আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৭ টি
হাদীস নং: ১৭৯০
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
محمد بن سلمہ مرادی، عبداللہ بن وہب، عیاض بن عبداللہ فہری، مخرمہ بن سلیمان سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ پھر آپ ﷺ نے پانی کی ایک پرانی مشک سے پانی لیا پھر آپ ﷺ نے مسواک فرمائی پھر وضو فرمایا اور پانی زیادہ نہیں بلکہ کم بہایا پھر آپ ﷺ نے مجھے حرکت دی اور میں کھڑا ہوگیا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَی شَجْبٍ مِنْ مَائٍ فَتَسَوَّکَ وَتَوَضَّأَ وَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ وَلَمْ يُهْرِقْ مِنْ الْمَائِ إِلَّا قَلِيلًا ثُمَّ حَرَّکَنِي فَقُمْتُ وَسَائِرُ الْحَدِيثِ نَحْوُ حَدِيثِ مَالِکٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯১
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
ہارون بن سعید، ایلی، ابن وہب، عمرو، عبد ربہ بن سعید، مخرمہ بن سلیمان، کریب، ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ (رض) کے ہاں میں سویا اور رسول اللہ ﷺ اس رات حضرت میمونہ کے پاس تھے تو رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو میں آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺ نے مجھے کان سے پکڑا اور اپنی دائیں طرف کرلیا، آپ ﷺ نے اس رات میں تیرہ رکعتیں نماز پڑھی پھر رسول اللہ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ خر اٹے لینے لگے اور جب بھی سوتے تو خر اٹے لیتے تھے پھر آپ ﷺ کے پاس مؤذن آیا تو آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی اگرچہ آپ ﷺ نے وضو نہیں فرمایا عمر نے کہا کہ میں نے اس حدیث کو بکیر بن اشج سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کریب نے ان سے اسی طرح بیان کیا ہے۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْکَ اللَّيْلَةَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّی فِي تِلْکَ اللَّيْلَةِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی نَفَخَ وَکَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ عَمْرٌو فَحَدَّثْتُ بِهِ بُکَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ فَقَالَ حَدَّثَنِي کُرَيْبٌ بِذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯২
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، مخرمہ بن سلیمان، کریب مولیٰ ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کے ہاں گزاری تو میں نے اپنی خالہ سے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوں تو مجھے جگا دیں تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ ﷺ کے بائیں پہلو کی طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کردیا اور مجھے جب بھی اونگھ آنے لگتی تو آپ ﷺ میرے کان کی لو پکڑتے۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے گیارہ رکعتیں پڑھی پھر آپ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی سوتے ہوئے آواز سنی پھر جب فجر ظاہر ہوگئی تو آپ ﷺ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقُلْتُ لَهَا إِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْقِظِينِي فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ إِلَی جَنْبِهِ الْأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي مِنْ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ فَجَعَلْتُ إِذَا أَغْفَيْتُ يَأْخُذُ بِشَحْمَةِ أُذُنِي قَالَ فَصَلَّی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً ثُمَّ احْتَبَی حَتَّی إِنِّي لَأَسْمَعُ نَفَسَهُ رَاقِدًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৩
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
ابن ابی عمر، محمد بن حاتم، ابن عیینہ، سفیان، عمرو ابن دینار، کریب مولیٰ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ (رض) کے ہاں گزاری تو رسول اللہ ﷺ رات کو کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے ایک لٹکے ہوئے مشکیزے سے ہلکا سا وضو فرمایا : حضرت ابن عباس (رض) اس ہلکے وضو کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کا وضو ہلکا تھا اور آپ ﷺ نے پانی بھی کم استعمال فرمایا : ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ پھر میں بھی کھڑا ہوا اور اسی طرح سے کیا جس طرح نبی ﷺ نے کیا اور میں آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺ نے مجھے پیچھے کر کے اپنے دائیں طرف کھڑا کردیا اور نماز پڑھی پھر آپ ﷺ لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ خر اٹے لینے لگے پھر حضرت بلال (رض) آپ ﷺ کے پاس آئے اور نماز کی اطلاع دی تو آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور صبح کی نماز پڑھائی حالانکہ آپ نے وضو نہیں فرمایا ( راوی) سفیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے لئے یہ خصوصیت ہے کیونکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کی آنکھیں سوتی ہیں اور آپ کا قلب اطہر نہیں سوتا۔ (اس لئے وضو نہیں ٹوٹا )
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوئًا خَفِيفًا قَالَ وَصَفَ وُضُوئَهُ وَجَعَلَ يُخَفِّفُهُ وَيُقَلِّلُهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّی ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّی نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَخَرَجَ فَصَلَّی الصُّبْحَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ سُفْيَانُ وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لِأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৪
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سلمہ، کریب، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ (رض) کے گھر میں ایک رات گزاری تو میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی کیفیت کو دیکھنے کے لئے جا گتا رہا کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور پیشاب فرمایا پھر آپ ﷺ نے اپنے چہرہ مبارک اور ہاتھوں کو دھویا پھر آپ ﷺ کھڑے ہو کر مشکیزے کی طرف گئے آپ ﷺ نے اس کا منہ کھولا اور اس کا پانی ایک بڑے گیلن یا ایک بڑے پیالے میں ڈالا پھر آپ ﷺ نے اس برتن کو اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر جھکایا پھر آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور بہت اچھے طریقے سے وضو فرمایا یا درمیانہ وضو، پھر آپ ﷺ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آیا اور آپ ﷺ کے بائیں پہلو کی طرف کھڑا ہوگیا آپ ﷺ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے تیرہ رکعتیں نماز مکمل پڑھیں پھر آپ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ خر اٹے لینے لگے ہم پہچانتے تھے کہ آپ ﷺ جب سوتے تو خر اٹے لیتے ہیں پھر آپ ﷺ نماز کے لئے باہر تشریف لائے اور اپنی نمازوں اور اپنے سجدوں میں دعا مانگتے ہوئے یہ فرماتے ( اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا أَوْ قَالَ وَاجْعَلْنِي نُورًا) اے اللہ میرے دل کو روشن اور میرے کانوں میں روشنی اور میری آنکھوں میں نور اور میرے دائیں کو روشن اور میرے بائیں کو روشن میرے آگے پیچھے اوپر نیچے کو روشن فرما اور مجھے روشن فرمایا آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سر سے پاؤں تک روشن فرما۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَبَقَيْتُ کَيْفَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ فَبَالَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَکَفَّيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ إِلَی الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ أَوْ الْقَصْعَةِ فَأَکَبَّهُ بِيَدِهِ عَلَيْهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَی جَنْبِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَکَامَلَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً ثُمَّ نَامَ حَتَّی نَفَخَ وَکُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاةِ فَصَلَّی فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا أَوْ قَالَ وَاجْعَلْنِي نُورًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৫
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
اسحاق بن منصور، نضر بن شمیل، شعبہ، سلمہ بن کہیل، بکیر، کریب، ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے کریب (رض) سے ملاقات کی تو اس نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس کو فرماتے سنا کہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ (رض) کے ہاں تھا تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ پھر آگے اسی طرح حدیث ذکر فرمائی غندر راوی کہتے ہیں کہ بغیر کسی شک کے آپ ﷺ نے دعا فرمائی ( وَاجْعَلْنِي نُورًا) اے اللہ مجھے روشن کر دے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ کُهَيْلٍ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَلَمَةُ فَلَقِيتُ کُرَيْبًا فَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَقَالَ وَاجْعَلْنِي نُورًا وَلَمْ يَشُکَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৬
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ہناد بن سری، ابوالاحوص، سعید بن مسروق، سلمہ بن کہیل، ابی رشدین مولیٰ ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ (رض) کے ہاں گزاری اور آگے اسی طرح حدیث بیان کی لیکن اس حدیث میں منہ اور ہاتھ دھونے کا ذکر نہیں ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ پھر آپ ﷺ مشکیزے کے پاس آئے اور اس کا منہ کھولا اور دو وضوؤں کے درمیان والا وضو فرمایا پھر آپ ﷺ اپنے بستر پر آکر سو گئے پھر آپ ﷺ دوسری مرتبہ اٹھ کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ مشکیزے کے پاس آئے اور اس کا منہ کھولا پھر آپ ﷺ نے وضو فرمایا کہ وہ ہی وضو تھا اور آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ مجھے عظیم روشنی فرما ( وَاجْعَلْنِي نُورًا) کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ أَبِي رِشْدِينٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْکُرْ غَسْلَ الْوَجْهِ وَالْکَفَّيْنِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ أَتَی الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوئًا بَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ ثُمَّ أَتَی فِرَاشَهُ فَنَامَ ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَی فَأَتَی الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئًا هُوَ الْوُضُوئُ وَقَالَ أَعْظِمْ لِي نُورًا وَلَمْ يَذْکُرْ وَاجْعَلْنِي نُورًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৭
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
ابوطاہر، ابن وہب، عبدالرحمن بن سلمان، عقیل بن خالد سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ بن کہیل (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ایک رات رسول اللہ کے ہاں گزاری وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے اس سے پانی بہایا اور وضو فرمایا اور پانی زیادہ استعمال نہیں فرمایا اور نہ ہی آپ ﷺ نے وضو میں کمی فرمائی اور آگے حدیث اسی طرح سے ہے اور اس حدیث میں ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس رات میں انیس کلموں سے دعا فرمائی، سلمہ کہتے ہیں کہ کریب نے مجھے وہ کلمات بیان کئے ہیں مجھے ان میں سے بارہ کلمات یاد ہیں اور باقی کلمات میں بھول گیا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ میرے دل میں نور فرما اور میری زبان کو روشن کر اور میرے کانوں کو روشن کر اور میری آنکھوں کو روشن کر اور میرے اوپر روشنی کر اور میرے نیچے روشنی کر اور میرے دائیں روشنی کر اور میرے بائیں روشنی کر اور میرے آگے روشنی کر اور میرے پیچھے روشنی کر اور میرے نفس کو روشن کر اور میرے لئے بڑی روشنی فرما۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلْمَانَ الْحَجْرِيِّ عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ کُهَيْلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ کُرَيْبًا حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْقِرْبَةِ فَسَکَبَ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يُکْثِرْ مِنْ الْمَائِ وَلَمْ يُقَصِّرْ فِي الْوُضُوئِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ تِسْعَ عَشْرَةَ کَلِمَةً قَالَ سَلَمَةُ حَدَّثَنِيهَا کُرَيْبٌ فَحَفِظْتُ مِنْهَا ثِنْتَيْ عَشْرَةَ وَنَسِيتُ مَا بَقِيَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَمِنْ بَيْنِ يَدَيَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৮
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
ابوبکر بن اسحاق، ابن ابی مریم، محمد بن جعفر، شریک بن ابی نمر، کریب، ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک رات میں نے حضرت میمونہ (رض) کے پاس گزاری جس رات کہ نبی ﷺ میمونہ (رض) کے پاس تھے تاکہ میں نبی ﷺ کی رات کی نماز کی کیفیت کو دیکھ سکوں، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے رات کو کچھ وقت اپنی اہلیہ محترمہ کے ساتھ باتیں فرمائیں پھر آپ ﷺ سو گئے اور آگے اسی طرح حدیث بیان کی اور اس حدیث میں ہے کہ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور مسواک استعمال فرمائی۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي شَرِيکُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ رَقَدْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لَيْلَةَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا لِأَنْظُرَ کَيْفَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَالَ فَتَحَدَّثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৯৯
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
واصل بن عبدالاعلی، محمد بن فضیل، حصین بن عبدالرحمن، حبیب بن ابی ثابت، محمد بن علی بن ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ہاں گزاری تو آپ ﷺ بیدار ہوئے اور آپ ﷺ نے مسواک فرمائی اور وضو فرمایا اور یہ فرما رہے تھے ( إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ) بیشک آسمانوں اور زمین کے بیدا کرنے میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں، آپ ﷺ نے یہ آیات پڑھیں یہاں تک کہ سورت آل عمران ختم ہوگئی پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی اور ان میں قیام اور رکوع اور سجدوں کو لمبا فرمایا پھر آپ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ خر اٹے لینے لگے پھر آپ نے تین مرتبہ اسی طرح کر کے چھ رکعتیں پڑھیں ہر مرتبہ مسواک فرماتے اور وضو فرماتے اور یہی آیات پڑھتے پھر آپ ﷺ نے تین رکعات نماز وتر پڑھی پھر مؤذن نے آپ ﷺ کو اطلاع دی تو آپ ﷺ نماز کے لئے یہ فرماتے ہوئے باہر تشریف لائے اے اللہ میرے دل میں نور اور میری زبان میں نور اور میرے کانوں میں اور میری آنکھوں کو روشن اور میرے پیچھے اور میرے آگے اور میرے اوپر اور میرے نیچے روشن فرما اے اللہ مجھے روشنی سے نواز دے۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّکَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ فَقَرَأَ هَؤُلَائِ الْآيَاتِ حَتَّی خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّی نَفَخَ ثُمَّ فَعَلَ ذَلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَکَعَاتٍ کُلَّ ذَلِکَ يَسْتَاکُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَائِ الْآيَاتِ ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَی الصَّلَاةِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০০
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، عطاء، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ (رض) کے ہاں گزاری تو نبی ﷺ رات کو نفل پڑھنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تو نبی ﷺ ایک مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے وضو فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو میں بھی کھڑا ہوگیا اور میں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح میں نے آپ ﷺ کو کرتے دیکھا اور مشکیزے سے میں نے وضو کیا اور میں آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺ نے میری پشت کے پیچھے سے دائیں طرف کھڑا کردیا میں نے کہا کہ کیا یہ کام نفل میں کیا تھا تو حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جی ہاں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا مِنْ اللَّيْلِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْقِرْبَةِ فَتَوَضَّأَ فَقَامَ فَصَلَّی فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِکَ فَتَوَضَّأْتُ مِنْ الْقِرْبَةِ ثُمَّ قُمْتُ إِلَی شِقِّهِ الْأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَائِ ظَهْرِهِ يَعْدِلُنِي کَذَلِکَ مِنْ وَرَائِ ظَهْرِهِ إِلَی الشِّقِّ الْأَيْمَنِ قُلْتُ أَفِي التَّطَوُّعِ کَانَ ذَلِکَ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০১
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
ہارون بن عبداللہ، محمد بن رافع، وہب بن جریر، قیس بن سعد، عطاء، ابن عباس فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عباس (رض) نے نبی ﷺ کی طرف بھیجا اور آپ ﷺ میری خالہ حضرت میمونہ (رض) کے گھر میں تھے تو میں نے ان کے ساتھ وہ رات گزاری تو آپ ﷺ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کردیا۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَنِي الْعَبَّاسُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَبِتُّ مَعَهُ تِلْکَ اللَّيْلَةَ فَقَامَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَتَنَاوَلَنِي مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَجَعَلَنِي عَلَی يَمِينِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০২
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
ابن نمیر، عبدالملک، عطاء ابن عباس (رض) سے یہ حدیث اسی طرح اس سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৩
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، ابوجمرۃ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعات نماز پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৪
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، عبداللہ بن ابی بکر، عبداللہ بن قیس بن مخرمہ، حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں آج کی رات رسول اللہ ﷺ کی نماز کو دیکھوں گا تو آپ ﷺ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں پھر دو لمبی رکعتیں پڑھیں دو لمبی لمبی، دو لمبی سے لمبی، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں اور یہ دونوں پہلی دونوں پڑھی گئی سے کم پڑھیں پھر اس سے کم اور پھر اس سے کم دو رکعات پڑھیں پھر اس سے کم دو رکعات پڑھیں پھر آپ ﷺ نے تین وتر پڑھے تو یہ تیرہ رکعتیں ہوگئیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَلِکَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৫
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حجاج بن شاعر، محمد بن جعفر مدائنی، ابوجعفر، ورقاء، محمد بن منکدر، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو ہم ایک گھاٹی کی طرف اترے، آپ ﷺ نے فرمایا اے جابر ! کیا تو پار نہیں اترتا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! تو رسول اللہ ﷺ اترے اور میں بھی اترا پھر آپ ﷺ قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میں نے آپ ﷺ کے لئے وضو کا پانی رکھا آپ ﷺ آئے اور وضو فرمایا پھر کھڑے ہوئے ایک ہی کپڑا دونوں سمتوں کی طرف اس کے کنارے اوڑھے ہوئے آپ ﷺ نے نماز پڑھی تو میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور آپ ﷺ نے میرے کان کو پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کردیا۔
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَی مَشْرَعَةٍ فَقَالَ أَلَا تُشْرِعُ يَا جَابِرُ قُلْتُ بَلَی قَالَ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْرَعْتُ قَالَ ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوئًا قَالَ فَجَائَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৬
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ہشیم، ابوحرہ، حسن، سعد بن ہشام، عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو آپ ﷺ اپنی نماز کو دو ہلکی رکعتوں سے شروع فرماتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو حُرَّةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ لِيُصَلِّيَ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ بِرَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৭
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ہشام، محمد، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی رات کو کھڑا ہو تو اسے چاہئے کہ کہ وہ اپنی نماز کو دو ہلکی رکعتوں سے شروع کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنْ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهُ بِرَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৮
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابوزبیر، طاؤس، ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب آدھی رات کو نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے۔ اے اللہ ! ساری تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اور ساری تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے۔ اور ساری تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں اور وہ چیزیں کہ جو ان آسمانوں اور زمین میں ہیں، تو حق ہے اور تیرا وعدہ برحق ہے اور تیرا فرمان حق ہے اور تجھ سے ملاقات حق ہے اور جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے اور قیامت حق ہے اے اللہ میں تیرا ہی فرمانبردار ہوں اور تجھی پر ایمان لایا ہوں اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور میں تیری ہی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور میں تیری خاطر اوروں سے جھگڑتا ہوں اور تجھ ہی سے فیصلہ چاہتا ہوں پس تو میرے اگلے پچھلے اور باطنی اور ظاہری گناہ بخش دے تو ہی میرا معبود ہے تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ اللَّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُکَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَيْکَ تَوَکَّلْتُ وَإِلَيْکَ أَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮০৯
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
عمرو ناقد، ابن نمیر، ابن ابی عمر، سفیان، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، سلیمان احول، طاؤس، حضرت ابن عباس (رض) نے نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا : باقی ابن جریج کی حدیث کے الفاظ مالک کی حدیث کے ساتھ متفق ہیں اور کوئی اختلاف نہیں سوائے دو حرفوں کے ابن جریج نے قیام کی جگہ قیم کا لفظ استعمال کیا اور مَا أَسْرَرْتُ کا لفظ کہا اور باقی ابن عیینہ کی حدیث میں کچھ باتیں زائد ہیں اور مالک اور ابن جریج کی روایت سے کچھ باتوں میں مختلف ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ کِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ فَاتَّفَقَ لَفْظُهُ مَعَ حَدِيثِ مَالِکٍ لَمْ يَخْتَلِفَا إِلَّا فِي حَرْفَيْنِ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ مَکَانَ قَيَّامُ قَيِّمُ وَقَالَ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ فَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ وَيُخَالِفُ مَالِکًا وَابْنَ جُرَيْجٍ فِي أَحْرُفٍ
তাহকীক: