আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৮৫ টি
হাদীস নং: ২৫৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر، ابن عیینہ، سفیان بن عیینہ، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں ہلاک ہوگیا آپ نے فرمایا تو کیسے ہلاک ہوگیا ؟ اس نے عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے آپ نے فرمایا کیا تو ایک غلام آزاد کرسکتا ہے ؟ اس نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا کیا تو مسلسل دو مہینے روزے رکھ سکتا ہے ؟ اس نے عرض کیا نہیں، آپ نے فرمایا تو کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ نہیں، راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی بیٹھ گیا نبی ﷺ کی خدمت میں ایک ٹو کرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں آپ ﷺ نے فرمایا ان کو محتاجوں میں صدقہ کردو اس نے عرض کیا کیا ہم سے بھی زیادہ محتاج ہے ؟ مدینہ کے دونوں اطراف کے درمیان والے گھروں میں کوئی گھر ایسا نہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہو نبی ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں پھر آپ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا جا اور اسے اپنے گھر والوں کو کھلا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلَکْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمَا أَهْلَکَکَ قَالَ وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ قَالَ هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً قَالَ لَا قَالَ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا قَالَ فَهَلْ تَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْکِينًا قَالَ لَا قَالَ ثُمَّ جَلَسَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ تَصَدَّقْ بِهَذَا قَالَ أَفْقَرَ مِنَّا فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا فَضَحِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، حضرت محمد بن مسلم زہری (رض) سے اس سند کے ساتھ اس طرح روایت نقل کی گئی ہے اور راوی نے کہا کہ اس میں اس ٹوکرے کا ذکر نہیں ہے جس میں کھجوریں تھیں یعنی زنبیل اور وہ یہ بھی ذکر نہیں کرتے کہ نبی ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی ڈاڑھیں ظاہر ہوگئیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَقَالَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ وَلَمْ يَذْکُرْ فَضَحِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ أَنْيَابُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، لیث، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن بن عوف، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی اور پھر رسول اللہ ﷺ سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو ایک غلام آزاد کرسکتا ہے ؟ اس نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو دو مہینے کے روزے رکھ سکتا ہے اس نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ فَاسْتَفْتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً قَالَ لَا قَالَ وَهَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ قَالَ لَا قَالَ فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْکِينًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں
محمد بن رافع، اسحاق بن عیسی، مالک، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ افطار کرلیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم فرمایا کہ ایک غلام آزاد کر کے کفارہ ادا کرے پھر ابن عیینہ کی حدیث کی طرح حدیث ذکر فرمائی۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَی أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُکَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو حکم فرمایا جس آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ لیا تھا اسے چاہیے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْکِينًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری (رض) سے اس سند کے ساتھ ابن عیینہ کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں
محمد بن رمح، ابن مہاجر، لیث، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن قاسم، محمد بن جعفر، ابن زبیر، عباد بن عبداللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں تو جل گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیوں ؟ اس نے عرض کی کیا کہ میں نے رمضان کے دنوں میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرلی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا صدقہ کر، صدقہ کر، اس آدمی نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے تو آپ ﷺ نے اسے حکم فرمایا کہ وہ بیٹھ جائے تو آپ کی خدمت میں دو ٹوکرے آئے جس میں کھانا تھا تو آپ ﷺ نے اس آدمی کو حکم فرمایا کہ اس کو صدقہ کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ احْتَرَقْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَ قَالَ وَطِئْتُ امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ نَهَارًا قَالَ تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ قَالَ مَا عِنْدِي شَيْئٌ فَأَمَرَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَجَائَهُ عَرَقَانِ فِيهِمَا طَعَامٌ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں
محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن قاسم، محمد بن جعفر بن زبیر، عبداللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور پھر حدیث ذکر فرمائی اور اس میں صدقہ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی دن کا ذکر ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ أَتَی رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ وَلَيْسَ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ وَلَا قَوْلُهُ نَهَارًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے دنوں میں روزہ دار ہم بستری کی حرمت اور اس کے کفارہ کے وجوب کے بیان میں
ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، عبدالرحمن بن قاسم، محمد بن جعفر بن زبیر، عباد بن عبداللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں رمضان میں مسجد میں آیا اور اس سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں تو جل گیا میں تو جل گیا رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ تو اس نے عرض کیا کہ میں نے اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے آپ نے فرمایا صدقہ کر تو اس نے عرض کیا اللہ کی قسم ! اے اللہ کے نبی ﷺ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں اور میں اس پر قدرت بھی نہیں رکھتا آپ ﷺ نے فرمایا بیٹھ جا تو وہ بیٹھ گیا اسی دوران ایک آدمی اپنا گدھا ہانکتے ہوئے لایا جس پر کھانا رکھا ہوا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ جلنے والا آدمی کہاں ہے ؟ وہ آدمی کھڑا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو صدقہ کر تو اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ہمارے علاوہ بھی (کوئی صدقہ کا مستحق ہے) اللہ کی قسم ہم بھوکے ہیں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا تم ہی اسے کھالو۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ أَتَی رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْتَرَقْتُ احْتَرَقْتُ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ فَقَالَ أَصَبْتُ أَهْلِي قَالَ تَصَدَّقْ فَقَالَ وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَالِي شَيْئٌ وَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ قَالَ اجْلِسْ فَجَلَسَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَی ذَلِکَ أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقْ بِهَذَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَيْرَنَا فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَيْئٌ قَالَ فَکُلُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، بن سعید، لیث، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ والے سال رمضان میں نکلے تو آپ نے روزہ رکھا جب آپ کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ نے روزہ افطار کرلیا راوی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ آپ ﷺ کے ہر نئے سے نئے حکم کی پیروی کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّی بَلَغَ الْکَدِيدَ ثُمَّ أَفْطَرَ قَالَ وَکَانَ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمر، اسحاق بن ابراہیم، سفیان، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے سفیان نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس کا قول ہے اور رسول اللہ ﷺ کے آخری قول کو لیا جاتا تھا ؟
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ قَالَ يَحْيَی قَالَ سُفْيَانُ لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ مَنْ هُوَ يَعْنِي وَکَانَ يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری (رض) سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور زہری نے کہا کہ روزہ افطار کرنا آخری عمل تھا اور رسول اللہ ﷺ کے آخری عمل ہی کو اپنایا جاتا ہے زہری نے کہا کہ نبی ﷺ رمضان کی تیرہ تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَکَانَ الْفِطْرُ آخِرَ الْأَمْرَيْنِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، لیث اس سند کے ساتھ ابن شہاب سے لیث کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے ابن شہاب نے فرمایا کہ وہ لوگ آپ ﷺ کے آخری عمل کی پیروی کرتے تھے اور آپ ﷺ کے آخری عمل کو ناسخ قرار دیتے تھے۔
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَکَانُوا يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ وَيَرَوْنَهُ النَّاسِخَ الْمُحْکَمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، مجاہد، طاو س، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں ایک سفر میں تھے تو آپ ﷺ نے روزہ رکھا جب آپ عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ نے ایک برتن منگوایا جس میں کوئی پینے کی چیز تھی آپ ﷺ نے اسے دن کے وقت میں پیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں پھر آپ نے روزہ نہیں رکھا یہاں تک کہ آپ ﷺ مکہ میں داخل ہوگئے حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر کے دوران روزہ رکھا بھی اور نہیں بھی رکھا تو جو چاہے سفر میں روزہ رکھ لے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّی بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِإِنَائٍ فِيهِ شَرَابٌ فَشَرِبَهُ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّی دَخَلَ مَکَّةَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ أَفْطَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں
ابوکریب، وکیع، سفیان، عبدالکریم، طاو س، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم برا بھلا نہیں کہتے تھے کہ جو آدمی سفر میں روزہ رکھے اور نہ ہی برا بھلا کہتے ہیں جو آدمی سفر میں روزہ نہ رکھے تحقیق رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ رکھا بھی اور روزہ افطار بھی کیا ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْکَرِيمِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَا تَعِبْ عَلَی مَنْ صَامَ وَلَا عَلَی مَنْ أَفْطَرَ قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، ابن عبدالمجید، جعفر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ والے سال رمضان میں مکہ کی طرف نکلے تو آپ ﷺ نے روزہ رکھا جب آپ کراع الغمیم پہنچے تو لوگوں نے بھی روزہ رکھا پھر آپ ﷺ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا پھر اسے بلند کیا یہاں تک کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا پھر آپ نے وہ پی لیا اس کے بعد آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ نافرمان ہیں یہ لوگ نافرمان ہیں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَی مَکَّةَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّی بَلَغَ کُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَائٍ فَرَفَعَهُ حَتَّی نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِکَ إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ فَقَالَ أُولَئِکَ الْعُصَاةُ أُولَئِکَ الْعُصَاةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، حضرت جعفر (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہو رہا ہے اور وہ اس بارے میں انتظار کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ کیا کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے عصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ منگوایا۔
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ جَعْفَرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمْ الصِّيَامُ وَإِنَّمَا يَنْظُرُونَ فِيمَا فَعَلْتَ فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَائٍ بَعْدَ الْعَصْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، غندر، شعبہ، محمد بن عبدالرحمن، ابن سعد، محمد بن عمرو بن حسن، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے آپ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے ارد گرد جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا گیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس آدمی کو کیا ہوا ؟ لوگوں نے عرض کیا یہ ایک آدمی ہے جس نے روزہ رکھا ہوا ہے تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ نیکی نہیں کہ تم سفر میں روزہ رکھو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَی رَجُلًا قَدْ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا لَهُ قَالُوا رَجُلٌ صَائِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، محمد بن عبدالرحمن، محمد بن عمرو بن حسن، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا رَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬১৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کے بیان میں
احمد بن عثمان نوفلی، ابوداود، شعبہ، یحییٰ بن ابی کثیر اس طرح ایک اور سند کے ساتھ بھی یہ روایت نقل کی گئی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو رخصت عطاء فرمائی ہے اس پر عمل کرنا تمہارے لئے ضروری ہے راوی نے کہا کہ جب میں نے ان سے سوال کیا تو ان کو یاد نہیں تھا۔
و حَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ وَکَانَ يَبْلُغُنِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّهُ کَانَ يَزِيدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَفِي هَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّهُ قَالَ عَلَيْکُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّذِي رَخَّصَ لَکُمْ قَالَ فَلَمَّا سَأَلْتُهُ لَمْ يَحْفَظْهُ
তাহকীক: