আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৪১ টি
হাদীস নং: ১৫৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں
زہیر بن حرب، جریر، سہل، عبداللہ بن دینار، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایمان کی کچھ اوپر ستر یا کچھ اوپر ساٹھ شاخیں ہیں جن میں سب سے بڑھ کر لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا قول ہے اور سب سے ادنیٰ تکلیف دہ چیز کو راستہ سے دور کردینا ہے اور حیاء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَی عَنْ الطَّرِيقِ وَالْحَيَائُ شُعْبَةٌ مِنْ الْإِيمَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو الناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری، سالم نے اپنے باپ ابن عمر (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سنا کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو حیاء کے متعلق نصیحت کر رہا ہے فرمایا حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے۔ عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، اس روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انصار کے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیاء داری کی نصیحت کررہا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَائِ فَقَالَ الْحَيَائُ مِنْ الْإِيمَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ مَرَّ بِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں
سفیان بن عیینہ کے بجائے معمر نے زہری سے مذکورہ بالاسند کےساتھ خبر دی اور کہا کہ آپ ایک انصاری کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو نصیحت کر رہا تھا
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: مَرَّ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، ابوالسوار، حضرت عمران بن حصین (رض) نے یہ حدیث مبارکہ بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حیاء سے خیر ہی حاصل ہوتی ہے بشیر بن کعب نے عمران (رض) کی زبان سے یہ حدیث سن کر کہا حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقار حاصل ہوتا ہے عمران (رض) بولے میں تمہارے سامنے رسول اللہ ﷺ کا فرمان عالیشان بیان کر رہا ہوں اور تم اپنی حکمت کی کتابوں کی باتیں بیان کرتے ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْحَيَائُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ کَعْبٍ إِنَّهُ مَکْتُوبٌ فِي الْحِکْمَةِ أَنَّ مِنْهُ وَقَارًا وَمِنْهُ سَکِينَةً فَقَالَ عِمْرَانُ أُحَدِّثُکَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صُحُفِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں
حماد بن زید نے اسحاق بن سوید سے روایت کی کہ ابو قتادہ ( تمیم بن نذیر ) نے حدیث بیان کی ، کہا کہ ہم انپے ساتھیوں سمیت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے ، ہم میں بشیر بن کعب بھی موجود تھے ، اس روز حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک حدیث سنائی ، کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ حیا بھلائی ہے پوری کی پوری ۔ ‘ ‘ ( انہوں نے کہا : یہ الفاظ فرمائے ) : ’’حیا پوری کی پوری بھلائی ہے ۔ ‘ ‘ تو بشیر بن کعب نے کہا : ہمیں کتابون یا حکمت ( کے مجموعوں ) میں یہ بات ملتی ہے کہ حیا سے اطمینان اور اللہ کے لیے وقار ( کا اظہار ) ہوتا ہے اور اس کی ایک قسم ضعیفی ( کمزور ) ہے ۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ سخت غصے میں آ گئے حتی کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور فرمانے لگے : کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور تم اس میں مقابلہ کر رہے ہو ؟ ابوقتادہ نے کہا : عمران نےدوبارہ حدیث سنائی اور بشیر نے پھر وہی کہا : اس پر عمران ( سخت ) غصے میں آ گئے ۔ ( ابو قتادہ نے ) کہا : تو ہم نے بار بار یہ کہنا شروع کر دیا : اے ابو نجید! ( حضرت عمران کی کنیت ) یہ ہم میں سے ( مسلمان اور حدیث کا طالب علم ) ہے ۔ اس ( کے عقیدے ) میں کوئی عیب یا نقص نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ وَهُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ حَدَّثَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي رَهْطٍ، وَفِينَا بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ، فَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ، يَوْمَئِذٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ» قَالَ: أَوْ قَالَ: «الْحَيَاءُ كُلُّهُ خَيْرٌ» فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: إِنَّا لَنَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ - أَوِ الْحِكْمَةِ - أَنَّ مِنْهُ سَكِينَةً وَوَقَارًا لِلَّهِ، وَمِنْهُ ضَعْفٌ، قَالَ: فَغَضِبَ عِمْرَانُ حَتَّى احْمَرَّتَا عَيْنَاهُ، وَقَالَ: أَلَا أَرَى أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُعَارِضُ فِيهِ، قَالَ: فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَعَادَ بُشَيْرٌ، فَغَضِبَ عِمْرَانُ، قَالَ: فَمَا زِلْنَا نَقُولُ فِيهِ إِنَّهُ مِنَّا يَا أَبَا نُجَيْدٍ، إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں
نضر ( بن شمیل ) نے کہا : ہمیں ابو نعامہ عدوی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نےحجیر بن ریبع عدوی سےسنا ، وہ کہتے تھے : عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ۔ ( جس طرح ) حماد بن زید کی حدیث ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيْرَ بْنَ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيَّ، يَقُولُ عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کے جامع اوصاف کا بیان
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ح، قتیبہ بن سعید، اسحاق بن ابراہیم، جریر، ح، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام بن عروہ اپنے والد سے، حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اسلام میں ایک ایسی بات بتا دیجئے کہ پھر میں اس کو آپ ﷺ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں ابواسامہ کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو کہہ میں ایمان لایا اللہ پر پھر ڈٹارہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَکَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَکَ قَالَ قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ فَاسْتَقِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟
قتیبہ بن سعید، لیث، ح، محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، یزید بن ابی حبیب، ابوالخیر، ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کون سا اسلام بہتر ہے آپ ﷺ نے فرمایا کھانا کھلاؤ اور سلام کرو ہر شخص کو خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ قَالَ تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟
ابوطاہر احمد بن عمرو، ابن عمرو بن سرح المصری، ابن وہب، عمرو بن حارث، یزید بن ابی حبیب، ابوالخیر، ابن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کونسا مسلمان سب سے بہتر ہے آپ ﷺ نے فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُا إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟
حسن الحلوانی، عبد بن حمید، ابوعاصم، ابن جریج، ابوالزبیر، جابر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ قَالَ عَبْدٌ أَنْبَأَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟
سعید بن بن یحییٰ بن سعید اموی اپنے والد سے، ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ بن ابی موسی، ابوبردہ، ابوموسیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کس شخص کا اسلام سب سے بہتر ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟
ابراہیم بن سعید جوہری، ابواسامہ، برید بن عبداللہ اس روایت میں دوسری سند کے ساتھ یہ الفاظ ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کونسا مسلمان افضل ہے تو آپ ﷺ نے اس طرح ذکر فرمایا۔
حَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ فَذَکَرَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان خصلتوں کے بیان میں جن سے ایمان کی حلاوت حاصل ہوتی ہے۔
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن یحییٰ بن ابوعمرو، محمد بن بشار، ثقفی، ابن ابی عمر، عبدالوہاب، ایوب، ابوقلابہ، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی اس کو ان کی وجہ سے ایمان کی لذت حاصل ہوگی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اسے دیگر سب چیزوں سے محبوب ہوں جس شخص سے محبت کرے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے کرے جب اللہ تعالیٰ نے اسے کفر سے نجات دے دی تو پھر دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کو اتنا برا سمجھے جتنا آگ میں ڈالے جانے کو برا سمجھتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ أَبِي عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ مَنْ کَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْئَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَأَنْ يَکْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْکُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ کَمَا يَکْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان خصلتوں کے بیان میں جن سے ایمان کی حلاوت حاصل ہوتی ہے۔
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص میں تین خصلتیں ہوں گی اس کو ایمان کا مزہ آجائے گا جس شخص سے محبت کرے صرف اللہ کے لئے کرے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اس کو تمام عالم سے زیادہ محبوب ہوں جب اللہ تعالیٰ نے کفر سے نجات دے دی تو پھر کفر کی طرف لوٹنے سے زیادہ آگ میں ڈالے جانے کو اچھا سمجھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِيهِ وَجَدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ کَانَ يُحِبُّ الْمَرْئَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَمَنْ کَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَمَنْ کَانَ أَنْ يُلْقَی فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْکُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان خصلتوں کے بیان میں جن سے ایمان کی حلاوت حاصل ہوتی ہے۔
اسحاق بن منصور، نضر بن شمیل، حماد، ثابت، انس سے یہ روایت بھی اسی طرح منقول ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ دوبارہ یہودی یا نصرانی ہونے سے آگ میں لوٹ جانے کو زیادہ بہتر سمجھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن وہی ہے جسے رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر والوں، والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہو
زہیر بن حرب، اسماعیل بن علیہ، ح، شیبان بن ابی شیبہ، عبدالوارث، عبدالعزیز، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی بندہ کوئی شخص مومن نہیں ہوگا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے تمام متعلقین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ الرَّجُلُ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مومن وہی ہے جسے رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر والوں، والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہو
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک میں اسے اس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ ایمان کی خصلت یہ ہے کہ اپنے لئے جو پسند کرے اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرے
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک یہ بات نہ ہو کہ جو بات اپنے لئے پسند کرتا ہو وہی اپنے بھائی کے لئے یا پڑوسی کے لئے پسند کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی يُحِبَّ لِأَخِيهِ أَوْ قَالَ لِجَارِهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ ایمان کی خصلت یہ ہے کہ اپنے لئے جو پسند کرے اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرے۔
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، حسین معلم، قتادہ، انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے کوئی بندہ مومن نہیں ہوگا جب تک اپنے ہمسایہ یا اپنے بھائی کے لئے وہی بات دل سے نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی يُحِبَّ لِجَارِهِ أَوْ قَالَ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمسایہ کو تکلیف دینے کی حرمت کے بیان میں
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر بن ایوب، اسماعیل، علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کی ضرر رسانیوں سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہ ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ
তাহকীক: