আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮২৮৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کا بیان جس کی اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی
(١٨٢٨١) اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے نقل فرماتے ہیں۔ یہ لفظ موسیٰ کی حدیث کے ہیں اور عروہ کی حدیث اس کے ہم معنیٰ ہے۔ فرماتے ہیں کہ بنو نفاثہ بنو دیل سے ہے۔ انھوں نے بنو کعب پر حملہ کردیا۔ یہ وہ مدت ہے جب رسول اللہ اور قریش کے درمیان جنگ بندی تھی اور بنو کعب صلح میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ شامل تھے اور بنو نفاثہ قریش کے حامی تھے۔ تو بنو بکر والوں نے بنو نفاثہ کی اصلاح اور غلاموں سے تعاون کیا۔ اس نے قصہ ذکر کیا ہے۔

کہتے ہیں : بنو کعب کا ایک سوار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اپنا قصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنایا اور قریش کا ان کے خلاف مدد کرنا ذکر کیا۔ پھر اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکہ کی طرف آنے، عباس کا ابو سفیان کو مرالظہران میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لانے اور ان کے ساتھ حکیم بن حزام، بدیل بن ورقاء کو لانے کا تذکرہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو سفیان اور حکیم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! لوگوں کو امان کی طرف دعوت دو ۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ قریش الگ ہوجائیں، لڑائی سے باز رہیں، کیا وہ امان میں ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو لڑائی سے باز رہا، اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا، اس کو امن ہے۔ انھوں نے کہا : ہمیں بھیج دیں تاکہ ہم ان میں اعلان کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ جو ابو سفیان اور حکیم کے گھر میں بھی داخل ہوگیا اور لڑائی سے باز رہا اس کو بھی امن ہے۔ ابو سفیان کا گھر مکہ کی بالائی جانب تھا جبکہ حکیم کا گھر نچلی سطح پر تھا جب وہ دونوں جانے لگے تو عباس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ابو سفیان پر مطمئن نہیں کہ وہ اسلام سے نہ پلٹ جائے۔ آپ اس کو واپس کریں، وہ ہمارے پاس ٹھہرے اور آپ کے ساتھ لشکروں کو دیکھ لے تو عباس نے انھیں روک لیا۔ ابو سفیان نے کہا : اے بنو ہاشم ! کیا عذر ہے ؟ عباس کہنے لگے : آپ جان لیں گے ہم دھوکا باز نہیں، لیکن مجھے آپ سے کام ہے۔ آپ صبح کریں اور اللہ کے لشکروں کا مشاہدہ کریں۔ پھر اس نے ابو سفیان کو روکنے کا قصہ ذکر کیا۔ یہاں تک کہ لشکر گزرے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر بن عوام کو مہاجرین اور اپنے لشکر پر مقرر فرمایا۔ اس کو حکم فرمایا کہ وہ کداء کی جانب سے مکہ کی اوپر کی جانب سے داخل ہو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا جھنڈا دیا اور فرمایا : جحون نامی جگہ پر گاڑ دینا۔ زبیر بن عوام اس جگہ رہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تشریف لے آئے اور خالد بن ولید کے ساتھ بنو قصاعہ، بنو سلیم اور جو ان سے پہلے مسلمان ہوئے تھے کو روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ مکہ کی نچلی جانب سے داخل ہونا اور جھنڈے کو نچلی سطح کے قریبی گھروں کے پاس لگانے کا حکم دیا اور یہاں بنو بکر، بنو حارث بن عبد مناۃ، ہذیل اور کچھ دوسرے قبائل تھے۔ قریش نے ان سے مدد طلب کی اور مکہ کی نچلی جانب آنے کا کہا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد بن عبادہ کو انصاری لشکر اور اپنے ابتدائی حصہ پر مقرر فرمایا تھا اور حکم دیا کہ صرف اس سے لڑائی کرنا جو لڑنے کے لیے آئے اور چار افراد کے قتل کا حکم دیا : 1 عبداللہ بن سعد بن سرح 2 حارث بن نقید 3 ابن خطل 4 مقیس بن صبابہ اور ابن خطل کی دو گانے والی لونڈیوں کے قتل کا حکم دیا۔ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مذمت کرتی تھی۔ مختلف لشکر ابو سفیان، بدیل، حکیم، کے پاس سے گزرتے تو وہ ان کے بارے میں سوال کرتے یہاں تک کہ انصاری لشکر جس کے امیر سعد بن عبادہ تھے تو سعد بن عبادہ نے ابو سفیان کو آواز دی۔ آج لڑائی کا دن ہے۔ آج تو حرم میں بھی لڑائی جائز ہے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہاجرین کے ساتھ ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو ابوسفیان نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے کہ وہ قتل کریں۔ کیونکہ سعد بن عبادہ اپنے لوگوں کے ساتھ میرے پاس سے گزرے تو آواز دے کر کہنے لگے کہ آج قتل کا دن ہے آج حرم میں بھی لڑائی جائز ہے اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی قوم کے بارے میں خدا کا واسطہ دیتا ہوں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد بن عبادہ کو معزول کر کے انصار و مہاجرین کا امیر زبیر بن عوام کو مقرر کردیا اور حضرت زبیر نے جحون نامی جگہ پر جا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جھنڈا لگایا اور خالد بن ولید مکہ کی نچلی جانب سے داخل ہوئے تو بنو بکر نے ان سے لڑائی کی، وہ شکست کھا گئے۔ بنو بکر کے بیس افراد، ہذیل کے تین یا چار افراد مارے گئے۔ انھیں شکست ہوئی اور ان کی لڑائی مسجد کے دروازے تک جاری رہی اور ان کے بکھرے ہوئے افراد بھاگ گئے اور گھروں میں داخل ہوگئے اور ایک گروہ پہاڑ پر چڑھ گیا، جن کا مسلمانوں نے تلواروں کے ذریعے پیچھا کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے مہاجرین اور دوسرے لوگوں کے ساتھ داخل ہوئے اور ابو سفیان نے بلند آواز سے مکہ میں داخل ہوتے وقت کہا : جس نے اپنا دروازہ بند کرلیا، لڑائی سے باز رہا وہ امن میں ہے تو اس کی بیوی ہند بنت عقبہ نے کہا : اللہ قوم کے سردار کا برا کرے اور ساتھ ہی اس کے کنبے کا اور ابو سفیان کی داڑھی پکڑ کر اونچی آواز دی۔ اے آل غالب ! اس احمق بوڑھے کو قتل کر دو ، کیا تم نے لڑائی اور دفاع کیا، اپنے جانوں اور شہروں سے۔ ابو سفیان نے کہا : افسوس ہے تجھ پر خاموش ہوجا اور گھر میں داخل ہوجا۔ وہ تو مخلوق لے کر آئے ہیں اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کداء کے راستہ پر آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلحہ کی چمک پہاڑ پر دیکھی، مشرکین کے بکھرے ہوئے افراد سے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا میں نے لڑائی سے منع نہ کیا تھا ؟ تو مہاجرین نے کہا : ہمارا گمان ہے کہ خالد بن ولید قتال میں مصروف ہیں، کیونکہ لگتا ہے ان کو قتال پر مجبور کیا گیا، وگرنہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی نافرمانی اور مخالفت نہ کرتے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شنبہ سے اترے تو جحون مقام پر ٹھہرے۔ یہاں تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ اس نے قصہ ذکر کیا ہے۔ اس میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید سے پوچھا : تو نے لڑائی کیوں کی جبکہ میں نے تجھے منع کیا تھا ؟ انھوں نے جواب دیا کہ لڑائی کی ابتدا انھوں نے کی۔ اسلحہ کا استعمال شروع کیا اور ہمیں تیر مارے۔ میں نے حتی الوسع لڑائی سے گریز کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کا فیصلہ بہتر ہے۔
(١٨٢٨١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُلاَثَۃَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَمْرِو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ وَہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ مُوسَی وَحَدِیثُ عُرْوَۃَ بِمَعْنَاہُ قَالَ : ثُمَّ إِنَّ بَنِی نُفَاثَۃَ مِنْ بَنِی الدِّیلِ أَغَارُوا عَلَی بَنِی کَعْبٍ وَہُمْ فِی الْمُدَّۃِ الَّتِی بَیْنَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَبَیْنَ قُرَیْشٍ وَکَانَتْ بَنُو کَعْبٍ فِی صُلْحِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَکَانَتْ بَنُو نُفَاثَۃَ فِی صُلْحِ قُرَیْشٍ فَأَعَانَتْ بَنُو بَکْرٍ بَنِی نُفَاثَۃَ وَأَعَانَتْہُمْ قُرَیْشٌ بِالسِّلاَحِ وَالرَّقِیقِ ۔ فَذَکَرَ الْقِصَّۃَ قَالَ فَخَرَجَ رَکْبٌ مِنْ بَنِی کَعْبٍ حَتَّی أَتَوْا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرُوا لَہُ الَّذِی أَصَابَہُمْ وَمَا کَانَ مِنْ قُرَیْشٍ عَلَیْہِمْ فِی ذَلِکَ ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّۃَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی مَکَّۃَ وَقِصَّۃَ الْعَبَّاسِ وَأَبِی سُفْیَانَ حِینَ أُتِیَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِمَرِّ الظَّہْرَانِ وَمَعَہُ حَکِیمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ وَحَکِیمٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ادْعُ النَّاسَ إِلَی الأَمَانِ أَرَأَیْتَ إِنِ اعْتَزَلَتْ قُرَیْشٌ فَکَفَّتْ أَیْدِیَہَا آمِنُونَ ہُمْ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : نَعَمْ مَنْ کَفَّ یَدَہُ وَأَغْلَقَ دَارَہُ فَہُوَ آمِنٌ ۔ قَالُوا : فَابْعَثْنَا نُؤَذِّنْ بِذَلِکَ فِیہِمْ ۔ قَالَ : انْطَلِقُوا فَمَنْ دَخَلَ دَارَکَ یَا أَبَا سُفْیَانَ وَدَارَکَ یَا حَکِیمُ وَکَفَّ یَدَہُ فَہُوَ آمِنٌ ۔

وَدَارُ أَبِی سُفْیَانَ بِأَعْلَی مَکَّۃَ وَدَارُ حَکِیمٍ بِأَسْفَلَ مَکَّۃَ فَلَمَّا تَوَجَّہَا ذَاہِبَیْنِ قَالَ الْعَبَّاسُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی لاَ آمَنُ أَبَا سُفْیَانَ أَنْ یَرْجِعَ عَنْ إِسْلاَمِہِ ۔ فَارْدُدْہُ حَتَّی نَقِفَہُ وَیَرَی جُنُودَ اللَّہِ مَعَکَ ۔ فَأَدْرَکَہُ عَبَّاسٌ فَحَبَسَہُ فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : أَغَدْرًا یَا بَنِی ہَاشِمٍ ؟ فَقَالَ الْعَبَّاسُ : سَتَعْلَمُ أَنَا لَسْنَا نَغْدِرُ وَلَکِنْ لِی إِلَیْکَ حَاجَۃً فَأَصْبِحْ حَتَّی تَنْظُرَ جُنُودَ اللَّہِ ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّۃَ إِیقَافِ أَبِی سُفْیَانَ حَتَّی مَرَّتْ بِہِ الْجُنُودُ قَالَ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی الْمُہَاجِرِینَ وَخَیْلِہِمْ وَأَمَرَہُ أَنْ یَدْخُلَ مِنْ کَدَائٍ مِنْ أَعْلَی مَکَّۃَ وَأَعْطَاہُ رَایَتَہُ وَأَمَرَہُ أَنْ یَغْرِزَہَا بِالْحَجُونِ وَلاَ یَبْرَحَ حَیْثُ أَمَرَہُ أَنْ یَغْرِزَہَا حَتَّی یَأْتِیَہُ وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ فِیمَنْ کَانَ أَسْلَمَ مِنْ قُضَاعَۃَ وَبَنِی سُلَیْمٍ وَنَاسًا أَسْلَمُوا قَبْلَ ذَلِکَ وَأَمَرَہُ أَنْ یَدْخُلَ مِنْ أَسْفَلِ مَکَّۃَ وَأَمَرَہُ أَنْ یَغْرِزَ رَایَتَہُ عِنْدَ أَدْنَی الْبُیُوتِ بِأَسْفَلِ مَکَّۃَ وَبِأَسْفَلِ مَکَّۃَ بَنُو بَکْرٍ وَبَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ مَنَاۃٍ وَہُذَیْلٌ وَمَنْ کَانَ مَعَہُمْ مِنَ الأَحَابِیشِ قَدِ اسْتَنْصَرَتْ بِہِمْ قُرَیْشٌ فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَکُونُوا بِأَسْفَلِ مَکَّۃَ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ فِی کَتِیبَۃِ الأَنْصَارِ فِی مُقَدِّمَۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَمَرَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یَکُفُّوا أَیْدِیَہُمْ فَلاَ یُقَاتِلُوا أَحَدًا إِلاَّ مَنْ قَاتَلَہُمْ وَأَمَرَہُمْ بِقَتْلِ أَرْبَعَۃِ نَفَرٍ مِنْہُمْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ وَالْحَارِثُ بْنُ نُقَیْدٍ وَابْنُ خَطَلٍ وَمِقْیَسُ بْنُ صُبَابَۃَ وَأَمَرَ بِقَتْلِ قَیْنَتَیْنِ لاِبْنِ خَطَلٍ کَانَتَا تُغَنِّیَانِ بِہِجَائِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَمَرَّتِ الْکَتَائِبُ یَتْلُو بَعْضُہَا بَعْضًا عَلَی أَبِی سُفْیَانَ وَحَکِیمٍ وَبُدَیْلٍ لاَ تَمُرُّ عَلَیْہِمْ کَتِیبَۃٌ إِلاَّ سَأَلُوا عَنْہَا حَتَّی مَرَّتْ عَلَیْہِمْ کَتِیبَۃُ الأَنْصَارِ فِیہَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ فَنَادَی سَعْدٌ أَبَا سُفْیَانَ : الْیَوْمُ یَوْمُ الْمَلْحَمَۃِ الْیَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْحُرْمَۃُ فَلَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِأَبِی سُفْیَانَ فِی الْمُہَاجِرِینَ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمَرْتَ بِقَوْمِکَ أَنْ یُقْتَلُوا فَإِنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ وَمَنْ مَعَہُ حِینَ مَرُّوُا بِی نَادَانِی سَعْدٌ فَقَالَ : الْیَوْمُ یَوْمُ الْمَلْحَمَۃِ الْیَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْحُرْمَۃُ وَإِنِّی أُنَاشِدُکَ اللَّہَ فِی قَوْمِکَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ فَعَزَلَہُ وَجَعَلَ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ مَکَانَہُ عَلَی الأَنْصَارِ مَعَ الْمُہَاجِرِینَ فَسَارَ الزُّبَیْرُ بِالنَّاسِ حَتَّی وَقَفَ بِالْحَجُونِ وَغَرَزَ بِہَا رَایَۃَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَانْدَفَعَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ حَتَّی دَخَلَ مِنْ أَسْفَلِ مَکَّۃَ فَلَقِیَتْہُ بَنُو بَکْرٍ فَقَاتَلُوہُ فَہُزِمُوا وَقُتِلَ مِنْ بَنِی بَکْرٍ قَرِیبٌ مِنْ عِشْرِینَ رَجُلاً وَمِنْ ہُذَیْلٍ ثَلاَثَۃٌ أَوْ أَرْبَعَۃٌ وَانْہَزَمُوا وَقُتِلُوا بِالْحَزْوَرَۃِ حَتَّی بَلَغَ قَتْلُہُمْ بَابَ الْمَسْجِدِ وَفَرَّ فَضَضُہُمْ حَتَّی دَخَلُوا الدُّورَ وَارْتَفَعَتْ طَائِفَۃٌ مِنْہُمْ عَلَی الْجِبَالِ وَاتَّبَعَہُمُ الْمُسْلِمُونَ بِالسُّیُوفِ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی الْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ فِی أُخْرَیَاتِ النَّاسِ وَصَاحَ أَبُو سُفْیَانَ حِینَ دَخَلَ مَکَّۃَ : مَنْ أَغْلَقَ دَارَہُ وَکَفَّ یَدَہُ فَہُوَ آمِنٌ۔ فَقَالَتْ لَہُ ہِنْدُ بِنْتُ عُتْبَۃَ وَہِیَ امْرَأَتُہُ : قَبَّحَکَ اللَّہُ مِنْ طَلِیعَۃِ قَوْمٍ وَقَبَّحَ عَشِیرَتَکَ مَعَکَ وَأَخَذَتْ بِلِحْیَۃِ أَبِی سُفْیَانَ وَنَادَتْ : یَا آلَ غَالِبٍ اقْتُلُوا الشَّیْخَ الأَحْمَقَ ہَلاَّ قَاتَلْتُمْ وَدَفَعْتُمْ عَنْ أَنْفُسِکُمْ وَبِلاَدِکُمْ ۔ فَقَالَ لَہَا أَبُو سُفْیَانَ : وَیْحَکِ اسْکُتِی وَادْخُلِی بَیْتَکِ فَإِنَّہُ جَائَ نَا بِالْخَلْقِ وَلَمَّا عَلاَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثَنِیَّۃَ کَدَائٍ نَظَرَ إِلَی الْبَارِقَۃِ عَلَی الْجَبَلِ مَعَ فَضَضِ الْمُشْرِکِینَ فَقَالَ : مَا ہَذَا وَقَدْ نَہَیْتُ عَنِ الْقِتَالِ ۔ فَقَالَ الْمُہَاجِرُونَ نَظُنُّ أَنَّ خَالِدًا قُوتِلَ وَبُدِئَ بِالْقِتَالِ فَلَمْ یَکُنْ لَہُ بُدٌّ مِنْ أَنْ یُقَاتِلَ مَنْ قَاتَلَہُ وَمَا کَانَ یَا رَسُولَ اللَّہِ لِیَعْصِیَکَ وَلاَ لِیُخَالِفَ أَمْرَکَ فَہَبَطَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنَ الثَّنِیَّۃِ فَأَجَازَ عَلَی الْحَجُونِ وَانْدَفَعَ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّی وَقَفَ بِبَابِ الْکَعْبَۃِ وَذَکَرَ الْقِصَّۃَ قَالَ فِیہَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ : لِمَ قَاتَلْتَ وَقَدْ نَہَیْتُکَ عَنِ الْقِتَالِ ؟ ۔ فَقَالَ : ہُمْ بَدَأُونَا بِالْقِتَالِ وَوَضَعُوا فِینَا السِّلاَحَ وَأَشْعَرُونَا بِالنَّبْلِ وَقَدْ کَفَفْتُ یَدِی مَا اسْتَطَعْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قَضَائُ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ خَیْرٌ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৮৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کا بیان جس کی اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی
(١٨٢٨٢) ابراہیم بن عقیل بن معقل اپنے والد سے اور وہب سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے جابر سے پوچھا : کیا فتح کے مکہ دن غنیمت بھی حاصل ہوئی ؟ اس نے کہا : نہیں۔
(١٨٢٨٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَقِیلِ بْنِ مَعْقِلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ وَہْبٍ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا ہَلْ غَنِمُوا یَوْمَ الْفَتْحِ شَیْئًا ؟ قَالَ : لاَ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৮৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کا بیان جس کی اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی
(١٨٢٨٣) اسماء بنت ابی بکر ابو قحافہ اور ان کے چھوٹے بچے کی بیٹی کے بارے میں فرماتی ہے کہ وہ فتح کے دن اونٹ چلا رہی تھی۔ جب وہ ابطح سے نیچے اتری تو اسے ایک شہسوار ملا، اس کے گلے چاندی کا ہار تھا۔ کسی انسان نے اس کی گردن سے کاٹ لیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں داخل ہوئے تو ابوبکر (رض) اپنے والد کو لے کر آئے۔ ان کے اسلام کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ پھر ابوبکر (رض) نے کھڑے ہو کر اس کی بہن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ فرمانے لگے : میں انھیں اور اسلام کی قسم دیتا ہوں، یہ ہار میری بہن کا ہے۔ اللہ کی قسم ! کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر انھوں نے دوسری مرتبہ کہا، تب بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر فرمایا : اے بہن صبر کرو۔ اللہ کی قسم ! آج لوگوں میں امانت داری کم ہے۔ یہ دلالت کرتا ہے کہ انھوں نے غنیمت حاصل نہ کی، بلکہ صلح کی فتح تھی۔ اگر زبردستی فتح ہوئی تو غنیمت بھی ہوتی ان کے پاس غنیمت کا مال نہ تھا اور ابوبکر (رض) نے ہار کا مطالبہ نہ کیا۔
(١٨٢٨٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی قِصَّۃِ أَبِی قُحَافَۃَ وَابْنَۃٍ لَہُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِہِ کَانَتْ تَقُودُہُ یَوْمَ الْفَتْحِ حَتَّی إِذَا ہَبَطَتْ بِہِ إِلَی الأَبْطَحِ لَقِیَتْہَا الْخَیْلُ وَفِی عُنُقِہَا طَوْقٌ لَہَا مِنْ وَرِقٍ فَاقْتَطَعَہُ إِنْسَانٌ مِنْ عُنُقِہَا فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمَسْجِدَ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی جَائَ بِأَبِیہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی إِسْلاَمِہِ ثُمَّ قَامَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَخَذَ بِیَدِ أُخْتِہِ فَقَالَ : أَنْشُدُہُمْ بِاللَّہِ وَالإِسْلاَمِ طَوْقَ أُخْتِی فَوَاللَّہِ مَا أَجَابَہُ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَ الثَّانِیَۃَ فَمَا أَجَابَہُ أَحَدٌ فَقَالَ یَا أُخَیَّۃَ احْتَسِبِی طَوْقَکِ فَوَاللَّہِ إِنَّ الأَمَانَۃَ الْیَوْمَ فِی النَّاسِ لَقَلِیلٌ۔

وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُمْ لَمْ یَغْنَمُوا شَیْئًا وَأَنَّہَا فُتِحَتْ صُلْحًا إِذْ لَوْ فُتِحَتْ عَنْوَۃً لَکَانَتْ وَمَا مَعَہَا غَنِیمَۃً وَلَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لاَ یَطْلُبُ طَوْقَہَا۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৯০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کا بیان جس کی اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی
(١٨٢٨٤) حضرت اسامہ بن زید نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ اپنے مکہ کے گھر میں رہیں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑے ہیں ؟ کیونکہ عقیل ابو طالب کا وارث تھا۔ علی اور جعفر ان کے وارث نے تھے کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے عقیل اور طالب دونوں کافر تھے۔
(١٨٢٨٤) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً وَقِرَائَ ۃً قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی عَلِیُّ بْنُ حُسَیْنٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ أَخْبَرَہُ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَنْزِلُ فِی دَارِکَ بِمَکَّۃَ ؟ قَالَ : وَہَلْ تَرَکَ لَنَا عَقِیلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ ۔ وَکَانَ عَقِیلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ ہُوَ وَطَالِبٌ وَلَمْ یَرِثْہُ عَلِیٌّ وَلاَ جَعْفَرٌ شَیْئًا لأَنَّہُمَا کَانَا مُسْلِمَیْنِ وَکَانَ عَقِیلٌ وَطَالِبٌ کَافِرَیْنِ ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৯১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر اور زمین جاہلیت میں تقسیم کی گئی پھر اسی پر لوگ مسلمان ہوگئے
(١٨٢٨٥) ربیع بن سلیمان کہتے ہیں : میں نے امام شافعی (رح) سے پوچھا کہ علاقہ کے لوگ بعض اہل حرب سے ہوتے ہیں وہ اپنے گھر تقسیم کرتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے مالک ہوتے ہیں۔ پھر وہ مسلمان ہوجاتے ہیں اور اس تقسیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مال تقسیم کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں : یہ ان کے لیے درست نہیں ہے۔ میں نے دلیل پوچھی تو فرمایا : جس طرح ان سے مؤاخذہ نہ کیا جائے گا کسی کے قتل، قیدی اور غصب شدہ چیز کا۔ ثور بن زید دیلمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو گھر یا زمین جاہلیت میں تقسیم کردی گئی، وہ اسی تقسیم پر باقی رہے گی اور جو گھر، زمین تقسیم نہ کی گئی تو اسے اسلام کے اصولوں کے مطابق تقسیم کرلیا جائے گا۔
(١٨٢٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ سَأَلْتُ الشَّافِعِیَّ عَنْ أَہْلِ الدَّارِ مِنْ أَہْلِ الْحَرْبِ یَقْسِمُونَ الدَّارَ وَیَمْلِکُ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ عَلَی ذَلِکَ الْقَسْمِ وَیُسْلِمُونَ ثُمَّ یُرِیدُ بَعْضُہُمْ أَنْ یَنْقُضَ ذَلِکَ الْقَسْمَ وَیَقْسِمَہُ عَلَی قَسْمِ الأَمْوَالِ فَقَالَ لَیْسَ ذَلِکَ لَہُ فَقُلْتُ وَمَا الْحُجَّۃُ فِی ذَلِکَ قَالَ الاِسْتِدْلاَلُ بِمَعْنَی الإِجْمَاعِ وَالسُّنَّۃِ فَذَکَرَ مَا لاَ یُؤَاخَذُونَ بِہِ مِنْ قَتْلِ بَعْضِہِمْ بَعْضًا وَسَبْیِ بَعْضِہِمْ بَعْضًا وَغَصْبِ بَعْضِہِمْ بَعْضًا ثُمَّ قَالَ مَعَ أَنَّہُ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ قَالَ بَلَغَنِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : أَیُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ قُسِمَتْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَہِیَ عَلَی قَسْمِ الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَیُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ أَدْرَکَہَا الإِسْلاَمُ لَمْ تُقْسَمْ فَہِیَ عَلَی قَسْمِ الإِسْلاَمِ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ وَنَحْنُ نَرْوِی فِیہِ حَدِیثًا أَثْبَتَ مِنْ ہَذَا بِمِثْلِ مَعْنَاہُ ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَلَعَلَّہُ أَرَادَ مَا۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৯২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر اور زمین جاہلیت میں تقسیم کی گئی پھر اسی پر لوگ مسلمان ہوگئے
(١٨٢٨٦) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہر وہ تقسیم جو جاہلیت میں کی گئی، وہ اسی طرح باقی ہے اور ہر وہ تقسیم جو اسلامی اصولوں کے موافق کی گئی وہ اسی طرح بحال رہے گی۔
(١٨٢٨٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ النَّحْوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حُمَیْدِ بْنِ نُعَیْمٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ دَاوُدَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی الشَّعْثَائِ : جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : کُلُّ قَسْمٍ قُسِمَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَہُوَ عَلَی مَا قُسِمَ عَلَیْہِ وَکُلُّ قَسْمٍ قُسِمَ فِی الإِسْلاَمِ فَہُوَ عَلَی مَا قُسِمَ فِی الإِسْلاَمِ ۔

لَفْظُ حَدِیثِ تَمْتَامٍ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৯৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گھر اور زمین جاہلیت میں تقسیم کی گئی پھر اسی پر لوگ مسلمان ہوگئے
(١٨٢٨٧) عکرمہ، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے امام شافعی (رح) کی روایت کے موافق ذکر کیا۔
(١٨٢٨٧) وَقَدْ رُوِیَ حَدِیثُ مَالِکٍ مَوْصُولاً أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَہُ مِثْلَ رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ ۔ [حسن۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৯৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کو لینے والا مال چھوڑ دینا
(١٨٢٨٨) حضرت جابر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حجۃ الوداع کا قصہ نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ میں ارشاد فرمایا : خبردار ! جاہلیت کی ہر چیز میرے قدموں تلے رکھ دی گئی ہے اور جاہلیت کے تمام خون معاف اور سب سے پہلا خون جو میں معاف کرتا ہوں اپنے خونوں سے وہ ربیعہ بن حارث کا خون ہے، یعنی ابن عبدالمطلب کا۔ یہ بنو سعد میں دودھ پیتے تھے کہ ہذیل والوں نے اسے قتل کردیا۔
(١٨٢٨٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبِرْنِی أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ حَجِّ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ قَالَ فِی خُطْبَتِہِ : أَلاَ وَإِنَّ کُلَّ شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاہِلِیَّۃِ مَوْضُوعٌ تَحْتَ قَدَمَیَّ وَدِمَائُ الْجَاہِلِیَّۃِ مَوْضُوعَۃٌ وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُہُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ رَبِیعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ ۔ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَکَانَ مُسْتَرْضَعًا فِی بَنِی سَعْدٍ فَقَتَلَتْہُ ہُذَیْلٌ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٢١٨]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৯৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کو لینے والا مال چھوڑ دینا
(١٨٢٨٩) ابو شریح خزاعی فرماتے ہیں کہ صحابہ فتح مکہ کے دن ہذیل کے افراد سے ملے، وہ حرم میں جاہلیت کے انتقام کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس شخص کا ارادہ تھا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اسلام پر بیعت کرے، لیکن صحابہ نے اسے قتل کردیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملی تو غصے ہوئے۔ بنو بکر نے ابوبکر (رض) ، عمر (رض) کے پاس شکایت کی کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سفارش کریں۔ جب شام کا وقت ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرمایا : اللہ کی حمد وثنا بیان کی۔ پھر فرمایا : اللہ نے مکہ کو حرمت والا بنایا ہے۔ لوگوں کے لیے حلال نہیں کیا یا فرمایا کہ لوگوں نے اسے حرام قرار نہ دیا۔ یہ صرف میرے لیے ایک گھڑی حلال قرار دیا گیا۔ پھر اللہ نے اس کو پہلے کی طرح حرام ہی قرار دے دیا اور لوگوں کا تین کام کرنا ظلم ہے : 1 کسی شخص کو حرم میں قتل کرنا 2 کسی غیر قاتل انسان کو قتل کرنا 3 جاہلیت کے بدلے کا مطالبہ کرنا۔ اللہ کی قسم ! جس شخص کو تم نے قتل کیا ہے میں اس کی دیت ادا کروں گا۔ ابو شریح کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی دیت ادا کی۔
(١٨٢٨٩) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی ہُوَ ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یُونُسَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی مُسْلِمُ بْنُ یَزِیدَ أَحَدُ بَنِی سَعْدِ بْنِ بَکْرِ بْنِ قَیْسٍ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَبُو شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ الْفَتْحِ لَقُوا رَجُلاً مِنْ ہُذَیْلٍ کَانُوا یَطْلُبُونَہُ بِذَحْلٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فِی الْحَرَمِ یَؤُمُّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِیُبَایِعَہُ عَلَی الإِسْلاَمِ فَقَتَلُوہُ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَضِبَ فَسَعَتْ بَنُو بَکْرٍ إِلَی أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَسْتَشْفِعُونَ بِہِمْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمَّا کَانَ الْعَشِیُّ قَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی النَّاسِ فَأَثْنَی عَلَی اللَّہِ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَکَّۃَ وَلَمْ یُحِلَّہَا لِلنَّاسِ ۔ أَوْ قَالَ : وَلَمْ یُحَرِّمْہَا النَّاسُ وَإِنَّمَا أَحَلَّہَا لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ ثُمَّ ہِیَ حَرَامٌ کَمَا حَرَّمَہَا اللَّہُ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَإِنَّ أَعْدَی النَّاسِ عَلَی اللَّہِ ثَلاَثَۃٌ رَجُلٌ قَتَلَ فِیہَا وَرَجُلٌ قَتَلَ غَیْرَ قَاتِلِہِ وَرَجُلٌ طَلَبَ بِذَحْلِ الْجَاہِلِیَّۃِ وَإِنِّی وَاللَّہِ لأَدِیَنَّ ہَذَا الرَّجُلَ الَّذِی أَصَبْتُمْ ۔

قَالَ أَبُو شُرَیْحٍ فَوَدَاہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [صحیح۔ بدون القصۃ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৯৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کو لینے والا مال چھوڑ دینا
(١٨٢٩٠) حضرت عمرو بن عاص (رض) اپنے اسلام کا قصہ بیان فرماتے ہیں کہ میں آگے بڑھا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس شرط پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیعت کروں گا کہ میرے پہلے گناہ معاف کردیے جائیں اور بعد والوں کا ذکر نہیں کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کہا : اے عمرو ! بیعت کرو، اسلام اپنے سے پہلے تمام گناہ ختم کردیتا ہے اور ہجرت کی وجہ سے بھی پہلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں تو میں نے بیعت کرلی۔
(١٨٢٩٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ رَاشِدٍ مَوْلَی حَبِیبٍ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی أَوْسٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قِصَّۃِ إِسْلاَمِہِ قَالَ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُبَایِعُکَ عَلَی أَنْ یُغْفَرَ لِی مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِی وَلَمْ أَذَکُرْ مَا تَأَخَّرَ فَقَالَ لِی : یَا عَمْرُو بَایِعْ فَإِنَّ الإِسْلاَمَ یَجُبُّ مَا کَانَ قَبْلَہُ وَإِنَّ الْہِجْرَۃَ تَجُبُّ مَا کَانَ قَبْلَہَا ۔ فَبَایَعْتُہُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৯৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کو لینے والا مال چھوڑ دینا
(١٨٢٩١) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا ہمارا مؤاخذہ کیا جائے گا جو جاہلیت میں کام کیے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اسلام میں اچھا ہوا اس کے جاہلیت کے کاموں کا مؤاخذہ نہ کیا جائے گا اور جو اسلام میں اچھا نہ ہوا اس کے پہلے اور بعد والے کاموں کا مؤاخذہ کیا جائے گا۔
(١٨٢٩١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ النَّحْوِیُّ غُلاَمُ ثَعْلَبٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی الأَسَدِیُّ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ؟ قَالَ : مَنْ أَحْسَنَ فِی الإِسْلاَمِ لَمْ یُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَمَنْ أَسَائَ فِی الإِسْلاَمِ أُخِذَ بِالأَوَّلِ وَالآخِرِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ خَلاَّدِ بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৯৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کو لینے والا مال چھوڑ دینا
(١٨٢٩٢) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا ہمارے جاہلیت کے کاموں کا مؤاخذہ کیا جائے گا ؟ فرمایا : جس نے اسلام میں اچھے کام کیے، اس کے جاہلیت کے کاموں کا مؤاخذہ نہ ہوگا اور جس نے برائی کی اس کے پہلے اور آخری تمام کاموں کا مؤاخذہ کیا جائے گا۔

(ب) محمد بن عبداللہ بن نمیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ آخرت کا تھا؛ کیونکہ ایمان کفر کا کفارہ بن جاتا تھا اور نیک اعمال کفر کے علاوہ باقی تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔
(١٨٢٩٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَی رَجُلٌ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا کُنَّا نَعْمَلُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ ؟ فَقَالَ : مَنْ أَحْسَنَ فِی الإِسْلاَمِ لَمْ یُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَمَنْ أَسَائَ أُخِذَ بِالأَوَّلِ وَالآخِرِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ ۔ وَإِنَّمَا أَرَادَ بِہِ فِی الآخِرَۃِ وَکَأَنَّہُ جَعَلَ الإِیمَانَ کَفَّارَۃً لِمَا مَضَی مِنْ کُفْرِہِ وَجَعَلَ الْعَمَلَ الصَّالِحَ بَعْدَہُ کَفَّارَۃً لِمَا مَضَی مِنْ ذُنُوبِہِ سِوَی کُفْرِہِ ۔

[صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৯৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کو لینے والا مال چھوڑ دینا
(١٨٢٩٣) حضرت حکیم بن حزام فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایسے کاموں کے متعلق کیا خیال ہے کہ جاہلیت میں غلام آزاد کرنا، صلہ رحمی کرنا، کیا اس کا مجھے ثواب ملے گا ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے اسلام قبول کیا جو بھلائی تھی وہ تیرے لیے باقی ہے۔
(١٨٢٩٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ حَکِیمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ أُمُورًا کُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ مِنْ عَتَاقَۃٍ وَصِلَۃِ رَحِمٍ ہَلْ لِی فِیہَا مِنْ أَجْرٍ ؟ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَسْلَمْتَ عَلَی مَا سَلَفَ لَکَ مِنْ خَیْرٍ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاہَوَیْہِ وَعَبْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی مسلمان میدانِ جنگ میں تقسیم سے پہلے لونڈی سے صحبت کرلے

قال الشافعی : اس کا حق مہر لیا جائے گا لیکن شبہ کی وجہ سے حد نہیں ہے کیونکہ وہ کسی چیز کا اس سے مالک ہے۔
(١٨٢٩٤) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی طاقت کے موافق حدود کو دور کرو۔ اگر مسلمانوں کے لیے کوئی راستہ پاؤ تو ان کو چھوڑ دو ۔ کیونکہ امام معاف کرنے میں غلطی کرے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ غلطی سے سزا دے۔
(١٨٢٩٤) أَخْبَرَنَا الإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی شُرَیْحٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِیعَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زِیَادٍ الدِّمَشْقِیُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ادْرَئُ وا الْحُدُودَ مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنْ وَجَدْتُمْ لِلْمُسْلِمِینَ مَخْرَجًا فَخَلُّوا سَبِیلَہُ فَإِنَّ الإِمَامَ أَنْ یُخْطِئَ فِی الْعَفْوِ خَیْرٌ مِنْ أَنْ یُخْطِئَ فِی الْعُقُوبَۃِ ۔

وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَغَیْرِہِمَا۔ وَأَصَحُّ الرِّوَایَاتِ فِیہِ عَنِ الصَّحَابَۃِ رِوَایَۃُ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ قَوْلِہِ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الْحُدُودِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی مسلمان میدانِ جنگ میں تقسیم سے پہلے لونڈی سے صحبت کرلے

قال الشافعی : اس کا حق مہر لیا جائے گا لیکن شبہ کی وجہ سے حد نہیں ہے کیونکہ وہ کسی چیز کا اس سے مالک ہے۔
(١٨٢٩٥) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک لونڈی جو دو افراد کی مشترک تھی۔ ایک نے اس سے صحبت کرلی۔ فرمایا کہ وہ خائن انسان ہے، حد نہ لگائیں بلکہ اس کے ذمہ اس کی قیمت لگا دی جائے۔
(١٨٢٩٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنْ أَبِی السَّرِیَّۃِ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سُئِلَ عَنْ جَارِیَۃٍ بَیْنَ رَجُلَیْنِ وَقَعَ عَلَیْہَا أَحَدُہُمَا قَالَ ہُوَ خَائِنٌ لَیْسَ عَلَیْہِ حَدٌّ یُقَوَّمُ عَلَیْہِ قِیمَۃً ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی مسلمان میدانِ جنگ میں تقسیم سے پہلے لونڈی سے صحبت کرلے

قال الشافعی : اس کا حق مہر لیا جائے گا لیکن شبہ کی وجہ سے حد نہیں ہے کیونکہ وہ کسی چیز کا اس سے مالک ہے۔
(١٨٢٩٦) عمیر بن نمیر فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) سے دو آدمیوں کی مشترک لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا کہ ایک اس سے صحبت کرلیتا ہے۔ فرماتے ہیں : اس پر حد نہیں، صرف اس سے قیمت وصول کی جائے گی۔ (ب) یہ بھی صرف اس احتمال کی وجہ سے کہ وہ حاملہ ہوجائے گی۔
(١٨٢٩٦) وَہَذَا یُحْتَمَلُ أَنْ یُرِیدَ بِہِ تَقْوِیمَ الْبُضْعِ عَلَیْہِ فَیَرْجِعُ إِلَی الْمَہْرِ غَیْرَ أَنَّ وَکِیعًا رَوَاہُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ نُمَیْرٍ وَہُوَ اسْمُ أَبِی السَّرِیَّۃِ فَقَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ جَارِیَۃٍ کَانَتْ بَیْنَ رَجُلَیْنِ فَوَقَعَ عَلَیْہَا أَحَدُہُمَا قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ حَدٌّ یُقَوَّمُ عَلَیْہِ قِیمَتَہَا وَیَأْخُذُہَا۔

أَنْبَأَنِیہِ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِجَازَۃً أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ أَخْبَرَنَا ابْنُ زُہَیْرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ عَنْ وَکِیعٍ فَذَکَرَہُ ۔ وَہَذَا یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ فِیہِ إِذَا حَمَلَتْ مِنْہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت جو اپنے خاوند کے ساتھ قیدی بنائی جائے

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اوطاس و بنو مصطلق کے لوگ قیدی بنائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تقسیم فرمائے تو فرمایا کہ حاملہ عورت کے ساتھ صحبت نہ کی جائے اور ایک حیض کا انتظار کیا جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کے خاوند کے با
(١٨٢٩٧) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ اوطاس کے دن ہمیں لونڈیاں ملیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حاملہ کے ساتھ وضع حمل سے پہلے ہمبستری نہ کی جائے اور غیر حاملہ سے ایک حیض آنے تک۔
(١٨٢٩٧) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیدٍ أَخْبَرَنَا شَرِیکٌ عَنْ قَیْسِ بْنِ وَہْبٍ وَالْمُجَالِدِ عَنْ أَبِی الْوَدَّاکِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَصَبْنَا سَبَایَا یَوْمَ أَوْطَاسٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّی تَضَعَ حَمْلَہَا وَلاَ غَیْرُ حَامِلٍ حَتَّی تَحِیضَ حَیْضَۃً ۔ [حسن لغیرہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت جو اپنے خاوند کے ساتھ قیدی بنائی جائے

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اوطاس و بنو مصطلق کے لوگ قیدی بنائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تقسیم فرمائے تو فرمایا کہ حاملہ عورت کے ساتھ صحبت نہ کی جائے اور ایک حیض کا انتظار کیا جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کے خاوند کے با
(١٨٢٩٨) حنش صنعانی فرماتے ہیں کہ ہم نے رویفع انصاری کے ساتھ مل کر غزوہ کیا۔ ایک بستی فتح ہوگئی تو انھوں نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا : میں تم سے صرف وہی بات کہوں گا جو میں نے خیبر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ غیر کی کھیتی کو پانی دے، یعنی حاملہ عورت سے وطی نہ کرے اور کسی مومن کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ استبراء رحم کے بغیر کسی قیدی عورت سے ہم بستری کرے اور کسی مومن کے لیے جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے یہ جائز نہیں کہ مال غنیمت کو تقسیم ہونے سے پہلے فروخت کرے اور کسی مومن کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے یہ جائز نہیں مال فیٔ کی سواری لے کر دبلی پتلی یعنی کمزور کر کے واپس کرے اور نہ ہی کسی مسلمان کے لیے یہ جائز ہے کہ جس کا اللہ اور آخرت کے دن پر یقین ہے کہ وہ مال فیٔ سے کپڑے حاصل کر کے پہنے اور بوسیدہ کر کے واپس کر دے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لیے حکم دیا تاکہ دو خاوندوں کے درمیان عصمت ختم ہوجائے۔ اللہ کا فرمان ہے : { وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ } [النساء ٢٤] ” وہ خاوند والی عورتیں جن کو لونڈی بنا کر تم ان کے مالک بنے ہو۔ “
(١٨٢٩٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَبِی مَرْزُوقٍ مَوْلَی تُجَیْبٍ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِیِّ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ أَبِی رُوَیْفِعٍ الأَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْمَغْرِبَ فَافْتَتَحَ قَرْیَۃً فَقَامَ خَطِیبًا فَقَالَ : إِنِّی لاَ أَقُولُ فِیکُمْ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ فِینَا یَوْمَ خَیْبَرَ قَامَ فِینَا عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَقَالَ : لاَ یَحِلُّ لاِمْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ یَسْقِیَ مَائَ ہُ زَرْعَ غَیْرِہِ ۔ یَعْنِی إِتْیَانَ الْحُبَالَی مِنَ الْفَیْئِ : وَلاَ یَحِلُّ لاِمْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ یُصِیبَ امْرَأَۃً مِنَ السَّبْیِ ثَیِّبًا حَتَّی یَسْتَبْرِئَہَا وَلاَ یَحِلُّ لاِمْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ یَبِیعَ مَغْنَمًا حَتَّی یُقْسَمَ وَلاَ یَحِلُّ لاِمْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ یَرْکَبُ دَابَّۃً مِنْ فَیْئِ الْمُسْلِمِینَ حَتَّی إِذَا أَعْجَفَہَا رَدَّہَا فِیہِ وَلاَ یَحِلُّ لاِمْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ یَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَیْئِ الْمُسْلِمِینَ حَتَّی إِذَا أَخْلَقَہُ رَدَّہُ ۔

کَذَا قَالَ یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ یَوْمَ خَیْبَرَ وَإِنَّمَا ہُوَ یَوْمَ حُنَیْنٍ کَذَلِکَ رَوَاہُ غَیْرُہُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ غَیْرُ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَالَ غَیْرُہُ رُوَیْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ وَہُوَ الصَّحِیحُ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَدَلَّ ذَلِکَ عَلَی أَنَّ السِّبَائَ نَفْسَہُ انْقِطَاعُ الْعِصْمَۃِ بَیْنَ الزَّوْجَیْنِ وَذَلِکَ أَنَّہُ لاَ یَأْمُرُ بِوَطْئِ ذَاتِ زَوْجٍ بَعْدَ حَیْضَۃٍ إِلاَّ وَذَلِکَ قَطْعُ الْعِصْمَۃِ وَقَدْ ذَکَرَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ قَوْلَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ إِلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ } [النساء ٢٤] ذَوَاتُ الأَزْوَاجِ اللاَّتِی مَلَکْتُمُوہُنَّ بِالسِّبَائِ ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرُوِّینَا فِی کِتَابِ النِّکَاحِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت جو اپنے خاوند کے ساتھ قیدی بنائی جائے

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اوطاس و بنو مصطلق کے لوگ قیدی بنائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تقسیم فرمائے تو فرمایا کہ حاملہ عورت کے ساتھ صحبت نہ کی جائے اور ایک حیض کا انتظار کیا جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کے خاوند کے با
(١٨٢٩٩) حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کے دن ایک سریہ روانہ فرمایا، جن کی لڑائی اوطاس کے دن عرب کے ایک لشکر سے ہوئی جن کو شکست ہوئی۔ عورتیں قیدی بنیں جن کے خاوند بھی تھے تو صحابہ نے ان کے خاوندوں کی وجہ سے ان سے ہم بستری کرنے کو گناہ خیال کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ } [النساء ٢٤] کہ یہ تمہارے لیے حلال ہیں۔
(١٨٢٩٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الخَلِیلِ أَنَّ أَبَا عَلْقَمَۃَ الْہَاشِمِیَّ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ سَرِیَّۃً یَوْمَ حُنَیْنٍ فَأَصَابُوا جَیْشًا مِنَ الْعَرَبِ یَوْمَ أَوْطَاسٍ فَقَاتَلُوہُمْ وَہَزَمُوہُمْ فَأَصَابُوا نِسَائً لَہُنَّ أَزْوَاجٌ فَکَأَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَأَثَّمُوا مِنْ غِشْیَانِہِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِہِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ إِلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ } [النساء ٢٤] فَہُنَّ لَکُمْ حَلاَلٌ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٤٥٦]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت جو اپنے خاوند کے ساتھ قیدی بنائی جائے

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اوطاس و بنو مصطلق کے لوگ قیدی بنائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تقسیم فرمائے تو فرمایا کہ حاملہ عورت کے ساتھ صحبت نہ کی جائے اور ایک حیض کا انتظار کیا جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کے خاوند کے با
(١٨٣٠٠) سعید بن ابی عروبہ نے فرمایا ہے کہ یہ ان کے لیے حلال ہیں جب عدت ختم ہوجائے۔
(١٨٣٠٠) وَأَخْرَجَہُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ الْقَوَارِیرِیِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ بِمَعْنَاہُ زَادَ فِیہِ أَیْ فَہُنَّ لَہُمْ حَلاَلٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہُنَّ ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَیْسَرَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ فَذَکَرَہُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক: