আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৮১৮৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پناہ کیسے دی جائے ؟
(١٨١٨١) ابو وائل فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا خط آیا جس وقت ہم ایک قلعے کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔
(١٨١٨١) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ : جَائَ کِتَابُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَنَحْنُ مُحَاصِرُونَ قَصْرًا فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৮৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پناہ کیسے دی جائے ؟
(١٨١٨٢) جبیر بن حیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو مختلف شہروں میں مشرکین سے جہاد کے لیے بھیجا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) کے پاس اہل اہواز میں سے کسی مشرک آدمی کو قیدی بنا کر بلایا جاتا تو بعض لوگوں نے ہرمزان سے کہا : کیا آپ کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ آپ قتل نہ کریں۔ اس نے کہا : وہ کیسے ؟ کہا : جب وہ تجھے امیرالمومنین کے قریب کریں اور وہ تم سے بات کرنا چاہیں تو تم کہنا : میں تنہائی میں آپ سے بات کروں گا۔ پھر اگر وہ تجھے قتل کرنا چاہیں تو کہہ دینا : میں امان میں ہوں۔ وہ لاتفرق کہہ دیں گے۔ اس شخص نے یہ بات یاد کرلی۔ پھر جب اسے حضرت عمر (رض) کے پاس لایا گیا تو اس نے سوالات کا جواب دینے کے لیے تنہائی کا مطالبہ کردیا۔ آپ نے فرمایا : ” لاتفرق “ پھر جب اس سے گفتگو کر کے فارغ ہوئے تو انھیں گرانی محسوس ہوئی اور فرمایا : میں تجھے قتل کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا : آپ نے مجھے امان دی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تیرا ناس ہو میں نے تجھے کب امان دی ؟ اس نے کہا : آپ نے ” لاتفرق “ کہا ہے۔ فرمایا : اس نے سچ کہا اور فرمایا : اب تو میرے لیے اسلام قبول کرے۔ اس نے قبول کیا۔۔۔ آگے طویل حدیث ہے۔
(١٨١٨٢) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ لَفْظًا وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ وَزِیَادُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ حَیَّۃَ قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ النَّاسَ مِنْ أَفْنَائِ الأَمْصَارِ یُقَاتِلُونَ الْمُشْرِکِینَ قَالَ فَبَیْنَمَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَذَلِکَ إِذْ أُتِیَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مِنْ أَہْلِ الأَہْوَازِ قَدْ أُسِرَ فَلَمَّا أُتِیَ بِہِ قَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِلْہُرْمُزَانِ : أَیَسُرُّکَ أَنْ لاَ تُقْتَلَ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَمَا ہُوَ ۔ قَالَ : إِذَا قَرَّبُوکَ مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَکَلَّمَکَ فَقُلْ إِنِّی أَفْرَقُ أَنْ أُکَلِّمَکَ فَإِنْ أَرَادَ قَتْلَکَ فَقُلْ إِنِّی فِی أَمَانٍ إِنَّکَ قُلْتَ لاَ تَفْرَقْ قَالَ فَحَفِظَہَا الرَّجُلُ فَلَمَّا أُتِیَ بِہِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ لَہُ فِی بَعْضِ مَا یُسَائِلُہُ عَنْہُ إِنِّی أَفْرَقُ یَعْنِی فَقَالَ لاَ تَفْرَقْ قَالَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ کَلاَمِہِ سَائَ لَہُ عَمَّا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ قَالَ لَہُ إِنِّی قَاتِلُکَ قَالَ فَقَالَ قَدْ أَمَّنْتَنِی فَقَالَ : وَیْحَکَ مَا أَمَّنْتُکَ ؟ قَالَ قُلْتَ : لاَ تَفْرَقْ ۔ قَالَ : صَدَقَ إِمَّا لِی فَأَسْلِمْ قَالَ نَعَمْ فَأَسْلَمَ ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৮৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پناہ کیسے دی جائے ؟
(١٨١٨٣) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : ہم نے تستر کا محاصرہ کیا۔ ہرمزان حضرت عمر (رض) کے پر نیچے اترا میں اسے حضرت عمر (رض) کے پاس لے کر چلا۔ جب ہم آپ کے پاس پہنچے تو عمر (رض) نے فرمایا : بات کرو۔ اس نے پوچھا : زندہ والی بات کروں یا مردہ والی ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بات کرو کوئی حرج نہیں۔ اس نے کہا : ہم اور آپ عرب کے قبائلی ہیں۔ ہمارے اور تمہارے درمیاناللہ نے کوئی علیحدگی نہیں رکھی۔ ہم تمہاری عبادت کرتے تھے اور انھیں قتل کرتے تھے اور تمہارا مال غصب کرتے تھے۔ پھر جب اللہ تمہارے ساتھ ہو لیا تو ہمارے دونوں ہاتھ نہ رہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا کہہ رہے ہو ؟ میں نے کہا : اے امیر المومنین میں نے اپنے بعد بہت زیادہ دشمن اور سخت شورش چھوڑی ہے۔ اگر آپ اسے قتل کردیں گے تو لوگ زندگی سے مایوس ہوجائیں گے اور ان کی شورش میں اضافہ ہوجائے گا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے براد بن مالک اور مجزہ بن ثور کے قتل سے حیاء آتی ہے۔ جب میں نے خوف محسوس کیا کہ وہ اسے قتل ہی کریں گے تو میں نے کہا : آپ کے لیے اسے قتل کرے گا کوئی جواز نہیں ہے آپ اسے کہہ چکے ہیں : بات کرو کوئی حرج نہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تو نے رشوت لی ہے اور تو درستگی کو پہنچا۔ میں نے کہا : قسم بخدا ! نہ تو میں نے رشوت لی ہے اور نہ ہی کسی بھلائی پہنچا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یا تو میرے پاس اس بات پر کوئی گواہ لاؤ ورنہ میں تجھے ضرور سزا دے کر رہوں گا۔ کہتے ہیں میں نکلا اور زبیر بن عوام (رض) سے ملا۔ انھوں نے میرے ساتھ گواہی دی۔ حضرت عمر (رض) رک گئے اور ہرمزان مسلمان ہوگیا اور ان کے لیے مقرر کیا گیا۔
(١٨١٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِیُّ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : حَاصَرْنَا تُسْتَرَ فَنَزَلَ الْہُرْمُزَانُ عَلَی حُکْمِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَدِمْتُ بِہِ عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا انْتَہَیْنَا إِلَیْہِ قَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَکَلَّمْ قَالَ کَلاَمُ حَیٍّ أَوْ کَلاَمُ مَیِّتٍ قَالَ تَکَلَّمْ لاَ بَأْسَ ۔ قَالَ : إِنَّا وَإِیَّاکُمْ مَعَاشِرَ الْعَرَبِ مَا خَلَّی اللَّہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ کُنَّا نَتَعَبَّدُکُمْ وَنَقْتُلُکُمْ وَنَغْصِبُکُمْ فَلَمَّا کَانَ اللَّہُ مَعَکُمْ لَمْ یَکُنْ لَنَا یَدَانِ ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَا تَقُولُ ؟ فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ تَرَکْتُ بَعْدِی عَدُوًّا کَثِیرًا وَشَوْکَۃً شَدِیدَۃً فَإِنْ قَتَلْتَہُ یَأْیَسُ الْقَوْمُ مِنَ الْحَیَاۃِ وَیَکُونُ أَشَدَّ لِشَوْکَتِہِمْ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَسْتَحْیِی قَاتِلَ الْبَرَائِ بْنِ مَالِکٍ وَمَجْزَأَۃَ بْنِ ثَوْرٍ فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَقْتُلَہُ قُلْتُ لَیْسَ إِلَی قَتْلِہِ سَبِیلٌ قَدْ قُلْتَ لَہُ تَکَلَّمْ لاَ بَأْسَ ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ارْتَشَیْتَ وَأَصَبْتَ مِنْہُ ۔ فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا ارْتَشَیْتُ وَلاَ أَصَبْتُ مِنْہُ قَالَ لَتَأْتِیَنِّی عَلَی مَا شَہِدْتَ بِہِ بِغَیْرِکَ أَوْ لأَبْدَأَنَّ بِعُقُوبَتِکَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَلَقِیتُ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَشَہِدَ مَعِی وَأَمْسَکَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَسْلَمَ یَعْنِی الْہُرْمُزَانَ وَفُرِضَ لَہُ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৯০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قلعے والوں کا امام یا غیرامام کے حکم پر اترنا جب کہ اسے امن دیا جائے
(١٨١٨٤) ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ والوں نے سعد (رض) کو فیصل مانا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی جانب پیغام بھیجا وہ آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے سردار یا اپنے بہتر انسان کی جانب اٹھو تو حضرت سعد رسول اللہ کے پاس بیٹھ گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سعد یہ تیرے فیصلے پر راضی ہوئے ہیں تو اس نے کہا کہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے جنگجوؤں کو قتل کیا جائے۔
(١٨١٨٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَنْبَأَنِی سَعْدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَۃَ بْنَ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ أَہْلَ قُرَیْظَۃَ نَزَلُوا عَلَی حُکْمِ سَعْدٍ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَجَائَ فَقَالَ : قُومُوا إِلَی سَیِّدِکُمْ أَوْ خَیْرِکُمْ ۔ فَقَعَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : إِنَّ ہَؤُلاَئِ قَدْ نَزَلُوا عَلَی حُکْمِکَ ۔ قَالَ : فَإِنِّی أَحْکُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُہُمْ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৯১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قلعے والوں کا امام یا غیرامام کے حکم پر اترنا جب کہ اسے امن دیا جائے
(١٨١٨٥) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ خندق کے دن حضرت سعد کو زخم لگا، جو حبان بن عرقہ قریشی نے لگایا تھا۔ اس نے رگ حیات پر تیر مارا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سعد کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا تاکہ قریب سے اس کی تیمار داری کرسکیں۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ خندق سے واپس آئے اور اپنے ہتھیار اتار دیے اور غسل کرلیا۔ اس وقت جبرائیل امین (علیہ السلام) اپنے سر سے غبار کو جھاڑتے ہوئے آئے۔ کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلحہ اتار دیا، ہم نے اللہ کی قسم اسلحہ نہیں اتارا۔ آپ ان کی جانب نکلیے۔ آپ نے پوچھا : کہاں ؟ جبرائیل کہتے ہیں : وہاں اور بنو قریظہ کی جانب اشارہ کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی جانب گئے تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر اتر پڑے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ حضرت سعد (رض) کی جانب منتقل کردیا۔ حضرت سعد (رض) نے کہا : ان کے بارے میں میرا فیصلہ یہ ہے کہ لڑائی کرنے والوں کو قتل کیا جائے، بچوں کو قیدی بنایا جائے اور ان کے مالوں کو تقسیم کیا جائے۔ میرے باپ کہتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے موافق فیصلہ دیا۔
(١٨١٨٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَالْحُسَیْنُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : أُصِیبَ سَعْدٌ یَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاہُ رَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ یُقَالُ لَہُ حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَۃِ رَمَاہُ فِی الأَکْحَلِ فَضَرَبَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْمَۃً فِی الْمَسْجِدِ لِیَعُودَہُ مِنْ قَرِیبٍ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنَ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلاَحَ وَاغْتَسَلَ أَتَاہُ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ وَہْوَ یَنْفُضُ رَأْسَہُ مِنَ الْغُبَارِ فَقَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللَّہِ مَا وَضَعْنَاہَا اخْرُجْ إِلَیْہِمْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : فَأَیْنَ ؟ ۔ قَالَ : ہَا ہُنَا وَأَشَارَ إِلَی بَنِی قُرَیْظَۃَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَیْہِمْ فَنَزَلُوا عَلَی حُکْمِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَرَدَّ الْحُکْمَ فِیہِمْ إِلَی سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّی أَحْکُمُ فِیہِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَۃُ وَتُسْبَی الذُّرِّیَّۃُ وَتُقْسَمَ أَمْوَالُہُمْ قَالَ أَبِی فَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لَقَدْ حَکَمْتَ فِیہِمْ بِحُکْمِ اللَّہِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنِ ابْنِ نُمَیْرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ کُلُّہُمْ عَنِ ابْنِ نُمَیْرٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৯২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قلعے والوں کا امام یا غیرامام کے حکم پر اترنا جب کہ اسے امن دیا جائے
(١٨١٨٦) سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی کو لشکر کا امیر بناتے تو اسے خاص طور پر اللہ کے تقویٰ کی اور مومنوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت فرماتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آپ کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کریں اگر وہ چاہیں کہ آپ ان کو اللہ کے حکم پر اتاریں تو آپ ایسا نہ کریں۔ آپ نہیں جانتے کہ آپ اللہ کے حکم کو پاسکیں گے یا نہیں۔ (ب) وکیع سفیان سے نقل فرماتے ہیں : لیکن انھیں اپنے حکم پر اتارو، پھر ان کے بارے میں جو چاہو فیصلہ کرو۔
(١٨١٨٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی جَیْشٍ أَوْصَاہُ بِتَقْوَی اللَّہِ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِہِ وَبِمَنْ مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَیْرًا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وإِذَا حَاصَرْتَ أَہْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوکَ أَنْ تُنْزِلَہُمْ عَلَی حُکْمِ اللَّہِ فَلاَ تُنْزِلْہُمْ فَإِنَّکَ لاَ تَدْرِی أَتُصِیبُ حُکْمَ اللَّہِ أَمْ لاَ ۔ زَادَ فِیہِ وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ : وَلَکِنْ أَنْزِلُوہُمْ عَلَی حُکْمِکُمْ ثُمَّ اقْضُوا فِیہِمْ بَعْدُ مَا شِئْتُمْ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٣١]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی جَیْشٍ أَوْصَاہُ بِتَقْوَی اللَّہِ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِہِ وَبِمَنْ مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَیْرًا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وإِذَا حَاصَرْتَ أَہْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوکَ أَنْ تُنْزِلَہُمْ عَلَی حُکْمِ اللَّہِ فَلاَ تُنْزِلْہُمْ فَإِنَّکَ لاَ تَدْرِی أَتُصِیبُ حُکْمَ اللَّہِ أَمْ لاَ ۔ زَادَ فِیہِ وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ : وَلَکِنْ أَنْزِلُوہُمْ عَلَی حُکْمِکُمْ ثُمَّ اقْضُوا فِیہِمْ بَعْدُ مَا شِئْتُمْ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٣١]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৯৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قلعے والوں کا امام یا غیرامام کے حکم پر اترنا جب کہ اسے امن دیا جائے
(١٨١٨٧) خالی
(١٨١٨٧) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَنْبَارِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ فَذَکَرَہُ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ یَحْیَی بْنِ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مِنْ حَدِیثِ وَکِیعٍ وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْبَابِ قَبْلَہُ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৯৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حربی کافر جو مسلمان کو قتل کرنے کے بعد اسلام قبول کرلے اس پر قصاص نہیں ہے
(١٨١٨٨) جعفر بن عمرو ضمری فرماتے ہیں : میں عبیداللہ بن عدی بن خیار کے ساتھ ہشام کی جانب گیا۔ جب ہم حمص پہنچے تو مجھے عبیداللہ نے کہا : کیا ہم وحشی سے حضرت حمزہ کے قتل کے بارے میں پوچھیں۔
(ب) سلیمان بن یسار عبیداللہ بن عدی خیار سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم روم سے آئے۔ جب ہم حمص کے قریب پہنچے تو ہم نے کہا : اگر ہم وحشی کے پاس سے گزرے تو حضرت حمزہ کے قتل کے بارے میں اس سے سوال کریں گے۔ ہماری ملاقات ایک شخص سے ہوئی۔ ہم نے اس کے سامنے تذکرہ کیا تو اس نے کہا کہ وہ ایسا شخص ہے کہ جب ہم اس کے پاس پہنچے تو دروازے کے سامنے اس کے لیے کوئی چیز بچھائی گئی تھی جس پر وہ بیٹھا چیخ رہا تھا۔ اس نے کہا : ابن خیار ؟ میں نے کہا : ہاں۔ اس نے کہا : میں نے تجھے اس وقت دیکھا تھا جب تیری والدہ نے تجھے جنم دیا اور میں تجھے اٹھا کر تیری والدہ کے پاس ذی طویٰ نامی جگہ پر لے گیا تھا میں نے تیرے دونوں قدموں کو دیکھ کر پہچان لیا ہے۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : ہم آپ کے پاس حضرت حمزہ کے قتل کے بارے میں پوچھنے کے لیے آئے ہیں۔ اس نے کہا : تمہیں ویسے ہی بیان کرتا ہوں جیسے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا تھا جس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا۔ میں آل مطعم کا غلام تھا، میرے بھتیجے مطعم نے مجھے کہا : اگر تو نے میرے چچا حمزہ کو قتل کردیا تو تو آزاد ہے۔ احد کے دن میں اپنا نیزہ لے کر چلا۔ میں حبشی آدمی تھا ہم تیروں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ میں اس دن کسی کو قتل اور کسی سے لڑائی کی غرض سے نہ گیا تھا صرف حمزہ کو قتل کرنا مقصود تھا۔ میں نکلا کہ اچانک حمزہ گویا کہ وہ خاکستری رنگ کا اونٹ ہے جو بھی ان کے سامنے آتا تلوار سے اس کا خاتمہ کردیتے۔ میں ڈر گیا بنی ولد سباع کے ایک شخص نے ان کی جانب جلد بازی کی۔ میں نے حمزہ کو سنا، وہ کہہ رہے تھے : اے ختنے کرنے والی عورت کے بیٹے ! اور اس کے پیچھے ہو کر اس کو قتل کردیا اور میں بھی ان سے بچاؤ حاصل کررہا تھا۔ میں ایک درخت کی اوٹ میں ہو کر بچا اور میرے پاس نیزہ بھی تھا یہاں تک کہ جب میں نے اس پر قابو پا لیا تو میں نے اپنے نیزے کو حرکت دی یہاں تک کہ میں اس سے مطمئن ہوگیا۔ پھر میں نے نیزے کو چھوڑا تو وہ چھاتی کے درمیان لگا۔ انھوں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن وہ اٹھ نہ سکے۔ میں نے انھیں قتل کردیا۔ میں نے اپنا نیزہ پکڑا نہ تو میں نے کسی اور کو قتل کیا اور نہ ہی کسی سے لڑائی کی۔ جب میں واپس آیا تو میں آزاد تھا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو میں نے شام کی جانب بھاگ جانے کا ارادہ کیا تو ایک شخص نے مجھے کہا : اے وحشی ! تجھ پر افسوس اللہ کی قسم جو بھی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر اسلام قبول کرلیتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ میں چلا مجھے معلوم نہیں میں صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑے ہو کر حق کی گواہی دیتا رہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا وحشی ہے ؟ میں نے کہا : جی وحشی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے اوپر افسوس مجھے حمزہ کے قتل کے بارے میں بیان کرو۔ میں نے ایسے ہی بیان کیا جیسے تم دونوں کو بیان کیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے وحشی ! اپنا چہرہ مجھ سے چھپالو، میں تجھے نہ دیکھوں۔ وحشی کہتے ہیں کہ میں بچا کرتا تھا کہ رسول اللہ کہیں مجھے دیکھ نہ لیں کہ اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فوت کرلیا۔ جب مسیلمہ کا معاملہ پیش آیا تو جو لشکر بھی اس کی جانب بھیجا جاتا میں بھی اس کے ساتھ شامل ہوتا اور میں نے اپنے نیزے کو پکڑ لیا۔ ہماری ملاقات ہوگئی تو میں اور ایک انصاری شخص نے اس کی طرف جلدی کی۔ تیرا رب بہتر جانتا ہے کہ ہم سے کس نے اس کو قتل کیا۔ اگر میں نے اس کو قتل کیا ہے تو میں نے لوگوں میں سے بہترین اور بدترین شخص کو قتل کیا۔
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا، وہ کہہ رہے تھے : میں بھی اس دن لشکر میں شامل تھا کہ میں نے کسی کہنے والے سے سنا کہ وہ مسیلمہ کے بارے میں کہہ رہا تھا کہ اس کو سیاہ غلام نے قتل کردیا۔
(ب) سلیمان بن یسار عبیداللہ بن عدی خیار سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم روم سے آئے۔ جب ہم حمص کے قریب پہنچے تو ہم نے کہا : اگر ہم وحشی کے پاس سے گزرے تو حضرت حمزہ کے قتل کے بارے میں اس سے سوال کریں گے۔ ہماری ملاقات ایک شخص سے ہوئی۔ ہم نے اس کے سامنے تذکرہ کیا تو اس نے کہا کہ وہ ایسا شخص ہے کہ جب ہم اس کے پاس پہنچے تو دروازے کے سامنے اس کے لیے کوئی چیز بچھائی گئی تھی جس پر وہ بیٹھا چیخ رہا تھا۔ اس نے کہا : ابن خیار ؟ میں نے کہا : ہاں۔ اس نے کہا : میں نے تجھے اس وقت دیکھا تھا جب تیری والدہ نے تجھے جنم دیا اور میں تجھے اٹھا کر تیری والدہ کے پاس ذی طویٰ نامی جگہ پر لے گیا تھا میں نے تیرے دونوں قدموں کو دیکھ کر پہچان لیا ہے۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : ہم آپ کے پاس حضرت حمزہ کے قتل کے بارے میں پوچھنے کے لیے آئے ہیں۔ اس نے کہا : تمہیں ویسے ہی بیان کرتا ہوں جیسے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا تھا جس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا۔ میں آل مطعم کا غلام تھا، میرے بھتیجے مطعم نے مجھے کہا : اگر تو نے میرے چچا حمزہ کو قتل کردیا تو تو آزاد ہے۔ احد کے دن میں اپنا نیزہ لے کر چلا۔ میں حبشی آدمی تھا ہم تیروں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ میں اس دن کسی کو قتل اور کسی سے لڑائی کی غرض سے نہ گیا تھا صرف حمزہ کو قتل کرنا مقصود تھا۔ میں نکلا کہ اچانک حمزہ گویا کہ وہ خاکستری رنگ کا اونٹ ہے جو بھی ان کے سامنے آتا تلوار سے اس کا خاتمہ کردیتے۔ میں ڈر گیا بنی ولد سباع کے ایک شخص نے ان کی جانب جلد بازی کی۔ میں نے حمزہ کو سنا، وہ کہہ رہے تھے : اے ختنے کرنے والی عورت کے بیٹے ! اور اس کے پیچھے ہو کر اس کو قتل کردیا اور میں بھی ان سے بچاؤ حاصل کررہا تھا۔ میں ایک درخت کی اوٹ میں ہو کر بچا اور میرے پاس نیزہ بھی تھا یہاں تک کہ جب میں نے اس پر قابو پا لیا تو میں نے اپنے نیزے کو حرکت دی یہاں تک کہ میں اس سے مطمئن ہوگیا۔ پھر میں نے نیزے کو چھوڑا تو وہ چھاتی کے درمیان لگا۔ انھوں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن وہ اٹھ نہ سکے۔ میں نے انھیں قتل کردیا۔ میں نے اپنا نیزہ پکڑا نہ تو میں نے کسی اور کو قتل کیا اور نہ ہی کسی سے لڑائی کی۔ جب میں واپس آیا تو میں آزاد تھا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو میں نے شام کی جانب بھاگ جانے کا ارادہ کیا تو ایک شخص نے مجھے کہا : اے وحشی ! تجھ پر افسوس اللہ کی قسم جو بھی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر اسلام قبول کرلیتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ میں چلا مجھے معلوم نہیں میں صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑے ہو کر حق کی گواہی دیتا رہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا وحشی ہے ؟ میں نے کہا : جی وحشی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے اوپر افسوس مجھے حمزہ کے قتل کے بارے میں بیان کرو۔ میں نے ایسے ہی بیان کیا جیسے تم دونوں کو بیان کیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے وحشی ! اپنا چہرہ مجھ سے چھپالو، میں تجھے نہ دیکھوں۔ وحشی کہتے ہیں کہ میں بچا کرتا تھا کہ رسول اللہ کہیں مجھے دیکھ نہ لیں کہ اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فوت کرلیا۔ جب مسیلمہ کا معاملہ پیش آیا تو جو لشکر بھی اس کی جانب بھیجا جاتا میں بھی اس کے ساتھ شامل ہوتا اور میں نے اپنے نیزے کو پکڑ لیا۔ ہماری ملاقات ہوگئی تو میں اور ایک انصاری شخص نے اس کی طرف جلدی کی۔ تیرا رب بہتر جانتا ہے کہ ہم سے کس نے اس کو قتل کیا۔ اگر میں نے اس کو قتل کیا ہے تو میں نے لوگوں میں سے بہترین اور بدترین شخص کو قتل کیا۔
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا، وہ کہہ رہے تھے : میں بھی اس دن لشکر میں شامل تھا کہ میں نے کسی کہنے والے سے سنا کہ وہ مسیلمہ کے بارے میں کہہ رہا تھا کہ اس کو سیاہ غلام نے قتل کردیا۔
(١٨١٨٨) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا حُجَیْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِیِّ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ إِلَی الشَّامِ فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ قَالَ لِی عُبَیْدُ اللَّہِ : ہَلْ لَکَ فِی وَحْشِیٍّ نَسْأَلُہُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَۃَ ؟ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ فِی رِوَایَتِہِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْفَضْلِ الْہَاشِمِیُّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ کَذَا فِی کِتَابِی قَالَ أَقْبَلْنَا مِنَ الرُّومِ فَلَمَّا قَرُبْنَا مِنْ حِمْصَ قُلْنَا لَوْ مَرَرْنَا بِوَحْشِیٍّ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَۃَ فَلَقِینَا رَجُلاً فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ ہُوَ رَجُلٌ قَدْ غَلَبَ عَلَیْہِ الْخَمْرُ فَإِنْ أَدْرَکْتُمَاہُ وَہُوَ صَاحٍ لَمْ تَسْأَلاَہُ عَنْ شَیْئٍ إِلاَّ أَخْبَرَکُمَا وَإِنْ أَدْرَکْتُمَاہُ شَارِبًا فَلاَ تَسْأَلاَہُ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی انْتَہَیْنَا إِلَیْہِ قَدْ أُلْقِیَ لَہُ شَیْئٌ عَلَی بَابِہِ وَہُوَ جَالِسٌ صَاحٍ فَقَالَ : ابْنُ الْخِیَارِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ۔ قَالَ : مَا رَأَیْتُکَ مُنْذُ حَمَلْتُکَ إِلَی أُمِّکَ بِذِی طُوًی إِذْ وَضَعَتْکَ فَرَأَیْتُ قَدَمَیْکَ فَعَرَفْتُہُمَا قَالَ قُلْتُ جِئْنَاکَ نَسْأَلُکَ عَنْ قَتْلِ حَمْزَۃَ قَالَ سَأُحَدِّثُکُمَا کَمَا حَدَّثْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذْ سَأَلَنِی کُنْتُ عَبْدًا لآلِ مُطْعِمٍ فَقَالَ لِی ابْنُ أَخِی مُطْعِمٍ : إِنْ أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَۃَ بِعَمِّی فَأَنْتَ حُرٌّ فَانْطَلَقْتُ یَوْمَ أُحُدٍ مَعِی حَرْبَتِی وَأَنَا رَجُلٌ مِنَ الْحَبَشَۃِ أَلْعَبُ بِہَا لَعِبَہُمْ فَخَرَجْتُ یَوْمَئِذٍ مَا أُرِیدُ أَنْ أَقْتُلَ أَحَدًا وَلاَ أُقَاتِلَہُ إِلاَّ حَمْزَۃَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا أَنَا بِحَمْزَۃَ کَأَنَّہُ بَعِیرٌ أَوْرَقُ مَا یُرْفَعُ لَہُ أَحَدٌ إِلاَّ قَمَعَہُ بِالسَّیْفِ فَہِبْتُہُ وَبَادَرَنِی إِلَیْہِ رَجُلٌ مِنْ بَنِی وَلَدِ سِبَاعٍ فَسَمِعْتُ حَمْزَۃَ یَقُولُ : إِلَیَّ یَا ابْنَ مُقَطِّعَۃِ الْبُظُورِ فَشَدَّ عَلَیْہِ فَقَتَلَہُ وَجَعَلْتُ أَلُوذُ مِنْہُ فَلُذْتُ مِنْہُ بِشَجَرَۃٍ وَمَعِی حَرْبَتِی حَتَّی إِذَا اسْتَمْکَنْتُ مِنْہُ ہَزَزْتُ الْحَرْبَۃَ حَتَّی رَضِیتُ مِنْہَا ثُمَّ أَرْسَلْتُہَا فَوَقَعَتْ بَیْنَ ثَنْدُوَتَیْہِ وَنَہَزَ لِیَقُومَ فَلَمْ یَسْتَطِعْ فَقَتَلْتُہُ ثُمَّ أَخَذْتُ حَرْبَتِی مَا قَتَلْتُ أَحَدًا وَلاَ قَاتَلْتُہُ فَلَمَّا جِئْتُ عَتَقْتُ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَرَدْتُ الْہَرَبَ مِنْہُ أُرِیدُ الشَّامَ فَأَتَانِی رَجُلٌ فَقَالَ وَیْحَکَ یَا وَحْشِیُّ وَاللَّہِ مَا یَأْتِی مُحَمَّدًا أَحَدٌ یَشْہَدُ بِشَہَادَتِہِ إِلاَّ خَلَّی عَنْہُ فَانْطَلَقْتُ فَمَا شَعَرَ بِی إِلاَّ وَأَنَا وَاقِفٌ عَلَی رَأْسِہِ أَشْہَدُ بِشَہَادَۃِ الْحَقِّ فَقَالَ : أَوَحْشِیٌّ؟ ۔ قُلْتُ : وَحْشِیٌّ۔ قَالَ : وَیْحَکَ حَدِّثْنِی عَنْ قَتْلِ حَمْزَۃَ ۔ فَأَنْشَأْتُ أُحَدِّثُہُ کَمَا حَدَّثْتُکُمَا فَقَالَ : وَیْحَکَ یَا وَحْشِیُّ غَیِّبْ عَنِّی وَجْہَکَ فَلاَ أَرَاکَ ۔ فَکُنْتُ أَتَّقِی أَنْ یَرَانِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَبَضَ اللَّہُ نَبِیَّہُ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمَّا کَانَ مِنْ أَمْرِ مُسَیْلِمَۃَ مَا کَانَ وَابْتُعِثَ إِلَیْہِ الْبَعْثُ ابْتُعِثْتُ مَعَہُ وَأَخَذْتُ حَرْبَتِی فَالْتَقَیْنَا فَبَادَرْتُہُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَرَبُّکَ أَعْلَمُ أَیُّنَا قَتَلَہُ فَإِنْ کُنْتُ قَتَلْتُہُ فَقَدْ قَتَلْتُ خَیْرَ النَّاسِ وَشَرَّ النَّاسِ ۔ قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ : کُنْتُ فِی الْجَیْشِ یَوْمَئِذٍ فَسَمِعْتُ قَائِلاً یَقُولُ فِی مُسَیْلِمَۃَ قَتَلَہُ الْعَبْدُ الأَسْوَدُ ۔
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ وَحَدِیثُ حُجَیْنٍ بِمَعْنَاہُ یَزِیدُ وَیَنْقُصُ لَمْ یَذْکُرْ حَدِیثَ الشُّرْبِ وَلاَ قَوْلِہِ إِنْ کُنْتُ قَتَلْتُہُ ۔
وَقَدْ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ : مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حُجَیْنِ بْنِ الْمُثَنَّی۔
[صحیح۔ بخاری ٤٠٧٢]
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ وَحَدِیثُ حُجَیْنٍ بِمَعْنَاہُ یَزِیدُ وَیَنْقُصُ لَمْ یَذْکُرْ حَدِیثَ الشُّرْبِ وَلاَ قَوْلِہِ إِنْ کُنْتُ قَتَلْتُہُ ۔
وَقَدْ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ : مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حُجَیْنِ بْنِ الْمُثَنَّی۔
[صحیح۔ بخاری ٤٠٧٢]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৯৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حربی کافر جو مسلمان کو قتل کرنے کے بعد اسلام قبول کرلے اس پر قصاص نہیں ہے
(١٨١٨٩) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مشرک لوگوں نے قتل و زنا زیادہ کیا۔ پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آ کر کہنے لگے کہ آپ میرے کیے ہوئے اعمال کا کفارہ بتائیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ } [الفرقان ٦٨] ” وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ اور نہ ہی وہ زنا کرتے ہیں۔ “
اور یہ آیت نازل ہوئی : { قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ } [الزمر ٥٣] ” اے لوگو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کرلیا ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ “
اور یہ آیت نازل ہوئی : { قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ } [الزمر ٥٣] ” اے لوگو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کرلیا ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ “
(١٨١٨٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَزَکَرِیَّا بْنُ دَاوُدَ الْخَفَّافُ قَالُوا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی یَعْلَی بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّہُ سَمِعَہُ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ نَاسًا مِنْ أَہْلِ الشِّرْکِ قَتَلُوا فَأَکْثَرُوا وَزَنُوا فَأَکْثَرُوا ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالُوا إِنَّ الَّذِی تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَیْہِ لَحَسَنٌ لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا کَفَّارَۃً فَنَزَلَتْ { وَ الَّذِینَ لاَ یَدْعُونَ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ وَلاَ یَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللَّہُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُونَ } [الفرقان ٦٨] وَنَزَلَتْ { یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَۃِ اللَّہِ } [الزمر ٥٣] الآیَۃَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَغَیْرِہِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৯৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حربی کافر جو مسلمان کو قتل کرنے کے بعد اسلام قبول کرلے اس پر قصاص نہیں ہے
(١٨١٩٠) ابن شماسہ مصری فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمرو بن عاص کی موت کے وقت ان کے پاس حاضر ہوئے۔ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اسلام پر بیعت کے لیے حاضر ہوا۔ میں نے کہا : ہاتھ نکالیے اے اللہ کے رسول ! میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ پھیلایا تو میں نے ہاتھ پیچھے کرلیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے عمرو ! کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : میں شرط کرنا چاہتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شرط کرو کیا ہے ؟ میں نے کہا : میری شرط یہ ہے کہ مجھے معاف کردیا جائے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمرو ! کیا تو جانتا نہیں ہے کہ اسلام پہلے تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
(١٨١٩٠) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ أَخْبَرَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ عَنِ ابْنِ شُمَاسَۃَ الْمَہْرِیِّ قَالَ : حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ فِی سِیَاقَۃِ الْمَوْتِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأُبَایِعَہُ عَلَی الإِسْلاَمِ فَقُلْتُ ابْسُطْ یَمِینَکَ أُبَایِعُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَبَسَطَ یَدَہُ فَقَبَضْتُ یَدِی فَقَالَ : مَا لَکَ یَا عَمْرُو ؟ ۔ قُلْتُ : أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ ۔ قَالَ : تَشْتَرِطُ مَاذَا ؟ ۔ قُلْتُ : أَشْتَرِطَ أَنْ یُغْفَرَ لِی۔ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ یَا عَمْرُو أَنَّ الإِسْلاَمَ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ ۔
وَذَکَرَ الْحَدِیثَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٢١]
وَذَکَرَ الْحَدِیثَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٢١]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৯৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حربی کافر جو مسلمان کو قتل کرنے کے بعد اسلام قبول کرلے اس پر قصاص نہیں ہے
(١٨١٩١) قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابوبکر کو طائف کے دن تیر لگ گیا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے چالیس دن بعد فوت ہوگئے۔ اس نے قصہ ذکر کیا کہ ان کے پاس ثقیف کا وفد آیا۔ یہ تیر ان کے پاس ہی تھا۔ وفد کے سامنے تیر کو پیش کیا اور کہنے لگے : تم میں سے کوئی اس تیر کو پہچانتا ہے ؟ تو بنو عجلان کے سعید بن عبید نے کہا : یہ تیر میں نے تراشا تھا اور میں نے ہی پھینکا تھا تو ابوبکر (رض) فرمانے لگے : اس تیر نے عبداللہ بن ابوبکر کو قتل کیا تھا۔ تمام تعریفیں اس ذات کی جس نے تیرے ہاتھ کے ذریعے اسے عزت دی اور اس کے ہاتھ کے ذریعے تجھے رسوا نہیں کیا۔ کیونکہ وہ تم دونوں کو گھیرنے والا ہے۔
(١٨١٩١) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الدَّغُولِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : رُمِیَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِسَہْمٍ یَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَقَضَتْ بِہِ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِأَرْبَعِینَ لَیْلَۃً فَمَاتَ فَذَکَرَ قِصَّۃً قَالَ فَقَدِمَ عَلَیْہِ وَفْدُ ثَقِیفَ وَلَمْ یَزَلْ ذَلِکَ السَّہْمُ عِنْدَہُ فَأُخْرِجَ إِلَیْہِمْ فَقَالَ : ہَلْ یَعْرِفُ ہَذَا السَّہْمَ مِنْکُمْ أَحَدٌ؟ فَقَالَ سَعِیدُ بْنُ عُبَیْدٍ أَخُو بَنِی الْعَجْلاَنِ : ہَذَا سَہْمٌ أَنَا بَرَیْتُہُ وَرِشْتُہُ وَعَقَّبْتُہُ وَأَنَا رَمَیْتُ بِہِ ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَإِنَّ ہَذَا السَّہْمَ الَّذِی قَتَلَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی بَکْرٍ فَالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَکْرَمَہُ بِیَدِکَ وَلَمْ یُہِنْکَ بِیَدِہِ فَإِنَّہُ وَاسِعٌ لَکُمَا۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৯৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حربی کافر جو مسلمان کو قتل کرنے کے بعد اسلام قبول کرلے اس پر قصاص نہیں ہے
(١٨١٩٢) عمر بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) کو کوئی پریشانی، مصیبت آتی تو فرماتے کہ زید بن خطاب کی وجہ سے پریشانی آئی ہے۔ میں نے صبر کیا۔ اس نے اپنے بھائی زید کے قاتل کو دیکھ لیا تو اس سے کہتے : افسوس تیرے اوپر تو نے میرے بھائی کو قتل کردیا۔ جب بھی صبح کی ہوا چلتی ہے تو میں بھائی کو یاد کرتا ہوں۔
(١٨١٩٢) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُصَابُ بِالْمُصِیبَۃِ فَیَقُولُ أُصِبْتُ بِزَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَصَبَرْتُ وَأَبْصَرَ قَاتِلَ أَخِیہِ زَیْدٍ فَقَالَ لَہُ : وَیْحَکَ لَقَدْ قَتَلْتَ لِی أَخًا مَا ہَبَّتِ الصَّبَا إِلاَّ ذَکَرْتُہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৯৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حربی کافر جو مسلمان کو قتل کرنے کے بعد اسلام قبول کرلے اس پر قصاص نہیں ہے
(١٨١٩٣) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ہرمزان حضرت عمر (رض) کے حکم پر اتر پڑا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے انس ! میں براء بن مالک اور مجزاۃ بن ثور کے قاتل سے حیا کرتا ہوں۔ وہ مسلمان ہوا اور اس کے لیے فرض کیا گیا۔
(١٨١٩٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ حَدَّثَنَا أَنَسٌ : أَنَّ الْہُرْمُزَانَ نَزَلَ عَلَی حُکْمِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا أَنَسُ أَسْتَحْیِی قَاتِلَ الْبَرَائِ بْنِ مَالِکٍ وَمَجْزَأَۃَ بْنِ ثَوْرٍ فَأَسْلَمَ وَفُرِضَ لَہُ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২০০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حربی کافر جو مسلمان کو قتل کرنے کے بعد اسلام قبول کرلے اس پر قصاص نہیں ہے
(١٨١٩٤) حضرت ثابت انس (رض) سے قراء کے قصہ اور حرام بن ملحان کے قتل کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے آخر میں فرماتے ہیں : اس کے بعد ابو طلحہ مجھے فرمایا کرتے تھے : آپ کا حرام کے قاتل کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ میں نے کہا : اس کی کیا حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ جو کیا سو کیا۔ فرمانے لگے : وہ مسلمان ہوگیا ہے۔ آپ کچھ بھی نہ کریں۔
(١٨١٩٤) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَلِیُّ بْنُ سَقْرِ بْنِ نَصْرٍ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ الْقُرَّائِ وَقَتْلِ حَرَامِ بْنِ مِلْحَانَ قَالَ فِی آخِرِہِ فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ إِذَا أَبُو طَلْحَۃَ یَقُولُ لِی ہَلْ لَکَ فِی قَاتِلٍ لِحَرَامٍ قُلْتُ : مَا بَالُہُ فَعَلَ اللَّہُ بِہِ وَفَعَلَ ۔ قَالَ : لاَ تَفْعَلْ فَقَدْ أَسْلَمَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২০১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں کئی افراد یا اکیلے آدمی کا غزوہ کے لیے جانا اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے پہلے کسی کا چلے جانا اگرچہ قتل کا غالب امکان ہی کیوں نہ ہو
(١٨١٩٥) یزید بن ابی حبیب حضرت اسلم ابی عمران سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے قسطنطنیہ میں غزوہ کیا اور امیر عبدالرحمن بن خالد بن ولید تھے۔ رومی ان کے پیچھے شہر کے باغ میں تھے۔ ایک شخص نے دشمن پر حملہ کردیا۔ لوگوں نے کہا : رک رک اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ وہ اپنا ہاتھ ہلاکت میں ڈال رہا ہے۔ ابو ایوب فرماتے ہیں : یہ آیت انصاری لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد فرمائی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا۔ ہم نے کہا : آؤ ہم اپنے مالوں میں رک جائیں۔ ان کی اصلاح کریں۔ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور تم اللہ کے راستہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ “ اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے مالوں کی اصلاح کریں اور جہاد چھوڑ دیں۔
ابو عمران کہتے ہیں کہ ابو ایوب انصاری اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ قسطنطنیہ میں دفن ہوگئے۔
ابو عمران کہتے ہیں کہ ابو ایوب انصاری اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ قسطنطنیہ میں دفن ہوگئے۔
(١٨١٩٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَسْلَمَ أَبِی عِمْرَانَ قَالَ : غَزَوْنَا الْمَدِینَۃَ یُرِیدُ الْقُسْطُنْطِینِیَّۃَ وَعَلَی الْجَمَاعَۃِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَالرُّومُ مُلْصِقُو ظُہُورِہِمْ بِحَائِطِ الْمَدِینَۃِ فَحَمَلَ رَجُلٌ عَلَی الْعَدُوِّ فَقَالَ النَّاسُ مَہْ مَہْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ یُلْقِی بِیَدِہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ ۔ فَقَالَ أَبُو أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِینَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ لَمَّا نَصَرَ اللَّہُ نَبِیَّہُ وَأَظْہَرَ الإِسْلاَمَ قُلْنَا ہَلُمَّ نُقِیمُ فِی أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحُہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی { وَأَنْفِقُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] فَالإِلْقَائُ بِأَیْدِینَا إِلَی التَّہْلُکَۃِ أَنْ نُقِیمَ فِی أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحَہَا وَنَدَعَ الْجِہَادَ ۔
قَالَ أَبُو عِمْرَانَ : فَلَمْ یَزَلْ أَبُو أَیُّوبَ یُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ حَتَّی دُفِنَ بِالْقُسْطَنْطِینِیَّۃِ ۔
وَقَدْ مَضَی فِی ہَذَا الْمَعْنَی أَحَادِیثُ ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ١٧٩٢٥]
قَالَ أَبُو عِمْرَانَ : فَلَمْ یَزَلْ أَبُو أَیُّوبَ یُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ حَتَّی دُفِنَ بِالْقُسْطَنْطِینِیَّۃِ ۔
وَقَدْ مَضَی فِی ہَذَا الْمَعْنَی أَحَادِیثُ ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ١٧٩٢٥]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২০২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں کئی افراد یا اکیلے آدمی کا غزوہ کے لیے جانا اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے پہلے کسی کا چلے جانا اگرچہ قتل کا غالب امکان ہی کیوں نہ ہو
(١٨١٩٦) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے احد کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے اللہ کے رسول ! اگر میں شہید کردیا گیا تو میں کہاں ہوں گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں۔ اس شخص نے اپنے ہاتھ کی کھجوریں پھینک دیں۔ پھر لڑتے ہوئے شہید ہوگیا۔
(١٨١٩٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ الرَّمْلِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ أُحُدٍ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنْ قُتِلْتُ فَأَیْنَ أَنَا ؟ قَالَ : فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَأَلْقَی تَمَرَاتٍ کُنَّ فِی یَدِہِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔
وَہَذَا لَفْظُ أَحْمَدَ بْنِ شَیْبَانَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَمْرٍو کِلاَہُمَا عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
وَہَذَا لَفْظُ أَحْمَدَ بْنِ شَیْبَانَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَمْرٍو کِلاَہُمَا عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২০৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں کئی افراد یا اکیلے آدمی کا غزوہ کے لیے جانا اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے پہلے کسی کا چلے جانا اگرچہ قتل کا غالب امکان ہی کیوں نہ ہو
(١٨١٩٧) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لبیسہ کو جاسوس بنا کر روانہ کیا کہ دیکھ ابی سفیان کا لشکر کیا کررہا ہے ؟ جب وہ واپس آیا تو میرے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کوئی گھر میں نہ تھا۔ اس نے کہا : مجھے معلوم نہیں کہ اس نے بعض عورتوں کا استثناء کیا۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور فرمایا : جس کے پاس سواری ہو وہ ہمارے ساتھ نکلے۔
بعض لوگوں نے اجازت طلب کی کہ وہ مدینہ کے بالائی علاقہ سے سواری لے آتے ہیں، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس کے پاس سواری موجود ہو۔ رسول اللہ اور صحابہ چلے اور بدر کے مقام پر مشرکین سے پہلے پہنچ گئے۔ مشرکین بھی آگئے۔ آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی آگے کی جانب پیش قدمی نہ کرے یہاں تک کہ میں اجازت دے دوں۔ مشرکین قریب آگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس جنت کی طرف چلو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ عمیر بن حمام انصاری نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جنت کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے ؟ فرمایا : ہاں ! اس نے خوشی سے بخ، بخ کے الفاظ کہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تجھے کسی چیز نے ابھارا کہ تو بخ بخ کے کلمات کہے ؟ اس نے کہا : صرف اس امید پر کہ میں بھی اہل جنت سے ہو جاؤں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بھی اس کے باسیوں میں سے ہے۔ اس نے اپنے کمان سے کچھ کھجوریں نکالیں۔ ان کو کھانا شروع کیا۔ پھر کہنے لگے : اگر میں یہ کھجوریں کھانے تک زندہ رہا تو میری زندگی بہت لمبی ہے۔ راوی کہتے ہیں : اس نے کھجوریں پھنک دیں اور لڑنے لگا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔
بعض لوگوں نے اجازت طلب کی کہ وہ مدینہ کے بالائی علاقہ سے سواری لے آتے ہیں، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس کے پاس سواری موجود ہو۔ رسول اللہ اور صحابہ چلے اور بدر کے مقام پر مشرکین سے پہلے پہنچ گئے۔ مشرکین بھی آگئے۔ آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی آگے کی جانب پیش قدمی نہ کرے یہاں تک کہ میں اجازت دے دوں۔ مشرکین قریب آگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس جنت کی طرف چلو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ عمیر بن حمام انصاری نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جنت کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے ؟ فرمایا : ہاں ! اس نے خوشی سے بخ، بخ کے الفاظ کہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تجھے کسی چیز نے ابھارا کہ تو بخ بخ کے کلمات کہے ؟ اس نے کہا : صرف اس امید پر کہ میں بھی اہل جنت سے ہو جاؤں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بھی اس کے باسیوں میں سے ہے۔ اس نے اپنے کمان سے کچھ کھجوریں نکالیں۔ ان کو کھانا شروع کیا۔ پھر کہنے لگے : اگر میں یہ کھجوریں کھانے تک زندہ رہا تو میری زندگی بہت لمبی ہے۔ راوی کہتے ہیں : اس نے کھجوریں پھنک دیں اور لڑنے لگا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔
(١٨١٩٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ : ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بُسَیْسَۃَ عَیْنًا یَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِیرُ أَبِی سُفْیَانَ فَجَائَ وَمَا فِی الْبَیْتِ غَیْرِی وَغَیْرُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ لاَ أَدْرِی مَا اسْتَثْنَی بَعْضَ نِسَائِہِ فَحَدَّثَہُ الْحَدِیثَ قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَتَکَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّ لَنَا طَلِبَۃً فَمَنْ کَانَ ظَہْرُہُ حَاضِرًا فَلْیَرْکَبْ مَعَنَا ۔
فَجَعَلَ رِجَالٌ یَسْتَأْذِنُونَ فِی ظُہْرَانِہِمْ فِی عُلْوِ الْمَدِینَۃِ قَالَ : لاَ إِلاَّ مَنْ کَانَ ظَہْرُہُ حَاضِرًا ۔ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَصْحَابُہُ حَتَّی سَبَقُوا الْمُشْرِکِینَ إِلَی بَدْرٍ وَجَائَ الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ یُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ إِلَی شَیْئٍ حَتَّی أَکُونَ أَنَا أُؤْذِنُہُ ۔ فَدَنَا الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُومُوا إِلَی جَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ۔ قَالَ یَقُولُ عُمَیْرُ بْنُ الْحُمَامِ الأَنْصَارِیُّ : یَا رَسُولَ اللَّہِ جَنَّۃٌ عَرْضُہَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : بَخٍ بَخٍ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَا یَحْمِلُکَ عَلَی قَوْلِکَ بَخٍ بَخٍ ۔ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلاَّ رَجَاۃَ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَہْلِہَا۔ قَالَ : فَإِنَّکَ مِنْ أَہْلِہَا ۔ فَاخْتَرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرْنِہِ فَجَعَلَ یَأْکُلُ مِنْہُنَّ ثُمَّ قَالَ : لَئِنْ أَنَا حَیِیتُ حَتَّی آکُلَ تَمَرَاتِی ہَذِہِ إِنَّہَا لَحَیَاۃٌ طَوِیلَۃٌ قَالَ فَرَمَی بِمَا کَانَ مَعَہُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَہُمْ حَتَّی قُتِلَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی النَّضْرِ وَمُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَیْرِہِمَا عَنْ أَبِی النَّضْرِ ۔
[صحیح۔ مسلم ١٩٠١]
فَجَعَلَ رِجَالٌ یَسْتَأْذِنُونَ فِی ظُہْرَانِہِمْ فِی عُلْوِ الْمَدِینَۃِ قَالَ : لاَ إِلاَّ مَنْ کَانَ ظَہْرُہُ حَاضِرًا ۔ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَصْحَابُہُ حَتَّی سَبَقُوا الْمُشْرِکِینَ إِلَی بَدْرٍ وَجَائَ الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ یُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ إِلَی شَیْئٍ حَتَّی أَکُونَ أَنَا أُؤْذِنُہُ ۔ فَدَنَا الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُومُوا إِلَی جَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ۔ قَالَ یَقُولُ عُمَیْرُ بْنُ الْحُمَامِ الأَنْصَارِیُّ : یَا رَسُولَ اللَّہِ جَنَّۃٌ عَرْضُہَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : بَخٍ بَخٍ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَا یَحْمِلُکَ عَلَی قَوْلِکَ بَخٍ بَخٍ ۔ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلاَّ رَجَاۃَ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَہْلِہَا۔ قَالَ : فَإِنَّکَ مِنْ أَہْلِہَا ۔ فَاخْتَرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرْنِہِ فَجَعَلَ یَأْکُلُ مِنْہُنَّ ثُمَّ قَالَ : لَئِنْ أَنَا حَیِیتُ حَتَّی آکُلَ تَمَرَاتِی ہَذِہِ إِنَّہَا لَحَیَاۃٌ طَوِیلَۃٌ قَالَ فَرَمَی بِمَا کَانَ مَعَہُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَہُمْ حَتَّی قُتِلَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی النَّضْرِ وَمُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَیْرِہِمَا عَنْ أَبِی النَّضْرِ ۔
[صحیح۔ مسلم ١٩٠١]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২০৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں کئی افراد یا اکیلے آدمی کا غزوہ کے لیے جانا اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے پہلے کسی کا چلے جانا اگرچہ قتل کا غالب امکان ہی کیوں نہ ہو
(١٨١٩٨) عاصم بن عمر بن قتادہ فرماتے ہیں : لوگوں کی بدر کے دن دشمن سے جنگ ہوئی تو عوف بن عفراء بن حارث نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی کس ادا پر مسکراتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب بندے کو دیکھتے ہیں کہ وہ ننگے بدن لڑائی میں کود پڑتا ہے تو عوف نے اپنی زرہ اتار دی۔ پھر آگے بڑھ کر لڑائی کی، یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔
(١٨١٩٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ قَالَ : لَمَّا الْتَقَی النَّاسُ یَوْمَ بَدْرٍ قَالَ عَوْفُ ابْنُ عَفْرَائَ بْنُ الْحَارِثِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا یُضْحِکُ الرَّبَّ تَبَارَکَ وَتَعَالَی مِنْ عَبْدِہِ ؟ قَالَ : أَنْ یَرَاہُ قَدْ غَمَسَ یَدَہُ فِی الْقِتَالِ یُقَاتِلُ حَاسِرًا ۔ فَنَزَعَ عَوْفٌ دِرْعَہُ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২০৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں کئی افراد یا اکیلے آدمی کا غزوہ کے لیے جانا اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے پہلے کسی کا چلے جانا اگرچہ قتل کا غالب امکان ہی کیوں نہ ہو
(١٨١٩٩) مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن مسعود اور خباب کو ایک لشکر، جب کہ دحیہ کو اکیلے لشکر بنا کر روانہ کیا۔
(١٨١٩٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : قَدْ بَعَثَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ وَخَبَّابًا سَرِیَّۃً وَبَعَثَ دِحْیَۃَ سَرِیَّۃً وَحْدَہُ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮২০৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دشمن کے علاقہ میں کئی افراد یا اکیلے آدمی کا غزوہ کے لیے جانا اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے پہلے کسی کا چلے جانا اگرچہ قتل کا غالب امکان ہی کیوں نہ ہو
(١٨٢٠٠) امام شافعی فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص بئر مؤنہ کے ساتھیوں سے پیچھے رہ گیا۔ اس نے دیکھا کہ پرندے اس کے ساتھیوں کی لاشوں پر ٹھہرے ہوئے ہیں تو اس نے عمرہ بن امیہ سے کہا : میں بھی اپنے دشمنوں سے لڑوں گا یہاں تک کہ وہ مجھے قتل کردیں اور اپنے ساتھیوں کی قتل گاہ سے پیچھے نہ ہٹوں گا۔ اس نے ایسا ہی کیا، وہ شہید کردیا گیا تو عمرو بن امیہ نے واپس آ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں اچھی بات کہی۔ آپ نے عمرو سے کہا کیا تو آگے بڑھ کر قتال کیوں نہیں کرتا یہاں تک کہ تجھے قتل کردیا جائے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن امیہ ضمری اور ایک انصاری کو لشکر بنا کر روانہ فرمایا اور عبداللہ بن انیس کو اکیلے ہی سریہ بنا کر روانہ فرمایا۔
(١٨٢٠٠) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ تَخَلَّفَ عَنْ أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَۃَ فَرَأَی الطَّیْرَ عُکُوفًا عَلَی مَقْتَلَۃِ أَصْحَابِہِ فَقَالَ لِعَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ سَأَتَقَدَّمُ عَلَی ہَؤُلاَئِ الْعَدُوِّ فَیَقْتُلُونِی وَلاَ أَتَخَلَّفُ عَنْ مَشْہَدٍ قُتِلَ فِیہِ أَصْحَابُنَا فَفَعَلَ فَقُتِلَ فَرَجَعَ عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ فِیہِ قَوْلاً حَسَنًا وَیُقَالُ قَالَ لِعَمْرٍو : فَہَلاَّ تَقَدَّمْتَ فَقَاتَلْتَ حَتَّی تُقْتَلَ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَمْرَو بْنَ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیَّ وَرَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ سَرِیَّۃً وَحْدَہُمَا وَبَعَثَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُنَیْسٍ سَرِیَّۃً وَحْدَہُ ۔ وَقَدْ ذَکَرْنَا إِسْنَادَہُمَا فِی ہَذَا الْکِتَابِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক: