আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৮৫ টি
হাদীস নং: ২৫৭৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبیداللہ بن عمر، قاسم، سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزہ کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور تم میں سے کون ہے جو اپنے جذبات کو قابو میں کرسکے جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے جذبات پر کنٹرول تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُنِي وَهُوَ صَائِمٌ وَأَيُّکُمْ يَمْلِکُ إِرْبَهُ کَمَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِکُ إِرْبَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحیی، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، علقمہ، سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ روزہ کی حالت میں اپنی ازواج مطہرات کو بوسہ لے لیا کرتے تھے اور روزہ کی حالت میں ان سے بغلگیر ہوجایا کرتے تھے لیکن آپ ﷺ تو تم میں سے سب سے زیادہ اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھنے والے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ح و حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَلَکِنَّهُ أَمْلَکُکُمْ لِإِرْبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
علی بن حجر، زہیر بن حرب، سفیان، منصور، ابرہیم، علقمہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور آپ کو تو تم میں سے سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول تھا۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ وَکَانَ أَمْلَکَکُمْ لِإِرْبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور، ابرہیم، علقمہ، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ اپنی کسی زوجہ مطہرہ سے روزہ کی حالت میں بغلگیر ہوجایا کرتے تھے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
محمد بن مثنی، ابوعاصم، ابن عون، ابراہیم، اسود فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں آئے تو ہم نے آپ سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ مطہرہ سے بغلگیر ہوجایا کرتے تھے ؟ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا ہاں لیکن آپ ﷺ تو تم میں سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنے والے تھے یا فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو آپ ﷺ کی طرح اپنے جذبات پر قابو رکھ سکے ابوعاصم راوی کو شک ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ إِلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْنَا لَهَا أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ نَعَمْ وَلَکِنَّهُ کَانَ أَمْلَکَکُمْ لِإِرْبِهِ أَوْ مِنْ أَمْلَکِکُمْ لِإِرْبِهِ شَکَّ أَبُو عَاصِمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৮০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
یعقوب، اسماعیل، ابن عون، ابراہیم، اسود، مسروق اس سند کے ساتھ حضرت ابراہیم (رض) سے حضرت اسود اور حضرت مسروق کے بارے میں روایت ہے کہ وہ دونوں ام المومینن کے پاس آئے اور آپ سے پوچھا پھر آکر اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔
و حَدَّثَنِيهِ يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ وَمَسْرُوقٍ أَنَّهُمَا دَخَلَا عَلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ لِيَسْأَلَانِهَا فَذَکَرَ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৮১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن بن موسی، شیبان، یحییٰ بن ابی کثیر، ابی سلمہ، عمر بن عبدالعزیز، عروہ بن زبیر، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) خبر دیتی ہیں کہ رسول اللہ روزہ کی حالت میں میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৮২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
یحییٰ بن بشرحریری، معاویہ، حضرت یحییٰ بن کثیر سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৮৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحیی، ابواحوص، زیاد بن علاقہ، عمرو بن میمون، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزوں کے مہینہ میں اپنی کسی زوجہ مطہرہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৮৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
محمد بن حاتم، بہزبن اسد، ابوبکر نہشلی، زیاد بن علاقہ، عمرو بن میمون، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ مطہرہ (رض) کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّهْشَلِيُّ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ صَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৮৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
محمد بن بشار، عبدالرحمن، سفیان، ابی زناد، علی بن حسین، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی زوجہ مطہرہ کا روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৮৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحیی، ابومعاویہ، اعمش، مسلم، شتیربن شکل، حضرت حفصہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ مطہرہ کا بوسہ لے لیا کرتے تھے
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَکَلٍ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৮৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
ابوربیع زہرانی، ابوعوانہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، مسلم، شتیر بن شکل، اس سند کے ساتھ حضرت حفصہ (رض) نے نبی سے اسی طرح حدیث نقل فرمائی ہے
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ جَرِيرٍ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَکَلٍ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৮৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، عبدربہ بن سعید، عبداللہ بن کعب حمیری، حضرت عمر بن ابی سلمہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا روزہ دار بوسہ لے سکتا ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن سلمہ سے فرمایا کہ یہ حضرت ام سلمہ (رض) سے پوچھو تو حضرت ام سلمہ (رض) نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح کرتے ہیں حضرت عمر بن سلمہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دئیے ہیں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن سلمہ سے فرمایا سنو اللہ کی قسم ! میں تم میں سب سے زیادہ تقوی والا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلْ هَذِهِ لِأُمِّ سَلَمَةَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِکَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَتْقَاکُمْ لِلَّهِ وَأَخْشَاکُمْ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৮৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی ہونے کی حالت میں جس پر فجر طلوع ہوجائے تو اسکا روزہ درست ہے
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق بن ہمام، ابن جریج، عبدالملک بن ابی بکربن عبدالرحمن، حضرت ابوبکر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ وہ اپنی روایات بیان کرتے ہیں جس آدمی نے جنبی حالت میں صبح کی تو وہ روزہ نہ رکھے، راوی حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر اپنے باپ عبدالرحمن بن حارث سے کیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا تو حضرت عبدالرحمن چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ حضرت عائشہ (رض) اور حضرت ام سلمہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عبدالرحمن نے ان دونوں سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ احتلام کے بغیر جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے پھر آپ ﷺ روزہ رکھتے راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم چلے یہاں تک کہ مروان کے پاس آگئے حضرت عبدالرحمن نے مروان سے اس بارے میں ذکر کیا تو مروان نے کہا کہ میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ تم ضرور حضرت ابوہریرہ (رض) کی طرف جاؤ اور اس کی تردید کرو جو وہ کہتے ہیں تو ہم حضرت ابوہریرہ (رض) کے پاس آئے اور حضرت ابوبکر (رض) بھی وہاں موجود تھے حضرت عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہ سارا کچھ ذکر کیا حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کیا ان دونوں نے تجھ سے یہ فرمایا ہے ؟ حضرت عبدالرحمن (رض) نے کہا کہ ہاں حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ وہ دونوں اس مسئلہ کو زیادہ جانتی ہیں پھر حضرت ابوہریرہ (رض) نے اپنے اس قول کی جو کہ آپ نے فضل بن عباس (رض) سے سنا تھا اس کی تردید کردی اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے یہ فضل بن عباس (رض) سے سنا تھا اور نبی ﷺ سے نہیں سنا راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے اپنے قول سے رجوع کرلیا جو وہ کہا کرتے تھے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عبدالملک سے کہا کہ کیا ان دونوں نے یہ حدیث رمضان کے بارے میں بیان کی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ بغیر احتلام کے جنبی حالت میں صبح اٹھتے پھر آپ روزہ رکھتے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَکْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُصُّ يَقُولُ فِي قَصَصِهِ مَنْ أَدْرَکَهُ الْفَجْرُ جُنُبًا فَلَا يَصُمْ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ لِأَبِيهِ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسَأَلَهُمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ذَلِکَ قَالَ فَکِلْتَاهُمَا قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی مَرْوَانَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ مَرْوَانُ عَزَمْتُ عَلَيْکَ إِلَّا مَا ذَهَبْتَ إِلَی أَبِي هُرَيْرَةَ فَرَدَدْتَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ قَالَ فَجِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبُو بَکْرٍ حَاضِرُ ذَلِکَ کُلِّهِ قَالَ فَذَکَرَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَهُمَا قَالَتَاهُ لَکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ هُمَا أَعْلَمُ ثُمَّ رَدَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا کَانَ يَقُولُ فِي ذَلِکَ إِلَی الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ ذَلِکَ مِنْ الْفَضْلِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَجَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَمَّا کَانَ يَقُولُ فِي ذَلِکَ قُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِکِ أَقَالَتَا فِي رَمَضَانَ قَالَ کَذَلِکَ کَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ ثُمَّ يَصُومُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৯০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی ہونے کی حالت میں جس پر فجر طلوع ہوجائے تو اسکا روزہ درست ہے
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، ابی بکربن عبدالرحمن، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ ﷺ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَأَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِکُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ غَيْرِ حُلُمٍ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৯১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی ہونے کی حالت میں جس پر فجر طلوع ہوجائے تو اسکا روزہ درست ہے
ہارون بن سعید، ابن وہب، عمرو، ابن حارث، عبدربہ، حضرت عبداللہ بن کعب حمیری (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ مروان نے ان کو حضرت ام سلمہ (رض) کی طرف ایک آدمی کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا کہ وہ جنبی حالت میں صبح اٹھتا ہے کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے ؟ تو حضرت ام سلمہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ افطار نہ کرتے اور نہ ہی اس کی قضا کرتے۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ مَرْوَانَ أَرْسَلَهُ إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَسْأَلُ عَنْ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ فَقَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ لَا مِنْ حُلُمٍ ثُمَّ لَا يُفْطِرُ وَلَا يَقْضِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৯২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی ہونے کی حالت میں جس پر فجر طلوع ہوجائے تو اسکا روزہ درست ہے
یحییٰ بن یحیی، مالک، عبدربہ بن سعید، ابی بکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) اور حضرت ام سلمہ (رض) نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں جماع کی وجہ سے نہ کہ احتلام کی وجہ سے جنبی حالت میں صبح کرتے پھر آپ ﷺ روزہ رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَيْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا قَالَتَا إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ يَصُومُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৯৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی ہونے کی حالت میں جس پر فجر طلوع ہوجائے تو اسکا روزہ درست ہے
یحییٰ بن یحیی، ایوب، قتیبہ، ابن حجر، ابن ایوب، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن عبدالرحمن، ابن معمر بن حزم انصاری، ابوطوالہ، یونس، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے آیا اور وہ دروازہ کے پیچھے سے سن رہی تھیں اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! جنبی حالت میں ہوتا ہوں کہ نماز کا وقت ہوجاتا ہے تو کیا میں اس وقت روزہ رکھ سکتا ہوں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں بھی تو نماز کے وقت جنبی حالت میں اٹھتا ہوں تو میں بھی تو روزہ رکھتا ہوں تو اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ ہماری طرح تو نہیں ہیں اللہ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیئے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور میں تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں ان چیزوں کو جن سے بچنا چاہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ أَبُو طُوَالَةَ أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَی عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ وَهِيَ تَسْمَعُ مِنْ وَرَائِ الْبَابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُدْرِکُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ أَفَأَصُومُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا تُدْرِکُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَصُومُ فَقَالَ لَسْتَ مِثْلَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَکُونَ أَخْشَاکُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمَکُمْ بِمَا أَتَّقِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৯৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی ہونے کی حالت میں جس پر فجر طلوع ہوجائے تو اسکا روزہ درست ہے
احمد بن عثمان نوفلی، ابوعاصم، ابن جریج، محمد بن یوسف، حضرت سلیمان بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ (رض) سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا کہ وہ جنبی حالت میں صبح کرتا ہے تو کیا وہ آدمی روزہ رکھ سکتا ہے ؟ حضرت ام سلمہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جبنی حالت میں بغیر احتلام کے صبح کرتے پھر آپ روزہ رکھتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ
তাহকীক: