আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৮২৬৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کسی چیز پر اسلام قبول کیا وہ اس کی ہے
(١٨٢٦١) سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل ذمہ سے فرمایا : ان کے لیے ہے جس پر انھوں نے اسلام قبول کیا۔ مال، غلام، گھر، زمین اور مویشی وغیرہ۔ ان کے ذمہ صرف زکوۃ ہے۔
(١٨٢٦١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو شَیْخٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَعْیَنَ عَنْ لَیْثِ بْنِ أَبِی سُلَیْمٍ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی أَہْلِ الذِّمَّۃِ : لَہُمْ مَا أَسْلَمُوا عَلَیْہِ مِنْ أَمْوَالِہِمْ وَعَبِیدِہِمْ وَدِیَارِہِمْ وَأَرْضِہِمْ وَمَاشِیَتِہِمْ لَیْسَ عَلَیْہِمْ فِیہِ إِلاَّ الصَّدَقَۃُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৬৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حربی کافر امان میں داخل ہوجائے اور اس کا مال دار الحرب میں ہو پھر وہ دار الحرب میں مسلمان ہوجائے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سعید کے دو بیٹے مسلمان ہوگئے، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو قریظہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے تو اسلام قبول کرنے نے ان کی جان، مال اور زمین کو مح
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سعید کے دو بیٹے مسلمان ہوگئے، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو قریظہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے تو اسلام قبول کرنے نے ان کی جان، مال اور زمین کو مح
(١٨٢٦٢) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو نضیر، بنو قریظہ کے یہودیوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو نضیر کو جلا وطن کردیا جبکہ بنو قریظہ کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا لیکن بعد میں بنو قریظہ نے آپ سے لڑائی کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے مردوں کو قتل کیا اور ان کی عورتیں، مال اور اولاد کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ لیکن جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پناہ بھی دی تو انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔
(١٨٢٦٢) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ یَہُودَ بَنِی النَّضِیرِ وَقُرَیْظَۃَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَجْلَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَنِی النَّضِیرِ وَأَقَرَّ قُرَیْظَۃَ وَمَنَّ عَلَیْہِمْ حَتَّی حَارَبَتِ قُرَیْظَۃُ بَعْدَ ذَلِکَ فَقَتَلَ رِجَالَہُمْ وَقَسَمَ نِسَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ وَأَوْلاَدَہُمْ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ إِلاَّ بَعْضَہُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَآمَنَہُمْ وَأَسْلَمُوا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৬৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حربی کافر امان میں داخل ہوجائے اور اس کا مال دار الحرب میں ہو پھر وہ دار الحرب میں مسلمان ہوجائے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سعید کے دو بیٹے مسلمان ہوگئے، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو قریظہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے تو اسلام قبول کرنے نے ان کی جان، مال اور زمین کو مح
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سعید کے دو بیٹے مسلمان ہوگئے، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو قریظہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے تو اسلام قبول کرنے نے ان کی جان، مال اور زمین کو مح
(١٨٢٦٣) عاصم بن عمر بن قتادہ بنو قریظہ کے ایک شیخ سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کہا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ ثعلبہ، اسید جو سعید کے بیٹے تھے اور اسد بن عبید جو بنو ہزل سے تھا بنو نضیر اور بنو قریظہ سے نہ تھا بلکہ ان کے اعلیٰ لوگوں میں سے تھا۔ انھوں نے اسلام قبول کرلیا ؟ میں نے کہا : نہیں انھوں نے فرمایا بلکہ ہمارے پاس شام سے یہود کا ایک شخص آیا، اسے ابن ہیبان کہا جاتا تھا۔ اس نے ہمارے پاس قیام کیا۔ اللہ کی قسم ! ہم نے اس جیسا شخص کوئی نہیں دیکھا۔ اس سے بہتر پانچ نمازیں کوئی نہ پڑھتا تھا۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے دو سال پہلے آیا، جب قحط سالی یا بارش کم ہوئی۔ ہم کہتے : اے ابن ہیبان ! چلو ہمارے لیے بارش کی دعا کرو۔ وہ کہتا کہ نہیں پہلے صدقہ کرو پھر دعا کے لیے چلتے ہیں۔ ہم پوچھتے کتنا صدقہ کریں ؟ وہ کہتا کہ ایک صاع کھجور یا دو مد جو۔ پھر وہ پتھریلی زمین کی طرف نکلتا ہے۔ ہم بھی ساتھ ہوتے اور وہ بارش کی دعا کرتا۔ اللہ کی قسم ! ہم اپنی جگہ سے نہ ہٹتے کہ بادل آجاتے۔ یہ کام اس نے کئی مرتبہ کیا۔ اس کی موت کا وقت آگیا تو ہم اس کے پاس جمع ہوگئے۔ اس نے کہا : اے یہود کا گروہ ! تمہارا اس کے بارے میں کیا خیال ہے کہ ایک نبی آئے گا جس کی حکومت ان شہروں تک اور یہ اس کی ہجرت گاہ بھی ہے۔ میں اس کی پیروی کروں گا جب اس کا ظہور ہو اور تم اس کے مد مقابل نہ آنا۔ کیونکہ وہ اپنے مخالفوں کا خون بہائے گا۔ بچوں اور عورتوں کو قیدی بنائے گا تو اس کے ماننے سے کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے۔ پھر وہ فوت ہوگیا۔ جس رات بنو قریظہ مغلوب کردیے گئے۔ اس وقت یہ تینوں جوان تھے۔ انھوں نے کہا : اے یہود کا گروہ ! ابن ہیبان نے تمہیں کچھ کہا تھا ؟ انھوں نے کہا : وہ کیا ؟ انھوں نے کہا : یہ وہی ہے یہی صفات اس نے بیان کی تھیں۔ آپ نے ان کے مال، اولاد اور گھر والے دے دیے۔ ان کے مال قلعہ میں مشرکین کے پاس تھے جب فتح ہوئی تو ان کو واپس کردیے۔
(١٨٢٦٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ عَنْ شَیْخٍ مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ أَنَّہُ قَالَ : ہَلْ تَدْرِی عَمَّ کَانَ إِسْلاَمُ ثَعْلَبَۃَ وَأَسِیدِ ابْنَیْ سَعْیَۃَ وَأَسَدِ بْنِ عُبَیْدٍ نَفَرٍ مِنْ ہَدَلٍ لَمْ یَکُونُوا مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ وَلاَ نَضِیرٍ کَانُوا فَوْقَ ذَلِکَ فَقُلْتُ لاَ قَالَ فَإِنَّہُ قَدِمَ عَلَیْنَا رَجُلٌ مِنَ الشَّامِ مِنْ یَہُودَ یُقَالُ لَہُ ابْنُ الْہَیَّبَانِ فَأَقَامَ عِنْدَنَا وَاللَّہِ مَا رَأَیْنَا رَجُلاً قَطُّ لاَ یُصَلِّی الْخَمْسَ خَیْرًا مِنْہُ فَقَدِمَ عَلَیْنَا قَبْلَ مَبْعَثِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِسِنِینَ فَکُنَّا إِذَا أُقْحِطْنَا وَقَلَّ عَلَیْنَا الْمَطَرُ نَقُولُ لَہُ یَا ابْنَ الْہَیَّبَانِ اخْرُجْ فَاسْتَسْقِ لَنَا فَیَقُولُ لاَ وَاللَّہِ حَتَّی تُقَدِّمُوا أَمَامَ مَخْرَجِکُمْ صَدَقَۃً فَنَقُولُ کَمْ نُقَدِّمُ فَیَقُولُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ مُدَّیْنِ مِنْ شَعِیرٍ ثُمَّ یَخْرُجُ إِلَی ظَاہِرَۃِ حَرَّتِنَا وَنَحْنُ مَعَہُ فَیَسْتَسْقِی فَوَاللَّہِ مَا یَقُومُ مِنْ مَجْلِسِہِ حَتَّی تَمُرَّ الشِّعَابُ قَدْ فَعَلَ ذَلِکَ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلاَ مَرَّتَیْنِ وَلاَ ثَلاَثَۃِ فَحَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ فَاجْتَمَعْنَا إِلَیْہِ فَقَالَ یَا مَعْشَرَ یَہُودَ مَا تَرَوْنَہُ أَخْرَجَنِی مِنْ أَرْضِ الْخَمْرِ وَالْخَمِیرِ إِلَی أَرْضِ الْبُؤْسِ وَالْجُوعِ فَقُلْنَا أَنْتَ أَعْلَمُ فَقَالَ إِنَّہُ إِنَّمَا أَخْرَجَنِی أَتَوَقَّعُ خُرُوجَ نَبِیٍّ قَدْ أَظَلَّ زَمَانُہُ ہَذِہِ الْبِلاَدُ مُہَاجَرُہُ فَأَتَّبِعُہُ فَلاَ تُسْبَقُنَّ إِلَیْہِ إِذَا خَرَجَ یَا مَعْشَرَ یَہُودَ فَإِنَّہُ یَسْفِکُ الدِّمَائَ وَیَسْبِی الذَّرَارِیَّ وَالنِّسَائَ مِمَّنْ خَالَفَہُ فَلاَ یَمْنَعُکُمْ ذَلِکَ مِنْہُ ثُمَّ مَاتَ فَلَمَّا کَانَتْ تِلْکَ اللَّیْلَۃُ الَّتِی افْتُتِحَتْ فِیہَا قُرَیْظَۃُ قَالَ أُولَئِکَ الْفِتْیَۃُ الثَّلاَثَۃُ وَکَانُوا شَبَابًا أَحْدَاثًا یَا مَعْشَرَ یَہُودَ لَلَّذِی کَانَ ذَکَرَ لَکُمُ ابْنُ الْہَیَّبَانِ قَالُوا مَا ہُوَ قَالُوا بَلَی وَاللَّہِ إِنَّہُ لَہُوَ یَا مَعْشَرَ یَہُودَ إِنَّہُ وَاللَّہِ لَہُوَ لِصِفَتِہِ ثُمَّ نَزَلُوا فَأَسْلَمُوا وَخَلَّوْا أَمْوَالَہُمْ وَأَوْلاَدَہُمْ وَأَہَالِیہِمْ قَالَ وَکَانَتْ أَمْوَالُہُمْ فِی الْحِصْنِ مَعَ الْمُشْرِکِینَ فَلَمَّا فُتِحَ رُدَّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৭০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حربی کافر امان میں داخل ہوجائے اور اس کا مال دار الحرب میں ہو پھر وہ دار الحرب میں مسلمان ہوجائے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سعید کے دو بیٹے مسلمان ہوگئے، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو قریظہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے تو اسلام قبول کرنے نے ان کی جان، مال اور زمین کو مح
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سعید کے دو بیٹے مسلمان ہوگئے، حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو قریظہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے تو اسلام قبول کرنے نے ان کی جان، مال اور زمین کو مح
(١٨٢٦٤) عثمان بن ابی حازم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا صخر سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو ثقیف سے غزوہ کیا صخر کو پتہ چلا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کے لیے اپنے گھوڑے پر آیا۔ اس نے دیکھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بغیر فتح کے واپس ہوئے ہیں تو صخر نے کہا : وہ اتنی دیر نہ جائے گا جب تک یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر نہ اتر آئیں۔ بالآخر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر اتر پڑے تو صخر نے لکھا : حمد و ثنا کے بعد ! اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کے حکم پر اتر پڑے ہیں اور آپ کے پاس ایک قافلہ کی صورت میں آ رہے ہیں۔ آپ نے حکم فرمایا : صلوۃ جامعۃ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل احمس کے لیے دس دعائیں فرمائیں۔ اے اللہ ! اہل احمس کے سواروں اور پیادوں میں برکت دے۔ لوگ آئے تو مغیرہ نے بات کی کہ اے اللہ کے رسول ! صخر نے میری پھوپھی کو پکڑ لیا ہے وہ بھی لوگوں کے ساتھ مسلمان ہوگئی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صخر کو بلایا اور فرمایا : اے صخر جب لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں تو اپنے مال، خون محفوظ کرلیتے ہیں تو مغیرہ کو ان کی پھوپھی واپس کر دو ۔ صخر نے واپس کردی اور کہا : بنو سلیم کے پانیوں کے متعلق سوال کیا جو اسلام سے بھاگ گئے اور پانی چھوڑ گئے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اور میری قوم کو وہ عطا کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : درست ہے۔ وہ وہاں چلے گئے تو پھر بنو سلیم والے مسلمان ہو کر آگئے۔ تو صخر سے اپنے پانی کا مطالبہ کیا تو اس نے انکار کردیا تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے کہ اے اللہ کے رسول ! ہم نے اسلام قبول کرلیا اور ہم نے صغر سے مطالبہ کیا کہ وہ ہمارے پانی واپس کردیں۔ لیکن اس نے انکار کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صخر کو بلایا اور فرمایا : اے صخر ! جب لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں تو اپنے مال، خون محفوظ کرلیتے ہیں۔ آپ ان کے پانی واپس کردیں۔ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! درست ہے۔ میں نے رسول اللہ کے چہرے کو دیکھا کہ وہ حیا کی وجہ سرخ ہو رہا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے لونڈی اور پانی واپس لیے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں : اس قول سے استدلال کیا ہے کہ لوگ جب مسلمان ہوجاتے ہیں تو اپنے مال، خون محفوظ کرلیتے ہیں صخر سے پانی واپس لینا یہ بھی اس کے مشابہ ہے کہ وہ اپنے دل کی خوشی سے واپس کریں۔ یہی وجہ تھی کہ حیاء کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا اور مغیرہ کی پھوپھی نے پکڑے جانے کے بعد اسلام قبول کیا لیکن تقسیم سے پہلے وہ اپنے مال کا مالک بن گیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ پکڑے جانے سے پہلے ہی اس نے اسلام قبول کرلیا۔ رعیہ حیمی کا قصہ ہے کہ جب وہ مسلمان ہوا تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے اہل و عیال اور مال ؟ آپ نے فرمایا : تیرا مال تو مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہوچکا اور اپنے اہل کو دیکھو جس پر آپ کو قدرت ہو تو اس کا بیٹا واپس کردیا گیا۔ ممکن ہے غنیمت وصول کرنے والوں نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہو۔
شیخ فرماتے ہیں : اس قول سے استدلال کیا ہے کہ لوگ جب مسلمان ہوجاتے ہیں تو اپنے مال، خون محفوظ کرلیتے ہیں صخر سے پانی واپس لینا یہ بھی اس کے مشابہ ہے کہ وہ اپنے دل کی خوشی سے واپس کریں۔ یہی وجہ تھی کہ حیاء کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا اور مغیرہ کی پھوپھی نے پکڑے جانے کے بعد اسلام قبول کیا لیکن تقسیم سے پہلے وہ اپنے مال کا مالک بن گیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ پکڑے جانے سے پہلے ہی اس نے اسلام قبول کرلیا۔ رعیہ حیمی کا قصہ ہے کہ جب وہ مسلمان ہوا تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے اہل و عیال اور مال ؟ آپ نے فرمایا : تیرا مال تو مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہوچکا اور اپنے اہل کو دیکھو جس پر آپ کو قدرت ہو تو اس کا بیٹا واپس کردیا گیا۔ ممکن ہے غنیمت وصول کرنے والوں نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہو۔
(١٨٢٦٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبُو حَفْصٍ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ عُمَرُ وَہُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ قَالَ حَدَّثَنِی عُثْمَانُ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ صَخْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غَزَا ثَقِیفًا فَلَمَّا أَنْ سَمِعَ ذَلِکَ صَخْرٌ رَکِبَ فِی خَیْلٍ یُمِدُّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَوَجَدَ نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدِ انْصَرَفَ وَلَمْ یَفْتَحْ فَجَعَلَ صَخْرٌ حِینَئِذٍ عَہْدَ اللَّہِ وَذِمَّتَہُ أَنْ لاَ یُفَارِقَ ہَذَا الْقَصْرَ حَتَّی یَنْزِلُوا عَلَی حُکْمِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمْ یُفَارِقْہُمْ حَتَّی نَزَلُوا عَلَی حُکْمِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَکَتَبَ إِلَیْہِ صَخْرٌ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ ثَقِیفًا قَدْ نَزَلُوا عَلَی حُکْمِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَأَنَا مُقْبِلٌ إِلَیْہِمْ وَہُمْ فِی خَیْلٍ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالصَّلاَۃِ جَامِعَۃً فَدَعَا لأَحْمَسَ عَشْرَ دَعَوَاتٍ اللَّہُمَّ بَارِکْ لأَحْمَسَ فِی خَیْلِہَا وَرِجَالِہَا وَأَتَاہُ الْقَوْمُ فَتَکَلَّمَ الْمُغِیرَۃُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ صَخْرًا أَخَذَ عَمَّتِی وَدَخَلَتْ فِیمَا دَخَلَ فِیہِ الْمُسْلِمُونَ فَدَعَاہُ فَقَالَ : یَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا دِمَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ فَادْفَعْ إِلَی الْمُغِیرَۃِ عَمَّتَہُ ۔ فَدَفَعَہَا إِلَیْہِ وَسَأَلَ نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَائً لِبَنِی سُلَیْمٍ قَدْ ہَرَبُوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَتَرَکُوا ذَاکَ الْمَائَ فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَنْزِلْنِیہِ أَنَا وَقَوْمِی قَالَ : نَعَمْ ۔ فَأَنْزَلَہُ وَأَسْلَمَ یَعْنِی السُّلَمِیِّینَ فَأَتَوْا صَخْرًا فَسَأَلُوہُ أَنْ یَدْفَعَ إِلَیْہِمُ الْمَائَ فَأَبَی فَأَتَوْا نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالُوا : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَسْلَمْنَا وَأَتَیْنَا صَخْرًا لِیَدْفَعَ إِلَیْنَا مَائَ نَا فَأَبَی عَلَیْنَا فَدَعَاہُ فَقَالَ : یَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَہُمْ وَدِمَائَ ہُمْ فَادْفَعْ إِلَی الْقَوْمِ مَائَ ہُمْ ۔ قَالَ : نَعَمْ یَا نَبِیَّ اللَّہِ فَرَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَتَغَیَّرُ عِنْدَ ذَلِکَ حُمْرَۃً حَیَائً مِنْ أَخْذِہِ الْجَارِیَۃَ وَأَخْذِہِ الْمَائَ ۔
قَالَ الشَّیْخُ : الاِسْتِدْلاَلُ وَقَعَ بِقَوْلِہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَہُمْ وَدِمَائَ ہُمْ ۔ فَأَمَّا اسْتِرْدَادُ الْمَائِ عَنْ صَخْرٍ بَعْدَ مَا مَلَکَہُ بِتَمْلِیکِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِیَّاہُ فَإِنَّہُ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ بِاسْتِطَابَۃِ نَفْسِہِ وَلِذَلِکَ کَانَ یَظْہَرُ فِی وَجْہِہِ أَثَرَ الْحَیَائِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ وَعَمَّۃُ الْمُغِیرَۃِ فَإِنْ کَانَتْ أَسْلَمَتْ بَعْدَ الأَخْذِ فَکَأَنَّہُ رَأَی إِسْلاَمَہَا قَبْلَ الْقِسْمَۃِ یُحْرِزُ مَالَہَا وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ إِسْلاَمُہَا قَبْلَ الأَخْذِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ وَصَخْرٌ ہَذَا ہُوَ ابْنُ الْعَیِّلَۃِ قَالَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ أَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ صَخْرِ بْنِ الْعَیِّلَۃِ لَمْ یَقُلْ عَنْ أَبِیہِ وَرُوِیَ فِی قِصَّۃِ رِعْیَۃَ السُّحَیْمِیِّ مَا دَلَّ عَلَیْہِ ظَاہِرُ قِصَّۃِ عَمَّۃِ الْمُغِیرَۃِ فَإِنَّہُ أَسْلَمَ ثُمَّ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَہْلِی وَمَالِی۔ قَالَ : أَمَّا مَالُکَ فَقَدْ قُسِمَ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ وَأَمَّا أَہْلُکَ فَانْظُرْ مْنْ قَدَرْتَ عَلَیْہِ مِنْہُمْ ۔ قَالَ : فَرُدَّ عَلَیْہِ ابْنُہُ وَیُحْتَمَلُ أَنَّہُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ أَہْلِ الْغَنِیمَۃِ کَمَا فَعَلَ فِی سَبْیِ ہَوَازِنَ وَعَوَّضَ أَہْلَ الْخُمُسِ مِنْ نَصِیبِہِمْ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَإِسْنَادُ الْحَدِیثَیْنِ غَیْرُ قَوِیٍّ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّیْخُ : الاِسْتِدْلاَلُ وَقَعَ بِقَوْلِہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَہُمْ وَدِمَائَ ہُمْ ۔ فَأَمَّا اسْتِرْدَادُ الْمَائِ عَنْ صَخْرٍ بَعْدَ مَا مَلَکَہُ بِتَمْلِیکِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِیَّاہُ فَإِنَّہُ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ بِاسْتِطَابَۃِ نَفْسِہِ وَلِذَلِکَ کَانَ یَظْہَرُ فِی وَجْہِہِ أَثَرَ الْحَیَائِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ وَعَمَّۃُ الْمُغِیرَۃِ فَإِنْ کَانَتْ أَسْلَمَتْ بَعْدَ الأَخْذِ فَکَأَنَّہُ رَأَی إِسْلاَمَہَا قَبْلَ الْقِسْمَۃِ یُحْرِزُ مَالَہَا وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ إِسْلاَمُہَا قَبْلَ الأَخْذِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ وَصَخْرٌ ہَذَا ہُوَ ابْنُ الْعَیِّلَۃِ قَالَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ أَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ صَخْرِ بْنِ الْعَیِّلَۃِ لَمْ یَقُلْ عَنْ أَبِیہِ وَرُوِیَ فِی قِصَّۃِ رِعْیَۃَ السُّحَیْمِیِّ مَا دَلَّ عَلَیْہِ ظَاہِرُ قِصَّۃِ عَمَّۃِ الْمُغِیرَۃِ فَإِنَّہُ أَسْلَمَ ثُمَّ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَہْلِی وَمَالِی۔ قَالَ : أَمَّا مَالُکَ فَقَدْ قُسِمَ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ وَأَمَّا أَہْلُکَ فَانْظُرْ مْنْ قَدَرْتَ عَلَیْہِ مِنْہُمْ ۔ قَالَ : فَرُدَّ عَلَیْہِ ابْنُہُ وَیُحْتَمَلُ أَنَّہُ اسْتَطَابَ أَنْفُسَ أَہْلِ الْغَنِیمَۃِ کَمَا فَعَلَ فِی سَبْیِ ہَوَازِنَ وَعَوَّضَ أَہْلَ الْخُمُسِ مِنْ نَصِیبِہِمْ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَإِسْنَادُ الْحَدِیثَیْنِ غَیْرُ قَوِیٍّ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৭১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب مشرک قید ہونے سے پہلے اسلام قبول کرلے تو امام کے ذمہ کیا ہے یا ایسے کلام کریں جو اسلام کے اقرار کے مشابہ ہو یا کسی اور کے
(١٨٢٦٥) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید کو بنو خزیمہ کی طرف بھیجا تو خالد نے انھیں اسلام کی دعوت دی۔ انھوں نے اچھی کلام نہ کی کہ وہ کہتے کہ ہم مسلمان ہوگئے بلکہ انھوں نے کہا : ہم بےدین ہوگئے تو خالد نے انھیں قتل کیا اور قیدی بنائے۔ کہتے ہیں : پھر ہر شخص کو اس کا قیدی دے دیا گیا تو ایک صبح حضرت خالد نے حکم دیا کہ اپنے قیدی قتل کر دو تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : نہ تو میں اپنے قیدی کو قتل کروں گا اور نہ ہی میرا کوئی ساتھی تو ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ بلند کر کے فرمایا : اے اللہ ! میں اس سے بری ہوں جو خالد نے کیا۔
(١٨٢٦٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا فَیَّاضٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : بَعَثَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ أَحْسِبُہُ قَالَ إِلَی بَنِی جَذِیمَۃَ فَدَعَاہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ فَلَمْ یُحْسِنُوا أَنْ یَقُولُوا أَسْلَمْنَا فَقَالُوا صَبَأْنَا صَبَأْنَا وَجَعَلَ خَالِدٌ بِہِمْ قَتْلاً وَأَسْرًا قَالَ ثُمَّ دَفَعَ إِلَی کُلِّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِیرًا حَتَّی إِذَا أَصْبَحَ یَوْمًا أَمَرَنَا فَقَالَ : لِیَقْتُلْ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْکُمْ أَسِیرَہُ ۔ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَاللَّہِ لاَ أَقْتُلُ أَسِیرِی وَلاَ یَقْتُلُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِی أَسِیرَہُ قَالَ فَقَدِمْنَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذُکِرَ لَہُ مَا صَنَعَ خَالِدٌ قَالَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَبْرَأُ إِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔
[صحیح۔ بخاری ٤٣٣٩-٧١٨٩]
[صحیح۔ بخاری ٤٣٣٩-٧١٨٩]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৭২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب مشرک قید ہونے سے پہلے اسلام قبول کرلے تو امام کے ذمہ کیا ہے یا ایسے کلام کریں جو اسلام کے اقرار کے مشابہ ہو یا کسی اور کے
(١٨٢٦٦) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مسلمان کسی شخص کو اس کے مال میں ملا۔ اس نے کہا : تم پر سلامتی ہو تو انھوں نے پکڑ کر اس کو قتل کردیا۔ اس کی بکریاں بھی لے لیں تو یہ آیت نازل ہوئی : { وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا } [النساء ٩٤] ” اور تم ایسے شخص کو نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے جو تمہاری طرف صلح چاہتا ہے۔
(١٨٢٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَقِیَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ رَجُلاً فِی غُنَیْمَۃٍ لَہُ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ فَأَخَذُوہُ فَقَتَلُوہُ وَأَخَذُوا تِلْکَ الْغُنَیْمَۃَ فَنَزَلَتْ { وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا } [النساء ٩٤] وَقَرَأَہَا ابْنُ عَبَّاسٍ السَّلاَمَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِاللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔[صحیح ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِاللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔[صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৭৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب مشرک قید ہونے سے پہلے اسلام قبول کرلے تو امام کے ذمہ کیا ہے یا ایسے کلام کریں جو اسلام کے اقرار کے مشابہ ہو یا کسی اور کے
(١٨٢٦٧) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو سلیم کا ایک شخص صحابہ کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا۔ اس کے پاس بکریاں بھی تھیں۔ اس نے سلام کیا۔ صحابہ کہنے لگے : اس نے صرف بچاؤ کے لیے سلام کہا ہے۔ انھوں نے پکڑ کر اس کو قتل کردیا اور اس کی بکری بھی لے لی۔ وہ اس کو لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی : { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ للّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوْا } [النساء ٩٤] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو جب تم اللہ کے راستہ میں چلو تو تحقیق کرلیا کرو تم ایسے شخص کو یہ نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے حالانکہ وہ تم پر سلام کہہ رہا ہو تم پہلے اس طرح تھے اللہ نے تمہارے اوپر احسان فرمایا، لہٰذا تحقیق کرلیا کرو۔ “
(١٨٢٦٧) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ عَلَی نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَعَہُ غَنَمٌ لَہُ فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ فَقَالُوا مَا سَلَّمَ عَلَیْکُمْ إِلاَّ لِیَتَعَوَّذَ مِنْکُمْ فَعَمَدُوا إِلَیْہِ فَقَتَلُوہُ وَأَخَذُوا غَنَمَہُ فَأَتَوْا بِہَا النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَتَثَبَّتُوا وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا } [النساء ٩٤]إِلَی قَوْلِہِ { کَذَلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّہُ عَلَیْکُمْ فَتَثَبَّتُوا } [النساء ٩٤] ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৭৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب مشرک قید ہونے سے پہلے اسلام قبول کرلے تو امام کے ذمہ کیا ہے یا ایسے کلام کریں جو اسلام کے اقرار کے مشابہ ہو یا کسی اور کے
(١٨٢٦٨) ابو حدرد (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اضم کی طرف روانہ کیا۔ میں مسلمانوں کے گروہ میں نکلا جس میں ابو قتادہ ، حارث بن ربعی، محلم بن جثامہ تھے۔ جب ہم اضم وادی کے نشیب میں آئے تو ہمارے پاس سے عامر بن اضبط اپنے اونٹ پر سوار ہوئے گزرا۔ جب وہ ہمارے پاس سے گرا تو اس نے ہمیں سلام کہا۔ ہم نے اسے روک لیا اور محلم بن جثامہ نے اسے قتل کردیا اور اونٹ قبضے میں لے لیا۔ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا تو ہمارے بارے میں قرآن نازل ہوا : { یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ للّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوْا } [النساء ٩٤] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو جب تم اللہ کے راستہ میں چلو تو تحقیق کرلیا کرو تم ایسے شخص کو یہ نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے حالانکہ وہ تم پر سلام کہہ رہا ہو۔ تم پہلے اس طرح تھے اللہ نے تمہارے اوپر احسان فرمایا، لہٰذا تحقیق کرلیا کرو۔ “
(١٨٢٦٨) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ عَنْ أَبِی الْقَعْقَاعِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی حَدْرَدٍ عَنْ أَبِیہِ أَبِی حَدْرَدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی إِضَمٍ فَخَرَجْتُ فِی نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِیہِمْ أَبُو قَتَادَۃَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِیٍّ وَمُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَۃَ فَخَرَجْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِبَطْنِ إِضَمٍ مَرَّ بِنَا عَامِرُ بْنُ الأَضْبَطِ عَلَی بَعِیرٍ لَہُ فَلَمَّا مَرَّ عَلَیْنَا سَلَّمَ عَلَیْنَا بِتَحِیَّۃِ الإِسْلاَمِ فَأَمْسَکْنَا عَنْہُ وَحَمَلَ عَلَیْہِ مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَۃَ فَقَتَلَہُ وَأَخَذَ بَعِیرَہُ وَمَا مَعَہُ فَقَدِمْنَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَخْبَرْنَاہُ الْخَبَرَ فَنَزَلَ فِینَا الْقُرْآنُ { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَتَثَبَّتُوا وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا } [النساء ٩٤] إِلَی آخِرِ الآیَۃِ
کَذَا رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی حَدْرَدٍ عَنْ أَبِیہِ
وَرَوَاہُ أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی حَدْرَدٍ عَنْ أَبِیہِ وَکَذَلِکَ قَالَہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأُمَوِیُّ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ
وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ فِی رِوَایَۃِ حَجَّاجٍ عَنْہُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ عَنْ أَبِی حَدْرَدٍ الأَسْلَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ وَقِیلَ غَیْرُ ذَلِکَ ۔
وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی حَدْرَدٍ الأَسْلَمِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنْتُ فِی سَرِیَّۃٍ بَعَثَہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی إِضَمٍ وَادٍ مِنْ أَوْدِیَۃِ أَشْجَعَ ۔
وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ أَوْ قَالَ ابْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [ضعیف ]
کَذَا رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ۔
وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی حَدْرَدٍ عَنْ أَبِیہِ
وَرَوَاہُ أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی حَدْرَدٍ عَنْ أَبِیہِ وَکَذَلِکَ قَالَہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الأُمَوِیُّ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ
وَرَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ فِی رِوَایَۃِ حَجَّاجٍ عَنْہُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ عَنْ أَبِی حَدْرَدٍ الأَسْلَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ وَقِیلَ غَیْرُ ذَلِکَ ۔
وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی حَدْرَدٍ الأَسْلَمِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنْتُ فِی سَرِیَّۃٍ بَعَثَہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی إِضَمٍ وَادٍ مِنْ أَوْدِیَۃِ أَشْجَعَ ۔
وَرَوَاہُ سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ أَوْ قَالَ ابْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৭৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب مشرک قید ہونے سے پہلے اسلام قبول کرلے تو امام کے ذمہ کیا ہے یا ایسے کلام کریں جو اسلام کے اقرار کے مشابہ ہو یا کسی اور کے
(١٨٢٦٩) ابن ابی حدرد اسلمی فرماتے ہیں : میں ایک لشکر میں تھا کہ انھیں پہاڑ سے ایک شخص نے دیکھا تو ان کے پاس آ کر سلام کہا۔ انھوں نے پکڑ کر اس کو قتل کردیا تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : { وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } [النساء ٩٤] ” اور تم نہ کہو ایسے شخص کو جو تمہیں سلام کہتا ہے کہ تم مومن نہیں تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو۔ “ کہ وہ شخص جسے انھوں نے قتل کیا وہ عامر بن اضبط تھا۔
(١٨٢٦٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَسْلَمَ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ أَبِی حَدْرَدٍ الأَسْلَمِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُحَدِّثُ : أَنَّہُ کَانَ فِی سَرِیَّۃٍ فَرَآہُمْ رَجُلٌ وَہُوَ فِی جَبَلٍ فَنَزَلَ إِلَیْہِمْ فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ فَأَخَذُوہُ فَقَتَلُوہُ فَفِیہِ نَزَلَتْ { وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا } [النساء ٩٤] وَالرَّجُلُ الَّذِی قَتَلُوہُ عَامِرُ بْنُ الأَضْبَطِ الأَشْجَعِیُّ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৭৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب مشرک قید ہونے سے پہلے اسلام قبول کرلے تو امام کے ذمہ کیا ہے یا ایسے کلام کریں جو اسلام کے اقرار کے مشابہ ہو یا کسی اور کے
(١٨٢٧٠) عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ ان کے والد اور دادا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ حنین میں موجود تھے۔ دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی۔ پھر سایہ دار درخت کے نیچے چلے گئے تو اقرع بن حابس اور عیینہ بن بدر، عامر بن اضبط کے خون کا جھگڑا لے کر آگئے، جسے محلم بن جثامہ نے قتل کیا تھا۔ عیینہ بن بدر، عامر بن اضبط کے خون کا مطالبہ کر رہے تھے کیونکہ وہ قیس سے تھے اور اقراع بن حابس محلم بن جثامہ کا دفاع کر رہے تھے کیونکہ وہ ان دنوں قبیلہ خندف کے سردار تھے۔ ہم نے عیینہ کو سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ کے رسول ! میں اس کو نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ میں اس کی عورتوں کو غم پہنچاؤں جو میری عورتوں نے غم پایا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : تم پچاس اونٹ دیت کے سفر میں حاصل کرلو اور پچاس جب ہم واپس پلٹیں گے تب لے لینا، لیکن وہ انکار کررہا تھا تو بنو لیث کا ایک شخص کھڑا ہوا جس کو مکتل کہا جاتا تھا، وہ چھوٹے قد کا تھا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس مقتول کے لیے میں کچھ نہیں پاتا مگر اونٹوں کے اس قافلے کی مثل جس کے پہلے کو پھینک دیا جائے اور آخری کو بھگا دیا جائے۔ آج چھری تیز کی جائے اور کل ذبح کردیا جائے۔
رسول اللہ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا : تم پچاس اونٹ دیت کے سفر میں لے لو اور پچاس اونٹ تب لے لینا جب ہم واپس جائیں گے۔ لوگوں نے دیت کو قبول کیا، پھر کہا : تم اپنے ساتھی کو لاؤ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ وہ لے کر آئے تو ایک شخص گندمی رنگ لمبے قد کا کھڑا ہوا جس نے حلہ پہن رکھا تھا۔ وہ قتل کے لیے تیار تھا۔ وہ رسول اللہ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! تو محلم بن جثامہ کو معاف نہ کر۔ تین مرتبہ فرمایا۔ پھر اسے کہا : کھڑا ہوجا۔ وہ کھڑا ہوا تو اس نے اپنے خون کو پایا کہ چادر کے زائد حصے کو لگا ہوا ہے اور ہمارے درمیان یہ باتیں ہو رہی تھیں۔ ہم کہہ رہے تھے کہ ہمیں امید ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے بخشش کی دعا کردیں گے۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ چیز لوگوں کے درمیان جھگڑے کا باعث بنے گی۔
رسول اللہ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا : تم پچاس اونٹ دیت کے سفر میں لے لو اور پچاس اونٹ تب لے لینا جب ہم واپس جائیں گے۔ لوگوں نے دیت کو قبول کیا، پھر کہا : تم اپنے ساتھی کو لاؤ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ وہ لے کر آئے تو ایک شخص گندمی رنگ لمبے قد کا کھڑا ہوا جس نے حلہ پہن رکھا تھا۔ وہ قتل کے لیے تیار تھا۔ وہ رسول اللہ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! تو محلم بن جثامہ کو معاف نہ کر۔ تین مرتبہ فرمایا۔ پھر اسے کہا : کھڑا ہوجا۔ وہ کھڑا ہوا تو اس نے اپنے خون کو پایا کہ چادر کے زائد حصے کو لگا ہوا ہے اور ہمارے درمیان یہ باتیں ہو رہی تھیں۔ ہم کہہ رہے تھے کہ ہمیں امید ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے بخشش کی دعا کردیں گے۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ چیز لوگوں کے درمیان جھگڑے کا باعث بنے گی۔
(١٨٢٧٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ سَمِعْتُ زِیَادَ بْنَ ضُمَیْرَۃَ بْنِ سَعْدٍ السُّلَمِیَّ یُحَدِّثُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ : أَنَّ أَبَاہُ وَجَدَّہُ شَہِدَا حُنَیْنًا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالاَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الظُّہْرَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَی ظِلِّ شَجَرَۃٍ فَقَامَ إِلَیْہِ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ یَخْتَصِمَانِ فِی دَمِ عَامِرِ بْنِ الأَضْبَطِ الأَشْجَعِیِّ وَکَانَ قَتَلَہُ مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَۃَ بْنِ قَیْسٍ فَعُیَیْنَۃُ یَطْلُبُ بِدَمِ الأَشْجَعِیِّ عَامِرِ بْنِ الأَضْبَطِ لأَنَّہُ مِنْ قَیْسٍ وَالأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ یَدْفَعُ عَنْ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَۃَ لأَنَّہُ مِنْ خِنْدِفَ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ سَیِّدُ خِنْدِفَ فَسَمِعْنَا عُیَیْنَۃُ یَقُولُ : وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ لاَ أَدَعُہُ حَتَّی أُذِیقَ نِسَائَ ہُ مِنَ الْحَرِّ مَا أَذَاقَ نِسَائِی وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : تَأْخُذُونَ الدِّیَۃَ خَمْسِینَ فِی سَفَرِنَا ہَذَا وَخَمْسِینَ إِذَا رَجَعْنَا ۔ وَہُوَ یَأْبَی فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی لَیْثٍ یُقَالُ لَہُ مِکْتَلٌ مَجْمُوعٌ قَصِیرٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا وَجَدْتُ لِہَذَا الْقَتِیلِ فِی غُرَّۃِ الإِسْلاَمِ إِلاَّ کَعِیرٍ وَرَدَتْ فَرُمِیَتْ أُولاَہَا فَنَفَرَتْ أُخْرَاہَا اسْنُنِ الْیَوْمَ وَغَیِّرْ غَدًا۔ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَدَہُ ثُمَّ قَالَ : تَأْخُذُونَ الدِّیَۃَ خَمْسِینَ فِی سَفَرِنَا ہَذَا وَخَمْسِینَ إِذَا رَجَعْنَا ۔ فَقَبِلَہَا الْقَوْمُ ثُمَّ قَالَ : ائْتُوا بِصَاحِبِکُمْ یَسْتَغْفِرُ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَجَائُ وا بِہِ فَقَامَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِیلٌ ضَرْبٌ عَلَیْہِ حُلَّۃٌ لَہُ قَدْ تَہَیَّأَ فِیہَا لِلْقَتْلِ فَجَلَسَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ لَہُ : مَا اسْمُکَ ؟ ۔ فَقَالَ : مُحَلِّمُ بْنُ جَثَّامَۃَ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اللَّہُمَّ لاَ تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَۃَ اللَّہُمَّ لاَ تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَۃَ اللَّہُمَّ لاَ تَغْفِرْ لِمُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَۃَ ۔ ثُمَّ قَالَ لَہُ : قُمْ ۔ فَقَامَ وَہُوَ یَتَلَقَّی دَمْعَہُ بِفَضْلِ رِدَائِہِ فَأَمَّا نَحْنُ فِیمَا بَیْنَنَا فَنَقُولُ إِنَّا لَنَرْجُو أَنْ یَکُونَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدِ اسْتَغْفَرَ لَہُ وَلَکِنْ أَظْہَرَ ہَذَا لِیَنْزِعَ النَّاسُ بَعْضُہُمْ عَنْ بَعْضِ فَأَمَّا مَا ظَہَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ہَذَا۔
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ۔ [ضعیف ]
وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৭৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب مشرک قید ہونے سے پہلے اسلام قبول کرلے تو امام کے ذمہ کیا ہے یا ایسے کلام کریں جو اسلام کے اقرار کے مشابہ ہو یا کسی اور کے
(١٨٢٧١) عروہ بن زبیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ محلم بن جثامہ لیثی نے اشجع کے ایک فرد کو اسلام میں قتل کیا۔ یہ دیت تھی، جس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عیینہ ! آپ دیت قبول نہیں کریں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے آخر میں تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو نے اس کو اپنے اسلحہ سے قتل کیا، اسلام کی علامت کے باوجود۔ اے اللہ ! تو محلم کو معاف نہ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلند آواز سے کہا۔
(١٨٢٧١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَیَانٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِیدٍ الْہَمْدَانِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّہُ سَمِعَ زِیَادَ بْنَ سَعْدِ بْنِ ضُمَیْرَۃَ السُّلَمِیَّ یُحَدِّثُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ مُحَلِّمَ بْنَ جَثَّامَۃَ اللَّیْثِیَّ قَتَلَ رَجُلاً مِنْ أَشْجَعَ فِی الإِسْلاَمِ وَذَلِکَ أَوَّلُ غِیَرٍ قَضَی بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَ مَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : یَا عُیَیْنَۃُ أَلاَ تَقْبَلُ الْغِیَرَ ؟ ۔ یُرِیدُ الدِّیَۃَ وَقَالَ فِی آخِرِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَقَتَلْتَہُ بِسِلاَحِکَ فِی غُرَّۃِ الإِسْلاَمِ اللَّہُمَّ لاَ تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ ۔ بِصَوْتٍ عَالٍ وَلَمْ یَذْکُرْ مَا بَعْدَہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৭৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب مشرک قید ہونے سے پہلے اسلام قبول کرلے تو امام کے ذمہ کیا ہے یا ایسے کلام کریں جو اسلام کے اقرار کے مشابہ ہو یا کسی اور کے
(١٨٢٧٢) عقبہ بن مالک فرماتے ہیں کہ (میں بھی اس گروہ میں تھا) کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک چھوٹا لشکر بھیجا۔ انھوں نے ایک قوم پر حملہ کردیا تو قوم سے ایک فرد الگ ہوگیا تو لشکر کے ایک فرد نے اس کا پیچھا کیا جس کے پاس سونتی ہوئی تلوار تھی۔ قوم سے الگ ہونے والے فرد نے کہا : میں مسلمان ہوں۔ اس نے اس کا خیال نہ کیا اور قتل کردیا۔ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں سخت بات کہی تو قاتل نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس نے قتل سے بچنے کی غرض سے یہ بات کہی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس اعراض کیا اور یہی بات دہرائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف متوجہ ہوئے، ناراضگی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے پہچانی جاسکتی تھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ رب العزت اس شخص پر انکار کرتے ہیں جو کسی مومن کو قتل کرتا ہے تین مرتبہ فرمایا۔
(١٨٢٧٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ قَالَ أَتَیْنَا نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ اللَّیْثِیَّ فَقَالَ نَصْرٌ حَدَّثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ مَالِکٍ وَکَانَ مِنْ رَہْطِہِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَرِیَّۃً فَأَغَارُوا عَلَی قَوْمٍ فَشَذَّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّبَعَہُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِیَّۃِ مَعَہُ السَّیْفُ شَاہِرًا فَقَالَ الشَّاذُّ مِنَ الْقَوْمِ إِنِّی مُسْلِمٌ فَلَمْ یَنْظُرْ فِیہِ فَضَرَبَہُ فَقَتَلَہُ فَنُمِیَ الْحَدِیثُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ قَوْلاً شَدِیدًا فَقَالَ الْقَاتِلُ : وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا قَالَ الَّذِی قَالَ إِلاَّ تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ فَأَعْرَضَ عَنْہُ ثَلاَثًا فَأَعَادَہُ فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تُعْرَفُ الْمَسَائَ ۃُ فِی وَجْہِہِ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ أَبَی عَلَی مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا۔ قَالَہَا ثَلاَثًا ۔
تَابَعَہُ یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ۔ [صحیح ]
تَابَعَہُ یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৭৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کا بیان جس کی اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی
(١٨٢٧٣) عبداللہ بن ربا، حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ماہ رمضان میں معاویہ کے پاس وفد آتے تو ہم ایک دوسرے کے لیے کھانا بنایا کرتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) اکثر ہمیں اپنے گھر دعوت دیا کرتے تھے۔ میں نے کہا : کیا میں کھانا پکوا کر انھیں اپنے گھر میں دعوت نہ دوں۔ میں نے کھانا بنوایا۔ شام کے وقت ابوہریرہ سے ملا تو کہا : رات کے کھانے کی دعوت میرے پاس ہوگی۔ انھوں نے کہا : آپ مجھ سے سبقت لے گئے۔ اس نے کہا : ہاں۔ میں نے ان کو دعوت دی۔ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : اے انصاریو ! کیا میں تمہاری باتوں میں سے کوئی بات تمہیں نہ سکھاؤں۔ پھر انھوں نے فتح مکہ کا تذکرہ کیا۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ آئے تو زبیر کو لشکر کی ایک جانب اور خالد بن ولید کو دوسری جانب بھیجا اور ابو عبیدہ کو حسر پر۔ انھوں نے وادی کے نشیب میں پکڑ لیا اور رسول اللہ اپنے قافلہ میں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نظر دوڑائی تو مجھے دیکھا اور فرمایا : ابوہریرہ ! میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! حاضر ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار کو دعوت دی اور فرمایا کہ میرے پاس صرف انصاری آئیں تو انھوں نے آپ کو گھیر لیا۔ ابو داؤد نے یہ لفظ زائد بیان کیے ہیں کہ انصار کو بلاؤ، صرف انصاری میرے پاس آئیں۔ ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ کام کیا۔
شیبان کی روایت میں ہے کہ قریش کے لوگ تیزی سے ان کے پیچھے چلے اور انھوں نے کہا کہ ہم ان سے آگے بڑھ جائیں گے۔ اگر ان کو کوئی چیز حاصل ہوئی تو ہم بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا کیے گئے تو ہم وہ چیز عطا کردیں گے جس کا ہم سے سوال کیا گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم قریش کے اوباش لوگوں اور ان کے پیچھے چلنے والوں کی طرف دیکھو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دونوں ہاتھیوں سے فرمایا کہ تم مجھے صفا پہاڑی پر ملنا۔
ابو داؤد نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے کہ تم ان کو کاٹ ڈالو۔
شیبان اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ جب ہم چلے تو جس کو چاہتے قتل کردیتے، کوئی چیز ہمارے سامنے رکاوٹ نہ تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو سفیان آئے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! قریش کی اصل ختم ہوجائے گی۔ آج کے بعد قریش نہ ہوں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو ابو سفیان کے گھر داخل ہوگیا وہ امن میں ہے۔
ابو داؤد نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے۔ جو اسلحہ ڈال دے وہ بھی حالت امن میں ہے۔
شیبان اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ انصار نے ایک دوسرے سے کہا کہ کسی شخص کو اپنی بستی میں رغبت اور اپنے خاندان کے ساتھ الفت ہوجاتی ہے۔
ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ وحی آگئی۔ جب وحی آتی تو ہم سے پوشیدہ نہ رہتی۔ جب وحی آتی تو کوئی بھی رسول کی طرف اپنی نظر نہ اٹھاتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہوجائے۔ جب وحی مکمل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انصاریو ! انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! حاضر ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم نے کہا کہ کوئی شخص اپنی بستی میں آئے تو اس کو رغبت ہو ہی جاتی ہے انھوں نے کہا : ہاں ! یہ بات ہوئی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہرگز نہیں، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ میری زندگی اور موت تمہارے ساتھ ہے۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف روتے ہوئے متوجہ ہوئے اور کہنے لگے : اللہ کی قسم ! جو ہم نے کہا، صرف گمان تھا۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارے عذر کو قبول کرتے ہیں۔ لوگ ابو سفیان کے گھر کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے دروازے بند کرلیے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجرِ اسود کے پاس آئے۔ اس کا استلام کیا۔ بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر بیت اللہ کی ایک طرف بت کے پاس آئے، جس کی وہ عبادت کرتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں کمان تھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی بت کے پاس آتے تو وہ کمان اس کی آنکھ پر مارتے اور فرماتے : حق آگیا اور باطل مٹ گیا کیونکہ باطل کو مٹنا ہی ہوتا ہے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طواف سے فارغ ہوئے تو صفا پہاڑی کے اوپر چڑھے۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر بیت اللہ پر پڑی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد کی اور جو چاہا دعا کی۔
شیبان کی روایت میں ہے کہ قریش کے لوگ تیزی سے ان کے پیچھے چلے اور انھوں نے کہا کہ ہم ان سے آگے بڑھ جائیں گے۔ اگر ان کو کوئی چیز حاصل ہوئی تو ہم بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا کیے گئے تو ہم وہ چیز عطا کردیں گے جس کا ہم سے سوال کیا گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم قریش کے اوباش لوگوں اور ان کے پیچھے چلنے والوں کی طرف دیکھو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے دونوں ہاتھیوں سے فرمایا کہ تم مجھے صفا پہاڑی پر ملنا۔
ابو داؤد نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے کہ تم ان کو کاٹ ڈالو۔
شیبان اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ جب ہم چلے تو جس کو چاہتے قتل کردیتے، کوئی چیز ہمارے سامنے رکاوٹ نہ تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو سفیان آئے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! قریش کی اصل ختم ہوجائے گی۔ آج کے بعد قریش نہ ہوں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو ابو سفیان کے گھر داخل ہوگیا وہ امن میں ہے۔
ابو داؤد نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے۔ جو اسلحہ ڈال دے وہ بھی حالت امن میں ہے۔
شیبان اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ انصار نے ایک دوسرے سے کہا کہ کسی شخص کو اپنی بستی میں رغبت اور اپنے خاندان کے ساتھ الفت ہوجاتی ہے۔
ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ وحی آگئی۔ جب وحی آتی تو ہم سے پوشیدہ نہ رہتی۔ جب وحی آتی تو کوئی بھی رسول کی طرف اپنی نظر نہ اٹھاتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہوجائے۔ جب وحی مکمل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انصاریو ! انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! حاضر ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم نے کہا کہ کوئی شخص اپنی بستی میں آئے تو اس کو رغبت ہو ہی جاتی ہے انھوں نے کہا : ہاں ! یہ بات ہوئی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہرگز نہیں، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے۔ میری زندگی اور موت تمہارے ساتھ ہے۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف روتے ہوئے متوجہ ہوئے اور کہنے لگے : اللہ کی قسم ! جو ہم نے کہا، صرف گمان تھا۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارے عذر کو قبول کرتے ہیں۔ لوگ ابو سفیان کے گھر کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے دروازے بند کرلیے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجرِ اسود کے پاس آئے۔ اس کا استلام کیا۔ بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر بیت اللہ کی ایک طرف بت کے پاس آئے، جس کی وہ عبادت کرتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں کمان تھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی بت کے پاس آتے تو وہ کمان اس کی آنکھ پر مارتے اور فرماتے : حق آگیا اور باطل مٹ گیا کیونکہ باطل کو مٹنا ہی ہوتا ہے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طواف سے فارغ ہوئے تو صفا پہاڑی کے اوپر چڑھے۔ یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر بیت اللہ پر پڑی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد کی اور جو چاہا دعا کی۔
(١٨٢٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَی مُعَاوِیَۃَ وَذَلِکَ فِی رَمَضَانَ فَکَانَ یَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ الطَّعَامَ فَکَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ مِمَّا یُکْثِرُ أَنْ یَدْعُوَنَا إِلَی رَحْلِہِ فَقُلْتُ أَلاَ أَصْنَعُ طَعَامًا وَأَدْعُوہُمْ إِلَی رَحْلِی فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ فَصُنِعَ ثُمَّ لَقِیتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ مِنَ الْعَشِیِّ فَقُلْتُ الدَّعْوَۃُ عِنْدِی اللَّیْلَۃَ قَالَ سَبَقْتَنِی قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَوْتُہُمْ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ أَلاَ أُعَلِّمُکُمْ حَدِیثًا مِنْ حَدِیثِکُمْ یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ثُمَّ ذَکَرَ فَتْحَ مَکَّۃَ فَقَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی قَدِمَ مَکَّۃَ فَبَعَثَ الزُّبَیْرَ عَلَی إِحْدَی الْمُجَنِّبَتَیْنِ وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ عَلَی الْمُجَنِّبَۃِ الأُخْرَی وَبَعَثَ أَبَا عُبَیْدَۃَ عَلَی الْحُسَّرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِی وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی کَتِیبَتِہِ فَنَظَرَ فَرَآنِی فَقَالَ : أَبُو ہُرَیْرَۃَ ۔ قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ۔ قَالَ فَنَدَبَ الأَنْصَارَ فَقَالَ : لاَ یَأْتِینَا إِلاَّ أَنْصَارِیٌّ ۔ فَأَطَافُوا بِہِ ۔
زَادَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ فَقَالَ : اہْتِفْ بِالأَنْصَارِ وَلاَ تَأْتِنِی إِلاَّ بِأَنْصَارِیٍّ ۔ قَالَ فَفَعَلْتُہُ
قَالَ شَیْبَانُ فِی رِوَایَتِہِ وَأَوْبَشَتْ قُرَیْشٌ أَوْبَاشًا لَہَا وَأَتْبَاعًا فَقَالُوا نُقَدِّمُ ہَؤُلاَئِ فَإِنْ کَانَ لَہُمْ شَیْئٌ کُنَّا مَعَہُمْ وَإِنْ أُصِیبُوا أَعْطَیْنَا الَّذِی سُئِلْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : تَرَوْنَ إِلَی أَوْبَاشِ قُرَیْشٍ وَأَتْبَاعِہِمْ ۔ ثُمَّ قَالَ بِیَدَیْہِ إِحْدَاہُمَا عَلَی الأُخْرَی ثُمَّ قَالَ : حَتَّی تُوَافُونِی بِالصَّفَا ۔
زَادَ أَبُو دَاوُدَ فِی رِوَایَتِہِ : احْصُدُوہُمْ حَصْدًا ۔
قَالَ شَیْبَانُ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ : وَانْطَلَقْنَا فَمَا شَائَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ یَقْتُلَ أَحَدًا إِلاَّ قَتَلَہُ وَمَا أَحَدٌ یُوَجِّہُ إِلَیْنَا شَیْئًا قَالَ : فَجَائَ أَبُو سُفْیَانَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُبِیحَتْ خَضْرَائُ قُرَیْشٍ لاَ قُرَیْشَ بَعْدَ الْیَوْمِ قَالَ : مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ ۔
زَادَ أَبُو دَاوُدَ فِی رِوَایَتِہِ : مَنْ أَلْقَی السِّلاَحَ فَہُوَ آمِنٌ ۔
قَالَ شَیْبَانُ فِی رِوَایَتِہِ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْہُ رَغْبَۃٌ فِی قَرْیَتِہِ وَرَأْفَۃٌ بِعَشِیرَتِہِ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ وَجَائَ الْوَحْیُ وَکَانَ إِذَا جَائَ لاَ یَخْفَی عَلَیْنَا فَإِذَا جَائَ فَلَیْسَ أَحَدٌ یَرْفَعُ طَرْفَہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی یَنْقَضِیَ الْوَحْیُ فَلَمَّا قُضِیَ الْوَحْیُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ۔ قَالُوا : لَبَّیْکَ رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْہُ رَغْبَۃٌ فِی قَرْیَتِہِ ۔ قَالُوا : قَدْ کَانَ ذَاکَ ۔ قَالَ : کَلاَّ إِنِّی عَبْدُ اللَّہِ وَرَسُولُہُ ہَاجَرْتُ إِلَی اللَّہِ وَإِلَیْکُمْ الْمَحْیَا مَحْیَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ ۔ فَأَقْبَلُوا إِلَیْہِ یَبْکُونَ وَیَقُولُونَ : وَاللَّہِ مَا قُلْنَا الَّذِی قُلْنَا إِلاَّ الضِّنَّ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ یُصَدِّقَانِکُمْ وَیَعْذِرَانِکُمْ ۔ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَی دَارِ أَبِی سُفْیَانَ وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَہُمْ وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی أَقْبَلَ إِلَی الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَہُ فَطَافَ بِالْبَیْتِ فَأَتَی إِلَی صَنَمٍ إِلَی جَنْبِ الْبَیْتِ کَانُوا یَعْبُدُونَہُ قَالَ وَفِی یَدِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَوْسٌ وَہُوَ آخِذٌ بِسِیَۃِ الْقَوْسِ فَلَمَّا أَتَی عَلَی الصَّنَمِ جَعَلَ یَطْعُنُ فِی عَیْنِہِ وَیَقُولُ : جَائَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقًا ۔ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِہِ أَتَی الصَّفَّا فَعَلاَ عَلَیْہِ حَتَّی نَظَرَ إِلَی الْبَیْتِ فَرَفَعَ یَدَیْہِ وَجَعَلَ یَحْمَدُ اللَّہَ وَیَدْعُو بِمَا شَائَ أَنْ یَدْعُوَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ بَہْزِ بْنِ أَسَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ وَذَکَرَ اللَّفْظَۃَ الَّتِی زَادَہَا أَبُو دَاوُدَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٧٠]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَی قَالاَ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَی مُعَاوِیَۃَ وَذَلِکَ فِی رَمَضَانَ فَکَانَ یَصْنَعُ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ الطَّعَامَ فَکَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ مِمَّا یُکْثِرُ أَنْ یَدْعُوَنَا إِلَی رَحْلِہِ فَقُلْتُ أَلاَ أَصْنَعُ طَعَامًا وَأَدْعُوہُمْ إِلَی رَحْلِی فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ فَصُنِعَ ثُمَّ لَقِیتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ مِنَ الْعَشِیِّ فَقُلْتُ الدَّعْوَۃُ عِنْدِی اللَّیْلَۃَ قَالَ سَبَقْتَنِی قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَوْتُہُمْ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ أَلاَ أُعَلِّمُکُمْ حَدِیثًا مِنْ حَدِیثِکُمْ یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ثُمَّ ذَکَرَ فَتْحَ مَکَّۃَ فَقَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی قَدِمَ مَکَّۃَ فَبَعَثَ الزُّبَیْرَ عَلَی إِحْدَی الْمُجَنِّبَتَیْنِ وَبَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ عَلَی الْمُجَنِّبَۃِ الأُخْرَی وَبَعَثَ أَبَا عُبَیْدَۃَ عَلَی الْحُسَّرِ فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِی وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی کَتِیبَتِہِ فَنَظَرَ فَرَآنِی فَقَالَ : أَبُو ہُرَیْرَۃَ ۔ قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ۔ قَالَ فَنَدَبَ الأَنْصَارَ فَقَالَ : لاَ یَأْتِینَا إِلاَّ أَنْصَارِیٌّ ۔ فَأَطَافُوا بِہِ ۔
زَادَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ فَقَالَ : اہْتِفْ بِالأَنْصَارِ وَلاَ تَأْتِنِی إِلاَّ بِأَنْصَارِیٍّ ۔ قَالَ فَفَعَلْتُہُ
قَالَ شَیْبَانُ فِی رِوَایَتِہِ وَأَوْبَشَتْ قُرَیْشٌ أَوْبَاشًا لَہَا وَأَتْبَاعًا فَقَالُوا نُقَدِّمُ ہَؤُلاَئِ فَإِنْ کَانَ لَہُمْ شَیْئٌ کُنَّا مَعَہُمْ وَإِنْ أُصِیبُوا أَعْطَیْنَا الَّذِی سُئِلْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : تَرَوْنَ إِلَی أَوْبَاشِ قُرَیْشٍ وَأَتْبَاعِہِمْ ۔ ثُمَّ قَالَ بِیَدَیْہِ إِحْدَاہُمَا عَلَی الأُخْرَی ثُمَّ قَالَ : حَتَّی تُوَافُونِی بِالصَّفَا ۔
زَادَ أَبُو دَاوُدَ فِی رِوَایَتِہِ : احْصُدُوہُمْ حَصْدًا ۔
قَالَ شَیْبَانُ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ : وَانْطَلَقْنَا فَمَا شَائَ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ یَقْتُلَ أَحَدًا إِلاَّ قَتَلَہُ وَمَا أَحَدٌ یُوَجِّہُ إِلَیْنَا شَیْئًا قَالَ : فَجَائَ أَبُو سُفْیَانَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُبِیحَتْ خَضْرَائُ قُرَیْشٍ لاَ قُرَیْشَ بَعْدَ الْیَوْمِ قَالَ : مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ ۔
زَادَ أَبُو دَاوُدَ فِی رِوَایَتِہِ : مَنْ أَلْقَی السِّلاَحَ فَہُوَ آمِنٌ ۔
قَالَ شَیْبَانُ فِی رِوَایَتِہِ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْہُ رَغْبَۃٌ فِی قَرْیَتِہِ وَرَأْفَۃٌ بِعَشِیرَتِہِ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ وَجَائَ الْوَحْیُ وَکَانَ إِذَا جَائَ لاَ یَخْفَی عَلَیْنَا فَإِذَا جَائَ فَلَیْسَ أَحَدٌ یَرْفَعُ طَرْفَہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی یَنْقَضِیَ الْوَحْیُ فَلَمَّا قُضِیَ الْوَحْیُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ ۔ قَالُوا : لَبَّیْکَ رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَکَتْہُ رَغْبَۃٌ فِی قَرْیَتِہِ ۔ قَالُوا : قَدْ کَانَ ذَاکَ ۔ قَالَ : کَلاَّ إِنِّی عَبْدُ اللَّہِ وَرَسُولُہُ ہَاجَرْتُ إِلَی اللَّہِ وَإِلَیْکُمْ الْمَحْیَا مَحْیَاکُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُکُمْ ۔ فَأَقْبَلُوا إِلَیْہِ یَبْکُونَ وَیَقُولُونَ : وَاللَّہِ مَا قُلْنَا الَّذِی قُلْنَا إِلاَّ الضِّنَّ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ یُصَدِّقَانِکُمْ وَیَعْذِرَانِکُمْ ۔ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَی دَارِ أَبِی سُفْیَانَ وَأَغْلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَہُمْ وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی أَقْبَلَ إِلَی الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَہُ فَطَافَ بِالْبَیْتِ فَأَتَی إِلَی صَنَمٍ إِلَی جَنْبِ الْبَیْتِ کَانُوا یَعْبُدُونَہُ قَالَ وَفِی یَدِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَوْسٌ وَہُوَ آخِذٌ بِسِیَۃِ الْقَوْسِ فَلَمَّا أَتَی عَلَی الصَّنَمِ جَعَلَ یَطْعُنُ فِی عَیْنِہِ وَیَقُولُ : جَائَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقًا ۔ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِہِ أَتَی الصَّفَّا فَعَلاَ عَلَیْہِ حَتَّی نَظَرَ إِلَی الْبَیْتِ فَرَفَعَ یَدَیْہِ وَجَعَلَ یَحْمَدُ اللَّہَ وَیَدْعُو بِمَا شَائَ أَنْ یَدْعُوَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ شَیْبَانَ بْنِ فَرُّوخٍ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ بَہْزِ بْنِ أَسَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ وَذَکَرَ اللَّفْظَۃَ الَّتِی زَادَہَا أَبُو دَاوُدَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٧٠]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کا بیان جس کی اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی
(١٨٢٧٤) عبداللہ بن رباح حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں۔ اس نے حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ انصاری لوگوں نے صفا پہاڑی کے قریب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیر لیا۔ ابو سفیان آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! قریش کی نسل ختم ہوجائے گی۔ آپ کے بعد قریش نہ رہیں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو ابو سفیان کے گھر داخل ہوجائے۔ اس کو امن ہے۔ جو ہتھیار پھینک دے اسے بھی امن ہے اور جو اپنے گھر میں داخل ہوجائے اور دروازہ بند کرلے اس کو بھی امن ہے۔
(ب) یحییٰ بن حسان حضرت حماد سے یہی نقل فرماتے ہیں، لیکن ( (مَنْ دَخَلَ دَارَہٗ فَہُوَ آمِنٌ) ) کا قول ذکر نہیں کیا۔
(ب) یحییٰ بن حسان حضرت حماد سے یہی نقل فرماتے ہیں، لیکن ( (مَنْ دَخَلَ دَارَہٗ فَہُوَ آمِنٌ) ) کا قول ذکر نہیں کیا۔
(١٨٢٧٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ : فَجَائَ تِ الأَنْصَارُ فَأَحَاطُوا بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عِنْدَ الصَّفَا فَجَائَ أَبُو سُفْیَانَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُبِیدَتْ خَضْرَائُ قُرَیْشٍ لاَ قُرَیْشَ بَعْدَ الْیَوْمِ ۔ فَقَالَ : مَنْ دَخَلَ دَارَہُ فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَی سِلاَحَہُ فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ حَسَّانَ عَنْ حَمَّادٍ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ : مَنْ دَخَلَ دَارَہُ فَہُوَ آمِنٌ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ حَسَّانَ عَنْ حَمَّادٍ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَہُ : مَنْ دَخَلَ دَارَہُ فَہُوَ آمِنٌ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کا بیان جس کی اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی
(١٨٢٧٥) عبداللہ بن رباح انصاری حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مکہ میں داخل ہوئے تو زبیر بن عوام، ابو عبیدہ بن جراح اور خالد بن ولید (رض) کو لشکر پر روانہ فرمایا اور فرمایا : اے ابوہریرہ ! انصار کو آواز دو کہ تم اس راستہ پر چلو۔
تو اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ آج کے بعد قریش نہ ہوں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اپنے گھر میں داخل ہوگیا اس کو امان ہے۔ جس نے ہتھیار پھینک دیے اس کو بھی امن ہے تو قریشی سردار کعبہ میں داخل ہوگئے اور کعبہ ان سے بھر گیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑا تو انھوں نے نکل کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اسلام پر بیعت کی۔ (ب) قاسم بن سلام بن مسکین اپنے والد سے اسی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ میں آئے اور دروازے کی چوکھٹ کے دو بازؤں کو پکڑا اور فرمایا : تم کیا کہتے ہو، تمہارا کیا گمان ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم کہتے ہیں : بھتیجا اور چچے کا بیٹا بردبار رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ بات تین مرتبہ کہی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں وہی بات کہتا ہوں جو یوسف (علیہ السلام) نے کہی تھی : { قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَ ھُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ } [یوسف ٩٢] ” فرمایا : تمہارے اوپر کوئی سرزنش نہیں، اللہ تمہیں معاف فرمائے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ راوی کہتے ہیں کہ وہ نکلے جیسے قبروں سے اٹھائے گئے ہوں اور انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔
تو اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ آج کے بعد قریش نہ ہوں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اپنے گھر میں داخل ہوگیا اس کو امان ہے۔ جس نے ہتھیار پھینک دیے اس کو بھی امن ہے تو قریشی سردار کعبہ میں داخل ہوگئے اور کعبہ ان سے بھر گیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑا تو انھوں نے نکل کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اسلام پر بیعت کی۔ (ب) قاسم بن سلام بن مسکین اپنے والد سے اسی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ میں آئے اور دروازے کی چوکھٹ کے دو بازؤں کو پکڑا اور فرمایا : تم کیا کہتے ہو، تمہارا کیا گمان ہے ؟ انھوں نے کہا : ہم کہتے ہیں : بھتیجا اور چچے کا بیٹا بردبار رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ بات تین مرتبہ کہی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں وہی بات کہتا ہوں جو یوسف (علیہ السلام) نے کہی تھی : { قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَ ھُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ ۔ } [یوسف ٩٢] ” فرمایا : تمہارے اوپر کوئی سرزنش نہیں، اللہ تمہیں معاف فرمائے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ راوی کہتے ہیں کہ وہ نکلے جیسے قبروں سے اٹھائے گئے ہوں اور انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔
(١٨٢٧٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ مِسْکِینٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا دَخَلَ مَکَّۃَ سَرَّحَ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَأَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَخَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ عَلَی الْخَیْلِ وَقَالَ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ اہْتِفْ بِالأَنْصَارِ ۔ قَالَ : اسْلُکُوا ہَذَا الطَّرِیقَ فَلاَ یُشْرِفَنَّ لَکُمْ أَحَدٌ إِلاَّ أَنَمْتُمُوہُ ۔ فَنَادَی مُنَادِی : لاَ قُرَیْشَ بَعْدَ الْیَوْمِ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ دَخَلَ دَارًا فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَی السِّلاَحَ فَہُوَ آمِنٌ ۔ وَعَمَدَ صَنَادِیدُ قُرَیْشٍ فَدَخَلُوا الْکَعْبَۃَ فَغَصَّ بِہِمْ وَطَافَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَصَلَّی خَلْفَ الْمَقَامِ ثُمَّ أَخَذَ بِجَنَبَتَیِ الْبَابِ فَخَرَجُوا فَبَایَعُوا النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی الإِسْلاَمِ ۔ زَادَ فِیہِ الْقَاسِمُ بْنُ سَلاَّمِ بْنُ مِسْکِینٍ عَنْ أَبِیہِ بِہَذَا الإِسْنَادِ قَالَ : ثُمَّ أَتَی الْکَعْبَۃَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَیِ الْبَابِ فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ وَمَا تَظُنُّونَ ۔ قَالُوا : نَقُولُ ابْنُ أَخٍ وَابْنُ عَمٍّ حَلِیمٍ رَحِیمٍ قَالَ وَقَالُوا ذَلِکَ ثَلاَثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَقُولُ کَمَا قَالَ یُوسُفُ { لاَ تَثْرِیبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللَّہُ لَکُمْ وَہُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ } [یوسف ٩٢] ۔ قَالَ فَخَرَجُوا کَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِی الإِسْلاَمِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کا بیان جس کی اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی
(١٨٢٧٦) امام شافعی (رح) ، ابو یوسف سے اس قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کہا، جب وہ مسجد میں جمع ہوگئے کہ میں تمہارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں ؟ انھوں نے کہا : بھلائی، معزز بھائی اور معزز بھائی کا بیٹا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ تم سب آزاد ہو۔
شیخ فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پہلی امان کے ساتھ آزاد کردیا۔ جو قبولیت کے لیے شرط لگائی تھی جب انھوں نے اسلام قبول کرلیا تب فرمایا : تم آزاد ہو۔
شیخ فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پہلی امان کے ساتھ آزاد کردیا۔ جو قبولیت کے لیے شرط لگائی تھی جب انھوں نے اسلام قبول کرلیا تب فرمایا : تم آزاد ہو۔
(١٨٢٧٦) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ سَلاَّمٍ فَذَکَرَہُ ۔
وَفِیمَا حَکَی الشَّافِعِیُّ عَنْ أَبِی یُوسُفَ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ أَنَّہُ قَالَ لَہُمْ حِینَ اجْتَمَعُوا فِی الْمَسْجِدِ : مَا تَرَوْنَ أَنِّی صَانِعٌ بِکُمْ ؟ ۔ قَالُوا : خَیْرًا أَخٌ کَرِیمٌ وَابْنُ أَخٍ کَرِیمٍ ۔ قَالَ : اذْہَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَائُ ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَإِنَّمَا أَطْلَقَہُمْ بِالأَمَانِ الأَوَّلِ الَّذِی عَقَدَہُ عَلَی شَرْطِ قَبُولِہِمْ فَلَمَّا قَبِلُوہُ قَالَ : أَنْتُمُ الطُّلَقَائُ ۔ یَعْنِی بِالأَمَانِ الأَوَّلِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
وَفِیمَا حَکَی الشَّافِعِیُّ عَنْ أَبِی یُوسُفَ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ أَنَّہُ قَالَ لَہُمْ حِینَ اجْتَمَعُوا فِی الْمَسْجِدِ : مَا تَرَوْنَ أَنِّی صَانِعٌ بِکُمْ ؟ ۔ قَالُوا : خَیْرًا أَخٌ کَرِیمٌ وَابْنُ أَخٍ کَرِیمٍ ۔ قَالَ : اذْہَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَائُ ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَإِنَّمَا أَطْلَقَہُمْ بِالأَمَانِ الأَوَّلِ الَّذِی عَقَدَہُ عَلَی شَرْطِ قَبُولِہِمْ فَلَمَّا قَبِلُوہُ قَالَ : أَنْتُمُ الطُّلَقَائُ ۔ یَعْنِی بِالأَمَانِ الأَوَّلِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کا بیان جس کی اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی
(١٨٢٧٧) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال عباس بن عبدالمطلب ابو سفیان بن حرب کو لے کر آئے۔ اس نے مرالظہران نامی جگہ پر اسلام قبول کیا تو عباس کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ابو سفیان ایسا آدمی ہے جو فخر کو پسند کرتا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو کسی اعزاز سے نوازیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوگیا وہ امن میں ہے۔ جس نے اپنا دروازہ بند کرلیا وہ بھی امن میں ہے۔
(١٨٢٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَامَ الْفَتْحِ جَائَ ہُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِأَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبٍ فَأَسْلَمَ بِمَرِّ الظَّہْرَانِ فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ یُحِبُّ ہَذَا الْفَخْرَ فَلَوْ جَعَلْتَ لَہُ شَیْئًا۔ قَالَ : نَعَمْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کا بیان جس کی اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی
(١٨٢٧٨) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرالظہران پر پڑاؤ کیا تو عباس کہتے ہیں میں نے کہا : اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں ان کے آنے سے پہلے داخل ہوگئے کہ وہ اس کی درخواست کرلیں تو یہ قریشیوں کی ہلاکت ہے۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خچر پر بیٹھ گیا۔ میں نے حضرت علی (رض) سے کہا : مجھے کوئی کام ہے وہ مکہ والوں کے پاس آئے تاکہ انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جگہ کی خبر دیں کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے امن کی درخواست کرسکیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے چلتے ہوئے ابو سفیان بدیل بن ورقا کی بات چیت کو سنا۔ میں نے کہا : اے ابو حنظلہ ! اس نے میری آواز کو پہچان لیا۔ اس نے کہا : ابو الفضل ؟ میں نے کہا : ہاں ! اس نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : یہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رض) ہیں۔ اس نے کہا : کیا بہانہ ہے ؟ کہتے ہیں : وہ میرے پیچھے سوار ہوئے اور اس کا ساتھی چلا گیا اور میں صبح انھیں لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگیا تو انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ابو سفیان ایسا شخص ہے جو فخر کو پسند کرتا ہے۔ آپ اس کے لیے جو مقرر فرمائیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو ابو سفیان کے گھر داخل ہوگیا اور اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا یا مسجد میں داخل ہوگیا اس کو امان ہے۔ راوی کہتے ہیں : لوگ اپنے گھروں اور مسجد میں بکھر گئے۔
(١٨٢٧٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ بَعْضِ أَہْلِہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَرَّ الظَّہْرَانِ قَالَ الْعَبَّاسُ قُلْتُ وَاللَّہِ لَئِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَکَّۃَ عَنْوَۃً قَبْلَ أَنْ یَأْتُوہُ فَیَسْتَأْمِنُوہُ إِنَّہُ لَہَلاَکُ قُرَیْشٍ فَجَلَسْتُ عَلَی بَغْلَۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُلْتُ لَعَلِّی أَجِدُ ذَا حَاجَۃٍ یَأْتِی أَہْلَ مَکَّۃَ فَیُخْبِرُہُمْ بِمَکَانِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِیَخْرُجُوا إِلَیْہِ فَیَسْتَأْمِنُوہُ وَإِنِّی لأَسِیرُ سَمِعْتُ کَلاَمَ أَبِی سُفْیَانَ وَبُدَیْلِ بْنِ وَرْقَائَ فَقُلْتُ : یَا أَبَا حَنْظَلَۃَ فَعَرِفَ صَوْتِی قَالَ أَبُو الْفَضْلِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ۔ قَالَ : مَا لَکَ فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی ؟ قُلْتُ ہَذَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَالنَّاسُ ۔ قَالَ : فَمَا الْحِیلَۃُ ؟ قَالَ : فَرَکِبَ خَلْفِی وَرَجَعَ صَاحِبُہُ ۔ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَوْتُ بِہِ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَسْلَمَ ۔ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ یُحِبُّ ہَذَا الْفَخْرَ فَاجْعَلْ لَہُ شَیْئًا۔ قَالَ : نَعَمْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِی سُفْیَانَ فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ عَلَیْہِ دَارَہُ فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَہُوَ آمِنٌ ۔ قَالَ : فَتَفَرَّقَ النَّاسُ إِلَی دُورِہِمْ وَإِلَی الْمَسْجِدِ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کا بیان جس کی اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی
(١٨٢٧٩) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ فتح کے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب چلے تو قریش کو خبر ہوگئی۔ ابو سفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں خبر کی تلاش میں نکلے۔ وہ چلتے ہوئے مرالظہران نامی جگہ پر پہنچے تو اچانک وہاں آگ دیکھی گویا کہ وہ عرفہ کی آگ ہے۔ ابو سفیان کہنے لگے یہ کیا ہے ؟ گویا کہ یہ آگ ہے تو بدیل کہنے لگا : یہ بنو عمرو کی آگ ہے۔ ابو سفیان نے کہا کہ بنو عمرو کی تعداد تو بہت کم ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نگران لوگوں نے ان کو دیکھ لیا تو پکڑ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے۔ ابو سفیان مسلمان ہوگئے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے تو عباس (رض) نے فرمایا : ابو سفیان کو پہاڑ کی اونچائی پر روکو تاکہ وہ مسلمانوں کو دیکھ سکیں تو عباس (رض) نے ابو سفیان کو روک لیا تو مختلف قبیلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرنے لگے تو وہ ٹولیوں کی شکل میں ابو سفیان کے پاس سے گزرتے تو ابو سفیان پوچھتا : یہ کون ہیں ؟ عباس کہتے : یہ غفار قبیلہ ہے۔ ابو سفیان نے کہا : مجھے غفار سے کیا واسطہ ؟ پھر جہینہ کے لوگ گزرے تو اس نے پھر اسی طرح کہا۔ پھر سعد بن ہذیم گزرے تو اس نے ویسی ہی بات کہی۔ پھر بنو سلیم گزرے تو وہی بات کہی۔ پھر ایک بہت بڑا قبیلہ آیا تو ابو سفیان نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں۔ عباس (رض) کہتے ہیں : یہ انصاری ہیں جن کا جھنڈا سعد بن عبادہ کے ہاتھ میں ہے تو سعد بن عبادہ نے کہا : اے ابوسفیان آج لڑائی کا دن ہے آج حرم میں لڑائی بھی جائز ہے تو ابو سفیان نے کہا : اے عباس ! آج بہادری اور غصہ اتارنے کا دن ہے۔ پھر ایک چھوٹی جماعت آئی جس میں رسول اللہ اور صحابہ تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جھنڈا زبیر بن عوام کے پاس تھا۔ جب رسول اللہ ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو ابو سفیان نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : کیا آپ کو معلوم ہے جو سعد بن عبادہ نے کہا ؟ پوچھا : اس نے کیا کہا ہے ؟ ابو سفیان نے کہا : فلاں فلاں بات۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سعد نے غلطی کی ہے۔ لیکن آج کے دن اللہ نے کعبہ کی عزت کو بڑھایا ہے اور اس دن کعبہ کو غلاف پہنایا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ان کو اکٹھا کیا جائے ٹھہرایا جائے میں اس کو حجون نامی جگہ پر دیکھ رہا ہوں۔
(ب) جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ میں نے عباس سے سنا، وہ زبیر بن عوام سے کہہ رہے تھے کہ ابو عبداللہ ! رسول اللہ نے آپ کو کیا حکم دیا ہے کہ جھنڈا یہاں گاڑ دیں۔
راوی کہتے ہیں کہ اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید کو کداء کی جانب سے مکہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کدیٰ کی جانب سے داخل ہوئے تو خالد بن ولید کے ساتھیوں نے دو آدمیوں کو قتل کیا۔ حبیش بن اشعر اور کرز بن جابر فہری کو۔
(ب) جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ میں نے عباس سے سنا، وہ زبیر بن عوام سے کہہ رہے تھے کہ ابو عبداللہ ! رسول اللہ نے آپ کو کیا حکم دیا ہے کہ جھنڈا یہاں گاڑ دیں۔
راوی کہتے ہیں کہ اس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالد بن ولید کو کداء کی جانب سے مکہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کدیٰ کی جانب سے داخل ہوئے تو خالد بن ولید کے ساتھیوں نے دو آدمیوں کو قتل کیا۔ حبیش بن اشعر اور کرز بن جابر فہری کو۔
(١٨٢٧٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَامَ الْفَتْحِ فَبَلَغَ ذَلِکَ قُرَیْشًا خَرَجَ أَبُو سُفْیَانَ بْنُ حَرْبٍ وَحَکِیمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ یَلْتَمِسُونَ الخَبَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَقْبَلُوا یَسِیرُونَ حَتَّی أَتَوْا مَرَّ الظَّہْرَانِ فَإِذَا ہُمْ بِنِیرَانٍ کَأَنَّہَا نِیرَانُ عَرَفَۃَ فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : مَا ہَذِہِ ؟ لَکَأَنَّہَا نِیرَانُ ۔ فَقَالَ بُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ : نِیرَانُ بَنِی عَمْرٍو۔ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : عَمْرٌو أَقَلُّ مِنْ ذَلِکَ فَرَآہُمْ نَاسٌ مِنْ حَرَسِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَدْرَکُوہُمْ فَأَخَذُوہُمْ فَأَتَوْا بِہِمْ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَسْلَمَ أَبُو سُفْیَانَ فَلَمَّا سَارَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ : احْبِسْ أَبَا سُفْیَانَ عِنْدَ خَطْمِ الجَبَلِ حَتَّی یَنْظُرَ إِلَی الْمُسْلِمِینَ ۔ فَحَبَسَہُ الْعَبَّاسُ فَجَعَلَتِ الْقَبَائِلُ تَمُرُّ مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَمُرُّ کَتِیبَۃٌ کَتِیبَۃٌ عَلَی أَبِی سُفْیَانَ فَمَرَّتْ کَتِیبَۃٌ قَالَ : یَا عَبَّاسُ مَنْ ہَذِہِ ؟ قَالَ : ہَذِہِ غِفَارُ ۔ قَالَ : مَا لِی وَلِغَفَارَ ۔ ثُمَّ مَرَّتْ جُہَیْنَۃُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ مَرَّتْ سَعْدُ بْنُ ہُذَیْمٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ وَمَرَّتْ سُلَیْمٌ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ حَتَّی أَقْبَلَتْ کَتِیبَۃٌ لَمْ یَرَ مِثْلَہُا قَالَ : مَنْ ہَذِہِ ؟ قَالَ : ہَؤُلاَئِ الأَنْصَارُ عَلَیْہِمْ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ مَعَہُ الرَّایَۃُ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ : یَا أَبَا سُفْیَانَ الْیَوْمُ یَوْمُ الْمَلْحَمَۃِ الْیَوْمُ تُسْتَحَلُّ الْکَعْبَۃُ ۔ فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : یَا عَبَّاسُ حَبَّذَا یَوْمُ الذِّمَارِ ثُمَّ جَائَ تْ کَتِیبَۃٌ وَہِیَ أَقَلُّ الْکَتَائِبِ فِیہِمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَصْحَابُہُ وَرَایَۃُ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَعَ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَلَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِأَبِی سُفْیَانَ قَالَ : أَلَمْ تَعْلَمْ مَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ ؟ قَالَ : مَا قَالَ ؟ ۔ قَالَ : کَذَا وَکَذَا۔ قَالَ : کَذَبَ سَعْدٌ وَلَکِنْ ہَذَا یَوْمٌ یُعَظِّمُ اللَّہُ فِیہِ الْکَعْبَۃَ وَیَوْمٌ تُکْسَی فِیہِ الْکَعْبَۃُ ۔ قَالَ : وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ تُرْکَزَ رَایَتُہُ بِالْحَجُونِ قَالَ عُرْوَۃُ فَأَخْبَرَنِی نَافِعُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ یَقُولُ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ یَقُولُ لِلزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ : یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ ہَا ہُنَا أَمَرَکَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ تَرْکِزَ الرَّایَۃَ ۔ قَالَ : فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَئِذٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ أَنْ یَدْخُلَ مَکَّۃَ مِنْ کَدَائٍ وَدَخَلَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ کُدًی فَقُتِلَ مِنْ خَیْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ یَوْمَئِذٍ رَجُلاَنِ حُبَیْشُ بْنُ الأَشْعَرِ وَکُرْزُ بْنُ جَابِرٍ الْفِہْرِیُّ ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا۔ [صحیح۔ بخاری ٤٢٨٠]
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَامَ الْفَتْحِ فَبَلَغَ ذَلِکَ قُرَیْشًا خَرَجَ أَبُو سُفْیَانَ بْنُ حَرْبٍ وَحَکِیمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ یَلْتَمِسُونَ الخَبَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَقْبَلُوا یَسِیرُونَ حَتَّی أَتَوْا مَرَّ الظَّہْرَانِ فَإِذَا ہُمْ بِنِیرَانٍ کَأَنَّہَا نِیرَانُ عَرَفَۃَ فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : مَا ہَذِہِ ؟ لَکَأَنَّہَا نِیرَانُ ۔ فَقَالَ بُدَیْلُ بْنُ وَرْقَائَ : نِیرَانُ بَنِی عَمْرٍو۔ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ : عَمْرٌو أَقَلُّ مِنْ ذَلِکَ فَرَآہُمْ نَاسٌ مِنْ حَرَسِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَدْرَکُوہُمْ فَأَخَذُوہُمْ فَأَتَوْا بِہِمْ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَسْلَمَ أَبُو سُفْیَانَ فَلَمَّا سَارَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ : احْبِسْ أَبَا سُفْیَانَ عِنْدَ خَطْمِ الجَبَلِ حَتَّی یَنْظُرَ إِلَی الْمُسْلِمِینَ ۔ فَحَبَسَہُ الْعَبَّاسُ فَجَعَلَتِ الْقَبَائِلُ تَمُرُّ مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَمُرُّ کَتِیبَۃٌ کَتِیبَۃٌ عَلَی أَبِی سُفْیَانَ فَمَرَّتْ کَتِیبَۃٌ قَالَ : یَا عَبَّاسُ مَنْ ہَذِہِ ؟ قَالَ : ہَذِہِ غِفَارُ ۔ قَالَ : مَا لِی وَلِغَفَارَ ۔ ثُمَّ مَرَّتْ جُہَیْنَۃُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ مَرَّتْ سَعْدُ بْنُ ہُذَیْمٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ وَمَرَّتْ سُلَیْمٌ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ حَتَّی أَقْبَلَتْ کَتِیبَۃٌ لَمْ یَرَ مِثْلَہُا قَالَ : مَنْ ہَذِہِ ؟ قَالَ : ہَؤُلاَئِ الأَنْصَارُ عَلَیْہِمْ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ مَعَہُ الرَّایَۃُ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ : یَا أَبَا سُفْیَانَ الْیَوْمُ یَوْمُ الْمَلْحَمَۃِ الْیَوْمُ تُسْتَحَلُّ الْکَعْبَۃُ ۔ فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ : یَا عَبَّاسُ حَبَّذَا یَوْمُ الذِّمَارِ ثُمَّ جَائَ تْ کَتِیبَۃٌ وَہِیَ أَقَلُّ الْکَتَائِبِ فِیہِمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَصْحَابُہُ وَرَایَۃُ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَعَ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَلَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِأَبِی سُفْیَانَ قَالَ : أَلَمْ تَعْلَمْ مَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَۃَ ؟ قَالَ : مَا قَالَ ؟ ۔ قَالَ : کَذَا وَکَذَا۔ قَالَ : کَذَبَ سَعْدٌ وَلَکِنْ ہَذَا یَوْمٌ یُعَظِّمُ اللَّہُ فِیہِ الْکَعْبَۃَ وَیَوْمٌ تُکْسَی فِیہِ الْکَعْبَۃُ ۔ قَالَ : وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ تُرْکَزَ رَایَتُہُ بِالْحَجُونِ قَالَ عُرْوَۃُ فَأَخْبَرَنِی نَافِعُ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ یَقُولُ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ یَقُولُ لِلزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ : یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ ہَا ہُنَا أَمَرَکَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ تَرْکِزَ الرَّایَۃَ ۔ قَالَ : فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَئِذٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ أَنْ یَدْخُلَ مَکَّۃَ مِنْ کَدَائٍ وَدَخَلَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ کُدًی فَقُتِلَ مِنْ خَیْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ یَوْمَئِذٍ رَجُلاَنِ حُبَیْشُ بْنُ الأَشْعَرِ وَکُرْزُ بْنُ جَابِرٍ الْفِہْرِیُّ ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا۔ [صحیح۔ بخاری ٤٢٨٠]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৮৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح مکہ کا بیان جس کی اللہ رب العزت نے حفاظت فرمائی
(١٨٢٨٠) عثمان بن عبدالرحمن بن سعید مخزومی فرماتے ہیں کہ میرے دادا اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام لوگوں کو پناہ دی سوائے چار افراد کے۔ ان کو کسی صورت بھی امن نہ دیا جائے بلکہ قتل کیا جائے گا : 1 ابن خطل 2 مقیس بن ضبابہ 3 عبداللہ بن ابی سرح 4 ابن نقید۔ ابن خطل کو زبیر بن عوام نے قتل کیا۔ عبداللہ بن ابی سرح کے لیے حضرت عثمان نے امان حاصل کرلی۔ کیونکہ وہ ان کا رضاعی بھائی تھا اور مقیس بن ضبابہ کو ان کے چچا کے بیٹے لحا نے قتل کیا۔ ابن نقید کو حضرت علی (رض) نے قتل کیا اور مقیس کی دو گانے والیاں بھی تھیں۔ ایک قتل کردی گئی اور ایک کو چھوڑ دیا گیا وہ مسلمان ہوگئی۔
انس بن مالک کی حدیث میں ہے کہ جس کے قتل کا حکم دیا وہ ام سارہ قریش کی آزاد کردہ لونڈی تھی۔
ابن اسحاق کی روایت مغازی میں ہے کہ یہ بنو عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی تھی، جو مکہ والوں کو تکلیف دیتی تھی۔
انس بن مالک کی حدیث میں ہے کہ جس کے قتل کا حکم دیا وہ ام سارہ قریش کی آزاد کردہ لونڈی تھی۔
ابن اسحاق کی روایت مغازی میں ہے کہ یہ بنو عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی تھی، جو مکہ والوں کو تکلیف دیتی تھی۔
(١٨٢٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا الأَدِیبُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْقَبَّانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِیدٍ الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنِی جَدِّی عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ : أَمِنَ النَّاسُ إِلاَّ ہَؤُلاَئِ الأَرْبَعَۃَ لاَ یُؤْمَنُونَ فِی حِلٍّ وَلاَ حَرَمٍ ابْنُ خَطَلٍ وَمِقْیَسُ بْنُ صُبَابَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی سَرْحٍ وَابْنُ نُقَیْدٍ ۔ فَأَمَّا ابْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَہُ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَأَمَّا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَہُ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأُومِنَ وَکَانَ أَخَاہُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ فَلَمْ یُقْتَلْ وَمِقْیَسُ بْنُ صُبَابَۃَ قَتَلَہُ ابْنُ عَمٍّ لَہُ لَحا قَدْ سَمَّاہُ وَقَتَلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ابْنَ نُقَیْدٍ وَقَیْنَتَیْنِ کَانَتَا لِمِقْیَسٍ فَقُتِلَتْ إِحْدَاہُمَا وَأَفْلَتَتِ الأُخْرَی فَأَسْلَمَتْ ۔ أَبُو جَدِّہِ سَعِیدُ بْنُ یَرْبُوعٍ الْمَخْزُومِیُّ قَالَہُ الْقَبَّانِیُّ
وَفِی حَدِیثِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِیمَنْ أَمَرَ بِقَتْلِہِ أُمُّ سَارَۃَ مَوْلاَۃٌ لِقُرَیْشٍ ۔
وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی الْمَغَازِی سَارَۃُ مَوْلاَۃٌ لِبَعْضِ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَکَانَتْ مِمَّنْ یُؤْذِیہِ بِمَکَّۃَ ۔
[ضعیف ]
وَفِی حَدِیثِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِیمَنْ أَمَرَ بِقَتْلِہِ أُمُّ سَارَۃَ مَوْلاَۃٌ لِقُرَیْشٍ ۔
وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِی الْمَغَازِی سَارَۃُ مَوْلاَۃٌ لِبَعْضِ بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَکَانَتْ مِمَّنْ یُؤْذِیہِ بِمَکَّۃَ ۔
[ضعیف ]
তাহকীক: