আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
طلاق کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯১ টি
হাদীস নং: ৩৬৯২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایلاء اور عورتوں سے جدا ہونے اور انہیں اختیار دینے اور اللہ کے قول ان تظاہرا علیہ کے بیان میں
ہارون بن سعید ایلی، عبداللہ بن وہب، سلیمان ابن بلال، یحیی، عبید بن حنین، ابن عباس، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں ایک سال تک ارادہ کرتا رہا کہ میں عمر بن خطاب سے اس آیت کے بارے میں پوچھوں لیکن ان کے رعب کی وجہ سے پوچھنے کی طاقت نہ رکھتا تھا جب ہم لوٹے تو کسی راستہ میں وہ ایک بار پیلو کے درختوں کی طرف قضائے حاجت کے لئے جھکے اور میں ان کے لئے ٹھہر گیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہوئے پھر میں ان کے ساتھ چلا تو میں نے کہا اے امیر المومنین ! آپ ﷺ کی ازواج میں سے کون ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ پر زور ڈالا تو انہوں نے کہا وہ حفصہ اور عائشہ تھیں میں نے ان سے کہا اللہ کی قسم اگر میں چاہتا تو آپ سے اس بارے میں ایک سال پہلے پوچھ لیتا لیکن آپ کے رعب کی وجہ سے ہمت نہ رکھتا تھا انہوں نے کہا ایسا نہ کرو جو تجھے اندازہ ہو کہ اس کا علم میرے پاس ہے تو اس بارے میں مجھ سے پوچھ لیا کرو اگر میں اسے جانتا ہوا تو تجھے خبر دے دوں گا اور عمر (رض) نے کہا اللہ کی قسم ! جب ہم جاہلیت میں تھے تو عورتوں کے بارے میں کسی امر کو شمار نہ کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے ان کے بارے میں اپنے احکام نازل فرمائے اور ان کے لئے باری مقرر کی جو مقرر کی چناچہ ایک دن میں کسی کام میں مشورہ کر رہا تھا میری بیوی نے مجھے کہا اگر آپ اس طرح کرلیتے میں نے اس سے کہا تجھے میرے کام میں کیا ہے اور یہاں کہاں ؟ اور میں جس کام کا ارادہ کرتا ہوں تجھ پر اس کا بوجھ نہیں ڈالتا اس نے کہا اے ابن خطاب ! تعجب ہے آپ پر آپ نہیں چاہتے کہ آپ کو کوئی جواب دیا جائے حالانکہ آپ کی بیٹی رسول اللہ ﷺ کو جواب دیتی ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا پورا دن غصہ کی حالت میں گزرتا ہے عمر (رض) نے کہا پھر میں نے اپنی چادر لی اور میں اپنے گھر سے نکلا یہاں تک کہ حفصہ کے پاس پہنچا تو اس سے کہا اے میری بیٹی کیا تو رسول اللہ ﷺ کو جواب دیتی ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا دن غصہ میں گزرتا ہے حفصہ نے کہا اللہ کی قسم میں آپ ﷺ کو جواب دیتی ہوں میں نے کہا جان لے کہ میں تجھے اللہ کے عذاب سے ڈراتا ہوں اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے غصہ سے اے میری بیٹی تجھے اس بیوی کا حسن اور رسول اللہ ﷺ کی محبت دھوکے میں نہ ڈالے پھر میں نکلا یہاں تک کہ ام سلمہ کے پاس اپنی رشتہ داری کی وجہ سے گیا میں نے اس سے گفتگو کی تو انہوں نے مجھے کہا اے ابن خطاب تجھ پر تعجب ہے کہ تم ہر معاملہ میں دخل اندازی کرتے ہو یہاں تک چاہتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج کے معاملہ میں بھی دخل دوں مجھے ان کی اس بات سے اس قدر دکھ ہوا کہ مجھے اس غم نے اس نصیحت سے بھی روک دیا جو میں انہیں چاہتا تھا میں ان کے پاس سے نکلا اور میرے ساتھ ایک انصاری رفیق تھا جب میں آپ ﷺ کی مجلس سے غائب ہوتا تو وہ میرے پاس خبر لاتا اور جب وہ غائب ہوتا تو میں اسے خبر پہنچاتا اور ان دنوں ہم شاہاں غسان میں سے ایک بادشاہ کے حملے سے ڈرتے تھے ہمیں ذکر کیا گیا کہ وہ ہماری طرف چلنے والا ہے تحقیق ہمارے سینے اس کے خوف سے بھرے ہوئے تھے کہ میرے انصاری ساتھی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کھولو تو میں نے کہا کیا غسانی آگیا ؟ اس نے کہا اس سے سخت معاملہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں سے علیحدہ ہوگئے ہیں میں نے کہا حفصہ اور عائشہ کی ناک خاک آلود ہو پھر میں نے اپنا کپڑا لیا باہر نکلا اور نبی ﷺ کے پاس آیا تو رسول اللہ ﷺ اپنے بالا خانہ میں تشریف فرما تھے اور اس پر ایک کھجور کی جڑ کے ذریعے چڑھتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کا ایک سیاہ فام غلام اس کے کنارے پر تھا میں نے کہا یہ عمر ہے میرے لئے اجازت لو حضرت عمر نے رسول اللہ ﷺ سے سارا واقعہ بیان کیا جب میں ام سلمہ (رض) کی بات پر پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے تبسم فرمایا اور آپ ﷺ ایک چٹائی پر تھے آپ ﷺ کے سر مبارک کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جو کھجور کے چھلکے سے بھرا ہوا تھا اور آپ ﷺ کے پاؤں کے پاس سلم جس سے چمڑے کو رنگا جاتا ہے کے پتے تھے اور آپ ﷺ کی سر کی طرف ایک کچا چمڑا لٹکا ہوا تھا میں نے رسول اللہ ﷺ کے پہلو پر چٹائی کے نشان دیکھے تو میں رو دیا آپ ﷺ نے فرمایا تجھے کس چیز نے رلا دیا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول قیصر و کسریٰ کیسے عیش و عشرت میں ہیں اور آپ ﷺ تو اللہ کے رسول ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ ان کے لئے دنیا اور تمہارے لئے آخرت ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَی أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ قَالَ مَکَثْتُ سَنَةً وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ آيَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَسْأَلَهُ هَيْبَةً لَهُ حَتَّی خَرَجَ حَاجًّا فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَلَمَّا رَجَعَ فَکُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ إِلَی الْأَرَاکِ لِحَاجَةٍ لَهُ فَوَقَفْتُ لَهُ حَتَّی فَرَغَ ثُمَّ سِرْتُ مَعَهُ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَزْوَاجِهِ فَقَالَ تِلْکَ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ وَاللَّهِ إِنْ کُنْتُ لَأُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْ هَذَا مُنْذُ سَنَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ هَيْبَةً لَکَ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ مَا ظَنَنْتَ أَنَّ عِنْدِي مِنْ عِلْمٍ فَسَلْنِي عَنْهُ فَإِنْ کُنْتُ أَعْلَمُهُ أَخْبَرْتُکَ قَالَ وَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ إِنْ کُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَا نَعُدُّ لِلنِّسَائِ أَمْرًا حَتَّی أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فِيهِنَّ مَا أَنْزَلَ وَقَسَمَ لَهُنَّ مَا قَسَمَ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا فِي أَمْرٍ أَأْتَمِرُهُ إِذْ قَالَتْ لِي امْرَأَتِي لَوْ صَنَعْتَ کَذَا وَکَذَا فَقُلْتُ لَهَا وَمَا لَکِ أَنْتِ وَلِمَا هَاهُنَا وَمَا تَکَلُّفُکِ فِي أَمْرٍ أُرِيدُهُ فَقَالَتْ لِي عَجَبًا لَکَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا تُرِيدُ أَنْ تُرَاجَعَ أَنْتَ وَإِنَّ ابْنَتَکَ لَتُرَاجِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ قَالَ عُمَرُ فَآخُذُ رِدَائِي ثُمَّ أَخْرُجُ مَکَانِي حَتَّی أَدْخُلَ عَلَی حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَهَا يَا بُنَيَّةُ إِنَّکِ لَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ فَقَالَتْ حَفْصَةُ وَاللَّهِ إِنَّا لَنُرَاجِعُهُ فَقُلْتُ تَعْلَمِينَ أَنِّي أُحَذِّرُکِ عُقُوبَةَ اللَّهِ وَغَضَبَ رَسُولِهِ يَا بُنَيَّةُ لَا يَغُرَّنَّکِ هَذِهِ الَّتِي قَدْ أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا وَحُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّی أَدْخُلَ عَلَی أُمِّ سَلَمَةَ لِقَرَابَتِي مِنْهَا فَکَلَّمْتُهَا فَقَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ عَجَبًا لَکَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَدْ دَخَلْتَ فِي کُلِّ شَيْئٍ حَتَّی تَبْتَغِيَ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِهِ قَالَ فَأَخَذَتْنِي أَخْذًا کَسَرَتْنِي عَنْ بَعْضِ مَا کُنْتُ أَجِدُ فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهَا وَکَانَ لِي صَاحِبٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِذَا غِبْتُ أَتَانِي بِالْخَبَرِ وَإِذَا غَابَ کُنْتُ أَنَا آتِيهِ بِالْخَبَرِ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ نَتَخَوَّفُ مَلِکًا مِنْ مُلُوکِ غَسَّانَ ذُکِرَ لَنَا أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسِيرَ إِلَيْنَا فَقَدْ امْتَلَأَتْ صُدُورُنَا مِنْهُ فَأَتَی صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَدُقُّ الْبَابَ وَقَالَ افْتَحْ افْتَحْ فَقُلْتُ جَائَ الْغَسَّانِيُّ فَقَالَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِکَ اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ فَقُلْتُ رَغِمَ أَنْفُ حَفْصَةَ وَعَائِشَةَ ثُمَّ آخُذُ ثَوْبِي فَأَخْرُجُ حَتَّی جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ يُرْتَقَی إِلَيْهَا بِعَجَلَةٍ وَغُلَامٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدُ عَلَی رَأْسِ الدَّرَجَةِ فَقُلْتُ هَذَا عُمَرُ فَأُذِنَ لِي قَالَ عُمَرُ فَقَصَصْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمَّا بَلَغْتُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ لَعَلَی حَصِيرٍ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْئٌ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ وَإِنَّ عِنْدَ رِجْلَيْهِ قَرَظًا مَضْبُورًا وَعِنْدَ رَأْسِهِ أُهُبًا مُعَلَّقَةً فَرَأَيْتُ أَثَرَ الْحَصِيرِ فِي جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَکَيْتُ فَقَالَ مَا يُبْکِيکَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ کِسْرَی وَقَيْصَرَ فِيمَا هُمَا فِيهِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ لَهُمَا الدُّنْيَا وَلَکَ الْآخِرَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایلاء اور عورتوں سے جدا ہونے اور انہیں اختیار دینے اور اللہ کے قول ان تظاہرا علیہ کے بیان میں
محمد بن مثنی، عفان، حماد بن سلمہ، یحییٰ بن سعید، عبید بن حنین، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں عمر (رض) کے یہاں آیا یہاں تک کہ جب ہم مرالظہران بستی پر تھے باقی حدیث سلیمان کی حدیث کی طرح گزرچکی اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے کہا وہ دو عورتیں کون تھیں عمر (رض) نے کہا حفصہ اور ام سلمہ اور مزید اضافہ یہ ہے کہ عمر (رض) نے کہا کہ میں حجروں کی طرف آیا تو ہر گھر میں رونا تھا اور مزید اضافہ یہ بھی کہ آپ ﷺ نے ان سے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا قسم کھائی جب انتیس دن مہینہ پورا ہوگیا تو ان کی طرف تشریف لے گئے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ کَنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ شَأْنُ الْمَرْأَتَيْنِ قَالَ حَفْصَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ وَزَادَ فِيهِ وَأَتَيْتُ الْحُجَرَ فَإِذَا فِي کُلِّ بَيْتٍ بُکَائٌ وَزَادَ أَيْضًا وَکَانَ آلَی مِنْهُنَّ شَهْرًا فَلَمَّا کَانَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نَزَلَ إِلَيْهِنَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایلاء اور عورتوں سے جدا ہونے اور انہیں اختیار دینے اور اللہ کے قول ان تظاہرا علیہ کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن سعید، عبید بن حنین، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے میں ارادہ کرتا تھا کہ عمر (رض) سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھوں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں زور ڈالا تھا میں نے ایک سال تک اس کے لئے موقعہ نہ پایا یہاں تک کہ میں نے مکہ کی طرف سفر میں ان کی رفاقت کی جب وہ مرالظہران میں تھے اور اپنی حاجت کے لئے جانے لگے تو کہا مجھے پانی کا برتن دو میں نے وہ دیا جب آپ اپنی ضرورت سے فارغ ہو کر لوٹے تو میں نے پانی ڈالنا شروع کیا اور مجھے یاد آیا تو ان سے کہا اے امیر المومنین ! وہ دو عورتیں کون تھیں میں ابھی اپنی بات پوری بھی نہ کر پایا تھا کہ آپ نے کہا عائشہ اور حفصہ۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ وَهُوَ مَوْلَی الْعَبَّاسِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا کُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنْ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَظَاهَرَتَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَبِثْتُ سَنَةً مَا أَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا حَتَّی صَحِبْتُهُ إِلَی مَکَّةَ فَلَمَّا کَانَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ذَهَبَ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَقَالَ أَدْرِکْنِي بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَائٍ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَلَمَّا قَضَی حَاجَتَهُ وَرَجَعَ ذَهَبْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ وَذَکَرْتُ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ الْمَرْأَتَانِ فَمَا قَضَيْتُ کَلَامِي حَتَّی قَالَ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایلاء اور عورتوں سے جدا ہونے اور انہیں اختیار دینے اور اللہ کے قول ان تظاہرا علیہ کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، محمد بن ابی عمر، اسحاق، عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں ہمیشہ اس بات کا حریص اور خواہش مند رہا کہ حضرت عمر (رض) سے ازواج النبی ﷺ میں سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا اگر تم دونوں رجوع کرلو اللہ کی طرف تو تمہارے دل جھک جائیں گے یہاں تک کہ عمر (رض) نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا ہم جب کسی راستہ میں تھے اور عمر (رض) راستہ سے کنارہ پر ہوئے تو میں بھی برتن لے کر کنارے پر ہوگیا انہوں نے حاجت پوری کی پھر وہ میرے پاس آئے میں نے ان پر پانی ڈالنا شروع کیا تو انہوں نے وضو کیا میں نے کہا اے امیر المومنین ! وہ دو عورتیں نبی کریم ﷺ کی بیویوں میں سے کون تھیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا اگر تم اللہ کی طرف رجوع کرلو تو تمہارے دل جھکے رہیں عمر (رض) نے کہا اے ابن عباس ! تیرے لئے تعجب ہے زہری نے کہا عمر (رض) کا ان کا اس بارے میں پوچھنا ناپسند ہوا اور کیوں لاعلمی میں اسے چھپائے رکھا کہا وہ حفصہ اور عائشہ تھیں پھر حدیث بیان کرنا شروع کی اور کہا ہم قریش کے نوجوان ایسی قوم میں تھے جو عورتوں پر غلبہ رکھتے تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسی قوم پائی کہ انہیں ان کی عورتیں مغلوب رکھتی تھیں ہماری عورتوں نے ان کی عورتوں کی عادات اختیار کرنا شروع کردیں اور میرا گھر مدینہ کی بلندی پر بنی امیہ بن زید میں تھا میں ایک دن اپنی بیوی پر غصے ہوا تو اس نے مجھے جواب دیا میں نے اس کو جواب دینے کو برا جانا اس نے کہا تم میرے جواب دینے کو کیوں برا جانتے ہو اللہ کی قسم ! نبی کریم ﷺ کی بیویاں بھی آپ ﷺ کو جواب دیتی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک آپ ﷺ کو چھوڑ دیتی ہے دن سے رات تک میں چلا اور حفصہ (اپنی بیٹی) کے پاس پہنچا میں نے کہا کیا تو رسول اللہ ﷺ کو جواب دیتی ہے ؟ اس نے کہا ہاں میں نے کہا کیا تم سے کوئی ایک آپ ﷺ کو دن سے رات تک چھوڑے رکھتی ہے ؟ اس نے کہا ہاں میں نے کہا تم میں سے جس نے ایسا کیا وہ محروم اور نقصان اٹھائے گی کیا تم میں سے ہر ایک اس بات سے نہیں ڈرتی کہ اللہ اس پر اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے غصہ کرے جس کی وجہ سے وہ اچانک ہلاک ہوجائے گی تم رسول اللہ ﷺ کو جواب نہ دیا کرو اور نہ آپ ﷺ سے کسی چیز کا سوال کرو اور جو تیری ضرورت ہو وہ مجھ سے مانگ لے اور تجھے تیری ہمسائی دھوکے میں نہ ڈالے وہ تجھ سے زیادہ حسین ہے اور رسول اللہ ﷺ کو زیادہ محبوب ہے یعنی عائشہ اور میرا ایک ہمسایہ انصاری تھا پس ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس باری باری حاضر ہوتے تھے ایک دن وہ آتا اور ایک دن میں وہ میرے پاس وحی وغیرہ کی خبر لاتا میں بھی اسی طرح اس کو خبر دیتا اور ہم گفتگو کرتے تھے کہ غسان کا بادشاہ اپنے گھوڑوں کے پیروں میں نعل لگوا رہا ہے تاکہ وہ ہم سے لڑیں پس میرا ساتھی آپ ﷺ کے پاس گیا پھر عشاء کو میرے پاس آیا اور میرا دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے آواز دی میں اس کی طرف نکلا تو اس نے کہا ایک بڑا واقعہ پیش آیا ہے میں نے کہا کیا بادشاہ غسان آگیا ہے اس نے کہا نہیں اس سے بھی بڑا اور سخت کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے میں کہا بدنصیب ہوئی حفصہ اور گھاٹے میں پڑی اور میں گمان کرتا تھا کہ یہ ہونے والا ہے یہاں تک کہ میں نے صبح کی نماز ادا کی اپنے کپڑے پہنے پھر نیچے کی جانب اترا اور حفصہ کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی میں نے کہا کیا رسول اللہ ﷺ نے تم کو طلاق دے دی ہے اس نے کہا میں نہیں جاتنی آپ ﷺ ہم سے علیحدہ ہو کر اس بالاخانہ میں تشریف فرما ہیں میں آپ ﷺ کے غلام اسود کے پاس آیا میں نے کہا عمر کے لئے اجازت لو وہ اندر داخل ہوا پھر میری طرف آیا اور کہا کہ میں نے آپ ﷺ سے تمہارا ذکر کیا لیکن آپ ﷺ خاموش رہے میں چلا یہاں تک کہ منبر تک پہنچا اور میں بیٹھ گیا اور یہاں پاس ہی کچھ لوگ بیٹھے تھے اور ان میں سے بعض رو رہے تھے میں تھوڑی دیر بیٹھا رہا پھر مجھے اسی خیال کا غلبہ ہوا میں پھر غلام کے پاس آیا اس سے کہا کہ عمر کے لئے اجازت لو وہ داخل ہوا پھر میری طرف نکلا تو کہا میں نے آپ ﷺ سے تمہارا ذکر کیا لیکن آپ ﷺ خاموش رہے میں پیٹھ پھیر کر واپس ہوا کہ غلام نے مجھے پکار کر کہا داخل ہوجائیں آپ کے لئے اجازت دے دی گئی ہے میں نے داخل ہو کر رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا آپ ایک بورئیے کی چٹائی پر تکیہ لگائے ہوئے تھے جس کے نشانات آپ ﷺ کے پہلو پر لگ چکے تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے تو آپ ﷺ نے میری طرف اپنا سر اٹھا کر فرمایا نہیں میں نے کہا اَللَّهُ أَکْبَرُ ! کاش آپ ﷺ ہمیں دیکھتے اے اللہ کے رسول ! کہ قریشی قوم تھی عورتوں کو مغلوب رکھتے تھے جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسی قوم پائی جن پر ان کی عورتیں غالب تھیں ہماری عورتوں نے ان کی عورتوں سے عادات سیکھنا شروع کردیں میں ایک دن اپنی عورت پر غصے ہوا تو اس نے مجھے جواب دینا شروع کردیا میں نے اس کے جواب دینے کو برا محسوس کیا تو اس نے کہا کہ تم میرا جواب دینے کو برا تصور کرتے ہو اللہ کی قسم نبی کریم ﷺ کی بیویاں بھی آپ ﷺ کو جواب دیتی ہیں اور ان میں کوئی ایک دن سے رات تک چھوڑ بھی دیتی ہے تو میں نے کہا بدنصیب ہوئی ان میں سے جس نے ایسا کیا اور نقصان اٹھایا ان میں سے کوئی اللہ کے غضب سے اور رسول اللہ کی ناراضگی سے کیسے بچ سکتی ہے پس وہ ہلاک ہی ہوگئی تو رسول اللہ مسکرائے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں حفصہ کے پاس گیا میں نے کہا تجھے دھوکہ میں نہ ڈالے کہ تیری ہمسائی تجھ سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ ﷺ کی پسندیدہ ہے آپ ﷺ نے دوسری مرتبہ تبسم فرمایا میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں کوئی دل لگانے والی بات کروں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں سر اٹھا کر نظر دوڑائی پھر میں نے گھر میں سر اٹھایا تو اللہ کی قسم میں نے کوئی چیز نہ دیکھی جسے دیکھ کر میری نگاہ پھرتی سوائے تین چمڑوں کے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ سے دعا کریں کہ اللہ آپ ﷺ کی امت پر وسعت کر دے جیسا کہ فارس و روم پر وسعت کی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے پس آپ ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے پھر فرمایا اے ابن خطاب کیا تو شک میں ہے ان لوگوں کی عمدہ چیزیں انہیں دنیا ہی میں دے دی گئی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے لئے مغفرت طلب کریں اور آپ ﷺ نے سخت غصہ کی وجہ سے قسم کھائی کہ ایک مہینہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ پر عتاب فرمایا۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ عَنْ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا حَتَّی حَجَّ عُمَرُ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَلَمَّا کُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ عُمَرُ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِالْإِدَاوَةِ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ أَتَانِي فَسَکَبْتُ عَلَی يَدَيْهِ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا قَالَ عُمَرُ وَاعَجَبًا لَکَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ کَرِهَ وَاللَّهِ مَا سَأَلَهُ عَنْهُ وَلَمْ يَکْتُمْهُ قَالَ هِيَ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ ثُمَّ أَخَذَ يَسُوقُ الْحَدِيثَ قَالَ کُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَائَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ قَالَ وَکَانَ مَنْزِلِي فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ بِالْعَوَالِي فَتَغَضَّبْتُ يَوْمًا عَلَی امْرَأَتِي فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي فَأَنْکَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي فَقَالَتْ مَا تُنْکِرُ أَنْ أُرَاجِعَکَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَی اللَّيْلِ فَانْطَلَقْتُ فَدَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ فَقُلْتُ أَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ نَعَمْ فَقُلْتُ أَتَهْجُرُهُ إِحْدَاکُنَّ الْيَوْمَ إِلَی اللَّيْلِ قَالَتْ نَعَمْ قُلْتُ قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِکَ مِنْکُنَّ وَخَسِرَ أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاکُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَکَتْ لَا تُرَاجِعِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْأَلِيهِ شَيْئًا وَسَلِينِي مَا بَدَا لَکِ وَلَا يَغُرَّنَّکِ أَنْ کَانَتْ جَارَتُکِ هِيَ أَوْسَمَ وَأَحَبَّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْکِ يُرِيدُ عَائِشَةَ قَالَ وَکَانَ لِي جَارٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَکُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا فَيَأْتِينِي بِخَبَرِ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ وَآتِيهِ بِمِثْلِ ذَلِکَ وَکُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا فَنَزَلَ صَاحِبِي ثُمَّ أَتَانِي عِشَائً فَضَرَبَ بَابِي ثُمَّ نَادَانِي فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ قُلْتُ مَاذَا أَجَائَتْ غَسَّانُ قَالَ لَا بَلْ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِکَ وَأَطْوَلُ طَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ فَقُلْتُ قَدْ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ قَدْ کُنْتُ أَظُنُّ هَذَا کَائِنًا حَتَّی إِذَا صَلَّيْتُ الصُّبْحَ شَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي ثُمَّ نَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْکِي فَقُلْتُ أَطَلَّقَکُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَا أَدْرِي هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ فَأَتَيْتُ غُلَامًا لَهُ أَسْوَدَ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ فَقَالَ قَدْ ذَکَرْتُکَ لَهُ فَصَمَتَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّی انْتَهَيْتُ إِلَی الْمِنْبَرِ فَجَلَسْتُ فَإِذَا عِنْدَهُ رَهْطٌ جُلُوسٌ يَبْکِي بَعْضُهُمْ فَجَلَسْتُ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ ثُمَّ أَتَيْتُ الْغُلَامَ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ فَقَالَ قَدْ ذَکَرْتُکَ لَهُ فَصَمَتَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا فَإِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي فَقَالَ ادْخُلْ فَقَدْ أَذِنَ لَکَ فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ مُتَّکِئٌ عَلَی رَمْلِ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقُلْتُ أَطَلَّقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نِسَائَکَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيَّ وَقَالَ لَا فَقُلْتُ اللَّهُ أَکْبَرُ لَوْ رَأَيْتَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَکُنَّا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ قَوْمًا نَغْلِبُ النِّسَائَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَجَدْنَا قَوْمًا تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَتَعَلَّمْنَ مِنْ نِسَائِهِمْ فَتَغَضَّبْتُ عَلَی امْرَأَتِي يَوْمًا فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي فَأَنْکَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي فَقَالَتْ مَا تُنْکِرُ أَنْ أُرَاجِعَکَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ إِلَی اللَّيْلِ فَقُلْتُ قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِکِ مِنْهُنَّ وَخَسِرَ أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هِيَ قَدْ هَلَکَتْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ دَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ فَقُلْتُ لَا يَغُرَّنَّکِ أَنْ کَانَتْ جَارَتُکِ هِيَ أَوْسَمُ مِنْکِ وَأَحَبُّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْکِ فَتَبَسَّمَ أُخْرَی فَقُلْتُ أَسْتَأْنِسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ فَجَلَسْتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فِي الْبَيْتِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ إِلَّا أُهَبًا ثَلَاثَةً فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَی أُمَّتِکَ فَقَدْ وَسَّعَ عَلَی فَارِسَ وَالرُّومِ وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاسْتَوَی جَالِسًا ثُمَّ قَالَ أَفِي شَکٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أُولَئِکَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَقُلْتُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وَکَانَ أَقْسَمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حَتَّی عَاتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایلاء اور عورتوں سے جدا ہونے اور انہیں اختیار دینے اور اللہ کے قول ان تظاہرا علیہ کے بیان میں
زہری، عروہ، عائشہ نے کہا مجھے عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے خبر دی انہوں نے کہا جب انتیس راتیں گزر گئیں تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے بیویوں کو ملنے کا آغاز فرمایا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے ہمارے پاس آنے کی ایک مہینہ کی قسم اٹھائی تھی حالانکہ آپ ﷺ انتیس دن کے بعد ہی تشریف لے آئے ہیں میں انہیں شمار کر رہی ہوں آپ ﷺ نے فرمایا مہینہ کبھی کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے پھر فرمایا اے عائشہ ! میں تجھ سے ایک معاملہ پیش کرنے والا ہوں تجھ پر اس میں جلدی نہ کرنا لازم ہے یہاں تک کہ تو اپنے والدین سے مشورہ کرلے پھر میرے سامنے آیت تلاوت کی ( يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ سے أَجْرًا عَظِيمًا) تک۔ عائشہ (رض) نے کہا تحقیق اللہ کی قسم ! آپ ﷺ جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے کبھی بھی آپ ﷺ سے جدا ہونے کا مشورہ نہ دیں گے میں نے کہا کیا میں اس معاملہ میں اپنے والدین سے مشورہ کروں میں تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور آخرت کے گھر کا ارادہ کرتی ہوں معمر نے کہا مجھے ایوب نے خبر دی کہ عائشہ (رض) نے کہا آپ ﷺ اپنی بیویوں کو اس بات کی خبر نہ دیں کہ میں نے آپ ﷺ کو اختیار کیا ہے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا اللہ نے مجھے مبلغ بنا کر بھیجا ہے تکلیف میں ڈالنے والا بنا کر مبعوث نہیں فرمایا قتادہ نے " صَغَتْ قُلُوبُکُمَا " کا معنی && تمہارے دل جھک رہے ہیں && کیا ہے۔
قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا مَضَی تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّکَ دَخَلْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ أَعُدُّهُنَّ فَقَالَ إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ثُمَّ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاکِرٌ لَکِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْکِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّی تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْکِ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ الْآيَةَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ حَتَّی بَلَغَ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ عَلِمَ وَاللَّهِ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَکُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ فَقُلْتُ أَوَ فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَ مَعْمَرٌ فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَا تُخْبِرْ نِسَائَکَ أَنِّي اخْتَرْتُکَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ أَرْسَلَنِي مُبَلِّغًا وَلَمْ يُرْسِلْنِي مُتَعَنِّتًا قَالَ قَتَادَةُ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا مَالَتْ قُلُوبُکُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، عبداللہ ابن یزید مولیٰ اسود بن سفیان، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ ابوعمر بن حفص نے اسے طلاق بائن دی اور وہ غائب تھے تو اس (ابوعمر) نے اپنے وکیل کو جَو دے کے اس کی طرف بھیجا وہ اس سے ناراض ہوئی اس نے کہا اللہ کی قسم ہمارے اوپر تیری کوئی چیز لازم نہیں ہے وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس پر تیرا نفقہ لازم نہیں ہے اور آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ ام شریک (رض) کے ہاں اپنی عدت پوری کرے پھر فرمایا وہ ایسی عورت ہے جہاں ہمارے صحابہ اکثر جمع ہوتے رہتے ہیں تو ابن ام مکتوم (اپنے چچا کے بیٹے) کے پاس عدت پوری کر کیونکہ وہ نابینا آدمی ہیں وہاں تم اپنے کپڑوں کو اتار سکتی ہو جب تیری عدت پوری ہوجائے تو مجھے خبر دینا کہتی ہیں جب میں نے عدت پوری کرلی تو میں نے آپ ﷺ کو اس کی اطلاع دی کہ معاویہ بن ابوسفیان اور ابوجہم نے مجھے پیغام نکاح دیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابا جہم اپنی لاٹھی کو کندھے سے نہیں اتارتا یعنی سخت مفلس آدمی ہے کہ اس کے پاس مال نہیں اس لئے تو اسامہ بن زید سے نکاح کرلے میں نے اسے ناپسند کیا آپ ﷺ نے فرمایا اسامہ سے نکاح کر میں نے اس سے نکاح کیا تو اللہ نے اس میں ایسی خیر و خوبی عطا کی کہ مجھ پر رشک کیا جانے لگا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَی الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَکِيلُهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا لَکِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْئٍ فَجَائَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ لَيْسَ لَکِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيکٍ ثُمَّ قَالَ تِلْکِ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَی تَضَعِينَ ثِيَابَکِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي قَالَتْ فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَکَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوکٌ لَا مَالَ لَهُ انْکِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَکَرِهْتُهُ ثُمَّ قَالَ انْکِحِي أُسَامَةَ فَنَکَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن ابی حازم، قتیبہ، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ اس کے خاوند نے اسے نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں طلاق دی اور اس کے لئے کچھ تھوڑا سا نفقہ دیا جب اس نے یہ دیکھا تو کہا اللہ کی قسم میں رسول اللہ ﷺ کو خبر دوں گی پس اگر میرے لئے نفقہ ہوا تو میں بقدر کفایت لے لوں گی اور اگر میرے لئے خرچہ نہ ہوا تو میں اس سے کچھ بھی نہ لوں گی کہتی ہیں پھر میں نے اس کا رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یترے لئے نہ نفقہ ہے اور نہ مکان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ وَقَالَ قُتَيْبَةُ أَيْضًا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ کِلَيْهِمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ أَنْفَقَ عَلَيْهَا نَفَقَةَ دُونٍ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِکَ قَالَتْ وَاللَّهِ لَأُعْلِمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ کَانَ لِي نَفَقَةٌ أَخَذْتُ الَّذِي يُصْلِحُنِي وَإِنْ لَمْ تَکُنْ لِي نَفَقَةٌ لَمْ آخُذْ مِنْهُ شَيْئًا قَالَتْ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا نَفَقَةَ لَکِ وَلَا سُکْنَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৯৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، عمران بن ابی انس، ابی سلمہ، حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ ان کے خاوند مخزومی نے انہیں طلاق دے دی اور اس کو خرچہ دینے سے انکار کردیا اس نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو اس بات کی خبر دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے خرچہ نہیں ہے اور تو ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہوجا اور انہی کے پاس رہ کیونکہ وہ نابینا آدمی ہیں اور تو اپنے کپڑے اس کے پاس اتار سکتی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ فَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ زَوْجَهَا الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا فَأَبَی أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهَا فَجَائَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَفَقَةَ لَکِ فَانْتَقِلِي فَاذْهَبِي إِلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَکُونِي عِنْدَهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَی تَضَعِينَ ثِيَابَکِ عِنْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
محمد بن رافع، حسین بن محمد، شیبان، یحیی، ابوسلمہ، حضرت فاطمہ بنت قیس، ضحاک بن قیس کی بہن سے روایت ہے کہ ابوحفص بن مغیرہ مخزومی نے اسے تین طلاقیں دے دیں پھر یمن کی طرف چلا گیا تو اس کے گھر والوں نے ان سے کہا ہمارے لئے تیرا نفقہ لازم نہیں خالد بن ولید چند لوگوں کے ساتھ چلے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس میمونہ کے گھر میں آئے انہوں نے کہا ابوحفص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں کیا اس کا نفقہ ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے لئے نفقہ نہیں بلکہ عدت ہے اور اس کی طرف پیغام بھیجا کر میرے مشورہ کے بغیر اپنے نکاح پر جلدی نہ کرنا اور اسے حکم دیا کہ وہ ام شریک کی طرف منتقل ہوجائے پھر اس کی طرف پیغام بھیجا کہ ام شریک کے پاس مہاجرین اولین آتے ہیں اس لئے تو ابن ام مکتوم نابینا کے پاس چلی جا جب تو اپنا دوپٹہ اتارے گی تو وہ تجھے نہ دیکھیں گے پس وہ اس کی طرف چلی جب اس کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا نکاح اسامہ بن زید بن حارثہ (رض) سے کردیا۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاکِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أَبَا حَفْصِ بْنَ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَی الْيَمَنِ فَقَالَ لَهَا أَهْلُهُ لَيْسَ لَکِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ فَانْطَلَقَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فِي نَفَرٍ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَقَالُوا إِنَّ أَبَا حَفْصٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَهَلْ لَهَا مِنْ نَفَقَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنْ لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِکِ وَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَی أُمِّ شَرِيکٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنَّ أُمَّ شَرِيکٍ يَأْتِيهَا الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ فَانْطَلِقِي إِلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ الْأَعْمَی فَإِنَّکِ إِذَا وَضَعْتِ خِمَارَکِ لَمْ يَرَکِ فَانْطَلَقَتْ إِلَيْهِ فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا أَنْکَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، ابن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، محمد بن عمر، ابی سلمہ، حضرت ابوسلمہ (رض) نے حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے اس کے بارے میں ان کی طرف ایک خط لکھا تو فاطمہ نے کہا کہ میں بنی مخزوم میں سے ایک آدمی کے پاس تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی چناچہ میں نے اس کے گھر والوں کی طرف نفقہ کا مطالبہ کرتے ہوئے پیغام بھیجا باقی حدیث گزر چکی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَ کَتَبْتُ ذَلِکَ مِنْ فِيهَا کِتَابًا قَالَتْ کُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ فَأَرْسَلْتُ إِلَی أَهْلِهِ أَبْتَغِي النَّفَقَةَ وَاقْتَصُّوا الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو لَا تَفُوتِينَا بِنَفْسِکِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
حسن بن علی حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، اباسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ وہ ابوعمر (رض) بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھی اس نے انہیں تین طلاقیں دے دیں پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں فتویٰ لینے کے لئے تو آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم (رض) نابینا کی طرف منتقل ہوجائے اور مروان نے ان کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا کہ مطلقہ اپنے گھر سے نکلے اور عروہ نے کہا کہ عائشہ (رض) نے بھی فاطمہ بنت قیس کی اس بات کو ماننے سے انکار کردیا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا کَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَائَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَفْتِيهِ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ الْأَعْمَی فَأَبَی مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَهُ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا و قَالَ عُرْوَةُ إِنَّ عَائِشَةَ أَنْکَرَتْ ذَلِکَ عَلَی فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
محمد بن رافع، حجین، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ، عائشہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ مَعَ قَوْلِ عُرْوَةَ إِنَّ عَائِشَةَ أَنْکَرَتْ ذَلِکَ عَلَی فَاطِمَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوعمر بن حفص بن مغیرہ علی بن ابی طالب کے ساتھ یمن کی طرف گئے تو اس نے اپنی بیوی کی طرف طلاق بھیجی جو اس کی طلاق سے باقی تھی اور اس کے لئے نفقہ کا حارث بن ہشام اور عیاش بن ابوربیعہ کو حکم دیا ان دونوں نے اس سے کہا کہ اللہ کی قسم تیرے لئے نفقہ نہیں سوائے اس کے کہ تو حاملہ ہوتی اس نے نبی کریم ﷺ کے پاس آکر آپ ﷺ کو ان کی قوم کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے نفقہ نہیں ہے اور آپ سے اس نے انتقال (مکان) کی اجازت مانگی تو اسے اجازت دے دی گئی اس نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ! کہاں جاؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ابن ام مکتوم کی طرف اور وہ نابینا ہیں تو اپنے کپڑے اس کے پاس اتار (آسانی سے تبدیل کرسکتی) ہے اور وہ تجھے نہ دیکھے گا جب اس کی عدت گزر گئی تو نبی کریم ﷺ نے اس کا نکاح اسامہ بن زید سے کردیا فاطمہ کی طرف مروان نے قبیصہ بن ذویب کو بھیجا کہ اس سے حدیث کے بارے میں پوچھو تو اس نے اسے بیان کیا تو مروان نے کہا ہم نے یہ حدیث ایک عورت کے سوا کسی سے نہیں سنی اور ہم وہی معاملہ اختیار کریں گے جس پر عام لوگوں کو ہم نے پایا ہے جب فاطمہ کو مروان کا یہ قول پہنچا تو اس نے کہا پس میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والا قرآن ہے اللہ نے فرمایا ہے (لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْ بُيُوْتِهِنَّ ) 65 ۔ الطلاق : 1) انہیں اپنے گھروں سے نہ نکالو فاطمہ نے کہا یہ آیت اس کے لئے ہے جس کے لئے رجوع ہو پس تین طلاق کے بعد کونسا معاملہ ہونے والا ہے پھر تم کیسے کہتے ہو کہ اس کے لئے نفقہ نہ ہونا اس صورت میں ہے جب وہ حاملہ نہ ہو اور تم اسے کس دلیل سے روکو گے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ خَرَجَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَی الْيَمَنِ فَأَرْسَلَ إِلَی امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِتَطْلِيقَةٍ کَانَتْ بَقِيَتْ مِنْ طَلَاقِهَا وَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَةٍ فَقَالَا لَهَا وَاللَّهِ مَا لَکِ نَفَقَةٌ إِلَّا أَنْ تَکُونِي حَامِلًا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ لَهُ قَوْلَهُمَا فَقَالَ لَا نَفَقَةَ لَکِ فَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي الِانْتِقَالِ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ أَيْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَ أَعْمَی تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ وَلَا يَرَاهَا فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا أَنْکَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَرْوَانُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ يَسْأَلُهَا عَنْ الْحَدِيثِ فَحَدَّثَتْهُ بِهِ فَقَالَ مَرْوَانُ لَمْ نَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ امْرَأَةٍ سَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ حِينَ بَلَغَهَا قَوْلُ مَرْوَانَ فَبَيْنِي وَبَيْنَکُمْ الْقُرْآنُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ الْآيَةَ قَالَتْ هَذَا لِمَنْ کَانَتْ لَهُ مُرَاجَعَةٌ فَأَيُّ أَمْرٍ يَحْدُثُ بَعْدَ الثَّلَاثِ فَکَيْفَ تَقُولُونَ لَا نَفَقَةَ لَهَا إِذَا لَمْ تَکُنْ حَامِلًا فَعَلَامَ تَحْبِسُونَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
زہیر بن حرب، ہشیم، سیار، حصین، مغیرہ، اشعث، مجالد، اسماعیل بن ابی خالد، داود، حضرت شعبی سے روایت ہے کہ میں فاطمہ بنت قیس کے پاس آیا اور میں نے اس سے اس کے اپنے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ پوچھا اس نے کہا کہ اس کے خاوند نے اسے طلاق بتہ دیدی تھی میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس مکان اور خرچہ کا مقدمہ پیش کیا کہتی ہیں کہ مجھے نہ مکان دیا گیا اور نہ خرچہ اور مجھے حکم دیا نبی ﷺ نے کہ میں عدت ابن ام مکتوم کے گھر پوری کروں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ وَحُصَيْنٌ وَمُغِيرَةُ وَأَشْعَثُ وَمُجَالِدٌ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ وَدَاوُدُ کُلُّهُمْ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَائِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَقَالَتْ فَخَاصَمْتُهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّکْنَی وَالنَّفَقَةِ قَالَتْ فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُکْنَی وَلَا نَفَقَةً وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، حصین، داود، مغیرہ، اسماعیل، اشعث، حضرت شعبی سے روایت ہے کہ میں فاطمہ بنت قیس کی خدمت میں حاضر ہوا باقی حدیث زہیر بن ہشام کی طرح ہے۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنٍ وَدَاوُدَ وَمُغِيرَةَ وَإِسْمَعِيلَ وَأَشْعَثَ عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَنْ هُشَيْمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
یحییٰ بن حبیب، خالد بن حارث ہجمی، ابوالحکم، حضرت شعبی سے روایت ہے کہ ہم فاطمہ بنت قیس کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں ابن طاب کی تر کھجوریں کھلائیں اور جوار کا ستو پلایا میں نے ان سے اس مطلقہ کے بارے میں پوچھا جسے تین طلاقیں دی گئیں کہ وہ عدت کہاں گزارے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دیں تو اللہ کے نبی ﷺ نے مجھے اجازت دی کہ میں اپنے اہل میں عدت پوری کروں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَکَمِ حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبِ ابْنِ طَابٍ وَسَقَتْنَا سَوِيقَ سُلْتٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا أَيْنَ تَعْتَدُّ قَالَتْ طَلَّقَنِي بَعْلِي ثَلَاثًا فَأَذِنَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَعْتَدَّ فِي أَهْلِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، سلمہ بن کہیل، شعبی، حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس کے بارے میں جسے طلاقیں ہوگئیں فرمایا اس کے لئے نہ مکان ہے اور نہ نفقہ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا قَالَ لَيْسَ لَهَا سُکْنَی وَلَا نَفَقَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭০৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، یحییٰ بن آدم، عمار بن رزیق، ابی اسحاق، شعبی، حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) سے روایت ہے کہ میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دیں اور میں نے منتقل ہونے کا ارادہ کیا میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے چچا کے بیٹے عمرو بن ام مکتوم (رض) کے گھر کی طرف منتقل ہوجا اور اس کے پاس عدت پوری کر۔
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْتَقِلِي إِلَی بَيْتِ ابْنِ عَمِّکِ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَاعْتَدِّي عِنْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
محمد بن عمر بن جبلہ، ابواحمد، عماربن زریق، حضرت ابواسحاق سے روایت ہے کہ میں اسود بن یزید کے ساتھ بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے ساتھ شعبہ بھی تھے شعبی نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے نہ رہائش مقرر کی اور نہ خرچہ پھر اسود نے کنکریوں کی ہتھیلی بھر لی اور انہیں شعبی کو مارا تو اس نے کہا ہلاکت ہو تم اس جیسی احادیث بیان کرتے ہو عمر نے کہا ہم اللہ کی کتاب اور ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو اس عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ تے ہم نہیں جانتے کہ اس نے شاید یاد رکھا ہے یا بھول گئی اس کے لئے رہائش اور خرچہ ہے اللہ عزوجل نے فرمایا (لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ) تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بےحیائی کرنے لگیں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ کُنْتُ مَعَ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ وَمَعَنَا الشَّعْبِيُّ فَحَدَّثَ الشَّعْبِيُّ بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُکْنَی وَلَا نَفَقَةً ثُمَّ أَخَذَ الْأَسْوَدُ کَفًّا مِنْ حَصًی فَحَصَبَهُ بِهِ فَقَالَ وَيْلَکَ تُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا قَالَ عُمَرُ لَا نَتْرُکُ کِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لَا نَدْرِي لَعَلَّهَا حَفِظَتْ أَوْ نَسِيَتْ لَهَا السُّکْنَی وَالنَّفَقَةُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭১১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں
احمد بن عبدہ ضبی، ابوداود، سلیمان بن معاذ، ابی اسحاق، احمد، حضرت عمار بن زریق سے اسی قصہ کے ساتھ حدیث مروی ہے۔
و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ بِقِصَّتِهِ
তাহকীক: