আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৪১৮৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
مجھ سے شجاع بن ولید نے بیان کیا ‘ انہوں نے نضر بن محمد سے سنا ‘ کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ عبداللہ، عمر (رض) سے پہلے اسلام میں داخل ہوئے تھے، حالانکہ یہ غلط ہے۔ البتہ عمر (رض) نے عبداللہ بن عمر (رض) کو اپنا ایک گھوڑا لانے کے لیے بھیجا تھا ‘ جو ایک انصاری صحابی کے پاس تھا تاکہ اسی پر سوار ہو کر جنگ میں شریک ہوں۔ اسی دوران رسول اللہ ﷺ درخت کے نیچے بیٹھ کر بیعت لے رہے تھے۔ عمر (رض) کو ابھی اس کی اطلاع نہیں ہوئی تھی۔ عبداللہ بن عمر (رض) نے پہلے بیعت کی پھر گھوڑا لینے گئے۔ جس وقت وہ اسے لے کر عمر (رض) کے پاس آئے تو وہ جنگ کے لیے اپنی زرہ پہن رہے تھے۔ انہوں نے اس وقت عمر (رض) کو بتایا کہ نبی کریم ﷺ درخت کے نیچے بیعت لے رہے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر آپ اپنے لڑکے کو ساتھ لے گئے اور بیعت کی۔ اتنی سی بات تھی جس پر لوگ اب کہتے ہیں کہ عمر (رض) سے پہلے ابن عمر (رض) اسلام لائے تھے۔ اور ہشام بن عمار نے بیان کیا ‘ ان سے ولید بن مسلم نے بیان کیا ‘ ان سے عمر بن عمری نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر (رض) نے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ رضی اللہ عنہم جو نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے ‘ مختلف درختوں کے سائے میں پھیل گئے تھے۔ پھر اچانک بہت سے صحابہ آپ ﷺ کے چاروں طرف جمع ہوگئے۔ عمر (رض) نے کہا : بیٹا عبداللہ ! دیکھو تو سہی لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس جمع کیوں ہوگئے ہیں ؟ انہوں نے دیکھا تو صحابہ بیعت کر رہے تھے۔ چناچہ پہلے انہوں نے خود بیعت کرلی۔ پھر عمر (رض) کو آ کر خبر دی پھر وہ بھی گئے اور انہوں نے بھی بیعت کی۔
حدیث نمبر: 4186 حَدَّثَنِي شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ،‏‏‏‏ سَمِعَ النَّضْرَ بْنَ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا صَخْرٌ،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ النَّاسَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ وَلَيْسَ كَذَلِكَ،‏‏‏‏ وَلَكِنْ عُمَرُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَرْسَلَ عَبْدَ اللَّهِ إِلَى فَرَسٍ لَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يَأْتِي بِهِ لِيُقَاتِلَ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ،‏‏‏‏ وَعُمَرُ لَا يَدْرِي بِذَلِكَ،‏‏‏‏ فَبَايَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْفَرَسِ،‏‏‏‏ فَجَاءَ بِهِ إِلَى عُمَرَ وَعُمَرُ يَسْتَلْئِمُ لِلْقِتَالِ،‏‏‏‏ فَأَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقَ فَذَهَبَ مَعَهُ حَتَّى بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ الَّتِي يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَسْلَمَ قَبْلَ عُمَرَ. حدیث نمبر: 4187 وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:‏‏‏‏ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ تَفَرَّقُوا فِي ظِلَالِ الشَّجَرِ،‏‏‏‏ فَإِذَا النَّاسُ مُحْدِقُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ انْظُرْ مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَوَجَدَهُمْ يُبَايِعُونَ،‏‏‏‏ فَبَايَعَ،‏‏‏‏ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عُمَرَ فَخَرَجَ فَبَايَعَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعلیٰ بن عبید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے عمرہ (قضاء) کیا تو ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے طواف کیا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا۔ آپ ﷺ نے نماز پڑھی تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ ﷺ نے صفا ومروہ کی سعی بھی کی۔ ہم آپ کی اہل مکہ سے حفاظت کرتے تھے تاکہ کوئی تکلیف کی بات آپ کو پیش نہ آجائے۔
حدیث نمبر: 4188 حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَعْلَى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اعْتَمَرَ فَطَافَ،‏‏‏‏ فَطُفْنَا مَعَهُ،‏‏‏‏ وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ،‏‏‏‏ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ،‏‏‏‏ فَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے حسن بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابوحصین سے سنا ‘ ان سے ابو وائل نے بیان کیا کہ سہل بن حنیف (رض) جب جنگ صفین (جو علی (رض) اور معاویہ (رض) میں ہوئی تھی) سے واپس آئے تو ہم ان کی خدمت میں حالات معلوم کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے بارے میں تم لوگ اپنی رائے اور فکر پر نازاں مت ہو۔ میں یوم ابوجندل (صلح حدیبیہ) میں بھی موجود تھا۔ اگر میرے لیے رسول اللہ ﷺ کے حکم کو ماننے سے انکار ممکن ہوتا تو میں اس دن ضرور حکم عدولی کرتا۔ اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں کہ جب ہم نے کسی مشکل کام کے لیے اپنی تلواروں کو اپنے کاندھوں پر رکھا تو صورت حال آسان ہوگئی اور ہم نے مشکل حل کرلی۔ لیکن اس جنگ کا کچھ عجیب حال ہے ‘ اس میں ہم (فتنے کے) ایک کونے کو بند کرتے ہیں تو دوسرا کونا کھل جاتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہم کو کیا تدبیر کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 4189 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا حَصِينٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو وَائِلٍ:‏‏‏‏ لَمَّا قَدِمَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ مِنْ صِفِّينَ أَتَيْنَاهُ نَسْتَخْبِرُهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ اتَّهِمُوا الرَّأْيَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ لَرَدَدْتُ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،‏‏‏‏ وَمَا وَضَعْنَا أَسْيَافَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ قَبْلَ هَذَا الْأَمْرِ،‏‏‏‏ مَا نَسُدُّ مِنْهَا خُصْمًا إِلَّا انْفَجَرَ عَلَيْنَا خُصْمٌ مَا نَدْرِي كَيْفَ نَأْتِي لَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے ابن ابی لیلیٰ نے ‘ ان سے کعب بن عجرہ (رض) نے بیان کیا کہ وہ عمرہ حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ جوئیں جو تمہارے سر سے گر رہی ہیں ‘ تکلیف دے رہی ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ! نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر سر منڈوا لو اور تین دن روزہ رکھ لو یا چھ مسکینوں کا کھانا کھلا دو یا پھر کوئی قربانی کر ڈالو۔ (سر منڈوانے کا فدیہ ہوگا) ایوب سختیانی نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ ان تینوں امور میں سے پہلے نبی کریم ﷺ نے کون سی بات ارشاد فرمائی تھی۔
حدیث نمبر: 4190 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَيُّوبَ،‏‏‏‏ عَنْ مُجَاهِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى،‏‏‏‏ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟قُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ،‏‏‏‏ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ،‏‏‏‏ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً،‏‏‏‏ قَالَ أَيُّوبُ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي بِأَيِّ هَذَا بَدَأَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
مجھ سے ابوعبداللہ محمد بن ہشام نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ان سے ابوبشر نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ (رض) نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے۔ ادھر مشرکین ہمیں بیت اللہ تک جانے نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میرے سر پر بال بڑے بڑے تھے جن سے جوئیں میرے چہرے پر گرنے لگیں۔ نبی کریم ﷺ نے مجھے دیکھ کر دریافت فرمایا کہ کیا یہ جوئیں تکلیف دے رہی ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر یہ آیت نازل ہوئی فمن کان منکم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك‏ پس اگر تم میں کوئی مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف دینے والی چیز ہو تو اسے (بال منڈوا لینے چاہئیں اور) تین دن کے روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دینا چاہیے۔
حدیث نمبر: 4191 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي بِشْرٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُجَاهِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى،‏‏‏‏ عَنْكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَّاقَطُ عَلَى وَجْهِي،‏‏‏‏ فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟قُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:‏‏‏‏ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: قبائل عکل اور عرینہ کا قصہ۔
مجھ سے عبدالاعلی بن حماد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ قبائل عکل و عرینہ کے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مدینہ آئے اور اسلام میں داخل ہوگئے۔ پھر انہوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! ہم لوگ مویشی رکھتے تھے ‘ کھیت وغیرہ ہمارے پاس نہیں تھے ‘ (اس لیے ہم صرف دودھ پر بسر اوقات کیا کرتے تھے) اور انہیں مدینہ کی آب و ہوا ناموافق آئی تو نبی کریم ﷺ نے کچھ اونٹ اور چرواہا ان کے ساتھ کردیا اور فرمایا کہ انہیں اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیو (تو تمہیں صحت حاصل ہوجائے گی) وہ لوگ (چراگاہ کی طرف) گئے۔ لیکن مقام حرہ کے کنارے پہنچتے ہی وہ اسلام سے پھرگئے اور نبی کریم ﷺ کے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو لے کر بھاگنے لگے۔ اس کی خبر جب آپ ﷺ کو ملی تو آپ نے چند صحابہ کو ان کے پیچھے دوڑایا۔ (وہ پکڑ کر مدینہ لائے گئے۔ ) تو آپ ﷺ کے حکم سے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں اور ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے (کیونکہ انہوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا) اور انہیں حرہ کے کنارے چھوڑ دیا گیا۔ آخر وہ اسی حالت میں مرگئے۔ قتادہ نے بیان کیا کہ ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے بعد صحابہ کو صدقہ کا حکم دیا اور مثلہ (مقتول کی لاش بگاڑنا یا ایذا دے کر اسے قتل کرنا) سے منع فرمایا اور شعبہ ‘ ابان اور حماد نے قتادہ سے بیان کیا کہ (یہ لوگ) عرینہ کے قبیلے کے تھے (عکل کا نام نہیں لیا) اور یحییٰ بن ابی کثیر اور ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس (رض) نے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ آئے۔
حدیث نمبر: 4192 حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ حَدَّثَهُمْ:‏‏‏‏ أَنَّ نَاسًا مِنْ عُكْلٍ،‏‏‏‏ وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ،‏‏‏‏ فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَهْلَ ضَرْعٍ وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ،‏‏‏‏ وَاسْتَوْخَمُوا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَرَاعٍ،‏‏‏‏ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا،‏‏‏‏ فَانْطَلَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا نَاحِيَةَ الْحَرَّةِ كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ،‏‏‏‏ وَقَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ،‏‏‏‏ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ،‏‏‏‏ فَسَمَرُوا أَعْيُنَهُمْ وَقَطَعُوا أَيْدِيَهُمْ،‏‏‏‏ وَتُرِكُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا عَلَى حَالِهِمْ،‏‏‏‏ قَالَ قَتَادَةُ:‏‏‏‏ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ:‏‏‏‏ كَانَ يَحُثُّ عَلَى الصَّدَقَةِ،‏‏‏‏ وَيَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ،‏‏‏‏ وَقَالَ شُعْبَةُ،‏‏‏‏ وَأَبَانُ،‏‏‏‏ وَحَمَّادٌ:‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ مِنْ عُرَيْنَةَ،‏‏‏‏ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ،‏‏‏‏ وَأَيُّوبُ:‏‏‏‏ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ،‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ:‏‏‏‏ قَدِمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: قبائل عکل اور عرینہ کا قصہ۔
مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعمر حفص بن عمر الحوضی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب اور حجاج صواف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوقلابہ کے مولیٰ ابورجاء نے بیان کیا ‘ وہ ابوقلابہ کے ساتھ شام میں تھے کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن لوگوں سے مشورہ کیا کہ اس قسامہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ حق ہے۔ اس کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ اور پھر خلفاء راشدین آپ سے پہلے کرتے رہے ہیں۔ ابورجاء نے بیان کیا کہ اس وقت ابوقلابہ ‘ عمر بن عبدالعزیز (رح) کے تخت کے پیچھے تھے۔ اتنے میں عنبسہ بن سعید نے کہا کہ پھر قبیلہ عرینہ کے لوگوں کے بارے میں انس (رض) کی حدیث کہاں گئی ؟ اس پر ابوقلابہ نے کہا کہ انس (رض) نے خود مجھ سے یہ بیان کیا۔ عبدالعزیز بن صہیب نے (اپنی روایت میں) انس (رض) کے حوالہ سے صرف عرینہ کا نام لیا اور ابوقلابہ نے اپنی روایت میں انس (رض) کے حوالے سے صرف عکل کا نام لیا پھر یہی قصہ بیان کیا۔
حدیث نمبر: 4193 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ مَوْلَى أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ مَعَهُ بِالشَّأْمِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ اسْتَشَارَ النَّاسَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا تَقُولُونَ فِي هَذِهِ الْقَسَامَةِ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ حَقٌّ قَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَضَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ قَبْلَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَبُو قِلَابَةَ خَلْفَ سَرِيرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ:‏‏‏‏ فَأَيْنَ حَدِيثُ أَنَسٍ فِي الْعُرَنِيِّينَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو قِلَابَةَ:‏‏‏‏ إِيَّايَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ عُرَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَبُو قِلَابَةَ:‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ عُكْلٍ ذَكَرَ الْقِصَّةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: ذات قرد کی لڑائی کا بیان۔
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ‘ کہا میں نے سلمہ بن الاکوع (رض) سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں فجر کی اذان سے پہلے (مدینہ سے باہر غابہ کی طرف نکلا) رسول اللہ ﷺ کی دودھ دینے والی اونٹنیاں ذات القرد میں چرا کرتی تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ راستے میں مجھے عبدالرحمٰن بن عوف (رض) کے غلام ملے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں پکڑ لی گئیں ہیں۔ میں پوچھا کہ کس نے پکڑا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ قبیلہ غطفان والوں نے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے تین مرتبہ بڑی زور زور سے پکارا ‘ یا صباحاہ ! انہوں نے بیان کیا کہ اپنی آواز میں نے مدینہ کے دونوں کناروں تک پہنچا دی اور اس کے بعد میں سیدھا تیزی کے ساتھ دوڑتا ہوا آگے بڑھا اور آخر انہیں جا لیا۔ اس وقت وہ جانوروں کو پانی پلانے کے لیے اترے تھے۔ میں نے ان پر تیر برسانے شروع کردیئے۔ میں تیر اندازی میں ماہر تھا اور یہ شعر کہتا جاتا تھا میں ابن الاکوع ہوں ‘ آج ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے میں یہی رجز پڑھتا رہا اور آخر اونٹنیاں ان سے چھڑا لیں بلکہ تیس چادریں ان کی میرے قبضے میں آگئیں۔ سلمہ نے بیان کیا کہ اس کے بعد نبی کریم ﷺ بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر آگئے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے تیر مار مار کر ان کو پانی نہیں دیا اور وہ ابھی پیاسے ہیں۔ آپ فوراً ان کے تعاقب کے لیے فوج بھیج دیجئیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابن الاکوع ! جب تو کسی پر قابو پالے تو نرمی اختیار کر۔ سلمہ (رض) نے بیان کیا ‘ پھر ہم واپس آگئے اور آپ ﷺ مجھے اپنی اونٹنی پر پیچھے بٹھا کر لائے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آگئے۔
حدیث نمبر: 4194 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَى بِذِي قَرَدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مَنْ أَخَذَهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ غَطَفَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ:‏‏‏‏ يَا صَبَاحَاهْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُمْ،‏‏‏‏ وَقَدْ أَخَذُوا يَسْتَقُونَ مِنَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي:‏‏‏‏ أَنَا ابْنُ الْأَكْوَعْ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعْ وكُنْتُ راميًا وَأَقُولُ وَأَرْتَجِزُ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاشٌ، ‏‏‏‏‏‏فَابْعَثْ إِلَيْهِمُ السَّاعَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ، ‏‏‏‏‏‏مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک (رح) نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور انہیں سوید بن نعمان (رض) نے خبر دی کہ غزوہ خیبر کے لیے وہ بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تھے۔ (بیان کیا) جب ہم مقام صہبا میں پہنچے جو خیبر کے نشیب میں واقع ہے تو نبی کریم ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی پھر آپ نے توشہ سفر منگوایا۔ ستو کے سوا اور کوئی چیز آپ کی خدمت میں نہیں لائی گئی۔ وہ ستو آپ کے حکم سے بھگویا گیا اور وہی آپ نے بھی کھایا اور ہم نے بھی کھایا۔ اس کے بعد مغرب کی نماز کے لیے آپ کھڑے ہوئے (چونکہ وضو پہلے سے موجود تھا) اس لیے نبی کریم ﷺ نے بھی صرف کلی کی اور ہم نے بھی ‘ پھر نماز پڑھی اور اس نماز کے لیے نئے سرے سے وضو نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 4195 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ أَنَّهُ:‏‏‏‏ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ صَلَّى الْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع (رض) نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ رات کے وقت ہمارا سفر جاری تھا کہ ایک صاحب (اسید بن حضیر) نے عامر سے کہا : عامر ! اپنے کچھ شعر سناؤ ‘ عامر شاعر تھے۔ اس فرمائش پر وہ سواری سے اتر کر حدی خوانی کرنے لگے۔ کہا اے اللہ ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا ‘ نہ ہم صدقہ کرسکتے اور نہ ہم نماز پڑھ سکتے۔ پس ہماری جلدی مغفرت کر، جب تک ہم زندہ ہیں ہماری جانیں تیرے راستے میں فدا ہیں اور اگر ہماری مڈبھیڑ ہوجائے تو ہمیں ثابت رکھ ہم پر سکینت نازل فرما، ہمیں جب (باطل کی طرف) بلایا جاتا ہے تو ہم انکار کردیتے ہیں، آج چلا چلا کر وہ ہمارے خلاف میدان میں آئے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کون شعر کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ عامر بن اکوع ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے تو انہیں شہادت کا مستحق قرار دے دیا ‘ کاش ! ابھی اور ہمیں ان سے فائدہ اٹھانے دیتے۔ پھر ہم خیبر آئے اور قلعہ کا محاصرہ کیا ‘ اس دوران ہمیں سخت تکالیف اور فاقوں سے گزرنا پڑا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی۔ جس دن قلعہ فتح ہونا تھا ‘ اس کی رات جب ہوئی تو لشکر میں جگہ جگہ آگ جل رہی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا یہ آگ کیسی ہے ‘ کس چیز کے لیے اسے جگہ جگہ جلا رکھا ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہم بولے کہ گوشت پکانے کے لیے ‘ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کس جانور کا گوشت ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ پالتو گدھوں کا ‘ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمام گوشت پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ دو ۔ ایک صحابی (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ایسا نہ کرلیں کہ گوشت تو پھینک دیں اور ہانڈیوں کو دھو لیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں ہی کرلو پھر (دن میں جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے جنگ کے لیے) صف بندی کی تو چونکہ عامر (رض) کی تلوار چھوٹی تھی ‘ اس لیے انہوں نے جب ایک یہودی کی پنڈلی پر (جھک کر) وار کرنا چاہا تو خود انہیں کی تلوار کی دھار سے ان کے گھٹنے کا اوپر کا حصہ زخمی ہوگیا اور ان کی شہادت اسی میں ہوگئی۔ بیان کیا کہ پھر جب لشکر واپس ہو رہا تھا تو سلمہ بن اکوع (رض) کا بیان ہے کہ مجھے آپ ﷺ نے دیکھا اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ‘ کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا ‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عامر (رض) کا سارا عمل اکارت ہوگیا (کیونکہ خود اپنی ہی تلوار سے ان کی وفات ہوئی) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جھوٹا ہے وہ شخص جو اس طرح کی باتیں کرتا ہے ‘ انہیں تو دوہرا اجر ملے گا پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ایک ساتھ ملایا ‘ انہوں نے تکلیف اور مشقت بھی اٹھائی اور اللہ کے راستے میں جہاد بھی کیا ‘ شاید ہی کوئی عربی ہو ‘ جس نے ان جیسی مثال قائم کی ہو۔ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ ان سے حاتم نے (بجائے مشى بها کے) نشأ بها نقل کیا یعنی کوئی عرب مدینہ میں عامر (رض) جیسا نہیں ہوا۔
حدیث نمبر: 4196 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَسِرْنَا لَيْلًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرٍ:‏‏‏‏ يَا عَامِرُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ ؟ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا أَبْقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَبَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا السَّائِقُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَرْحَمُهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ:‏‏‏‏ وَجَبَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا هَذِهِ النِّيرَانُ ؟ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ عَلَى لَحْمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَلَى أَيِّ لَحْمٍ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لَحْمِ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَوْ ذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ قَصِيرًا،‏‏‏‏ فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَصَابَ عَيْنَ رُكْبَةِ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا قَفَلُوا،‏‏‏‏ قَالَ سَلَمَةُ:‏‏‏‏ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي قَالَ:‏‏‏‏ مَا لَكَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَذَبَ مَنْ قَالَهُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ،‏‏‏‏ قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَاحَاتِمٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَشَأَ بِهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک (رح) نے خبر دی ‘ انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ خیبر رات کے وقت پہنچے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ جب کسی قوم پر حملہ کرنے کے لیے رات کے وقت موقع پر پہنچتے تو فوراً ہی حملہ نہیں کرتے بلکہ صبح ہوجاتی جب کرتے۔ چناچہ صبح کے وقت یہودی اپنے کلہاڑے اور ٹوکرے لے کر باہر نکلے لیکن جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو شور کرنے لگے کہ محمد ‘ اللہ کی قسم ! محمد لشکر لے کر آگئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیبر برباد ہوا ‘ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر جاتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 4197 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى خَيْبَرَ لَيْلًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ إِذَا أَتَى قَوْمًا بِلَيْلٍ لَمْ يُغِرْ بِهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ الْيَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا:‏‏‏‏ مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
ہمیں صدقہ بن فضل نے خبر دی ‘ کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ ہم خیبر صبح کے وقت پہنچے ‘ یہودی اپنے پھاؤڑے وغیرہ لے کر باہر آئے لیکن جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو چلانے لگے محمد ! اللہ کی قسم محمد ( ﷺ ) لشکر لے کر آگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی ذات سب سے بلندو برتر ہے۔ یقیناً جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر جائیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے۔ پھر ہمیں وہاں گدھے کا گوشت ملا لیکن آپ ﷺ کی طرف سے اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھے کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کہ یہ ناپاک ہے۔
حدیث نمبر: 4198 أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَبَّحْنَا خَيْبَرَ بُكْرَةً، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ أَهْلُهَا بِالْمَسَاحِي، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا بَصُرُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا:‏‏‏‏ مُحَمَّدٌ،‏‏‏‏ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، ‏‏‏‏‏‏فقال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَصَبْنَا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے محمد نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک آنے والے نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ اس پر آپ نے خاموشی اختیار کی پھر دوبارہ وہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ اس مرتبہ بھی خاموش رہے ‘ پھر وہ تیسری مرتبہ آئے اور عرض کیا کہ گدھے ختم ہوگئے۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے ایک منادی سے اعلان کرایا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کے گوشت کے کھانے سے منع کرتے ہیں۔ چناچہ تمام ہانڈیاں الٹ دی گئیں حالانکہ وہ گوشت کے ساتھ جوش مار رہی تھیں۔
حدیث نمبر: 4199 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جَاءٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أُكِلَتِ الْحُمُرُ ؟ فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أُكِلَتِ الْحُمُرُ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَسَكَتَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ ؟ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِاللَّحْمِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز خیبر کے قریب پہنچ کر ادا کی ‘ ابھی اندھیرا تھا پھر فرمایا ‘ اللہ کی ذات سب سے بلندو برتر ہے۔ خیبر برباد ہوا ‘ یقیناً جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر جاتے ہیں تو ڈرائے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے۔ پھر یہودی گلیوں میں ڈرتے ہوئے نکلے۔ آخر نبی کریم ﷺ نے ان کے جنگ کرنے والے لوگوں کو قتل کرا دیا اور عورتوں اور بچوں کو قید کرلیا۔ قیدیوں میں ام المؤمنین صفیہ (رض) بھی تھیں جو دحیہ کلبی (رض) کے حصہ میں آئی تھیں۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آگئیں۔ چناچہ آپ نے ان سے نکاح کرلیا اور مہر میں انہیں آزاد کردیا۔ عبدالعزیز بن صہیب نے ثابت سے پوچھا : ابو محمد ! کیا تم نے یہ پوچھا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے صفیہ (رض) کو مہر کیا دیا تھا ؟ ثابت (رض) نے اثبات میں سر ہلایا۔
حدیث نمبر: 4200 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ قَرِيبًا مِنْ خَيْبَرَ بِغَلَسٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُقَاتِلَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَبَى الذُّرِّيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ فِي السَّبْيِ صَفِيَّةُ فَصَارَتْ إِلَى دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ لِثَابِتٍ:‏‏‏‏ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ آنْتَ قُلْتَ لِأَنَسٍ:‏‏‏‏ مَا أَصْدَقَهَا ؟ فَحَرَّكَ ثَابِتٌ رَأْسَهُ تَصْدِيقًا لَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ صفیہ (رض) رسول اللہ ﷺ کے قیدیوں میں تھیں لیکن آپ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا تھا۔ ثابت (رض) نے انس (رض) سے پوچھا نبی کریم ﷺ نے انہیں مہر کیا دیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ خود انہیں کو ان کے مہر میں دیا تھا یعنی انہیں آزاد کردیا تھا۔
حدیث نمبر: 4201 حَدَّثَنَا آدَمُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ فَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ثَابِتٌ لِأَنَسٍ:‏‏‏‏ مَا أَصْدَقَهَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا فَأَعْتَقَهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنے لشکر کے ساتھ) مشرکین (یعنی) یہود خیبر کا مقابلہ کیا۔ دونوں طرف سے لوگوں نے جنگ کی ‘ پھر جب آپ اپنے خیمے کی طرف واپس ہوئے اور یہودی بھی اپنے خیموں میں واپس چلے گئے تو رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی کے متعلق کسی نے ذکر کیا کہ یہودیوں کا کوئی بھی آدمی اگر انہیں مل جائے تو وہ اس کا پیچھا کر کے اسے قتل کئے بغیر نہیں رہتے۔ کہا گیا کہ آج فلاں شخص ہماری طرف سے جتنی بہادری اور ہمت سے لڑا ہے شاید اتنی بہادری سے کوئی بھی نہیں لڑا ہوگا لیکن نبی کریم ﷺ نے ان کے متعلق فرمایا کہ وہ اہل دوزخ میں سے ہے۔ ایک صحابی (رض) نے اس پر کہا کہ پھر میں ان کے ساتھ ساتھ رہوں گا، بیان کیا کہ پھر وہ ان کے پیچھے ہو لیے جہاں وہ ٹھہرتے یہ بھی ٹھہر جاتے اور جہاں وہ دوڑ کر چلتے یہ بھی دوڑنے لگتے۔ بیان کیا کہ پھر وہ صاحب زخمی ہوگئے ‘ انتہائی شدید طور پر اور چاہا کہ جلدی موت آجائے۔ اس لیے انہوں نے اپنی تلوار زمین میں گاڑ دی اور اس کی نوک سینہ کے مقابل کر کے اس پر گرپڑے اور اس طرح خودکشی کرلی۔ اب دوسرے صحابی (جو ان کی جستجو میں لگے ہوئے تھے) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پوچھا کیا بات ہے ؟ ان صحابی نے عرض کیا کہ جن کے متعلق ابھی آپ نے فرمایا تھا کہ وہ اہل دوزخ میں سے ہیں تو لوگوں پر آپ کا یہ فرمانا بڑا شاق گزرا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ میں تمہارے لیے ان کے پیچھے پیچھے جاتا ہوں۔ چناچہ میں ان کے ساتھ ساتھ رہا۔ ایک موقع پر جب وہ شدید زخمی ہوگئے تو اس خواہش میں کہ موت جلدی آجائے اپنی تلوار انہوں نے زمین میں گاڑ دی اور اس کی نوک کو اپنے سینہ کے سامنے کر کے اس پر گرپڑے اور اس طرح انہوں نے خود اپنی جان کو ہلاک کردیا۔ اسی موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ انسان زندگی بھر جنت والوں کے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے۔ اسی طرح دوسرا شخص زندگی بھر اہل دوزخ کے عمل کرتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 4202 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ فَاقْتَتَلُوا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَسْكَرِهِ وَمَالَ الْآخَرُونَ إِلَى عَسْكَرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً وَلَا فَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ كَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ:‏‏‏‏ أَنَا صَاحِبُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَخَرَجَ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏كُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَوَضَعَ سَيْفَهُ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَى سَيْفِهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَا ذَاكَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ الَّذِي ذَكَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَنَا لَكُمْ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ فِي الْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:‏‏‏‏ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ہم خیبر کی جنگ میں شریک تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک صاحب کے متعلق جو آپ کے ساتھ تھے اور خود کو مسلمان کہتے تھے فرمایا کہ یہ شخص اہل دوزخ میں سے ہے۔ پھر جب لڑائی شروع ہوئی تو وہ صاحب بڑی پامردی سے لڑے اور بہت زیادہ زخمی ہوگئے۔ ممکن تھا کہ کچھ لوگ شبہ میں پڑجاتے لیکن ان صاحب کے لیے زخموں کی تکلیف ناقابل برداشت تھی۔ چناچہ انہوں نے اپنے ترکش میں سے تیر نکالا اور اپنے سینہ میں چبھو دیا۔ یہ منظر دیکھ کر مسلمان دوڑتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کا فرمان سچ کر دکھایا۔ اس شخص نے خود اپنے سینے میں تیر چبھو کر خودکشی کرلی ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے فلاں ! جا اور اعلان کر دے کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔ یوں اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد فاجر شخص سے بھی لے لیتا ہے۔ اس روایت کی متابعت معمر نے زہری سے کی۔ اور شبیب نے یونس سے بیان کیا ‘ انہوں نے ابن شہاب زہری سے ‘ انہیں سعید بن مسیب اور عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے خبر دی ‘ ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں موجود تھے اور ابن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سعید بن مسیب (رض) نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے ۔ اس روایت کی متابعت صالح نے زہری سے کی اور زبیدی نے بیان کیا ‘ انہیں زہری نے خبر دی ‘ انہیں عبدالرحمٰن بن کعب نے خبر دی اور انہیں عبیداللہ بن کعب نے خبر دی کہ مجھے ان صحابی نے خبر دی جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں موجود تھے۔ زہری نے بیان کیا اور مجھے عبیداللہ بن عبداللہ اور سعید بن مسیب (رض) نے خبر دی رسول اللہ ﷺ سے۔
حدیث نمبر: 4203 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ شَهِدْنَا خَيْبَرَ،‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ يَدَّعِي الْإِسْلَامَ:‏‏‏‏ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ يَرْتَابُ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحَةِ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى كِنَانَتِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهَا أَسْهُمًا فَنَحَرَ بِهَا نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَاشْتَدَّ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ انْتَحَرَ فُلَانٌ فَقَتَلَ نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قُمْ يَا فُلَانُ فَأَذِّنْ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ. تَابَعَهُ مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏ حدیث نمبر: 4204 وَقَالَ شَبِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أن أبا هريرة، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ شَهِدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏تَابَعَهُ صَالِحٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ‘ ان سے عاصم نے ‘ ان سے ابوعثمان نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے خیبر پر لشکر کشی کی یا یوں بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ (خیبر کی طرف) روانہ ہوئے تو (راستے میں) لوگ ایک وادی میں پہنچے اور بلند آواز کے ساتھ تکبیر کہنے لگے اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہٰ الا اللہ اللہ سب سے بلندو برتر ہے ‘ اللہ سب سے بلندو برتر ہے ‘ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی جانوں پر رحم کرو ‘ تم کسی بہرے کو یا ایسے شخص کو نہیں پکار رہے ہو ‘ جو تم سے دور ہو ‘ جسے تم پکار رہے ہو وہ سب سے زیادہ سننے والا اور تمہارے بہت نزدیک ہے بلکہ وہ تمہارے ساتھ ہے۔ میں آپ ﷺ کی سواری کے پیچھے تھا۔ میں نے جب لا حول ولا قوة إلا بالله کہا تو آپ ﷺ نے سن لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : عبداللہ بن قیس ! میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتادوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ؟ میں نے عرض کیا ضرور بتائیے، یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ کلمہ یہی ہے لا حول ولا قوة إلا بالله یعنی گناہوں سے بچنا اور نیکی کرنا یہ اسی وقت ممکن ہے جب اللہ کی مدد شامل ہو۔
حدیث نمبر: 4205 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ النَّاسُ عَلَى وَادٍ، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّكْبِيرِ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، ‏‏‏‏‏‏إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا خَلْفَ دَابَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقُولُ:‏‏‏‏ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے سلمہ بن اکوع (رض) کی پنڈلی میں ایک زخم کا نشان دیکھ کر ان سے پوچھا : اے ابومسلم ! یہ زخم کا نشان کیسا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ غزوہ خیبر میں مجھے یہ زخم لگا تھا ‘ لوگ کہنے لگے کہ سلمہ زخمی ہوگیا۔ چناچہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ نے تین مرتبہ اس پر دم کیا ‘ اس کی برکت سے آج تک مجھے اس زخم سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔
حدیث نمبر: 4206 حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذِهِ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ أُصِيبَ سَلَمَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ خیبر کا بیان۔
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن ابی حازم نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی (رض) نے بیان کیا کہ ایک غزوہ (خیبر) میں نبی کریم ﷺ اور مشرکین کا مقابلہ ہوا اور خوب جم کر جنگ ہوئی آخر دونوں لشکر اپنے اپنے خیموں کی طرف واپس ہوئے اور مسلمانوں میں ایک آدمی تھا جنہیں مشرکین کی طرف کا کوئی شخص کہیں مل جاتا تو اس کا پیچھا کر کے قتل کئے بغیر وہ نہ رہتے۔ کہا گیا کہ یا رسول اللہ ! جتنی بہادری سے آج فلاں شخص لڑا ہے ‘ اتنی بہادری سے تو کوئی نہ لڑا ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ اہل دوزخ میں سے ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ‘ اگر یہ بھی دوزخی ہے تو پھر ہم جیسے لوگ کس طرح جنت والے ہوسکتے ہیں ؟ اس پر ایک صحابی بولے کہ میں ان کے پیچھے پیچھے رہوں گا۔ چناچہ جب وہ دوڑتے یا آہستہ چلتے تو میں ان کے ساتھ ساتھ ہوتا۔ آخر وہ زخمی ہوئے اور چاہا کہ موت جلد آجائے۔ اس لیے وہ تلوار کا قبضہ زمین میں گاڑ کر اس کی نوک سینے کے مقابل کر کے اس پر گرپڑے۔ اس طرح سے اس نے خودکشی کرلی۔ اب وہ صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ انہوں نے تفصیل بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص بظاہر جنتیوں جیسے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرا شخص بظاہر دوزخیوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 4207 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْتَقَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكُونَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَاقْتَتَلُوا، ‏‏‏‏‏‏فَمَالَ كُلُّ قَوْمٍ إِلَى عَسْكَرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْمُسْلِمِينَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَاذَّةً وَلَا فَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا فَضَرَبَهَا بِسَيْفِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا أَجْزَأَ أَحَدٌ مَا أَجْزَأَ فُلَانٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ أَيُّنَا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنْ كَانَ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ:‏‏‏‏ لَأَتَّبِعَنَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَسْرَعَ وَأَبْطَأَ كُنْتُ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى جُرِحَ فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَوَضَعَ نِصَابَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَتَلَ نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ وَمَا ذَاكَ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
tahqiq

তাহকীক: