আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৮৫ টি

হাদীস নং: ২৬৯৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں
ابوسعید اشج، ابوخالد، اعمش، سلمہ بن کہیل، حکم بن عتیبہ، مسلم، سعید بن جبیر، مجاہد، وعطاء، ابن عباس اس سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) نے نبی کریم ﷺ سے اس حدیث کی طرح روایت کیا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ وَالْحَکَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَمُجَاهِدٍ وَعَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں
اسحاق بن منصور، ابن ابی خلف، عبد بن حمید، زکریا بن عدی، عبیداللہ بن عمرو، زید بن ابی انیسہ، حکم بن عتیبہ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور عرض کرنے لگی اے اللہ کے رسول ﷺ ! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر منت کا روزہ لازم تھا تو کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف سے ادا کرتی ؟ اس نے عرض کیا ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا قرض اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ تو اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھ۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ أَرَأَيْتِ لَوْ کَانَ عَلَی أُمِّکِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ أَکَانَ يُؤَدِّي ذَلِکِ عَنْهَا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَصُومِي عَنْ أُمِّکِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں
علی بن حجر، علی بن مسہر، ابوالحسن، عبداللہ بن عطاء، حضرت عبداللہ بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا کہ میں نے اپنی ماں پر ایک باندی صدقہ کی تھی اور وہ فوت ہوگئی ہے آپ ﷺ نے فرمایا تیرا اجر لازم ہے اور وراثت نے تجھ پر اسے لوٹا دیا اس عورت نے عرض کیا کہ اس پر ایک ماہ کے روزے بھی لازم تھے کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں ؟ آپ نے فرمایا تو اس کی طرف سے روزے رکھ لے اس عورت نے عرض کیا کہ میری ماں نے حج نہیں کیا تھا کیا میں اس کی طرف سے حج بھی کرلوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس کی طرف سے حج بھی کرلے۔
و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَبُو الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَی أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ قَالَ فَقَالَ وَجَبَ أَجْرُکِ وَرَدَّهَا عَلَيْکِ الْمِيرَاثُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ کَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ صُومِي عَنْهَا قَالَتْ إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ حُجِّي عَنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عبداللہ بن عطاء، حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا پھر آگے ابن مسہر کی حدیث مبارکہ کی طرح حدیث مبارکہ ذکر فرمائی اور اس میں دو مہینے کے روزوں کا کہا۔
و حدثناه ابوبکر بن ابی شيبة حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ صَوْمُ شَهْرَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں
عبد بن حمید، عبدالرزاق، ثوری، عبداللہ بن عطاء، حضرت بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس طرح ذکر فرمایا اور اس میں ایک مہینے کے روزوں کا ذکر ہے۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ وَقَالَ صَوْمُ شَهْرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں
اسحاق بن منصور، عبیداللہ بن موسی، حضرت سفیان (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت مذکور ہے اور اس میں دو مہنیے کے روزوں کا کہا ہے
و حَدَّثَنِيهِ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ صَوْمُ شَهْرَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں
ابن ابی خلف، اسحاق بن یوسف، عبدالملک بن ابی سلیمان، عبداللہ بن عطاء مکی، حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے باپ سے اس حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی طرف ایک عورت آئی آگے اسی طرح حدیث ہے اور ایک مہینے کے روزوں کا کہا۔
و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَائٍ الْمَکِّيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَتْ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَقَالَ صَوْمُ شَهْرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے استح کے بیان میں کہ جب کوئی روزہ دار کو کھانے کیطرف بلائے یا اسے گالی دی جائے یا اس سے جھگڑا کیا جائے تو وہ یہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمروناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کوئی کھانے کی طرف بلائے اس حال میں کہ وہ روزہ دار ہو تو اسے چاہئے کہ وہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ رِوَايَةً و قَالَ عَمْرٌو يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ زُهَيْرٌ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ إِلَی طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزہ دار کے لئے زبان کی حفاظت کے بیان میں
زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی روزے کی حالت میں صبح کرے تو نہ تو وہ کوئی بےہودہ بات کرے اور نہ ہی کوئی جہالت کا کام کرے تو اگر کوئی اسے گالی سے یا اس سے لڑے تو اسے چاہئے کہ وہ کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں میں روزہ سے ہوں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رِوَايَةً قَالَ إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُکُمْ يَوْمًا صَائِمًا فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ فَإِنْ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزوں کی فضیلت کے بیان میں
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابن آدم نے ہر عمل اپنے لئے کیا سوائے روزوں کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا تو قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں روزہ دار کے منہ کی بو مشک سے زیادہ پاکیزہ (اور خوشبودار) ہے۔
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزوں کی فضیلت کے بیان میں
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، قتیبہ بن سعید، مغیرہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ وَهُوَ الْحِزَامِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّيَامُ جُنَّةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزوں کی فضیلت کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، ابی صالح، حضرت اب صالح زیات سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ ابن آدم کا ہر عمل روزوں کے علاوہ اسی کے لئے ہے اور روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی روزوں کا بدلہ دوں گا اور روزہ ڈھال ہے تو جب تم میں سے کوئی روزہ رکھے تو وہ اس دن نہ بےہودہ گفتگو کرے اور نہ کوئی فحش کام کرے اور اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے جھگڑے تو اسے چاہئے کہ وہ آگے سے کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں میں روزہ سے ہوں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ روزہ رکھنے والے کے منہ کی بُو اللہ کے ہاں قیامت کے دن مشک کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار ہوگی اور روزہ رکھنے والے کے لئے دو خوشیاں ہیں جس کی وجہ سے وہ خوش ہوگا جب روزہ افطار کرتا ہے تو وہ اپنی اس افطاری سے خوش ہوتا ہے جب وہ اپنے رَبّ سے ملے گا تو وہ اپنے روزہ سے خوش ہوگا۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ فَإِذَا کَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِکُمْ فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَسْخَبْ فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزوں کی فضیلت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابوسعید، وکیع، اعمش، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابن آدم کے ہر عمل میں سے نیک عمل کو دس گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کیونکہ روزہ رکھنے والا میری وجہ سے اپنی شہوت اور اپنے کھانے سے رکا رہتا ہے۔ روزہ رکھنے والے کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک اسے افطاری کے وقت خوشی حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اپنے رب عزوجل سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی اور روزہ رکھنے والے کے منہ کی بُو اللہ عزوجل کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ (خوشبودار) ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَی سَبْعمِائَة ضِعْفٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَائِ رَبِّهِ وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزوں کی فضیلت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل، ابی سنان، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن آدم کے ہر عمل میں سے ایک نیک عمل کو دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے اللہ نے فرمایا سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کیونکہ روزہ رکھنے والا میری وجہ سے اپنی شہوت اور اپنے کھانے سے رکا رہتا ہے روزہ رکھنے والے لے کئے دو خوشیاں ہیں ایک اسے افطاری کے وقت خوشی حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اپنے رب عزوجل سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی اور روزہ رکھنے والے کے منہ کی بُو اللہ عزوجل کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَرِحَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزوں کی فضیلت کے بیان میں
اسحاق بن عمر بن سلیط، عبدالعزیز یعنی مسلم، ضرار بن مرہ، ابن سنان اس سند کے ساتھ اس روایت میں ہے راوی نے کہا کہ جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ اسے بدلہ عطا فرمائے گا تو وہ خوش ہوجائے گا۔
و حَدَّثَنِيهِ إِسْحَقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَقَالَ إِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روزوں کی فضیلت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے اس دروازہ سے قیامت کے دن روزہ رکھنے والے ہی داخل ہوں گے ان کے علاوہ کوئی اور داخل نہیں ہوگا کہا جائے گا کہ روزہ رکھنے والے کہاں ہیں ؟ پھر وہ اس دروازے سے داخل ہوں گے اور جب روزہ رکھنے والوں میں آخری داخل ہوجائے گا تو وہ دروازہ بند ہوجائے گا اور پھر کوئی اس دروازہ سے داخل نہیں ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَهُوَ الْقَطَوَانِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مَعَهُمْ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں ایسے آدمی کے لئے روزے رکھنے کی فضیلت کے بیان میں کہ جسے کوئی تکلیف وغیرہ نہ ہو۔
محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، ابن ہاد، سہیل بن ابی صالح، نعمان بن ابی عیاش، حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس دن کی وجہ سے اس کے چہرے کو دوزخ کی آگ سے ستر سال کی دوری کے برابر کر دے گا۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِکَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں ایسے آدمی کے لئے روزے رکھنے کی فضیلت کے بیان میں کہ جسے کوئی تکلیف وغیرہ نہ ہو۔
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی، حضرت سہیل (رض) سے اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ کے راستے میں ایسے آدمی کے لئے روزے رکھنے کی فضیلت کے بیان میں کہ جسے کوئی تکلیف وغیرہ نہ ہو۔
اسحاق بن منصور، عبدالرحمن بن بشر، عبدالرزاق، ابن جریج، یحییٰ بن سعید، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جس آدمی نے ایک دن اللہ تعالیٰ کے راستے میں روزہ رکھا اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ کو اس کے منہ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دے گا۔
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ وَسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دن کو زوال سے پہلے نفلی روزے کی نیت کا جواز نفلی روزہ کے بغیر عذر افطار کے جواز کے بیان میں
ابوکامل، فضیل بن حسین، عبدالواحد بن زیاد، طلحہ بن یحییٰ بن عبیداللہ، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن مجه سے فرمایا : اے عائشہ ! کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا تو میں پھر روزہ رکھ لیتا ہوں پھر حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے تو ہمارے پاس کچھ ہدیہ لایا گیا اور کچھ مہمان بھی آگئے سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لائے تو میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! ہمارے پاس کچھ ہدیہ لایا گیا ہے اور کچھ مہمان بھی آئے ہیں اور میں نے آپ کے لئے کچھ چھپا کر رکھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا وہ حسیس ہے آپ ﷺ نے فرمایا اسے لے آؤ میں اسے لے آئی تو آپ ﷺ نے اسے کھایا پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں نے صبح روزہ رکھا تھا طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے اسی سند کے ساتھ مجاہد (رض) سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ اس آدمی کی طرح ہے کہ جو اپنے مال سے صدقہ نکالے تو اب اس کے اختیار میں ہے چاہے تو دے دے اور اگر چاہے تو اسے روک لے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَی بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ يَا عَائِشَةُ هَلْ عِنْدَکُمْ شَيْئٌ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَنَا شَيْئٌ قَالَ فَإِنِّي صَائِمٌ قَالَتْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَائَنَا زَوْرٌ قَالَتْ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَائَنَا زَوْرٌ وَقَدْ خَبَأْتُ لَکَ شَيْئًا قَالَ مَا هُوَ قُلْتُ حَيْسٌ قَالَ هَاتِيهِ فَجِئْتُ بِهِ فَأَکَلَ ثُمَّ قَالَ قَدْ کُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا قَالَ طَلْحَةُ فَحَدَّثْتُ مُجَاهِدًا بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ ذَاکَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُخْرِجُ الصَّدَقَةَ مِنْ مَالِهِ فَإِنْ شَائَ أَمْضَاهَا وَإِنْ شَائَ أَمْسَکَهَا
tahqiq

তাহকীক: