আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৮২০৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قتال میں موجود شخص مال غنیمت سے چوری کرلے
(١٨٢٠١) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : خمس کے غلاموں میں سے کسی غلام نے خمس کا مال چرا لیا۔ معاملہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ نہ کاٹا اور فرمایا : اللہ کا مال ہے اس کے بعض حصے نے بعض کو چرایا ہے۔ (ب) حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے مال غنیمت سے ٹوپ چرا لیا۔ آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
(١٨٢٠١) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا جُبَارَۃُ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ تَمِیمٍ حَدَّثَنِی مَیْمُونُ بْنُ مِہْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ عَبْدًا مِنْ رَقِیقِ الْخُمُسِ سَرَقَ مِنَ الْخُمُسِ فَرُفِعَ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمْ یَقْطَعْہُ فَقَالَ : مَالُ اللَّہِ سَرَقَ بَعْضُہُ بَعْضًا ۔ ہَذَا إِسْنَادٌ فِیہِ ضَعْفٌ وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مُرْسَلاً ۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً سَرَقَ مِغْفَرًا مِنَ الْمَغْنَمِ فَلَمْ یَقْطَعْہُ ۔ [ضعیف ]
وَرُوِّینَا عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً سَرَقَ مِغْفَرًا مِنَ الْمَغْنَمِ فَلَمْ یَقْطَعْہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২০৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیانت کا کم یا زیادہ مال حرام ہے
(١٨٢٠٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خیبر گئے تو سونا، چاندی مال غنیمت میں نہ ملا بلکہ عام مال حاصل ہوا۔ پھر ہم وادی قریٰ میں آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غلام تھا، جو رفاعہ بن بدر بنو خبیب کے آدمی نے دیا تھا۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری سے کجاوہ اتار رہا تھا کہ اجنبی تیر اس کو لگ گیا جس کی وجہ سے وہ فوت ہوگیا۔ لوگوں نے اسے جنت کی بشارت دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اس نے خیبر کے مال غنیمت کے تقسیم ہونے سے پہلے ایک چادر چرائی تھی۔ وہ آگ بن کر اس پر لپٹی ہوئی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر آیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ایک یا دو تسمے آگ سے ہیں۔
(١٨٢٠٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُو صَادِقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ الْمِصْرِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَیْدٍ الدِّیلِیِّ عَنْ سَالِمٍ أَبِی الْغَیْثِ مَوْلَی ابْنِ مُطِیعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی خَیْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَہَبًا وَلاَ فِضَّۃً إِنَّمَا غَنِمْنَا الْمَتَاعَ وَالأَمْوَالَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا نَحْوَ وَادِی الْقُرَی وَمَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَبْدٌ أَعْطَاہُ إِیَّاہُ رِفَاعَۃُ بْنُ بَدْرٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِی ضُبَیْبٍ فَبَیْنَمَا ہُوَ یَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذْ أَتَاہُ سَہْمٌ عَائِرٌ فَأَصَابَہُ فَمَاتَ فَقَالَ لَہُ النَّاسُ ہَنِیئًا لَہُ الْجَنَّۃُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : کَلاَّ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ الشَّمْلَۃَ الَّتِی غَلَّہَا یَوْمَ خَیْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْہَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَیْہِ نَارًا ۔ فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِشِرَاکٍ أَوْ شِرَاکَیْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : شِرَاکٌ مِنْ نَارٍ أَوْ شِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَالِکٍ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ مَالِکٍ ۔
[صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২০৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیانت کا کم یا زیادہ مال حرام ہے
(١٨٢٠٣) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامان پر مقرر تھا جس کا نام کرکرہ تھا۔ وہ فوت ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ جہنمی ہے۔ صحابہ (رض) نے جا کر دیکھا تو اس کے اوپر ایک حلہ تھا جو اس نے مال غنیمت سے چرایا تھا اور خیانت کی تھی۔
(١٨٢٠٣) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ عَلَی ثَقَلِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ کِرْکِرَۃُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ہُوَ فِی النَّارِ ۔ فَذَہَبُوا یَنْظُرُونَ إِلَیْہِ فَوَجَدُوا عَلَیْہِ عَبَائَ ۃً قَدْ غَلَّہَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیٍّ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣٠٧٤]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیٍّ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣٠٧٤]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২১০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیانت کا کم یا زیادہ مال حرام ہے
(١٨٢٠٤) حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن بعض صحابہ شہید ہوئے تو لوگوں نے کہا : فلاں شہید ہے، فلاں شہید ہے یہاں تک کہ وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے۔ انھوں نے کہا : یہ شہید ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہرگز نہیں بلکہ میں نے اس کو جہنم میں دیکھا ہے، ایک عباء یا چادر کی خیانت کی وجہ سے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابن خطاب ! جاؤلوگوں میں اعلان کر دو کہ صرف مومن جنت میں داخل ہوں گے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں میں اعلان کردیا کہ صرف مومن جنت میں داخل ہوں گے۔
(١٨٢٠٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ ابْنُ الْحَمَّامِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ أَبُو عَمْرٍو الْغُدَانِیُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ سِمَاکٍ أَبِی زُمَیْلٍ حَدَّثَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ خَیْبَرَ قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَعْنِی نَاسًا فَقَالُوا فُلاَنٌ شَہِیدٌ وَفُلاَنٌ شَہِیدٌ حَتَّی مَرُّوا عَلَی رَجُلٍ فَقَالُوا فُلاَنٌ شَہِیدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : کَلاَّ إِنِّی رَأَیْتُہُ فِی النَّارِ فِی عَبَائَ ۃٍ غَلَّہَا أَوْ بُرْدَۃٍ غَلَّہَا ۔ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : یَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْہَبْ فَنَادِ فِی النَّاسِ إِنَّہُ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ ۔ فَخَرَجْتُ فَنَادَیْتُ فِی النَّاسِ إِنَّہُ لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ إِلاَّ الْمُؤْمِنُونَ ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١١٤]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عِکْرِمَۃَ بْنِ عَمَّارٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١١٤]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২১১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیانت کا کم یا زیادہ مال حرام ہے
(١٨٢٠٥) زید بن خالد جہنی فرماتے ہیں کہ ایک شخص خیبر کے دن فوت ہوگیا۔ صحابہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرو۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے رنگ تبدیل ہوگئے۔ راوی کا گمان ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ تمہارے ساتھی نے اللہ کے راستہ میں خیانت کی ہے۔ ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو یہود کے ہاروں میں سے ایک ہار پایا جو دو درہم کے برابر تھا۔
(١٨٢٠٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَبِی عَمْرَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : تُوُفِّیَ رَجُلٌ یَوْمَ خَیْبَرَ وَإِنَّہُمْ ذَکَرُوا لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ لَہُمْ : صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ ۔ فَتَغَیَّرَتْ وُجُوہُ النَّاسِ لِذَلِکَ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِنَّ صَاحِبَکُمْ قَدْ غَلَّ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ فَفَتَحْنَا مَتَاعَہُ فَوَجَدْنَا خَرَزَاتٍ مِنْ خَرَزِ یَہُودَ مَا تُسَاوِی دِرْہَمَیْنِ ۔
لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ ۔ [ضعیف ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِی حَامِدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُو صَادِقٍ الْعَطَّارُ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ أَبِی عَمْرَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : تُوُفِّیَ رَجُلٌ یَوْمَ خَیْبَرَ وَإِنَّہُمْ ذَکَرُوا لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ لَہُمْ : صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ ۔ فَتَغَیَّرَتْ وُجُوہُ النَّاسِ لِذَلِکَ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِنَّ صَاحِبَکُمْ قَدْ غَلَّ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ فَفَتَحْنَا مَتَاعَہُ فَوَجَدْنَا خَرَزَاتٍ مِنْ خَرَزِ یَہُودَ مَا تُسَاوِی دِرْہَمَیْنِ ۔
لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ وَہْبٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২১২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیانت کا کم یا زیادہ مال حرام ہے
(١٨٢٠٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غنیمت کے مال میں خیانت کا تذکرہ فرمایا اور اسے بہت بڑا گناہ گردانا اور اس خیانت کو کبیرہ گناہ قرار دیا۔ پھر فرمایا : میں تم سے کسی شخص کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن میدان حشر میں آئے تو اس کی گردن پر ایسا اونٹ ہو جو آواز نکال رہا اور وہ کہے : اے اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں۔ میں کہوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تجھ تک (فریضہ زکوۃ کی) بات پہنچا دی تھی۔ پھر فرمایا : میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بکری ممیا رہی ہو وہ کہے کہ اللہ کے رسول ! میری مدد کیجیے میں کہوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تمہیں بتادیا تھا۔ پھر فرمایا : تم میں کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن میدان حشر میں آئے اور اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو، وہ شخص کہے : اے اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیے۔ میں جواب دوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔ پھر فرمایا : تم میں سے کسی شخص کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر سوار انسان چلا رہا ہو۔ وہ شخص کہے کہ اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے۔ میں کہوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔ پھر فرمایا : میں تم میں سے کسی شخص کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن میدان حشر میں آئے اور اس کی گردن پر سونا چاندی لدا ہوا ہو اور وہ التجا کررہا ہو۔ اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے۔ میں جواب دوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔ پھر فرمایا : میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر کپڑے پھڑ پھڑا رہے ہوں اور وہ التجا کررہا ہو کہ اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے اور میں جواب دوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے تجھ تک بات پہنچا دی تھی۔
(١٨٢٠٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ أَبِی حَیَّانَ التَّیْمِیِّ حَدَّثَنِی أَبُو زُرْعَۃَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَامَ فِینَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمًا فَذَکَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَہُ وَعَظَّمَ أَمْرَہُ فَقَالَ : لاَ أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ بَعِیرٌ لَہُ رُغَائٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی أَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ شَاۃٌ لَہَا ثُغَائٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی أَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ یَجِیئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ فَرَسٌ لَہَا حَمْحَمَۃٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی فَأَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ نَفْسٌ لَہَا صِیَاحٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی أَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ صَامِتٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی فَأَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ َجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی أَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ أَبِی حَیَّانَ التَّیْمِیِّ حَدَّثَنِی أَبُو زُرْعَۃَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَامَ فِینَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمًا فَذَکَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَہُ وَعَظَّمَ أَمْرَہُ فَقَالَ : لاَ أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ بَعِیرٌ لَہُ رُغَائٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی أَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ شَاۃٌ لَہَا ثُغَائٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی أَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ أَحَدَکُمْ یَجِیئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ فَرَسٌ لَہَا حَمْحَمَۃٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی فَأَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ نَفْسٌ لَہَا صِیَاحٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی أَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ یَجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ صَامِتٌ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی فَأَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لاَ أُلْفِیَنَّ َجِیئُ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلَی رَقَبَتِہِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ یَقُولُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَغِثْنِی أَقُولُ لاَ أَمْلِکُ لَکَ شَیْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২১৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیانت کا کم یا زیادہ مال حرام ہے
(١٨٢٠٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا اور اسے بہت بڑا گناہ گردانا۔ پھر فرمایا کہ تمہیں ڈرنا چاہیے کہ کوئی کل قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر اونٹ سوار ہو اور وہ کہے : اے محمد ! میں میری مدد کیجئے۔ میں جواب دوں گا کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا، میں نے بات تجھے پہنچا دی تھی اور کوئی شخص قیامت کے دن میدان حشر میں آئے کہ اس کی گردن پر کپڑے ہوں۔ وہ کہے : اے محمد ! میری مدد کیجیے، میں کہوں کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تجھے بات پہنچا دی تھی۔
(١٨٢٠٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدِ بْنِ حَیَّانَ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : ذَکَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْغُلُولَ فَعَظَّمَہُ ثُمَّ قَالَ : لِیَحْذَرْ أَحَدُکُمْ أَنْ یَجِیئَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِبَعِیرٍ عَلَی عُنُقِہِ فَیَقُولُ یَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِی فَأَقُولُ إِنِّی لاَ أُغْنِی عَنْکَ شَیْئًا إِنِّی قَدْ بَلَّغْتُ وَیَجِیئُ رَجُلٌ عَلَی عُنُقِہِ فَرَسٌ لَہُ حَمْحَمَۃٌ فَیَقُولُ یَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِی فَأَقُولُ إِنِّی لاَ أُغْنِی عَنْکَ شَیْئًا إِنِّی قَدْ بَلَّغْتُ وَیَجِیئُ الرَّجُلُ عَلَی عُنُقِہِ رِقَاعٌ فَیَقُولُ یَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِی فَأَقُولُ لاَ أُغْنِی عَنْکَ شَیْئًا قَدْ بَلَّغْتُ ۔
قَالَ حَمَّادٌ وَقَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ فَجَائَ بِہِ نَحْوًا مِنْ ہَذَا۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارِ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِیدٍ الدَّارِمِیِّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدِ بْنِ حَیَّانَ عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیرٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : ذَکَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْغُلُولَ فَعَظَّمَہُ ثُمَّ قَالَ : لِیَحْذَرْ أَحَدُکُمْ أَنْ یَجِیئَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِبَعِیرٍ عَلَی عُنُقِہِ فَیَقُولُ یَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِی فَأَقُولُ إِنِّی لاَ أُغْنِی عَنْکَ شَیْئًا إِنِّی قَدْ بَلَّغْتُ وَیَجِیئُ رَجُلٌ عَلَی عُنُقِہِ فَرَسٌ لَہُ حَمْحَمَۃٌ فَیَقُولُ یَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِی فَأَقُولُ إِنِّی لاَ أُغْنِی عَنْکَ شَیْئًا إِنِّی قَدْ بَلَّغْتُ وَیَجِیئُ الرَّجُلُ عَلَی عُنُقِہِ رِقَاعٌ فَیَقُولُ یَا مُحَمَّدُ أَغِثْنِی فَأَقُولُ لاَ أُغْنِی عَنْکَ شَیْئًا قَدْ بَلَّغْتُ ۔
قَالَ حَمَّادٌ وَقَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ فَجَائَ بِہِ نَحْوًا مِنْ ہَذَا۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارِ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِیدٍ الدَّارِمِیِّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২১৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیانت کا کم یا زیادہ مال حرام ہے
(١٨٢٠٨) حضرت ثوبان (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو اس حالت میں موت آئی کہ وہ تین چیزوں سے محفوظ تھا : 1 تکبر سے 2 مال غنیمت میں خیانت سے 3 قرض سے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ابو عیسیٰ کہتے ہیں کہ سعید قتادہ سے نقل فرماتے ہیں۔ اس نے الکبر کی جگہ کنز کے الفاظ بولے ہیں۔
(١٨٢٠٨) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ عَنْ ثَوْبَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ مَاتَ وَہُوَ بَرِیئٌ مِنْ ثَلاَثٍ مِنَ الْکِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ ۔ (ت) قَالَ أَبُو عِیسَی وَرَوَاہُ سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ وَقَالَ : الْکَنْزُ ۔ بَدَلَ : الْکِبْرِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২১৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ اس کا سامان نہ جلایا جائے اور بعض کا گمان ہے کہ اس کا سامان جلایا جائے گا
(١٨٢٠٩) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ حنین سے واپس آئے تو لوگوں نے آپ کو گھیر لیا اور مال مانگ رہے تھے۔ جس کی وجہ سے اونٹنی بدکی اور آپ کی چادر مبارک درخت پر اٹک گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری چادر واپس کرو، کیا تمہیں مجھ سے بخل کا خطرہ ہے ؟ اگر اللہ مجھے تہامہ کے درختوں جتنے جانور عطا کر دے تو میں سارے کے سارے تمہارے درمیان تقسیم کر دوں پھر تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہ پاؤ گے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ کی کوہان کے بال پکڑ کر بلند فرمائے اور فرمایا : اللہ کے عطا کردہ مال سے میرا حصہ اتنا بھی نہیں سوائے پانچویں حصہ کے اور خمس بھی تمہیں واپس کردیا جاتا ہے۔ خمس کی تقسیم کے وقت ایک شخص آیا، جو اپنے لیے اس مال سے سوئی یا دھاگہ بھی حلال خیال کرتا ہے۔ فرمایا : دھاگا اور سوئی واپس کر دو ، کیونکہ مال غنیمت میں خیانت قیامت کے دن عیب و رسوائی ہوگی۔
(١٨٢٠٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ ۔ وَابْنُ عَجْلاَنَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا قَفَلَ مِنْ غَزْوَۃِ حُنَیْنٍ رَہِقَہُ النَّاسُ یَسْأَلُونَہُ فَحَاصَتْ بِہِ النَّاقَۃُ فَخَطَفَتْ رِدَائَ ہُ شَجَرَۃٌ فَقَالَ : رُدُّوا عَلَیَّ رِدَائِی أَتَخْشَوْنَ عَلَیَّ الْبُخْلَ وَاللَّہِ لَوْ أَفَائَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ نَعَمًا مِثْلَ سَمُرِ تِہَامَۃَ لَقَسَمْتُہَا بَیْنَکُمْ ثُمَّ لاَ تَجِدُونِی بَخِیلاً وَلاَ جَبَانًا وَلاَ کَذَّابًا ۔ ثُمَّ أَخَذَ وَبَرَۃً مِنْ وَبَرِ سَنَامِ بَعِیرٍ فَرَفَعَہَا وَقَالَ : مَا لِی مِمَّا أَفَائَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ وَلاَ مِثْلُ ہَذِہِ إِلاَّ الْخُمُسَ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَیْکُمْ ۔ فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ قَسْمِ الْخُمُسِ أَتَاہُ رَجُلٌ یَسْتَحِلُّہُ خِیَاطًا أَوْ مَخِیطًا فَقَالَ : رُدُّوا الْخِیَاطَ وَالْمَخِیطَ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ وَنَارٌ وَشَنَارٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ (حسن۔ تقدم برقم ٧/١٣١٧٧]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২১৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ اس کا سامان نہ جلایا جائے اور بعض کا گمان ہے کہ اس کا سامان جلایا جائے گا
(١٨٢١٠) حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ مال غنیمت حاصل ہوتا تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت بلال کو حکم فرماتے کہ لوگوں میں اعلان کرو کہ غنیمت کا مال لے آؤ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پانچواں حصہ نکال کر باقی تقسیم فرما دیتے۔ اس کے بعد ایک شخص بالوں کی لٹ لے کر آیا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ مال غنیمت میں سے ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو نے حضرت بلال کا تین مرتبہ اعلان سنا تھا ؟ اس نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : پھر تو لے کر کیوں نہ آیا ؟ اس نے عذر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لے جاؤ کل قیامت کے دن لے کر آنا، میں تجھ سے ہرگز قبول نہ کروں گا۔
(ب) عبداللہ بن عمرو (رض) کی حدیث کرکرہ کے بارے میں گزر گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی جگہ بھی مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا سامان نہیں جلایا۔
(ب) عبداللہ بن عمرو (رض) کی حدیث کرکرہ کے بارے میں گزر گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی جگہ بھی مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا سامان نہیں جلایا۔
(١٨٢١٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَوْذَبٍ حَدَّثَنِی عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا أَصَابَ غَنِیمَۃً أَمَرَ بِلاَلاً فَنَادَی فِی النَّاسِ فَیَجِیئُونَ بِغَنَائِمِہِمْ فَیُخَمِّسُہَا وَیَقْسِمُہَا فَجَائَ رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِکَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا فِیمَا کُنَّا أَصَبْنَاہُ مِنَ الْغَنِیمَۃِ ۔ قَالَ : أَسَمِعْتَ بِلاَلاً نَادَی ثَلاَثًا ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : فَمَا مَنَعَکَ أَنْ تَجِیئَ بِہِ ؟ ۔ قَالَ : فَاعْتَذَرَ ۔ قَالَ : کُنْ أَنْتَ تَجِیئُ بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَلَنْ أَقْبَلَہُ مِنْکَ ۔
وَقَدْ مَضَی فِی الْبَابِ قَبْلَہُ حَدِیثُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو فِی کِرْکِرَۃَ وَلَمْ یَذْکُرْ فِی شَیْئٍ مِنْ ہَذِہِ الرِّوَایَاتِ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَمَرَ بِتَحْرِیقِ مَتَاعِ الْغَالِّ ۔ [حسن۔ تقدم برقم ٦/١٢٧١٩]
وَقَدْ مَضَی فِی الْبَابِ قَبْلَہُ حَدِیثُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو فِی کِرْکِرَۃَ وَلَمْ یَذْکُرْ فِی شَیْئٍ مِنْ ہَذِہِ الرِّوَایَاتِ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَمَرَ بِتَحْرِیقِ مَتَاعِ الْغَالِّ ۔ [حسن۔ تقدم برقم ٦/١٢٧١٩]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২১৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ اس کا سامان نہ جلایا جائے اور بعض کا گمان ہے کہ اس کا سامان جلایا جائے گا
(١٨٢١١) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابو بکر، اور عمر (رض) نے مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کے مال کو جلایا اور مال غنیمت سے اس کا حصہ بھی روک دیا اور پٹائی بھی کی۔
(١٨٢١١) وَفِی ذَلِکَ دَلِیلٌ عَلَی ضَعْفِ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ بَحْرٍ الْبَرِّیُّ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَحْرَقُوا مَتَاعَ الْغَالِّ وَمَنَعُوہُ سَہْمَہُ وَضَرَبُوہُ ۔
ہَکَذَا رَوَاہُ غَیْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ ۔ وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ مُرْسَلاً ۔ [ضعیف ]
ہَکَذَا رَوَاہُ غَیْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ ۔ وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ مُرْسَلاً ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২১৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ اس کا سامان نہ جلایا جائے اور بعض کا گمان ہے کہ اس کا سامان جلایا جائے گا
(١٨٢١٢) خالی
(١٨٢١٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ عُتْبَۃَ وَعَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ نَجْدَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ قَوْلَہُ لَمْ یَذْکُرْ عَبْدُ الْوَہَّابِ مَنْعَ سَہْمِہِ ۔ وَیُقَالُ إِنَّ زُہَیْرًا ہَذَا مَجْہُولٌ وَلَیْسَ بِالْمَکِّیِّ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২১৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ اس کا سامان نہ جلایا جائے اور بعض کا گمان ہے کہ اس کا سامان جلایا جائے گا
(١٨٢١٣) صالح بن محمد بن زائدہ فرماتے ہیں : میں روم کی سرزمین پر مسلم بن عبدالمالک کے ساتھ تھا۔ ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی۔ اس نے سالم سے اس کے بارے میں سوال کیا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا جو حضرت عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم ایسے شخص کو پاؤ جس نے مال غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو اور اس کو مارو۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے اس کے سامان میں قرآن مجید پایا تو سالم سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرماتے ہیں : قرآن مجید بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دو ۔
(١٨٢١٣) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِی صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَۃَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ مَسْلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَرْضَ الرُّومِ فَأُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ غَلَّ فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْہُ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ فَأَحْرِقُوا مَتَاعَہُ وَاضْرِبُوہُ ۔ قَالَ : فَوَجَدْنَا فِی مَتَاعِہِ مُصْحَفًا فَسُئِلَ سَالِمٌ عَنْہُ فَقَالَ بِعْہُ وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِہِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ سَعِیدٍ فَہَذَا ضَعِیفٌ۔ [ضعیف ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِی صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَۃَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ مَسْلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ أَرْضَ الرُّومِ فَأُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ غَلَّ فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْہُ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ فَأَحْرِقُوا مَتَاعَہُ وَاضْرِبُوہُ ۔ قَالَ : فَوَجَدْنَا فِی مَتَاعِہِ مُصْحَفًا فَسُئِلَ سَالِمٌ عَنْہُ فَقَالَ بِعْہُ وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِہِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ سَعِیدٍ فَہَذَا ضَعِیفٌ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২২০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ اس کا سامان نہ جلایا جائے اور بعض کا گمان ہے کہ اس کا سامان جلایا جائے گا
(١٨٢١٤) صالح بن محمد فرماتے ہیں : ہم نے ولید بن ہشام کے ساتھ مل کر غزوہ کیا اور ہمارے ساتھ سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) اور عمر بن عبدالعزیز تھے۔ ایک شخص نے مال غنیمت میں خیانت کرلی تو ولید نے اس کے سامان کو جلانے کا حکم دیا اور اسے سزا دی گئی اور مال غنیمت میں سے حصہ بھی نہ دیا گیا۔ (ب) ابو داؤد کہتے ہیں : یہ دونوں حدیثوں سے زیادہ صحیح ہے کہ ولید بن ہشام نے زیاد بن سعد کا سامان جلایا۔ اس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی۔
(١٨٢١٤) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَنْطَاکِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ الْوَلِیدِ بْنِ ہِشَامٍ وَمَعَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَغَلَّ رَجُلٌ مَتَاعًا فَأَمَرَ الْوَلِیدُ بِمَتَاعِہِ فَأُحْرِقَ وَطِیفَ بِہِ وَلَمْ یُعْطِہِ سَہْمَہُ ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَہَذَا أَصَحُّ الْحَدِیثَیْنِ رَوَاہُ غَیْرُ وَاحِدٍ أَنَّ الْوَلِیدَ بْنَ ہِشَامٍ حَرَقَ رَحْلَ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ وَکَانَ قَدْ غَلَّ وَضَرَبَہُ ۔ [ضعیف ]
قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَہَذَا أَصَحُّ الْحَدِیثَیْنِ رَوَاہُ غَیْرُ وَاحِدٍ أَنَّ الْوَلِیدَ بْنَ ہِشَامٍ حَرَقَ رَحْلَ زِیَادِ بْنِ سَعْدٍ وَکَانَ قَدْ غَلَّ وَضَرَبَہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২২১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ اس کا سامان نہ جلایا جائے اور بعض کا گمان ہے کہ اس کا سامان جلایا جائے گا
(١٨٢١٥) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) عمرو (رض) سے مرفوع حدیث نقل فرماتے ہیں کہ جو شخص مال غنیمت میں خیانت کرے اس کا سامان جلا دو ۔
(ب) حضرت عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں مال غنیمت میں خیانت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا سامان نہیں جلایا۔
(ب) حضرت عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں مال غنیمت میں خیانت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا سامان نہیں جلایا۔
(١٨٢١٥) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ قَالَ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَۃَ أَبُو وَاقِدٍ اللَّیْثِیُّ الْمَدَنِیُّ تَرَکَہُ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ یَرْوِی عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَفَعَہُ : مَنْ غَلَّ فَأَحْرِقُوا مَتَاعَہُ ۔
وَقَدْ رَوَی ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی الْغُلُولِ وَلَمْ یُحْرِقْ
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَعِلْیَۃُ أَصْحَابِنَا یَحْتَجُّونَ بِہَذَا فِی الْغُلُولِ وَہَذَا بَاطِلٌ لَیْسَ بِشَیْئٍ ۔ [صحیح ]
وَقَدْ رَوَی ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی الْغُلُولِ وَلَمْ یُحْرِقْ
قَالَ الْبُخَارِیُّ وَعِلْیَۃُ أَصْحَابِنَا یَحْتَجُّونَ بِہَذَا فِی الْغُلُولِ وَہَذَا بَاطِلٌ لَیْسَ بِشَیْئٍ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২২২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ اس کا سامان نہ جلایا جائے اور بعض کا گمان ہے کہ اس کا سامان جلایا جائے گا
(١٨٢١٦) خالی
(١٨٢١٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولُ : صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَۃَ لَیْسَ حَدِیثُہُ بِذَاکَ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২২৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کی زمین میں حدود قائم کرنے کا بیان
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں حد لگائی۔ حالانکہ شرک قریب تھا۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین میں بھی شرابی کو حد لگائی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں حد لگائی۔ حالانکہ شرک قریب تھا۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین میں بھی شرابی کو حد لگائی۔
(١٨٢١٧) عبدالرحمن بن ازہر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حنین کے دن دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خالد بن ولید کی منزل کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ ایک شرابی لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے کہا : جو ان کے ہاتھوں میں ہے اسے ماریں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر مٹی ڈالی۔
(١٨٢١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْقِرْمِیسِینِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْکُہَیْلِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْہَرَ الزُّہْرِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ حُنَیْنٍ یَتَخَلَّلُ النَّاسَ یَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَأُتِیَ بِسَکْرَانٍ فَأَمَرَ مَنْ کَانَ عِنْدَہُ فَضَرَبُوہُ بِمَا کَانَ فِی أَیْدِیہِمْ وَحَثَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْہِ مِنَ التُّرَابَ ۔
وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ٨/١٧٥٣٧]
وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ٨/١٧٥٣٧]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২২৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کی زمین میں حدود قائم کرنے کا بیان
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں حد لگائی۔ حالانکہ شرک قریب تھا۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین میں بھی شرابی کو حد لگائی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں حد لگائی۔ حالانکہ شرک قریب تھا۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین میں بھی شرابی کو حد لگائی۔
(١٨٢١٨) عبدالحمید بن جعفر اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے خیبر کے قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ صعب بن معاذ کے قلعہ سے شراب نکالی گئی اور گلیوں میں بہا دی گئی تو اس شراب سے کسی مسلمان شخص نے جان بوجھ کر پی لی۔ جب معاملہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناپسند فرمایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اپنے جوتے سے مارا اور لوگوں کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے جوتے سے ماریں۔ اسے عبداللہ العمار کہا جاتا تھا۔ یہ ایسا شخص تھا جو شراب سے باز نہ آتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کئی مرتبہ سزا دی۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : اے اللہ ! اس پر لعنت کہ یہ کتنی بار سزا دیا گیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! ایسا نہ کہو یہ اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے۔
(١٨٢١٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہْمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ أَظُنُّہُ عَنِ الْوَاقِدِیِّ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ فِی قِصَّۃِ خَیْبَرَ وَمَا أُخْرِجَ مِنْ حِصْنِ الصَّعْبِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ : وَزِقَاقُ خَمْرٍ فَأُہَرِیقَتْ وَعَمَدَ یَوْمَئِذٍ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَشَرِبَ مِنْ ذَلِکَ الْخَمْرِ فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَکَرِہَ حِینَ رُفِعَ إِلَیْہِ فَخَفَقَہُ بِنَعْلِہِ وَأَمَرَ مَنْ حَضَرَہُ فَخَفَقُوہُ بِنِعَالِہِمْ وَکَانَ یُقَالُ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ الْحِمَارُ وَکَانَ رَجُلاً لاَ یَصْبِرُ عَنِ الشَّرَابِ فَضَرَبَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِرَارًا فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اللَّہُمَّ الْعَنْہُ مَا أَکْثَرَ مَا یُضْرَبُ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ تَفْعَلْ یَا عُمَرُ فَإِنَّہُ یُحِبُّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২২৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کی زمین میں حدود قائم کرنے کا بیان
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں حد لگائی۔ حالانکہ شرک قریب تھا۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین میں بھی شرابی کو حد لگائی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں حد لگائی۔ حالانکہ شرک قریب تھا۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین میں بھی شرابی کو حد لگائی۔
(١٨٢١٩) عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ابو دردائ (رض) تھے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقسم کے اونٹوں میں سے کسی ایک پر نماز ادا کی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو اونٹ کی کوہان کے بالوں میں سے اپنی انگلیوں کے درمیان ایک چچڑی کو پکڑا اور فرمایا : خبردار ! یہ تمہارا مال غنیمت ہے، اس میں سے میرا صرف پانچواں حصہ ہے اور پانچواں حصہ بھی تم پر ہی لوٹا دیا جاتا ہے۔ تم سوئی اور دھاگہ یا اس سے چھوٹی یا بڑی چیز بھی واپس کر دو ۔ کیونکہ مال غنیمت میں خیانت دنیا اور آخرت میں رسوائی کا سبب ہے اور اللہ کے لیے قریب اور دور کے لوگوں سے جہاد کرو اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت تمہیں اللہ کے راستہ میں جہاد سے نہ روکے اور سفر و حضر میں حدود کو نافذ کرو اور جہاد کو لازم کر لو؛ کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک بہت بڑا دروازہ ہے۔ اللہ رب العزت اس کے ذریعے ہر پریشانی اور غم سے نجات دے دیتے ہیں۔
(١٨٢١٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحِیمِ حَدَّثَنِی مَنْصُورٌ عَنْ أَبِی یَزِیدَ غَیْلاَنَ مَوْلَی کِنَانَۃَ عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ الْحَبَشِیِّ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیکَرِبَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ وَعِنْدَہُ أَبُو الدَّرْدَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - صَلَّی إِلَی بَعِیرٍ مِنَ الْمَقْسَمِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِہِ أَخَذَ مِنْہُ قَرَدَۃً بَیْنَ إِصْبَعَیْہِ وَہِیَ فِی وَبَرَۃٍ فَقَالَ : أَلاَ إِنَّ ہَذَا مِنْ غَنَائِمِکُمْ وَلَیْسَ لِی مِنْہُ إِلاَّ الْخُمُسَ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَیْکُمْ فَأَدُّوا الْخَیْطَ وَالْمَخِیطَ وَأَصْغَرَ مِنْ ذَلِکَ وَأَکْبَرَ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ عَلَی أَہْلِہِ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ وَجَاہِدُوا النَّاسَ فِی اللَّہِ الْقَرِیبَ مِنْہُمْ وَالْبَعِیدَ وَلاَ یَأْخُذْکُمْ فِی اللَّہِ لَوْمَۃُ لاَئِمٍ وَأَقِیمُوا حُدُودَ اللَّہِ فِی السَّفَرِ وَالْحَضَرِ وَعَلَیْکُمْ بِالْجِہَادِ فَإِنَّہُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ عَظِیمٌ یُنَجِّی اللَّہُ بِہِ مِنَ الْہَمِّ وَالْغَمِّ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২২৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لڑائی کی زمین میں حدود قائم کرنے کا بیان
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں حد لگائی۔ حالانکہ شرک قریب تھا۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین میں بھی شرابی کو حد لگائی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں حد لگائی۔ حالانکہ شرک قریب تھا۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین میں بھی شرابی کو حد لگائی۔
(١٨٢٢٠) مقدام بن معدیکرب فرماتے ہیں کہ وہ عبادہ، ابو درداء اور حارث بن معاویہ کندی کے ساتھ بیٹھے تھے اور حدیث کا مذاکرہ کر رہے تھے۔ حضرت عبادہ فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اونٹ کی جانب منہ کر کے نماز پڑھائی، پھر اس کی مثل ذکر کیا۔ اس حدیث میں ہے کہ تم سفر و حضر میں حدود کو نافذ کرو۔
(١٨٢٢٠) رَوَاہُ أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ عَنْ أَبِی سَلاَّمٍ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیکَرِبَ : أَنَّہُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَۃَ وَأَبِی الدَّرْدَائِ وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْکِنْدِیِّ فَتَذَاکَرُوا الْحَدِیثَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی الأَخْمَاسِ فَقَالَ عُبَادَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - صَلَّی بِہِمْ فِی غَزْوَۃٍ إِلَی بَعِیرٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ وَقَالَ فِیہِ : وَأَقِیمُوا حُدُودَ اللَّہِ فِی السَّفَرِ وَالْحَضَرِ ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الْمُسْتَفَاضِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ فَذَکَرَہُ ۔ [ضعیف ]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الْمُسْتَفَاضِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ فَذَکَرَہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক: