আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮২২৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کی زمین میں حدود قائم کرنے کا بیان

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں حد لگائی۔ حالانکہ شرک قریب تھا۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین میں بھی شرابی کو حد لگائی۔
(١٨٢٢١) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سفر و حضر میں قریب و بعید میں حدوں کو نافذ کرو اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا نہ کرو۔
(١٨٢٢١) وَرَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ خَالِدٍ الدِّمَشْقِیِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ یَحْیَی الْخُشَنِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَقِیمُوا الْحُدُودَ فِی الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ عَلَی الْقَرِیبِ وَالْبَعِیدِ وَلاَ تُبَالُوا فِی اللَّہِ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ ۔ وَرُوِیَ ذَلِکَ أَیْضًا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২২৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کی زمین میں حدود قائم کرنے کا بیان

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں حد لگائی۔ حالانکہ شرک قریب تھا۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین میں بھی شرابی کو حد لگائی۔
(١٨٢٢٢) ہارون بن اصم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے خالد بن ولید کو ایک لشکر میں روانہ فرمایا اور حضرت خالد بن ولید نے ضرار بن ازور کو گھوڑ سواروں کے ساتھ بھیجا۔ انھوں نے بنو اسد پر شب خون مارا۔ انھیں ایک خوبصورت دلہن ملی۔ وہ ضرار کو اچھی لگی تو ساتھیوں کی رضامندی کے بعد ضرار اس پر واقع ہوگئے۔ جب واپس پلٹے تو شرمندہ ہوئے اور ہاتھ کو فالج ہوگیا۔ جب انھیں خالد بن ولید کے پاس لایا گیا اور جو انھوں نے کیا تھا اس کی خبر دی تو حضرت خالد کہنے لگے کہ میں اس عورت کو آپ کے لیے جائز قرار دیتا ہوں۔ فرماتے ہیں : نہیں بلکہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو خط لکھو تو حضرت عمر (رض) نے لکھا کہ ان کا سر پتھروں سے کچل دیا جائے۔ جب حضرت عمر (رض) کا خط آیا تو اس وقت وہ فوت ہوچکے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ نے ضرار بن ازور کو رسوائی سے بچا لیا۔
(١٨٢٢٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْل الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ کَہْمَسٍ عَنْ ہَارُونَ بْنِ الأَصَمِّ قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ فِی جَیْشٍ فَبَعَثَ خَالِدٌ ضِرَارَ بْنَ الأَزْوَرِ فِی سَرِیَّۃٍ فِی خَیْلٍ فَأَغَارُوا عَلَی حَیٍّ مِنْ بَنِی أَسَدٍ فَأَصَابُوا امْرَأَۃً عَرُوسًا جَمِیلَۃً فَأَعْجَبَتْ ضِرَارًا فَسَأَلَہَا أَصْحَابَہُ فَأَعْطُوہَا إِیَّاہُ فَوَقَعَ عَلَیْہَا فَلَمَّا قَفَلَ نَدِمَ وَسُقِطَ فِی یَدِہِ فَلَمَّا دُفِعَ إِلَی خَالِدٍ أَخْبَرَہُ بِالَّذِی فَعَلَ قَالَ خَالِدٌ فَإِنِّی قَدْ أَجَزْتُہَا لَکَ وَطَیَّبْتُہَا لَکَ قَالَ لاَ حَتَّی تَکْتُبَ بِذَلِکَ إِلَی عُمَرَ فَکَتَب عُمَرُ أَنِ ارْضَخْہُ بِالْحِجَارَۃِ فَجَائَ کِتَابُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ تُوُفِّیَ فَقَالَ مَا کَانَ اللَّہُ لِیُخْزِی ضِرَارَ بْنَ الأَزْوَرِ ۔[ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২২৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا گمان ہے کہ دار الحرب میں حد نافذ نہ کی جائے بلکہ واپس آکر حدود نافذکرو
(١٨٢٢٣) جنادہ بن امیہ فرماتے ہیں کہ ہم بسر بن ابی ارطاۃ کے ساتھ سمندری سفر میں تھے۔ ان کے پاس ایک چور لایا گیا جس کا نام مقتدر تھا۔ اس نے بختی اونٹ چوری کیا تھا۔ اس نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ سفر میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ (ب) یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ اہل مدینہ انکار کرتے ہیں کہ بسر بن ابی ارطاۃ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سنا ہے اور یحییٰ تو فرماتے ہیں کہ بسر بن ارطاۃ برا آدمی ہے۔
(١٨٢٢٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی حَیْوَۃُ عَنْ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِیِّ عَنْ شُیَیْمِ بْنِ بَیْتَانَ وَیَزِیدَ بْنِ صُبْحٍ الأَصْبَحِیِّ عَنْ جُنَادَۃَ بْنِ أَبِی أُمَیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنَّا مَعَ بُسْرِ بْنِ أَبِی أَرْطَاۃَ فِی الْبَحْرِ فَأُتِیَ بِسَارِقٍ یُقَالُ لَہُ مِصْدَرٌ قَدْ سَرَقَ بُخْتِیَّۃً فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : لاَ تُقْطَعُ الأَیْدِی فِی السَّفَرِ ۔ وَلَوْلاَ ذَلِکَ لَقَطَعْتُہُ ۔

ہَذَا إِسْنَادٌ شَامِیٌّ۔

وَکَانَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ یَقُولُ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ یُنْکِرُونَ أَنْ یَکُونَ بُسْرُ بْنُ أَبِی أَرْطَاۃَ سَمِعَ مِنَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَقَالَ یَحْیَی بُسْرُ بْنُ أَبِی أَرْطَاۃَ رَجُلُ سَوْئٍ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৩০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا گمان ہے کہ دار الحرب میں حد نافذ نہ کی جائے بلکہ واپس آکر حدود نافذکرو
(١٨٢٢٤) شیخ فرماتے ہیں کہ یحییٰ نے جو اس کے بارے میں کہا اس وجہ سے کہ اس کا برا فعل حرہ کی لڑائی میں ظاہر ہوا۔
(١٨٢٢٤) أَخْبَرَنَا بِذَلِکَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ مَعِینٍ

قَالَ الشَّیْخُ وَإِنَّمَا قَالَ ذَلِکَ یَحْیَی لِمَا ظَہَرَ مِنْ سُوئِ فِعْلِہِ فِی قِتَالِ أَہْلِ الْحَرَّۃِ وَغَیْرِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৩১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا گمان ہے کہ دار الحرب میں حد نافذ نہ کی جائے بلکہ واپس آکر حدود نافذکرو
(١٨٢٢٥) زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ دار الحرب میں حدود نافذ نہ کی جائیں اس ڈر سے کہ کہیں دشمن سے نہ جا ملے۔
(١٨٢٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ قَالَ أَبُو یُوسُفَ حَدَّثَنَا بَعْضُ أَشْیَاخِنَا عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : لاَ تُقَامُ الْحُدُودُ فِی دَارِ الْحَرْبِ مَخَافَۃَ أَنْ یَلْحَقَ أَہْلُہَا بِالْعَدُوِّ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৩২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا گمان ہے کہ دار الحرب میں حد نافذ نہ کی جائے بلکہ واپس آکر حدود نافذکرو
(١٨٢٢٦) حکیم بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے عمیر بن سعد انصاری اور اپنے عمال کو خط لکھا کہ وہ مسلمانوں پر دار الحرب میں حد نافد نہ کریں۔ یہاں تک کہ وہ صلح والی زمین پر آجائیں۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) سے بیان کردہ حدیث منکر ہے۔ لہٰذا غیر ثابت شدہ حدیث سے دلیل لینا درست نہیں ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ اگر وہ مشرکین سے جا ملے تو بہت برا ہے اور جس نے حد کو صرف اس لیے چھوڑا کہ وہ مشرکین سے نہ جا ملے تو مسلمانوں کی سمندری حدوں اور ان حدود میں نافذ کرے جہاں بلاد حرب ساتھ ملے ہوئے ہیں۔
(١٨٢٢٦) قَالَ وَحَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ حَکِیمِ بْنِ عُمَیْرٍ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ إِلَی عُمَیْرِ بْنِ سَعْدٍ الأَنْصَارِیِّ وَإِلَی عُمَّالِہِ أَنْ لاَ یُقِیمُوا حَدًّا عَلَی أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فِی أَرْضِ الْحَرْبِ حَتَّی یَخْرُجُوا إِلَی أَرْضِ الْمُصَالَحَۃِ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ مَا رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُسْتَنْکَرٌ وَہُوَ یَعِیبُ أَنْ یَحْتَجَّ بِحَدِیثٍ غَیْرِ ثَابِتٍ وَیَقُولُ حَدَّثَنَا شَیْخٌ وَمَنْ ہَذَا الشَّیْخُ وَیَقُولُ مَکْحُولٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمَکْحُولٌ لَمْ یَرَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَوْلُہُ یَلْحَقُ بِالْمُشْرِکِینَ فَإِنْ لَحِقَ بِہِمْ فَہُوَ أَشْقَی لَہُ وَمَنْ تَرَکَ الْحَدَّ خَوْفَ أَنْ یَلْحَقَ الْمَحْدُودُ بِبِلاَدِ الْمُشْرِکِینَ تَرَکَہُ فِی سَوَاحِلِ الْمُسْلِمِینَ وَمَسَالِحِہِمُ الَّتِی تَأْتَصِلْ بِبِلاَدِ الْحَرْبِ ۔[ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৩৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا گمان ہے کہ دار الحرب میں حد نافذ نہ کی جائے بلکہ واپس آکر حدود نافذکرو
(١٨٢٢٧) یحییٰ بن عروہ بن زبیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عبد بن ازور، ضرار بن خطاب، ابو جندل اور سہیل بن عمرو نے شام میں شراب پی۔ انھیں ابو عبیدہ بن جراح کے پاس لایا گیا۔ ابو جندل نے کہا : میں نے تو اس قرآنی آیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پی : { لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } [المائدۃ ٩٣] ” ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو ایمان لائے، نیک عمل کیے اس میں جو انھوں نے کھایا، جب وہ اللہ سے ڈرے ہیں اور ایمان لائے نیک اعمل کیے۔ “ تو ابو عبیدہ (رض) نے ان کا معاملہ حضرت عمر (رض) کو لکھ بھیجا تو عبد بن ازور نے کہا کہ دشمن ہمارے سامنے موجود ہے۔ اگر آپ ہمیں کل تک دشمن سے لڑنے کے لیے مہلت دیں۔ اگر اللہ نے شہادت کا مرتبہ عطا کردیا تو آپ کو یہی کافی ہے آپ ہمیں حد نہ لگائیں گے۔ اگر واپس آئے تو جو حضرت عمر (رض) کا حکم ہو کر گزرنا۔ ابو عبیدہ (رض) مان گئے تو عبد بن ازور لڑائی میں شہید کردیے گئے۔ حضرت عمر (رض) کا خط آیا کہ ابو جندل نے دلیل لینے میں غلطی کی ہے۔ جب میرا خط آپ کو مل جائے تو ان پر حد نافذ کردینا۔ والسلام ! ابو عبیدہ (رض) نے دونوں کو بلا کر حد نافذ کردی۔ ابو جندل اور اس کے والد کا ایک مقام تھا۔ وہ اپنے آپ سے باتیں کرنے لگے۔ یہاں تک کہ کہا گیا کہ ان کے حواس گم ہوگئے ہیں تو ابو عبیدہ نے حضرت عمر (رض) کو خط لکھ دیا کہ میں نے ابو جندل کو حد لگائی تو وہ بد حواس ہوگیا۔ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں وہ ہلاک نہ ہوجائے تو حضرت عمر (رض) نے ابو جندل کو خط لکھا۔ حمد و ثنا کے بعد : جس چیز نے آپ کو غلطی میں مبتلا کیا ہے اس کی وجہ سے آپ کے ذمہ توبہ لازم ہے { بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ۔ حٰمٓ ۔ تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ ۔ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ ذِیْ الطَّوْلِ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَ اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ مَا یُجَادِلُ فِیْ اٰیٰتِ اللّٰہِ اِلَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَلاَ یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُہُمْ فِی الْبِلاَدِ ۔ } [غافر ١-٣] ” اس کتاب کا نازل کرنا غالب جاننے والے خدا کی جانب سے ہے ، گناہ معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا والا، قوت والا، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس کی طرف پلٹ کر جانا ہے، اللہ کی آیات کے بارے میں صرف کافر لوگ جھگڑا کرتے ہیں۔ ان کا شہروں میں پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔ “ جب اس نے حضرت عمر (رض) کا خط پڑھا تو ان کی وہ کیفیت ختم ہوگئی گویا کہ وہ رسی سے کھول دیے گئے ہیں۔
(١٨٢٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الرَّازِیُّ خَتَنُ سَلَمَۃَ بْنِ الْفَضْلِ الأَنْصَارِیِّ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ وَعَن یَحْیَی بْنِ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : شَرِبَ عَبْدُ بْنُ الأَزْوَرِ وَضِرَارُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو بِالشَّامِ فَأُتِیَ بِہِمْ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ أَبُو جَنْدَلٍ وَاللَّہِ مَا شَرِبْتُہَا إِلاَّ عَلَی تَأْوِیلٍ إِنِّی سَمِعْتُ اللَّہَ یَقُولُ { لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ } [المائدۃ ٩٣] فَکَتَبَ أَبُو عُبَیْدَۃَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِأَمْرِہِمْ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ الأَزْوَرِ : إِنَّہُ قَدْ حَضَرَ لَنَا عَدُوُّنَا فَإِنْ رَأَیْتَ أَنْ تُؤَخِّرَنَا إِلَی أَنْ نَلْقَی عَدُوَّنَا غَدًا فَإِنِ اللَّہُ أَکْرَمَنَا بِالشَّہَادَۃِ کَفَاکَ ذَاکَ وَلَمْ تُقِمْنَا عَلَی خِزَایَۃٍ وَإِنْ نَرْجِعْ نَظَرْتَ إِلَی مَا أَمَرَکَ بِہِ صَاحِبُکَ فَأَمْضَیْتَہُ ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَنَعَمْ فَلَمَّا الْتَقَی النَّاسُ قُتِلَ عَبْدُ بْنُ الأَزْوَرِ شَہِیدًا فَرَجَعَ الْکِتَابُ کِتَابُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ الَّذِی أَوْقَعَ أَبَا جَنْدَلٍ فِی الْخَطِیئَۃِ قَدْ تَہَیَّأَ لَہُ فِیہَا بِالْحُجَّۃِ وَإِذَا أَتَاکَ کِتَابِی ہَذَا فَأَقِمْ عَلَیْہِمْ حَدَّہُمْ وَالسَّلاَمُ فَدَعَا بِہِمَا أَبُو عُبَیْدَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَحَدَّہُمَا وَأَبُو جَنْدَلٍ لَہُ شَرَفٌ وَلأَبِیہِ فَکَانَ یُحَدِّثُ نَفْسَہُ حَتَّی قِیلَ إِنَّہُ قَدْ وَسْوَسَ فَکَتَبَ أَبُو عُبَیْدَۃَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّی قَدْ ضَرَبْتُ أَبَا جَنْدَلٍ حَدَّہُ وَإِنَّہُ قَدْ حَدَّثَ نَفْسَہُ حَتَّی قَدْ خَشِینَا عَلَیْہِ أَنَّہُ قَدْ ہَلَکَ فَکَتَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی أَبِی جَنْدَلٍ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الَّذِی أَوْقَعَکَ فِی الْخَطِیئَۃِ قَدْ خَزَنَ عَلَیْکَ التَّوْبَۃَ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ { حم تَنْزِیلُ الْکِتَابِ مِنَ اللَّہِ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیدِ الْعِقَابِ ذِی الطَّوْلِ لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ إِلَیْہِ الْمَصِیرُ } [غافر ١-٣] فَلَمَّا قَرَأَ کِتَابَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ذَہَبَ عَنْہُ مَا کَانَ بِہِ کَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৩৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کا گمان ہے کہ دار الحرب میں حد نافذ نہ کی جائے بلکہ واپس آکر حدود نافذکرو
(١٨٢٢٨) عبداللہ بن صالح فرماتے ہیں کہ لیث کا خیال تھا کہ روم کی سر زمین پر حد جاری کی جائے؛ کیونکہ اللہ فرماتے ہیں : { مَنْ یُّرِدِ اللّٰہَ فِتْنَۃً فَلَنْ تَمْلِکَ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا } [المائدۃ ٤١]” جس شخص کی آزمائش کا اللہ ارادہ فرمائیں تو اللہ سے اس کا کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ “
(١٨٢٢٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ کَانَ اللَّیْثُ یَرَی أَنْ یُقِیمَ الْحَدَّ فِی أَرْضِ الرُّومِ لأَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ { وَمَنْ یُرِدِ اللَّہُ فِتْنَتَہُ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہُ مِنَ اللَّہِ شَیْئًا } [المائدۃ ٤١] ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৩৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دار حرب میں ایک درہم کی دو درہم کے عوض خریدو فروخت کا بیان
(١٨٢٢٩) جابر بن عبداللہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا : خبردار ! جاہلیت کے تمام معاملات میرے قدموں تلے رکھ دیے گئے ہیں اور جاہلیت کا سود ختم اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب کے سود کو ختم کرتا ہوں۔
(١٨٢٢٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبِرْنِی أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ حَجَّۃِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ فِی خُطْبَتِہِ : أَلاَ وَإِنَّ کُلَّ شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاہِلِیَّۃِ مَوْضُوعٌ تَحْتَ قَدَمَیَّ وَرِبَا الْجَاہِلِیَّۃِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُہُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّہُ مَوْضُوعٌ کُلُّہُ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৩৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن مشرکین کو دعوت پہنچ چکی ہو ان کو مہلت کے لیے دعوت دینا اور جن تک دعوت نہ پہنچی ہو ان کو دعوت دینا لازم ہے
(١٨٢٣٠) سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خیبر کے دن سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح عطا فرمائیں گے۔ لوگ رات کو باتیں کرتے رہے کہ جھنڈا کس کو دیا جائے گا۔ صبح کے وقت لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس امید سے گئے کہ جھنڈا انھیں دیا جائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علی بن ابی طالب کہاں ہے ؟ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس کی آنکھیں خراب ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بلوایا اور آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا اور اس کے لیے دعا کی۔ وہ اسی وقت تندرست ہوگئے گویا کہ انھیں بیماری تھی ہی نہیں تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو جھنڈا دیا تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم ان سے لڑائی کریں یہاں تک کہ وہ ہماری طرح ہوجائیں۔ پھر ان کو اسلام کی دعوت دو اور ان کو خبر دو کہ کیا چیز ان پر حقوق سے واجب ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر اللہ تیری وجہ سے کسی ایک شخص کو ہدایت دے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
(١٨٢٣٠) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی حَازِمٍ حَدَّثَنِی أَبُو حَازِمٍ أَنَّہُ سَمِعَ سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ یَوْمَ خَیْبَرَ : لأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ رَجُلاً یَفْتَحُ اللَّہُ عَلَی یَدَیْہِ ۔ فَبَاتَ النَّاسُ یَذْکُرُونَ أَیُّہُمْ یُعْطَاہَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کُلُّہُمْ یَرْجُو أَنْ یُعْطَاہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَیْنَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ ؟ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہُوَ یَشْتَکِی عَیْنَہُ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَبَصَقَ فِی عَیْنِہِ وَدَعَا لَہُ فَبَرَأَ مَکَانَہُ حَتَّی لَکَأَنَّہُ لَمْ یَکُنْ بِہِ شَیْئٌ فَأَعْطَاہُ الرَّایَۃَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنُقَاتِلُہُمْ حَتَّی یَکُونُوا مِثْلَنَا قَالَ : عَلَی رِسْلِکَ انْفُذْ حَتَّی تَنْزِلَ بِسَاحَتِہِمْ ثُمَّ ادْعُہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ وَأَخْبِرْہُمْ بِمَا یَجِبُ عَلَیْہِمْ فِیہِ مِنَ الْحَقِّ فَوَاللَّہِ لأَنْ یَہْدِیَ اللَّہُ بِکَ الرَّجُلَ الْوَاحِدَ خَیْرٌ لَکَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৩৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن مشرکین کو دعوت پہنچ چکی ہو ان کو مہلت کے لیے دعوت دینا اور جن تک دعوت نہ پہنچی ہو ان کو دعوت دینا لازم ہے
(١٨٢٣١) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسریٰ قیصر اور ہر سردار کی طرف خط لکھا اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی۔
(١٨٢٣١) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی یَعْنِی الذُّہْلِیَّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ الْجَہْضَمِیُّ أَخْبَرَنِی أَبِی حَدَّثَنِی خَالِدُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَتَبَ إِلَی کِسْرَی وَقَیْصَرَ وَإِلَی کُلِّ جَبَّارٍ یَدْعُوہُمْ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِیٍّ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٧٤]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৩৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن مشرکین کو دعوت پہنچ چکی ہو ان کو مہلت کے لیے دعوت دینا اور جن تک دعوت نہ پہنچی ہو ان کو دعوت دینا لازم ہے
(١٨٢٣٢) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی بھی کسی قوم سے لڑائی نہیں کی یہاں تک کہ ان کو دعوت دے دی۔
(١٨٢٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی وَیُوسُفُ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَوْمًا قَطُّ حَتَّی یَدْعُوہُمْ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৩৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن مشرکین کو دعوت پہنچ چکی ہو ان کو مہلت کے لیے دعوت دینا اور جن تک دعوت نہ پہنچی ہو ان کو دعوت دینا لازم ہے
(١٨٢٣٣) حضرت ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لات و عزیٰ کے قیدی لائے گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں فرمایا : کیا تمہیں انھوں نے اسلام کی جانب بلایا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ امن کی جگہ پہنچ جائیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دو آیات تلاوت کیں۔
(١٨٢٣٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُوسَی بْنُ عِیسَی بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّی حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ حَدَّثَنِی مُقَاتِلُ بْنُ حَیَّانَ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِأُسَارَی مِنَ اللاَّتِ وَالْعُزَّی قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ہَلْ دَعَوْتُمُوہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ ؟ ۔ فَقَالُوا : لاَ ۔ فَقَالُوا لَہُمْ : ہَلْ دَعَوْکُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ ۔ فَقَالُوا : لاَ ۔ قَالَ : خَلُّوا سَبِیلَہُمْ حَتَّی یَبْلُغُوا مَأْمَنَہُمْ ۔ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ہَاتَیْنِ الآیَتَیْنِ {إِنَّا أَرْسَلْنَاکَ شَاہِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِیرًا } [الأحزاب ٤٥-٤٦] { وَأُوحِیَ إِلَیَّ ہَذَا الْقُرْآنُ لأُنْذِرَکُمْ بِہِ وَمَنْ بَلَغَ أَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُونَ } [الأنعام ١٩] إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ۔

رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৪০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کو دعوت پہنچ چکی ہو اس کو دعوت نہ بھی دی جائے تو جائز ہے
(١٨٢٣٤) ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے نافع کو خط لکھا کہ قتال میں دعوت دینے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ شروع اسلام میں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق پر شب خون مارا اس حال میں کہ وہ غافل تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے جنگجوؤں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا اور اسی دن جویریہ بنت حارث آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملی۔ یہ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں اور وہ اس لشکر میں تھے۔
(١٨٢٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّیَّارِیُّ بِمَرْوٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ حَاتِمٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ عَنِ الدُّعَائِ یَعْنِی فِی الْقِتَالِ فَکَتَبَ إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُہُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَہُمْ وَسَبَی سَبْیَہُمْ وَأَصَابَ یَوْمَئِذٍ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ حَدَّثَنِی بِذَلِکَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَکَانَ فِی ذَلِکَ الْجَیْشِ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৪১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کو دعوت پہنچ چکی ہو اس کو دعوت نہ بھی دی جائے تو جائز ہے
(١٨٢٣٥) ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ابوبکر (رض) کے ساتھ نکلے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ہمارے اوپر ایک غزوہ میں امیر بنایا تھا۔ جب ہم دشمن کے قریب ہوئے تو ابوبکر (رض) نے ہمیں پڑاؤ کا حکم دیا۔ جب ہم نے صبح کی نماز ادا کی تو ابوبکر (رض) نے چاروں طرف سے حملے کا حکم دے دیا۔ ہم پانی کے گھاٹ پر وارد ہوئے تو ہم نے قتل کیا جس کو بھی قتل کیا۔
(١٨٢٣٥) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا عِکْرِمَۃُ عَنْ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَمَّرَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْنَا فِی غَزْوَۃٍ فَلَمَّا دَنَوْنَا أَمَرَنَا أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَعَرَّسْنَا فَلَمَّا صَلَّیْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَشَنَنَّا الْغَارَۃَ فَوَرَدْنَا الْمَائَ فَقَتَلْنَا مَنْ قَتَلْنَا وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ وَالأَحَادِیثُ الَّتِی مَضَتْ فِی جَوَازِ التَّبْیِیتِ دَلِیلٌ فِی ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ ۔ [صحیح۔ بخاری ١٧٥٥]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৪২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے وقت حملہ میں احتیاط برتنی چاہیے کہیں لا علمی کی بنا پر مسلمان نہ مارے جائیں
(١٨٢٣٦) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کے وقت حملہ کرتے اگر اذان کی آواز کو سن لیتے تو رک جاتے وگرنہ حملہ کردیتے۔
(١٨٢٣٦) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُغِیرُ عِنْدَ الصَّبَّاحِ فَیَسْتَمِعُ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَکَ وَإِلاَّ أَغَارَ ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৪৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے وقت حملہ میں احتیاط برتنی چاہیے کہیں لا علمی کی بنا پر مسلمان نہ مارے جائیں
(١٨٢٣٧) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی قوم سے جنگ کرتے تو صبح سے پہلے حملہ نہ کرتے۔ اگر اذان کی آواز سن لیتے تو حملہ سے باز آجاتے۔ اگر اذان کی آواز نہ سنتے تو صبح کے بعد حملہ کردیتے۔
(١٨٢٣٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا غَزَا قَوْمًا لَمْ یُغِرْ حَتَّی یُصْبِحَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَکَ وَإِنْ لَمْ یَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ بَعْدَ مَا أَصْبَحَ ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْفَزَارِیِّ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৪৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کے وقت حملہ میں احتیاط برتنی چاہیے کہیں لا علمی کی بنا پر مسلمان نہ مارے جائیں
(١٨٢٣٨) ابن عصام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کوئی چھوٹا لشکر بھیجتے تو فرماتے : جب تم اذان کی آواز سنو یا تم مسجد دیکھو تو تم کسی کو قتل نہ کرو۔
(١٨٢٣٨) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ یُقَالُ لَہُ ابْنُ عِصَامٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِیَّۃً قَالَ : إِذَا سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا أَوْ رَأَیْتُمْ مَسْجِدًا فَلاَ تَقْتُلُوا أَحَدًا ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৪৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی زمین کی طرف قرآن لے کر سفر کرنے کی ممانعت
(١٨٢٣٩) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دشمن کی زمین کی طرف قرآن لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے۔

امام مالک (رح) فرماتے ہیں : میرا خیال ہے اس ڈر سے کہ کہیں دشمن اس کو حاصل نہ کرلیں۔
(١٨٢٣٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَی أَرْضِ الْعَدُوِّ ۔

قَالَ مَالِکٌ أُرَاہُ مَخَافَۃَ أَنْ یَنَالَہُ الْعَدُوُّ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৪৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کی زمین کی طرف قرآن لے کر سفر کرنے کی ممانعت
(١٨٢٤٠) خالی
(١٨٢٤٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ قَالُوا حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَ مَالِکٍ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔
tahqiq

তাহকীক: