আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৮৫ টি
হাদীস নং: ২৭১৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دن کو زوال سے پہلے نفلی روزے کی نیت کا جواز نفلی روزہ کے بغیر عذر افطار کے جواز کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، طلحہ بن یحیی، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ میری طرف تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ ہم نے عرض کیا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں پھر دوسرے دن تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہمارے لئے حسیس کا ہدیہ لایا گیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ مجھے دکھاؤ میں نے صبح روزے کی نیت کی تھے پھر آپ ﷺ نے اسے کھالیا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ هَلْ عِنْدَکُمْ شَيْئٌ فَقُلْنَا لَا قَالَ فَإِنِّي إِذَنْ صَائِمٌ ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَقَالَ أَرِينِيهِ فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَکَلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ بھول کر کھانے پینے اور جماع کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا
عمرو بن محمد ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، ہشام فردوسی، محمد بن سیرین، حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی روزے کی حالت میں بھول جائے اور کھا پی لے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرلے کیونکہ اس کو یہ اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔
و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَکَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، سعید جریری، حضرت عبداللہ بن شقیق (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے عرض کیا کہ کیا نبی ﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی اور مہینہ میں پورا مہینہ روزے رکھے ہیں ؟ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم ! رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورا مہینہ روزے نہیں رکھے اور نہ ہی کوئی ایسا مہینہ گذرا ہے کہ جس میں آپ ﷺ نے بالکل روزے نہ رکھے ہوں یہاں تک کہ آپ ﷺ رحلت فرماگئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَی رَمَضَانَ قَالَتْ وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَی رَمَضَانَ حَتَّی مَضَی لِوَجْهِهِ وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّی يُصِيبَ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ، کہمس، حضرت عبداللہ بن شقیق (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے عرض کیا کہ کیا نبی ﷺ نے پورا مہینہ روزے رکھے ہیں ؟ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ آپ ﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورا مہینہ روزے رکھے ہوں اور نہ ہی کسی مہینہ میں روزے چھوڑے ہوں آپ ﷺ ہر مہینے کچھ نہ کچھ روزے رکھتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ اس دار فانی سے گزر گئے۔
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا کَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا کُلَّهُ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا کُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَفْطَرَهُ کُلَّهُ حَتَّی يَصُومَ مِنْهُ حَتَّی مَضَی لِسَبِيلِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭১৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
ابوربیع زہرانی، حماد، ایوب، ہشام، محمد، حضرت عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے نبی ﷺ کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے آپ ﷺ افطار کرتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ افطار ہی کرتے رہیں گے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جس وقت سے آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے ہیں میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورا مہینہ روزے رکھے ہوں۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ حَمَّادٌ وَأَظُنُّ أَيُّوبَ قَدْ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ قَالَتْ وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا کَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا أَنْ يَکُونَ رَمَضَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
قتیبہ، حماد، ایوب، عبداللہ بن شقیق، حضرت عبداللہ بن شقیق (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا پھر آگے اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْإِسْنَادِ هِشَامًا وَلَا مُحَمَّدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی نضر، مولیٰ عمر بن عبیداللہ، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، ام المومنین حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ﷺ افطار نہیں کریں گے اور آپ ﷺ افطار کرتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ روزے نہیں رکھیں گے اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو رمضان کے مہینہ کے علاوہ کسی اور مہینہ میں پورا مہینہ روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی میں نے آپ ﷺ کو شعبان کے مہینہ کے علاوہ کسی اور مہینہ میں اتنی کثرت سے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ لَا يَصُومُ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَکْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَکْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابن عیینہ، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، ابی لبید، حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے رسول اللہ ﷺ کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو سیدہ (رض) نے فرمایا کہ آپ روزے رکھتے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے اور آپ ﷺ افطار کرتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ افطار ہی کرتے رہیں گے اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے شعبان کے مہینہ سے زیادہ کسی اور مہینہ میں اتنی کثرت سے روزے رکھے ہوں آپ شعبان کے تھوڑے روزوں کے علاوہ پورا مہینہ روزے رکھتے تھے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَکْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ کَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ کُلَّهُ کَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، معاذ بن ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی مہینہ میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے اور آپ فرماتے تھے کہ تمہیں جتنی طاقت ہو اتنے اعمال کرو کیونکہ اللہ تمہیں (اجر عطا کرنے سے) نہیں تھکتا۔ یہاں تک کہ تم تھک نہ جاؤ اور آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ کے نزدیک اعمال میں سے سب محبوب وہ عمل ہے جس پر اسے کوئی کرنے والا ہمیشگی کے ساتھ کرے اگرچہ وہ کم ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ يَکُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّهْرِ مِنْ السَّنَةِ أَکْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ وَکَانَ يَقُولُ خُذُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَمَلَّ حَتَّی تَمَلُّوا وَکَانَ يَقُولُ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَی اللَّهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَإِنْ قَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
ابوربیع زہرانی، ابوعوانہ، ابی بشر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی مہینہ رمضان کے علاوہ مکمل مہینہ روزے نہیں رکھے اور جب آپ روزے رکھتے تو کہنے والا کہتا نہیں اللہ کی قسم ! اب آپ ﷺ افطار نہیں کریں گے اور جب افطار کرتے تو کہنے والا کہتا نہیں اللہ کی قسم ! اب آپ ﷺ روزہ نہیں رکھیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا کَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ وَکَانَ يَصُومُ إِذَا صَامَ حَتَّی يَقُولَ الْقَائِلُ لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ حَتَّی يَقُولَ الْقَائِلُ لَا وَاللَّهِ لَا يَصُومُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
محمد بن بشار، ابوبکر بن نافع، غندر، شعبہ، حضرت ابی بشر (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، حضرت عثمان بن حکیم انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر (رض) سے رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا اور ہم اس وقت کے مہینہ ہی میں تھے حضرت سعید (رض) نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ﷺ افطار نہیں کریں گے اور افطار کرتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ﷺ روزہ نہیں رکھیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي رَجَبٍ فَقَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ لَا يَصُومُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
علی بن حجر، علی بن مسہر، ابراہیم بن موسی، عیسیٰ بن یونس، حضرت عثمان بن حکیم (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
زہیر بن حرب، ابن ابی خلف، روح بن عبادہ، حماد، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ ﷺ روزے ہی رکھتے رہیں گے اور آپ ﷺ افطار کرتے یہاں تک کہ کہا جانے لگا کہ اب آپ ﷺ افطار ہی کرتے رہیں گے۔
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ قَالَا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَصُومُ حَتَّی يُقَالَ قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّی يُقَالَ قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭২৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو میرے بارے میں خبر دی گئی کہ وہ کہتا ہے کہ میں رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا اور دن کو روزہ رکھتا رہوں گا جب تک کہ میں زندہ رہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اسی طرح کہتا ہے ؟ تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! جی ہاں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو یہ نہیں کرسکے گا تو روزہ بھی رکھ اور افطار بھی اور نیند بھی کر اور نماز بھی پڑھ اور مہینہ میں تین دن روزے رکھ لیا کر کیونکہ ایک نیکی کا دس گنا اجر ملتا ہے اور یہ زمانہ کے روزے رکھنے کی طرح ہے حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ [ یہ عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) ہیں ] میں نے عرض کیا کہ میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں اے اللہ کے رسول، آپ ﷺ نے فرمایا ایک دن روزے رکھ اور ایک دن افطار کر اور یہی داؤد (علیہ السلام) کے روزے ہیں اور یہی اعتدال والے روزے ہیں حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا کہ میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس سے زیادہ فضیلت والی کوئی چیز نہیں حضرت عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ کاش رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا کہ مہینے میں تین دنوں کے روزے رکھو میں قبول کرلیتا تو یہ بات مجھے اپنے گھر بار اور اپنے مال سے زیادہ پسند ہوتی۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَقُولُ لَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ وَلَأَصُومَنَّ النَّهَارَ مَا عِشْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنْتَ الَّذِي تَقُولُ ذَلِکَ فَقُلْتُ لَهُ قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّکَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِکَ فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنْ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَذَلِکَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا وَذَلِکَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ أَعْدَلُ الصِّيَامِ قَالَ قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَأَنْ أَکُونَ قَبِلْتُ الثَّلَاثَةَ الْأَيَّامَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَهْلِي وَمَالِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
عبداللہ بن محمد رومی، نضر بن محمد، عکرمہ، ابن عمار، حضرت یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت عبداللہ بن یزید (رض) چلے یہاں تک کہ ہم حضرت ابوسلمہ (رض) کے پاس آئے تو ہم نے ان کی طرف ایک قاصد بھیجا تو وہ باہر تشریف لائے اور ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی انہوں نے کہا کہ ہم مسجد میں تھے یہاں تک کہ آپ ہماری طرف تشریف لے آئے حضرت ابوسلمہ (رض) نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو گھر چلتے ہیں اور اگر تم چاہو تو یہیں بیٹھ جاتے ہیں تو ہم نے کہا کہ نہیں بلکہ ہم یہیں بیٹھیں گے آپ ہمیں حدیثیں بیان کریں انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) نے مجھ سے بیان کیا کہ میں ہمیشہ روزے رکھتا ہوں اور ہر رات قرآن مجید پڑھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ سے (میرے بارے میں) ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے مجھے بلوایا تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا مجھے یہ خبر دی گئی کہ تو ہمیشہ روزے رکھتا ہے اور ہر رات قرآن مجید پڑھتا ہے ؟ تو میں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے نبی ﷺ اور میرا اس سے سوائے خیر کے اور کوئی مقصد نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تجھے یہی کافی ہے کہ تو ہر مہینے تین دن روزے رکھ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ میں تو اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اللہ کے نبی حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے رکھ کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے کس طرح تھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا ہر مہینے ایک قرآن مجید ختم کیا کر میں نے عرض کی اے اللہ کے نبی ﷺ ! میں تو اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا بیس دنوں میں ایک قرآن مجید پڑھ لیا کر میں نے عرض کیا میں تو اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ دس دن میں ایک قرآن مجید پڑھ لیا کر میں نے عرض کیا میں تو اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا پھر تو سات دن میں ایک قرآن مجید پڑھ لیا کر اور اس سے زیادہ اپنے آپ کو مشقت میں مت ڈال کیونکہ تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے حضرت عبداللہ (رض) نے کہا کہ میں نے سختی کی پھر مجھ پر سختی کی گئی حضرت عبداللہ (رض) کہتے ہیں آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تو نہیں جانتا شاید کہ تیری عمر لمبی ہو حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ پھر میں اس عمر تک پہنچ گیا جس کی نبی نے مجھ سے نشان دہی فرمائی تھی اور جب میں بوڑھا ہوگیا تو میں یہ چاہنے لگا کہ کاش کہ اللہ کے نبی کی دی گئی رخصت میں قبول کرلیتا۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ الرُّومِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَتَّی نَأْتِيَ أَبَا سَلَمَةَ فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ رَسُولًا فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَإِذَا عِنْدَ بَابِ دَارِهِ مَسْجِدٌ قَالَ فَکُنَّا فِي الْمَسْجِدِ حَتَّی خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ إِنْ تَشَائُوا أَنْ تَدْخُلُوا وَإِنْ تَشَائُوا أَنْ تَقْعُدُوا هَا هُنَا قَالَ فَقُلْنَا لَا بَلْ نَقْعُدُ هَا هُنَا فَحَدِّثْنَا قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کُنْتُ أَصُومُ الدَّهْرَ وَأَقْرَأُ الْقُرْآنَ کُلَّ لَيْلَةٍ قَالَ فَإِمَّا ذُکِرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ کُلَّ لَيْلَةٍ فَقُلْتُ بَلَی يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَلَمْ أُرِدْ بِذَلِکَ إِلَّا الْخَيْرَ قَالَ فَإِنَّ بِحَسْبِکَ أَنْ تَصُومَ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَلِزَوْرِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَلِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا قَالَ فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ کَانَ أَعْبَدَ النَّاسِ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ کَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ وَاقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي کُلِّ شَهْرٍ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي کُلِّ عِشْرِينَ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي کُلِّ عَشْرٍ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي کُلِّ سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَی ذَلِکَ فَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَلِزَوْرِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَلِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ قَالَ وَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ لَا تَدْرِي لَعَلَّکَ يَطُولُ بِکَ عُمْرٌ قَالَ فَصِرْتُ إِلَی الَّذِي قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَبِرْتُ وَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ قَبِلْتُ رُخْصَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
زہیر بن حرب، روح بن عبادہ، حسین، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر سے اس سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ ہر مہینے تین روزے کے بعد ہے کیونکہ ہر نیکی کا دس گنا اجر ہے اور یہ سارے زمانہ کے برابر ہے اور اس حدیث میں ہے کہ میں نے عرض کیا کہ اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) کے روزے کیا تھے آپ ﷺ نے فرمایا آدھا زمانہ اور اس حدیث میں قرآن مجید پڑھنے کے بارے میں کچھ بھی ذکر نہیں ہے اس میں یہ بھی نہیں کہ کہ تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے اور لیکن اس میں ہے کہ تیری بیٹے کا بھی تجھ پر حق ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنَّ لَکَ بِکُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا فَذَلِکَ الدَّهْرُ کُلُّهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قُلْتُ وَمَا صَوْمُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ قَالَ نِصْفُ الدَّهْرِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِرَائَةِ الْقُرْآنِ شَيْئًا وَلَمْ يَقُلْ وَإِنَّ لِزَوْرِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَلَکِنْ قَالَ وَإِنَّ لِوَلَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسی، شیبان، یحیی، محمد بن عبدالرحمن مولیٰ بنی زہرہ، ابی سلمہ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ ہر مہینہ میں ایک قرآن مجید پڑھو میں نے عرض کیا کہ میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تو بیس راتوں میں قرآن مجید پڑھ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا پھر تو سات دنوں میں قرآن مجید پڑھ اور اس سے زیادہ نہ کر
حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَی بَنِي زُهْرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي کُلِّ شَهْرٍ قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي عِشْرِينَ لَيْلَةً قَالَ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَی ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
احمد بن یوسف ازدی، عمرو بن ابی سلمہ، اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیر، حکم بن ثوبان، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابن عمر بن عاص سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے عبداللہ ! تو فلاں کی طرح نہ ہوجا کہ رات کو کھڑا رہتا تھا (عبادت کرتا رہتا تها) پھر اس نے رات کا قیام چھوڑ دیا۔
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قِرَائَةً قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ ابْنِ الْحَکَمِ بْنِ ثَوْبَانَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَکُنْ بِمِثْلِ فُلَانٍ کَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَکَ قِيَامَ اللَّيْلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৩৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صوم دہر یہاں تک کہ عید اور تشریق کے دنوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت اور صوم داؤدی یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنے کی فضلیت کے بیان میں۔
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کو (میرے بارے میں) یہ بات پہنچی کہ میں (مسلسل) روزے رکھتا رہتا ہوں اور رات بھر نماز پڑھتا رہتا ہوں تو آپ ﷺ نے میری طرف پیغام بھیجا تو میں نے آپ ﷺ سے ملاقات کی آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تو روزے رکھتا رہتا ہے اور افطار نہیں کرتا اور رات بھر نماز پڑھتا رہتا ہے تو تو اس طرح نہ کر کیونکہ تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تو روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر اور نماز بھی پڑھ اور نیند بھی کر اور ہر دس دنوں میں سے ایک دن کا روزہ رکھ اور یہ تیرے لئے نو روزوں کا اجر بن جائے گا حضرت عبداللہ نے عرض کیا کہ میں تو اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں اے اللہ کے رسول، آپ ﷺ نے فرمایا حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزوں کی طرح روزے رکھ لے انہوں نے عرض کیا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے کس طرح تھے ؟ اے اللہ کے نبی ﷺ ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور نہیں بھاگتے تھے جب کسی دشمن سے ملاقات ہوجائے حضرت حضرت عبداللہ (رض) [ یہ عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) ہیں ] عرض کرنے لگے اے اللہ کے نبی یہ میرے لئے کیسے ہوسکتا ہے ؟ عطا راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ ہمیشہ کے روزوں کا ذکر کیسے آگیا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں (قبول) اس کے روزے جس نے ہمیشہ رکھے نہیں (قبول) اس کے روزے جس نے ہمیشہ روزے رکھے نہیں قبول۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً يَزْعُمُ أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَصُومُ أَسْرُدُ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ فَقَالَ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ وَتُصَلِّي اللَّيْلَ فَلَا تَفْعَلْ فَإِنَّ لِعَيْنِکَ حَظًّا وَلِنَفْسِکَ حَظًّا وَلِأَهْلِکَ حَظًّا فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ وَصُمْ مِنْ کُلِّ عَشْرَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا وَلَکَ أَجْرُ تِسْعَةٍ قَالَ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَی مِنْ ذَلِکَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ وَکَيْفَ کَانَ دَاوُدُ يَصُومُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ کَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَی قَالَ مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ عَطَائٌ فَلَا أَدْرِي کَيْفَ ذَکَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ
তাহকীক: