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ تَزَوَّجَ يَحْيَی بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَکَمِ فَطَلَّقَهَا فَأَخْرَجَهَا مِنْ عِنْدِهِ فَعَابَ ذَلِکَ عَلَيْهِمْ عُرْوَةُ فَقَالُوا إِنَّ فَاطِمَةَ قَدْ خَرَجَتْ قَالَ عُرْوَةُ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِکَ فَقَالَتْ مَا لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ خَيْرٌ فِي أَنْ تَذْکُرَ هَذَا الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
محمد بن مثنی، حفص بن غیاث، ہشام، حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور میں ڈرتی ہوں کہ مجھ پر سختی کی جائے تو آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ دوسری جگہ چلی جائے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوْجِي طَلَّقَنِي ثَلَاثًا وَأَخَافُ أَنْ يُقْتَحَمَ عَلَيَّ قَالَ فَأَمَرَهَا فَتَحَوَّلَتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭১৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالرحمن بن قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ فاطمہ کے لئے بھلائی نہیں ہے کہ وہ یہ ذکر کرتی یعنی اس کا قول ( قَوْلَهَا لَا سُکْنَی وَلَا نَفَقَةَ ) نہ رہائش اور نہ خرچہ۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا لِفَاطِمَةَ خَيْرٌ أَنْ تَذْکُرَ هَذَا قَالَ تَعْنِي قَوْلَهَا لَا سُکْنَی وَلَا نَفَقَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
اسحاق بن منصور، عبدالرحمن، سفیان، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عروہ بن زبیر (رض) ، عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ اس نے سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے کہا کیا آپ نے فلانہ بنت حکم کو نہیں دیکھا کہ اس کے خاوند نے اسے قطعی طلاق دے دی تو وہ نکل گئی تو سیدہ نے کہا اس نے کیا برا کیا ؟ تو عروہ نے کہا کیا فاطمہ کا قول نہیں سنتیں تو سیدہ نے کہا کہ اس کے لئے اس بات کو ذکر کرنے میں کوئی خیر و خوبی نہیں ہے۔
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ أَلَمْ تَرَيْ إِلَی فُلَانَةَ بِنْتِ الْحَکَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ بِئْسَمَا صَنَعَتْ فَقَالَ أَلَمْ تَسْمَعِي إِلَی قَوْلِ فَاطِمَةَ فَقَالَتْ أَمَا إِنَّهُ لَا خَيْرَ لَهَا فِي ذِکْرِ ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ اور متوفی عنہا زوجہا کا دوران عدت دن کے وقت اپنی ضرورت وحاجت میں باہر نکلنے کے جواز کے بیان میں
محمد بن حاتم بن میمون، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی اس نے اپنی کھجوروں کو کاٹنا چاہا تو اسے ایک آدمی نے ڈانٹ دیا کہ وہ نکل جائے وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیوں نہیں تو اپنی کھجور کاٹ کیونکہ قریب ہے کہ تو صدقہ یا اور کوئی نیکی کا کام کرے گی۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَلَی فَجُدِّي نَخْلَکِ فَإِنَّکِ عَسَی أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے علاوہ مطلقہ عورت کی عدت وضع حمل سے پوری ہوجانے کے بیان میں
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ اس کے باپ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کے پاس لکھا اور انہیں حکم دیا کہ وہ سبیعہ بنت حارث کے پاس جائے اور اس سے اس کی مروی حدیث کے بارے میں پوچھے اور اس کے بارے میں پوچھو جو اس کے فتویٰ طلب کرنے کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا تو عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو لکھا اور اسے اس کی خبر دی کہ سبیعہ نے اسے خبر دی ہے کہ وہ سعد بن خولہ کے نکاح میں تھی جو نبی عامر بن لوئی میں سے تھے اور جنگ بدر میں شریک ہوئے اور ان کی وفات حجۃ الوداع میں ہوگئی اور وہ حاملہ تھی پس اس کی وفات کے تھوڑے ہی دنوں کے بعد وضع حمل ہوگیا پس جب وہ نفاس سے فارغ ہوگئی تو اس نے پیغام نکاح دینے والوں کے لئے بناؤ سنگار کیا تو بنو عبداللہ میں سے ایک آدمی ابوالسنابل بن بعکک اس کے پاس آیا تو اس نے کہا مجھے کیا ہے کہ میں تجھے بناؤ سنگار کئے ہوئے دیکھتا ہوں شاید کہ تو نکاح کی امید رکھتی ہے اللہ کی قسم تو اس وقت تک نکاح نہیں کرسکتی جب تک تجھ پر چار ماہ دس دن نہ گزر جائیں جب اس نے مجھے یہ کہا تو میں نے اپنے کپڑے اپنے اوپر لپیٹے اور شام کے وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے مجھے فتویٰ دیا کہ وضع حمل ہوتے ہی آزاد ہوچکی ہوں اور مجھے نکاح کا حکم دیا اگر میں چاہوں ابن شہاب نے کہا کہ میں وضع حمل ہوتے ہی عورت کے نکاح میں کوئی حرج نہیں خیال کرتا اگرچہ وہ خون نفاس میں مبتلا ہو لیکن جب تک خون نفاس سے پاک نہ ہوجائے شوہر اس سے صحبت نہیں کرسکتا۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَ حَرْمَلَةُ حَدَّثَنَا و قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ أَبَاهُ کَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَی سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا کَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ فِي بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَکَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْکَکٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَقَالَ لَهَا مَا لِي أَرَاکِ مُتَجَمِّلَةً لَعَلَّکِ تَرْجِينَ النِّکَاحَ إِنَّکِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاکِحٍ حَتَّی تَمُرَّ عَلَيْکِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ قَالَتْ سُبَيْعَةُ فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِکَ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِکَ فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي وَأَمَرَنِي بِالتَّزَوُّجِ إِنْ بَدَا لِي قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَلَا أَرَی بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ وَإِنْ کَانَتْ فِي دَمِهَا غَيْرَ أَنْ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّی تَطْهُرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے علاوہ مطلقہ عورت کی عدت وضع حمل سے پوری ہوجانے کے بیان میں
محمد بن مثنی عنبری، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، حضرت سلیمان بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور ابن عباس دونوں ابوہریرہ (رض) کے پاس جمع ہوئے اور وہ دونوں ذکر کر رہے تھے اس عورت کا جسے اس کے شوہر کی وفات کے چند دنوں بعد وضع حمل ہوگیا تھا تو ابن عباس (رض) نے کہا اس کی عدت دونوں سے لمبی ہوگئی اور ابوسلمہ نے کہا وہ حلال یعنی آزاد ہوچکی ہے اور وہ دونوں اس میں جھگڑنے لگے ابوہریرہ (رض) نے کہا میں اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں پھر انہوں نے ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام کریب کو ام سلمہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا وہ ان کے پاس آئے اور انہیں خبر دی کہ ام سلمہ نے کہا ہے سبیعہ اسلمیہ کو اس کے خاوند کی وفات کے چند دنوں کے بعد وضع حمل ہوگیا تھا تو اس نے اس بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ نکاح کرلے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَابْنَ عَبَّاسٍ اجْتَمَعَا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُمَا يَذْکُرَانِ الْمَرْأَةَ تُنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِدَّتُهَا آخِرُ الْأَجَلَيْنِ وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَدْ حَلَّتْ فَجَعَلَا يَتَنَازَعَانِ ذَلِکَ قَالَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ فَبَعَثُوا کُرَيْبًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ ذَلِکَ فَجَائَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ إِنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نُفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ وَإِنَّهَا ذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس عورت کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے علاوہ مطلقہ عورت کی عدت وضع حمل سے پوری ہوجانے کے بیان میں
محمد بن رمح، لیث، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، یزید بن ہارون، یحییٰ بن سعید، لیث اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں لیث نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ انہوں نے یعنی ابوسلمہ ابوہریرہ اور ابن عباس (رض) نے ام سلمہ کی طرف پیغام بھیجا کریب کا نام ذکر نہیں کیا
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ کِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ اللَّيْثَ قَالَ فِي حَدِيثِهِ فَأَرْسَلُوا إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ وَلَمْ يُسَمِّ کُرَيْبًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، حضرت حمید بن نافع، زینب بنت ابی سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت زینب بنت ابی سلمہ (رض) نے ان کو ان تین حدیثوں کی خبر دی انہوں نے فرمایا کہ حضرت زینب (رض) فرماتی ہیں حضرت ام حبیبہ (رض) نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ (رض) کے پاس گئی جس وقت کہ ان کے باپ حضرت ابوسفیان (رض) وفات پا گئے تو حضرت زینب (رض) نے ایک خوشبو منگوائی جس میں زرد رنگ تھا ایک باندی نے وہ زرد رنگ کی خوشبو ان کے رخساروں پر لگائی پھر حضرت زینب (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے اس خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ منبر پر فرما رہے تھے ایسی عورت کے لئے حلال نہیں کہ جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اس کے کہ خاوند کی وفات پر چار ماہ اور دس دن تک سوگ کرسکتی ہے۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ قَالَ قَالَتْ زَيْنَبُ دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
حضرت زینب (رض) فرماتی ہیں پھر میں حضرت زینب بنت جحش کے پاس گئی جس وقت ان کے بھائی وفات پا گئے تو انہوں نے بھی خوشبو منگوا کر لگائی پھر فرمانے لگیں اللہ کی قسم مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ ایسی عورت کے لئے حلال نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اس کے کہ جس کا خاوند وفات پا جائے تو وہ اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن تک سوگ کرسکتی ہے۔
قَالَتْ زَيْنَبُ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَی زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
حضرت زینب (رض) ، ام سلمہ بیان کرتی ہیں میں نے اپنی ماں حضرت ام سلمہ (رض) سے سنا وہ فرماتی ہیں ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میری بیٹی کا خاوند وفات پا گیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے کیا ہم اس کی آنکھوں میں سرمہ ڈال سکتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرمایا نہیں دو یا تین مرتبہ پوچھا گیا ہر مرتبہ آپ ﷺ فرماتے نہیں پھر فرمایا کہ یہ سوگ چار ماہ اور دس دن تک ہے جاہلیت کے زمانہ میں تو تم سال کے گزرنے کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھیں۔
قَالَتْ زَيْنَبُ سَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ اشْتَکَتْ عَيْنُهَا أَفَنَکْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا کُلَّ ذَلِکَ يَقُولُ لَا ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ وَقَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
راوی حمید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زینب (رض) سے پوچھا سال گزرنے کے بعد مینگنی کے پھینکنے کا کیا مطلب ہے تو حضرت زینب (رض) نے فرمایا جب کسی عورت کا خاوند وفات پا جاتا تو وہ ایک تنگ مکان میں چلی جاتی تھی اور خراب کپڑے پہنتی تھی اور خوشبو نہیں لگاتی تھی اور نہ ہی کوئی اور چیز، یہاں تک کہ جب اس طرح ایک سال گزر جاتا تو پھر ایک جانور گدھا یا بکری یا کوئی اور پرندہ وغیرہ اس کے پاس لایا جاتا تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتی بسا اوقات ایسا ہوجاتا تھا کہ جس پر وہ ہاتھ پھیرتی وہ مرجاتا پھر وہ اس مکان سے باہر نکلتی اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینک دیتی پھر اس کے بعد خوشبو وغیرہ یا جو چاہتی استعمال کرتی۔
قَالَ حُمَيْدٌ قُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ کَانَتْ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّی تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَی بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْئٍ إِلَّا مَاتَ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَی بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَائَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭২৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت حمید بن نافع (رض) سے روایت ہے میں نے حضرت زینب (رض) بنت ام سلمہ (رض) سے سنا وہ فرماتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ (رض) کا کوئی رشتہ دار فوت ہوگیا تو انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگوا کر اپنی کلائیوں پر لگائی اور کہنے لگیں کہ میں یہ اس وجہ سے کر رہی ہوں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے کہ کسی عورت کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے خاوند کے کہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ حَمِيمٌ لِأُمِّ حَبِيبَةَ فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْهُ بِذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ إِنَّمَا أَصْنَعُ هَذَا لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
حضرت زینب (رض) نے اس حدیث کو اپنی والدہ سے روایت کر کے بیان کیا یا حضرت زینب (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ نے یا نبی ﷺ کی ازواج مطہرات (رض) میں سے کسی عورت سے روایت کیا۔
وَحَدَّثَتْهُ زَيْنَبُ عَنْ أُمِّهَا وَعَنْ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৩১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت حمید بن نافع (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت زینب بنت ام سلمہ (رض) سے سنا وہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند وفات پا گیا لوگوں کو اس کی آنکھوں کی تکلیف کا خوف ہوا تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئے اور آنکھوں میں سرمہ ڈالنے کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم عورتوں میں سے پہلے جس کسی کا خاوند فوت ہوجاتا تھا تو وہ اپنے گھر کے برے حصہ میں چادر پہنے چلی جاتی تھی یا وہ بری چادر پہنے ایک سال تک اس گھر میں رہتی تھی اور جب ایک سال بعد کوئی کتا گزرتا تو اس پر مینگنی پھینک کر باہر نکلتی تھی تو اب تم کیا چار مہینے دس دن تک بھی نہیں ٹھہر سکتی ؟
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَی عَيْنِهَا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْکُحْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ تَکُونُ فِي شَرِّ بَيْتِهَا فِي أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي بَيْتِهَا حَوْلًا فَإِذَا مَرَّ کَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ فَخَرَجَتْ أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
tahqiq

তাহকীক: