আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

غزوات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭৮ টি

হাদীস নং: ৪১৪১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: واقعہ افک کا بیان۔
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر ‘ سعید بن مسیب ‘ علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے کہ جب اہل افک (یعنی تہمت لگانے والوں) نے ان کے متعلق وہ سب کچھ کہا جو انہیں کہنا تھا (ابن شہاب نے بیان کیا کہ) تمام حضرات نے (جن چار حضرات کے نام انہوں نے روایت کے سلسلے میں لیے ہیں) مجھ سے عائشہ (رض) کی حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا۔ یہ بھی تھا کہ ان میں سے بعض کو یہ قصہ زیادہ بہتر طریقہ پر یاد تھا اور عمدگی سے یہ قصہ بیان کرتا تھا اور میں نے ان میں سے ہر ایک کی روایت یاد رکھی جو اس نے عائشہ (رض) سے یاد رکھی تھی۔ اگرچہ بعض لوگوں کو دوسرے لوگوں کے مقابلے میں روایت زیادہ بہتر طریقہ پر یاد تھی۔ پھر بھی ان میں باہم ایک کی روایت دوسرے کی روایت کی تصدیق کرتی ہے۔ ان لوگوں نے بیان کیا کہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کا ارادہ کرتے تو ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے درمیان قرعہ ڈالا کرتے تھے اور جس کا نام آتا تو نبی کریم ﷺ انہیں اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ ایک غزوہ کے موقع پر جب آپ نے قرعہ ڈالا تو میرا نام نکلا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ سفر میں روانہ ہوئی۔ یہ واقعہ پردہ کے حکم کے نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ چناچہ مجھے ہودج سمیت اٹھا کر سوار کردیا جاتا اور اسی کے ساتھ اتارا جاتا۔ اس طرح ہم روانہ ہوئے۔ پھر جب نبی کریم ﷺ اپنے اس غزوہ سے فارغ ہوگئے تو واپس ہوئے۔ واپسی میں اب ہم مدینہ کے قریب تھے (اور ایک مقام پر پڑاؤ تھا) جہاں سے آپ ﷺ نے کوچ کا رات کے وقت اعلان کیا۔ کوچ کا اعلان ہوچکا تھا تو میں کھڑی ہوئی اور تھوڑی دور چل کر لشکر کے حدود سے آگے نکل گئی۔ پھر قضائے حاجت سے فارغ ہو کر میں اپنی سواری کے پاس پہنچی۔ وہاں پہنچ کر جو میں نے اپنا سینہ ٹٹولا تو ظفار (یمن کا ایک شہر) کے مہرہ کا بنا ہوا میرا ہار غائب تھا۔ اب میں پھر واپس ہوئی اور اپنا ہار تلاش کرنے لگی۔ اس تلاش میں دیر ہوگئی۔ انہوں نے بیان کیا کہ جو لوگ مجھے سوار کیا کرتے تھے وہ آئے اور میرے ہودج کو اٹھا کر انہوں نے میرے اونٹ پر رکھ دیا۔ جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے سمجھا کہ میں ہودج کے اندر ہی موجود ہوں۔ ان دنوں عورتیں بہت ہلکی پھلکی ہوتی تھیں۔ ان کے جسم میں زیادہ گوشت نہیں ہوتا تھا کیونکہ بہت معمولی خوراک انہیں ملتی تھی۔ اس لیے اٹھانے والوں نے جب اٹھایا تو ہودج کے ہلکے پن میں انہیں کوئی فرق معلوم نہیں ہوا۔ یوں بھی اس وقت میں ایک کم عمر لڑکی تھی۔ غرض اونٹ کو اٹھا کر وہ بھی روانہ ہوگئے۔ جب لشکر گزر گیا تو مجھے بھی اپنا ہار مل گیا۔ میں ڈیرے پر آئی تو وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ نہ پکارنے والا نہ جواب دینے والا۔ اس لیے میں وہاں آئی جہاں میرا اصل ڈیرہ تھا۔ مجھے یقین تھا کہ جلد ہی میرے نہ ہونے کا انہیں علم ہوجائے گا اور مجھے لینے کے لیے وہ واپس لوٹ آئیں گے۔ اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی۔ صفوان بن معطل سلمی الذکوانی (رض) لشکر کے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ (تاکہ لشکر کی کوئی چیز گم ہوگئی ہو تو وہ اٹھا لیں) انہوں نے ایک سوئے انسان کا سایہ دیکھا اور جب (قریب آ کر) مجھے دیکھا تو پہچان گئے پردہ سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے۔ مجھے جب وہ پہچان گئے تو اناللہ پڑھنا شروع کیا اور ان کی آواز سے میں جاگ اٹھی اور فوراً اپنی چادر سے میں نے اپنا چہرہ چھپالیا۔ اللہ کی قسم ! میں نے ان سے ایک لفظ بھی نہیں کہا اور نہ سوا اناللہ کے میں نے ان کی زبان سے کوئی لفظ سنا۔ وہ سواری سے اتر گئے اور اسے انہوں نے بٹھا کر اس کی اگلی ٹانگ کو موڑ دیا (تاکہ بغیر کسی مدد کے ام المؤمنین اس پر سوار ہو سکیں) میں اٹھی اور اس پر سوار ہوگئی۔ اب وہ سواری کو آگے سے پکڑے ہوئے لے کر چلے۔ جب ہم لشکر کے قریب پہنچے تو ٹھیک دوپہر کا وقت تھا۔ لشکر پڑاؤ کئے ہوئے تھا۔ ام المؤمنین (رض) نے بیان کیا کہ پھر جسے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوا۔ اصل میں تہمت کا بیڑا عبداللہ بن ابی ابن سلول (منافق) نے اٹھا رکھا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ اس تہمت کا چرچا کرتا اور اس کی مجلسوں میں اس کا تذکرہ ہوا کرتا۔ وہ اس کی تصدیق کرتا ‘ خوب غور اور توجہ سے سنتا اور پھیلانے کے لیے خوب کھود کرید کرتا۔ عروہ نے پہلی سند کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ حسان بن ثابت ‘ مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش کے سوا تہمت لگانے میں شریک کسی کا بھی نام نہیں لیا کہ مجھے ان کا علم ہوتا۔ اگرچہ اس میں شریک ہونے والے بہت سے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (کہ جن لوگوں نے تہمت لگائی ہے وہ بہت سے ہیں) لیکن اس معاملہ میں سب سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا عبداللہ بن ابی ابن سلول تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ اس پر بڑی خفگی کا اظہار کرتی تھیں۔ اگر ان کے سامنے حسان بن ثابت (رض) کو برا بھلا کہا جاتا ‘ آپ فرماتیں کہ یہ شعر حسان ہی نے کہا ہے کہ میرے والد اور میرے والد کے والد اور میری عزت ‘ محمد ﷺ کی عزت کی حفاظت کے لیے تمہارے سامنے ڈھال بنی رہیں گی۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ پھر ہم مدینہ پہنچ گئے اور وہاں پہنچتے ہی میں بیمار ہوگئی تو ایک مہینے تک بیمار ہی رہی۔ اس عرصہ میں لوگوں میں تہمت لگانے والوں کی افواہوں کا بڑا چرچا رہا لیکن میں ایک بات بھی نہیں سمجھ رہی تھی البتہ اپنے مرض کے دوران ایک چیز سے مجھے بڑا شبہ ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ کی وہ محبت و عنایت میں نہیں محسوس کرتی تھی جس کو پہلے جب بھی بیمار ہوتی میں دیکھ چکی تھی۔ آپ میرے پاس تشریف لاتے ‘ سلام کرتے اور دریافت فرماتے کیسی طبیعت ہے ؟ صرف اتنا پوچھ کر واپس تشریف لے جاتے۔ آپ ﷺ کے اس طرز عمل سے مجھے شبہ ہوتا تھا۔ لیکن شر (جو پھیل چکا تھا) اس کا مجھے کوئی احساس نہیں تھا۔ مرض سے جب افاقہ ہوا تو میں ام مسطح کے ساتھ مناصع کی طرف گئی۔ مناصع (مدینہ کی آبادی سے باہر) ہمارے رفع حاجت کی جگہ تھی۔ ہم یہاں صرف رات کے وقت جاتے تھے۔ یہ اس سے پہلے کی بات ہے۔ جب بیت الخلاء ہمارے گھروں کے قریب بن گئے تھے۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ ابھی ہم عرب قدیم کے طریقے پر عمل کرتے اور میدان میں رفع حاجت کے لیے جایا کرتے تھے اور ہمیں اس سے تکلیف ہوتی تھی کہ بیت الخلاء ہمارے گھروں کے قریب بنائے جائیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ الغرض میں اور ام مسطح (رفع حاجت کے لیے) گئے۔ ام مسطح ابی رہم بن عبدالمطلب بن عبد مناف کی بیٹی ہیں۔ ان کی والدہ صخر بن عامر کی بیٹی ہیں اور وہ ابوبکر (رض) کی خالہ تھیں۔ انہی کے بیٹے مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب (رض) ہیں۔ پھر میں اور ام مسطح حاجت سے فارغ ہو کر اپنے گھر کی طرف واپس آ رہے تھے کہ ام مسطح اپنی چادر میں الجھ گئیں اور ان کی زبان سے نکلا کہ مسطح ذلیل ہو۔ میں نے کہا ‘ آپ نے بری بات زبان سے نکالی ‘ ایک ایسے شخص کو آپ برا کہہ رہی ہیں جو بدر کی لڑائی میں شریک ہوچکا ہے۔ انہوں نے اس پر کہا کیوں مسطح کی باتیں تم نے نہیں سنیں ؟ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا ہے ؟ بیان کیا ‘ پھر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں سنائیں۔ بیان کیا کہ ان باتوں کو سن کر میرا مرض اور بڑھ گیا۔ جب میں اپنے گھر واپس آئی تو نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور سلام کے بعد دریافت فرمایا کہ کیسی طبیعت ہے ؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا آپ مجھے اپنے والدین کے گھر جانے کی اجازت مرحمت فرمائیں گے ؟ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میرا ارادہ یہ تھا کہ ان سے اس خبر کی تصدیق کروں گی۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی۔ میں نے اپنی والدہ سے (گھر جا کر) پوچھا کہ آخر لوگوں میں کس طرح کی افواہیں ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ بیٹی ! فکر نہ کر ‘ اللہ کی قسم ! ایسا شاید ہی کہیں ہوا ہو کہ ایک خوبصورت عورت کسی ایسے شوہر کے ساتھ ہو جو اس سے محبت بھی رکھتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں اور پھر اس پر تہمتیں نہ لگائی گئی ہوں۔ اس کی عیب جوئی نہ کی گئی ہو۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میں نے اس پر کہا کہ سبحان اللہ (میری سوکنوں سے اس کا کیا تعلق) اس کا تو عام لوگوں میں چرچا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ادھر پھر جو میں نے رونا شروع کیا تو رات بھر روتی رہی اسی طرح صبح ہوگئی اور میرے آنسو کسی طرح نہ تھمتے تھے اور نہ نیند ہی آتی تھی۔ بیان کیا کہ ادھر رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالب (رض) اور اسامہ بن زید (رض) کو اپنی بیوی کو علیحدہ کرنے کے متعلق مشورہ کرنے کے لیے بلایا کیونکہ اس سلسلے میں اب تک آپ پر وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ بیان کیا کہ اسامہ (رض) نے تو نبی کریم ﷺ کو اسی کے مطابق مشورہ دیا جو وہ آپ ﷺ کی بیوی (مراد خود اپنی ذات سے ہے) کی پاکیزگی اور آپ ﷺ کی ان سے محبت کے متعلق جانتے تھے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ آپ کی بیوی میں مجھے خیر و بھلائی کے سوا اور کچھ معلوم نہیں ہے لیکن علی (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں رکھی ہے اور عورتیں بھی ان کے علاوہ بہت ہیں۔ آپ ان کی باندی (بریرہ رضی اللہ عنہا) سے بھی دریافت فرما لیں وہ حقیقت حال بیان کر دے گی۔ بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ نے بریرہ (رض) کو بلایا اور ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے تمہیں (عائشہ پر) شبہ ہوا ہو۔ بریرہ (رض) نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا۔ میں نے ان کے اندر کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو بری ہو۔ اتنی بات ضرور ہے کہ وہ ایک نوعمر لڑکی ہیں ‘ آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں اور بکری آ کر اسے کھا جاتی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس دن رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو خطاب کیا اور منبر پر کھڑے ہو کر عبداللہ بن ابی (منافق) کا معاملہ رکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ اے گروہ مسلمین ! اس شخص کے بارے میں میری کون مدد کرے گا جس کی اذیتیں اب میری بیوی کے معاملے تک پہنچ گئی ہیں۔ اللہ کی قسم کہ میں نے اپنی بیوی میں خیر کے سوا اور کوئی چیز نہیں دیکھی اور نام بھی ان لوگوں نے ایک ایسے شخص (صفوان بن معطل (رض) جو ام المؤمنین کو اپنے اونٹ پر لائے تھے) کا لیا ہے جس کے بارے میں بھی میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتا۔ وہ جب بھی میرے گھر آئے تو میرے ساتھ ہی آئے۔ ام المؤمنین (رض) نے بیان کیا کہ اس پر سعد بن معاذ (رض) قبیلہ بنو اسہل کے ہم رشتہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا میں، یا رسول اللہ ! آپ کی مدد کروں گا۔ اگر وہ شخص قبیلہ اوس کا ہوا تو میں اس کی گردن مار دوں گا اور اگر وہ ہمارے قبیلہ کا ہوا آپ کا اس کے متعلق بھی جو حکم ہوگا ہم بجا لائیں گے۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ اس پر قبیلہ خزرج کے ایک صحابی کھڑے ہوئے۔ حسان کی والدہ ان کی چچا زاد بہن تھیں یعنی سعد بن عبادہ (رض) وہ قبیلہ خزرج کے سردار تھے اور اس سے پہلے بڑے صالح اور مخلصین میں تھے لیکن آج قبیلہ کی حمیت ان پر غالب آگئی۔ انہوں نے سعد (رض) کو مخاطب کر کے کہا : اللہ کی قسم ! تم جھوٹے ہو ‘ تم اسے قتل نہیں کرسکتے، اور نہ تمہارے اندر اتنی طاقت ہے۔ اگر وہ تمہارے قبیلہ کا ہوتا تو تم اس کے قتل کا نام نہ لیتے۔ اس کے بعد اسید بن حضیر (رض) جو سعد بن عبادہ (رض) کے چچیرے بھائی تھے کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ (رض) کو مخاطب کر کے کہا : اللہ کی قسم ! تم جھوٹے ہو ‘ ہم اسے ضرور قتل کریں گے۔ اب اس میں شبہ نہیں رہا کہ تم بھی منافق ہو ‘ تم منافقوں کی طرف سے مدافعت کرتے ہو۔ اتنے میں اوس و خزرج کے دونوں قبیلے بھڑک اٹھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپس ہی میں لڑ پڑیں گے۔ اس وقت تک رسول اللہ ﷺ منبر پر ہی تشریف فرما تھے۔ ام المؤمنین عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ سب کو خاموش کرانے لگے۔ سب حضرات چپ ہوگئے اور آپ ﷺ بھی خاموش ہوگئے۔ ام المؤمنین عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میں اس روز پورا دن روتی رہی۔ نہ میرا آنسو تھمتا تھا اور نہ آنکھ لگتی تھی۔ بیان کیا کہ صبح کے وقت میرے والدین میرے پاس آئے۔ دو راتیں اور ایک دن میرا روتے ہوئے گزر گیا تھا۔ اس پورے عرصہ میں نہ میرا آنسو رکا اور نہ نیند آئی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ روتے روتے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ ابھی میرے والدین میرے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے اور میں روئے جا رہی تھی کہ قبیلہ انصار کی ایک خاتون نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ میں نے انہیں اجازت دے دی اور وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگیں۔ بیان کیا کہ ہم ابھی اسی حالت میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ آپ نے سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ بیان کیا کہ جب سے مجھ پر تہمت لگائی گئی تھی ‘ آپ ﷺ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے۔ ایک مہینہ گزر گیا تھا اور میرے بارے میں آپ کو وحی کے ذریعہ کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ بیان کیا کہ بیٹھنے کے بعد آپ ﷺ نے کلمہ شہادت پڑھا پھر فرمایا امابعد اے عائشہ ! مجھے تمہارے بارے میں اس اس طرح کی خبریں ملی ہیں ‘ اگر تم واقعی اس معاملہ میں پاک و صاف ہو تو اللہ تمہاری پاکی خود بیان کر دے گا لیکن اگر تم نے کسی گناہ کا قصد کیا تھا تو اللہ کی مغفرت چاہو اور اس کے حضور میں توبہ کرو کیونکہ بندہ جب (اپنے گناہوں کا) اعتراف کرلیتا ہے اور پھر اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔ ام المؤمنین عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ جب آپ ﷺ اپنا کلام پورا کرچکے تو میرے آنسو اس طرح خشک ہوگئے کہ ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔ میں نے پہلے اپنے والد سے کہا کہ میری طرف سے رسول اللہ ﷺ کو ان کے کلام کا جواب دیں۔ والد نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں کچھ نہیں جانتا کہ آپ ﷺ سے مجھے کیا کہنا چاہیے۔ پھر میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ اس کا جواب دیں۔ والدہ نے بھی یہی کہا۔ اللہ کی قسم ! مجھے کچھ نہیں معلوم کہ آپ ﷺ سے مجھے کیا کہنا چاہیے۔ اس لیے میں نے خود ہی عرض کیا۔ حالانکہ میں بہت کم عمر لڑکی تھی اور قرآن مجید بھی میں نے زیادہ نہیں پڑھا تھا کہ اللہ کی قسم ! مجھے بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگوں نے اس طرح کی افوہوں پر کان دھرا اور بات آپ لوگوں کے دلوں میں اتر گئی اور آپ لوگوں نے اس کی تصدیق کی۔ اب اگر میں یہ کہوں کہ میں اس تہمت سے بری ہوں تو آپ لوگ میری تصدیق نہیں کریں گے اگر اور اس گناہ کا اقرار کرلوں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ لوگ اس کی تصدیق کرنے لگ جائیں گے۔ پس اللہ کی قسم ! میری اور لوگوں کی مثال یوسف (علیہ السلام) کے والد جیسی ہے۔ جب انہوں نے کہا تھا فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون‏ (یوسف : 18) پس صبر جمیل بہتر ہے اور اللہ ہی کی مدد درکار ہے اس بارے میں جو کچھ تم کہہ رہے ہو پھر میں نے اپنا رخ دوسری طرف کرلیا اور اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ اللہ خوب جانتا تھا کہ میں اس معاملہ میں قطعاً بری تھی اور وہ خود میری برات ظاہر کرے گا۔ کیونکہ میں واقعی بری تھی لیکن اللہ کی قسم ! مجھے اس کا کوئی وہم و گمان بھی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ قرآن مجید میں میرے معاملے کی صفائی اتارے گا کیونکہ میں اپنے کو اس سے بہت کمتر سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملہ میں خود کوئی کلام فرمائے ‘ مجھے تو صرف اتنی امید تھی کہ آپ ﷺ کوئی خواب دیکھیں گے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ میری برات کر دے گا لیکن اللہ کی قسم ! ابھی نبی کریم ﷺ مجلس سے اٹھے بھی نہیں تھے اور نہ اور کوئی گھر کا آدمی وہاں سے اٹھا تھا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہونی شروع ہوئی اور آپ پر وہ کیفیت طاری ہوئی جو وحی کی شدت میں طاری ہوتی تھی۔ موتیوں کی طرح پسینے کے قطرے آپ کے چہرے سے گرنے لگے۔ حالانکہ سردی کا موسم تھا۔ یہ اس وحی کی وجہ سے تھا جو آپ پر نازل ہو رہی تھی۔ ام المؤمنین (رض) نے بیان کیا کہ پھر آپ کی وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ تبسم فرما رہے تھے۔ سب سے پہلا کلمہ جو آپ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے عائشہ ! اللہ نے تمہاری برات نازل کردی ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میری والدہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑی ہوجاؤ۔ میں نے کہا ‘ نہیں اللہ کی قسم ! میں آپ کے سامنے نہیں کھڑی ہوں گی۔ میں اللہ عزوجل کے سوا اور کسی کی حمد و ثنا نہیں کروں گی (کہ اسی نے میری برات نازل کی ہے) بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا إن الذين جاء وا بالإفك‏ جو لوگ تہمت تراشی میں شریک ہوئے ہیں دس آیتیں اس سلسلہ میں نازل فرمائیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے (سورۃ النور میں) یہ آیتیں میری برات کے لیے نازل فرمائیں تو ابوبکر صدیق (رض) (جو مسطح بن اثاثہ کے اخراجات ‘ ان سے قرابت اور ان کی محتاجی کی وجہ سے خود اٹھاتے تھے) نے کہا : اللہ کی قسم ! مسطح نے جب عائشہ کے متعلق اس طرح کی تہمت تراشی میں حصہ لیا تو میں اس پر اب کبھی کچھ خرچ نہیں کروں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ولا يأتل أولو الفضل منکم‏ یعنی اہل فضل اور اہل ہمت قسم نہ کھائیں سے غفور رحيم‏ تک (کیونکہ مسطح (رض) یا دوسرے مومنین کی اس میں شرکت محض غلط فہمی کی بنا پر تھی) ۔ چناچہ ابوبکر صدیق (رض) نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میری تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کہنے پر معاف کر دے اور مسطح کو جو کچھ دیا کرتے تھے ‘ اسے پھر دینے لگے اور کہا کہ اللہ کی قسم ! اب اس وظیفہ کو میں کبھی بند نہیں کروں گا۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میرے معاملے میں آپ ﷺ نے ام المؤمنین زینب بنت جحش (رض) سے بھی مشورہ کیا تھا۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ عائشہ کے متعلق کیا معلومات ہیں تمہیں یا ان میں تم نے کیا چیز دیکھی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو محفوظ رکھتی ہوں (کہ ان کی طرف خلاف واقعہ نسبت کروں) اللہ کی قسم ! میں ان کے بارے میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتی۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ زینب ہی تمام ازواج مطہرات میں میرے مقابل کی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے تقویٰ اور پاکبازی کی وجہ سے انہیں محفوظ رکھا۔ بیان کیا کہ البتہ ان کی بہن حمنہ نے غلط راستہ اختیار کیا اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوئی تھیں۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ یہی تھی وہ تفصیل اس حدیث کی جو ان اکابر کی طرف سے مجھ تک پہنچی تھی۔ پھر عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم ! جن صحابی کے ساتھ یہ تہمت لگائی گئی تھی وہ (اپنے پر اس تہمت کو سن کر) کہتے ‘ سبحان اللہ ‘ اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ میں نے آج تک کسی عورت کا پردہ نہیں کھولا۔ ام المؤمنین (رض) نے بیان کیا کہ پھر اس واقعہ کے بعد وہ اللہ کے راستے میں شہید ہوگئے تھے۔
حدیث نمبر: 4141 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ،‏‏‏‏ عَنْ صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ،‏‏‏‏ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ،‏‏‏‏ وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ،‏‏‏‏ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،‏‏‏‏ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا:‏‏‏‏ أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ،‏‏‏‏ وَأَثْبَتَ لَهُ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا وَإِنْ كَانَ بَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ فَأَيُّهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ،‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي،‏‏‏‏ فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَكُنْتُ أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي وَأُنْزَلُ فِيهِ،‏‏‏‏ فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَتِهِ تِلْكَ وَقَفَلَ دَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ قَافِلِينَ آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ،‏‏‏‏ فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ،‏‏‏‏ فَلَمَّا قَضَيْتُ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَى رَحْلِي فَلَمَسْتُ صَدْرِي فَإِذَا عِقْدٌ لِي مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ قَدِ انْقَطَعَ،‏‏‏‏ فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِينَ كَانُوا يُرَحِّلُونِي فَاحْتَمَلُوا هَوْدَجِي فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِي الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ عَلَيْهِ وَهُمْ يَحْسِبُونَ أَنِّي فِيهِ وَكَانَ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يَهْبُلْنَ وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ،‏‏‏‏ إِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنَ الطَّعَامِ فَلَمْ يَسْتَنْكِرِ الْقَوْمُ خِفَّةَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَفَعُوهُ وَحَمَلُوهُ،‏‏‏‏ وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ،‏‏‏‏ فَبَعَثُوا الْجَمَلَ فَسَارُوا وَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَ مَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا مِنْهُمْ دَاعٍ وَلَا مُجِيبٌ،‏‏‏‏ فَتَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ بِهِ وَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُونَ إِلَيَّ،‏‏‏‏ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ،‏‏‏‏ وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْجَيْشِ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي،‏‏‏‏ وَكَانَ رَآنِي قَبْلَ الْحِجَابِ فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي وَوَاللَّهِ مَا تَكَلَّمْنَا بِكَلِمَةٍ وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ،‏‏‏‏ وَهَوَى حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَرَكِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ وَهُمْ نُزُولٌ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَ الْإِفْكِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ،‏‏‏‏ قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ كَانَ يُشَاعُ وَيُتَحَدَّثُ بِهِ عِنْدَهُ فَيُقِرُّهُ وَيَسْتَمِعُهُ وَيَسْتَوْشِيهِ،‏‏‏‏ وَقَالَ عُرْوَةُ أَيْضًا:‏‏‏‏ لَمْ يُسَمَّ مِنْ أَهْلِ الْإِفْكِ أَيْضًا إِلَّا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ،‏‏‏‏ وَحَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ فِي نَاسٍ آخَرِينَ لَا عِلْمَ لِي بِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ عُصْبَةٌ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى،‏‏‏‏ وَإِنَّ كِبْرَ ذَلِكَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ،‏‏‏‏ قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ كَانَتْ عَائِشَةُ تَكْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ وَتَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّهُ الَّذِي قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وِقَاءُ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْتُ شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَصْحَابِ الْإِفْكِ،‏‏‏‏ لَا أَشْعُرُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لَا أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي،‏‏‏‏ إِنَّمَا يَدْخُلُ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسَلِّمُ،‏‏‏‏ ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ كَيْفَ تِيكُمْ،‏‏‏‏ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَذَلِكَ يَرِيبُنِي وَلَا أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ حِينَ نَقَهْتُ،‏‏‏‏ فَخَرَجْتُ مَعَ أُمِّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَكَانَ مُتَبَرَّزَنَا وَكُنَّا لَا نَخْرُجُ إِلَّا لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي الْبَرِّيَّةِ قِبَلَ الْغَائِطِ،‏‏‏‏ وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالْكُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ ابْنَةُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَأُمُّهَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ،‏‏‏‏ فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا،‏‏‏‏ فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا،‏‏‏‏ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ تَعِسَ مِسْطَحٌ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ بِئْسَ مَا قُلْتِ،‏‏‏‏ أَتَسُبِّينَ رَجُلًا شَهِدَ بَدْرًا،‏‏‏‏ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ أَيْ هَنْتَاهْ وَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَقُلْتُ مَا قَالَ،‏‏‏‏ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الْإِفْكِ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَازْدَدْتُ مَرَضًا عَلَى مَرَضِي،‏‏‏‏ فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ تِيكُمْ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَيَّ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَأُرِيدُ أَنْ أَسْتَيْقِنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ لِأُمِّي:‏‏‏‏ يَا أُمَّتَاهُ مَاذَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَيْكِ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةً عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا كَثَّرْنَ عَلَيْهَا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ أَوَلَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَبَكَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ أَصْبَحْتُ أَبْكِي،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ،‏‏‏‏ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْأَلُهُمَا وَيَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَأَمَّا أُسَامَةُ فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَبِالَّذِي يَعْلَمُ لَهُمْ فِي نَفْسِهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ أُسَامَةُ:‏‏‏‏ أَهْلَكَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا،‏‏‏‏ وَأَمَّا عَلِيٌّ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يُضَيِّقْ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَسَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْءٍ يَرِيبُكِ ؟قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ:‏‏‏‏ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ،‏‏‏‏ غَيْرَ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا،‏‏‏‏ فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِي عَنْهُ أَذَاهُ فِي أَهْلِي،‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا،‏‏‏‏ وَمَا يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا مَعِي،‏‏‏‏ قَالَتْ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَعْذِرُكَ فَإِنْ كَانَ مِنْ الْأَوْسِ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ،‏‏‏‏ وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنْ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْخَزْرَجِ وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بِنْتَ عَمِّهِ مِنْ فَخِذِهِ وَهُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنْ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ،‏‏‏‏ فَقَالَ لِسَعْدٍ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تَقْتُلُهُ وَلَا تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ،‏‏‏‏ وَلَوْ كَانَ مِنْ رَهْطِكَ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ يُقْتَلَ فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَثَارَ الْحَيَّانِ الْأَوْسُ،‏‏‏‏ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَبَكَيْتُ يَوْمِي ذَلِكَ كُلَّهُ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي،‏‏‏‏ وَقَدْ بَكَيْتُ لَيْلَتَيْنِ وَيَوْمًا لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ حَتَّى إِنِّي لَأَظُنُّ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي،‏‏‏‏ فَبَيْنَا أَبَوَايَ جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي،‏‏‏‏ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَذِنْتُ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْكِي مَعِي،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ مَا قِيلَ قَبْلَهَا وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لَا يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي بِشَيْءٍ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَلَسَ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ،‏‏‏‏ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ،‏‏‏‏ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً،‏‏‏‏ فَقُلْتُ لِأَبِي:‏‏‏‏ أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي فِيمَا قَالَ،‏‏‏‏ فَقَالَ أَبِي:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ لِأُمِّي:‏‏‏‏ أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَالَ،‏‏‏‏ قَالَتْ أُمِّي:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لَا أَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ كَثِيرًا:‏‏‏‏ إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَقَدْ سَمِعْتُمْ هَذَا الْحَدِيثَ حَتَّى اسْتَقَرَّ فِي أَنْفُسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ،‏‏‏‏ فَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ لَا تُصَدِّقُونِي،‏‏‏‏ وَلَئِنْ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي مِنْهُ بَرِيئَةٌ،‏‏‏‏ لَتُصَدِّقُنِّي فَوَاللَّهِ لَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ حِينَ قَالَ:‏‏‏‏ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ،‏‏‏‏ ثُمَّ تَحَوَّلْتُ وَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي حِينَئِذٍ بَرِيئَةٌ،‏‏‏‏ وَأَنَّ اللَّهَ مُبَرِّئِي بِبَرَاءَتِي،‏‏‏‏ وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ مُنْزِلٌ فِي شَأْنِي وَحْيًا يُتْلَى لَشَأْنِي فِي نَفْسِي كَانَ أَحْقَرَ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ فِيَّ بِأَمْرٍ،‏‏‏‏ وَلَكِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا،‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسَهُ وَلَا خَرَجَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ حَتَّى أُنْزِلَ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ فَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِنَ الْعَرَقِ مِثْلُ الْجُمَانِ،‏‏‏‏ وَهُوَ فِي يَوْمٍ شَاتٍ مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَكَانَتْ أَوَّلَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ:‏‏‏‏ يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ بَرَّأَكِ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ فَإِنِّي لَا أَحْمَدُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ سورة النور آية 11 الْعَشْرَ الْآيَاتِ،‏‏‏‏ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ هَذَا فِي بَرَاءَتِي،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ:‏‏‏‏ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحِ بْنِ أُثَاثَةَ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ،‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ،‏‏‏‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22 قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ:‏‏‏‏ بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ،‏‏‏‏ وَقَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا،‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ عَنْ أَمْرِي،‏‏‏‏ فَقَالَ لِزَيْنَبَ:‏‏‏‏ مَاذَا عَلِمْتِ أَوْ رَأَيْتِ ؟فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا،‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ،‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ مَا قِيلَ لَيَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ،‏‏‏‏ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا كَشَفْتُ مِنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ ثُمَّ قُتِلَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: واقعہ افک کا بیان۔
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہشام بن یوسف نے اپنی یاد سے مجھے حدیث لکھوائی۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے خلیفہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا ‘ کیا تم کو معلوم ہے کہ علی (رض) بھی عائشہ (رض) پر تہمت لگانے والوں میں تھے ؟ میں نے کہا کہ نہیں ‘ البتہ تمہاری قوم (قریش) کے دو آدمیوں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے مجھے خبر دی کہ عائشہ (رض) نے ان سے کہا کہ علی (رض) ان کے معاملے میں خاموش تھے۔ پھر لوگوں نے ہشام بن یوسف (یا زہری) سے دوبارہ پوچھا۔ انہوں نے یہی کہا مسلما اس میں شک نہ کیا مسيئا کا لفظ نہیں کہا اور عليه کا لفظ زیاوہ کیا (یعنی زہری نے ولید کو اور کچھ جواب نہیں دیا اور پرانے نسخہ میں مسلما کا لفظ تھا) ۔
حدیث نمبر: 4142 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَمْلَى عَلَيَّ هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ،‏‏‏‏ مِنْ حِفْظِهِ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبَلَغَكَ،‏‏‏‏ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ فِيمَنْ قَذَفَ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا،‏‏‏‏ وَلَكِنْ قَدْ أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ مِنْ قَوْمِكَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،‏‏‏‏ قَالَتْ لَهُمَا:‏‏‏‏ كَانَ عَلِيٌّ مُسَلِّمًا فِي شَأْنِهَا فَرَاجَعُوهُ فَلَمْ يَرْجِعْ،‏‏‏‏ وَقَالَ مُسَلِّمًا بِلَا شَكٍّ فِيهِ وَعَلَيْهِ كَانَ فِي أَصْلِ الْعَتِيقِ كَذَلِكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: واقعہ افک کا بیان۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے ابو وائل شقیق بن سلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ام رومان (رض) نے بیان کیا ‘ وہ عائشہ (رض) کی والدہ ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ (رض) بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک انصاری خاتون آئیں اور کہنے لگیں کہ اللہ فلاں، فلاں کو تباہ کرے۔ ام رومان نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا بھی ان لوگوں کے ساتھ شریک ہوگیا ہے۔ جنہوں نے اس طرح کی بات کی ہے۔ ام رومان (رض) نے پوچھا کہ آخر بات کیا ہے ؟ اس پر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی باتیں نقل کردیں۔ عائشہ (رض) نے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ نے بھی یہ باتیں سنیں ہیں ؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہاں۔ انہوں نے پوچھا اور ابوبکر (رض) نے بھی ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ‘ انہوں نے بھی۔ یہ سنتے ہی وہ غش کھا کر گرپڑیں اور جب ہوش آیا تو جاڑے کے ساتھ بخار چڑھا ہوا تھا۔ میں نے ان پر ان کے کپڑے ڈال دیئے اور اچھی طرح ڈھک دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ انہیں کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! جاڑے کے ساتھ بخار چڑھ گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ غالباً اس نے اس طوفان کی بات سن لی ہے۔ ام رومان (رض) نے کہا کہ جی ہاں۔ پھر عائشہ (رض) نے بیٹھ کر کہا کہ اللہ کی قسم ! اگر میں قسم کھاؤں کہ میں بےگناہ ہوں تو آپ لوگ میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر کچھ کہوں تب بھی میرا عذر نہیں سنیں گے۔ میری اور آپ لوگوں کی یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں جیسی مثال ہے کہ انہوں نے کہا تھا والله المستعان على ما تصفون یعنی اللہ ان باتوں پر جو تم بناتے ہو مدد کرنے والا ہے۔ ام رومان (رض) نے کہا : نبی کریم ﷺ عائشہ (رض) کی یہ تقریر سن کر لوٹ گئے ‘ کچھ جواب نہیں دیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کی تلافی نازل کی۔ وہ نبی کریم ﷺ سے کہنے لگیں بس میں اللہ ہی کا شکر ادا کرتی ہوں نہ آپ کا نہ کسی اور کا۔
حدیث نمبر: 4143 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ،‏‏‏‏ عَنْ حُصَيْنٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي وَائِلٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَهِيَ أُمُّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ بَيْنَا أَنَا قَاعِدَةٌ أَنَا وَعَائِشَةُ إِذْ وَلَجَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ فَعَلَ اللَّهُ بِفُلَانٍ وَفَعَلَ،‏‏‏‏ فَقَالَتْ أُمُّ رُومَانَ:‏‏‏‏ وَمَا ذَاكَ قَالَتِ ابْنِي فِيمَنْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ كَذَا وَكَذَا،‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَأَبُو بَكْرٍ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ فَخَرَّتْ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا فَمَا أَفَاقَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا حُمَّى بِنَافِضٍ،‏‏‏‏ فَطَرَحْتُ عَلَيْهَا ثِيَابَهَا فَغَطَّيْتُهَا،‏‏‏‏ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا شَأْنُ هَذِهِ ؟قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَتْهَا الْحُمَّى بِنَافِضٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَلَعَلَّ فِي حَدِيثٍ تُحُدِّثَ بِهِ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ فَقَعَدَتْ عَائِشَةُ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَئِنْ حَلَفْتُ لَا تُصَدِّقُونِي،‏‏‏‏ وَلَئِنْ قُلْتُ لَا تَعْذِرُونِي مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَيَعْقُوبَ وَبَنِيهِ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَانْصَرَفَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَهَا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِ أَحَدٍ وَلَا بِحَمْدِكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: واقعہ افک کا بیان۔
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ (رض) (سورۃ النور کی آیت میں) قرآت إذ تلقونه بألسنتکم‏ کرتی تھیں اور (اس کی تفسیر میں) فرماتی تھیں کہ الولق جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ (رض) ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔
حدیث نمبر: 4144 حَدَّثَنِي يَحْيَى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:‏‏‏‏ كَانَتْ تَقْرَأُ إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ سورة النور آية 15 وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ. قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ:‏‏‏‏ وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لِأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪৫
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: واقعہ افک کا بیان۔
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں عائشہ (رض) کے سامنے حسان بن ثابت (رض) کو برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ انہیں برا نہ کہو ‘ کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کفار کو جواب دیتے تھے اور عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مشرکین قریش کی ہجو کہنے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر میرے نسب کا کیا ہوگا ؟ حسان (رض) نے کہا کہ میں آپ کو ان سے اس طرح الگ کرلوں گا جیسے بال گندھے ہوئے آٹے سے کھینچ لیا جاتا ہے۔ اور محمد بن عقبہ (امام بخاری (رح) کے شیخ) نے بیان کیا ‘ ہم سے عثمان بن فرقد نے بیان کیا ‘ کہا میں نے ہشام سے سنا ‘ انہوں نے اپنے والد سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حسان بن ثابت (رض) کو برا بھلا کہا کیونکہ انہوں نے بھی عائشہ (رض) پر تہمت لگانے میں بہت حصہ لیا تھا۔
حدیث نمبر: 4145 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ،‏‏‏‏ عَنْ هِشَامٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ لَا تَسُبَّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَقَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ بِنَسَبِي ؟قَالَ:‏‏‏‏ لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ،‏‏‏‏ سَمِعْتُ هِشَامًا،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَبَبْتُ حَسَّانَ وَكَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَيْهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: واقعہ افک کا بیان۔
مجھ سے بشر بن خالد نے بیان کیا ‘ ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہیں سلیمان نے ‘ انہیں ابوالضحیٰ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ہم عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے یہاں حسان بن ثابت (رض) موجود تھے اور ام المؤمنین (رض) کو اپنے اشعار سنا رہے تھے۔ ایک شعر تھا جس کا ترجمہ یہ ہے۔ وہ سنجیدہ اور پاک دامن ہیں جس پر کبھی تہمت نہیں لگائی گئی ‘ وہ ہر صبح بھوکی ہو کر نادان بہنوں کا گوشت نہیں کھاتی۔ اس پر عائشہ (رض) نے کہا لیکن تم تو ایسے نہیں ثابت ہوئے۔ مسروق نے بیان کیا کہ پھر میں نے عائشہ (رض) سے عرض کیا ‘ آپ انہیں اپنے یہاں آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرما چکا ہے والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم‏ اور ان میں وہ شخص جو تہمت لگانے میں سب سے زیادہ ذمہ دار ہے اس کے لیے بڑا عذاب ہوگا۔ اس پر ام المؤمنین نے فرمایا کہ نابینا ہوجانے سے سخت عذاب اور کیا ہوگا (حسان (رض) کی بصارت آخر عمر میں چلی گئی تھی) عائشہ (رض) نے ان سے کہا کہ حسان (رض) رسول اللہ ﷺ کی حمایت کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 4146 حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ،‏‏‏‏ عَنْ شُعْبَةَ،‏‏‏‏ عَنْ سُلَيْمَانَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الضُّحَى،‏‏‏‏ عَنْ مَسْرُوقٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ وَقَالَ:‏‏‏‏ حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ لَكِنَّكَ لَسْتَ كَذَلِكَ،‏‏‏‏ قَالَ مَسْرُوقٌ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكِ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ سورة النور آية 11 فَقَالَتْ:‏‏‏‏ وَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى،‏‏‏‏ قَالَتْ لَهُ:‏‏‏‏ إِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے زید بن خالد (رض) نے بیان کیا کہ حدیبیہ کے سال ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ایک دن، رات کو بارش ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز پڑھانے کے بعد ہم سے خطاب کیا اور دریافت فرمایا کہ معلوم ہے تمہارے رب نے کیا کہا ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبح ہوئی تو میرے کچھ بندوں نے اس حالت میں صبح کی کہ ان کا ایمان مجھ پر تھا اور کچھ نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ میرا انکار کئے ہوئے تھے۔ تو جس نے کہا کہ ہم پر یہ بارش اللہ کے رزق ‘ اللہ کی رحمت اور اللہ کے فضل سے ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستارے کا انکار کرنے والا ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ بارش فلاں ستارے کی تاثیر سے ہوئی ہے تو وہ ستاروں پر ایمان لانے والا اور میرے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔
حدیث نمبر: 4147 حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ،‏‏‏‏ فَأَصَابَنَا مَطَرٌ ذَاتَ لَيْلَةٍ،‏‏‏‏ فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ،‏‏‏‏ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟قُلْنَا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ قَالَ اللَّهُ:‏‏‏‏ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِي،‏‏‏‏ فَأَمَّا مَنْ قَالَ:‏‏‏‏ مُطِرْنَا بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَبِرِزْقِ اللَّهِ وَبِفَضْلِ اللَّهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ،‏‏‏‏ وَأَمَّا مَنْ قَالَ:‏‏‏‏ مُطِرْنَا بِنَجْمِ كَذَا فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ كَافِرٌ بِي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪৮
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ انہیں انس بن مالک (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کئے اور سوا اس عمرے کے جو آپ ﷺ نے حج کے ساتھ کیا ‘ تمام عمرے ذیقعدہ (کے مہینے) میں کئے۔ حدیبیہ کا عمرہ بھی آپ ﷺ ذی قعدہ (کے مہینے) میں کرنے تشریف لے گئے پھر دوسرے سال (اس کی قضاء میں) آپ نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا اور ایک عمرہ جعرانہ سے آپ نے کیا تھا ‘ جہاں غزوہ حنین کی غنیمت آپ نے تقسیم کی تھی۔ یہ بھی ذی قعدہ میں کیا تھا اور ایک عمرہ حج کے ساتھ کیا (جو ذی الحجہ میں کیا تھا) ۔
حدیث نمبر: 4148 حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ أَخْبَرَهُ قَالَ:‏‏‏‏ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلَّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ،‏‏‏‏ إِلَّا الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةً مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ،‏‏‏‏ وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ،‏‏‏‏ وَعُمْرَةً مِنْ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صلح حدیبیہ کے سال روانہ ہوئے ‘ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے احرام باندھ لیا تھا لیکن میں نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا۔
حدیث نمبر: 4149 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ عَنْ يَحْيَى،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ،‏‏‏‏ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ انْطَلَقْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ أُحْرِمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے ابواسحاق نے ان سے براء بن عازب (رض) نے کہا کہ ‘ تم لوگ (سورۃ انا فتحنا میں) فتح سے مراد مکہ کی فتح لیتے ہو۔ فتح مکہ تو بہرحال فتح ہی تھی لیکن ہم غزوہ حدیبیہ کی بیعت رضوان کو حقیقی فتح سمجھتے ہیں۔ اس دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چودہ سو آدمی تھے۔ حدیبیہ نامی ایک کنواں وہاں پر تھا ‘ ہم نے اس میں سے اتنا پانی کھینچا کہ اس کے اندر ایک قطرہ بھی پانی باقی نہ رہا۔ نبی کریم ﷺ کو جب یہ خبر ہوئی (کہ پانی ختم ہوگیا ہے) تو آپ ﷺ کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر کسی ایک برتن میں پانی طلب فرمایا۔ اس سے آپ ﷺ نے وضو کیا اور کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر سارا پانی اس کنویں میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم نے کنویں کو یوں ہی رہنے دیا اور اس کے بعد جتنا ہم نے چاہا اس میں سے پانی پیا اور اپنی سواریوں کو پلایا۔
حدیث نمبر: 4150 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ عَنْ إِسْرَائِيلَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،‏‏‏‏ عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا،‏‏‏‏ وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ،‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا،‏‏‏‏ فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً،‏‏‏‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهَا فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا،‏‏‏‏ ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ،‏‏‏‏ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا،‏‏‏‏ ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ إِنَّهَا أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ وَرِكَابَنَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫১
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا ‘ ہم سے حسن بن محمد بن اعین ابوعلی حرانی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا کہ ہمیں براء بن عازب (رض) نے خبر دی کہ وہ لوگ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہزار چار سو کی تعداد میں تھے یا اس سے بھی زیادہ۔ ایک کنویں پر پڑاؤ ہوا لشکر نے اس کا (سارا) پانی کھینچ لیا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم ﷺ کنویں کے پاس تشریف لائے اور اس کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ ایک ڈول میں اسی کنویں کا پانی لاؤ۔ پانی لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس میں کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر فرمایا کہ کنویں کو یوں ہی تھوڑی دیر کے لیے رہنے دو ۔ اس کے بعد سارا لشکر خود بھی سیراب ہوتا رہا اور اپنی سواریوں کو بھی خوب پلاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہاں سے انہوں نے کوچ کیا۔
حدیث نمبر: 4151 حَدَّثَنِي فَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَرَّانِيّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:‏‏‏‏ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ أَوْ أَكْثَرَ،‏‏‏‏ فَنَزَلُوا عَلَى بِئْرٍ فَنَزَحُوهَا،‏‏‏‏ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَأَتَى الْبِئْرَ وَقَعَدَ عَلَى شَفِيرِهَا،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ ائْتُونِي بِدَلْوٍ مِنْ مَائِهَا،‏‏‏‏ فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ فَدَعَا ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ دَعُوهَا سَاعَةً،‏‏‏‏ فَأَرْوَوْا أَنْفُسَهُمْ وَرِكَابَهُمْ حَتَّى ارْتَحَلُوا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے ‘ کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر (رض) نے بیان کیا کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر سارا ہی لشکر پیاسا ہوچکا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک چھاگل تھا ‘ اس کے پانی سے آپ نے وضو کیا۔ پھر صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے ؟ صحابہ بولے کہ یا رسول اللہ ! ہمارے پاس اب پانی نہیں رہا ‘ نہ وضو کرنے کے لیے اور نہ پینے کے لیے۔ سوا اس پانی کے جو آپ کے برتن میں موجود ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھا اور پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشمے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر ابلنے لگا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم نے پانی پیا بھی اور وضو بھی کیا۔ (سالم کہتے ہیں کہ) میں نے جابر (رض) سے پوچھا کہ آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے ؟ انہوں نے بتلایا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو بھی وہ پانی کافی ہوجاتا۔ ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔
حدیث نمبر: 4152 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ،‏‏‏‏ عَنْ سَالِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا،‏‏‏‏ ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ نَحْوَهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا لَكُمْ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا فِي رَكْوَتِكَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا،‏‏‏‏ فَقُلْتُ لِجَابِرٍ:‏‏‏‏ كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے کہ میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا ‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ جابر (رض) کہا کرتے تھے کہ (حدیبیہ کی صلح کے موقع پر) صحابہ کی تعداد چودہ سو تھی۔ اس پر سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ مجھ سے جابر (رض) نے یہ کہا تھا اس موقع پر پندرہ سو صحابہ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے حدیبیہ میں بیعت کی تھی۔ ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، ہم سے قرۃ بن خالد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور محمد بن بشار نے بھی ابوداؤد طیالسی کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4153 حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،‏‏‏‏ بَلَغَنِي أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ كَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانُوا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً،‏‏‏‏ فَقَالَ لِي سَعِيدٌ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي جَابِرٌ:‏‏‏‏ كَانُوا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً الَّذِينَ بَايَعُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ. تَابَعَهُ أَبُو دَاوُدَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا قُرَّةُ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৪
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے غزوہ حدیبیہ کے موقع پر فرمایا تھا کہ تم لوگ تمام زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔ ہماری تعداد اس موقع پر چودہ سو تھی۔ اگر آج میری آنکھوں میں بینائی ہوتی تو میں تمہیں اس درخت کا مقام دکھاتا۔ اس روایت کی متابعت اعمش نے کی، ان سے سالم نے سنا اور انہوں نے جابر (رض) سے سنا کہ چودہ سو صحابہ غزوہ حدیبیہ میں تھے۔ اور عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ ان سے عبداللہ بن ابی اوفی (رض) نے بیان کیا کہ درخت والوں (بیعت رضوان کرنے والوں) کی تعداد تیرہ سو تھی۔ قبیلہ اسلم مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔ اس روایت کی متابعت محمد بن بشار نے کی ‘ ان سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا اور ان سے شعبہ نے۔
حدیث نمبر: 4154 حَدَّثَنَا عَلِيٌّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ قَالَ عَمْرٌو،‏‏‏‏ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ:‏‏‏‏ أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ،‏‏‏‏ وَكُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ وَلَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ الْيَوْمَ لَأَرَيْتُكُمْ مَكَانَ الشَّجَرَةِ. تَابَعَهُ الْأَعْمَشُ،‏‏‏‏ سَمِعَ سَالِمًا،‏‏‏‏ سَمِعَ جَابِرًا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ . حدیث نمبر: 4155 وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،‏‏‏‏ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:‏‏‏‏ كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ،‏‏‏‏ وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ. تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৬
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ‘ انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ انہیں قیس بن ابی حازم نے اور انہوں نے مرداس اسلمی (رض) سے سنا ‘ وہ اصحاب شجرہ (غزوہ حدیبیہ میں شریک ہونے والوں) میں سے تھے ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ پہلے صالحین قبض کئے جائیں گے۔ جو زیادہ صالح ہوگا اس کی روح سب سے پہلے اور جو اس کے بعد کے درجے کا ہوگا اس کی اس کے بعد پھر ردی اور بےکار کھجور اور جَو کی طرح بےکار لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی اللہ کے نزدیک کوئی قدر نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 4156 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عِيسَى،‏‏‏‏ عَنْ إِسْمَاعِيلَ،‏‏‏‏ عَنْ قَيْسٍ أَنَّهُ،‏‏‏‏ سَمِعَ مِرْدَاسًا الْأَسْلَمِيَّ،‏‏‏‏ يَقُولُ،‏‏‏‏ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ:‏‏‏‏ يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ،‏‏‏‏ وَتَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৭
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے عروہ نے ‘ ان سے خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اور ان پر نشان لگایا اور عمرہ کا احرام باندھا۔ میں نہیں شمار کرسکتا کہ میں نے یہ حدیث سفیان بن یسار سے کتنی دفعہ سنی اور ایک مرتبہ یہ بھی سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ مجھے زہری سے نشان لگانے اور قلادہ پہنانے کے متعلق یاد نہیں رہا۔ اس لیے میں نہیں جانتا ‘ اس سے ان کی مراد صرف نشان لگانے اور قلادہ پہنانے سے تھی یا پوری حدیث سے تھی۔
حدیث نمبر: 4157 - 4158 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ عَنْ الزُّهْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ عُرْوَةَ،‏‏‏‏ عَنْ مَرْوَانَ، ‏‏‏‏‏‏والْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ،‏‏‏‏ فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا،‏‏‏‏ لَا أُحْصِي كَمْ سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ حَتَّى سَمِعْتُهُ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا أَحْفَظُ مِنْ الزُّهْرِيِّ الْإِشْعَارَ وَالتَّقْلِيدَ،‏‏‏‏ فَلَا أَدْرِي يَعْنِي مَوْضِعَ الْإِشْعَارِ وَالتَّقْلِيدِ،‏‏‏‏ أَوِ الْحَدِيثَ كُلَّهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৯
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے حسن بن خلف نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے اسحاق بن یوسف نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبشر ورقاء بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی نجیح نے ‘ ان سے مجاہد نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے کعب بن عجرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا کہ جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا اس سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے ؟ وہ بولے کہ جی ہاں ‘ اس پر آپ ﷺ نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دیا۔ آپ اس وقت حدیبیہ میں تھے (عمرہ کے لیے احرام باندھے ہوئے) اور ان کو یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ عمرہ سے روکے جائیں گے۔ حدیبیہ ہی میں ان کو احرام کھول دینا پڑے گا۔ بلکہ ان کی تو یہ آرزو تھی کہ مکہ میں کسی طرح داخل ہوا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمایا (یعنی احرام کی حالت میں) سر منڈوانے وغیرہ پر ‘ اس وقت آپ ﷺ نے کعب کو حکم دیا کہ ایک فرق اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری کی قربانی کریں یا تین دن روزے رکھیں۔
حدیث نمبر: 4159 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي بِشْرٍ وَرْقَاءَ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُجَاهِدٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى،‏‏‏‏ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ،‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ،‏‏‏‏ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ،‏‏‏‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ،‏‏‏‏ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ،‏‏‏‏ أَوْ يُهْدِيَ شَاةً،‏‏‏‏ أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬০
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک (رح) نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ بازار گیا۔ عمر (رض) سے ایک نوجوان عورت نے ملاقات کی اور عرض کیا کہ امیرالمؤمنین ! میرے شوہر کی وفات ہوگئی ہے اور چند چھوٹی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ کی قسم کہ اب نہ ان کے پاس بکری کے پائے ہیں کہ ان کو پکا لیں، نہ کھیتی ہے ‘ نہ دودھ کے جانور ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ فقر و فاقہ سے ہلاک نہ ہوجائیں۔ میں خفاف بن ایماء غفاری (رض) کی بیٹی ہوں۔ میرے والد نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے۔ یہ سن کر عمر (رض) ان کے پاس تھوڑی دیر کے لیے کھڑے ہوگئے ‘ آگے نہیں بڑھے۔ پھر فرمایا ‘ مرحبا ‘ تمہارا خاندانی تعلق تو بہت قریبی ہے۔ پھر آپ ایک بہت قوی اونٹ کی طرف مڑے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اس پر دو بورے غلے سے بھرے ہوئے رکھ دیئے۔ ان دونوں بوروں کے درمیان روپیہ اور دوسری ضرورت کی چیزیں اور کپڑے رکھ دیئے اور اس کی نکیل ان کے ہاتھ میں تھما کر فرمایا کہ اسے لے جا ‘ یہ ختم نہ ہوگا اس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ تجھے اس سے بہتر دے گا۔ ایک صاحب نے اس پر کہا ‘ اے امیرالمؤمنین ! آپ نے اسے بہت دے دیا۔ عمر (رض) نے کہا ‘ تیری ماں تجھے روئے ‘ اللہ کی قسم ! اس عورت کے والد اور اس کے بھائی جیسے اب بھی میری نظروں کے سامنے ہیں کہ ایک مدت تک ایک قلعہ کے محاصرے میں وہ شریک رہے ‘ آخر اسے فتح کرلیا۔ پھر ہم صبح کو ان دونوں کا حصہ مال غنیمت سے وصول کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 4160 - 4161 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ،‏‏‏‏ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى السُّوقِ،‏‏‏‏ فَلَحِقَتْ عُمَرَ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ،‏‏‏‏ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلَكَ زَوْجِي وَتَرَكَ صِبْيَةً صِغَارًا وَاللَّهِ مَا يُنْضِجُونَ كُرَاعًا،‏‏‏‏ وَلَا لَهُمْ زَرْعٌ وَلَا ضَرْعٌ وَخَشِيتُ أَنْ تَأْكُلَهُمُ الضَّبُعُ وَأَنَا بِنْتُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ الْغِفَارِيِّ وَقَدْ شَهِدَ أَبِي الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَوَقَفَ مَعَهَا عُمَرُ وَلَمْ يَمْضِ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ مَرْحَبًا بِنَسَبٍ قَرِيبٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَعِيرٍ ظَهِيرٍ كَانَ مَرْبُوطًا فِي الدَّارِ،‏‏‏‏ فَحَمَلَ عَلَيْهِ غِرَارَتَيْنِ مَلَأَهُمَا طَعَامًا،‏‏‏‏ وَحَمَلَ بَيْنَهُمَا نَفَقَةً وَثِيَابًا،‏‏‏‏ ثُمَّ نَاوَلَهَا بِخِطَامِهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اقْتَادِيهِ فَلَنْ يَفْنَى حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِخَيْرٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَكْثَرْتَ لَهَا،‏‏‏‏ قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ،‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى أَبَا هَذِهِ وَأَخَاهَا قَدْ حَاصَرَا حِصْنًا زَمَانًا،‏‏‏‏ فَافْتَتَحَاهُ ثُمَّ أَصْبَحْنَا نَسْتَفِيءُ سُهْمَانَهُمَا فِيهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬২
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعمرو شبابہ بن سوار فزاری نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد (مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں نے وہ درخت دیکھا تھا لیکن پھر بعد میں جب آیا تو میں اسے نہیں پہچان سکا۔ محمود نے بیان کیا کہ پھر بعد میں وہ درخت مجھے یاد نہیں رہا تھا۔
حدیث نمبر: 4162 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو عَمْرٍو الْفَزَارِيّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬৩
غزوات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے طارق بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ حج کے ارادے سے جاتے ہوئے میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون سی مسجد ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان لی تھی۔ پھر میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور میں نے انہیں اس کی خبر دی ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد مسیب بن حزن نے بیان کیا ‘ وہ ان لوگوں میں تھے جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے جب میں دوسرے سال وہاں گیا تو اس درخت کی جگہ کو بھول گیا۔ سعید نے کہا نبی کریم ﷺ کے اصحاب تو اس درخت کو پہچان نہ سکے۔ تم لوگوں نے کیسے پہچان لیا (اس کے تلے مسجد بنا لی) تم ان سے زیادہ علم والے ٹھہرے۔
حدیث نمبر: 4163 حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ إِسْرَائِيلَ،‏‏‏‏ عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ انْطَلَقْتُ حَاجًّا فَمَرَرْتُ بِقَوْمٍ يُصَلُّونَ قُلْتُ:‏‏‏‏ مَا هَذَا الْمَسْجِدُ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ هَذِهِ الشَّجَرَةُ حَيْثُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ،‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ،‏‏‏‏ فَأَخْبَرْتُهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ سَعِيدٌ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ نَسِينَاهَا فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهَا،‏‏‏‏ فَقَالَ سَعِيدٌ:‏‏‏‏ إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْلَمُوهَا وَعَلِمْتُمُوهَا أَنْتُمْ،‏‏‏‏ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ.
tahqiq

তাহকীক: