আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৪১ টি
হাদীস নং: ১৩৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت کے وقت نزع کا عالم طاری ہونے سے پہلے پہلے اسلام قابل قبول ہے اور مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں اور شرک پر مرنے والا دوزخی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ح، حسن الحلوانی، عبد بن حمید، یعقوب یعنی ابن ابراہیم بن سعد اپنے والد سے، صالح، زہری نے انہی سندوں کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے مگر اس روایت میں دونوں آیات کا تذکرہ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ صَالِحٍ انْتَهَی عِنْدَ قَوْلِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَلَمْ يَذْکُرْ الْآيَتَيْنِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ وَيَعُودَانِ فِي تِلْکَ الْمَقَالَةِ وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ مَکَانَ هَذِهِ الْکَلِمَةِ فَلَمْ يَزَالَا بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت کے وقت نزع کا عالم طاری ہونے سے پہلے پہلے اسلام قابل قبول ہے اور مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں اور شرک پر مرنے والا دوزخی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا
محمد بن عباد، ابن ابی عمر، مروان، یزید یعنی ابن کیسان، ابوکیسان، ابوحازم، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے ان کی موت کے وقت فرمایا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہہ دو میں قیامت کے دن اس کی گواہی دے دوں گا ابوطالب نے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ) 28 ۔ القصص : 56) نازل فرمائی یعنی بیشک تو ہدایت نہیں کرسکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَکَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَبَی فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ الْآيَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت کے وقت نزع کا عالم طاری ہونے سے پہلے پہلے اسلام قابل قبول ہے اور مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں اور شرک پر مرنے والا دوزخی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا
محمد بن حاتم بن میمون، یحییٰ بن سعید، یزید بن کیسان، ابوحازم اشجعی، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے فرمایا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہہ دو تو میں قیامت کے دن اس کی گواہی دے دوں گا ابوطالب نے جواب میں کہا قریش مجھے بدنام کریں گے اور کہیں گے کہ ابوطالب نے ڈر کے مارے ایسا کیا اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں کلمہ پڑھ کر آپ ﷺ کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا اسی پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ) 28 ۔ القصص : 56) نازل فرمائی یعنی بیشک تو ہدایت نہیں کرسکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَکَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ يَقُولُونَ إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَی ذَلِکَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَائُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ابوبکر، ابن علیہ، خالد، ولید بن مسلم، حمران، عثمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا یقین رکھتے ہوئے مرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ حُمْرَانَ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
محمد بن ابی بکر مقدمی، بشربن مفضل، خالد حذاء، ولید ابی بشر، حمران، حضرت عثمان (رض) سے اسی طرح کا فرمان رسول اللہ ﷺ کا نقل کیا ہے صرف الفاظ میں ردو بدل ہے مطلب اور ترجمہ یہی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَائً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
ابوبکر بن نضر بن ابی النضر، ابوالنضر ہاشم بن القاسم، عبیداللہ اشجعی، مالک بن مغول، طلحہ بن مصرف، ابوصالح، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے لوگوں کے پاس جو زاد راہ تھا وہ ختم ہوگیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان لوگوں میں سے بعض کے اونٹ ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت عمر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر آپ ﷺ لوگوں کے پاس سے بچا ہو زاد راہ جمع کریں اور اس پر دعا فرمائیں تاکہ اس میں برکت ہوجائے اور سب کو کفایت کر جائے، آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا تو جس کے پاس گیہوں تھے وہ گیہوں لے کر آگئے اور جس کے پاس کھجور تھی وہ کھجور لے کر آگئے اور جس کے پاس خالی گٹھلیاں تھیں وہ خالی گٹھلیاں لے کر آیا، میں نے کہا گٹھلی کو کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ گٹھلیوں کو چوستے تھے اور اس پر پانی پی لیا کرتے تھے بالآخر سارا سامان جب جمع ہوگیا تو آپ ﷺ نے اس پر دعا فرمائی نتیجہ یہ ہوا کہ سب لوگوں نے اپنے اپنے توشہ دانوں کو بھر لیا اس وقت آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو بندہ اللہ تعالیٰ سے ان دونوں باتوں کی شہادتوں کا یقین رکھتے ہوئے مرے گا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ قَالَ فَنَفِدَتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ قَالَ حَتَّی هَمَّ بِنَحْرِ بَعْضِ حَمَائِلِهِمْ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ جَمَعْتَ مَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِ الْقَوْمِ فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَلَيْهَا قَالَ فَفَعَلَ قَالَ فَجَائَ ذُو الْبُرِّ بِبُرِّهِ وَذُو التَّمْرِ بِتَمْرِهِ قَالَ وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَذُو النَّوَاةِ بِنَوَاهُ قُلْتُ وَمَا کَانُوا يَصْنَعُونَ بِالنَّوَی قَالَ کَانُوا يَمُصُّونَهُ وَيَشْرَبُونَ عَلَيْهِ الْمَائَ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهَا حَتَّی مَلَأَ الْقَوْمُ أَزْوِدَتَهُمْ قَالَ فَقَالَ عِنْدَ ذَلِکَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَی اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاکٍّ فِيهِمَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
سہل بن عثمان، ابوکریب، محمد بن علاء، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ یا حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے ( راوی اعمش کو شک ہے) کہ جب غزوہ تبوک کا وقت آیا تو اس دن لوگوں کو بہت سخت بھوک لگی، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر آپ ﷺ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے ان اونٹوں کو جن پر پانی لاتے ہیں ان کو ذبح کرکے گوشت وغیرہ کھالیں اور چربی کا تیل بنالیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ایسا کرلو، اتنے میں حضرت عمر (رض) آئے اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ اگر آپ ﷺ ایسا کریں گے تو سواریاں کم ہوجائیں گی آپ ﷺ ایسا نہ کریں بلکہ سب لوگوں کا بچا ہوا کھانے پینے کا سامان جمع کریں اور اللہ تعالیٰ سے اس میں برکت کی دعا فرمائیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے گا آپ ﷺ نے فرمایا اچھا ! پھر چمڑے کا دستر خوان منگوا کر بچھا دیا اور لوگوں کے پاس جو کچھ کھانے پینے کا سامان بچ گیا تھا اس کو طلب فرمایا : آپ ﷺ کے حکم کے مطابق کچھ لوگوں نے مٹھی بھر جو اور کچھ لوگوں نے مٹھی بھر چھوہارے اور کچھ لوگوں نے روٹی کا ٹکڑا لا کر حاضر کردیا یہاں تک کہ یہ سب کچھ جب دستر خوان پر جمع ہوگیا تو آپ ﷺ نے برکت کی دعا فرمائی، دعا کے بعد فرمایا اپنے اپنے سب برتن بھر لو، لوگوں نے تمام برتن بھر لئے پھر لشکر میں کوئی برتن خالی نہ رہا پھر سب لوگوں نے خوب سیر ہو کر کھایا اور اس کے بعد بھی کچھ باقی رہ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو بندہ ان دونوں شہادتوں پر یقین رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا (مرے گا) اسے جنت سے ہرگز نہ روکا جائے گا۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ وَأَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ شَکَّ الْأَعْمَشُ قَالَ لَمَّا کَانَ غَزْوَةُ تَبُوکَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا فَأَکَلْنَا وَادَّهَنَّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلُوا قَالَ فَجَائَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ وَلَکِنْ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ثُمَّ ادْعُ اللَّهَ لَهُمْ عَلَيْهَا بِالْبَرَکَةِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ فَدَعَا بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيئُ بِکَفِّ ذُرَةٍ قَالَ وَيَجِيئُ الْآخَرُ بِکَفِّ تَمْرٍ قَالَ وَيَجِيئُ الْآخَرُ بِکَسْرَةٍ حَتَّی اجْتَمَعَ عَلَی النِّطَعِ مِنْ ذَلِکَ شَيْئٌ يَسِيرٌ قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بِالْبَرَکَةِ ثُمَّ قَالَ خُذُوا فِي أَوْعِيَتِکُمْ قَالَ فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّی مَا تَرَکُوا فِي الْعَسْکَرِ وِعَائً إِلَّا مَلَئُوهُ قَالَ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَی اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاکٍّ فَيُحْجَبَ عَنْ الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
داؤد بن رشید، ولید یعنی ابن مسلم، ابن جابر، عمیر بن ہانی، جنادہ، ابی امیہ، عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو اس بات کا قائل ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے نبی، حضرت مریم کے بیٹے اور کلمہ اللہ ہیں جو اس نے حضرت مریم کی طرف القاء کیا تھا اور روح اللہ ہیں اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو وہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ ابْنِ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ قَالَ حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ عِيسَی عَبْدُ اللَّهِ وَابْنُ أَمَتِهِ وَکَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَی مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَائَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
احمد بن ابراہیم دورقی، مبشر بن اسماعیل، اوزاعی، حضرت عمیر بن ہانی سے اسی طرح کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے اس کے جو عمل بھی ہوں لیکن اس روایت میں یہ الفاظ مذکور نہیں کہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے چلا جائے۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَی مَا کَانَ مِنْ عَمَلٍ وَلَمْ يَذْکُرْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَائَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن عجلان، محمد بن یحییٰ ابن حبان، ابن محیریز، حضرت صنابحی سے روایت ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت (رض) نزع کی حالت میں تھے میں حاضر ہوا اور انہیں دیکھ کر رونے لگا انہوں نے فرمایا روتا کیوں ہے اللہ کی قسم اگر مجھ سے گواہی لی گئی تو میں تیرے لئے گواہی دوں گا اگر میری سفارش قبول کی گئی تو میں تیرے لئے سفارش کروں گا اگر مجھ میں طاقت ہوئی تو تجھے فائدہ پہنچاؤں گا پھر فرمایا کوئی حدیث ایسی نہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو اور اس میں تم لوگوں کو فائدہ ہو اور میں نے تم سے وہ بیان نہ کی ہو ہاں ایک حدیث میں نے بیان نہیں کی وہ میں آج تم سے بیان کرتا ہوں کیونکہ میرا سانس گھٹنے کو ہے مرنے کے قریب ہوں میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ جو شخص لَا اِلٰہ اِلَّاِ اللہ اور مُحَمَّدُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ کی گواہی دے گا اللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کو حرام کر دے گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ الصُّنَابِحِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَکَيْتُ فَقَالَ مَهْلًا لِمَ تَبْکِي فَوَاللَّهِ لَئِنْ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَکَ وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَکَ وَلَئِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّکَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَکُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُکُمُوهُ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا وَسَوْفَ أُحَدِّثُکُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
ہداب بن خالد ازدی، ہمام، قتادہ، انس بن مالک، معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سواری پر آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا میرے اور آپ ﷺ کے درمیان کجاوے کی درمیانی لکڑی کے علاوہ اور کوئی چیز حائل نہ تھی اتنے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے معاذ بن جبل (رض) ! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں حاضر ہوں، پھر تھوڑی دیر چلے پھر فرمایا اے معاذ بن جبل (رض) ! میں نے عرض کیا میں حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول ﷺ ! پھر تھوڑی دور چلے پھر فرمایا اے معاذ بن جبل ! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اس کے بعد پھر آپ ﷺ تھوڑی دیر چلتے رہے پھر فرمایا اے معاذ بن جبل (رض) کیا تو جانتا ہے کہ بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے ؟ بشرطیکہ وہ ایسا کریں یعنی شرک نہ کریں، میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو عذاب نہ دے۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ کُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ فَقَالَ يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَی الْعِبَادِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَی الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِکُوا بِهِ شَيْئًا ثُمَّ سَارَ سَاعَةً قَالَ يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوالاحوص، سلام بن سلیم، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے عفیر نامی گدھے پر آپ ﷺ کے ساتھ سوار تھا، آپ ﷺ نے فرمایا اے معاذ کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ اس کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ دے دوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں (ورنہ) وہ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ کُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ قَالَ فَقَالَ يَا مُعَاذُ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَی الْعِبَادِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللَّهِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَی الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا يُشْرِکُوا بِهِ شَيْئًا وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّکِلُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوحصین، اشعث بن سلیم، اسود بن ہلال، معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے معاذ کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے (اس کے بعد) فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے ؟ جب وہ ایسا کریں ! (یعنی شرک نہ کریں) میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا کہ وہ ان کو عذاب نہ دے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ وَالْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مُعَاذُ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَی الْعِبَادِ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ يُعْبَدَ اللَّهُ وَلَا يُشْرَکَ بِهِ شَيْئٌ قَالَ أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
قاسم بن زکریا، حسین، زائدہ، ابی حصین، اسود بن ہلال، معاذ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے آواز دی اور میں نے جواب دیا آپ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کا حق لوگوں پر کیا ہے ؟ باقی حدیث وہی ہے جو ابھی گذری
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذًا يَقُولُا دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَی النَّاسِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
زہیر بن حرب، عمر بن یونس حنفی، عکرمہ بن عمار، ابوکثیر، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) بھی شامل تھے اچانک رسول اللہ ﷺ ہمارے سامنے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور دیر تک تشریف نہ لائے ہم ڈر گئے کہ کہیں (اللہ نہ کرے) آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو۔ اس لئے ہم گھبرا کر کھڑے ہوگئے سب سے پہلے مجھے گھبراہٹ ہوئی میں رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلا یہاں تک کہ بنی نجار کے باغ تک پہنچ گیا ہرچند باغ کے چاروں طرف گھوما مگر اندر جانے کا کوئی دروازہ نہ ملا۔ اتفاقاً ایک نالہ دکھائی دیا جو بیرونی کنوئیں سے باغ کے اندر جارہا تھا میں اسی نالہ میں سمٹ کر گھر کے اندر داخل ہوا اور آپ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ کا کیا حال ہے ؟ آپ ہمارے سامنے تشریف فرما تھے اور اچانک اٹھ کر تشریف لے گئے اور دیر ہوگئی تو ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں کوئی حادثہ نہ گزرا ہو اس لئے ہم گھبرا گئے۔ سب سے پہلے مجھے ہی گھبراہٹ ہوئی (تلاش کرتے کرتے کرتے) اس باغ تک پہنچ گیا اور لومڑی کی طرح سمٹ کر (نالہ کے راستہ سے) اندر آگیا اور لوگ میرے پیچھے ہیں۔ آپ نے اپنے نعلین مبارک مجھے دے کر فرمایا ابوہریرہ ! میری یہ دونوں جوتیاں (بطور نشانی) کے لے جاؤ اور جو شخص باغ کے باہر دل کے یقین کے ساتھ لا الٰہ الّا اللہ کہتا ہوا ملے اس کو جنت کی بشارت دے دو ۔ (میں نے حکم کی تعمیل کی) سب سے پہلے مجھے حضرت عمر (رض) ملے۔ انہوں نے کہا اے ابوہریرہ (رض) ! یہ جوتیاں کیسی ہیں ؟ میں نے کہا یہ اللہ کے رسول ﷺ کی جوتیاں ہیں۔ آپ نے مجھے یہ جوتیاں دے کر بھیجا ہے کہ جو مجھے دل کے یقین کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہوا ملے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کو جنت کی بشارت دے دوں۔ حضرت عمر (رض) نے یہ سن کر ہاتھ سے میرے سینے پر ایک ضرب رسید کی جس کی وجہ سے میں سرینوں کے بل گرپڑا۔ کہنے لگے اے ابوہریرہ (رض) ! لوٹ جا۔ میں لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور میں رو پڑنے کے قریب تھا۔ میرے پیچھے عمر (رض) بھی آپہنچے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوہریرہ ! کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا میری ملاقات عمر (رض) سے ہوئی اور جو پیغام آپ نے مجھے دے کر بھیجا تھا میں نے ان کو پہنچادیا۔ انہوں نے میرے سینے پر ایک ضرب رسید کی جس کی وجہ سے میں سرینوں کے بل گرپڑا اور کہنے لگے لوٹ جا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عمرتم نے ایسا کیوں کیا ؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! کیا آپ نے ابوہریرہ (رض) کو جوتیاں دے کر حکم دیا تھا کہ جو شخص دل کے یقین کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہے اس کو جنت کی بشارت دے دینا۔ فرمایا ہاں ! حضرت عمر (رض) نے عرض کیا آپ ایسا نہ کریں کیونکہ مجھے خوف ہے کہ لوگ (عمل کرنا چھوڑ دیں گے) اور اسی فرمان پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔ ان کو عمل کرنے دیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (اچھا تو) رہنے دو ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ کُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فِي نَفَرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَيْتُ حَائِطًا لِلْأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا فَلَمْ أَجِدْ فَإِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَةٍ وَالرَّبِيعُ الْجَدْوَلُ فَاحْتَفَزْتُ کَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ فَدَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا شَأْنُکَ قُلْتُ کُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا فَفَزِعْنَا فَکُنْتُ أَوَّلَ مِنْ فَزِعَ فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَزْتُ کَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ وَهَؤُلَائِ النَّاسُ وَرَائِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ قَالَ اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَائِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيتُ عُمَرُ فَقَالَ مَا هَاتَانِ النَّعْلَانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ هَاتَانِ نَعْلَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَخَرَرْتُ لِاسْتِي فَقَالَ ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَرَجَعْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْهَشْتُ بُکَائً وَرَکِبَنِي عُمَرُ فَإِذَا هُوَ عَلَی أَثَرِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَکَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قُلْتُ لَقِيتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لِاسْتِي قَالَ ارْجِعْ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ يَا عُمَرُ مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا فَعَلْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْکَ مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ فَإِنِّي أَخْشَی أَنْ يَتَّکِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلِّهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
اسحاق بن منصور، معاذ بن ہشام اپنے والد سے، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور معاذ بن جبل ایک سواری پر سوار تھے معاذ (رض) آپ ﷺ کے پیچھے تھے آپ ﷺ نے فرمایا اے معاذ حضرت معاذ (رض) نے عرض کیا حاضر ہوں اے اللہ کے رسول ﷺ نے پھر فرمایا اے معاذ ! حضرت معاذ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں خدمت اقدس میں موجود ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا جو بندہ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اللہ اس پر ضرور دوزخ حرام کر دے گا، حضرت معاذ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا میں اس فرمان کی لوگوں کو اطلاع نہ کر دوں کہ وہ خوش ہوجائیں آپ ﷺ نے فرمایا اگر ایسا ہوگا تو اعمال چھوڑ کر لوگ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے معاذ (رض) نے اپنی موت کے وقت گناہ کے خوف کی وجہ سے یہ حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَدِيفُهُ عَلَی الرَّحْلِ قَالَ يَا مُعَاذُ قَالَ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ قَالَ يَا مُعَاذُ قَالَ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ قَالَ يَا مُعَاذُ قَالَ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَی النَّارِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا قَالَ إِذًا يَتَّکِلُوا فَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
شیبان بن فروخ، سلیمان یعنی ابن المغیرہ، ثابت، انس بن مالک، محمود بن ربیع، حضرت عتبان بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں میں کچھ خرابی ہوگئی تھی اس لئے میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ میری یہ خواہش ہے کہ آپ ﷺ میرے گھر میں تشریف لا کر نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو اپنے نماز پڑھنے کی جگہ بنالوں کیونکہ میں مسجد میں حاضری سے معذور ہوں پس آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے اور گھر میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے مگر صحابہ (رض) آپس میں گفتگو میں مشغول رہے دوران گفتگو مالک بن دخشم کا تذکرہ آیا لوگوں نے اس کو مغرور اور متکبر کہا کہ وہ آپ ﷺ کی تشریف آوری کی خبر سن کر بھی حاضر نہیں ہوا معلوم ہوا وہ منافق ہے، صحابہ (رض) نے کہا کہ ہم دل سے چاہتے تھے کہ آپ ﷺ اس کے لئے بددعا کریں کہ وہ ہلاک ہوجائے یا کسی مصیبت میں گرفتار ہوجائے رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کیا وہ اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور میری رسالت کی گواہی نہیں دیتا صحابہ (رض) نے عرض کیا زبان سے تو وہ اس کا قائل ہے مگر اس کے دل میں یہ بات نہیں فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کی توحید اور میری رسالت کی گواہی دے گا وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا یا یہ فرمایا کہ اس کو آگ نہ کھائے گی حضرت انس (رض) نے فرمایا کہ یہ حدیث مجھے بہت اچھی لگی میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اس کو لکھ لو تو انہوں نے اس حدیث کو لکھ لیا۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عِتْبَانَ فَقُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْکَ قَالَ أَصَابَنِي فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّيْئِ فَبَعَثْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِي فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّی قَالَ فَأَتَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَائَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَنْزِلِي وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ أَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِکَ وَکُبْرَهُ إِلَی مَالِکِ بْنِ دُخْشُمٍ قَالُوا وَدُّوا أَنَّهُ دَعَا عَلَيْهِ فَهَلَکَ وَوَدُّوا أَنَّهُ أَصَابَهُ شَرٌّ فَقَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَقَالَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا إِنَّهُ يَقُولُ ذَلِکَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ قَالَ لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَيَدْخُلَ النَّارَ أَوْ تَطْعَمَهُ قَالَ أَنَسٌ فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ فَقُلْتُ لِابْنِي اکْتُبْهُ فَکَتَبَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
ابوبکر بن نافع عبدی، بہز، حماد، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت عتبان بن مالک (رض) نے حدیث بیان کی کہ وہ نا بینا ہوگئے تھے اس لئے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ ﷺ میرے گھر تشریف لائیں اور مسجد کی ایک جگہ مقرر کردیں پس آپ ﷺ آئے عتبان کے خاندان والے بھی آئے مگر ایک آدمی جس کا نام مالک بن دخیشم تھا نہ آیا باقی حدیث وہی ہے جو ابھی گزری
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّهُ عَمِيَ فَأَرْسَلَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَعَالَ فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَائَ قَوْمُهُ وَنُعِتَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مَالِکُ بْنُ الدُّخْشُمِ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو رب اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو رسول مان کر راضی ہو پس وہ مومن ہے اگرچہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرے
محمد بن یحییٰ بن ابی عمر مکی، بشر بن حکم، عبدالعزیز (محمد بن در اور دی) یزید بن ہاد، محمد بن ابراہیم، عامر بن سعد، حضرت عباس (رض) بن عبدالمطلب سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر اپنی رضا کا دل سے اعلان کردیا اس نے ایمان کا مزہ چکھ لیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ وَبِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں
عبیداللہ بن سعید، عبد بن حمید، ابوعامر عقدی، سلیمان بن بلال، عبداللہ بن دینار، ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایمان کی کچھ اوپر ستر شاخیں ہیں اور حیاء بھی ایمان ہی کی ایک شاخ ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً وَالْحَيَائُ شُعْبَةٌ مِنْ الْإِيمَانِ
তাহকীক: