আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭৮ টি
হাদীস নং: ৪১৬৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے ‘ کہا ہم سے طارق بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد نے کہ انہوں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے کہ جب ہم دوسرے سال ادھر گئے تو ہمیں پتہ نہیں چلا کہ وہ کون سا درخت تھا۔
حدیث نمبر: 4164 حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا طَارِقٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ: كَانَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهَا الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَعَمِيَتْ عَلَيْنَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৬৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے طارق بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب کی مجلس میں الشجرة کا ذکر ہوا تو وہ ہنسے اور کہا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ بھی اس درخت کے تلے بیعت میں شریک تھے۔
حدیث نمبر: 4165 حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَارِقٍ، قَالَ: ذُكِرَتْ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ الشَّجَرَةُ، فَضَحِكَ فَقَالَ: أَخْبَرَنِيأَبِي، وَكَانَ شَهِدَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৬৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے سنا ‘ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جب کوئی صدقہ لے کر حاضر ہوتا تو آپ دعا کرتے کہ اے اللہ ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما۔ چناچہ میرے والد بھی اپنا صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ! آل ابی اوفی (رض) پر اپنی رحمت نازل فرما۔
حدیث نمبر: 4166 حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَةٍ، قَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ، فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৬৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے بھائی عبدالحمید نے ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے عمرو بن یحییٰ نے اور ان سے عباد بن تمیم نے بیان کیا کہ حرہ کی لڑائی میں لوگ عبداللہ بن حنظلہ (رض) کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے۔ عبداللہ بن زید نے پوچھا کہ ابن حنظلہ سے کس بات پر بیعت کی جا رہی ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا کہ موت پر۔ ابن زید نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد اب میں کسی سے بھی موت پر بیعت نہیں کروں گا۔ وہ آپ ﷺ کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے۔
حدیث نمبر: 4167 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحَرَّةِ، وَالنَّاسُ يُبَايِعُونَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، فَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ: عَلَى مَا يُبَايِعُ ابْنُ حَنْظَلَةَ النَّاسَ ؟ قِيلَ لَهُ: عَلَى الْمَوْتِ، قَالَ: لَا أُبَايِعُ عَلَى ذَلِكَ أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ شَهِدَ مَعَهُ الْحُدَيْبِيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৬৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے یحییٰ بن یعلیٰ محاربی نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے ایاس بن سلمہ بن اکوع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ وہ اصحاب شجرہ میں سے تھے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوئے تو دیواروں کا سایہ ابھی اتنا نہیں ہوا تھا کہ ہم اس میں آرام کرسکیں۔
حدیث نمبر: 4168 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ، وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ ظِلٌّ نَسْتَظِلُّ فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৬৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا کہ میں نے سلمہ بن اکوع (رض) سے پوچھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کس چیز پر بیعت کی تھی ؟ انہوں نے بتلایا کہ موت پر۔
حدیث نمبر: 4169 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
مجھ سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے علاء بن مسیب نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں براء بن عازب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ‘ مبارک ہو ! آپ کو نبی کریم ﷺ کی خدمت نصیب ہوئی اور نبی کریم ﷺ سے آپ نے شجر (درخت) کے نیچے بیعت کی۔ انہوں نے کہا بیٹے ! تمہیں معلوم نہیں کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے بعد کیا کیا کام کئے ہیں۔
حدیث نمبر: 4170 حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقُلْتُ: طُوبَى لَكَ صَحِبْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتَهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثْنَا بَعْدَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا ‘ وہ سلام کے بیٹے ہیں ‘ ان سے یحییٰ نے ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور انہیں ثابت بن ضحاک (رض) نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔
حدیث نمبر: 4171 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ هُوَ ابْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ: بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
مجھ سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں قتادہ نے اور انہیں انس بن مالک (رض) نے کہ (آیت) إنا فتحنا لک فتحا مبينا بیشک ہم نے تمہیں کھلی ہوئی فتح دی۔ یہ فتح صلح حدیبیہ تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : نبی کریم ﷺ کے لیے تو مرحلہ آسان ہے (کہ آپ کی تمام اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف ہوچکی ہیں) لیکن ہمارا کیا ہوگا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات اس لیے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں جنت میں داخل کی جائیں گی جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ شعبہ نے بیان کیا کہ پھر میں کوفہ آیا اور میں قتادہ سے پورا واقعہ بیان کیا ‘ پھر میں دوبارہ قتادہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ إنا فتحنا لك بیشک ہم نے تمہیں کھلی فتح دی ہے۔ کی تفسیر تو انس (رض) سے روایت ہے لیکن اس کے بعد هنيئا مريئا (یعنی آپ ﷺ کے لیے تو ہر مرحلہ آسان ہے) یہ تفسیر عکرمہ سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4172 حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1، قَالَ: الْحُدَيْبِيَةُ، قَالَ أَصْحَابُهُ: هَنِيئًا مَرِيئًا سورة النساء آية 4 فَمَا لَنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ سورة الفتح آية 5، قَالَ شُعْبَةُ: فَقَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا كُلِّهِ عَنْ قَتَادَةَ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ: أَمَّا إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ سورة الفتح آية 1، فَعَنْ أَنَسٍ، وَأَمَّا هَنِيئًا مَرِيئًا سورة النساء آية 4 فَعَنْ عِكْرِمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ‘ ان سے مجزاۃ بن زاہر اسلمی نے اور ان سے ان کے والد زاہر بن اسود (رض) نے بیان کیا وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں ہانڈی میں گدھے کا گوشت ابال رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے ایک منادی نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں گدھے کے گوشت کے کھانے سے منع فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4173 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الشَّجَرَةَ، قَالَ: إِنِّي لَأُوقِدُ تَحْتَ الْقِدْرِ بِلُحُومِ الْحُمُرِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
اور مجزاۃ نے اپنے ہی قبیلہ کے ایک صحابی کے متعلق جو بیعت رضوان میں شریک تھے اور جن کا نام اہبان بن اوس (رض) تھا ‘ نقل کیا کہ ان کے ایک گھٹنے میں تکلیف تھی ‘ اس لیے جب وہ سجدہ کرتے تو اس گھٹنے کے نیچے کوئی نرم تکیہ رکھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 4174 وَعن مجزأة، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ اسْمُهُ أُهْبَانُ بْنُ أَوْسٍ،وَكَانَ اشْتَكَى رُكْبَتَهُ وَكَانَ إِذَا سَجَدَ جَعَلَ تَحْتَ رُكْبَتِهِ وِسَادَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن ابی عدی نے ‘ ان سے شعبہ نے ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سوید بن نعمان (رض) نے بیان کیا ‘ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے کہ گویا اب بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے ستو لایا گیا۔ جسے ان حضرات نے پیا۔ اس روایت کی متابعت معاذ نے شعبہ سے کی ہے۔
حدیث نمبر: 4175 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ،كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أُتُوا بِسَوِيقٍ فَلَاكُوهُ، تَابَعَهُمُعَاذٌ، عَنْ شُعْبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے محمد بن حاتم بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شاذان (اسود بن عامر) نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا کہ انہوں نے عائذ بن عمرو (رض) سے پوچھا : وہ نبی کریم ﷺ کے صحابی تھے اور بیعت رضوان میں شریک تھے کہ کیا وتر کی نماز (ایک رکعت اور پڑھ کر) توڑی جاسکتی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اگر شروع رات میں تو نے وتر پڑھ لیا ہو تو آخر رات میں نہ پڑھو۔
حدیث نمبر: 4176 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، هَلْ يُنْقَضُ الْوِتْرُ ؟ قَالَ: إِذَا أَوْتَرْتَ مِنْ أَوَّلِهِ فَلَا تُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
مجھ سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں زید بن اسلم نے اور انہیں ان کے والد اسلم نے کہ رسول اللہ ﷺ کسی سفر یعنی (سفر حدیبیہ) میں تھے، رات کا وقت تھا اور عمر بن خطاب (رض) آپ کے ساتھ ساتھ تھے۔ عمر (رض) نے آپ سے کچھ پوچھا لیکن (اس وقت آپ وحی میں مشغول تھے ‘ عمر (رض) کو خبر نہ تھی) آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا ‘ آپ نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا ‘ آپ نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ اس پر عمر (رض) نے (اپنے دل میں) کہا : عمر ! تیری ماں تجھ پر روئے ‘ رسول اللہ ﷺ سے تم نے تین مرتبہ سوال کیا ‘ آپ ﷺ نے تمہیں ایک مرتبہ بھی جواب نہیں دیا۔ عمر (رض) نے بیان کیا کہ پھر میں نے اپنے اونٹ کو ایڑ لگائی اور مسلمانوں سے آگے نکل گیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرے بارے میں کوئی وحی نہ نازل ہوجائے۔ ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ میں نے سنا ‘ ایک شخص مجھے آواز دے رہا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سوچا کہ میں تو پہلے ہی ڈر رہا تھا کہ میرے بارے میں کہیں کوئی وحی نازل نہ ہوجائے۔ پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے اور وہ مجھے اس تمام کائنات سے زیادہ عزیز ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ نے سورة إنا فتحنا لک فتحا مبينا بیشک ہم نے آپ کو کھلی ہوئی فتح دی ہے۔ کی تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 4177 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلًا، فَسَأَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا عُمَرُ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُكَ، قَالَ عُمَرُ: فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ أَمَامَ الْمُسْلِمِينَ وَخَشِيتُ أَنْ يَنْزِلَ فِيَّ قُرْآنٌ، فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي، قَالَ: فَقُلْتُ: لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ، وَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَرَأَ: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ جب زہری نے یہ حدیث بیان کی (جو آگے مذکور ہوئی ہے) تو اس میں سے کچھ میں نے یاد رکھی اور معمر نے اس کو اچھی طرح یاد دلایا۔ ان سے عروہ بن زبیر نے ‘ ان سے مسور بن مخرمہ (رض) اور مروان بن حکم نے بیان کیا ‘ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کچھ بڑھاتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ پھر جب آپ ذو الحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو قلادہ پہنایا اور اس پر نشان لگایا اور وہیں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر آپ نے قبیلہ خزاعہ کے ایک صحابی کو جاسوسی کے لیے بھیجا اور خود بھی سفر جاری رکھا۔ جب آپ غدیر الاشطاط پر پہنچے تو آپ کے جاسوس بھی خبریں لے کر آگئے۔ جنہوں نے بتایا کہ قریش نے آپ کے مقابلے کے لیے بہت بڑا لشکر تیار کر رکھا ہے اور بہت سے قبائل کو بلایا ہے۔ وہ آپ سے جنگ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور آپ کو بیت اللہ سے روکیں گے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ مجھے مشورہ دو کیا تمہارے خیال میں یہ مناسب ہوگا کہ میں ان کفار کی عورتوں اور بچوں پر حملہ کر دوں جو ہمارے بیت اللہ تک پہنچنے میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں ؟ اگر انہوں نے ہمارا مقابلہ کیا تو اللہ عزوجل نے مشرکین سے ہمارے جاسوس کو محفوظ رکھا ہے اور اگر وہ ہمارے مقابلے پر نہیں آتے تو ہم انہیں ایک ہاری ہوئی قوم جان کر چھوڑ دیں گے۔ ابوبکر (رض) نے کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ تو صرف بیت اللہ کے عمرہ کے لیے نکلے ہیں نہ آپ کا ارادہ کسی کو قتل کرنے کا ہے اور نہ کسی سے لڑائی کا۔ اس لیے آپ بیت اللہ تشریف لے چلیں۔ اگر ہمیں پھر بھی کوئی بیت اللہ تک جانے سے روکے گا تو ہم اس سے جنگ کریں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر اللہ کا نام لے کر سفر جاری رکھو۔
حدیث نمبر: 4178 - 4179 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ حِينَ حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ حَفِظْتُ بَعْضَهُ، وَثَبَّتَنِيمَعْمَرٌ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ يَزِيدُ، أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، قَالَا: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ، وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ، وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بِغَدِيرِ الْأَشْطَاطِ أَتَاهُ عَيْنُهُ، قَالَ: إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا، وَقَدْ جَمَعُوا لَكَ الْأَحَابِيشَ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ، وَصَادُّوكَ عَنْ الْبَيْتِ وَمَانِعُوكَ، فَقَالَ: أَشِيرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيَّ، أَتَرَوْنَ أَنْ أَمِيلَ إِلَى عِيَالِهِمْ وَذَرَارِيِّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّونَا عَنْ الْبَيْتِ ؟ فَإِنْ يَأْتُونَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَطَعَ عَيْنًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَإِلَّا تَرَكْنَاهُمْ مَحْرُوبِينَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا الْبَيْتِ لَا تُرِيدُ قَتْلَ أَحَدٍ وَلَا حَرْبَ أَحَدٍ، فَتَوَجَّهْ لَهُ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ، قَالَ: امْضُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھتیجے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے چچا محمد بن مسلم بن شہاب نے کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہوں نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ (رض) سے سنا ‘ دونوں راویوں نے رسول اللہ ﷺ سے عمرہ حدیبیہ کے بارے میں بیان کیا تو عروہ نے مجھے اس میں جو کچھ خبر دی تھی ‘ اس میں یہ بھی تھا کہ جب نبی کریم ﷺ اور (قریش کا نمائندہ) سہیل بن عمرو حدیبیہ میں ایک مقررہ مدت تک کے لیے صلح کی دستاویز لکھ رہے تھے اور اس میں سہیل نے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ ہمارا اگر کوئی آدمی آپ کے یہاں پناہ لے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہوجائے تو آپ کو اسے ہمارے حوالے کرنا ہی ہوگا تاکہ ہم اس کے ساتھ جو چاہیں کریں۔ سہیل اس شرط پر اڑ گیا اور کہنے لگا کہ نبی کریم ﷺ اس شرط کو قبول کرلیں اور مسلمان اس شرط پر کسی طرح راضی نہ تھے۔ مجبوراً انہوں نے اس پر گفتگو کی (کہا یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ مسلمان کو کافر کے سپرد کردیں) سہیل نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا تو صلح بھی نہیں ہوسکتی۔ نبی کریم ﷺ نے یہ شرط بھی تسلیم کرلی اور ابوجندل بن سہیل (رض) کو ان کے والد سہیل بن عمرو کے سپرد کردیا (جو اسی وقت مکہ سے فرار ہو کر بیڑی کو گھسیٹتے ہوئے مسلمانوں کے پاس پہنچے تھے) (شرط کے مطابق مدت صلح میں مکہ سے فرار ہو کر) جو بھی آتا نبی کریم ﷺ اسے واپس کردیتے ‘ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوتا۔ اس مدت میں بعض مومن عورتیں بھی ہجرت کر کے مکہ سے آئیں۔ ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابی معیط بھی ان میں سے ہیں جو اس مدت میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئی تھیں ‘ وہ اس وقت نوجوان تھیں ‘ ان کے گھر والے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مطالبہ کیا کہ انہیں واپس کردیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کے بارے میں وہ آیت نازل کی جو شرط کے مناسب تھی۔
حدیث نمبر: 4180 - 4181 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ، سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ،وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ يُخْبِرَانِ خَبَرًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةِ الْحُدَيْبِيَةِ، فَكَانَ فِيمَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ لَمَّا كَاتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ، وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ: لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، وَأَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَامَّعَضُوا فَتَكَلَّمُوا فِيهِ، فَلَمَّا أَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ كَاتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا جَنْدَلِ بْنَ سُهَيْلٍ يَوْمَئِذٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَتِ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْمُؤْمِنَاتِ مَا أَنْزَلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر (رض) نے خبر دی اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ آیت يا أيها النبي إذا جاءک المؤمنات کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کو پہلے آزماتے تھے اور ان کے چچا سے روایت ہے کہ ہمیں وہ حدیث بھی معلوم ہے جب نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تھا کہ جو مسلمان عورتیں ہجرت کر کے چلی آتی ہیں ان کے شوہروں کو وہ سب کچھ واپس کردیا جائے جو اپنی ان بیویوں کو وہ دے چکے ہیں اور ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ابوبصیر ‘ پھر انہوں نے تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 4182 قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ بِهَذِهِ الْآيَةِ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ سورة الممتحنة آية 12، وَعَنْ عَمِّهِ، قَالَ: بَلَغَنَا حِينَ أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرُدَّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مَا أَنْفَقُوا عَلَى مَنْ هَاجَرَ مِنْ أَزْوَاجِهِمْ، وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَصِيرٍ فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک (رح) نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر (رض) فتنہ کے زمانہ میں عمرہ کے ارادہ سے نکلے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اگر بیت اللہ جانے سے مجھے روک دیا گیا تو میں وہی کام کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔ چناچہ آپ نے صرف عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے بھی صلح حدیبیہ کے موقع پر صرف عمرہ ہی کا احرام باندھا تھا۔
حدیث نمبر: 4183 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، خَرَجَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ، فَقَالَ: إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے ‘ ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے احرام باندھا اور کہا کہ اگر مجھے بیت اللہ جانے سے روکا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ جب آپ کو کفار قریش نے بیت اللہ جانے سے روکا تو اس آیت کی تلاوت کی کہ لقد کان لکم في رسول الله أسوة حسنة یقیناً تم لوگوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
حدیث نمبر: 4184 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ أَهَلَّ وَقَالَ: إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ، وَتَلَا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے ‘ ان کو عبیداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ ان دونوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے گفتگو کی (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے جویریہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر (رض) کے کسی لڑکے نے ان سے کہا ‘ اگر اس سال آپ (عمرہ کرنے) نہ جاتے تو بہتر تھا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ آپ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تھے تو کفار قریش نے بیت اللہ پہنچنے سے روک دیا تھا۔ چناچہ آپ ﷺ نے اپنی قربانی کے جانور وہیں (حدیبیہ میں) ذبح کردیئے اور سر کے بال منڈوا دیئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی بال چھوٹے کروا لیے۔ آپ ﷺ نے اس کے بعد فرمایا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر ایک عمرہ واجب کرلیا ہے (اور اسی طرح تمام صحابہ رضی اللہ عنہم پر بھی وہ واجب ہوگیا) اگر آج مجھے بیت اللہ تک جانے دیا گیا تو میں طواف کرلوں گا اور اگر مجھے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کروں گا جو نبی کریم ﷺ نے کیا تھا۔ پھر تھوڑی دور چلے اور کہا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ کے ساتھ حج کو بھی ضروری قرار دے لیا ہے اور کہا میری نظر میں تو حج اور عمرہ دونوں ایک ہی جیسے ہیں ‘ پھر انہوں نے ایک طواف کیا اور ایک سعی کی (جس دن مکہ پہنچے) اور دونوں ہی کو پورا کیا۔
حدیث نمبر: 4185 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِأَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ. ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَهُ: لَوْ أَقَمْتَ الْعَامَ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا تَصِلَ إِلَى الْبَيْتِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَايَاهُ وَحَلَقَ وَقَصَّرَ أَصْحَابُهُ، وَقَالَ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ عُمْرَةً فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ، صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: مَا أُرَى شَأْنَهُمَا إِلَّا وَاحِدًا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْيًا وَاحِدًا حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا.
তাহকীক: