আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৪১ টি

হাদীস নং: ১১৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ اپنے والد سے، عاصم یعنی ابن محمد بن زید بن ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کا اقرار کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز پابندی سے پڑھنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کے بیان میں
ابن نمیر اپنے والد سے، حنظلہ، عکرمہ بن خالد، طاؤس، ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا کہ کیا آپ جہاد نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔
حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ قَالَ سَمِعْتُ عِکْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يُحَدِّثُ طَاوُسًا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَلَا تَغْزُو فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْإِسْلَامَ بُنِيَ عَلَی خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ وَحَجِّ الْبَيْتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا
خلف بن ہشام، حماد بن زید، ابوجمرہ، ابن عباس، ح، یحییٰ بن یحییٰ عباد بن ابوجمرہ، ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم خاندان ربیعہ سے ہیں اور ہمارے اور آپ ﷺ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم آپ ﷺ کی خدمت میں حرمت والے مہینوں کے علاوہ اور زمانہ میں نہیں پہنچ سکتے اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسا حکم فرمائیں جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور ادھر والوں کو بھی اس پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دیں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں تم کو چار باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں کی ممانعت کرتا ہوں : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، نماز باقاعدگی سے پڑھنا، زکوٰۃ ادا کرنا، مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا اس کے بعد فرمایا میں تم کو درج ذیل چیزوں سے منع کرتا ہوں کدو کے تون بے سے، سبز گھڑے سے، لکڑی کے گھڑے سے اور روغن قیر ملے ہوئے برتن سے خلف بن ہشام نے اپنی روایت میں اتنا زیادہ کیا ہے کہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَکَ کُفَّارُ مُضَرَ فَلَا نَخْلُصُ إِلَيْکَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَائَنَا قَالَ آمُرُکُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ فَقَالَ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ زَادَ خَلَفٌ فِي رِوَايَتِهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَعَقَدَ وَاحِدَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابوبکر، غندر، شعبہ، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوجمرہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابن عباس (رض) اور دوسرے لوگوں کے درمیان ترجمانی کیا کرتا تھا اتنے میں ایک عورت آئی اس نے حضرت ابن عباس (رض) سے گھڑے کی نبیذ کے متعلق مسئلہ پوچھا حضرت ابن عباس (رض) نے جواب دیا کہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوا آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون سا وفد ہے یا کس قوم سے ہیں ؟ وفد والوں نے عرض کیا کہ خاندان ربیعہ، آپ ﷺ نے اس وفد کو خوش آمدید کہا اور دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تم کو رسوا اور پشیمان نہ کرے، اہل وفد نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم آپ ﷺ کی خدمت میں دور دراز سے سفر کر کے آئے ہیں اور ہمارے اور آپ ﷺ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ اور کسی مہینہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوسکتے اس لئے آپ ﷺ ہمیں کوئی ایسا امر فیصل بتادیں جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلے کے لوگوں کو بھی اس پر عمل کرنے کی دعوت دیں اور ہم جنت میں داخل ہوجائیں، آپ ﷺ نے ان کو چار چیزوں کے کرنے کا اور چار چیزوں سے رک جانے کا حکم دیا آپ ﷺ نے ان کو ایک اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور پھر خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانے کے کیا معنی ہیں ؟ وفد والوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا، آپ ﷺ نے ان کو چار چیزوں سے منع فرمایا کدو کی تونبی، سبز گھڑا، روغن قیر ملا ہوا برتن، شعبہ کی روایت کے مطابق لکڑی کا برتن پھر آپ ﷺ نے فرمایا تم خود بھی اسے یاد رکھو اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اطلاع کردو ابوبکر بن شیبہ نے اپنی روایت میں لکڑی کے برتن کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ کُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ يَدَيْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْوَفْدُ أَوْ مَنْ الْقَوْمُ قَالُوا رَبِيعَةُ قَالَ مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا النَّدَامَی قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْتِيکَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَکَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ کُفَّارِ مُضَرَ وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَکَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَائَنَا نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ قَالَ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ قَالَ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَائُ الزَّکَاةِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسًا مِنْ الْمَغْنَمِ وَنَهَاهُمْ عَنْ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ شُعْبَةُ وَرُبَّمَا قَالَ النَّقِيرِ قَالَ شُعْبَةُ وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ وَقَالَ احْفَظُوهُ وَأَخْبِرُوا بِهِ مِنْ وَرَائِکُمْ و قَالَ أَبُو بَکْرٍ فِي رِوَايَتِهِ مَنْ وَرَائَکُمْ وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِ الْمُقَيَّرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا
عبیداللہ بن معاذ اپنے والد سے، نصر بن علی الجہضمی اپنے والد سے، قرہ بن خالد، ابی جمرہ حضرت ابن عباس (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اس حدیث کو حضرت شعبہ (رض) والی حدیث کی طرح نقل کیا ہے اور اس میں آپ ﷺ نے فرمایا میں تم کو اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو کدو کی تو نبی اور لکڑی کے کٹھلے اور سبز گھڑے اور روغن قیر ملے ہوئے برتن میں بنایا جاتا ہے حضرت ابن معاذ (رض) کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اشج سے جو قبیلہ عبدالقیس کا سردار تھا فرمایا تمہارے اندر دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے عقلمندی اور سوچ سمجھ کر کام کرنا۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَقَالَ أَنْهَاکُمْ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّائِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَشَجِّ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ إِنَّ فِيکَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا
یحییٰ بن ایوب، ابن علیہ، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ (رض) نے فرمایا کہ مجھ سے اس شخص نے روایت نقل کی ہے جو قبیلہ عبدالقیس کے وفد سے ملا تھا وہ وفد جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، حضرت سعید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابونضرہ کے واسطہ سے حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت بیان کی کہ قبیلہ عبدالقیس کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم ربیعہ کے قبیلہ سے ہیں ہمارے اور آپ ﷺ کے درمیان قبیلہ مضر کے کفار حائل ہیں اس لئے حرمت والے مہینوں کے علاوہ اور مہینوں میں ہم آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوسکتے اس لئے آپ ﷺ ہمیں ایسا حکم دیں جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلہ والوں کو بھی اس پر عمل کرنے کا حکم دیں اور اس کے ذریعے ہم جنت میں داخل ہوجائیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم کو چار باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرو اور چار باتوں سے میں تم کو منع کرتا ہوں۔ کدو کی تونبی، سبز گھڑا، روغن قیر ملا ہوا برتن، لکڑی کا کٹھلا، وفد کے لوگوں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ کیا آپ ﷺ کو معلوم ہے کہ کٹھلا کیا ہوتا ہے اور کس کام آتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں لکڑی کو کھود کر تم لوگ اس میں کھجوریں ڈال کر پانی ملاتے ہو جب اس کا جوش تھم جاتا ہے تو پھر تم اس کو پی لیتے ہو اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ نشہ میں تم میں سے کوئی اپنے چچا کے بیٹے کو تلوار سے مارنے لگتا ہے، راوی نے کہا لوگوں میں اس وقت ایک شخص موجود تھا اس کو اس نشہ کی بدولت زخم لگ چکا تھا اس نے کہا میں اس کو رسول اللہ ﷺ سے شرم کے مارے چھپاتا تھا، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ پھر ہم کس برتن میں پانی پئیں آپ ﷺ نے فرمایا چمڑے کے مشکوں میں جن کا منہ باندھا جاتا ہے، لوگوں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ ہمارے علاقے میں چوہے بہت ہیں چمڑے کی مشکیں نہیں رہ سکتیں، آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ چوہے کاٹ ڈالیں اگرچہ چوہے کاٹ ڈالیں اگرچہ چوہے کاٹ ڈالیں پھر رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ عبدالقیس کے سردار اشج سے فرمایا تمہارے اندر دو خصلتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے عقلمندی اور بردباری۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْ لَقِيَ الْوَفْدَ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ سَعِيدٌ وَذَکَرَ قَتَادَةُ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي حَدِيثِهِ هَذَا أَنَّ أُنَاسًا مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَکَ کُفَّارُ مُضَرَ وَلَا نَقْدِرُ عَلَيْکَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْمُرُ بِهِ مَنْ وَرَائَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمُرُکُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ اعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِکُوا بِهِ شَيْئًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَعْطُوا الْخُمُسَ مِنْ الْغَنَائِمِ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنْ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا عِلْمُکَ بِالنَّقِيرِ قَالَ بَلَی جِذْعٌ تَنْقُرُونَهُ فَتَقْذِفُونَ فِيهِ مِنْ الْقُطَيْعَائِ قَالَ سَعِيدٌ أَوْ قَالَ مِنْ التَّمْرِ ثُمَّ تَصُبُّونَ فِيهِ مِنْ الْمَائِ حَتَّی إِذَا سَکَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ حَتَّی إِنَّ أَحَدَکُمْ أَوْ إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ قَالَ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ کَذَلِکَ قَالَ وَکُنْتُ أَخْبَؤُهَا حَيَائً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ فَفِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فِي أَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَی أَفْوَاهِهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا کَثِيرَةُ الْجِرْذَانِ وَلَا تَبْقَی بِهَا أَسْقِيَةُ الْأَدَمِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ أَکَلَتْهَا الْجِرْذَانُ وَإِنْ أَکَلَتْهَا الْجِرْذَانُ وَإِنْ أَکَلَتْهَا الْجِرْذَانُ قَالَ وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ إِنَّ فِيکَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن ابی عدی، سعید، قتادہ سے روایت ہے کہ مجھ سے ان لوگوں نے روایت کیا جو قبیلہ عبدالقیس کے وفد سے ملے اور حضرت قتادہ (رض) نے حضرت ابونضرہ کے واسطہ سے حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت کی کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا باقی حدیث اسی طرح ہے جو گزر چکی ہے صرف سند اور کچھ الفاظ کا ردوبدل ہے مگر ترجمہ یہی ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ لَقِيَ ذَاکَ الْوَفْدَ وَذَکَرَ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ وَتَذِيفُونَ فِيهِ مِنْ الْقُطَيْعَائِ أَوْ التَّمْرِ وَالْمَائِ وَلَمْ يَقُلْ قَالَ سَعِيدٌ أَوْ قَالَ مِنْ التَّمْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا
محمد بن بکاربصری، عاصم ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوقرعہ، ابونضرہ، ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ ہم آپ ﷺ پر قربان، ہمیں کس قسم کی چیز میں پینا حلال ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا لکڑی کے کٹھلے میں نہ پیا کرو، لوگوں نے عرض کی اے اللہ کے نبی ﷺ ہم آپ ﷺ پر قربان، کیا آپ ﷺ جانتے ہیں کہ لکڑی کا کٹھلا کیا ہوتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں لکڑی کو اندر سے کھود لیتے ہیں اسے کٹھلا کہتے ہیں اور کدو کی تو بنی اور سبز گھڑے میں بھی نہ پیا کرو ہاں چمڑے کے برتن میں جس کا منہ ڈروی سے باندھ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ أَخْبَرَهُ وَحَسَنًا أَخْبَرَهُمَا أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَائَکَ مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنْ الْأَشْرِبَةِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَائَکَ أَوَ تَدْرِي مَا النَّقِيرُ قَالَ نَعَمْ الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ وَلَا فِي الدُّبَّائِ وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ وَعَلَيْکُمْ بِالْمُوکَی
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تو حید ورسالت کی گواہی کی طرف دعوت دینا اور اسلام کے ارکان کا بیان
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، ابوبکر، وکیع، زکریا، ابن اسحاق، یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی، ابی معبد، ابن عباس، معاذ بن جبل، ابوبکر، وکیع، ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبل (رض) نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور فرمایا تم اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے پاس جا رہے ہو پہلے تم انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں اگر وہ اس کو مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے دن رات میں پانچ نمازیں ان پر فرض فرمائی ہیں اگر وہ اس کو بھی مان لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو دولت مندوں سے لے کر انہی کے مفلس طبقہ میں تقسیم کی جائے گی اب اگر وہ اس کو بھی مان لیں تو تم ان کا بہترین مال ہرگز نہ لینا اور مظلوم کی بد دعا سے ڈرنا کیونکہ مظلوموں کی بد دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔ (براہ راست اللہ تک پہنچتی ہے)
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رُبَّمَا قَالَ وَکِيعٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مُعَاذًا قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّکَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ فَادْعُهُمْ إِلَی شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِکَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي کُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِکَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِکَ فَإِيَّاکَ وَکَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تو حید ورسالت کی گواہی کی طرف دعوت دینا اور اسلام کے ارکان کا بیان
ابن ابی عمر، بشر بن السری، زکریابن اسحاق، ح، عبد بن حمید، ابوعاصم، زکریا بن اسحاق، یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی، ابی معبد، ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ (رض) کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا باقی حدیث وہی ہے جو اوپر گزری ہے صرف سند کا فرق ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَی الْيَمَنِ فَقَالَ إِنَّکَ سَتَأْتِي قَوْمًا بِمِثْلِ حَدِيثِ وَکِيعٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تو حید ورسالت کی گواہی کی طرف دعوت دینا اور اسلام کے ارکان کا بیان
امیہ بن بسطام عیشی، یزید بن زریع، روح یعنی ابن قاسم، اسماعیل بن امیہ، یحییٰ بن عبداللہ صیفی، ابی معبد، ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت معاذ (رض) کو یمن کو حاکم بنا کر بھیجا تو فرمایا تم اہل کتاب کی قوم کی طرف جا رہے ہو پہلے تم انہیں اس چیز کی دعوت دینا کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کریں اگر وہ توحید کا اقرار کرلیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے دن رات میں پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں اگر وہ اس کی بھی تعمیل کرنے لگیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو دولت مند لوگوں سے لے کر انہی کے محتاجوں کو دی جائے گی اب اگر وہ یہ بات بھی مان لیں تو ان سے وصول کرنا مگر ان کے اعلی درجہ کے مال سے پرہیز رکھنا۔
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَی الْيَمَنِ قَالَ إِنَّکَ تَقْدَمُ عَلَی قَوْمٍ أَهْلِ کِتَابٍ فَلْيَکُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ فَإِذَا فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَکَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِهِمْ فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ کَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں
قتیبہ بن سعید، لیث بن سعید، عقیل، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ، عتبہ بن مسعود، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب وفات پائی اور آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر (رض) خلیفہ بنائے گئے اور اہل عرب میں سے جنہیں کافر ہونا تھا وہ کافر ہوگئے حضرت ابوبکر (رض) نے ان کے خلاف اعلان جنگ کیا تو حضرت عمر فاروق (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے عرض کیا کہ آپ ان لوگوں سے کس طرح جنگ کرتے ہیں جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا تھا کہ مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم اس وقت تک ہوا ہے کہ وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کے قائل ہوجائیں پس جو شخص لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا قائل ہوجائے گا وہ مجھ سے اپنا جان ومال بچالے گا ہاں حق پر ضرور اس کے جان و مال سے تعرض کیا جائے گا باقی اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے حضرت ابوبکر (رض) نے جواب میں ارشاد فرمایا اللہ کی قسم میں ضرور اس شخص سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کی فرضیت میں فرق جانتا ہے کیونکہ جس طرح نماز جسم کا حق ہے اسی طرح زکوٰۃ مال کا حق ہے اللہ کی قسم اگر وہ لوگ ایک رسی دینے سے بھی انکار کریں گے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دیا کرتے تھے اور مجھے نہ دیں گے تو میں ضرور ان سے جنگ کروں گا، حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم جب میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر (رض) کا سینہ مرتدوں سے جنگ کرنے کے لئے کشادہ کردیا ہے تو میں بھی سمجھ گیا کہ یہی بات حق ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ بَعْدَهُ وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَکْرٍ کَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَی اللَّهِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ فَإِنَّ الزَّکَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا کَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَی مَنْعِهِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَکْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، احمد بن عیسی، احمد، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے یہاں تک کہ لَا اِلٰہ اِلَّاَ اللہ کے قائل ہوجائیں جو شخص لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا قائل ہوجائے وہ مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کرے گا لیکن حق پر اس کے جان و مال سے تعرض کیا جائے گا باقی اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَی اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں
احمد بن عبدہ الضبی، عبدالعزیز (در اور دی) علاء، ح، امیہ بن بسطام یزید بن زریع، روح، علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب اپنے والد سے، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم اس وقت تک ہے کہ وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کی گواہی دینے لگیں اور میرے ان تمام احکام پر ایمان لے آئیں جو میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لایا ہوں اگر وہ ایسا کرلیں تو مجھ سے اپنی جان ومال محفوظ کرلیں گے ہاں حق پر ان کی جان ومال سے تعرض کیا جائے گا باقی ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ الْعَلَائِ ح و حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، اعمش، ابی سفیان، جابر، ابوصالح، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں باقی حدیث اسی طرح ہے جو گزر چکی ہے صرف الفاظ کا فرق ہے باقی مفہوم یہی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ح، محمد بن مثنی، عبدالرحمن یعنی ابن مہدی، سفیان، ابی الزبیر، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم ہے کہ وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کے قائل ہوجائیں اگر وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کے قائل ہوجائیں گے تو ان کی جان اور انکا مال مجھ سے بچ جائے گا ہاں حق پر جان و مال سے تعرض کیا جائے گا باقی ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی یعنی آپ ﷺ تو نصیحت کرنے والے ہیں آپ ﷺ ان پر کوئی داروغہ نہیں ہیں۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں
ابوغسان مسمعی، مالک بن عبدالواحد، عبدالملک بن الصباح، شعبہ، واقد بن محمد بن زید بن عبداللہ، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے کہ وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ اور محمد رسول اللہ ﷺ کی گواہی دینے لگیں اور نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں اگر وہ ایسا کریں گے تو مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال بچالیں گے ہاں حق پر جان ومال سے تعرض کیا جائے گا باقی ان کے دل کی حالت کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِیُّ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّکَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں
سوید بن سعید، ابن ابی عمر، مروان، ابومالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہا اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور چیزوں کی پرستش کا انکار کردیا اس کا جان ومال محفوظ ہوگیا باقی ان کے دل کی حالت کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ عَنْ أَبِي مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَکَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ وَحِسَابُهُ عَلَی اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد الاحمر، ح، زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، ابومالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کو ایک مانا پھر اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت کے وقت نزع کا عالم طاری ہونے سے پہلے پہلے اسلام قابل قبول ہے اور مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں اور شرک پر مرنے والا دوزخی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا
حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ بن مغیرہ کو ان کے پاس موجود پایا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے چچا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا کلمہ کہہ دو میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی گواہی دوں گا ابوجہل اور ابن امیہ کہنے لگے کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر رہے ہو ؟ مگر رسول اللہ ﷺ باربار کلمہ توحید اپنے چچا ابوطالب کے سامنے پیش کرتے رہے اور یہی بات دھراتے رہے بالآخر ابوطالب نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہنے سے انکار کردیا اور آخری الفاظ یہ کہے کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک مجھے روکا نہیں جائے گا میں تو برابر دعائے مغفرت کرتا رہوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْ ا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْ ا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ ) 9 ۔ التوبہ : 113) نازل فرمائی نبی ﷺ اور مومنوں کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ ان پر یہ ظاہر ہوگیا ہو کہ وہ دوزخی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ) 28 ۔ القصص : 56) یعنی بیشک تو ہدایت نہیں کرسکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ تعالیٰ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَائَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کَلِمَةً أَشْهَدُ لَکَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْکَ الْمَقَالَةَ حَتَّی قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا کَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَی مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَی أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا کَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِينَ وَلَوْ کَانُوا أُولِي قُرْبَی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فِي أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَائُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
tahqiq

তাহকীক: