আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৮২৪৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی زمین کی طرف قرآن لے کر سفر کرنے کی ممانعت
(١٨٢٤١) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن لے کر دشمن کے علاقہ کی طرف سفر کرنے سے منع فرمایا اس خوف سے کہ کہیں دشمن اس کو لے نہ لے۔
(١٨٢٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَی أَرْضِ الْعَدُوِّ مَخَافَۃَ أَنْ یَنَالَہُ الْعَدُوُّ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ ابْنِ عُلَیَّۃَ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৪৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں ہتھیار اٹھا کرلے جانے کا بیان
(١٨٢٤٢) ذی الجوشن ضباب قبیلے کا ایک آدمی ہے۔ اس نے کہا : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاس اپنے گھوڑے کا بچہ لایا جس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر والوں سے فارغ ہوچکے تھے۔ اس کو فرحاء کہا جاتا تھا۔ میں نے کہا : اے محمد ! میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس فرحاء کے بچے کو لایا ہوں تاکہ آپ اس کو لے لیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں اس کا بدر کے زرعوں سے تبادلہ کرلیتا ہوں۔ میں نے ایسا کرلیا۔ میں نے کہا : میں آج کسی غلام کے بدلے تبادلہ نہ کروں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
(١٨٢٤٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ ذِی الْجَوْشَنِ رَجُلٌ مِنَ الضِّبَابِ قَالَ : أَتَیْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَہْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِی یُقَالُ لَہَا الْقَرْحَائُ فَقُلْتُ یَا مُحَمَّدُ إِنِّی جِئْتُکَ بِابْنِ الْقَرْحَائُ لِتَتَّخِذَہُ قَالَ : لاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أُقِیضَکَ بِہِ الْمُخْتَارَۃَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ فَعَلْتُ ۔ قُلْتُ : مَا کُنْتُ أُقِیضُہُ الْیَوْمَ بِغُرَّۃٍ ۔ قَالَ : فَلاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ ۔
قَالَ الشَّیْخُ قَوْلُہُ أُقِیضُکَ مِنَ الْمُقَایَضَۃِ وَہِیَ الْمُبَادَلَۃُ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّیْخُ قَوْلُہُ أُقِیضُکَ مِنَ الْمُقَایَضَۃِ وَہِیَ الْمُبَادَلَۃُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৪৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مشرکین مسلمانوں کے مال پر قبضہ کرلیں اس کے حصول کے بعد کیا حکم ہے
(١٨٢٤٣) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ صحابہ نے بنو عقیل کا ایک شخص قیدی بنا لیا۔ پھر انھوں نے حدیث کو ذکر کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی پکڑ لی گئی اور ایک انصاری عورت قیدی بنا لی گئی۔ اونٹنی اس سے پہلے پکڑ لی گئی تھی۔ وہ ان میں موجود تھی اور وہ اپنے جانور لے کر ان کے پاس آئے تھے۔ راوی کہتے ہیں : ایک دن وہ زنجیروں سے کھل گئی۔ وہ اونٹوں کے باڑے میں آئی۔ وہ جس اونٹ کے پاس بھی آئی اس نے آواز نکالی۔ جب وہ عورت اس اونٹنی کے پاس آئی اس اونٹنی کو لگام دی تو اس نے آواز نہ نکالی۔ بلبلانے والی اونٹنی تھی۔ وہ عورت اس پر سوار ہوگئی اور اسے چلایا۔ اس عورت کو تلاش کیا گیا لیکن وہ اس پر قادر نہ ہو سکے۔ اس عورت نے نذر مان لی۔ اگر اللہ نے مجھے نجات دی تو وہ اس اونٹنی کو ذبح کر دے گی۔ جب وہ عورت آئی تو صحابہ نے اونٹنی پہچان لی کہ یہ اونٹنی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہے۔ اس عورت نے کہا کہ میں نے تو نذر مانی ہے۔ اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ اس اونٹنی کو ذبح کر دے گی۔ صحابہ نے کہا : اس اونٹنی کو ذبح نہ کرنا یہاں تک کہ ہم رسول اللہ سے اجازت لے لیں۔ صحابہ نے آ کر رسول اللہ کو خبر دی کہ فلاں عورت آپ کی اونٹنی پر آئی ہے اور اس نے نذر مانی ہے اگر اللہ نے اسے نجات دے دی تو وہ اس کو ذبح کر دے گی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پاک ہے برا بدلہ ہے اگر اللہ نے اسے نجات دی تو وہ اس کو ذبح کرے گی۔ اللہ کی نافرمانی میں مانی گئی نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ہے اور نہ اس نذر کو پورا کیا جائے جس کا بندہ مالک نہیں رہا یا فرمایا ابن آدم مالک نہیں رہا۔
(١٨٢٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلاً مِنْ بَنِی عُقَیْلٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وَأُخِذَتْ نَاقَۃُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تِلْکَ وَسُبِیَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَتِ النَّاقَۃُ أُصِیبَتْ قَبْلَہَا فَکَانَتْ تَکُونُ فِیہِمْ وَکَانُوا یَجِیئُونَ بِالنَّعَمِ إِلَیْہِمْ قَالَ فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ مِنَ الْوَثَاقِ فَأَتَتِ الإِبِلَ فَجَعَلَتْ کُلَّمَا أَتَتْ بَعِیرًا رَغَا حَتَّی أَتَتْ تِلْکَ النَّاقَۃَ فَشَنَقَتْہَا فَلَمْ تَرْغُ وَہِیَ نَاقَۃٌ ہَدِرَۃٌ فَقَعْدَتْ فِی عَجُزِہَا ثُمَّ صَاحَتْ بِہَا فَانْطَلَقَتْ فَطُلِبَتْ مِنْ لَیْلَتِہَا فَلَمْ یُقْدَرْ عَلَیْہَا فَجَعَلَتْ لِلَّہِ عَلَیْہَا إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا فَلَمَّا قَدِمَتْ عَرَفُوا النَّاقَۃَ فَقَالُوا نَاقَۃُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَتْ إِنَّہَا قَدْ جَعَلَتْ لِلَّہِ عَلَیْہَا إِنْ أَنْجَاہَا اللَّہُ عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا قَالُوا لاَ وَاللَّہِ لاَ تَنْحَرِیہَا حَتَّی نُؤْذِنَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَتَوْہُ فَأَخْبَرُوہُ أَنَّ فُلاَنَۃَ قَدْ جَائَ تْ عَلَی نَاقَتِکَ وَإِنَّہَا جَعَلَتْ لِلَّہِ عَلَیْہَا إِنْ أَنْجَاہَا اللَّہُ عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: سُبْحَانَ اللَّہِ بِئْسَمَا جَزَتْہَا إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا لاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ الْعَبْدُ ۔ أَوْ قَالَ : ابْنُ آدَمَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٦٤١]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلاً مِنْ بَنِی عُقَیْلٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وَأُخِذَتْ نَاقَۃُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تِلْکَ وَسُبِیَتِ امْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَتِ النَّاقَۃُ أُصِیبَتْ قَبْلَہَا فَکَانَتْ تَکُونُ فِیہِمْ وَکَانُوا یَجِیئُونَ بِالنَّعَمِ إِلَیْہِمْ قَالَ فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ مِنَ الْوَثَاقِ فَأَتَتِ الإِبِلَ فَجَعَلَتْ کُلَّمَا أَتَتْ بَعِیرًا رَغَا حَتَّی أَتَتْ تِلْکَ النَّاقَۃَ فَشَنَقَتْہَا فَلَمْ تَرْغُ وَہِیَ نَاقَۃٌ ہَدِرَۃٌ فَقَعْدَتْ فِی عَجُزِہَا ثُمَّ صَاحَتْ بِہَا فَانْطَلَقَتْ فَطُلِبَتْ مِنْ لَیْلَتِہَا فَلَمْ یُقْدَرْ عَلَیْہَا فَجَعَلَتْ لِلَّہِ عَلَیْہَا إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا فَلَمَّا قَدِمَتْ عَرَفُوا النَّاقَۃَ فَقَالُوا نَاقَۃُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَتْ إِنَّہَا قَدْ جَعَلَتْ لِلَّہِ عَلَیْہَا إِنْ أَنْجَاہَا اللَّہُ عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا قَالُوا لاَ وَاللَّہِ لاَ تَنْحَرِیہَا حَتَّی نُؤْذِنَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَتَوْہُ فَأَخْبَرُوہُ أَنَّ فُلاَنَۃَ قَدْ جَائَ تْ عَلَی نَاقَتِکَ وَإِنَّہَا جَعَلَتْ لِلَّہِ عَلَیْہَا إِنْ أَنْجَاہَا اللَّہُ عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: سُبْحَانَ اللَّہِ بِئْسَمَا جَزَتْہَا إِنِ اللَّہُ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا لاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ الْعَبْدُ ۔ أَوْ قَالَ : ابْنُ آدَمَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٦٤١]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৫০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مشرکین مسلمانوں کے مال پر قبضہ کرلیں اس کے حصول کے بعد کیا حکم ہے
(١٨٢٤٤) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ عصباء اونٹنی بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی اور یہ اونٹنی حاجیوں سے سبقت لے جانے والی تھی۔ آدمی کو قیدی بنا لیا گیا اور اونٹنی پکڑ لی گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس سے گزرے۔ وہ جکڑا ہوا تھا۔ پھر اس شخص کو دو آدمیوں کے عوض چھوڑ دیا گیا اور عصباء اونٹنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی سواری کے لیے رکھ لی۔ پھر مشرکین نے مدینہ کے مویشیوں پر حملہ کیا تو اسے بھی لے گئے اور عصباء اونٹنی بھی ان جانوروں میں تھی۔ انھوں نے مسلمانوں کی ایک عورت کو بھی قید کرلیا۔ پھر اس نے اس عورت کے آنے کا بھی تذکرہ کیا۔
(١٨٢٤٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو الْحِیرِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَتِ الْعَضْبَائُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِی عُقَیْلٍ وَکَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ فَأُسِرَ الرَّجُلُ وَأُخِذَتِ الْعَضْبَائُ قَالَ فَمَرَّ بِہِ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ فِی وَثَاقٍ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ فُدِی بِالرَّجُلَیْنِ وَحَبَسَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْعَضْبَائَ لِرَحْلِہِ ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِکِینَ أَغَارُوا عَلَی سَرْحِ الْمَدِینَۃِ فَذَہَبُوا بِہِ وَکَانَتِ الْعَضْبَائُ فِی ذَلِکَ السَّرْحِ وَأَسَرُوا امْرَأَۃً مِنَ الْمُسْلِمِینَ ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی قِصَّۃِ انْفِلاَتِہَا بِنَحْوٍ مِنْ حَدِیثِ الثَّقَفِیِّ
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیِّ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیِّ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৫১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مشرکین مسلمانوں کے مال پر قبضہ کرلیں اس کے حصول کے بعد کیا حکم ہے
(١٨٢٤٥) حضرت عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ کسی قوم نے شب خون مارا اور ایک انصاری عورت اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کو پکڑ لیا۔ یہ عورت اور اونٹنی ان کے پاس تھیں۔ پھر عورت اونٹنی پر سوار ہو کر مدینہ آگئی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی پہچان لی گئی۔ اس عورت نے کہا : میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے نجات دے دی تو میں اس کو ذبح کر دوں گی۔ صحابہ نے ذبح کرنے سے منع فرما دیا یہاں تک کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تذکرہ کریں گے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے برا بدلہ دیا ہے۔ اگر اللہ تجھے اس پر نجات دے تو اسے ذبح کرے گی۔ اللہ کی نافرمانی میں کوئی نذر نہیں اور ابن آدم جس چیز کا مالک نہیں اس کی بھی نذر نہیں۔ دونوں یا ایک حدیث میں اکٹھے ذکر ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی اونٹنی لے لی۔
(١٨٢٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ وَعَبْدُ الْوَہَّابِ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ قَوْمًا أَغَارُوا فَأَصَابُوا امْرَأَۃً مِنَ الأَنْصَارِ وَنَاقَۃً لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ وَالنَّاقَۃُ عِنْدَہُمْ ثُمَّ انْفَلَتَتِ الْمَرْأَۃُ فَرَکِبَتِ النَّاقَۃَ فَأَتَتِ الْمَدِینَۃَ فَعُرِفَتْ نَاقَۃُ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَتْ : إِنِّی نَذَرَتْ لَئِنْ نَجَّانِی اللَّہُ عَلَیْہَا لأَنْحَرَنَّہَا فَمَنَعُوہَا أَنْ تَنْحَرَہَا حَتَّی یَذْکُرُوا ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : بِئْسَمَا جَزَیْتِہَا إِنْ نَجَّاکِ اللَّہُ عَلَیْہَا أَنْ تَنْحَرِیہَا لاَ نَذْرَ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ وَلاَ فِیمَا لاَ یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ ۔ وَقَالاَ مَعًا أَوْ أَحَدُہُمَا فِی الْحَدِیثِ وَأَخَذَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَاقَتَہُ ۔
زَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَقَدْ أَخَذَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَاقَتَہُ بَعْدَ مَا أَحْرَزَہَا الْمُشْرِکُونَ وَأَحْرَزَتْہَا الأَنْصَارِیَّۃُ عَلَی الْمُشْرِکِینَ ۔
زَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَقَدْ أَخَذَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَاقَتَہُ بَعْدَ مَا أَحْرَزَہَا الْمُشْرِکُونَ وَأَحْرَزَتْہَا الأَنْصَارِیَّۃُ عَلَی الْمُشْرِکِینَ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৫২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مشرکین مسلمانوں کے مال پر قبضہ کرلیں اس کے حصول کے بعد کیا حکم ہے
(١٨٢٤٦) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا غلام دشمن کی جانب بھاگ گیا۔ پھر مسلمانوں نے اس پر غلبہ پا لیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے واپس کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تقسیم نہ فرمایا تھا۔
(١٨٢٤٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : طَلْحَۃُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی رُوبَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ لُوَیْنٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ غَلاَمًا لَہُمْ أَبَقَ إِلَی الْعَدُوِّ ثُمَّ ظَہَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَیْہِ فَرَدَّہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلَمْ یَکُنْ قَسَمَ ۔
أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ صَالِحِ بْنِ سُہَیْلٍ عَنْ یَحْیَی۔ [حسن ]
أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ صَالِحِ بْنِ سُہَیْلٍ عَنْ یَحْیَی۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৫৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مشرکین مسلمانوں کے مال پر قبضہ کرلیں اس کے حصول کے بعد کیا حکم ہے
(١٨٢٤٧) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا غلام دشمنوں سے ان کے گھوڑے سمیت جا ملا تو خالد بن ولید نے دونوں کو قبضہ میں لے لیا اور ان پر واپس کردیے۔
اسی طرح ابو معاویہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے واضح بیان کیا جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے بعد میں ہوا۔
اسی طرح ابو معاویہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے واضح بیان کیا جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے بعد میں ہوا۔
(١٨٢٤٧) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ غُلاَمًا لَہُ لَحِقَ بِالْعَدُوِّ عَلَی فَرَسٍ لَہُ فَظَہَرَ عَلَیْہِمَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَرَدَّہُمَا عَلَیْہِ کَذَا قَالَ أَبُو مُعَاوِیَۃَ وَقَدْ بَیَّنَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ مَا کَانَ مِنْہُ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَمَا کَانَ بَعْدَہُ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৫৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مشرکین مسلمانوں کے مال پر قبضہ کرلیں اس کے حصول کے بعد کیا حکم ہے
(١٨٢٤٨) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا گھوڑا بھاگ گیا، جسے دشمنوں نے پکڑ لیا تو مسلمانوں نے ان پر غلبہ پا لیا۔ پھر رسول اللہ کے دور میں ان کو واپس کردیا گیا۔ فرماتے ہیں : ان کا غلام بھاگ کر رومیوں کے ساتھ جا ملا۔ مسلمان ان پر غالب آگئے تو خالد بن ولید نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد واپس کردیا تھا۔
(١٨٢٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَنْبَارِیُّ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْمَعْنَی قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ ہُوَ ابْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : ذَہَبَتْ فَرَسٌ لَہُ فَأَخَذَہَا الْعَدُوُّ فَظَہَرَ عَلَیْہِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّتْ عَلَیْہِ فِی زَمَنِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ قَالَ : وَأَبَقَ عَبْدٌ لَہُ فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَہَرَ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّہُ عَلَیْہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ بَعْدَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ ابْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ فَذَکَرَہُ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣٠٦٨-٩٠٦٩]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ ہُوَ ابْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : ذَہَبَتْ فَرَسٌ لَہُ فَأَخَذَہَا الْعَدُوُّ فَظَہَرَ عَلَیْہِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّتْ عَلَیْہِ فِی زَمَنِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ قَالَ : وَأَبَقَ عَبْدٌ لَہُ فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَہَرَ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّہُ عَلَیْہِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ بَعْدَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ ابْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ فَذَکَرَہُ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣٠٦٨-٩٠٦٩]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৫৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مشرکین مسلمانوں کے مال پر قبضہ کرلیں اس کے حصول کے بعد کیا حکم ہے
(١٨٢٤٩) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار تھے۔ جب مسلمانوں نے قبیلہ طینا اور اسد سے لڑائی کی۔ مسلمانوں کے امیر خالد بن ولید تھے۔ جنہیں حضرت ابوبکر نے مقرر فرمایا تھا۔ جرف نامی جگہ پر حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کا گھوڑا بدکا۔ اس نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو گرا دیا۔ گھوڑا بھاگ گیا تو دشمن نے اسے پکڑ لیا۔ جب دشمن کو اللہ نے شکست دی تو خالد بن ولید نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو گھوڑا واپس کردیا۔
نوٹ : غلام کی واپسی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ہوئی اور گھوڑا بعد میں واپس کیا گیا تاکہ یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی روایت کے موافق ہوجائے۔ ان روایات میں تقسیم کا تذکرہ نہیں ہے۔
نوٹ : غلام کی واپسی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ہوئی اور گھوڑا بعد میں واپس کیا گیا تاکہ یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی روایت کے موافق ہوجائے۔ ان روایات میں تقسیم کا تذکرہ نہیں ہے۔
(١٨٢٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ کَانَ عَلَی فَرَسٍ لَہُ یَوْمَ لَقِیَ الْمُسْلِمُونَ طَیِّئًا وَأَسَدًا وَأَمِیرُ الْمُسْلِمِینَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ بَعَثَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَاقْتَحَمَ الْفَرَسُ بِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ جُرْفًا فَصَرَعَہُ وَسَقَطَ عَبْدُ اللَّہِ فَعَارَ الْفَرَسُ فَأَخَذَہُ الْعَدُوُّ فَلَمَّا ہَزَمَ اللَّہُ الْعَدُوَّ رَدَّ خَالِدٌ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ فَرَسَہُ ۔ [صحیح ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ ۔ فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْعَبْدُ ہُوَ الَّذِی رُدَّ عَلَیْہِ فِی عَہْدِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَالْفَرَسُ بَعْدَہُ لِیَکُونَ مُوَافِقًا لِرِوَایَۃِ یَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ ثُمَّ رِوَایَۃِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ ہَذِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَلَیْسَ فِی شَیْئٍ مِنَ الرِّوَایَاتِ أَمْرُ الْقِسْمَۃِ وَلَعَلَّہُ فِی رِوَایَۃِ یَحْیَی مِنْ قَوْلِ بَعْضِ الرُّوَاۃِ دُونَ ابْنِ عُمَرَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ ۔ فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الْعَبْدُ ہُوَ الَّذِی رُدَّ عَلَیْہِ فِی عَہْدِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَالْفَرَسُ بَعْدَہُ لِیَکُونَ مُوَافِقًا لِرِوَایَۃِ یَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ ثُمَّ رِوَایَۃِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ ہَذِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَلَیْسَ فِی شَیْئٍ مِنَ الرِّوَایَاتِ أَمْرُ الْقِسْمَۃِ وَلَعَلَّہُ فِی رِوَایَۃِ یَحْیَی مِنْ قَوْلِ بَعْضِ الرُّوَاۃِ دُونَ ابْنِ عُمَرَ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৫৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مشرکین مسلمانوں کے مال پر قبضہ کرلیں اس کے حصول کے بعد کیا حکم ہے
(١٨٢٥٠) حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ جب دشمن مسلمانوں کا مال ان پر غلبے کی صورت میں حاصل کرلے یا کوئی چیز ان کی طرف بھاگ گئی پھر مسلمانوں نے اس مال کو حاصل کرلیا تو مال کے مالک تقسیم سے پہلے اور بعد میں اس مال کے زیادہ حق دار ہیں۔
(١٨٢٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا الثِّقَۃُ عَنْ مَخْرَمَۃَ بْنِ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ لاَ أَحْفَظُ عَمَّنْ رَوَاہُ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فِیمَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِینَ مِمَّا غَلَبُوا عَلَیْہِ أَوْ أَبَقَ إِلَیْہِمْ ثُمَّ أَحْرَزَہُ الْمُسْلِمُونَ مَالِکُوہُ أَحَقُّ بِہِ قَبْلَ الْقَسْمِ وَبَعْدَہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৫৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو مشرکین مسلمانوں کے مال پر قبضہ کرلیں اس کے حصول کے بعد کیا حکم ہے
(١٨٢٥١) رکین بن ربیع فراری اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے ان کا گھوڑا قبضہ میں لے لیا، خالد بن ولید کے دور میں۔ پھر مسلمانوں نے حضرت سعد کے دور میں واپس حاصل کرلیا۔ ہم نے حضرت سعد سے بات کی تو انھوں نے ہمیں مال کی تقسیم کے بعد واپس کردیا اور یہ خلیفہ کے خمس مال میں تھا۔
(١٨٢٥١) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ زَائِدَۃَ عَنِ الرُّکَیْنِ بْنِ الرَّبِیعِ الْفَزَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَصَابَ الْمُشْرِکُونَ فَرَسًا لَہُمْ زَمَنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ کَانُوا أَحْرَزُوہُ فَأَصَابَہُ مُسْلِمُونَ زَمَنَ سَعْدٍ فَکَلَّمْنَاہُ فَرَدَّہُ عَلَیْنَا بَعْدَ مَا قَسَمَ وَصَارَ فِی خُمُسِ الإِمَارَۃِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৫৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے تقسیم سے پہلے موجود چیز اور تقسیم کے بعد کے درمیان فرق کیا ہے اور وہ چیز جو دشمن سے خریدی گئی ہو
(١٨٢٥٢) حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ میرا اونٹ مال غنیمت میں ہے جس کو مشرکین نے پکڑ لیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تقسیم سے پہلے آپ اپنے اونٹ کو پالیں تو لے لو، اگر تقسیم ہوجائے تو پھر اونٹ کی قیمت مل سکتی ہے اگر آپ چاہیں۔
(١٨٢٥٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ الزَّرَّادِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : إِنِّی وَجَدْتُ بَعِیرِی فِی الْمَغْنَمِ کَانَ أَخَذَہُ الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: انْطَلِقْ فَإِنْ وَجَدْتَ بَعِیرَکَ قَبْلَ أَنْ یُقْسَمَ فَخُذْہُ وَإِنْ وَجَدْتَہُ قَدْ قُسِمَ فَأَنْتْ أَحَقُّ بِہِ بِالثَّمَنِ إِنْ أَرَدْتَہُ ۔
ہَذَا الْحَدِیثُ یُعْرَفُ بِالْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ۔ وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ مَتْرُوکٌ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ ۔
وَرَوَاہُ أَیْضًا مَسْلَمَۃُ بْنُ عَلِیٍّ الْخُشَنِیُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ وَہُوَ أَیْضًا ضَعِیفٌ وَرُوِیَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَجْہُولٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ وَلاَ یَصِحُّ شَیْئٌ مِنْ ذَلِکَ وَرُوِیَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی فَرْوَۃَ وَیَاسِینَ بْنِ مُعَاذٍ الزَّیَّاتِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ مَرْفُوعًا عَلَی اخْتِلاَفٍ بَیْنَہُمَا فِی لَفْظِہِ ۔ (ج) وَإِسْحَاقُ وَیَاسِینُ مَتْرُوکَانِ لاَ یُحْتَجُّ بِہِمَا۔ [ضعیف ]
ہَذَا الْحَدِیثُ یُعْرَفُ بِالْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ۔ وَالْحَسَنُ بْنُ عُمَارَۃَ مَتْرُوکٌ لاَ یُحْتَجُّ بِہِ ۔
وَرَوَاہُ أَیْضًا مَسْلَمَۃُ بْنُ عَلِیٍّ الْخُشَنِیُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ وَہُوَ أَیْضًا ضَعِیفٌ وَرُوِیَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَجْہُولٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ وَلاَ یَصِحُّ شَیْئٌ مِنْ ذَلِکَ وَرُوِیَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی فَرْوَۃَ وَیَاسِینَ بْنِ مُعَاذٍ الزَّیَّاتِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ مَرْفُوعًا عَلَی اخْتِلاَفٍ بَیْنَہُمَا فِی لَفْظِہِ ۔ (ج) وَإِسْحَاقُ وَیَاسِینُ مَتْرُوکَانِ لاَ یُحْتَجُّ بِہِمَا۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৫৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے تقسیم سے پہلے موجود چیز اور تقسیم کے بعد کے درمیان فرق کیا ہے اور وہ چیز جو دشمن سے خریدی گئی ہو
(١٨٢٥٣) تمیم بن طرفہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی اونٹنی کسی شخص کے ہاتھ میں پہچان لی۔ وہ اسے لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا جب اس سے اونٹنی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا : میں نے دشمن سے خریدی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہچاننے والے شخص سے کہا : اگر آپ لینا چاہیں تو جس قیمت میں اس نے خریدی ہے، وہ قیمت ادا کرو تو آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں ورنہ اونٹنی چھوڑ دو ۔ راوی کہتے ہیں کہ دو گواہوں کے متعلق پوچھا گیا۔
(١٨٢٥٣) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ وَأَبُو بَکْرٍ الْفَارِسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ تَمِیمِ بْنِ طَرَفَۃَ قَالَ : عَرَفَ رَجُلٌ نَاقَۃً لَہُ فِی یَدَیْ رَجُلٍ فَأَتَی بِہِ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَسُئِلَ عَنْ أَمْرِ النَّاقَۃِ فَوُجِدَ أَصْلُہَا اشْتُرِیَ مِنْ أَیْدِی الْعَدُوِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِلَّذِی عَرَفَہَا : إِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْخُذَ بِالثَّمَنِ الَّذِی اشْتَرَاہَا بِہِ فَأَنْتَ أَحَقُّ بِہَا وَإِلاَّ فَخَلِّ عَنْ نَاقَتِہِ ۔ قَالَ : وَسُئِلَ شَاہِدَیْنِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৬০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے تقسیم سے پہلے موجود چیز اور تقسیم کے بعد کے درمیان فرق کیا ہے اور وہ چیز جو دشمن سے خریدی گئی ہو
(١٨٢٥٤) سماک بن حرب حضرت تمیم بن طرفہ سے نقل فرماتے ہیں کہ دشمن نے مسلمانوں کے کسی فرد کی اونٹنی پر قبضہ کرلیا اور کسی مسلمان نے اس اونٹنی کو خرید لیا تو اونٹنی کے مالک نے اسے پہچان لیا۔ جھگڑا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی قیمت واپس کر دو جس قیمت میں اس نے خریدی ہے یا اپنی اونٹنی چھوڑ دو ۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : تمیم بن طرفہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ نہیں سنا اور مرسل حدیث حجت نہیں ہوتی۔ معلوم ہی نہیں کہ اس نے کس سے حاصل کی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : تمیم بن طرفہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ نہیں سنا اور مرسل حدیث حجت نہیں ہوتی۔ معلوم ہی نہیں کہ اس نے کس سے حاصل کی۔
(١٨٢٥٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ تَمِیمِ بْنِ طَرَفَۃَ : أَنَّ الْعَدُوَّ أَصَابُوا نَاقَۃَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَاشْتَرَاہَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَعَرَفَہَا صَاحِبُہَا فَخَاصَمَ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : رُدَّ إِلَیْہِ الثَّمَنَ الَّذِی اشْتَرَاہَا بِہِ أَوْ خَلِّ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِیِّ عَنْہُ : تَمِیمُ بْنُ طَرَفَۃَ لَمْ یُدْرِکِ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلَمْ یَسْمَعْ مِنْہُ وَالْمُرْسَلُ لاَ تَثْبُتُ بِہِ حَجَّۃٌ لأَنَّہُ لاَ یُدْرَی عَمَّنْ أَخَذَہُ ۔ [ضعیف ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِیِّ عَنْہُ : تَمِیمُ بْنُ طَرَفَۃَ لَمْ یُدْرِکِ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَلَمْ یَسْمَعْ مِنْہُ وَالْمُرْسَلُ لاَ تَثْبُتُ بِہِ حَجَّۃٌ لأَنَّہُ لاَ یُدْرَی عَمَّنْ أَخَذَہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৬১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے تقسیم سے پہلے موجود چیز اور تقسیم کے بعد کے درمیان فرق کیا ہے اور وہ چیز جو دشمن سے خریدی گئی ہو
(١٨٢٥٥) قبیصہ بن زویب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ مشرکین نے کسی مال پر قبضہ کرلیا، پھر ان سے مسلمانوں نے حاصل کرلیا اور مال کے مالک نے اپنا مال پہچان لیا تو اگر تقسیم سے پہلے اپنا مال لے لے تو اس کا ہے اور جب حصے تقسیم ہوجائیں تو اسے کچھ نہ ملے گا۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ تقسیم ہو نہ ہو وہ مال مسلمانوں کا ہے۔
(١٨٢٥٥) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ ذُؤَیْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فِیمَا أَحْرَزَہُ الْمُشْرِکُونَ مَا أَصَابَہُ الْمُسْلِمُونَ فَعَرَفَہُ صَاحِبُہُ قَالَ : إِنْ أَدْرَکَہُ قَبْلَ أَنْ یُقْسَمَ فَہُوَ لَہُ وَإِذَا جَرَتْ فِیہِ السِّہَامُ فَلاَ شَیْئَ لَہُ ۔ قَالَ وَقَالَ قَتَادَۃُ وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ہُوَ لِلْمُسْلِمِینَ اقْتُسِمَ أَوْ لَمْ یُقْتَسَمْ ۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ قَبِیصَۃُ لَمْ یُدْرِکْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَتَادَۃُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৬২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے تقسیم سے پہلے موجود چیز اور تقسیم کے بعد کے درمیان فرق کیا ہے اور وہ چیز جو دشمن سے خریدی گئی ہو
(١٨٢٥٦) رجاء بن حیوہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ابو عبیدہ کو خط لکھا کہ جو مال دشمن اپنے قبضہ میں کرلے۔ پھر مسلمانوں نے حاصل کرلیا تو تقسیم سے پہلے اصل مالک کو واپس کیا جاسکتا ہے۔
(١٨٢٥٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ فِیمَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِینَ ثُمَّ أَصَابَہُ الْمُسْلِمُونَ بَعْدُ أَنْ یَرُدَّ إِلَی أَہْلِہِ مَا لَمْ یُقْسَمْ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৬৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے تقسیم سے پہلے موجود چیز اور تقسیم کے بعد کے درمیان فرق کیا ہے اور وہ چیز جو دشمن سے خریدی گئی ہو
(١٨٢٥٧) شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے سائب بن اقرع کو خط لکھا : جو مسلمان اپنا غلام یا مال پالے وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اگر اس نے تاجروں کے پاس پایا تو پھر اس کا کوئی حق نہیں ہے اور جس آزاد فرد کو تاجروں نے خرید لیا ہو تو ان کا اصل مال واپس کردیا جائے گا؛ کیونکہ آزاد آدمی کی خریدو فروخت نہیں کی جاسکتی۔
(١٨٢٥٧) وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی السَّائِبِ بْنِ الأَقْرَعِ أَیُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَجَدَ رَقِیقَہُ وَمَتَاعَہُ بِعَیْنِہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہِ وَإِنْ وَجَدَہُ فِی أَیْدِی التُّجَّارِ بَعْدَ مَا قُسِمَ فَلاَ سَبِیلَ إِلَیْہِ وَأَیُّمَا حُرٍّ اشْتَرَاہُ التُّجَّارُ فَرُدَّ عَلَیْہِمْ رُئُ وسَ أَمْوَالِہِمْ فَإِنَّ الْحُرَّ لاَ یُبَاعُ وَلاَ یُشْتَرَی۔
رَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ أَبِی حَرِیزٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْہُ ہَذَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُرْسَلٌ إِنَّمَا رُوِیَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ عَنْ عُمَرَ وَکِلاَہُمَا لَمْ یُدْرِکْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَلاَ قَارَبَ ذَلِکَ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَحَدِیثُ سَعْدٍ أَثْبَتُ مِنَ الْحَدِیثِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لأَنَّہُ عَنِ الرُّکَیْنِ بْنِ الرَّبِیعِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ سَعْدًا فَعَلَہُ بِہِ وَالْحَدِیثُ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُرْسَلٌ۔ [ضعیف ]
رَوَاہُ غَیْرُہُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ أَبِی حَرِیزٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْہُ ہَذَا عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُرْسَلٌ إِنَّمَا رُوِیَ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ عَنْ عُمَرَ وَکِلاَہُمَا لَمْ یُدْرِکْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَلاَ قَارَبَ ذَلِکَ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَحَدِیثُ سَعْدٍ أَثْبَتُ مِنَ الْحَدِیثِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لأَنَّہُ عَنِ الرُّکَیْنِ بْنِ الرَّبِیعِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ سَعْدًا فَعَلَہُ بِہِ وَالْحَدِیثُ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُرْسَلٌ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৬৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے تقسیم سے پہلے موجود چیز اور تقسیم کے بعد کے درمیان فرق کیا ہے اور وہ چیز جو دشمن سے خریدی گئی ہو
(١٨٢٥٨) سلیمان بن یسار اور زید بن ثابت (رض) دونوں فرماتے ہیں کہ دشمن مسلمانوں کے مال پر قبضہ کرلے، پھر مال حاصل کرلیا جائے اور مالک تقسیم سے پہلے پہچان لے تو اسے واپس کردیا جائے گا۔ اگر تقسیم کے بعد پہچان کرلے تو واپس نہ کیا جائے گا۔
(١٨٢٥٨) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی جَعْفَرٍ أَنَّہُ حَدَّثَہُ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الأَشَجِّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ وَعَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالاَ : مَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ مِنْ مَالِ الْمُسْلِمِینَ فَاسْتُنْقِذَ فَعَرَفَہُ أَہْلُہُ قَبْلَ أَنْ یُقْسَمَ رُدَّ إِلَیْہِمْ فَإِنْ لَمْ یَعْرِفُوہُ حَتَّی یُقْسَمَ لَمْ یُرَدَّ عَلَیْہِمْ ۔
کَذَا وَجَدْتُہُ فِی کِتَابِی وَہُوَ ہَکَذَا مُنْقَطِعٌ۔ وَابْنُ لَہِیعَۃَ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔
وَقَدْ قِیلَ فِیہِ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ۔ [ضعیف ]
کَذَا وَجَدْتُہُ فِی کِتَابِی وَہُوَ ہَکَذَا مُنْقَطِعٌ۔ وَابْنُ لَہِیعَۃَ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔
وَقَدْ قِیلَ فِیہِ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৬৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کسی چیز پر اسلام قبول کیا وہ اس کی ہے
(١٨٢٥٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جس نے کسی چیز پر اسلام قبول کرلیا وہ اس کی ہے۔
قال الشافعی : اگر اس کی ملکیت اس کے لیے درست ہو تو وہ اس کی ہے۔
قال الشافعی : اگر اس کی ملکیت اس کے لیے درست ہو تو وہ اس کی ہے۔
(١٨٢٥٩) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُرَیْمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا یَاسِینُ بْنُ مُعَاذٍ الزَّیَّاتُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ أَسْلَمَ عَلَی شَیْئٍ فَہُوَ لَہُ ۔
یَاسِینُ بْنُ مُعَاذٍ الزَّیَّاتُ کُوفِیٌّ ضَعِیفٌ جَرَّحَہُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَالْبُخَارِیُّ وَغَیْرُہُمَا مِنَ الْحُفَّاظِ ۔
وَہَذَا الْحَدِیثُ إِنَّمَا یُرْوَی عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مُرْسَلاً وَعَنْ عُرْوَۃَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مُرْسَلاً ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَأَنَّ مَعْنَی ذَلِکَ مَنْ أَسْلَمَ عَلَی شَیْئٍ یَجُوزُ لَہُ مَلْکُہُ فَہُوَ لَہُ ۔ [ضعیف ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُرَیْمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا یَاسِینُ بْنُ مُعَاذٍ الزَّیَّاتُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ أَسْلَمَ عَلَی شَیْئٍ فَہُوَ لَہُ ۔
یَاسِینُ بْنُ مُعَاذٍ الزَّیَّاتُ کُوفِیٌّ ضَعِیفٌ جَرَّحَہُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَالْبُخَارِیُّ وَغَیْرُہُمَا مِنَ الْحُفَّاظِ ۔
وَہَذَا الْحَدِیثُ إِنَّمَا یُرْوَی عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مُرْسَلاً وَعَنْ عُرْوَۃَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مُرْسَلاً ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَکَأَنَّ مَعْنَی ذَلِکَ مَنْ أَسْلَمَ عَلَی شَیْئٍ یَجُوزُ لَہُ مَلْکُہُ فَہُوَ لَہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২৬৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے کسی چیز پر اسلام قبول کیا وہ اس کی ہے
(١٨٢٦٠) مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم غدیبیہ کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ عروہ بن مسعود ثقفی نے مغیرہ بن شعبہ سے کہا، جب مغیرہ نے عروہ سے کہا تھا کہ اپنا ہاتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی مبارک سے دور رکھو۔ اس نے کہا : اے دھوکا باز ! کیا میں نے تیرے عذر کی رقم نہ بھری تھی اور مغیرہ زمانہ جاہلیت میں اس کا قوم کا ساتھی تھا، جس نے قتل کیا اور اس نے ان کے مال بھی لیے۔ پھر آ کر مسلمان ہوگئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام تو میں نے اس کا قبول کرلیا لیکن میں اس کے کسی اور فعل کا ذمہ دار نہیں ہوں۔
شیخ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خمس سے حصہ روکا ہے۔ یونس زہری سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ غدر کا مال ہے۔ زہری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غصب شدہ مال سے ہم خمس نہیں لیتے (یعنی پانچواں حصہ) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال مغیرہ کو دے دیا۔ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ وہ اس مال کو لینے کی وجہ سے اس کے مالک بن گئے۔
شیخ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خمس سے حصہ روکا ہے۔ یونس زہری سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ غدر کا مال ہے۔ زہری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غصب شدہ مال سے ہم خمس نہیں لیتے (یعنی پانچواں حصہ) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال مغیرہ کو دے دیا۔ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ وہ اس مال کو لینے کی وجہ سے اس کے مالک بن گئے۔
(١٨٢٦٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ قَالَ مَعْمَرٌ قَالَ الزُّہْرِیُّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فِی قِصَّۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ وَمَا قَالَ عُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِیُّ لِلْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ حِینَ قَالَ لَہُ الْمُغِیرَۃُ : أَخِّرْ یَدَکَ عَنْ لِحْیَۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ قَالَ : أَیْ غُدَرُ أَوَلَسْتُ أَسْعَی فِی غَدْرَتِکَ قَالَ وَکَانَ الْمُغِیرَۃُ صَحِبَ قَوْمًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَقَتَلَہُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَہُمْ ثُمَّ جَائَ فَأَسْلَمَ قَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمَّا الإِسْلاَمُ فَأَقْبَلُ وَأَمَّا الْمَالُ فَلَسْتُ مِنْہُ فِی شَیْئٍ ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَإِنَّمَا امْتَنَعَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ تَخْمِیسِہِ فِیمَا رَوَی یُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَنَّہُ مَالُ غَدْرٍ وَفِیمَا رَوَی عُقَیْلٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ نُخَمِّسُ مَالاً أُخِذَ غَصْبًا ۔ فَتَرَکَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمَالَ فِی یَدَیِ الْمُغِیرَۃِ وَفِی ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ مَلَکَہُ بِالأَخْذِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔
[صحیح۔ بخاری ٢٧٤٥]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَإِنَّمَا امْتَنَعَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ تَخْمِیسِہِ فِیمَا رَوَی یُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَنَّہُ مَالُ غَدْرٍ وَفِیمَا رَوَی عُقَیْلٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ نُخَمِّسُ مَالاً أُخِذَ غَصْبًا ۔ فَتَرَکَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمَالَ فِی یَدَیِ الْمُغِیرَۃِ وَفِی ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ مَلَکَہُ بِالأَخْذِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔
[صحیح۔ بخاری ٢٧٤٥]
তাহকীক: