আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৭ টি
হাদীস নং: ১৮১০
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
شیبان بن فروخ، مہدی ابن میمون، عمران قصیر، قیس بن سعد، طاؤس، ابن عباس نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفَاظِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১১
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن حاتم، عبد بن حمید، ابومعن، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ جب رات کو اپنی نماز شروع فرماتے تو کس طرح شروع کرتے حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ جب بھی رات کو آپ ﷺ اپنی نماز شروع فرماتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ جبرائیل اور میکائیل اور اسرافیل کے پروردگار ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! ظاہر اور باطن کے جاننے والے ! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں مجھے سیدھا راستہ دکھا اور اے اللہ حق کی جن باتوں میں اختلاف ہوگیا ہے تو مجھے ان میں سیدھے راستے پر رکھ بیشک تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ بِأَيِّ شَيْئٍ کَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَتْ کَانَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ وَمِيکَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْکُمُ بَيْنَ عِبَادِکَ فِيمَا کَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنْ الْحَقِّ بِإِذْنِکَ إِنَّکَ تَهْدِي مَنْ تَشَائُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১২
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
محمد بن ابی بکر مقدامی، یوسف ماجشون، عبدالرحمن اعرج، عبیداللہ بن ابی رافع، حضرت علی (رض) بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو فرماتے (وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِکِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُکِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيکَ لَهُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنْ الْمُسْلِمِينَ ) میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک ٹھیک پیدا فرمایا اور میں شریک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا اور میں مسلمانوں میں سے ہوں اے اللہ تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہی میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے پس تو میرے گناہوں کو بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے اور مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت عطا فرما تیرے سوا کوئی اچھے اخلاق کی ہدایت نہیں دے سکتا اور برے اخلاق مجھ سے دور فرما تیرے سوا مجھ سے کوئی برے اخلاق دور کرنے والا نہیں ہے میں حاضر ہوں اور فرمانبردار ہوں اور ساری بھلائیاں تیرے دست قدرت میں ہیں اور شر کی نسبت تیری طرف نہیں ہے میں تیری طرف آتا ہوں تو برکت والا ہے اور تو بلند ہے میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور جب آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو فرماتے اے اللہ تیرے لئے میں نے رکوع کیا اور تجھی پر ایمان لایا اور میں تیرا ہی فرمانبردار ہوں میرا کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز اور میری ہڈیاں اور میرے پٹھے سب تجھ سے ڈرتے ہیں اور جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ فرماتے اے اللہ اے ہمارے پروردگار تیرے ہی لئے ساری ایسی تعریفیں ہیں جس سے سارے آسمان بھر جائیں اور زمین بھر جائے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ بھر جائے اور جو تو چاہے اس سے وہ بھر جائے اور جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو یہ فرماتے اے اللہ میں نے تیرے لئے سجدہ کیا اور تجھی پر ایمان لایا اور تیرا ہی فرمانبردار ہوں میرا چہرہ اس ذات کو سجدہ کر رہا ہے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی صورت بنائی اور اس کے کانوں اور اس کی آنکھوں کو تراش کر بنایا اللہ برکتوں والا ہے اور سب سے اچھا پیدا کرنے والا ہے۔ پھر آپ ﷺ آخر میں تشہد اور سلام کے درمیان یہ فرماتے اے اللہ میرے ان گناہوں کی مغفرت فرما جو میں نے پہلے کئے اور جو میں نے بعد میں کئے اور جو میں نے چھپ کر کئے اور جو میں نے ظاہر کئے اور جو میں نے زیادتی کی اور جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے سوا کوئی مبعود نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاةِ قَالَ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِکِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُکِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيکَ لَهُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنْ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ کُلُّهُ فِي يَدَيْکَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْکَ أَنَا بِکَ وَإِلَيْکَ تَبَارَکْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَيْکَ وَإِذَا رَکَعَ قَالَ اللَّهُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَکَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي وَإِذَا رَفَعَ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ وَإِذَا سَجَدَ قَالَ اللَّهُمَّ لَکَ سَجَدْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَکَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ثُمَّ يَکُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৩
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، اسحاق بن ابراہیم، ابونضر، عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ، ماجشون بن ابی سلمہ اعرج سے اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تھے تو اَللَّهُ أَکْبَرُ کہتے تھے پھر فرماتے وَجَّهْتُ وَجْهِي اور فرماتے (وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ) اور جب آپ ﷺ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ وَقَالَ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ ) اور جب آپ سلام پھیرتے تو فرماتے اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ حدیث کے آخر تک اور تشہد اور سلام کے درمیان کا ذکر نہیں فرمایا۔
حَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ الْأَعْرَجِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ کَبَّرَ ثُمَّ قَالَ وَجَّهْتُ وَجْهِي وَقَالَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ وَقَالَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ وَقَالَ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ وَقَالَ وَإِذَا سَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ إِلَی آخِرِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يَقُلْ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৪
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز میں لمبی قرأت کے استح کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، اعمش، نمیر، سعد بن عبیدہ، مستورد بن احنف، صلہ بن زفر، حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺ نے سورت البقرہ شروع فرما دی تو میں نے کہا کہ آپ ﷺ سو آیات پر رکوع فرمائیں گے پھر آپ ﷺ آگے چلے میں نے دل میں کہا کہ آپ ﷺ اس سورت کو دو رکعتوں میں پوری فرمائیں گے پھر آگے چلے میں نے دل میں کہا کہ آپ ﷺ اس ایک پوری سورت پر رکوع فرمائیں گے پھر آپ ﷺ نے سورت نساء شروع فرما دی پوری سورت پڑھی پھر آپ ﷺ نے سورت آل عمران شروع فرما دی اس کو آپ ﷺ نے ترتیل اور خوبی کے ساتھ پڑھا جب آپ ﷺ اس آیت سے گزرتے کہ جس میں تسبیح ہوتی تو آپ ﷺ سُبْحَانَ اللَّهِ کہتے اور جب آپ ﷺ کسی ایسے سوال سے گزرتے تو آپ ﷺ سوال فرماتے اور جب آپ ﷺ تعوذ والی آیت پر سے گزرتے تو آپ ﷺ پناہ مانگتے پھر آپ ﷺ نے رکوع فرمایا اور (سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا رکوع بھی قیام کے برابر ہوگیا پھر آپ ﷺ نے ( سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ) کہا پھر اس کے بعد رکوع کے برابر دیر تک لمبا قیام فرمایا پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور آپ کا سجدہ بھی آپ ﷺ کے قیام کے برابر لمبا تھا اور جریر کی حدیث میں اتنا زائد ہے کہ آپ ﷺ نے ( سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ) بھی کہا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ يَرْکَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ ثُمَّ مَضَی فَقُلْتُ يُصَلِّي بِهَا فِي رَکْعَةٍ فَمَضَی فَقُلْتُ يَرْکَعُ بِهَا ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَائَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ثُمَّ رَکَعَ فَجَعَلَ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ فَکَانَ رُکُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا قَرِيبًا مِمَّا رَکَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی فَکَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِهِ قَالَ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ مِنْ الزِّيَادَةِ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৫
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز میں لمبی قرأت کے استح کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺ نے بہت لمبا قیام کیا یہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کرلیا راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ تو نے کس کام کا ارادہ کیا تھا ؟ اس نے کہا کہ میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپ ﷺ کو قیام میں چھوڑ دوں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالَ حَتَّی هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْئٍ قَالَ قِيلَ وَمَا هَمَمْتَ بِهِ قَالَ هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৬
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز میں لمبی قرأت کے استح کے بیان میں
اسمعیل بن خلیل، سوید بن سعید، علی بن مسہر، اعمش سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَاه إِسْمَعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৭
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کی ترغیب کے بیان میں اگرچہ کم رکعتیں ہی ہوں۔
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق، عثمان، جریر منصور، ابو وائل، عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا گیا کہ رات سویا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس آدمی کے دونوں کانوں میں شیطان پیشاب کرتا ہے یا آپ ﷺ نے فرمایا اس کے کان میں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّی أَصْبَحَ قَالَ ذَاکَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ أَوْ قَالَ فِي أُذُنِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৮
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کی ترغیب کے بیان میں اگرچہ کم رکعتیں ہی ہوں۔
قتیبہ بن سعید، لیث، عقیل، زہری، علی بن حسین، حضرت علی (رض) بن ابی طالب سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ انہیں اور حضرت فاطمہ کو جگایا اور فرمایا کیا تم نماز نہیں پڑھتے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہماری جانیں تو اللہ کے قبضہ وقدرت میں ہیں وہ جب ہمیں اٹھانا چاہے ہمیں اٹھا دیتا ہے جس وقت میں نے آپ ﷺ سے یہ کہا تو رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے پھر میں نے آپ ﷺ سے جاتے ہوئے سنا اپنی رانوں پر ہاتھ مار رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ انسان بہت زیادہ جھگڑالو ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ فَقَالَ أَلَا تُصَلُّونَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَائَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِکَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَيَقُولُ وَکَانَ الْإِنْسَانُ أَکْثَرَ شَيْئٍ جَدَلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৯
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز کی ترغیب کے بیان میں اگرچہ کم رکعتیں ہی ہوں۔
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، عمرو، سفیان بن عیینہ، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ ان تک یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ شیطان تم میں سے ہر ایک آدمی کی گردن پر جب وہ سوجاتا ہے تین گرہیں لگا دیتا ہے ہر ایک گرہ پر پھونک مارتا ہے کہ ابھی رات بڑی لمبی ہے تو جب کوئی بیدار ہوتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وضو کرتا ہے تو اس پر سے دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور جب وہ نماز پڑھ لیتا ہے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں پھر وہ صبح کو ہشاش بشاش خوش مزاج اٹھتا ہے ورنہ اس کی صبح نفس کی خباثت اور سستی کے ساتھ ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَی قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِکُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ إِذَا نَامَ بِکُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْکَ لَيْلًا طَوِيلًا فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَکَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ وَإِذَا تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عَنْهُ عُقْدَتَانِ فَإِذَا صَلَّی انْحَلَّتْ الْعُقَدُ فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ کَسْلَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২০
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں
محمد بن مثنی، یحیی، عبیداللہ، نافع، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنی نمازوں کو اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِکُمْ فِي بُيُوتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২১
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں
ابن مثنی، عبدالوہاب، ایوب، نافع، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں میں نفل نماز پڑھو اور گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلُّوا فِي بُيُوتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২২
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوسفیان، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی مسجد میں اپنی نماز پوری کرلے تو اسے چاہیے کہ اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے رکھ لے کیونکہ اللہ اس کے گھر میں اس کی نمازوں کی برکت سے خیر فرما دے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَی أَحَدُکُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৩
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں
عبداللہ بن براد اشعری، محمد بن علاء، ابواسامہ، برید، ابوبردہ، ابوموسی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے اور اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد نہیں کیا جاتا زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْبَيْتِ الَّذِي يُذْکَرُ اللَّهُ فِيهِ وَالْبَيْتِ الَّذِي لَا يُذْکَرُ اللَّهُ فِيهِ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৪
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن، سہیل، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس گھر میں سورت البقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَکُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنْ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৫
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، عبداللہ بن سعید، سالم ابونضر، عمر بن عبیداللہ، بسر بن سعید، حضرت زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے پتوں یا چٹائی سے ایک حجرہ بنایا تو رسول اللہ ﷺ اس میں نماز پڑھنے کے لئے باہر تشریف لائے بہت سے آدمیوں نے آپ ﷺ کی اقتداء کی اور آپ ﷺ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگے پھر ایک رات سب لوگ آئے اور رسول اللہ ﷺ نے دیر فرمائی اور ان کی طرف آپ ﷺ باہر تشریف نہ لائے تو ان لوگوں نے اپنی آوازوں کو بلند کیا اور دروازے پر کنکریاں ماریں پھر رسول اللہ ﷺ ان کی طرف غصہ کی حالت میں باہر تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم اس طرح کرتے رہے تو میرا خیال ہے کہ یہ نماز تم پر فرض کردی جائے گی اور تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو کیونکہ فرض نماز کے علاوہ آدمی کی بہترین نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں ادا کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَيْرَةً بِخَصَفَةٍ أَوْ حَصِيرٍ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيهَا قَالَ فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَائُوا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ قَالَ ثُمَّ جَائُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ قَالَ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ بِکُمْ صَنِيعُکُمْ حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُکْتَبُ عَلَيْکُمْ فَعَلَيْکُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِکُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْئِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَکْتُوبَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৬
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں
محمد بن حاتم، بہز، وہیب، موسیٰ بن عقبہ، ابونضر، بسر بن سعید، زید بن ثابت سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مسجد میں ایک چٹائی سے ایک حجرہ بنایا تو رسول اللہ ﷺ نے اس حجرہ میں کئی راتیں نماز پڑھی یہاں تک کہ صحابہ کرام (رض) اکٹھے ہوگئے پھر آگے اسی طرح حدیث ذکر فرمائی اور اس میں یہ زائد ہے کہ اور اگر تم پر فرض کردی جاتی تو تم اسے قائم نہ رکھ سکتے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّی اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَذَکَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ وَلَوْ کُتِبَ عَلَيْکُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৭
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، عبیداللہ بن سعید بن ابوسعید، ابوسلمہ، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چٹائی تھی اور آپ ﷺ رات کو اس کا ایک حجرہ سا بنا لیتے تھے پھر اس میں نماز پڑھتے تو صحابہ بھی آپ ﷺ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگے اور دن کو اس چٹائی کو بچھا لیتے ایک رات صحابہ کا ہجوم ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگوں تم پر اتنا عمل کرنا لازم ہے جس کی تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ ثواب دینے سے نہیں تھکتا جبکہ تم عمل کرنے سے تھک جاتے ہو اور اللہ کے نزدیک اعمال میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل ہے جس پر دوام ہو اور اگرچہ وہ عمل تھوڑا ہو اور آل محمد ﷺ کا بھی یہی معمول تھا کہ جب کوئی عمل کرتے تو اسے مستقل مزاجی سے کرتے۔ (یعنی ہمیشہ کرتے)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرٌ وَکَانَ يُحَجِّرُهُ مِنْ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهِ فَجَعَلَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَثَابُوا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْکُمْ مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّی تَمَلُّوا وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَی اللَّهِ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ وَکَانَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلُوا عَمَلًا أَثْبَتُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، سعد بن ابراہیم، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کونسا عمل ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللَّهِ قَالَ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৯
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابراہیم، علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ کے عمل کا طریقہ کیا تھا کیا دنوں میں کسی دن میں کوئی مخصوص عمل فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں ! آپ ﷺ تو ہمیشہ عمل فرماتے تھے اور تم میں سے کون ایسی طاقت رکھتا ہے جس کی رسول اللہ ﷺ طاقت رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ کَيْفَ کَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ کَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنْ الْأَيَّامِ قَالَتْ لَا کَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً وَأَيُّکُمْ يَسْتَطِيعُ مَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ
তাহকীক: