আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

طلاق کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯১ টি

হাদীস নং: ৩৬৭২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حائضہ عورت کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دنیے کی حرمت اور اگر کوئی طلاق دے دے تو طلاق واقع نہ ہوئی اور مرد کو رجوع کرنے کا حکم دینے کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت عبدالرحمن بن ایمن مولیٰ عروہ سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) سے پوچھا گیا جبکہ ابوالزبیر سن رہے تھے باقی حدیث حجاج کی طرح ہے اور اس میں بعض اضافہ بھی ہے مسلم نے کہا کہ راوی نے مولیٰ عروہ کہنے میں غلطی کی ہے حقیقتا یہ مولیٰ عزہ ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَی عُرْوَةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَجَّاجٍ وَفِيهِ بَعْضُ الزِّيَادَةِ قَالَ مُسْلِم أَخْطَأَ حَيْثُ قَالَ عُرْوَةَ إِنَّمَا هُوَ مَوْلَی عَزَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین طلاقوں کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابن طاو س، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) اور دور خلافت عمر (رض) کے دو سال تک تین طلاق ایک ہی شمار کی جاتی تھیں سو عمر بن خطاب (رض) نے کہا اس حکم میں جو انہیں مہلت دی گئی تھی جلدی شروع کردی ہے پس اگر ہم تین ہی نافذ کردیں تو مناسب ہوگا چناچہ انہوں نے تین طلاق ہی واقعہ ہوجانے کا حکم دے دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ الطَّلَاقُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ کَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین طلاقوں کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، روح بن عبادہ، ابن جریج، ابن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، حضرت ابن طاؤس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ابوالصہباء نے ابن عباس (رض) سے کہا کیا آپ ﷺ جانتے ہیں کہ تین طلاق رسالت مآب ﷺ اور ابوبکر (رض) وعمر (رض) کی خلافت کے تین سال تک ایک ہی کردی جاتی تھی تو ابن عباس (رض) نے کہا جی ہاں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا الصَّهْبَائِ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَتَعْلَمُ أَنَّمَا کَانَتْ الثَّلَاثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَثَلَاثًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین طلاقوں کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب سختیانی، ابراہیم بن میسرہ، حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ ابوالصہباء نے ابن عباس (رض) سے کہا اپنے دل سے یاد کر کے بتاؤ کیا تین طلاق رسول اللہ ﷺ کے زمانہ اور ابوبکر (رض) کے دور میں ایک نہ ہوتی تھیں ؟ انہوں نے کہا ایسے ہی تھا جب زمانہ عمر میں لوگوں نے پے درپے طلاقیں دینا شروع کردیں تو آپ نے ان پر تین طلاق نافذ ہونے کا حکم دے دیا۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ أَبَا الصَّهْبَائِ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ هَاتِ مِنْ هَنَاتِکَ أَلَمْ يَکُنْ الطَّلَاقُ الثَّلَاثُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَاحِدَةً فَقَالَ قَدْ کَانَ ذَلِکَ فَلَمَّا کَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ تَتَايَعَ النَّاسُ فِي الطَّلَاقِ فَأَجَازَهُ عَلَيْهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی پر کفارہ کے وجوب کے بیان میں جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلاق کی نیت نہیں کی
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ہشام دستوائی، یحییٰ بن کثیر، یعلی بن حکیم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جب کوئی اپنی بیوی سے قسم کے ساتھ کہے کہ مجھ پر حرام ہے تو اس کا کفارہ ہے ابن عباس (رض) نے کہا لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہتریں نمونہ ہے۔
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ قَالَ کَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَی بْنِ حَکِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُکَفِّرُهَا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی پر کفارہ کے وجوب کے بیان میں جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلاق کی نیت نہیں کی
یحییٰ بن بشرالحریری، معاویہ بن سلام، یحییٰ بن ابی کثیر، یعلی بن حکیم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرے تو یہ قسم ہے اور اس کا کفارہ لازم ہوگا اور کہا (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ)
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ يَعْلَی بْنَ حَکِيمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا حَرَّمَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ فَهِيَ يَمِينٌ يُکَفِّرُهَا وَقَالَ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی پر کفارہ کے وجوب کے بیان میں جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلاق کی نیت نہیں کی
محمد بن حاتم، حجاج بن محمد، ابن جریج، عطاء، عبید بن عمر، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ زینب بنت جحش (رض) کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے پس میں نے اور حفصہ (رض) نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جب ہم میں سے کسی کے پاس بھی نبی کریم ﷺ تشریف لائیں تو وہ یہ کہے کہ میں آپ ﷺ سے مغافیر (پیاز کی ایک قسم) کی بو پاتی ہوں کیا آپ ﷺ نے مغافیر کھایا ہے آپ ﷺ ان میں سے کسی ایک کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے آپ ﷺ سے یہی کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش (رض) کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ ہرگز نہ پیوں گا تو یہ آیت (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ وَاللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ ۔ وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِه حَدِيْثًا فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِه وَاَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَه وَاَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِه قَالَتْ مَنْ اَنْ بَاَكَ هٰذَا قَالَ نَبَّاَنِيَ الْعَلِيْمُ الْخَبِيْرُ ) 66 ۔ التحریم : 1) اے نبی ﷺ آپ ﷺ اپنے اوپر اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں جسے اللہ نے آپ ﷺ کے لئے حلال رکھا ہے اور فرمایا یہ دونوں عائشہ وحفصہ اگر توبہ کرلیں تو ان کے دل جھک گئے اور یہ جو فرمایا (وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا) نبی کریم ﷺ نے ایک بات اپنی بعض ازواج سے چپکے سے کہا اس سے مقصود یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا بلکہ میں نے شہد پیا ہے۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَمْکُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا قَالَتْ فَتَوَاطَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْکَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَی إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکَ إِلَی قَوْلِهِ إِنْ تَتُوبَا لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا لِقَوْلِهِ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৭৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی پر کفارہ کے وجوب کے بیان میں جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلاق کی نیت نہیں کی
ابوکریب، محمد بن العلاء، ہارون بن عبداللہ، ابواسامہ، ہشام، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میٹھی چیز پسند کرتے تھے آپ ﷺ جب عصر کی نماز ادا کرلیتے تو اپنی ازواج کے پاس چکر لگاتے اور ان کے پاس تشریف لایا کرتے ایک دن حفصہ (رض) کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر تک ان کے پاس ٹھہرے رہے میں نے اس بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ ازواج مطہرات میں سے ایک بیوی کے پاس اس کی قوم نے شہد کی ایک کپی ہدیہ بھیجی تھی جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو پلایا ہے میں نے کہا اللہ کی قسم ! میں آپ ﷺ سے ایک حیلہ کروں گی اور میں نے اس کا سودہ (رض) سے ذکر کیا اور میں نے کہا کہ جب آپ ﷺ تمہارے پاس تشریف لائیں اور تمہارے قریب ہوں تو تم آپ ﷺ سے کہنا اے اللہ کے رسول کیا آپ ﷺ نے مغافیر کھایا ہے پس اگر آپ ﷺ تجھ سے کہیں کہ نہیں تو تم آپ ﷺ سے کہنا یہ بدبو کیسی ہے ؟ اور رسول اللہ ﷺ کو اپنے آپ سے بدبو آنا سخت ناپسند تھا، پس اگر آپ ﷺ تجھے یہ کہیں کہ مجھے حفصہ (رضی اللہ عنہا) نے شہد کا شربت پلایا ہے تو تم آپ ﷺ کو یہ کہو کہ شہد کی مکھی نے عرفط درخت کا رس چوسا ہے اسی درخت سے مغافیر بنتی ہے میں بھی آپ ﷺ کو یہی کہوں گی اور تم بھی اے صفیہ یہی کہنا پس جب آپ ﷺ سودہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس آئے فرماتی ہیں کہ سودہ نے کہا اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تحقیق ارادہ کیا کہ میں آپ ﷺ کو وہی بات کہوں جو تم نے مجھے کہی تھی اس حال میں کہ آپ ﷺ دروازہ پر ہی ہوں تجھ سے ڈرتے ہوئے پس رسول اللہ ﷺ قریب تشریف لائے تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول کیا آپ ﷺ نے مغافیر کھایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں انہوں نے عرض کیا یہ بدبو کیسی ہے آپ ﷺ نے فرمایا حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے انہوں نے کہا کہ شہد کی مکھیوں نے عرفط کے درخت سے رس لیا ہوگا پس جب آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے بھی آپ ﷺ سے اسی طرح کہا پھر آپ ﷺ صفیہ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی آپ ﷺ کو اسی طرح کہا جب حفصہ کے ہاں تشریف لائے تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول کیا ﷺ میں آپ ﷺ کو اس شہد سے پلاؤں آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اس کی ضرورت و حاجت نہیں ہے سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ سودہ نے سُبْحَانَ اللَّهِ کہا اللہ کی قسم ہم نے آپ ﷺ کو شہد سے روک دیا ہے میں نے ان سے کہا خاموش رہو آگے ایک اور سند ذکر کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَائَ وَالْعَسَلَ فَکَانَ إِذَا صَلَّی الْعَصْرَ دَارَ عَلَی نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ فَدَخَلَ عَلَی حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَکْثَرَ مِمَّا کَانَ يَحْتَبِسُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ فَقِيلَ لِي أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُکَّةً مِنْ عَسَلٍ فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِسَوْدَةَ وَقُلْتُ إِذَا دَخَلَ عَلَيْکِ فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْکِ فَقُولِي لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَکِ لَا فَقُولِي لَهُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَکِ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ فَقُولِي لَهُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ ذَلِکِ لَهُ وَقُولِيهِ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی سَوْدَةَ قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ کِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي وَإِنَّهُ لَعَلَی الْبَابِ فَرَقًا مِنْکِ فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ قَالَ لَا قَالَتْ فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ قَالَ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ قَالَتْ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَی صَفِيَّةَ فَقَالَتْ بِمِثْلِ ذَلِکَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی حَفْصَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَسْقِيکَ مِنْهُ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي بِهِ قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ قَالَتْ قُلْتُ لَهَا اسْکُتِي قَالَ أَبُو إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا سَوَائً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس آدمی پر کفارہ کے وجوب کے بیان میں جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلاق کی نیت نہیں کی
سوید بن سعید، علی بن مسہر، ہشام بن عروہ ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو
ابوطاہر، ابن وہب، حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو آپ ﷺ کی ازواج کے بارے میں اختیار دینے کا حکم دیا گیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے شروع کیا اور فرمایا کہ میں تجھے ایک معاملہ ذکر کرنے والا ہوں پس تم پر لازم ہے کہ جلدی نہ کر یہاں تک کہ تو اپنے والدین سے مشورہ کرلے اور آپ ﷺ جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے کبھی بھی آپ ﷺ سے جدائی کا مشورہ نہیں دیں گے کہتی ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے فرمایا اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمہیں آرام کی چیزیں اور عمدہ سامان دے دوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور قیامت کی عافیت کی طلبگار ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک عورتوں کے لئے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے میں نے عرض کیا کہ اس میں کونسی بات ہے جس کے بارے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں میں تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور آخرت کے گھر کی عافیت کی طلبگار ہوں فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی باقی ازواج نے بھی اسی طرح کہا جو میں نے کہا تھا۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ إِنِّي ذَاکِرٌ لَکِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْکِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّی تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْکِ قَالَتْ قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَکُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ إِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْکُنَّ وَأُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْکُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَتْ فَقُلْتُ فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَتْ ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮২
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو
سریج بن یونس، عباد بن عباد، عاصم، معاذہ عدویہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے اجازت لیتے تھے جب ہم میں سے کسی عورت کا دن ہوتا ( تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْکَ مَنْ تَشَاءُ ) کے نازل ہونے کے بعد۔ تو ان سے معاذہ نے کہا۔ تم رسول اللہ ﷺ کو کیا کہتی تھیں جب آپ ﷺ تجھ سے اجازت طلب کرتے تھے کہا میں کہتی تھی اگر یہ معاملہ میرے سپرد ہوتا تو میں اپنی ذات پر کسی کو ترجیح نہ دیتی۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُنَا إِذَا کَانَ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ مَا نَزَلَتْ تُرْجِي مَنْ تَشَائُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْکَ مَنْ تَشَائُ فَقَالَتْ لَهَا مُعَاذَةُ فَمَا کُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَکِ قَالَتْ کُنْتُ أَقُولُ إِنْ کَانَ ذَاکَ إِلَيَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَی نَفْسِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৩
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو
حسن بن عیسی، ابن مبارک، عاصم اس اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
و حَدَّثَنَاه الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৪
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، عبثر، اسماعیل بن ابی خالد، شعبی، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اختیار دیا تو ہم نے اس اختیار کو طلاق شمار نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَعُدَّهُ طَلَاقًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৫
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، اسماعیل بن ابی خالد، شعبی، حضرت مسروق سے روایت ہے کہ مجھے اس بات سے پرواہ نہیں ہے کہ میں اپنی بیوی کو ایک یا سو یا ہزار مرتبہ اختیار دوں جبکہ وہ مجھے پسند کرچکی ہو اور میں نے عائشہ (رض) سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا تو کیا یہ طلاق ہوگئی تھی اظہار تعجب کیا یعنی نہیں ہوئی تھی۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ مَا أُبَالِي خَيَّرْتُ امْرَأَتِي وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً أَوْ أَلْفًا بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي وَلَقَدْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَکَانَ طَلَاقًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৬
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عاصم، شعبی، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کو اختیار دیا جو کہ طلاق نہ شمار ہوئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ نِسَائَهُ فَلَمْ يَکُنْ طَلَاقًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৭
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو
اسحاق بن منصور، عبدالرحمن، سفیان، عاصم، اسماعیل بن ابی خالد، شعبی، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ ﷺ کو ہی پسند کیا تو یہ طلاق شمار نہ کی گئی۔
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ وَإِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعُدَّهُ طَلَاقًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৮
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، مسلم، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ ﷺ ہی کو پسند کیا آپ ﷺ نے اسے کچھ بھی طلاق شمار نہ کیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعْدُدْهَا عَلَيْنَا شَيْئًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৮৯
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو
ابوربیع زہرانی، اسماعیل بن زکریا، اعمش، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے اسی طرح اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯০
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو
زہیر بن حرب، روح بن عبادہ، زکریا بن ابی اسحاق، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے کے لئے اجازت مانگی تو صحابہ کو آپ ﷺ کے دروازہ پر بیٹھے ہوئے پایا ان میں سے کسی کو اجازت نہ دی گئی ابوبکر کو اجازت دی گئی تو وہ داخل ہوگئے پھر عمر (رض) آئے اجازت مانگی تو انہیں بھی اجازت دے دی گئی تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو بیٹھے ہوئے پایا کہ آپ ﷺ کے ارد گرد آپ ﷺ کی ازواج غمگین اور خاموش بیٹھی تھیں عمر (رض) نے کہا میں ضرور کسی بات کے ذریعہ نبی کریم ﷺ کو ہنساؤں گا تو انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول اگر آپ ﷺ خارجہ کی بیٹی کو دیکھتے جو کہ ان کی بیوی ہیں اس نے مجھ سے نفقہ مانگا تو میں اس کا گلا دبانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا تو نبی کریم ﷺ ہنس پڑے فرمایا یہ میرے ارد گرد ہیں جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو یہ مجھ سے نفقہ مانگتی ہیں پس ابوبکر (رض) عائشہ (رض) کا گلا دبانے کے لئے کھڑے ہوگئے اور عمر حفصہ (رض) کا گلا دبانے کے لئے اٹھے اور یہ دونوں ان سے کہہ رہے تھے کہ تم نبی ﷺ سے ایسا سوال کرتی ہو جو آپ ﷺ کے پاس نہیں انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! ہم کبھی بھی رسول اللہ ﷺ سے کوئی ایسی چیز نہیں مانگیں گی جو آپ ﷺ کے پاس نہ ہو پھر آپ ﷺ ان سے ایک ماہ یا انیتس دن علیحدہ رہے پھر آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا 28 وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه وَالدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا) 33 ۔ الاحزاب : 28) پس آپ ﷺ نے عائشہ (رض) سے شروع فرمایا اور فرمایا اے عائشہ میں ارادہ رکھتا ہوں کہ تیرے سامنے ایک معاملہ پیش کروں یہاں تک کہا اپنے والدین سے مشورہ کرلے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ کیا معاملہ ہے تو آپ ﷺ نے ان کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی سیدہ عائشہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا میں آپ ﷺ کے معاملہ میں اپنے والدین سے مشورہ کروں بلکہ میں اللہ اور اللہ کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں میں آپ ﷺ سے گزارش کرتی ہوں کہ آپ ﷺ اپنی دوسری ازواج سے اس کا ذکر نہ فرمائیں جو میں نے کہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو ان میں سے مجھ سے پوچھے گی تو میں اسے خبر دے دوں گا کیونکہ اللہ نے مجھے مشکلات میں ڈالنے والا اور سختی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے معلم اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ أَبُو بَکْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ النَّاسَ جُلُوسًا بِبَابِهِ لَمْ يُؤْذَنْ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ قَالَ فَأُذِنَ لِأَبِي بَکْرٍ فَدَخَلَ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمًا سَاکِتًا قَالَ فَقَالَ لَأَقُولَنَّ شَيْئًا أُضْحِکُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ خَارِجَةَ سَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ هُنَّ حَوْلِي کَمَا تَرَی يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ إِلَی عَائِشَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا فَقَامَ عُمَرُ إِلَی حَفْصَةَ يَجَأُ عُنُقَهَا کِلَاهُمَا يَقُولُ تَسْأَلْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ فَقُلْنَ وَاللَّهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا أَبَدًا لَيْسَ عِنْدَهُ ثُمَّ اعْتَزَلَهُنَّ شَهْرًا أَوْ تِسْعًا وَعِشْرِينَ ثُمَّ نَزَلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ حَتَّی بَلَغَ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْکُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَ فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْکِ أَمْرًا أُحِبُّ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّی تَسْتَشِيرِي أَبَوَيْکِ قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَتَلَا عَلَيْهَا الْآيَةَ قَالَتْ أَفِيکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْتَشِيرُ أَبَوَيَّ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ وَأَسْأَلُکَ أَنْ لَا تُخْبِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِکَ بِالَّذِي قُلْتُ قَالَ لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلَا مُتَعَنِّتًا وَلَکِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬৯১
طلاق کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایلاء اور عورتوں سے جدا ہونے اور انہیں اختیار دینے اور اللہ کے قول ان تظاہرا علیہ کے بیان میں
زہیر بن حرب، عمر بن یونس حنفی، عکرمہ بن عمار، سماک ابی زمیل، ابن عباس، حضرت عمر (رض) بن خطاب سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ جب اپنی ازواج (رض) سے علیحدہ ہوگئے اس وقت میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگوں کو کنکریاں الٹ پلٹ کرتے ہوئے دیکھا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے یہ انہیں پردے کا حکم دیئے جانے سے پہلے کا واقعہ ہے عمر (رض) نے کہا میں نے کہا میں آج کے حالات ضرور معلوم کروں گا پس میں سیدہ عائشہ (رض) کے پاس گیا اور کہا اے ابوبکر کی بیٹی تمہارا یہ حال کیا ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دینے لگی ہو انہوں نے کہا ابن خطاب مجھے تجھ سے اور تجھ کو مجھ سے کیا کام تم پر اپنی گٹھڑی کا خیال رکھنا لازم ہے حفصہ (رض) کا پھر میں حفصہ بنت عمر (رض) کے پاس گیا اور میں نے اسے کہا اے حفصہ ! تمہارا یہ حال کیا ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کو ایذاء دینے لگی ہو اور اللہ کی قسم تو جانتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تجھ سے محبت نہیں کرتے اور اگر میں نہ ہوتا تو رسول اللہ ﷺ تجھے طلاق دے چکے ہوتے پس وہ روئیں اور خوب روئیں تو میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کہاں ہیں تو اس نے کہا وہ اپنے گودام اور بالاخانے (اوپر والے کمرے) میں ہیں، میں حاضر ہوا تو دیکھا رسول اللہ ﷺ کا غلام رباح اس بالاخانے کے دروازے پر اپنے پاؤں ایک کھدی ہوئی لکڑی پر لٹکائے جو کہ کھجور دکھائی دے رہی تھے بیٹھا تھا اور رسول اللہ ﷺ اس لکڑی پر سے چڑھتے اور اترتے تھے میں نے آواز دی اے رباح میرے لئے رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے کے لئے اجازت لو رباح نے کمرے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا لیکن کوئی بات نہیں کی پھر میں نے کہا حاضر ہونے کی اجازت لو تو رباح نے بالاخانے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا لیکن کوئی بات نہیں کی پھر میں نے بآواز بلند کہا اے رباح ! میرے لئے رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت لو پس میں نے اندازہ لگایا کہ رسول اللہ ﷺ نے گمان کیا کہ میں حفصہ کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں حالانکہ اللہ کی قسم اگر رسول اللہ ﷺ مجھے اس کی گردن مار دینے کا حکم دیتے تو میں اس کی گردن مار دیتا اور میں نے اپنی آواز کو بلند کیا تو اس نے اشارہ کیا کہ میں چڑھ آؤں پس میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور آپ ﷺ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے میں بیٹھ گیا اور آپ ﷺ نے اپنی چادر اپنے اوپر لے لی اور آپ ﷺ کے پاس اس کے علاوہ کوئی کپڑا نہ تھا اور چٹائی کے نشانات آپ ﷺ کے پہلو (کمر) پر لگے ہوئے تھے پس میں نے رسول اللہ ﷺ کے خزانہ کو بغور دیکھا تو اس میں چند مٹھی جو تھے جو کہ ایک صاع کی مقدار میں ہوں گے اور اس کے برابر سلم کے پتے ایک کونے میں پڑے ہوئے تھے اور ایک کچا چمڑا جس کی دباغت اچھی طرح نہ ہوئی تھی لٹکا ہوا تھا پس میری آنکھیں بھر آئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ابن خطاب ! تجھے کس چیز نے رلادیا ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! مجھے کیا ہوگیا کہ میں نہ روؤں حالانکہ یہ چٹائی کے نشانات آپ ﷺ کے پہلو پر ہیں اور یہ آپ ﷺ کا خزانہ ہے میں نہیں دیکھتا اس میں کچھ مگر وہی جو سامنے ہے اور وہ قیصر و کسری ہیں جو پھلوں اور نہروں میں زندگی گزارتے ہیں حالانکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول اور اس کے برگزید بندے ہیں اور یہ آپ ﷺ کا خزانہ ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ابن خطاب کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ ہمارے لئے آخرت ہے اور ان کے لئے دنیا ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں اور میں آپ ﷺ کے پاس جب حاضر ہوا تو میں نے آپ ﷺ کے چہرہ انور پر غصہ دیکھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کو عورتوں کی طرف سے کیا مشکل پیش آئی اگر آپ ﷺ انہیں طلاق دے چکے ہیں تو اللہ آپ ﷺ کے ساتھ ہے نصرت ومدد اس کے فرشتے جبرائیل اور میکائیل ہیں اور ابوبکر اور مومنین آپ ﷺ کے ساتھ ہیں اور اکثرجب میں گفتگو کرتا اور اللہ کی تعریف کرتا کسی گفتگو کے ساتھ تو اس امید کے ساتھ کہ اللہ اس کی تصدیق کرے گا جو بات میں کرتا ہوں اور آیت تخیر نازل ہوئی (وَاِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَجِبْرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمَلٰ ى ِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْرٌ۔ عَسٰى رَبُّه اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَه اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ ) 66 ۔ التحریم : 3 ۔ 4) قریب ہے کہ نبی اگر تم کو طلاق دے دیں تو اس کا پروردگار اس کو تم سے بہتر بیویاں عطا کر دے اور تم دونوں نے ان پر زور دیا تو اللہ ہی اس کا مددگار اور جبرائیل اور نیک مومنین اور فرشتے اس کے بعد پشت پناہی کرنے والے ہیں اور عائشہ (رض) بنت ابوبکر اور حفصہ نے نبی کریم ﷺ کی تمام بیویوں پر زور دیا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ ﷺ نے انہیں طلاق دے دی ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں مسجد میں داخل ہوا اور لوگ کنکریاں الٹ پلٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے کیا میں اتر کر انہیں خبر نہ دوں کہ آپ ﷺ نے انہیں طلاق نہیں دی آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اگر تو چاہے میں آپ ﷺ سے گفتگو میں مشغول رہا یہاں تک کہ غصہ آپ ﷺ کے چہرہ سے دور ہوگیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے دانت مبارک کھولے اور مسکرائے اور آپ ﷺ کے دانتوں کی ہنسی سب لوگوں سے خوبصورت تھی پھر اللہ کے نبی اترے اور میں بھی اترا اس کھجور کی لکڑی کو پکڑتا ہوا اور رسول اللہ ﷺ اس طرح اترے گویا زمین پر چل رہے ہیں آپ ﷺ نے اس لکڑی کو ہاتھ تک نہ لگایا میں نے کہا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ انتیس دن سے اس کمرہ میں تھے آپ ﷺ نے فرمایا مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہو کر میں نے پکارا کہ آپ ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق نہیں دی اور یہ آیت نازل ہوئی (وَاِذَا جَا ءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِه وَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰ ى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْ بِطُوْنَه مِنْھُمْ ) 4 ۔ النساء : 83) جب ان کے پاس کوئی خبر چین یا خوف کی آتی ہے تو اسے مشہور کر دتیے ہیں اور اگر وہ اس کو رسول اللہ ﷺ اور اپنے اہل امر کی طرف لوٹاتے تو لوگ جان لیتے ان لوگوں کو جو ان میں سے استنباط کرنے والے ہیں تو میں نے اس سے اس حقیقت کو چن لیا پھر اللہ عزوجل نے آیت تخیر نازل کی۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ سِمَاکٍ أَبِي زُمَيْلٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا النَّاسُ يَنْکُتُونَ بِالْحَصَی وَيَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ لَأَعْلَمَنَّ ذَلِکَ الْيَوْمَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِکِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مَا لِي وَمَا لَکَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَلَيْکَ بِعَيْبَتِکَ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَقُلْتُ لَهَا يَا حَفْصَةُ أَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِکِ أَنْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحِبُّکِ وَلَوْلَا أَنَا لَطَلَّقَکِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَکَتْ أَشَدَّ الْبُکَائِ فَقُلْتُ لَهَا أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ هُوَ فِي خِزَانَتِهِ فِي الْمَشْرُبَةِ فَدَخَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا عَلَی أُسْکُفَّةِ الْمَشْرُبَةِ مُدَلٍّ رِجْلَيْهِ عَلَی نَقِيرٍ مِنْ خَشَبٍ وَهُوَ جِذْعٌ يَرْقَی عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَنْحَدِرُ فَنَادَيْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَکَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَی الْغُرْفَةِ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قُلْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَکَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ رَبَاحٌ إِلَی الْغُرْفَةِ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ رَفَعْتُ صَوْتِي فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَکَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَنَّ أَنِّي جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَةَ وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَرْبِ عُنُقِهَا لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهَا وَرَفَعْتُ صَوْتِي فَأَوْمَأَ إِلَيَّ أَنْ ارْقَهْ فَدَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَی حَصِيرٍ فَجَلَسْتُ فَأَدْنَی عَلَيْهِ إِزَارَهُ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَنَظَرْتُ بِبَصَرِي فِي خِزَانَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ الصَّاعِ وَمِثْلِهَا قَرَظًا فِي نَاحِيَةِ الْغُرْفَةِ وَإِذَا أَفِيقٌ مُعَلَّقٌ قَالَ فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ قَالَ مَا يُبْکِيکَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا لِي لَا أَبْکِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِکَ وَهَذِهِ خِزَانَتُکَ لَا أَرَی فِيهَا إِلَّا مَا أَرَی وَذَاکَ قَيْصَرُ وَکِسْرَی فِي الثِّمَارِ وَالْأَنْهَارِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفْوَتُهُ وَهَذِهِ خِزَانَتُکَ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أَلَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ لَنَا الْآخِرَةُ وَلَهُمْ الدُّنْيَا قُلْتُ بَلَی قَالَ وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ حِينَ دَخَلْتُ وَأَنَا أَرَی فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَشُقُّ عَلَيْکَ مِنْ شَأْنِ النِّسَائِ فَإِنْ کُنْتَ طَلَّقْتَهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مَعَکَ وَمَلَائِکَتَهُ وَجِبْرِيلَ وَمِيکَائِيلَ وَأَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَکَ وَقَلَّمَا تَکَلَّمْتُ وَأَحْمَدُ اللَّهَ بِکَلَامٍ إِلَّا رَجَوْتُ أَنْ يَکُونَ اللَّهُ يُصَدِّقُ قَوْلِي الَّذِي أَقُولُ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ آيَةُ التَّخْيِيرِ عَسَی رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَکُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْکُنَّ وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِکَةُ بَعْدَ ذَلِکَ ظَهِيرٌ وَکَانَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَکْرٍ وَحَفْصَةُ تَظَاهَرَانِ عَلَی سَائِرِ نِسَائِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلَّقْتَهُنَّ قَالَ لَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَالْمُسْلِمُونَ يَنْکُتُونَ بِالْحَصَی يَقُولُونَ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ أَفَأَنْزِلُ فَأُخْبِرَهُمْ أَنَّکَ لَمْ تُطَلِّقْهُنَّ قَالَ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ فَلَمْ أَزَلْ أُحَدِّثُهُ حَتَّی تَحَسَّرَ الْغَضَبُ عَنْ وَجْهِهِ وَحَتَّی کَشَرَ فَضَحِکَ وَکَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا ثُمَّ نَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلْتُ فَنَزَلْتُ أَتَشَبَّثُ بِالْجِذْعِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَأَنَّمَا يَمْشِي عَلَی الْأَرْضِ مَا يَمَسُّهُ بِيَدِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا کُنْتَ فِي الْغُرْفَةِ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ قَالَ إِنَّ الشَّهْرَ يَکُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَقُمْتُ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ فَنَادَيْتُ بِأَعْلَی صَوْتِي لَمْ يُطَلِّقْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَائَهُ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا جَائَهُمْ أَمْرٌ مِنْ الْأَمْنِ أَوْ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَی الرَّسُولِ وَإِلَی أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ فَکُنْتُ أَنَا اسْتَنْبَطْتُ ذَلِکَ الْأَمْرَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّخْيِيرِ
tahqiq

তাহকীক: