আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৭ টি

হাদীস নং: ১৭৭০
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی اس گھڑی کے بیا میں جس میں دعا ضرور قبول کی جاتی ہے۔
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابوسفیان، جابر سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رات میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ اس وقت جو مسلمان آدمی اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی مانگے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرما دیں گے اور یہ گھڑی ہر رات میں ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَذَلِکَ کُلَّ لَيْلَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭১
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی اس گھڑی کے بیا میں جس میں دعا ضرور قبول کی جاتی ہے۔
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابی زبیر، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اس وقت جو مسلمان بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرمائیں گے۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ اللَّيْلِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭২
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، ابی عبداللہ اغر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک وتعالی ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، جس وقت رات کے آخر کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا کو قبول کروں اور کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں اور کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے اور میں اسے بخش دوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالَی کُلَّ لَيْلَةٍ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَی ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ وَمَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৩
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن، سہیل، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالی ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے جس وقت رات کا ابتدائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میں بادشاہ ہوں کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اسے عطا کروں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے اور میں اسے معاف کر دوں، اللہ تعالیٰ اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح روشن ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْيَا کُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَيَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ أَنَا الْمَلِکُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ فَلَا يَزَالُ کَذَلِکَ حَتَّی يُضِيئَ الْفَجْرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৪
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
اسحاق بن منصور، ابومغیرہ، اوزاعی، یحیی، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب آدھی رات یا رات کا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کیا ہے کوئی سوال کرنے والا کہ اسے عطا کیا جائے، کیا ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے، کیا ہے کوئی مغفرت مانگنے والا کہ اسے بخش دیا جائے، یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَضَی شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثَاهُ يَنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِلَی السَّمَائِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَی هَلْ مِنْ دَاعٍ يُسْتَجَابُ لَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ يُغْفَرُ لَهُ حَتَّی يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৫
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
حجاج بن شاعر، محاضر، ابومورع، سعد بن سعید، ابن مرجانہ، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آدھی رات یا رات کے آخری تہائی حصہ میں آسمان دنیا میں نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے : کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں یا وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا کروں، پھر فرماتا ہے کہ کون اسے (اللہ کو) قرض دے گا جو کبھی مفلس نہ ہوگا اور نہ ہی کسی پر ظلم کرے گا، امام مسلم نے فرمایا کہ ابن مر جانہ وہ سعید بن عبداللہ ہے اور مرجانہ ان کی ماں ہے۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ أَبُو الْمُوَرِّعِ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مَرْجَانَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ اللَّهُ فِي السَّمَائِ الدُّنْيَا لِشَطْرِ اللَّيْلِ أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ أَوْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ثُمَّ يَقُولُ مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدِيمٍ وَلَا ظَلُومٍ قَالَ مُسْلِم ابْنُ مَرْجَانَةَ هُوَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمَرْجَانَةُ أُمُّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৬
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، سلیمان بن بلال، سعد بن سعید اس سند کے ساتھ حضرت سعد (رض) بن سعید (رض) سے اسی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے اور یہ زائد ہے کہ پھر اللہ تبارک وتعالی اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ کون ہے جو اسے قرض دیتا ہے جو کبھی مفلس نہ ہوگا اور نہ ہی کسی پر ظلم کرے گا۔ (اللہ جل جلالہ)
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَيْهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدُومٍ وَلَا ظَلُومٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৭
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
عثمان، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، منصور، ابی اسحاق، حضرت ابوسعید، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مہلت عطا فرماتا ہے یہاں تک کہ رات کا تہائی حصہ گز رجاتا ہے تو آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کیا کوئی مغفرت مانگنے والا ہے ؟ کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے ؟ یہاں تک کہ فجر ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَأَبُو بَکْرِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنَيْ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ يَرْوِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّی إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ نَزَلَ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ هَلْ مِنْ تَائِبٍ هَلْ مِنْ سَائِلٍ هَلْ مِنْ دَاعٍ حَتَّی يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৮
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے آخری حصہ میں دعا اور ذکر کی ترغیب کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ منصور کی حدیث پوری اور زائد ہے۔
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَنْصُورٍ أَتَمُّ وَأَکْثَرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৭৯
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک میں قیام یعنی تراویح کی ترغیب اور اس کی فضیلت کے بیان میں۔
یحییٰ بن یحییٰ مالک ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے ایمان اور ثواب سمجھ کر رمضان کی رات کو قیام کیا تو اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮০
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک میں قیام یعنی تراویح کی ترغیب اور اس کی فضیلت کے بیان میں۔
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابوسلمہ، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان میں قیام کی ترغیب دیا کرتے تھے سوائے اس کے کہ اس میں آپ ﷺ بہت تاکیدی حکم فرماتے ہوں اور فرماتے کہ جو آدمی رمضان میں ایمان اور ثواب سمجھ کر قیام کرے تو اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے رسول اللہ ﷺ وصال فرما گئے اور آپ ﷺ کا یہ حکم اسی طرح باقی رہا پھر حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت اور حضرت عمر (رض) کی خلافت کے آغاز میں اسی طرح یہ حکم باقی رہا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ فَيَقُولُ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَی ذَلِکَ ثُمَّ کَانَ الْأَمْرُ عَلَی ذَلِکَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ عَلَی ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮১
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک میں قیام یعنی تراویح کی ترغیب اور اس کی فضیلت کے بیان میں۔
زہیر بن حرب، معاذ بن ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ (رض) نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اور جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے سارے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮২
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک میں قیام یعنی تراویح کی ترغیب اور اس کی فضیلت کے بیان میں۔
محمد بن رافع، شبابہ، ورقاء، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو آدمی شب قدر میں قیام کرتا ہے اور اس کی شب قدر سے موافقت ہوجائے راوی نے کہا کہ میرا خیال ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان اور ثواب کی نیت ہو تو اسے بخش دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَيُوَافِقُهَا أُرَاهُ قَالَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৩
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک میں قیام یعنی تراویح کی ترغیب اور اس کی فضیلت کے بیان میں۔
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عروہ، عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، آپ ﷺ کے ساتھ کچھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی پھر آپ ﷺ نے اگلی رات نماز پڑھی تو لوگ زیادہ ہوگئے پھر لوگ تیسری یا چوتھی رات بھی مسجد میں جمع ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف نہ لائے پھر جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں دیکھا تھا تو مجھے تمہاری طرف نکلنے کے لئے کسی نے نہیں روکا سوائے اس کے کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کردی جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ واقعہ رمضان المبارک ہی کے بارے میں تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّی بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ثُمَّ صَلَّی مِنْ الْقَابِلَةِ فَکَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ الْخُرُوجِ إِلَيْکُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْکُمْ قَالَ وَذَلِکَ فِي رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৪
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمضان المبارک میں قیام یعنی تراویح کی ترغیب اور اس کی فضیلت کے بیان میں۔
حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ (رض) خبر دیتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کے درمیانی حصہ میں نکلے، آپ ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ آدمیوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی تو صبح لوگ اس کا تذکرہ کرنے لگے، رسول اللہ ﷺ دوسری رات نکلے تو پہلی رات سے زیادہ لوگ جمع ہوگئے تو انہوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو لوگوں نے صبح کو اس بات کا ذکر کیا، تیسری رات میں مسجد والے بہت زیادہ جمع ہوگئے تو آپ ﷺ باہر نکلے، لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی پھر جب چوتھی رات ہوئی تو مسجد صحابہ کرام (رض) سے بھر گئی تو آپ ﷺ مسجد والوں کی طرف نہ نکلے، مسجد والوں میں سے کچھ آدمی پکار کر کہنے لگے نماز ! رسول اللہ ﷺ پھر بھی ان کی طرف نہ نکلے یہاں تک کہ آپ ﷺ فجر کی نماز کے لئے نکلے تو جب فجر کی نماز پوری ہوگئی تو صحابہ کرام کی طرف آپ ﷺ متوجہ ہوئے پھر تشہد پڑھا اور فرمایا اما بعد کہ تمہاری آج کی رات کی حالت مجھ سے چھپی ہوئی نہ تھی لیکن مجھے ڈر لگا کہ کہیں تم پر رات کی نماز فرض نہ کردی جائے پھر تم اس کے پڑھنے سے عاجز آجاؤ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّی فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّی رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِکَ فَاجْتَمَعَ أَکْثَرُ مِنْهُمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَذْکُرُونَ ذَلِکَ فَکَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَخَرَجَ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا کَانَتْ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يَقُولُونَ الصَّلَاةَ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا قَضَی الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ تَشَهَّدَ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُکُمْ اللَّيْلَةَ وَلَکِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْکُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৫
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب قدر میں قیام کی تاکید اور اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ جو کہے کہ شب قدر ستائیسویں رات ہے۔
محمد بن مہران رازی، ولید بن مسلم، اوزاعی، عبدہ، زر سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابی بن کعب کو یہ فرماتے ہوئے سنا اور ان سے کہا گیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ جو آدمی سارا سال قیام کرے وہ لَيْلَةَ الْقَدْرِ کو پہنچ گیا، حضرت ابی فرمانے لگے اس اللہ کی قسم کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ شب قدر رمضان میں ہے وہ بغیر استثناء کے قسم کھاتے اور فرماتے اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ وہ کونسی رات ہے وہ وہی رات ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے قیام کا حکم فرمایا وہ رات کہ جس کی صبح ستائیس (تاریخ) ہوتی ہے اور اس شب قدر کی علامت یہ ہے کہ اس دن کی صبح روشن ہوتی ہے تو اس میں شعاعیں نہیں ہوتیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدَةُ عَنْ زِرٍّ قَالَ سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ يَقُولُا وَقِيلَ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا مَنْ قَامَ السَّنَةَ أَصَابَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَقَالَ أُبَيٌّ وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ يَحْلِفُ مَا يَسْتَثْنِي وَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيُّ لَيْلَةٍ هِيَ هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ صَبِيحَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَأَمَارَتُهَا أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِهَا بَيْضَائَ لَا شُعَاعَ لَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৬
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب قدر میں قیام کی تاکید اور اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ جو کہے کہ شب قدر ستائیسویں رات ہے۔
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدہ بن ابی لبابہ، زر بن حبیش سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابی بن کعب نے مجھے شب قدر کے بارے میں فرمایا : اللہ کی قسم میں اس رات کو جانتا ہوں اور مجھے زیادہ علم ہے کہ وہ وہی رات ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قیام کا حکم فرمایا وہ ستائیسویں کی رات ہے اور شعبہ کو اس بات میں شک ہے کہ ابی بن کعب نے فرمایا کہ وہ رات جس میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قیام کا حکم فرمایا شعبہ نے کہا کہ یہ حدیث میرے ایک ساتھی نے ان سے نقل کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَةَ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ يُحَدِّثُ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ أُبَيٌّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا وَأَکْثَرُ عِلْمِي هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِيَامِهَا هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَإِنَّمَا شَکَّ شُعْبَةُ فِي هَذَا الْحَرْفِ هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحَدَّثَنِي بِهَا صَاحِبٌ لِي عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৭
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شب قدر میں قیام کی تاکید اور اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ جو کہے کہ شب قدر ستائیسویں رات ہے۔
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حضرت ابن عباس (رض) ، شعبہ نے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل فرمائی اور شعبہ کا شک اور اس کے بعد والے الفاظ ذکر نہیں فرمائے۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ إِنَّمَا شَکَّ شُعْبَةُ وَمَا بَعْدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৮
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
عبداللہ بن ہاشم بن حیان عبدی، عبدالرحمن ابن مہدی، سفیان، سلمہ بن کہیل، کریب، ابن عباس نے فرمایا کہ میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ (رض) کے ہاں ٹھہرا تو نبی ﷺ رات کو اٹھ کھڑے ہوئے، قضاء حاجت کے لئے آئے، پھر اپناچہرہ انور اور اپنے مبارک ہاتھوں کو دھویا پھر سو گئے پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور مشکیزہ کی طرف آکر اس کا منہ کھولا پھر وضو فرمایا دو وضوؤں کے درمیان والا وضو یعنی کثرت سے پانی نہیں گرایا اور وضو پورا فرمایا پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی پھر میں بھی اٹھا اور انگڑائی لی تاکہ آپ ﷺ اس کو یہ نہ سمجھیں کہ میں آپ ﷺ کی کیفیت کو دیکھنے کے لئے بیدار تھا تو میں نے وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لئے آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا، آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھما کر اپنی دائیں طرف لے آئے تو رسول اللہ ﷺ نے تیرہ رکعت نماز پڑھائی پھر لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ خر اٹے لینے لگے اور یہ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ ﷺ سوتے تو خر اٹے لیا کرتے تھے پھر حضرت بلال (رض) آئے اور آپ ﷺ کو نماز کے لئے بیدار فرمایا تو آپ ﷺ اٹھے اور نماز پڑھی اور وضو نہیں فرمایا اور آپ ﷺ نے یہ دعا کی اے اللہ میرا دل روشن فرما اور میری آنکھیں روشن فرما اور میرے کانوں میں نور اور میرے دائیں نور اور میرے بائیں نور اور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور اور میرے آگے نور اور میرے پیچھے نو اور میرے لئے نور کو بڑا فرما، راوی کریب نے کہا کہ سات الفاظ اور فرمائے جو کہ میرے تابوت (دل) میں ہیں میں نے حضرت ابن عباس (رض) کی بعض اولاد سے ملاقات کی تو انہوں نے مجھ سے ان الفاظ کا ذکر کیا اور وہ الفاظ یہ ہیں میرے پٹھے اور میرے گوشت اور میرے خون اور میرے بال اور میری کھال میں نور فرما دے اور دو (اور) چیزوں کا ذکر فرمایا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَتَی حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَأَتَی الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئًا بَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ وَلَمْ يُکْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ کَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَی أَنِّي کُنْتُ أَنْتَبِهُ لَهُ فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ فَصَلَّی فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَتَامَّتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّی نَفَخَ وَکَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ فَصَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَکَانَ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَعَظِّمْ لِي نُورًا قَالَ کُرَيْبٌ وَسَبْعًا فِي التَّابُوتِ فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ فَذَکَرَ عَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشَعْرِي وَبَشَرِي وَذَکَرَ خَصْلَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৮৯
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، مخرمہ بن سلیمان، کریب مولیٰ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک رات انہوں نے اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ کے پاس گزاری، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں بچھونے کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی اہلیہ محترمہ بچھونے کے طول میں لیٹے تو رسول اللہ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ آدھی رات یا اس سے کچھ پہلے یا اس کے کچھ بعد بیدار ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ نیند کی وجہ سے اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کو مل رہے تھے پھر آپ ﷺ نے سورت آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں پھر آپ ﷺ ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف کھڑے ہوگئے، آپ ﷺ نے اس میں وضو فرمایا اور اچھی طرح وضو فرمایا پھر آپ ﷺ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں بھی کھڑا ہو اور اسی طرح کیا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا پھر میں گیا اور آپ ﷺ کے پہلو میں کھڑا ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر مروڑا پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ ﷺ نے وتر کی نماز پڑھی، پھر آپ ﷺ لیٹ گئے یہاں تک کہ اذان دینے والا آیا تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے دو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں پھر آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ خَالَتُهُ قَالَ فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَی شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوئَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَی جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَی عَلَی رَأْسِي وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَی يَفْتِلُهَا فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّی جَائَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الصُّبْحَ
tahqiq

তাহকীক: