আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

مرتد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪ টি

হাদীস নং: ১৬৮৪৩
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٣٧) اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے تین مجالس میں عبداللہ بن ابی کے نفاق کا مشاہدہ کیا۔
(۱۶۸۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : شَہِدْتُ مِنْ نِفَاقِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أُبَیٍّ ثَلاَثَ مَجَالِسَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৪৪
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٣٨) زید بن ارقم کہتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے، لوگوں کو اس میں بہت تکلیف پہنچی تو عبداللہ بن ابی اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا : جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، ان پر تم خرچ نہ کرنا یہاں تک کہ وہ آپ کے ارد گرد سے ہٹ جائیں اور ہم مدینہ جا کر اس سے ان ذلیلوں کو نکال دیں گے۔ ہم عزت والے ہیں تو میں نے یہ سنا اور جا کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتادیا : آپ نے اسے بلا کر پوچھا تو اس نے قسم اٹھا دی کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کہا تو لوگ کہنے لگے : زید نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھوٹ بولا ہے تو میرے دل میں جو انھوں نے کہا تھا خیال آیا تو اللہ تعالیٰ نے میری تصدیق میں سورة المنافقون نازل فرما دی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلایا اور فرمایا : آؤ تمہارے لیے دعائے مغفرت کر دوں تو انھوں نے سر پھیر لیے۔ یہ لوگ بہت خوبصورت تھے۔
(۱۶۸۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِیہِ شِدَّۃٌ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ لأَصْحَابِہِ لاَ تُنْفِقُوا عَلَی مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی یَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِہِ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْہَا الأَذَلَّ قَالَ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرْتُہُ قَالَ فَبَعَثَنِی إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أُبَیٍّ فَاجْتَہَدَ یَمِینَہُ بِاللَّہِ مَا فَعَلَ قَالَ فَقَالُوا کَذَبَ زَیْدٌ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَوَقَعَ فِی نَفْسِی مَا قَالُوا حَتَّی أَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِیقِی فِی {إِذَا جَائَ کَ الْمُنَافِقُونَ} قَالَ وَدَعَاہُمْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِیَسْتَغْفِرَ لَہُمْ فَلَوَّوْا رُئُ وسَہُمْ وَقَوْلُہُ {کَأَنَّہُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَۃٌ} قَالَ : کَانُوا رِجَالاً أَجْمَلَ شَیْئٍ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ زُہَیْرٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৪৫
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٣٩) ابن اسحاق قصہ تبوک کے بارے میں کہتے ہیں : ثنیہ مقام پر منافقین نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے باخبر کردیا تو آپ ثنیہ مقام سے ہٹ گئے اور اپنے دو ساتھیوں حذیفہ اور عمار کو کہا : کیا تم جانتے ہو قوم نے کیا ارادہ کیا تھا ؟ انھوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا : انھوں نے ثنیہ میں مجھے مارنے کا ارادہ کیا تو دونوں کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! جب لوگ آپ کے پاس وہاں جمع ہو رہے تھے، آپ ہمیں حکم کرتے، ہم ان کو قتل کردیتے تو آپ نے فرمایا کہ مجھے اچھا نہیں لگا کہ لوگ کہیں گے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انپے ساتھیوں کو قتل کروا رہا ہے۔

ابن اسحاق کہتے ہیں کہ پھر حصین بن نمیر کو بلایا گیا اور اسے کہا گیا : تو برباد ہو تو ایسا کیوں کررہا تھا ؟ کہنے لگا : واللہ مجھے یقین تھا آپ کو پتہ نہیں چلے گا لیکن اللہ نے آپ کو اطلاع دے دی اور مجھے پتہ چل گیا اور میں آج گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں کبھی آپ پر ایمان نہ لاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے معاف کردیا۔
(۱۶۸۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی قِصَّۃِ تَبُوکَ وَمَا کَانَ عَلَی الثَّنِیَّۃِ مِنْ ہَمِّ الْمُنَافِقِینَ أَنْ یَزْحَمُوا فِیہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَمَا کَانَ مِنْ أَقْوَالِہِمْ وَإِطْلاَعُ اللَّہِ سُبْحَانَہُ نَبِیَّہُ -ﷺ- عَلَی سَرَائِرِہِمْ قَالَ فَانْحَدَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الثَّنِیَّۃِ وَقَالَ لِصَاحِبَیْہِ یَعْنِی حُذَیْفَۃَ وَعَمَّارًا : ہَلْ تَدْرُونَ مَا أَرَادَ الْقَوْمُ؟ قَالُوا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَرَادُوا أَنْ یَزْحَمُونِی فِی الثَّنِیَّۃِ فَیَطْرَحُونِی مِنْہَا فَقَالاَ أَفَلاَ تَأْمُرُنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَہُمْ إِذَا اجْتَمَعَ إِلَیْکَ النَّاسُ فَقَالَ أَکْرَہُ أَنْ یَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا قَدْ وَضَعَ یَدَہُ فِی أَصْحَابِہِ یَقْتُلُہُمْ۔

ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی دُعَائِہِ إِیَّاہُمْ وَإِخْبَارِہِ إِیَّاہُمْ بِسَرَائِرِہِمْ وَاعْتِرَافِ بَعْضِہِمْ وَتَوْبَتِہِمْ وَقَبُولِہِ مِنْہُمْ مَا دَلَّ عَلَی ہَذَا

قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَأَمَرَہُ أَنْ یَدْعُوَ حُصَیْنَ بْنَ نُمَیْرٍ فَقَالَ لَہُ : وَیْحَکَ مَا حَمَلَکَ عَلَی ہَذَا؟ قَالَ : حَمَلَنِی عَلَیْہِ أَنِّی ظَنَنْتُ أَنَّ اللَّہَ لَمْ یُطْلِعْکَ عَلَیْہِ فَأَمَّا إِذْ أَطْلَعَکَ اللَّہُ عَلَیْہِ وَعَلِمْتَہُ فَإِنِّی أَشْہَدُ الْیَوْمَ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ وَأَنْ لَمْ أُؤْمِنْ بِکَ قَطُّ قَبْلَ السَّاعَۃِ یَقِینًا فَأَقَالَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَثْرَتَہُ وَعَفَا عَنْہُ بِقَوْلِہِ الَّذِی قَالَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৪৬
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٤٠) اسود کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ ہم پر کھڑے ہوئے اور ہم عبداللہ کے پاس تھے۔ فرمایا : نفاق تم سے بہتر پر نازل ہوا ہم نے کہا : وہ کیسے ؟ اللہ تو کہتا ہے : { اِنَّ الْمُتٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ } [النساء ١٤٥] فرمایا : جب سب جدا جدا ہوگئے اور میرے علاوہ کوئی نہ بچا تو فرمایا : جب وہ توبہ کرلیں تو وہ تم سے بہتر ہوگئے اور مجھے کنکری سے مارا۔
(۱۶۸۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ ہُوَ ابْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ : وَقَفَ عَلَیْنَا حُذَیْفَۃُ وَنَحْنُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّہِ فَقَالَ لَقَدْ نَزَلَ النِّفَاقُ عَلَی مَنْ کَانَ خَیْرًا مِنْکُمْ قَالَ قُلْنَا : کَیْفَ یَکُونُ ہَذَا وَاللَّہُ یَقُولُ {إِنَّ الْمُنَافِقِینَ فِی الدَّرْکِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ} قَالَ : فَلَمَّا تَفَرَّقُوا فَلَمْ یَبْقَ غَیْرِی رَمَانِی بِحَصَاۃٍ فَقَالَ إِنَّہُمْ لَمَّا تَابُوا کَانُوا خَیْرًا مِنْکُمْ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَبِیہِ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ مِنْ قَوْلِ حُذَیْفَۃَ : عَجِبْتُ مِنْ ضَحِکِہِ یَعْنِی ضَحِکَ عَبْدِ اللَّہِ وَقَدْ عَرَفَ مَا قُلْتُ لَقَدْ أُنْزِلَ النِّفَاقُ عَلَی قَوْمٍ کَانُوا خَیْرًا مِنْکُمْ ثُمَّ تَابُوا فَتَابَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৪৭
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٤١) تقدم قبلہ
(۱۶۸۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْبُرُلُّسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَبُو شِہَابٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ وَالأَسْوَدِ قَالاَ : کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّہِ فَمَرَّ بِنَا حُذَیْفَۃُ فَقَالَ : لَقَدْ نَزَلَ النِّفَاقُ عَلَی مَنْ کَانَ خَیْرًا مِنْکُمْ۔ فَقُلْنَا سُبْحَانَ اللَّہِ فَضَحِکَ عَبْدُ اللَّہِ وَمَضَی فَمَرَّ بِنَا حُذَیْفَۃُ فَرَمَانِی بِالْحَصْبَائِ فَأَتَیْتُہُ فَقَالَ إِنَّ صَاحِبَکُمْ عَلِمَ عِلْمًا فَضَحِکَ نَزَلَ عَلَیْہِمُ النِّفَاقُ ثُمَّ تِیبَ عَلَیْہِمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৪৮
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٤٢) ابن عمر فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی مرگیا تو اس کا بیٹا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : اپنی قمیض عطا فرمائیں تاکہ اس میں میں اسے کفن دوں اور آپ اس پر نماز پڑھیں اور میرے والد کے لیے بخشش کی دعا کریں۔ آپ نے اس کو اپنی قمیض دے دی اور کہا : جب کفن سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتانا، جب نماز کا ارادہ کیا تو حضرت عمر نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ کو منافق پر نماز سے روکا نہیں گیا ؟ فرمایا : مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ { اِسْتَغْفِرْلَھُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْلَھُمْ } [التوبۃ ٨٠] تو آپ نے اس پر نماز پڑھی تو یہ آیت نازل ہوگئی : { وَ لَا تُصَلِّ عَلٰٓی اَحَدٍمِّنْھُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ } [التوبۃ ٨٤] تو آپ نے نماز پڑھنا بھی چھوڑ دی۔
وَأَمَّا قَوْلُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِیِّہِ -ﷺ- فِی الْمُنَافِقِینَ {وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَبَدً} فَسَبَبُ نُزُولِ ہَذِہِ الآیَۃِ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبَی طَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ جَائَ ابْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أُبَیِّ ابْنِ سَلُولَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حَیْثُ مَاتَ أَبُوہُ فَقَالَ أَعْطِنِی قَمِیصَکَ حَتَّی أُکَفِّنَہُ فِیہِ وَصَلِّ عَلَیْہِ وَاسْتَغْفِرْ لَہُ فَأَعْطَاہُ قَمِیصَہُ وَقَالَ إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِی فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْہِ جَائَ ہُ عُمَرُ وَقَالَ أَلَیْسَ قَدْ نَہَاکَ اللَّہُ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی الْمُنَافِقِینَ قَالَ أَنَا بَیْنَ خِیرَتَیْنِ قَالَ {اسْتَغْفِرْ لَہُمْ أَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ} قَالَ فَصَلَّی عَلَیْہِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَی قَبْرِہِ} قَالَ : فَتَرَکَ الصَّلاَۃَ عَلَیْہِمْ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ یَحْیَی الْقَطَّانِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৪৯
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٤٣) حضرت عمر (رض) سے سابقہ روایت

امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے قول کو واضح کرتی ہے کہ ان پر نماز نہ پڑھی جائے اور مجھے امید ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس لیے ان پر نماز سے روکا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس پر بھی نماز پڑھیں اسے معاف کردیا جاتا ہے اور جو شرک پر قائم ہو اس کی بخشش بھی نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر نماز سے آپ کو روک دیا گیا، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو نہیں روکا۔ مسلمان ان پر نمازیں پڑھتے تھے۔ حضرت حذیفہ، عمر، ابوبکر (رض) تمام پڑھتے تھے اور حضرت عمر کے سامنے تو جو بھی جنازہ رکھا جاتا وہ حذیفہ کی طرف دیکھتے۔ اگر وہ انکار کردیتے تو نہ پڑھاتے، اگر ساتھ کھڑے ہوجاتے تو پڑھا دیتے۔ نہ تو ابوبکر (رض) نے روکا اور نہ عثمان نے مسلمانوں کو ان پر نماز سے روکا اور نہ ہی ایسی کوئی چیز اسلام کے احکام سے ہے۔
(۱۶۸۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ الْبَزَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی یَعْنِی ابْنَ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عن عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أُبَیٍّ ابْنُ سَلُولَ دُعِیَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِیُصَلِّیَ عَلَیْہِ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَثَبْتُ إِلَیْہِ ثُمَّ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتُصَلِّی عَلَی ابْنِ أُبَیٍّ وَقَدْ قَالَ یَوْمَ کَذَا وَکَذَا کَذَا وَکَذَا أُعَدِّدُ عَلَیْہِ قَوْلَہُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ: أَخِّرْ عَنِّی یَا عُمَرَ۔ فَلَمَّا أَکْثَرْتُ عَلَیْہِ قَالَ : إِنِّی خُیِّرْتُ فَاخْتَرْتُ لَوْ أَعْلَمُ أَنِّی إِنْ زِدْتُ عَلَی السَّبْعِینَ غُفِرَ لَہُ لَزِدْتُ عَلَیْہَا۔ فَصَلَّی عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمْ یَمْکُثْ إِلاَّ یَسِیرًا حَتَّی نَزَلَتِ الآیَتَانِ فِی بَرَائَ ۃَ {وَلاَ تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْہُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلاَ تَقُمْ عَلَی قَبْرِہِ إِنَّہُمْ کَفَرُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَمَاتُوا وَہُمْ فَاسِقُونَ} قَالَ فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِی عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَئِذٍ وَاللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ فَہَذَا یُبَیِّنُ مَا قُلْنَا فَأَمَّا أَمْرُہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لاَ یُصَلِّیَ عَلَیْہِمْ فَإِنَّ صَلاَتَہُ بِأَبِی ہُوَ وَأُمِّی مُخَالِفَۃٌ صَلاَۃَ غَیْرِہِ وَأَرْجُو أَنْ یَکُونَ قَضَی إِذْ أَمَرَہُ بِتَرْکِ الصَّلاَۃِ عَلَی الْمُنَافِقِینَ أَنْ لاَ یُصَلِّیَ عَلَی أَحَدٍ إِلاَّ غُفِرَ لَہُ وَقَضَی أَنْ لاَ یُغْفَرَ لِمُقِیمٍ عَلَی شِرْکٍ فَنَہَاہُ عَنِ الصَّلاَۃِ عَلَی مَنْ لاَ یُغْفَرُ لَہُ وَلَمْ یَمْنَعْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الصَّلاَۃِ عَلَیْہِمْ مُسْلِمًا وَلَمْ یَقْتُلْ مِنْہُمْ بَعْدَ ہَذَا أَحَدًا وَتَرْکُ الصَّلاَۃِ مُبَاحٌ عَلَی مَنْ قَامَتْ بِالصَّلاَۃِ عَلَیْہِ طَائِفَۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَقَدْ عَاشَرَہُمْ حُذَیْفَۃُ یَعْرِفُہُمْ بِأَعْیَانِہِمْ ثُمَّ عَاشَرَہُمْ مَعَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُمَا وَہُمْ یُصَلَّی عَلَیْہِمْ وَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا وُضِعَتْ جَنَازَۃٌ فَرَأَی حُذَیْفَۃَ فَإِنْ أَشَارَ إِلَیْہِ أَنِ اجْلِسْ جَلَسَ وَإِنْ قَامَ مَعَہُ صَلَّی عَلَیْہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ وَلَمْ یَمْنَعْ ہُوَ وَلاَ أَبُو بَکْرٍ قَبْلَہُ وَلاَ عُثْمَانُ بَعْدَہُ الْمُسْلِمِینَ الصَّلاَۃَ عَلَیْہِمْ وَلاَ شَیْئًا مِنْ أَحْکَامِ الإِسْلاَمِ وَقَدْ أَعْلَمَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لَمَّا تُوُفِّیَ اشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِینَۃِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৫০
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٤٤) حذیفہ کہتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تبوک کی طرف گئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری سے اتر گئے تاکہ آپ کی طرف وحی کی جائے تو اونٹنی نے اٹھ کر بھاگنا چاہا تو حذیفہ نے اس کی لگام کو پکڑ لیا اور اس کے پاس بیٹھ گئے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے تو اونٹنی کی طرف آئے اور پوچھا : یہ کون ہے ؟ کہا : حذیفہ بن یمان تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک راز بتاتا ہوں کسی کو نہ بتانا کہ مجھے فلاں فلاں پر نماز پڑھنے سے منع کردیا گیا ہے تو جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے حضرت عمر خلیفہ بنے تو حضرت عمر (رض) حذیفہ (رض) کو ساتھ رکھتے جس کی طرف حذیفہ انکار کردیتے اس پر عمر جنازہ نہیں پڑھتے تھے۔
(۱۶۸۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ فِی قِصَّۃِ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ قَالَ قَالَ حُذَیْفَۃُ : بَیْنَا النَّبِیُّ -ﷺ- سَائِرٌ إِلَی تَبُوکَ نَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِہِ لِیُوحَی إِلَیْہِ وَأَنَاخَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- فَنَہَضَتِ النَّاقَۃُ تَجُرُّ زِمَامَہَا مُنْطَلِقَۃً فَتَلَقَّاہَا حُذَیْفَۃُ فَأَخَذَ بِزِمَامِہَا یَقُودُہَا حَتَّی أَنَاخَہَا وَقَعَدَ عِنْدَہَا ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَامَ قَأَقْبَلَ إِلَی نَاقَتِہِ فَقَالَ مَنْ ہَذَا فَقَالَ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : فَإِنِّی مُسِرٌّ إِلَیْکَ سِرًّا لاَ تُحَدِّثَنَّ بِہِ أَحَدًا أَبَدًا إِنِّی نُہِیتُ أَنْ أَصَلِّیَ عَلَی فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ ۔ رَہْطٍ ذَوِی عَدَدٍ مِنَ الْمُنَافِقِینَ قَالَ فَلَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَاسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَانَ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ مِنْ صَحَابَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِمَّنْ یَظُنُّ عُمَرُ أَنَّہُ مِنْ أُولَئِکَ الرَّہْطِ أَخَذَ بِیَدِ حُذَیْفَۃَ فَقَادَہُ فَإِنْ مَشَی مَعَہُ صَلَّی عَلَیْہِ وَإِنِ انْتَزَعَ مِنْ یَدِہِ لَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ وَأَمَرَ مَنْ یُصَلِّی عَلَیْہِ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ۔ وَقَدْ رُوِیَ مَوْصُولاً مِنْ وَجْہٍ آخَرَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৫১
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٤٥) عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ تبوک میں تھے تو آپ پر وحی کا نزول ہوا۔۔۔ آگے سابقہ روایت۔
(۱۶۸۴۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ قَالَ بَلَغَنَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ غَزَا تَبُوکَ نَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِہِ فَأُوحِیَ إِلَیْہِ وَرَاحِلَتُہُ بَارِکَۃٌ فَقَامَتْ تَجُرُّ زِمَامَہَا حَتَّی لَقِیَہَا حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ فَأَخَذَ بِزِمَامِہَا فَاقْتَادَہَا حَتَّی رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- جَالِسًا فَأَنَاخَہَا ثُمَّ جَلَسَ عِنْدَہَا حَتَّی قَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَتَاہُ فَقَالَ : مَنْ ہَذَا؟ ۔ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : فَإِنِّی أُسِرُّ إِلَیْکَ أَمْرًا فَلاَ تَذْکُرَنَّہُ إِنِّی قَدْ نُہِیتُ أَنْ أَصَلِّیَ عَلَی فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ ۔ رَہْطٍ ذَوِی عَدَدٍ مِنَ الْمُنَافِقِینَ لَمْ یُعْلَمْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَہُمْ لأَحَدٍ غَیْرَ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ فَلَمَّا تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی خِلاَفَتِہِ إِذَا مَاتَ رَجُلٌ یَظُنُّ أَنَّہُ مِنْ أُولَئِکَ الرَّہْطِ أَخَذَ بِیَدِ حُذَیْفَۃَ فَاقْتَادَہُ إِلَی الصَّلاَۃِ عَلَیْہِ فَإِنْ مَشَی مَعَہُ حُذَیْفَۃُ صَلَّی عَلَیْہِ وَإِنِ انْتَزَعَ حُذَیْفَۃُ یَدَہُ فَأَبَی أَنْ یَمْشِیَ مَعَہُ انْصَرَفَ عُمَرُ مَعَہُ فَأَبَی أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْہِ وَأَمَرَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنْ یُصَلَّی عَلَیْہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৫২
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٤٦) حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں میں سے صرف تین بچے ہیں، گویا آپ کا اشارہ اس آیت کی طرف تھا { فَقَاتِلُوْٓا اَئِمَّۃَ الْکُفْرِ } (التوبۃ : ١٢) اور فرمایا : منافقین سے صرف ٤ بچے ہیں۔ کہتے ہیں : ہمارے پیچھے ایک دیہاتی بیٹھا تھا، وہ کہنے لگا : تم صحابہ کی جماعت ہو تم جانتے ہو۔ ہم نہیں جانتے تمہارا خیال ہے کہ صرف چار منافق بچے ہیں تو وہ کون ہیں جو راتوں کو ہمارے گھروں کا شیرازہ بکھیرتے ہیں ؟ تو حذیفہ فرمانے لگے : وہ فاسق ہیں اور منافقین میں سے چار ہی بچے ہیں، ان میں سے ایک بہت بوڑھا ہے کہ اگر وہ ٹھنڈا پانی بھیپیے تو اس ٹھنڈک کو نہیں پاسکتا۔
(۱۶۸۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاکِ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ

(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ قَالَ حُذَیْفَۃُ مَا بَقِیَ مِنْ أَصْحَابِ ہَذِہِ الآیَۃِ إِلاَّ ثَلاَثَۃٌ أَظُنُّہُ أَرَادَ قَوْلَہُ {قَاتِلُوا أَئِمَّۃَ الْکُفْرِ} قَالَ : وَمَا بَقِیَ مِنَ الْمُنَافِقِینَ إِلاَّ أَرْبَعَۃٌ قَالَ وَخَلْفَنَا أَعْرَابِیٌّ جَالِسٌ قَالَ : إِنَّکُمْ مَعْشَرَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -ﷺ- تَدْرُونَ مَا لاَ نَدْرِی تَزْعُمُونَ أَنَّہُ لَمْ یَبْقَ مِنَ الْمُنَافِقِینَ إِلاَّ أَرْبَعَۃٌ فَمَا بَالُ ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ یَبْقُرُونَ بُیُوتَنَا تَحْتَ اللَّیْلِ قَالَ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ أُولَئِکَ الْفُسَّاقُ أَجَلْ لَمْ یَبْقَ مِنَ الْمُنَافِقِینَ إِلاَّ أَرْبَعَۃٌ إِنَّ أَحَدَہُمْ لَشَیْخٌ کَبِیرٌ لَوْ شَرِبَ الْمَائَ الْبَارِدَ مَا وَجَدَ بَرْدَہُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ یَحْیَی الْقَطَّانِ وَأَظُنُّہُ أَرَادَ مِنَ الْمُنَافِقِینَ الَّذِینَ سَمَّاہُمْ لَہُ رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِینَ -ﷺ-۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৫৩
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٤٧) حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ آج کے منافق عہد رسالت کے منافقین سے بھی برے ہیں، وہ اپنے نفاق کو چھپاتے تھے اور یہ ظاہر کرتے ہیں۔
(۱۶۸۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ : إِنَّ الْمُنَافِقِینَ الْیَوْمَ شَرٌّ مِنْہُمْ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَانُوا یَوْمَئِذٍ یَکْتُمُونَہُ وَہُمُ الْیَوْمَ یَجْہَرُونَہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৫৪
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٤٨) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے تو عرب مرتد ہوگئے اور مدینہ میں نفاق پھیل گیا۔ اگر وہ مصیبتیں جو میرے والد پر نازل ہوئیں، پہاڑوں پر نازل ہوتیں تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجاتے۔ واللہ جو بھی اسلام پر حملہ ہوا میرے والد نے اس کا دفاع کیا اور وہ فرماتی تھیں کہ وہ پیدا ہی اسلام کے دفاع کے لیے ہوئے ہیں۔
(۱۶۸۴۸) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِی عَوْنٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ وَاشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِینَۃِ فَلَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ الرَّاسِیَاتِ مَا نَزَلَ بِأَبِی لَہَاضَہَا فَوَاللَّہِ مَا اخْتَلَفُوا فِی نُقْطَۃٍ إِلاَّ طَارَ أَبِی بِحَظِّہَا وَغَنَائِہَا فِی الإِسْلاَمِ وَکَانَتْ تَقُولُ مَعَ ہَذَا وَمَنْ رَأَی ابْنَ الْخَطَّابِ عَرَفَ أَنَّہُ خُلِقَ غَنَائً لِلإِسْلاَمِ کَانَ وَاللَّہِ أَحْوَذِیًّا نَسِیجَ وَحْدِہِ قَدْ أَعَدَّ لِلأُمُورِ أَقْرَانَہَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৫৫
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٤٩) عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر نے خالد بن ولید کو مرتدین کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا تو فرمایا : انھیں پہلے اسلام کی دعوت دینا، انھیں احساس دلانا اور ان کی ہدایت کی کوشش کرنا اور جو سمجھ جائے واپس لوٹ آئے اس سے قبول کرنا۔ لڑنا ان کے خلاف جو ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں اور جو اسلام قبول کرلے تو اس کا راستہ چھوڑ دینا، ان کا حساب اللہ پر ہے اور جو نہ مانے اس سے قتال کرنا۔
(۱۶۸۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ حِینَ بَعَثَہُ إِلَی مَنِ ارْتَدَّ مِنَ الْعَرَبِ أَنْ یَدْعُوَہُمْ بِدِعَایَۃِ الإِسْلاَمِ وَیُنْبِئَہُمْ بِالَّذِی لَہُمْ فِیہِ وَعَلَیْہِمْ وَیَحْرِصَ عَلَی ہُدَاہُمْ فَمَنْ أَجَابَہُ مِنَ النَّاسِ کُلِّہِمْ أَحْمَرِہِمْ وَأَسْوَدِہِمْ کَانَ یَقْبَلُ ذَلِکَ مِنْہُ بِأَنَّہُ إِنَّمَا یُقَاتِلُ مَنْ کَفَرَ بِاللَّہِ عَلَی الإِیمَانِ بِاللَّہِ فَإِذَا أَجَابَ الْمُدْعَوْنَ إِلَی الإِسْلاَمِ وَصَدَقَ إِیمَانُہُ لَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ سَبِیلٌ وَکَانَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ہُوَ حَسِیبُہُ وَمَنْ لَمْ یُجِبْہُ إِلَی مَا دَعَاہُ إِلَیْہِ مِنَ الإِسْلاَمِ مِمَّنْ یَرْجِعُ عَنْہُ أَنْ یَقْتُلَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৫৬
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٥٠) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ عہد رسالت میں لوگ وحی کے ذریعے پکڑے جاتے تھے۔ اب وحی منقطع ہوگئی ہے۔ اب ہم ظاہری اعمال سے پکڑتے ہیں۔ جس کے ظاہری اعمال اچھے ہیں۔ ہم اس پر یقین کرلیتے ہیں اور اندرونی معاملہ اللہ کے ذمے ہے اور جس کے ظاہری اعمال برے ہیں۔ ہم اس پر یقین کرتے ہیں چاہے وہ کہے کہ میرا باطن اچھا ہے۔
(۱۶۸۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِیٍّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُتْبَۃَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : إِنَّ أُنَاسًا کَانُوا یُؤْخَذُونَ بِالْوَحْیِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَإِنَّ الْوَحْیَ قَدِ انْقَطَعَ وَإِنَّمَا نَأْخُذُکُمُ الآنَ بِمَا ظَہَرَ مِنْ أَعْمَالِکُمْ فَمَنْ أَظْہَرَ لَنَا خَیْرًا أَمِنَّاہُ وَقَرَّبْنَاہُ وَلَیْسَ إِلَیْنَا مِنْ سَرِیرَتِہِ شَیْء ٌ اللَّہُ یُحَاسِبُہُ فِی سَرِیرَتِہِ وَمَنْ أَظْہَرَ لَنَا سُوئً ا لَمْ نَأْمَنْہُ وَلَمْ نُصَدِّقْہُ وَإِنْ قَالَ إِنَّ سَرِیرَتِی حَسَنَۃٌ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ عَنْ شُعَیْبٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৫৭
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٥١) حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کو کہا جس کا اسلام ظاہر تھا، اس سے پہچانا جا رہا تھا کہ میں گمان کرتا ہوں کہ تو بچنے والا تو اس نے کہا : اسلام نے مجھے نہیں بچایا، فرمایا : ہاں اسلام اسے ہی بچاتا ہے جو اس کے ساتھ بچنا چاہے۔
(۱۶۸۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِرَجُلٍ أَظْہَرَ الإِسْلاَمَ کَانَ یُعْرَفُ مِنْہُ إِنِّی لأَحْسَبُکَ مُتَعَوِّذًا فَقَالَ إِنَّ فِی الإِسْلاَمِ مَا أَعَاذَنِی قَالَ : أَجَلْ إِنَّ فِی الإِسْلاَمِ مَا أَعَاذَ مَنِ اسْتَعَاذَ بِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৫৮
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٥٢) عبداللہ بن مسعود نے کوفہ میں ایسے لوگ پکڑے جو مسیلمہ کذاب کے دین کی تبلیغ کر رہے تھے۔ انھوں نے حضرت عثمان سے اس کے متعلق پوچھا تو جواب ملا کہ ان پر اسلام پیش کرو، توحید کی دعوت دو ۔ اگر قبول کرلیں تو چھوڑ دو اور جو قبول نہ کرے اسے قتل کر دو تو ابن مسعود نے اسی طرح کیا۔
(۱۶۸۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِالْکُوفَۃِ رِجَالاً یَنْعِشُونَ حَدِیثَ مُسَیْلِمَۃَ الْکَذَّابِ یَدْعُونَ إِلَیْہِمْ فَکَتَبَ فِیہِمْ إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ عُثْمَانُ أَنِ اعْرِضْ عَلَیْہِمْ دِینَ الْحَقِّ وَشَہَادَۃَ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّہِ فَمَنْ قَبِلَہَا وَبَرِئَ مِنْ مُسَیْلِمَۃَ فَلاَ تَقْتُلْہُ وَمَنْ لَزِمَ دِینَ مُسَیْلِمَۃَ فَاقْتُلْہُ فَقَبِلَہَا رِجَالٌ مِنْہُمْ فَتُرِکَوا وَلَزِمَ دِینَ مُسَیْلِمَۃَ رِجَالٌ فَقُتِلُوا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৫৯
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٥٣) محمد بن ابی بکر نے حضرت علی سے زنادقہ کے بارے میں پوچھا تو حضرت علی نے جواب دیا : ان پر اسلام پیش کیا جائے اگر اسلام لے آئیں تو چھوڑ دو ورنہ قتل کر دو ۔
(۱۶۸۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ یَزِیدَ الْفَرَّائُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ قَابُوسَ بْنِ الْمُخَارِقِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِی بَکْرٍ کَتَبَ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَسْأَلُہُ عَنْ زَنَادِقَۃٍ مُسْلِمِینَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَمَّا الزَّنَادِقَۃُ فَیُعْرَضُونَ عَلَی الإِسْلاَمِ فَإِنْ أَسْلَمُوا وَإِلاَّ قُتِلُوا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৬০
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٥٤) ابن شہاب کہتے ہیں کہ زنادقہ کو اسلام پیش کیا جائے گا تاکہ حجت قائم ہو، اگر توبہ کرلیں تو ٹھیک ہے ورنہ قتل کردیے جائیں۔
(۱۶۸۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِہَابٍ یَقُولُ : الزِّنْدِیقُ إِنْ ہُوَ جَحَدَ وَقَامَتْ عَلَیْہِ الْبَیِّنَۃُ فَإِنَّہُ یُقْتَلُ وَإِنْ جَائَ ہُوَ مُعْتَرِفًا تَائِبًا فَإِنَّہُ یُتْرَکُ مِنَ الْقَتْلِ۔ [صحیح۔ لإبن شہاب]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৬১
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٥٥) ربیعہ زندیق کے بارے میں کہتے ہیں کہ قتل کیا جائے توبہ قبول نہ کی جائے۔
(۱۶۸۵۵) قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ لَیْثٍ عَنْ رَبِیعَۃَ أَنَّہُ قَالَ فِی الزِّنْدِیقِ : یُقْتَلُ وَلاَ یُسْتَتَابُ۔ [صحیح۔ لربیعہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৮৬২
مرتد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زندیق یا کوئی اور جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون حرام ہے
(١٦٨٥٦) امام مالک فرماتے ہیں : ان کی توبہ قبول نہ کی جائے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ جو کہتے ہیں کہ توبہ قبول کی جائے گی ان کی بات ٹھیک ہے، باقی غیب اللہ جانتا ہے۔
(۱۶۸۵۶) قَالَ وَأَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ وَقَالَ مَالِکٌ لاَ یُسْتَتَابُ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : قَوْلُ مَنْ قَالَ یُسْتَتَابُ فَإِنْ تَابَ قُبِلَتْ تَوْبَتُہُ وَحُقِنَ دَمُہُ وَاللَّہُ وَلِیُّ مَا غَابَ أَوْلَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ لمالک]
tahqiq

তাহকীক: