আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৮৫ টি

হাদীস নং: ২৫৫৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں
قتیبہ، یعقوب، زہیر بن حرب، عبدالرحمن ابن مہدی، سفیان، حضرت سہل بن سعد (رض) نے نبی کریم ﷺ سے اسی حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابوکریب، محمد بن علاء، ابومعاویہ، اعمش، عمارہ بن عمیر، حضرت ابوعطیہ (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور مسروق دونوں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ام المومینن ! محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز میں بھی جلدی کرتا ہے دوسرا ساتھی افطاری میں تاخیر کرتا ہے اور نماز میں بھی تاخیر کرتا ہے ؟ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا کہ ان میں سے وہ کون ہیں جو افطاری میں جلدی کرتے ہیں اور نماز بھی جلدی پڑھتے ہیں حضرت ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ وہ حضرت عبداللہ (رض) ہیں یعنی ابن مسعود، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے اب کریب کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ دوسرے ساتھی حضرت ابوموسی (رض) ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ قَالَتْ أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ قَالَ قُلْنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَتْ کَذَلِکَ کَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَ أَبُو کُرَيْبٍ وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَی
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں
ابوکریب، ابن ابی زائدہ، اعمش، عمارہ، حضرت ابوعطیہ (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور حضرت مسروق (رض) حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے حضرت مسروق (رض) نے عرض کیا کہ محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ایسے ہیں جو بھلائی کے بارے میں کمی نہیں کرتے ان میں سے ایک مغرب کی نماز اور افطاری میں جلدی کرتا ہے دوسرا مغرب کی نماز اور افطاری میں تاخیر کرتا ہے تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ مغرب کی نماز اور افطاری میں کون جلدی کرتا ہے ؟ مسروق (رض) نے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کِلَاهُمَا لَا يَأْلُو عَنْ الْخَيْرِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ فَقَالَتْ مَنْ يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَتْ هَکَذَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابوکریب، ابن نمیر، یحییٰ ، ابومعاویہ، ابن نمیر، ابوکریب، اسامہ، ہشام، عروہ، عاصم، ابن عمر، حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب رات آجائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کرلینا چاہیے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَاتَّفَقُوا فِي اللَّفْظِ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي و قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ وَغَابَتْ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ لَمْ يَذْکُرْ ابْنُ نُمَيْرٍ فَقَدْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৫৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں
یحییٰ بن یحییٰ ، ہشیم، ابی اسحاق شیبانی، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے مہینے میں ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا اے فلاں ! اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ابھی تو دن ہے آپ نے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا تو وہ اترا اور اس نے ستو ملا کر آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا نبی ﷺ نے ستو پیا پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے فرمایا جب سورج اس طرف سے غروب ہوجائے اور اس طرف سے رات آجائے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کرلینا چاہیے۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ يَا فُلَانُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيْکَ نَهَارًا قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ فَنَزَلَ فَجَدَحَ فَأَتَاهُ بِهِ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا وَجَائَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عباد بن عوام، شیبانی، حضرت ابن ابی اوفیٰ (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپ ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر آپ شام ہونے دیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا ابھی تو دن ہے وہ اترا اور اس نے ستو ملایا آپ ﷺ نے ستو پیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات اس طرف آگئی ہے اور آپ ﷺ نے مشرق کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا تو روزہ دار کو روزہ افطار کرلینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ لِرَجُلٍ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ إِنَّ عَلَيْنَا نَهَارًا فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں
ابوکامل، عبدالواحد، سلیمان شیبانی، حضرت عبداللہ بن اوفی (رض) فرماتے ہیں کہ تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور آپ ﷺ روزہ کی حالت میں تھے تو جب سورج غروب ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے فلاں ! اتر اور ہمارے لئے ستو لا آگے حدیث اسی طرح ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُا سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمَّا غَرَبَتْ الشَّمْسُ قَالَ يَا فُلَانُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں
ابن ابی عمر، سفیان، اسحاق، جریر، شیبانی، ابن ابی اوفی، عبیداللہ بن معاذ، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ اس سند کے ساتھ حضرت ابن اوفی (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے لیکن اس میں بعض الفاظ کی کمی ہے۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَی ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادٍ وَعَبْدِ الْوَاحِدِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَلَا قَوْلُهُ وَجَائَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا إِلَّا فِي رِوَايَةِ هُشَيْمٍ وَحْدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
یحییٰ بن یحییٰ ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْوِصَالِ قَالُوا إِنَّکَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ کَهَيْئَتِکُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَی
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں وصال فرمایا (یعنی بغیر افطاری کے مسلسل روزے رکھے) لہذا صحابہ (رض) نے بھی وصال شروع کردیا تو آپ ﷺ نے ان کو منع فرمایا۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ بھی تو وصال کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ فَوَاصَلَ النَّاسُ فَنَهَاهُمْ قِيلَ لَهُ أَنْتَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَکُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَی
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
عبدالوارث بن عبدالصمد، ایوب، نافع، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا ہے لیکن اس میں رمضان کا لفظ نہیں۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ فِي رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے وصال سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ بھی تو مسلسل روزے رکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے میری طرح کون ہے ؟ میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے جب اس کے باوجود صحابہ (رض) صوم وصال سے نہ رکے تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ ایک افطاری کے بغیر روزہ رکھا پھر افطار کے بغیر روزہ رکھا پھر انہوں نے چاند دیکھ لیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر چاند تاخیر کرتا تو میں اور زیادہ وصال کرتا گویا کہ آپ ﷺ نے ان کے نہ رکنے پر نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوَاصِلُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَيُّکُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ فَقَالَ لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُکُمْ کَالْمُنَکِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
زہیر بن حرب، اسحاق، زہیر، جریر، عمارہ، ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم اس معاملہ میں میری طرح نہیں ہو کیونکہ میں اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے تو تم وہ کام کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاکُمْ وَالْوِصَالَ قَالُوا فَإِنَّکَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّکُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِکَ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَاکْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
قتیبہ، مغیرہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کام کی تم طاقت رکھو وہی کام کرو
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَاکْلَفُوا مَا لَکُمْ بِهِ طَاقَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
ابن نمیر، اعمش، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی سے اسی طرح روایت کیا ہے جس میں ہے کہ آپ نے وصال سے منع فرمایا۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ الْوِصَالِ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
زہیر بن حرب ابونضر ہاشم بن قاسم سلیمان ثابت حضرت انس (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے تو میں آکر آپ ﷺ کے پہلو کی جانب کھڑا ہوگیا یہاں تک کہ ہماری ایک جماعت بن گئی جب نبی ﷺ نے محسوس فرمایا کہ میں آپ کے پیچھے ہوں تو آپ نے نماز میں تخفیف شروع فرما دی پھر آپ گھر میں داخل ہوئے آپ نے ایک ایسی نماز پڑھی جیسی نماز آپ ہمارے ساتھ نہیں پڑھتے تھے جب صبح ہوئی تو ہم نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ کیا رات آپ کو ہمارا علم ہوگیا تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اسی وجہ سے وہ کام کیا جو میں نے کیا حضرت انس کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے وصال کے روزے رکھنے شروع فرما دئیے وہ مہینہ کے آخر میں تھے آپ کے صحابہ سے بھی کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کر دئیے تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ صوم وصال کیوں رکھ رہے ہیں ؟ تم لوگ میری طرح نہیں ہو اللہ کی قسم اگر یہ مہینہ لمبا ہوتا تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَی جَنْبِهِ وَجَائَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَامَ أَيْضًا حَتَّی کُنَّا رَهْطًا فَلَمَّا حَسَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ جَعَلَ يَتَجَوَّزُ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ دَخَلَ رَحْلَهُ فَصَلَّی صَلَاةً لَا يُصَلِّيهَا عِنْدَنَا قَالَ قُلْنَا لَهُ حِينَ أَصْبَحْنَا أَفَطَنْتَ لَنَا اللَّيْلَةَ قَالَ فَقَالَ نَعَمْ ذَاکَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَی الَّذِي صَنَعْتُ قَالَ فَأَخَذَ يُوَاصِلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاکَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَأَخَذَ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يُوَاصِلُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ إِنَّکُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي أَمَا وَاللَّهِ لَوْ تَمَادَّ لِي الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
عاصم بن نضرتیمی، خالد، ابن حارث، حمید، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے مہینہ کے آخر میں وصال کے روزے رکھے تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے وصال کے روزے رکھنے شروع کر دئیے آپ ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر ہمارے لئے یہ مہینہ لمبا ہوجائے تو میں اس قدر وصال کے روزے رکھتا کہ ضد کرنے والے اپنی ضد چھوڑ دیتے کیونکہ تم میری طرح نہیں ہو یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ شَهْرِ رَمَضَانَ فَوَاصَلَ نَاسٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَبَلَغَهُ ذَلِکَ فَقَالَ لَوْ مُدَّ لَنَا الشَّهْرُ لَوَاصَلْنَا وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ إِنَّکُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي أَوْ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَکُمْ إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عثمان بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان کو شفقت کے طور پر وصال کے روزوں سے منع فرمایا صحابہ کرام نے عرض کیا کہ آپ ﷺ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ عَبْدَةَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ نَهَاهُمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ فَقَالُوا إِنَّکَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ کَهَيْئَتِکُمْ إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
علی بن حجر، سفیان، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کا بوسہ لے لیا کرتے تھے (یہ فرما کر) حضرت عائشہ صدیقہ (رض) مسکرا پڑیں۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ إِحْدَی نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَضْحَکُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ روزہ میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا حرام نہیں شرط یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔
علی بن حجر، ابن ابی عمر، حضرت سفیان (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن قاسم سے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے باپ کو عائشہ (رض) سے روایت بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ روزہ کی حالت میں ان کو بوسہ لے لیا کرتے تھے ؟ حضرت عبدالرحمن تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا ہاں
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَسَمِعْتَ أَبَاکَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَسَکَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক: