আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৮৫ টি
হাদীস নং: ২৭৩৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، ابوالعباس اس سند کے ساتھ بھی یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوالعباس سائب بن فروخ مکہ والوں میں سے ہیں اور ثقہ اور عادل ہیں۔
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ إِنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ قَالَ مُسْلِم أَبُو الْعَبَّاسِ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ ثِقَةٌ عَدْلٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حبیب، حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عبداللہ تو ہمیشہ روزے رکھتا ہے اور رات بھر قیام کرتا ہے اور اگر تو اسی طرح کرے گا تو تیری آنکھیں خراب ہوجائیں گی اور کمزور ہوجائیں گی کوئی روزے (قبول) نہیں جس نے ہمیشہ روزے رکھے مہینے میں سے تین دنوں کے روزے رکھنا سارے مہینے کے روزے رکھنے کے برابر ہے میں نے عرض کی کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے رکھ لے کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور نہیں بھاگتے تھے جب کسی دشمن سے ملاقات ہوجاتی۔
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ سَمِعَ أَبَا الْعَبَّاسِ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنَّکَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ وَإِنَّکَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِکَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ وَنَهَکَتْ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ الشَّهْرِ صَوْمُ الشَّهْرِ کُلِّهِ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ کَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
ابوکریب، ابن بشر، مسعر، حبیب بن ابی ثابت اس سند کے ساتھ حضرت حبیب بن ابی ثابت (رض) نے ہمیں بیان کیا اور فرمایا وہ خود کمزور ہو جائیگے۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ وَنَفِهَتْ النَّفْسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عمرو، ابی العباس، حضرت ابن عمر و بن عاص (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تو رات بھر قیام کرتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے ؟ حضرت عبداللہ (رض) نے عرض کیا میں اسی طرح کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو اس طرح کرے گا تو تیری آنکھیں خراب ہوجائیں گی اور تیرا نفس کمزور ہوجائے گا تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے گھر والوں کا بھی تجھ پر حق ہے تو قیام بھی کر اور نیند بھی کر اور روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ قُلْتُ إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِکَ قَالَ فَإِنَّکَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِکَ هَجَمَتْ عَيْنَاکَ وَنَفِهَتْ نَفْسُکَ لِعَيْنِکَ حَقٌّ وَلِنَفْسِکَ حَقٌّ وَلِأَهْلِکَ حَقٌّ قُمْ وَنَمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، عمرو یعنی ابن دینار، عمرو بن اوس، حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روزوں میں سے سب سے پسندیدہ روزے اللہ کے نزدیک حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں اور نماز میں اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نماز ہے وہ آدھی رات سوتے تھے اور تیسرا حصہ قیام کرتے تھے رات کا چھٹا حصہ سوتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے جبکہ ایک دن افطار کرتے تھے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّ الصِّيَامِ إِلَی اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ وَأَحَبَّ الصَّلَاةِ إِلَی اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام کَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَکَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عمرو بن دینار، عمرو بن اوس، حضرت عمرو بن عاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں اور وہ آدھا زمانہ روزے رکھتے تھے اور نماز میں اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نماز ہے وہ آدھی رات سوتے تھے پھر قیام کرتے تھے پھر آپ سو جاتے اور آدھی رات کے بعد رات کے تیسرے حصہ میں قیام کرتے راوی کہتے ہیں کہ میں عمر بن دینار سے کہا کہ کیا عمرو بن عاص آدھی رات کے بعد رات کے تیسرے حصہ میں قیام کرتے تھے تو انہوں نے کہا ہاں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَی اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ کَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام کَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ قَالَ قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَعَمْرُو بْنُ أَوْسٍ کَانَ يَقُولُ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، خالد، ابی قلابہ، ابوملیح، حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے میرے روزوں کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ میری طرف تشریف لائے میں نے آپ ﷺ کے لئے چمڑے کا گدا بچھایا جس میں کھجوروں کی چھال بھری ہوئی تھے تو آپ ﷺ زمین پر بیٹھ گئے اور وہ گدا میرے اور آپ ﷺ کے درمیان تھا تو آپ نے مجھے فرمایا کیا تجھے ہر مہینے تین دن کے روزے کافی نہیں ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا پانچ، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول، آپ ﷺ نے فرمایا سات میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول، آپ نے فرمایا نو، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول، آپ نے فرمایا گیارہ، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول، تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزوں سے بڑھ کر اور کوئی روزہ نہیں کہ انہوں نے آدھا زمانہ روزے رکھے وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِيکَ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُکِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَيَّ فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَجَلَسَ عَلَی الْأَرْضِ وَصَارَتْ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ لِي أَمَا يَکْفِيکَ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خَمْسًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ سَبْعًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تِسْعًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَحَدَ عَشَرَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرُ الدَّهْرِ صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، زیاد بن فیاض، حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تو ایک دن کا روزہ رکھ اور یہ تیرے لئے باقی دنوں کا بھی اجر بن جائے گا حضرت عبداللہ (رض) نے عرض کیا کہ میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ نے فرمایا کہ تو دو دونوں کو روزہ رکھ اور یہ تیرے لئے باقی دنوں کا بھی اجر بن جائے گا حضرت عبداللہ (رض) نے عرض کیا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو تین دن روزے رکھ اور یہ تیرے باقی دنوں کے لئے بھی اجر بن جائیں گے حضرت عبداللہ (رض) نے عرض کیا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ نے فرمایا کہ تو چار دنوں کے روزے رکھ لے اور یہ تیرے باقی دنوں کے لئے بھی اجر بن جائیں گے حضرت عبداللہ (رض) نے عرض کیا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ نے فرمایا کہ تو وہ روزے رکھ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ فضیلت والے ہیں وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ صُمْ يَوْمًا وَلَکَ أَجْرُ مَا بَقِيَ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَکَ أَجْرُ مَا بَقِيَ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَکَ أَجْرُ مَا بَقِيَ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَکَ أَجْرُ مَا بَقِيَ قَالَ إِنِّي أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ صُمْ أَفْضَلَ الصِّيَامِ عِنْدَ اللَّهِ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام کَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
زہیر بن حرب، محمد بن حاتم، ابن مہدی، زہیر، عبدالرحمن بن مہدی، سلیم بن حیان، سعید بن میناء، حضرت ابن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے عبداللہ بن عمرو مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو دن کو روزہ رکھتا اور رات بھر قیام کرتا ہے تو اس طرح نہ کر کیونکہ تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے تو روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر ہر مہینے میں سے تین دنوں کے روزے رکھ یہ زمانے کے روزوں کی طرح ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے رکھ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے رھے حضرت عبداللہ فرمایا کرتے تھے کہ کاش کہ میں نے آپ ﷺ کی طرف سے دی گئی رخصت پر عمل کرلیا ہوتا۔
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ مَهْدِيٍّ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَائَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بَلَغَنِي أَنَّکَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَلَا تَفْعَلْ فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَظًّا وَلِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَظًّا وَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَيْکَ حَظًّا صُمْ وَأَفْطِرْ صُمْ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَذَلِکَ صَوْمُ الدَّهْرِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِي قُوَّةً قَالَ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا فَکَانَ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں
شیبان بن فروخ، عبدالوارث، یزید، حضرت معاذہ عدویہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دنوں کے روزے رکھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں تو میں نے عرض کیا کہ مہینے کے کن دنوں کے روزے رکھتے تھے ؟ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا کہ دنوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے مہینے کے جن دنوں میں سے چاہتے روزے رکھ لیتے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْکِ قَالَ حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ الْعَدَوِيَّةُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ قَالَتْ نَعَمْ فَقُلْتُ لَهَا مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ کَانَ يَصُومُ قَالَتْ لَمْ يَکُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ يَصُومُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں
عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، مہدی، ابن میمون، غیلان بن جریر، مطرف، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے یا کسی آدمی سے فرمایا اور وہ سن رہے تھے اے فلاں ! کیا تو نے اس مہینے کے درمیان میں سے روزے رکھے ہیں ؟ اس نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو افطار کرلے تو دو دنوں کے اور روزے رکھنا۔
و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ قَالَ لِرَجُلٍ وَهُوَ يَسْمَعُ يَا فُلَانُ أَصُمْتَ مِنْ سُرَّةِ هَذَا الشَّهْرِ قَالَ لَا قَالَ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، حماد، حماد بن زید، غیلان، عبداللہ بن معبد زمانی، حضرت ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ آپ ﷺ روزے کیسے رکھتے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ اس کی بات سے غصہ میں آگئے (یعنی اس لئے کہ یہ سوال بےموقع تها۔ اس کو لازم تها کہ یوں پوچهتا کہ میں روزے کیسے رکهوں ؟ ) اور جب حضرت عمر (رض) نے آپ کو غصہ کی حالت میں دیکھا تو کہنے لگے (رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ ) ہم اللہ تعالیٰ تعالیٰ سے اس کو رب مانتے ہوئے اور اسلام کو دین مانتے ہوئے اور محمد ﷺ کو نبی مانتے ہوئے راضی ہیں ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے اور اس کے رسول ﷺ کے غضب سے حضرت عمر (رض) اپنے اس کلام کو بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو حضرت عمر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو آدمی ساری ساری عمر روزے رکھے اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس نے افطار کیا حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ جو آدمی دو دن روزے رکھے اور ایک دن افطار کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ کون ہے جو اس کی طاقت رکھتا ہو ؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ جو آدمی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ جو آدمی ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی پھر آپ ﷺ نے فرمایا ہر مہینے تین دن روزے رکھنا اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا پورے ایک زمانہ کے روزے کے برابر ہے اور عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ یہ ایک سال پہلے کے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور عاشورہ کے دن روزہ رکھنے سے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ یہ ایک روزہ اس کے ایک سال پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ غَيْلَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَجُلٌ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کَيْفَ تَصُومُ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَی عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَضَبَهُ قَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُرَدِّدُ هَذَا الْکَلَامَ حَتَّی سَکَنَ غَضَبُهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ کُلَّهُ قَالَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ قَالَ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ قَالَ کَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ وَيُطِيقُ ذَلِکَ أَحَدٌ قَالَ کَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ ذَاکَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ کَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ قَالَ وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِکَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَی رَمَضَانَ فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ کُلِّهِ صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّهِ أَنْ يُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَائَ أَحْتَسِبُ عَلَی اللَّهِ أَنْ يُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، غیلان بن جریر، عبداللہ بن معبد زمانی، حضرت ابوقتادہ انصاری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو رسول اللہ غصہ ہوگئے تو حضرت عمر (رض) عرض کرنے لگے ہم اللہ تعالیٰ کو رب مانتے ہوئے اور اسلام کو دین مانتے ہوئے اور محمد ﷺ کو رسول مانتے ہوئے راضی ہیں اور جو ہم نے بیعت کی اس بیعت پر بھی راضی ہیں راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ سے صوم دہر (ساری عمر کے روزے) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس نے افطار کیا راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ سے دو دن کے روزے اور ایک دن افطار کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کون اس کی طاقت رکهتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ سے ﷺ سے ایک دن روزہ اور دو دن افطار کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ روزے میرے بھائی حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ سے سوموار کے دن کے روزہ کے بارے میں پوچھا گیا آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ دن ہے جس میں مجھے پیدا کیا گیا اور اسی دن مجھے مبعوث کیا گیا اسی دن مجھ پر (قرآن) نازل کیا گیا راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہر مہینے تین روزے اور ایک رمضان کے بعد دوسرے رمضان کے روزے رکھنا ساری عمر کے روزوں کے برابر ہے راوی کہتے ہیں آپ ﷺ سے عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا گزرے ہوئے سال اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے راوی کہتے ہیں کہ آپ سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا آپ ﷺ نے فرمایا یہ روزہ رکھنا گزرے ہوئے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے امام مسلم فرماتے ہیں اور اس حدیث میں شعبہ کی روایت میں ہے آپ ﷺ سے پیر اور جمعرات کے دن کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ہم جمعرات کے ذکر سے خاموش رہے کیونکہ ہم اس میں وہم خیال کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ فَقَالَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِکَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ قَالَ لَيْتَ أَنَّ اللَّهَ قَوَّانَا لِذَلِکَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ ذَاکَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ قَالَ ذَاکَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ قَالَ فَقَالَ صَوْمُ ثَلَاثَةٍ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانَ إِلَی رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ يُکَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَائَ فَقَالَ يُکَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَسَکَتْنَا عَنْ ذِکْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نُرَاهُ وَهْمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ، ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ، اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل، حضرت شعبہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے
و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৪৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں
احمد بن سعید دارمی، حبان بن ہلال، ابان عطار، غیلان بن جریر، شعبہ اس سند کے ساتھ بھی اس طرح حدیث نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں سوموار کا ذکر ہے اور جمعرات کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ غَيْرَ أَنَّهُ ذَکَرَ فِيهِ الِاثْنَيْنِ وَلَمْ يَذْکُرْ الْخَمِيسَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مہینے تین دن کے روزے اور ایام عرفہ کا ایک روزہ اور عاشورہ اور سوموار اور جمعرات کے دن کے روزے کے استح کے بیان میں
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، مہدی بن میمون، غیلان، عبداللہ بن معبد زمانی، حضرت ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوموار کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسی دن میں مجھے پیدا کیا گیا اور اس دن میں مجھ پر وحی نازل کی گئی۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ غَيْلَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ فَقَالَ فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعبان کے مہینے کے روزوں کے بیان میں
ہداب بن خالد، حماد بن سلمہ، ثابت، مطرف، ہداب، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے یا کسی دوسرے سے فرمایا کہ کیا تو نے شعبان کے مہینے میں روزے رکھا ہے ؟ اس نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو افطار کرے تو (بعد میں) دو دنوں کے روزے رکھنا۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ مُطَرِّفٍ وَلَمْ أَفْهَمْ مُطَرِّفًا مِنْ هَدَّابٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْ لِآخَرَ أَصُمْتَ مِنْ سُرَرِ شَعْبَانَ قَالَ لَا قَالَ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعبان کے مہینے کے روزوں کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، جریری، ابی العلاء، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا کیا تو نے اس مہینے یعنی شعبان کے درمیان میں کچھ روزے رکھے ہیں ؟ تو اس نے عرض کی نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو رمضان کے روزے افطار کرلے تو (عیدالفطر کے بعد) اس کی جگہ دو روزے رکھنا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَائِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا قَالَ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَفْطَرْتَ مِنْ رَمَضَانَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ مَکَانَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعبان کے مہینے کے روزوں کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابن اخی مطرف بن شخیر، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا کیا تو نے اس مہینے یعنی شعبان کے درمیان میں کچھ روزے رکھے ہیں ؟ اس نے عرض کیا نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو رمضان کے روزے افطار کرلے تو ایک دن یا دو دن کے روزے رکھ شعبہ نے اس میں شک کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے آپ نے دو دن فرمایا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ هَلْ صُمْتَ مِنْ سُرَرِ هَذَا الشَّهْرِ شَيْئًا يَعْنِي شَعْبَانَ قَالَ لَا قَالَ فَقَالَ لَهُ إِذَا أَفْطَرْتَ رَمَضَانَ فَصُمْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ شُعْبَةُ الَّذِي شَکَّ فِيهِ قَالَ وَأَظُنُّهُ قَالَ يَوْمَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৫৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شعبان کے مہینے کے روزوں کے بیان میں
محمد بن قدامہ، یحییٰ لولوی، نضر، شعبہ، عبداللہ بن ہانی، ابن اخی مطرف اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ وَيَحْيَی اللُّؤْلُؤِيُّ قَالَا أَخْبَرَنَا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ ابْنِ أَخِي مُطَرِّفٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
তাহকীক: