আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

مرتد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪ টি

হাদীস নং: ১৬৮৮৩
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد سے توبہ کا کہا جائے گا اگر نہیں کرتا تو قتل کردیا جائے گا
(١٦٨٧٧) ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو ۔
(۱۶۸۷۷) اسْتِدْلاَلاً بِظَاہِرِ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : مَنْ بَدَّلَ دِینَہُ فَاقْتُلُوہُ ۔

وَرُوِّینَاہُ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ وَرُوِّینَا مَعْنَاہُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৮৪
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد سے توبہ کا کہا جائے گا اگر نہیں کرتا تو قتل کردیا جائے گا
(١٦٨٧٨) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے سر پر مغفر تھی تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ ! ابن خطل کعبہ کے پردے سے لٹکا ہوا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے قتل کر دو ۔
(۱۶۸۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ الشِّیرَازِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ ابْنُ شِہَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مَکَّۃَ وَعَلَی رَأْسِہِ مِغْفَرٌ فَلَمَّا نَزَعَہُ جَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اقْتُلُوہُ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৮৫
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد سے توبہ کا کہا جائے گا اگر نہیں کرتا تو قتل کردیا جائے گا
(١٦٨٧٩) حضرت سعد فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی (رض) نے چار مردوں اور دو عورتوں کے علاوہ تمام کو امن دے دیا اور ان کے بارے میں فرمایا : اگر یہ کعبہ کے پردے سے بھی چمٹے ہوں تب بھی انھیں قتل کر دو ۔ وہ چار یہ ہیں : عکرمہ بن ابی جہل، ابن خطل، مقیس بن حبابہ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح۔ ان میں ابن خطل کعبہ کے پردے سے چمٹا مل گیا تو عمار بن یاسر اور سعید بن زید اس کی طرف دوڑے۔ عمار نوجوان تھے اس لیے انھوں نے اسے پہنچ کر قتل کردیا۔ مقیس بن صبابہ کو بازار میں لوگوں نے قتل کردیا۔ عکرمہ سمندر میں سفر پر چلا گیا کہ کشتی ڈوبنے لگی تو لوگ کہنے لگے : خالص ہو کر اللہ کو پکارو تمہارے معبود تمہیں نہیں بچا سکتے۔ تو عکرمہ کہنے لگے : جو سمندر میں نہیں بچا سکتے تو پھر خشکی پر کیسے بچائیں گے تو اس نے دعا کی : اے اللہ ! میرا تیرے ساتھ عہد ہے اگر تو نے مجھے عافیت دی تو میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں ہاتھ دوں گا اور ان کو میں درگزر کرنے والا کریم پاؤں گا۔ تو یہ آئے اور مسلمان ہوگئے۔ اور جو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے حضرت عثمان کے پاس پناہ لی۔ وہ اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے کہ آپ کی بیعت کرلیں۔ آپ نے اپنا سر اٹھایا اور تین مرتبہ انکار کیا۔ پھر بیعت کرلی، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ کیا تم میں کوئی سمجھ دار آدمی نہیں ہے۔ میں نے اس سے بیعت کو اس لیے روکا کہ کوئی اسے قتل کر دے تو انھوں نے کہا : یا رسول اللہ ہمیں کیا پتہ تھا کہ آپ کے دل میں کیا ہے ؟ آنکھ سے اشارہ کردیتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آنکھ سے اشارہ کرنا کسی نبی کی شان نہیں ہے۔
(۱۶۸۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ زَعَمَ السُّدِّیُّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ آمَنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النَّاسَ إِلاَّ أَرْبَعَۃَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَیْنِ وَقَالَ : اقْتُلُوہُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوہُمْ مُتَعَلِّقِینَ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ عِکْرِمَۃُ بْنُ أَبِی جَہْلٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ خَطَلٍ وَمِقْیَسُ بْنُ صُبَابَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ ۔ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ خَطَلٍ فَأُدْرِکَ وَہُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ فَاسْتَبَقَ إِلَیْہِ سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ وَعَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ فَسَبَقَ سَعِیدٌ عَمَّارًا وَکَانَ أَشَبَّ الرَّجُلَیْنِ فَقَتَلَہُ وَأَمَّا مِقْیَسُ بْنُ صُبَابَۃَ فَأَدْرَکَہُ النَّاسُ فِی السُّوقِ فَقَتَلُوہُ وَأَمَّا عِکْرِمَۃُ فَرَکِبَ الْبَحْرَ فَأَصَابَتْہُمْ عَاصِفٌ فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِینَۃِ لأَہْلِ السَّفِینَۃِ أَخْلِصُوا فَإِنَّ آلِہَتَکُمْ لاَ تُغْنِی عَنْکُمْ شَیْئًا ہَا ہُنَا قَالَ عِکْرِمَۃُ : وَاللَّہِ لَئِنْ لَمْ یُنَجِّنِی فِی الْبَحْرِ إِلاَّ الإِخْلاَصُ لاَ یُنَجِّینِی فِی الْبَرِّ غَیْرُہُ اللَّہُمَّ إِنَّ لَکَ عَلَیَّ عَہْدًا إِنْ أَنْتَ عَافَیْتَنِی مِمَّا أَنَا فِیہِ أَنْ آتِیَ مُحَمَّدًا حَتَّی أَضَعَ یَدِی فِی یَدِہِ فَلأَجِدَنَّہُ عَفُوًّا کَرِیمًا قَالَ فَجَائَ فَأَسْلَمَ وَأَمَّا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ فَإِنَّہُ اخْتَفَی عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- النَّاسَ إِلَی الْبَیْعَۃِ جَائَ بِہِ حَتَّی أَوْقَفَہُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ بَایِعْ عَبْدَ اللَّہِ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَنَظَرَ إِلَیْہِ ثَلاَثًا کُلَّ ذَلِکَ یَأْبَی فَبَایَعَہُ بَعْدَ ثَلاَثٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی أَصْحَابِہِ فَقَالَ : أَمَا کَانَ فِیکُمْ رَجُلٌ رَشِیدٌ یَقُومُ إِلَی ہَذَا حِینَ رَآنِی کَفَفْتُ یَدِی عَنْ بَیْعَتِہِ فَیَقْتُلُہُ؟ فَقَالُوا : مَا یُدْرِینَا یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا فِی نَفْسِکَ ہَلاَّ أَوْمَأْتَ إِلَیْنَا بِعَیْنِکَ قَالَ : إِنَّہُ لاَ یَنْبَغِی لِنَبِیٍّ أَنْ تَکُونَ لَہُ خَائِنَۃُ الأَعْیُنِ ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৮৬
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد سے توبہ کا کہا جائے گا اگر نہیں کرتا تو قتل کردیا جائے گا
(١٦٨٨٠) ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ابن ابی سرح کاتب رسول تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اور اس کے ساتھ دو انصاری بھیجے اور ایک غلام دیا کہ ابن خطل کو قتل کر آؤ۔ راستے میں اس نے غلام کو کہا کہ ایک جانور ذبح کرو اور کھانا بناؤ۔ یہ سو گئے جب بیدار ہوئے تو کھانا تیار نہیں تھا اس نے غلام کو مارا اور قتل کردیا اور خود مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملا۔ اس کی دو عورتیں ساتھی بھی تھیں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو گایا کرتی تھیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ساتھ ان کے قتل کا بھی حکم دیا۔
(۱۶۸۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : إِنَّمَا أَمَرَ بِابْنِ أَبِی سَرْحٍ لأَنَّہُ کَانَ قَدْ أَسْلَمَ وَکَانَ یَکْتُبُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْوَحْیَ فَرَجَعَ مُشْرِکًا وَلَحِقَ بِمَکَّۃَ وَإِنَّمَا أَمَرَ بِقَتْلِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَطَلٍ لأَنَّہُ کَانَ مُسْلِمًا فَبَعَثَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُصَدِّقًا وَبَعَثَ مَعَہُ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَ مَعَہُ مَوْلًی یَخْدُمُہُ وَکَانَ مُسْلِمًا فَنَزَلَ مَنْزِلاً فَأَمَرَ الْمَوْلَی أَنْ یَذْبَحَ تَیْسًا وَیَصْنَعَ لَہُ طَعَامًا وَنَامَ فَاسْتَیْقَظَ وَلَمْ یَصْنَعْ لَہُ شَیْئًا فَعَدَا عَلَیْہِ فَقَتَلَہُ ثُمَّ ارْتَدَّ مُشْرِکًا وَکَانَتْ لَہُ قَیْنَۃٌ وَصَاحِبَتُہَا فَکَانَتَا تُغَنِّیَانِ بِہِجَائِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَمَرَ بِقَتْلِہِمَا مَعَہُ۔[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৮৭
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد سے توبہ کا کہا جائے گا اگر نہیں کرتا تو قتل کردیا جائے گا
(١٦٨٨١) تقدم برقم ١٦٨٢٢
(۱۶۸۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ ہِلاَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ : أَقْبَلْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَمَعِی رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِیِّینَ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ فَبَعَثَہُ عَلَی الْیَمَنِ ثُمَّ أَتْبَعَہُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَیْہِ أَلْقَی لَہُ وِسَادَۃً وَقَالَ : انْزِلْ فَإِذَا عِنْدَہُ رَجُلٌ مُوثَقٌ قَالَ : مَا ہَذَا؟ قَالَ ہَذَا کَانَ یَہُودِیًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ رَاجَعَ دِینَہُ دِینَ السَّوْئِ فَتَہَوَّدَ۔ فَقَالَ : لاَ أَجْلِسُ حَتَّی یُقْتَلَ قَضَائُ اللَّہِ وَرَسُولِہِ -ﷺ-۔ قَالَ : نَعَمْ اجْلِسْ۔ قَالَ : لاَ أَجْلِسُ حَتَّی یُقْتَلَ قَضَائُ اللَّہِ وَرَسُولِہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالَ : فَأَمَرَ بِہِ فَقُتِلَ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الْقَطَّانِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৮৮
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد سے توبہ کا کہا جائے گا اگر نہیں کرتا تو قتل کردیا جائے گا
(١٦٨٨٢) ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ یمن آئے تو ایک یہودی مسلمان ہوا اور پھر مرتد ہوگیا۔ جب معاذ آئے تو انھوں نے کہا کہ میں اپنے جانور سے اس وقت تک نہیں اتروں گا جب تک اسے قتل نہ کر دوں تو اسے قتل کردیا گیا۔
(۱۶۸۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا الْحِمَّانِیُّ یَعْنِی عَبْدَ الْحَمِیدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیَی وَبُرَیْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ : قَدِمَ عَلَیَّ مُعَاذٌ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ وَأَنَا بِالْیَمَنِ وَرَجُلٌ کَانَ یَہُودِیًّا فَأَسْلَمَ فَارْتَدَّ عَنِ الإِسْلاَمِ فَلَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ قَالَ : لاَ أَنْزِلُ عَنْ دَابَّتِی حَتَّی یُقْتَلَ فَقُتِلَ قَالَ أَحَدُہُمَا وَکَانَ قَدِ اسْتُتِیبَ قَبْلَ ذَلِکَ۔

[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৮৯
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد سے توبہ کا کہا جائے گا اگر نہیں کرتا تو قتل کردیا جائے گا
(١٦٨٨٣) ابو بردہ سابقہ حدیث کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ شخص ابو موسیٰ کے پاس لایا گیا، آپ نے تقریباً بیس راتیں اسے دعوت دی ۔ پھر حضرت معاذ آئے، انھوں نے بھی دعوت اسلام دی، لیکن اس نے انکار کیا تو اسے قتل کردیا۔

شیخ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ روایت کی گئی کہ حضرت ابوبکر نے حضرت خالد بن ولید کو کہا تھا کہ پہلے ان پر اسلام پیش کرنا اگر مان جائیں تو ٹھیک ورنہ قتل کردینا۔
(۱۶۸۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا حَفْصٌ حَدَّثَنَا الشَّیْبَانِیُّ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بِہَذِہِ الْقِصَّۃِ قَالَ : فَأُتِی أَبُو مُوسَی بِرَجُلٍ قَدِ ارْتَدَّ عَنِ الإِسْلاَمِ فَدَعَاہُ عِشْرِینَ لَیْلَۃً أَوْ قَرِیبًا مِنْہَا فَجَائَ مُعَاذٌ فَدَعَاہُ فَأَبَی فَضَرَبَ عُنُقَہُ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاہُ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ لَمْ یَذْکُرِ الاِسْتِتَابَۃَ۔

وَرَوَاہُ ابْنُ فُضَیْلٍ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی مُوسَی لَمْ یَذْکُرْ فِیہِ الاِسْتِتَابَۃَ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ أَمَرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ حِینَ بَعَثَہُ إِلَی مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ أَنْ یَدْعُوَہُمْ بِدِعَایَۃِ الإِسْلاَمِ فَمَنْ أَجَابَہُ قُبِلَ ذَلِکَ مِنْہُ وَمَنْ لَمْ یُجِبْہُ إِلَی مَا دَعَاہُ إِلَیْہِ مِنَ الإِسْلاَمِ مِمَّنْ یَرْجِعُ عَنْہُ أَنْ یَقْتُلَہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৯০
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد سے توبہ کا کہا جائے گا اگر نہیں کرتا تو قتل کردیا جائے گا
(١٦٨٨٤) سلیمان بن موسیٰ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان مرتد کو تین مرتبہ دعوت دیتے تھے، پھر اسے قتل کرتے تھے۔
(۱۶۸۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی قَالَ کَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَدْعُو الْمُرْتَدَّ ثَلاَثَ مِرَارٍ ثُمَّ یَقْتُلُہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৯১
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد سے توبہ کا کہا جائے گا اگر نہیں کرتا تو قتل کردیا جائے گا
(١٦٨٨٥) عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں : میں حضرت علی (رض) کے ساتھ حاضر ہوا تو میرا ایک بھائی بنو عجل سے مستورد بن قبیصہ کو لایا گیا جو اسلام لانے کے بعد پھر نصرانی ہوگیا تھا۔ حضرت علی (رض) نے پوچھا کہ میں نے تیرے بارے میں کیا سنا ہے ! وہ کہنے لگا : کیا سنا ہے ؟ فرمایا : میں نے سنا ہے تو نصرانی ہوگیا ہے ؟ تو اس نے کہا : میں مسیح کے دین پر ہوں تو حضرت علی (رض) نے کہا : ان کے بارے میں تو کیا کہتا ہے ؟ تو اس نے چپکے سیبات کی تو حضرت علی (رض) نے اسے قتل کروا دیا تو میں نے اپنے ساتھ والے کو کہا : اس نے کیا کہا ؟ کہتے ہیں : اس نے کہا تھا کہ اس کا رب مسیح ہے۔
(۱۶۸۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَیْلٍ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَیْرٍ قَالَ : شَہِدْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأُتِیَ بِأَخِی بَنِی عِجْلٍ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ قَبِیصَۃَ تَنَصَّرَ بَعْدَ إِسْلاَمِہِ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَا حُدِّثْتُ عَنْکَ ؟ قَالَ : مَا حُدِّثْتَ عَنِّی؟ قَالَ : حُدِّثْتُ عَنْکَ أَنَّکَ تَنَصَّرْتَ۔ قَالَ : أَنَا عَلَی دِینِ الْمَسِیحِ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ وَأَنَا عَلَی دِینِ الْمَسِیحِ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : مَا تَقُولُ فِیہِ؟ فَتَکَلَّمَ بِکَلاَمٍ خَفِیَ عَلَیَّ فَقَالَ عَلِیٌّ : طَئُوہُ فَوُطِئَ حَتَّی مَاتَ۔ فَقُلْتُ لِلَّذِی یَلِینِی : مَا قَالَ؟ قَالَ : قَالَ الْمَسِیحُ رَبُّہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৯২
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد سے توبہ کا کہا جائے گا اگر نہیں کرتا تو قتل کردیا جائے گا
(١٦٨٨٦) حارثہ بن مضرب کہتے ہیں : میں نے عبداللہ بن مسعود کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ جب سلام پھیرا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ وہ بنو حنیفہ کی مسجد کی طرف گیا تھا۔ مسجد عبداللہ بن نواحہ کا مؤذن اس طرح اذان دے رہا تھا ” یَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابَ رَسُولُ اللَّہِ “ اہل مسجد نے بھی یہ بات سنی تو ایک جماعت تیار ہوگئی تو ابن مسعود نے فرمایا : ابن النواحہ اور اس کے ساتھیوں کو بلاؤ، ان کو بلایا گیا، میں بیٹھا تھا تو ابن مسعود نے ابن النواحہ کو کہا : تم کہاں سے قرآن پڑھتے ہو ؟ اس نے کہا : میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں۔ کہا : توبہ کرلے۔ اس نے انکار کیا تو قرظہ بن کعب انصاری کو حکم دے کر اسے قتل کروا دیا اور فرمایا : جسے پسند ہے کہ ابن نواحہ کو مقتول دیکھے، وہ بازار کی طرف چلا جائے۔ پھر باقی جماعت کے بارے میں پوچھا تو ان کے بھی قتل کا حکم دیا۔ جریر اور اشعث کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا : نہیں بلکہ انھیں توبہ کا کہا جائے تو ان سب نے توبہ کرلی اور ان کو چھوڑ دیا گیا۔
(۱۶۸۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ دُرُسْتَ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ : صَلَّیْتُ الْغَدَاۃَ مَعَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَجُلٌ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ انْتَہَی إِلَی مَسْجِدِ بَنِی حَنِیفَۃَ مَسْجِدِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ النَّوَّاحَۃِ فَسَمِعَ مُؤَذِّنَہُمْ یَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابَ رَسُولُ اللَّہِ وَأَنَّہُ سَمِعَ أَہْلَ الْمَسْجِدِ عَلَی ذَلِکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : مَنْ ہَا ہُنَا؟ فَوَثَبَ نَفَرٌ فَقَالَ : عَلَیَّ بِابْنِ النَّوَّاحَۃِ وَأَصْحَابِہِ۔ فَجِیئَ بِہِمْ وَأَنَا جَالِسٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ النَّوَّاحَۃِ : أَیْنَ مَا کُنْتَ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ : کُنْتُ أَتَّقِیکُمْ بِہِ۔ قَالَ : فَتُبْ۔ قَالَ : فَأَبَی قَالَ : فَأَمَرَ قَرَظَۃَ بْنَ کَعْبٍ الأَنْصَارِیَّ فَأَخْرَجَہُ إِلَی السُّوقِ فَضَرَبَ رَأْسَہُ قَالَ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ یَقُولُ : مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَنْظُرَ إِلَی ابْنِ النَّوَّاحَۃِ قَتِیلاً فِی السُّوقِ فَلْیَخْرُجْ فَلْیَنْظُرْ إِلَیْہِ قَالَ حَارِثَۃُ : فَکُنْتُ فِیمَنْ خَرَجَ فَإِذَا ہُوَ قَدْ جُرِّدَ ثُمَّ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِی أُولَئِکَ النَّفَرِ فَأَشَارَ عَلَیْہِ عَدِیُّ بْنُ حَاتِمٍ بِقَتْلِہِمْ فَقَامَ جَرِیرٌ وَالأَشْعَثُ فَقَالاَ لاَ بَلِ اسْتَتِبْہُمْ وَکَفِّلْہُمْ عَشَائِرَہُمْ فَاسْتَتَابَہُمْ فَتَابُوا فَکَفَّلَہُمْ عَشَائِرَہُمْ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৯৩
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کہتے ہیں کہ اسے تین دن تک قید رکھا جائے گا
(١٦٨٨٧) محمد بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ ابو موسیٰ کی طرف سے ایک آدمی حضرت عمر کے پاس آیا تو آپ نے اس سے کچھ لوگوں کے بارے میں سوال کیا، پھر فرمایا : کیا تم میں سے کسی کے پاس کوئی عجیب خبر ہے ؟ کہا : ہاں ایک شخص نے اسلام لانے کے بعد کفر کرلیا۔ پوچھا : پھر تم نے اس کے ساتھ کیا کیا ؟ کہا : ہم نے اسے قتل کردیا تو عمر (رض) نے فرمایا : تم نے اسے قید کیوں نہ کیا تین دین اسے کھلاتے پلاتے اسلام پیش کرتے شاید وہ اللہ کے امر کی طرف لوٹ آتا۔ اے اللہ ! نہ میں حاضر تھا، نہ میں نے اس کا حکم دیا اور نہ میں اس پر راضی ہوں۔
(۱۶۸۸۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ أَبِی مُوسَی فَسَأَلَہُ عَنِ النَّاسِ فَأَخْبَرَہُ ثُمَّ قَالَ : ہَلْ کَانَ فِیکُمْ مِنْ مُغَرِّبَۃِ خَبَرٍ؟ فَقَالَ : نَعَمْ رَجُلٌ کَفَرَ بَعْدَ إِسْلاَمِہِ۔ قَالَ : فَمَا فَعَلْتُمْ بِہِ؟ قَالَ : قَرَّبْنَاہُ فَضَرَبْنَا عُنُقَہُ قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَہَلاَّ حَبَسْتُمُوہُ ثَلاَثًا وَأَطْعَمْتُمُوہُ کُلَّ یَوْمٍ رَغِیفًا وَاسْتَتَبْتُمُوہُ لَعَلَّہُ یَتُوبَ أَوْ یُرَاجِعَ أَمْرَ اللَّہِ اللَّہُمَّ إِنِّی لَمْ أْحْضُرْ وَلَمْ آمُرْ وَلَمْ أَرْضَ إِذْ بَلَغَنِی۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْکِتَابِ : وَمَنْ قَالَ لاَ یُتَأَنَّی بِہِ زَعَمَ أَنَّ الْحَدِیثَ الَّذِی رُوِیَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَوْ حَبَسْتُمُوہُ ثَلاَثًا لَیْسَ بِثَابِتٍ لأَنَّہُ لاَ یَعْلَمُہُ مُتَّصِلاً وَإِنْ کَانَ ثَابِتًا کَانَ لَمْ یَجْعَلْ عَلَی مَنْ قَتَلَہُ قَبْلَ ثَلاَثٍ شَیْئًا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৯৪
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کہتے ہیں کہ اسے تین دن تک قید رکھا جائے گا
(١٦٨٨٨) حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب ہم تستر پر اترے۔۔۔ پھر فتح کے بارے میں لمبی حدیث ذکر فرمائی اور فرمایا کہ ہم حضرت عمر (رض) کے پاس آئے تو انھوں نے فرمایا : اے انس ! ان بکر بن وائل کے چھ لوگوں کا کیا بنا جو مرتد ہوئے تھے ؟ کہتے ہیں : میں نے انھیں دوسری بات میں مشغول کرنا چاہا لیکن انھوں نے پھر یہی سوال کرلیا تو میں نے کہا : وہ معرکہ میں مارے گئے۔ کہا : ” انا للہ و انا الیہ راجعون۔ “ میں نے کہا : اے امیر امؤمنین ! کیا کوئی اور بھی ان کا راستہ تھا ؟ فرمایا : ہاں میں ان پر اسلام پیش کرتا کہ وہ اسے قبول کرلیں۔ اگر انکار کرتے تو قید میں ڈال دیتا۔
(۱۶۸۸۸) قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ قَدْ رُوِیَ فِی التَّأَنِّی بِہِ حَدِیثٌ آخَرُ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا نَزَلْنَا عَلَی تُسْتَرَ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الْفَتْحِ وَفِی قُدُومِہِ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ عُمَرُ : یَا أَنَسُ مَا فَعَلَ الرَّہْطُ السِّتَّۃُ مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ الَّذِینَ ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ فَلَحِقُوا بِالْمُشْرِکِینَ؟ قَالَ فَأَخَذْتُ بِہِ فِی حَدِیثٍ آخَرَ لِیَشْغَلَہُ عَنْہُمْ قَالَ مَا فَعَلَ الرَّہْطُ السِّتَّۃُ الَّذِینَ ارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ فَلَحِقُوا بِالْمُشْرِکِینَ مِنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ قَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قُتِلُوا فِی الْمَعْرَکَۃِ قَالَ : إِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔ قُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَہَلْ کَانَ سَبِیلُہُمْ إِلاَّ الْقَتْلَ؟ قَالَ : نَعَمْ کُنْتُ أَعْرِضُ عَلَیْہِمْ أَنْ یَدْخُلُوا الإِسْلاَمِ فَإِنْ أَبَوُا اسْتَوْدَعْتُہُمُ السِّجْنَ۔

وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ أَیْضًا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عن دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৯৫
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کہتے ہیں تین مرتبہ توبہ کا کہا جائے گا اگر چوتھی مرتبہ مرتد ہوجائے تو قتل کیا جائے گا
(١٦٨٨٩) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ مرتد کو تین مرتبہ توبہ کا موقع دیا جائے، پھر یہ آیت پڑھی { اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا } [النساء ١٣٧]
(۱۶۸۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُہَیْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : یُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلاَثًا ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا ثُمَّ کَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ کَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا کُفْرًا}۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৯৬
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کہتے ہیں تین مرتبہ توبہ کا کہا جائے گا اگر چوتھی مرتبہ مرتد ہوجائے تو قتل کیا جائے گا
(١٦٨٩٠) تقدم قبلہ
(۱۶۸۹۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلاَثًا فَإِنْ عَادَ قُتِلَ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৯৭
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کہتے ہیں تین مرتبہ توبہ کا کہا جائے گا اگر چوتھی مرتبہ مرتد ہوجائے تو قتل کیا جائے گا
(١٦٨٩١) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ مرتد کو تین مرتبہ توبہ کا موقع دیا جائے گا۔
(۱۶۸۹۱) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ : یُسْتَتَابُ الْمُرْتَدُّ ثَلاَثًا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৯৮
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو کہتے ہیں تین مرتبہ توبہ کا کہا جائے گا اگر چوتھی مرتبہ مرتد ہوجائے تو قتل کیا جائے گا
(١٦٨٩٢) ابو علی ہمدانی کہتے ہیں کہ حضرت فضالہ بن عبید (رض) کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو مرتد ہوگیا تھا۔ اسے اسلام کی دعوت دی وہ مسلمان ہوگیا، لیکن پھر مرتد ہوگیا۔ جب تین بار ایسا ہوا تو اس آیت سے دلیل لیتے ہوئے : { اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا لَّمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَھُمْ وَ لَا لِیَھْدِیَھُمْ سَبِیْلًا ۔ } [النساء ١٣٧] اسے قتل کردیا۔
(۱۶۸۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُوسَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ أَنَّ أَبَا عَلِیٍّ الْہَمْدَانِیَّ حَدَّثَہُمْ : أَنَّہُمْ کَانُوا مَعَ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ صَاحِبِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الْبَحْرِ فَأُتِیَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَدْ فَرَّ إِلَی الْعَدُوِّ فَأَقَالَہُ الإِسْلاَمُ فَأَسْلَمَ ثُمَّ فَرَّ الثَّانِیَۃَ فَأُتِیَ بِہِ فَأَقَالَہُ الإِسْلاَمُ فَأَسْلَمَ ثُمَّ فَرَّ الثَّالِثَۃَ فَأُتِیَ بِہِ فَنَزَعَ بِہَذِہِ الآیَۃِ {إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا ثُمَّ کَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ کَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا کُفْرًا لَمْ یَکُنِ اللَّہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلاَ لِیَہْدِیَہُمْ سَبِیلاً} فَضَرَبَ عُنُقَہُ۔ فِی إِسْنَادِ ہَذِہِ الآثَارِ ضُعْفٌ وَالآیَۃُ وَارِدَۃٌ فِیمَنْ ثَبَتَ عَلَی الْکُفْرِ۔

(ت) وَقَدْ رُوِّینَا بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- اسْتَتَابَ نَبْہَانَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ کُلَّ ذَلِکَ یَلْحَقُ بِالْمُشْرِکِینَ۔

وَظَاہِرُ الأَخْبَارِ الصَّحِیحَۃِ فِیمَا یُحْقَنُ بِہِ الدَّمُ یَشْہَدُ لِہَذَا الْمُرْسَلِ وَیُوَافِقُہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৯৯
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر مرتد حالت ارتداد ہی میں مرجائے یا قتل کردیا جائے تو اس کے مال کا حکم
(١٦٨٩٣) حضرت براء فرماتے ہیں کہ مجھے میرے چچا ملے اور پوچھا : کہاں جا رہے ہو ؟ میں نے کہا : مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھیجا ہے کہ جو شخص اپنے والد کی بیوی سے نکاح کرلے اسے قتل کر دوں اور اس کا مال قبضے میں لے لوں۔
(۱۶۸۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدٌ ہُوَ ابْنُ جَنَّادٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ الْبَرَائِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَقِیَنِی عَمِّی وَقَدِ اعْتَقَدَ رَایَۃً فَقُلْتُ : أَیْنَ تُرِیدُ؟ فَقَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی رَجُلٍ نَکَحَ امْرَأَۃَ أَبِیہِ أَضْرِبُ عُنُقَہُ وَآخُذَ مَالَہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯০০
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر مرتد حالت ارتداد ہی میں مرجائے یا قتل کردیا جائے تو اس کے مال کا حکم
(١٦٨٩٤) تقدم قبلہ

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ معاویہ نے ابن عباس اور زید بن ثابت سے مرتد کی میراث کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیا : بیت المال کے لیے ہے۔
(۱۶۸۹۴) أَخْبَرَنَا الْقَاضِی أَبُو سَعِیدٍ الْخَلِیلُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبُسْتِیُّ قَدِمَ عَلَیْنَا حَاجًّا سَنَۃَ أَرْبَعِمِائَۃٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْبَکْرِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مَنَازِلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ أَبِی کَرِیمَۃَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- بَعَثَ أَبَاہُ جَدَّ مُعَاوِیَۃَ إِلَی رَجُلٍ عَرَّسَ بِامْرَأَۃِ أَبِیہِ فَأَمَرَہُ فَضَرَبَ عُنُقَہُ وَخَمَّسَ مَالَہُ۔

قَالَ أَصْحَابُنَا : ضَرْبُ الرَّقَبَۃِ وَتَخْمِیسُ الْمَالِ لاَ یَکُونُ إِلاَّ عَلَی الْمُرْتَدِّ فَکَأَنَّہُ اسْتَحَلَّہُ مَعَ عِلْمِہِ بِتَحْرِیمِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ رُوِیَ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَزِیدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَسْأَلُہُمَا عَنْ مِیرَاثِ الْمُرْتَدِّ فَقَالاَ : لِبَیْتِ الْمَالِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ یَعْنِیَانِ أَنَّہُ فَیْئٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯০১
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتدین کی اولاد کو غلام بنانے کا بیان
(١٦٨٩٥) ابو طفیل کہتے ہیں کہ میں اس لشکر میں شامل تھا جو حضرت علی (رض) نے بنو ناجیہ کی طرف بھیجا تھا۔ کہتے ہیں : ہم ان کے پاس پہنچے تو ہم نے ان کو تین گروپ میں پایا تو ہمارے امیر نے ایک گروہ کو کہا : تم کون ہو ؟ کہنے لگے : ہم عیسائی تھے پھر ہم مسلمان ہوگئے اور اسی ثابت قدم ہیں۔ دوسرے گروہ سے پوچھا تو انھوں نے جواب دیا : ہم عیسائی تھے اور ابھی تک ہیں۔ تیسرے گروپ سے پوچھا تو انھوں نے جواب دیا : ہم عیسائی تھے، پھر مسلمان ہوگئے اور پھر دوبارہ عیسائیت جو کہ ہمارا افضل دین ہے کی طرف لوٹ آئے۔ تو ان کو کہا گیا کہ مسلمان ہو جاؤ۔ انھوں نے انکار کیا تو امیر نے اپنی فوج کو کہا : جب میں تین مرتبہ اپنے سر کو چھو لوں تو تم ان پر حملہ کردینا تو انھوں نے ایسا ہی کیا اور ان کو قتل کردیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔ وہ انھیں لے کر حضرت علی کے پاس آگئے تو مسقلہ بن ہبیرہ آئے اور ان سب کو دو لاکھ درہم کے بدلے خرید لیا اور ایک لاکھ دینے لگا تو حضرت علی نے انکار کردیا پھر پورے دو لاکھ ادا کر کے ان کو اس نے آزاد کردیا اور وہ معاویہ سے جا ملے۔ حضرت علی سے پوچھا گیا : آپ نے ان کی اولاد کو نہیں پکڑا تھا ؟ فرمایا : نہیں پھر وہ ان کے درپے نہ ہوئے۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جو عیسائی تھے اور جو مرتد تھے ان سے قتال کیا اور ممکن ہے کہ علی (رض) نے بنو ناجیہ کی اس اولاد کو بھی قیدی بنایا جو مرتد نہیں تھی۔ ارتداد تو عہد صدیقی میں تھا لیکن ہم نہیں جانتے کہ انھوں نے ان سے کوئی چیز لی تھی۔
(۱۶۸۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الأَصْبَہَانِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ حَیَّانَ عَنْ عَمَّارٍ الدُّہْنِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو الطُّفَیْلِ قَالَ : کُنْتُ فِی الْجَیْشِ الَّذِینَ بَعَثَہُمْ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی بَنِی نَاجِیَۃَ قَالَ فَانْتَہَیْنَا إِلَیْہِمْ فَوَجَدْنَاہُمْ عَلَی ثَلاَثِ فِرَقٍ قَالَ فَقَالَ أَمِیرُنَا لِفِرْقَۃٍ مِنْہُمْ : مَا أَنْتُمْ؟ قَالُوا : نَحْنُ قَوْمٌ کُنَّا نَصَارَی فَأَسْلَمْنَا فَثَبَتْنَا عَلَی إِسْلاَمِنَا۔ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِلثَّانِیَۃِ : مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا : نَحْنُ قَوْمٌ کُنَّا نَصَارَی یَعْنِی فَثَبَتْنَا عَلَی نَصْرَانِیَّتِنَا۔ قَالَ لِلثَّالِثَۃِ : مَنْ أَنْتُمْ قَالُوا نَحْنُ قَوْمٌ کُنَّا نَصَارَی فَأَسْلَمْنَا فَرَجَعْنَا فَلَمْ نَرَ دِینًا أَفْضَلَ مِنْ دِینِنَا فَتَنَصَّرْنَا۔ فَقَالَ لَہُمْ : أَسْلِمُوا فَأَبَوْا فَقَالَ لأَصْحَابِہِ : إِذَا مَسَحْتُ رَأْسِی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَشُدُّوا عَلَیْہِمْ فَفَعَلُوا فَقَتَلُوا الْمُقَاتِلَۃَ وَسَبُوا الذَّرَارِیَّ فَجِیئَ بِالذَّرَارِیِّ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُ وَجَائَ مَسْقَلَۃُ بْنُ ہُبَیْرَۃَ فَاشْتَرَاہُمْ بِمِائَتَیْ أَلْفٍ فَجَائَ بِمَائَۃِ أَلْفٍ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَبَی أَنْ یَقْبَلَ فَانْطَلَقَ مَسْقَلَۃُ بِدَرَاہِمِہِ وَعَمَدَ مَسْقَلَۃُ إِلَیْہِمْ فَأَعْتَقَہُمْ وَلَحِقَ بِمُعَاوِیَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقِیلَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَلاَ تَأْخُذُ الذُّرِّیَّۃَ؟ فَقَالَ : لاَ۔ فَلَمْ یَعْرِضْ لَہُمْ۔ [صحیح]

قَالَ الشَّافِعِیُّ : قَدْ قَاتَلَ مَنْ لَمْ یَزَلْ عَلَی النَّصْرَانِیَّۃِ وَمَنِ ارْتَدَّ فَقَدْ یَجُوزُ أَنْ یَکُونَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سَبَی مِنْ بَنِی نَاجِیَۃَ مَنْ لَمْ یَکُنِ ارْتَدَّ وَقَدْ کَانَتِ الرِّدَّۃُ فِی عَہْدِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمْ یَبْلُغْنَا أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَمَّسَ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ یَعْنِی الذَّرَارِیَّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯০২
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کو زبردستی مرتد بنایا جائے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنْ بَعْدِ اِیْمَانِہٖٓ اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰکِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا } [النحل ١٠٦]
(١٦٨٩٦) عمار بن یاسر فرماتے ہیں کہ مجھے مشرکین نے پکڑ لیا اور انھوں نے اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برا اور ان کے الہٰوں کو اچھا نہکہہ دیا۔ جب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ نے پوچھا : کیا ہوا ؟ میں نے کہا : بہت برا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں برا اور ان کے الٰہ کے بارے میں اچھا نہ کہہدیا تب تک انھوں نے مجھے نہیں چھوڑا۔ فرمایا تیرے دل کی کیا حالت تھی ؟ کہا : ایمان پر مطمئن تھا تو فرمایا : کوئی حرج نہیں۔ اگر وہ دوبارہ ایسا کریں تو تو بھی کردینا۔
(۱۶۸۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلاَّبُ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَخَذَ الْمُشْرِکُونَ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ فَلَمْ یَتْرُکُوہُ حَتَّی سَبَّ النَّبِیَّ -ﷺ- وَذَکَرَ آلِہَتَہُمْ بِخَیْرٍ ثُمَّ تَرَکُوہُ فَلَمَّا أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : مَا وَرَائَ کَ؟ ۔ قَالَ : شَرٌّ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا تُرِکْتُ حَتَّی نِلْتُ مِنْکَ وَذَکَرْتُ آلِہَتَہُمْ بِخَیْرٍ۔ قَالَ : کَیْفَ تَجِدُ قَلْبَکَ؟ قَالَ : مُطْمَئِنًا بِالإِیمَانِ۔ قَالَ : إِنْ عَادُوا فَعُدْ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক: