আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮১৬৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے لڑائی نہ کرنے والے کے قتل کو جائز خیال کیا اگرچہ وہ کسی دوسرے کام میں ہی مشغول کیوں نہ ہو
(١٨١٦١) ابو بردہ بن ابی موسیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو ابو عامر کو لشکر اوطاس پر روانہ کردیا۔ وہ درید بن صمہ سے جا ملے جو قتل ہوچکا تھا۔ اللہ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دے دی تھی۔ اس نے حدیث ذکر کی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں : جب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں باریک بنائی ہوئی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے جس کے نشانات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کمر مبارک اور پہلوؤں پر تھے تو میں نے اپنی اور ابو عامر کی خبر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی۔
(١٨١٦١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ

(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو ہُوَ ابْنُ حَمْدَانَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَرَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ حُنَیْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَی جَیْشِ أَوْطَاسٍ فَلَقِیَ دُرَیْدَ بْنَ الصِّمَّۃِ فَقُتِلَ دُرَیْدٌ وَہَزَمَ اللَّہُ أَصْحَابَہُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ عَنْ أَبِی مُوسَی فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَخَلْتُ عَلَیْہِ وَہُوَ فِی بَیْتٍ عَلَی سَرِیرٍ مُرَمَّلٍ وَعِنْدَہُ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِیرِ بِظَہْرِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَجَنْبَیْہِ فَأَخْبَرْتُہُ بِخَبَرِی وَخَبَرِ أَبِی عَامِرٍ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بَرَّادٍ وَأَخْرَجَاہُ جَمِیعًا عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ ۔

[صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৬৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے لڑائی نہ کرنے والے کے قتل کو جائز خیال کیا اگرچہ وہ کسی دوسرے کام میں ہی مشغول کیوں نہ ہو
(١٨١٦٢) محمد بن اسحاق بن یسار اوطاس کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ربیعہ بن رفیع نے درید بن صمہ کو پا لیا اور اس کے اونٹ کی مہار پکڑ لی۔ اس نے سمجھا : یہ عورت ہے اور یہ درختوں میں تھا۔ جب اونٹ کو بٹھایا تو وہ بوڑھا درید تھا۔ غلام اس کو جانتا نہ تھا درید نے کہا : تیرا کیا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا : تیرے قتل کا۔ درید نے پوچھا : تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں ربیعہ بن رفیع سلمی ہوں۔ راوی کہتے ہیں : پھر اس نے تلوار ماری۔ لیکن درید کو قتل نہ کرسکا تو درید نے کہا : تیرے والد نے تجھے اچھے اسلحہ سے لیس نہیں کیا۔ جاؤ درختوں کے پیچھے سے میری تلوار لاؤ، ہڈی سے بچا کر دماغ پر مارو۔ میں بھی اس طرح افراد کو قتل کرتا تھا تو اس طرح اس نے قتل کردیا۔
(١٨١٦٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ فِی قِصَّۃِ أَوْطَاسٍ قَالَ : فَأَدْرَکَ رَبِیعَۃُ بْنُ رُفَیْعٍ دُرَیْدَ بْنَ الصِّمَّۃِ فَأَخَذَ بِخِطَامِ جَمَلِہِ وَہُوَ یَظُنُّ أَنَّہُ امْرَأَۃٌ وَذَلِکَ أَنَّہُ کَانَ فِی شِجَارٍ لَہُ فَإِذَا ہُوَ بِرَجُلٍ فَأَنَاخَ بِہِ فَإِذَا ہُوَ شَیْخٌ کَبِیرٌ وَإِذَا ہُوَ دُرَیْدٌ وَلاَ یَعْرِفُہُ الْغُلاَمُ فَقَالَ دُرَیْدٌ : مَاذَا تُرِیدُ ؟ قَالَ : قَتْلَکَ ۔ قَالَ : وَمَنْ أَنْتْ ؟ قَالَ : أَنَا رَبِیعَۃُ بْنُ رُفَیْعٍ السُّلَمِیُّ قَالَ ثُمَّ ضَرَبَہُ بِسَیْفِہِ فَلَمْ یُغْنِ شَیْئًا۔ فَقَالَ دُرَیْدٌ : بِئْسَمَا سَلَّحَتْکَ أُمُّکَ خُذْ سَیْفِی ہَذَا مِنْ مُؤَخَّرِ الشِّجَارِ ثُمَّ اضْرِبْ بِہِ وَارْفَعْ عَنِ الْعِظَامِ وَاخْفِضْ عَنِ الدِّمَاغِ فَإِنِّی کَذَلِکَ کُنْتُ أَقْتُلُ الرِّجَالَ فَقَتَلَہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৬৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے لڑائی نہ کرنے والے کے قتل کو جائز خیال کیا اگرچہ وہ کسی دوسرے کام میں ہی مشغول کیوں نہ ہو
(١٨١٦٣) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ درید بن صمہ ١٥٠ سال کی عمر میں اپنے باغ میں قتل کیا گیا۔ وہ بیٹھنے کی طاقت نہ رکھتا تھا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس کے قتل کا تذکرہ ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا انکار نہ کیا۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بنو قریظہ کا نابینا شخص قید کے بعد قتل کردیا گیا۔ یہ دلالت ہے کہ بالغ آدمی جب اسلام و جزیہ سے بھاگ جائے تو قتل کرنا جائز ہے۔
(١٨١٦٣) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : قُتِلَ یَوْمَ حُنَیْنٍ دُرَیْدُ بْنُ الصِّمَّۃِ ابْنَ خَمْسِینَ وَمِائَۃِ سَنَۃٍ فِی شِجَارٍ لاَ یَسْتَطِیعُ الْجُلُوسَ فَذُکِرَ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمْ یُنْکِرْ قَتْلَہُ

قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقُتِلَ أَعْمَی مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ بَعْدَ الإِسَارِ ۔ وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی قَتْلِ مَنْ لاَ یُقَاتِلُ مِنَ الرِّجَالِ الْبَالِغِینَ إِذَا أَبَی الإِسْلاَمَ وَالْجِزْیَۃَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : ہُوَ الزَّبِیرُ بْنُ بَاطَا الْقُرَظِیُّ قَدْ ذَکَرْنَا قِصَّتَہُ فِیمَا مَضَی۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৭০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے لڑائی نہ کرنے والے کے قتل کو جائز خیال کیا اگرچہ وہ کسی دوسرے کام میں ہی مشغول کیوں نہ ہو
(١٨١٦٤) حضرت سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مشرکین کے بوڑھے اشخاص کو قتل کرو اور ان کے بچوں کو باقی رکھو۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر راہب کے علاوہ کسی کو قتل کرنے پر عیب لگایا جاتا تو قیدی اور زخمی کو کبھی قتل نہ کیا جاتا۔ حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں حضرت عبداللہ بن مسعود نے ابو جہل بن ہشام زخمی کو قتل کیا تھا۔
(١٨١٦٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اقْتُلُوا شُیُوخَ الْمُشْرِکِینَ وَاسْتَبْقُوا شَرْخَہُمْ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَلَوْ جَازَ أَنْ یُعَابَ قَتْلُ مَنْ عَدَا الرُّہْبَانِ لِمَعْنَی أَنَّہُمْ لاَ یُقَاتِلُونَ لَمْ یُقْتَلِ الأَسِیرُ وَلاَ الْجَرِیحُ الْمُثْبَتُ وَقَدْ ذُفِّفَ عَلَی الْجَرْحَی بِحَضْرَۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْہُمْ أَبُو جَہْلِ بْنُ ہِشَامٍ ذَفَّفَ عَلَیْہِ ابْنُ مَسْعُودٍ وَغَیْرُہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৭১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے لڑائی نہ کرنے والے کے قتل کو جائز خیال کیا اگرچہ وہ کسی دوسرے کام میں ہی مشغول کیوں نہ ہو
(١٨١٦٥) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دیکھو ابو جہل کا کیا بنا ؟ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود گئے تو دیکھا کہ ابن عفراء نے اس کو قتل کردیا ہے تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے نیچے اتر کر اس کی داڑھی پکڑ لی۔ پوچھا : تو ابو جہل ہے ؟ اس نے کہا : کیا تم نے مجھ سے کسی بڑے آدمی کو قتل کیا ہے یا اس کو اس کی قوم نے قتل کیا ہو۔
(١٨١٦٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ یَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَہْلٍ ؟ ۔ قَالَ : فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَجَدَہُ قَدْ ضَرَبَہُ ابْنَا عَفْرَائَ فَنَزَلَ فَأَخَذَ بِلِحْیَتِہِ قَالَ : أَنْتَ أَبُو جَہْلٍ ؟ قَالَ : وَہَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوہُ أَوْ قَتَلَہُ قَوْمُہُ ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৭২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے لڑائی نہ کرنے والے کے قتل کو جائز خیال کیا اگرچہ وہ کسی دوسرے کام میں ہی مشغول کیوں نہ ہو
(١٨١٦٦) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ بدر کے دن میں ابو جہل تک پہنچا۔ وہ گرا ہوا تھا، میں نے اسے اپنی تلوار ماری۔ اس نے کچھ بھی نہ کیا۔ اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے اسے مارا۔ پھر میں ایک گرم دن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر آیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ اللہ کا دشمن ابو جہل قتل کردیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! قتل کردیا گیا ؟ میں نے کہا : ہاں اللہ کی قسم وہ قتل کردیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چلو ہمیں دکھاؤ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آ کر دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اس امت کا فرعون تھا۔
(١٨١٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو وَکِیعٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ انْتَہَیْتُ إِلَی أَبِی جَہْلٍ وَہُوَ مَصْرُوعٌ فَضَرَبْتُہُ بِسَیْفِی فَمَا صَنَعَ شَیْئًا وَنَدَرَ سَیْفُہُ فَضَرَبْتُہُ ثُمَّ أَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی یَوْمٍ حَارٍّ کَأَنَّمَا أُقَلَّ مِنَ الأَرْضِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا عَدُوُّ اللَّہِ أَبُو جَہْلٍ قَدْ قُتِلَ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : آللَّہِ لَقَدْ قُتِلَ ۔ قُلْتُ : آللَّہِ لَقَدْ قُتِلَ ۔

قَالَ : فَانْطَلِقْ بِنَا فَأَرِنَاہُ ۔ فَجَائَ فَنَظَرَ إِلَیْہِ فَقَالَ : ہَذَا کَانَ فِرْعَوْنَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ ۔

کَذَا قَالَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ۔ وَالْمَحْفُوظُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ وَقَدْ مَضَی ذَلِکَ ۔

[ضعیف۔ تقدم برقم ١٨٠١٣-١٨٠١٤]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৭৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے لڑائی نہ کرنے والے کے قتل کو جائز خیال کیا اگرچہ وہ کسی دوسرے کام میں ہی مشغول کیوں نہ ہو
(١٨١٦٧) حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں غزوہ یرموک میں اپنے باپ کے ساتھ تھا۔ جب مشرکین کو شکست ہوئی اور قیدی بنائے گئے تو وہ اپنے زخمیوں کا فدیہ دیتے تھے۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ابوبکر (رض) سے ان کے خلاف ثابت نہیں ہے۔ اگر ان سے ثابت ہو تو یہ اس کے مناسب ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے دادا کو حکم دیا کہ وہ لڑنے والوں سے لڑائی کرے اور ان جگہوں پر وہ مصروف نہ ہوجائے۔
(١٨١٦٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ : أَنَّہُ کَانَ مَعَ أَبِیہِ یَوْمَ الْیَرْمُوکِ فَلَمَّا انْہَزَمَ الْمُشْرِکُونَ وَحُمِلَ فَجَعَلَ یُجِیزُ عَلَی جَرْحَاہُمْ ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلاَ أَعْلَمُ یَثْبُتُ عَنْ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خِلاَفُ ہَذَا وَلَوْ کَانَ یَثْبُتُ لَکَانَ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ أَمَرَہُمْ بِالْجَدِّ عَلَی قِتَالِ مَنْ یُقَاتِلُہُمْ وَلاَ یَتَشَاغَلُوا بِالْمَقَامِ عَلَی مَوَاضِعِ ہَؤُلاَئِ

قَالَ الشَّیْخُ وَإِنَّمَا قَالَ ہَذَا لأَنَّ الرِّوَایَاتِ الَّتِی ذَکَرْنَاہَا عَنْ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کُلَّہَا مَرَاسِیلُ إِلاَّ أَنَّہَا رُوِیَتْ مِنْ أَوْجُہٍ وَرَوَاہَا ابْنُ الْمُسَیَّبِ وَہُوَ حَسَنُ الْمُرْسَلِ

وَذَکَرَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِیِّ عَنْہُ حَدِیثَ الْمُرَقِّعِ ثُمَّ ضَعَّفَہُ بِأَنَّ مُرَقِّعًا لَیْسَ بِالْمَعْرُوفِ وَذَکَرَ حَدِیثَ أَیُّوبَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِیہِ ثُمَّ قَالَ وَہَذَا کَالَّذِی ذَکَرْنَا مِنْ قَبْلِہِ مِنَ الْمَجْہُولِ وَأَمَّا حَدِیثُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَبِیبَۃَ فَلَمْ یَذْکُرْہُ الشَّافِعِیُّ وَہُوَ أَضْعَفُ مِمَّا رَدَّہُ بِالْجَہَالَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৭৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کی پناہ کا بیان
(١٨١٦٨) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام مسلمانوں کا پناہ دینا ایک جیسا ہے ان کا ادنیٰ بھی پناہ دے سکتا ہے۔ جس نے مسلمان کی پناہ کو ختم کیا اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اس کے فرض و نفل قبول نہ کیے جائیں گے۔ (ب) حضرت علی (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ تمام مومنوں کے خون برابر ہیں، وہ اپنے مخالفوں پر ایک ہاتھ کی مانند متحد ہیں اور ان کا ادنیٰ ترین شخص بھی پناہ دے سکتا ہے۔
(١٨١٦٨) حَدَّثَنَا الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ بْنِ یَحْیَی الرَّازِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : ذِمَّۃُ الْمُسْلِمِینَ وَاحِدَۃٌ یَسْعَی بِہَا أَدْنَاہُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ وَمَنْ وَالَی مُؤْمِنًا بِغَیْرِ إِذْنِ مَوَالِیہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الثَّوْرِیِّ ۔

وَقَدْ مَضَی حَدِیثُ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : الْمُؤْمِنُونَ تَکَافَأُ دِمَاؤُہُمْ وَہُمْ یَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ وَیَسْعَی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ ۔

وَمَضَی ذَلِکَ أَیْضًا فِی حَدِیثِ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৭৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کی پناہ کا بیان
(١٨١٦٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کا ادنیٰ آدمی بھی پناہ دے سکتا ہے۔
(١٨١٦٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ عَنْ کَثِیرِ بْنِ زَیْدٍ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : یُجِیرُ عَلَی أُمَّتِی أَدْنَاہُمْ ۔ [صحیح لغیرہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৭৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کی پناہ کا بیان
(١٨١٧٠) فضیل بن زید فرماتے ہیں کہ ہم دشمن کا مقابلہ کرتے۔ فرماتے ہیں کہ ایک غلام نے مشرکین کو اپنے حصہ کی پناہ دی۔ مسلمانوں نے ان کی پناہ قبول نہ کی۔ مشرکین نے آ کر کہا : تم نے ہمیں پناہ دی۔ صحابہ نے کہا : ہم تمہیں پناہ نہ دیں گے۔ تمہیں غلام نے پناہ دی ہے تو مشرکین حضرت عمر بن خطاب (رض) کو خط لکھا تو حضرت عمر (رض) نے جواب دیا کہ غلام مسلمانوں سے ہیں، ان کی پناہ مسلمانوں کی پناہ شمار کی جائے گی تو حضرت عمر (رض) نے مشرکین کو پناہ دی۔
(١٨١٧٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأُمَوِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ فُضَیْلِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : کُنَّا مُصَافِّی الْعَدُوِّ قَالَ فَکَتَبَ عَبْدٌ فِی سَہْمٍ أَمَانًا لِلْمُشْرِکِینَ فَرَمَاہُمْ بِہِ فَجَائُ وا فَقَالُوا قَدْ آمَنْتُمُونَا قَالُوا لَمْ نُؤْمِنْکُمْ إِنَّمَا آمَنَکُمْ عَبْدٌ فَکَتَبُوا فِیہِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّ الْعَبْدَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَذِمَّتَہُ ذِمَّتُہُمْ وَآمَنَہُمْ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৭৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کی پناہ کا بیان
(١٨١٧١) زیاد بن مسلم فرماتے ہیں کہ ہند کا ایک شخص غلام کی پناہ میں آیا تو مسلمانوں کے کسی شخص نے قتل کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنی طرف سے اس کے ورثاء کو دیت ادا کی۔
(١٨١٧١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ زِیَادِ بْنِ مُسْلِمٍ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْہِنْدِ قَدِمَ بِأَمَانِ عَبْدٍ ثُمَّ قَتَلَہُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَالَ فَبَعَثَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِدِیَتِہِ إِلَی وَرَثَتِہِ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৭৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کی پناہ کا بیان
(١٨١٧٢) حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مال غنیمت سے غلام کو گھٹیا سامان دیا جائے گا۔ اس کی پناہ جائز ہے۔ عورت کی پناہ بھی جائز ہے جب وہ لوگوں کو پناہ دے دے۔
(١٨١٧٢) وَقَدْ رُوِیَ فِی حَدِیثِ أَہْلِ الْبَیْتِ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَیْمَانَ الصُّوفِیُّ قَالَ قُرِئَ عَلَی أَبِی عَلِیٍّ : مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الأَشْعَثِ الْکُوفِیِّ بِمِصْرَ وَأَنَا أَسْمَعُ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو الْحَسَنِ : مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُوسَی بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبِی إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ عَنْ أَبِیہِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لَیْسَ لِلْعَبْدِ مِنَ الْغَنِیمَۃِ شَیْئٌ إِلاَّ خُرْثِیَّ الْمَتَاعِ وَأَمَانُہُ جَائِزٌ وَأَمَانُ الْمَرْأَۃِ جَائِزٌ إِذَا ہِیَ أَعْطَتِ الْقَوْمَ الأَمَانَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৭৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی پناہ کا حکم
(١٨١٧٣) حضرت ام ہانی بنت ابی طالب فرماتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ جب میں وہاں پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل فرما رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ (رض) نے ایک کپڑے کے ساتھ آپ کے لیے پردہ کیا ہوا تھا۔ میں نے سلام کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : کون ہے ؟ میں نے جواب دیا : میں ام ہانی ابو طالب کی بیٹی ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ام ہانی کے لیے خوش آمدید ! جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل سے فارغ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر ایک کپڑے میں لپٹ کر آٹھ رکعت نفل ادا کیے۔ پھر میری جانب متوجہ ہوئے۔ میں نے عرض کیا کہ میرا بھائی علی (رض) کہتا ہے کہ وہ ایک شخص فلاں بن ہبیرہ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کو میں نے پناہ دی ہے۔ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ام ہانی جس شخص کو تو نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں ام ہانی نے بیان کیا یہ چاشت کا وقت تھا۔
(١٨١٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ

(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : کَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الإِسْفَرَائِینِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو سُلَیْمَانَ : دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ بِخَسْرَوجِرْدَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ أَنَّ أَبَا مُرَّۃَ مَوْلَی أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أُمَّ ہَانِئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقُولُ : ذَہَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُہُ یَغْتَسِلُ وَفَاطِمَۃُ ابْنَتُہُ عَلَیْہَا السَّلاَمُ تَسْتُرُہُ بِثَوْبٍ قَالَتْ فَسَلَّمْتُ فَقَالَ مَنْ ہَذِہِ فَقُلْتُ أُمُّ ہَانِئٍ بِنْتُ أَبِی طَالِبٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأُمِّ ہَانِئٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِہِ قَامَ فَصَلَّی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّی عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَنَّہُ قَاتِلٌ رَجُلاً أَجَرْتُہُ فُلاَنُ بْنُ ہُبَیْرَۃَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ یَا أُمَّ ہَانِئٍ ۔ قَالَتْ أُمُّ ہَانِئٍ وَذَلِکَ ضُحًی۔

لَفْظُ حَدِیثِ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَفِی حَدِیثِ الْقَعْنَبِیِّ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُلْتُ وَالْبَاقِی سَوَائٌ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৮০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی پناہ کا حکم
(١٨١٧٤) ابو مرہ عقیل بن ابی طالب کے غلام فرماتے ہیں کہ ام ہانی نے اپنے دو مشرک دیوروں کو پناہ دی تو حضرت علی (رض) نے دونوں کے قتل کا ارادہ کیا اور کہا : تو نے مشرکین کو کیوں پناہ دی ہے۔ ام ہانی نے کہا : ان کے قتل سے پہلے مجھے قتل کرو۔ جانے لگی تو فرمایا : ان کا دروازہ بند کر دو ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر خبر دی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے کیا ہے اے ام ہانی ! جس کو تو نے امن دیا ہم بھی امن دیتے ہیں۔ جس کو تو نے پناہ دی ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔
(١٨١٧٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ وَأَبُو صَادِقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِالْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی مُرَّۃَ مَوْلَی عَقِیلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ أُمِّ ہَانِئٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : أَجَرْتُ حَمَوَیْنِ لِی مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَدَخَلَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَتَفَلَّتَ عَلَیْہِمَا لِیَقْتُلَہُمَا وَقَالَ لِمَ تُجِیرِی الْمُشْرِکِینَ ؟ فَقَالَتْ : وَاللَّہِ لاَ تَقْتُلُہُمَا حَتَّی تَبْدَأَ بِی قَبْلَہُمَا فَخَرَجَتْ وَقَالَتْ : أَغْلِقُوا دُونَہُ الْبَابَ وَذَہَبَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَخْبَرَتْہُ فَقَالَ : مَا کَانَ ذَلِکِ لَہُ وَقَدْ آمَنَّا مَنْ آمَنْتِ وَأَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৮১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی پناہ کا حکم
(١٨١٧٥) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ام ہانی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ میرے بھائی علی (رض) کا ارادہ ہے کہ جس کو میں نے پناہ دی ہے اس کو قتل کر دے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو تو نے پناہ دی ہے ہم نے بھی پناہ دے دی۔
(١٨١٧٥) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ وَأَبُوبَکْرٍ وَأَبُو مُحَمَّدٍ وَأَبُوصَادِقٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عِیَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ مَخْرَمَۃَ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ أُمَّ ہَانِئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَتْہُ أَنَّہَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: زَعَمَ ابْنُ أُمِّی عَلِیٌّ أَنَّہُ قَاتِلٌ مَنْ أَجَرْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৮২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی پناہ کا حکم
(١٨١٧٦) اسود حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں کہ اگر عورت مسلمانوں کے خلاف پناہ دے دے تو اس کے پناہ دینے کو جائز خیال کرتے تھے۔
(١٨١٧٦) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : إِنْ کَانَتِ الْمَرْأَۃُ لَتَأْخُذُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَیُجَوِّزُونَ ذَلِکَ لَہَا۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৮৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی پناہ کا حکم
(١٨١٧٧) حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ زینب بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے خاوند ابو العاص بن ربیع نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پناہ لینے کے لیے بھیجا۔ وہ چلی تو ان کا سر حجرہ سے باہر نظر آ رہا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔ وہ فرمانے لگیں میں زینب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی ہوں میں نے ابو العاص کو پناہ دی ہے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : میں بھی اس کے بارہ میں جانتا نہ تھا جو تم نے سنا خبردار مسلمانوں کا ادنیٰ آدمی بھی پناہ دے سکتا ہے۔
(١٨١٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِالْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ مُوسَی بْنِ جُبَیْرٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ الْغِفَارِیِّ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَرْسَلَ إِلَیْہَا زَوْجُہَا أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِیعِ أَنْ خُذِی لِی أَمَانًا مِنْ أَبِیکِ فَخَرَجَتْ فَأَطْلَعَتْ رَأْسَہَا مِنْ بَابِ حُجْرَتِہَا وَالنَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی صَلاَۃِ الصُّبْحِ یُصَلِّی بِالنَّاسِ فَقَالَتْ : أَیُّہَا النَّاسُ أَنَا زَیْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَإِنِّی قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنَ الصَّلاَۃِ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی لَمْ أَعْلَمْ بِہَذَا حَتَّی سَمِعْتُمُوہُ أَلاَ وَإِنَّہُ یُجِیرُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ أَدْنَاہُمْ ۔ [صحیح۔ بدون القصۃ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৮৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی پناہ کا حکم
(١٨١٧٨) یزید بن رومان بیان کرتے ہیں کہ جب ابو العاص بن ربیع حضرت زینب کے پاس آیا اور ان سے پناہ کا مطالبہ کیا تو اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز کے لیے چلے گئے تھے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کی تکبیر کہی تو زینب نے بلند آواز سے کہا : اے لوگو ! میں نے ابو العاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا : اے لوگو ! کیا تم نے سنا جو میں نے سنا ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ! پھر فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں اس بارے میں کچھ نہ جانتا تھا یہاں تک کہ میں نے ان سے سنا جو تم نے بھی سنا ہے اور فرمایا کہ مسلمانوں کا ادنیٰ شخص بھی پناہ دے سکتا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زینب کے پاس آئے اور فرمایا : اے بیٹی ! اچھا ٹھکانا دو ، لیکن وہ آپ کے قریب نہ آئے۔ کیونکہ تو اس کے لیے اور وہ تیرے لیے حلال نہیں ہے۔

(ب) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ زینب نے بلند آواز سے کہا۔
(١٨١٧٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَزِیدُ بْنُ رُومَانَ قَالَ : لَمَّا دَخَلَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِیعِ عَلَی زَیْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَاسْتَجَارَ بِہَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی الصُّبْحِ فَلَمَّا کَبَّرَ فِی الصَّلاَۃِ صَرَخَتْ زَیْنَبُ أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِیعِ فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ صَلاَتِۃِ قَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ہَلْ سَمِعْتُمْ مَا سَمِعْتُ ؟ ۔ قَالُوا : نَعَمْ ۔ قَالَ : أَمَا وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ مَا عَلِمْتُ بِشَیْئٍ مِمَّا کَانَ حَتَّی سَمِعْتُ مِنْہُ مَا سَمِعْتُمْ إِنَّہُ یُجِیرُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ أَدْنَاہُمْ ۔ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی زَیْنَبَ فَقَالَ : أَیْ بُنَیَّۃُ أَکْرِمِی مَثْوَاہُ وَلاَ یَقْرَبَنَّکِ فَإِنَّکِ لاَ تَحِلِّینَ لَہُ وَلاَ یَحِلُّ لَکِ ۔

ہَکَذَا أَخْبَرَنَا بِہِ فِی کِتَابِ الْمَغَازِی مُنْقَطِعًا وَحَدَّثَنَا بِہِ فِی کِتَابِ الْمُسْتَدْرَکِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ صَرَخَتْ زَیْنَبُ فَذَکَرَہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৮৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی پناہ کا حکم
(١٨١٧٩) حضرت زینب فرماتی ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ ابو العاص بن ربیع قریبی رشتہ دار چچا کا بیٹا ہے۔ اگر دور کی رشتہ داری ہو تو بچوں کا باپ ہے۔ میں نے اس کو پناہ دے دی ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کو پناہ دے دی۔

(ب) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ زینب (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا۔۔۔
(١٨١٧٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الْبَہِیِّ عَنْ زَیْنَبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قُلْتُ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنَّ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِیعِ إِنْ قَرُبَ فَابْنُ عَمٍّ وَإِنْ بَعُدَ فَأَبُو وَلَدٍ وَإِنِّی قَدْ أَجَرْتُہُ فَأَجَارَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -

وَقِیلَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ زَیْنَبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ مُرْسَلٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৮৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پناہ کیسے دی جائے ؟
(١٨١٨٠) ابو وائل فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر بن خطاب کا خط آیا کہ جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور ان کا ارادہ ہو کہ تم انھیں اللہ کے حکم پر اتارو تو ایسا نہ کرنا۔ کیونکہ تم نہیں جانتے ان کے بارے میں اللہ کا کیا حکم ہے بلکہ اپنے حکم پر اتارو۔ پھر اپنی مرضی کا ان کے بارے میں فیصلہ کرو اور جب کوئی شخص کسی آدمی سے کہے تو ڈر نہیں۔ اس نے تجھے امن دے دیا ہے اور جب اس نے لفظ متوسی کہا تو اس نے امن دے دیا اور جب اس نے لَا تَدْخُلْ کے الفاظ کہہ دیے تب بھی پناہ دے دی۔ اللہ تعالیٰ زبانوں کو جانتے ہیں۔

ثوری اعمش سے فرماتے ہیں، جس کے آخر میں ہے کہ لَا تَدْخُلْ کے الفاظ کے ساتھ بھی پناہ دی جاتی ہے کیونکہ اللہ رب العزت زبانوں کو جانتے ہیں۔
(١٨١٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ : جَائَ نَا کِتَابُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَإِذَا حَاصَرْتُمْ قَصْرًا فَأَرَادُوکُمْ أَنْ یَنْزِلُوا عَلَی حُکْمِ اللَّہِ فَلاَ تُنْزِلُوہُمْ فَإِنَّکُمْ لاَ تَدْرُونَ مَا حُکْمُ اللَّہِ فِیہِمْ وَلَکِنْ أَنْزِلُوہُمْ عَلَی حُکْمِکُمْ ثُمَّ اقْضُوا فِیہِمْ مَا أَحْبَبْتُمْ وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لاَ تَخَفْ فَقَدْ آمَنَہُ وَإِذَا قَالَ مَتَرْسْ فَقَدْ أَمَّنَہُ وَإِذَا قَالَ لَہُ أَظُنُّہُ لاَ تَدْحَلْ فَقَدْ أمَّنَہُ فَإِنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ الأَلْسِنَۃَ ۔

وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنِ الأَعْمَشِ فَقَالَ فِی آخِرِہِ : وَإِذَا قَالَ لاَ تَدْہَلْ فَقَدْ أَمَّنَہُ فَإِنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ الأَلْسِنَۃَ ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক: