আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২২ টি

হাদীস নং: ১৮১৪৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت قتال میں چوپائے کو ذبح کرنے کی رخصت
(١٨١٤١) محمد بن عمر واقدی اپنے شیوخ سے نقل فرماتے ہیں، جنہوں نے حنظلہ کا قصہ ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حنظلہ بن عامر نے اپنا اسلحہ لیا اور احد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جا ملے۔ جس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفیں درست فرما رہے تھے۔ جب مشرک سامنے ہوئے تو حنظلہ نے ابو سفیان کا پیچھا کر کے اس کے گھوڑے کی رگیں کاٹ ڈالیں تو گھوڑا رک گیا اور ابو سفیان زمین پر گرپڑا۔ ابو سفیان چیخ رہا تھا : اے قریشیو ! میں ابو سفیان بن حرب ہوں، حنظلہ تلوار سے اسے ذبح کرنا چاہتے تھے۔ کئی اشخاص نے اس کی آواز سنی، لیکن شکست کی بنا پر کوئی اس کی جانب التفات بھی نہ کررہا تھا یہاں تک کہ اسود بن شعوب نے اس کی مدد کی۔ اس نے حنظلہ کو تیر مار کر ہلاک کردیا۔ اس کو چھڑوایا تو ابو سفیان بھاگ گیا۔
(١٨١٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہْمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِیُّ عَنْ شُیُوخِہِ فَذَکَرُوا قِصَّۃَ حَنْظَلَۃَ قَالُوا : وَأَخَذَ حَنْظَلَۃُ بْنُ أَبِی عَامِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سِلاَحَہُ فَلَحِقَ بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِأُحُدٍ وَہُوَ یُسَوِّی الصُّفُوفَ فَلَمَّا انْکَشَفَ الْمُشْرِکُونَ اعْتَرَضَ حَنْظَلَۃُ لأَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبِ فَضَرَبَ عُرْقُوبَ فَرَسِہِ فَاکْتَسَعَتِ الْفَرَسُ وَیَقَعُ أَبُو سُفْیَانَ إِلَی الأَرْضِ فَجَعَلَ یَصِیحُ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَنَا أَبُو سُفْیَانَ بْنُ حَرْبٍ وَحَنْظَلُۃُ یُرِیدُ ذَبْحَہُ بِالسَّیْفِ فَأَسْمَعَ الصَّوْتُ رِجَالاً لاَ یَلْتَفِتُونَ إِلَیْہِ فِی الہَزِیمَۃِ حَتَّی عَایَنَہُ الأَسْوَدُ بْنُ شَعُوبٍ فَحَمَلَ عَلَی حَنْظَلَۃَ بِالرُّمْحِ فَأَنْفَذَہُ وَہَرَبَ أَبُو سُفْیَانَ ۔ [ضعیف جدًا ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৪৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت قتال میں چوپائے کو ذبح کرنے کی رخصت
(١٨١٤٢) ایاس بن سلمہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں، اس نے حدیبیہ کا قصہ ذکر کیا اور مدینہ کی طرف واپسی کا تذکرہ فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے غلام رباح کے ساتھ کچھ اونٹ بھیجے۔ راوی کہتے ہیں : میں بھی طلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر اس کے ساتھ نکلا۔ میں بھی اونٹوں کا خیال رکھ رہا تھا۔ اچانک صبح کے وقت عبدالرحمن بن عیینہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹ پر حملہ کردیا اور تمام اونٹ لے گیا اور چرواہے کو قتل کردیا۔ میں نے کہا : اے رباح ! یہ گھوڑا لو اور طلحہ بن عبیداللہ کو دے دینا اور جا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دو کہ مشرکین نے مویشیوں پر حملہ کردیا ہے۔ پھر میں نے ثنیہ پہاڑی پر چڑھ کر مدینہ کی طرف منہ کر کے تین آوازیں لگائیں۔ یا صباحاہ، یا صباحاہ، یا صباحاہ ! اے لوگو ! ہم صبح کے وقت لوٹے گئے۔ پھر میں ان لوگوں کے پیچھے ہو لیا، تیر مار رہا تھا اور اشعار پڑھ رہا تھا۔ میں اکوع کا بیٹا ہوں آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ کہتے ہیں : میں کسی کو تیر مارتا اور اپنے تیر محفوظ بھی رکھتا یہاں تک کہ جب وہ اس کے کندھے کو زخمی کرتا تو پھر میں کہتا۔ یہ لو میں اکوع کا بیٹا ہوں آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ کہتے ہیں : میں انھیں تیر مارتا اور زخمی کرتا رہا۔ جب کوئی شہسوار واپس آتا تو میں درخت کی اوٹ میں ہو کر بیٹھ جاتا اور تیر مار کر زخمی کردیتا اور جب پہاڑوں کا تنگ راستہ آجاتا تو میں پہاڑ کے اوپر چڑھ جاتا اور ان پر پتھر برساتا۔ کہتے ہیں : میں اس طرح کرتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ کے جتنے اونٹ تھے۔ میں نے ان کو اپنے پیچھے محفوظ کرلیا۔ میں رسول اللہ کے اونٹوں کو پیچھے چھوڑتا گیا اور وہ اپنا بوجھ ہلکا کرتے رہے۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا کہ میں اپنی جگہ پر رہا یہاں تک میں نے رسول اللہ کے شہسواروں کو دیکھا کہ وہ درختوں کے درمیان سے ظاہر ہوئے۔ سب سے پہلے آنے والے اصرم اسدی تھے، ان کے پیچھے ابو قتادہ انصاری تھے۔ ان کے بعد مقداد بن اسود کندی۔ میں نے اصرم کے گھوڑے کی لگام تھام لی۔ میں نے کہا : اے اصرم ! یہ تھوڑے لوگ ہیں، ان کو ڈراؤ، وہ تجھے ہلاک نہ کردیں۔ یہاں تک کہ رسول اللہ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ہمیں مل جائیں۔ اس نے کہا : اے سلمہ ! اگر تو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور جنت و جہنم کو حق خیال کرتا ہے تو میرے اور شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ بن تو میں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ وہ عبدالرحمن بن عیینہ سے جا ملے تو اصرم نے عبدالرحمن بن عیینہ کے گھوڑے کو زخمی کردیا تو عبدالرحمن نے اصرم کو نیزہ مار کر شہید کردیا۔ پھر عبدالرحمن اپنے گھوڑے کے پاس آیا۔ اتنی دیر میں ابو قتادہ نے عبدالرحمن کو تیر مار کر قتل کردیا اور عبدالرحمن نے انھیں زخمی کیا۔ پھر ابو قتادہ نے اصرم کے گھوڑے کو اپنی تحویل میں لیا اور وہ بھاگ گئے۔
(١٨١٤٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ الْیَمَامِیُّ عَنْ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الْحُدَیْبِیَۃِ وَرُجُوعِہِمْ إِلَی الْمَدِینَۃِ قَالَ : فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ظَہْرًا مَعَ رَبَاحٍ غُلاَمِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ وَخَرَجْتُ مَعَہُ بِفَرَسِ طَلْحَۃَ أُنَدِّیہِ مَعَ الظَّہْرِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُیَیْنَۃَ قَدْ أَغَارَ عَلَی ظَہْرِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَاسْتَاقَہُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِیَہُ فَقُلْتُ یَا رَبَاحُ خُذْ ہَذَا الْفَرَسَ فَأَبْلِغْہُ طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ وَأَخْبِرَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّ الْمُشْرِکِینَ قَدْ أَغَارُوا عَلَی سَرْحِہِ قَالَ ثُمَّ قُمْتُ عَلَی ثَنِیَّۃٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِینَۃَ فَنَادَیْتُ ثَلاَثَۃَ أَصْوَاتَ یَا صَباحَاہُ قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ فِی آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِیہِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ

أَنَا ابْنُ الأَکْوَعْ



وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعْ

قَالَ فَأَرْمِی رَجُلاً فَأَضَعُ السَّہْمَ حَتَّی یَقَعَ فِی کَتِفِہِ وَقُلْتُ :

خُذْہَا وَأَنَا ابْنُ الأَکْوَعِ



وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ

قَالَ فَوَاللَّہِ مَا زِلْتُ أَرْمِیہِمْ وَأَعْقِرُ بِہِمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَیَّ فَارِسٌ أَتَیْتُ شَجَرَۃً فَجَلَسْتُ فِی أَصْلِہَا فَرَمَیْتُہُ فَعَقَرْتُ بِہِ فَإِذَا تَضَایَقَ الْجَبَلُ فَدَخَلُوا فِی مُتَضَایَقٍ رَقِیتُ الْجَبَلَ ثُمَّ جَعَلْتُ أُرَدِّیہِمْ بِالْحِجَارَۃِ قَالَ فَمَا زِلْتُ کَذَلِکَ أَتَّبِعُہُمْ حَتَّی مَا خَلَقَ اللَّہُ بَعِیرًا مِنْ ظَہْرِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلاَّ جَعَلْتُہُ وَرَائَ ظَہْرِی وَخَلَّوْا بَیْنِی وَبَیْنَہُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ فَمَا بَرِحْتُ مَکَانِی حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ وَإِذَا أَوَّلُہُمُ الأَخْرَمُ الأَسَدِیُّ وَعَلَی إِثْرِہِ أَبُو قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ وَعَلَی إِثْرِہِ الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ الْکِنْدِیُّ فَأَخَذْتُ بِعِنَانِ فَرَسِ الأَخْرَمِ قُلْتُ یَا أَخْرَمُ إِنَّ الْقَوْمَ قَلِیلٌ فَاحْذَرْہُمْ لاَ یَقْتَطِعُونَکَ حَتَّی یَلْحَقَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَصْحَابُہُ فَقَالَ : یَا سَلَمَۃَ إِنْ کُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلاَ تَحُلْ بَیْنِی وَبَیْنَ الشَّہَادَۃِ فَخَلَّیْتُہُ فَالْتَقَی ہُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُیَیْنَۃَ فَعَقَرَ الأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَسَہُ وَطَعَنَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَہُ وَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَی فَرَسِہِ فَلَحِقَ أَبُو قَتَادَۃَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَطَعَنَہُ فَقَتَلَہُ وَعَقَرَ بِہِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَۃَ عَلَی فَرَسِ الأَخْرَمِ وَخَرَجُوا ہَارِبِینَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৪৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کو باندھا جائے
(١٨١٤٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر نجد کی جانب روانہ کیا۔ وہ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو پکڑ کر لائے جس کو ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا۔ جو یمامہ کا سردار تھا۔ انھوں نے اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔
(١٨١٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : بَعَثَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْلاً قِبَلَ نَجْدٍ فَجَائَ تْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِی حَنِیفَۃَ یُقَالُ لَہُ ثُمَامَۃُ بْنُ أُثَالٍ سَیِّدُ أَہْلِ الْیَمَامَۃِ فَرَبَطُوہُ بِسَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ قَدْ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ بِطُولِہِ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৫০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کو باندھا جائے
(١٨١٤٤) جندب بن ابی مکیث فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن غالب لیثی کو ایک لشکر میں روانہ کیا۔ میں بھی ان میں شامل تھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ بنو ملوح پر کدید نامی جگہ پر چاروں اطراف سے حملہ کردیں۔ ہم نکلے تو ہماری ملاقات کدید میں حارث بن برصاء سے ہوگئی۔ ہم نے اسے پکڑ لیا۔ اس نے کہا : میں اسلام کے ارادہ سے آیا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ ہم نے کہا : اگر تو مسلمان ہے تو ایک دن، رات کا باندھنا تجھے نقصان نہ دے گا۔ اگر تم مسلم نہیں تو پھر ہم تجھے مضبوطی سے باندھیں گے۔ ہم نے اس کو باندھ دیا۔
(١٨١٤٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَکِیثٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَبْدَ اللَّہِ بْنَ غَالِبٍ اللَّیْثِیَّ فِی سَرِیَّۃٍ فَکُنْتُ فِیہِمْ فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَشُنُّوا الْغَارَۃَ عَلَی بَنِی الْمُلَوَّحِ فِی الْکَدِیدِ فَخَرَجْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْکَدِیدِ لَقِینَا الْحَارِثَ ابْنَ الْبَرْصَائِ اللَّیْثِیَّ فَأَخَذْنَاہُ فَقَالَ إِنَّمَا جِئْتُ أُرِیدُ الإِسْلاَمَ وَإِنَّمَا خَرَجْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُلْنَا إِنْ تَکُ مُسْلِمًا لَمْ یَضُرَّکَ رِبَاطُنَا یَوْمًا وَلَیْلَۃً وَإِنْ یَکُنْ غَیْرُ ذَلِکَ نَسْتَوْثِقْ مِنْکَ فَشَدَدْنَاہُ وَثَاقًا۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৫১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کو باندھا جائے
(١٨١٤٥) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : بدر کے دن شام کے وقت جب قیدیوں کو زنجیروں سے باندھا جا رہا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کا پہلا حصہ بیدار رہ کر گزارا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ! آپ سو کیوں نہیں رہے اور عباس کو ایک انصاری نے قیدی بنا رکھا تھا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اپنے چچا عباس کے رونے کی آواز سنی ہے، انھوں نے اس کو کھول دیا۔ وہ خاموش ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے۔
(١٨١٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ بَعْضِ أَہْلِہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَمَّا أَمْسَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ بَدْرٍ وَالأَسَارَی مَحْبُوسُونَ بِالْوَثَاقِ بَاتَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَاہِرًا أَوَّلَ اللَّیْلِ فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا لَکَ لاَ تَنَامُ وَقَدْ أَسَرَ الْعَبَّاسَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : سَمِعْتُ أَنِینَ عَمِّی الْعَبَّاسِ فِی وَثَاقِہِ ۔ فَأَطْلَقُوہُ فَسَکَتَ فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔

[ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৫২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کو باندھا جائے
(١٨١٤٦) یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن اسعد بن زرارہ فرماتے ہیں : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو قیدی لائے گئے اور سودہ بنت زمعہ نبی کی بیوی آل عفراء کے پاس تھی، عطیان کے اندر۔ یہ پردہ سے پہلے کی بات ہے۔ سودہ فرماتی ہیں : میں ان کے پاس تھی جب ہمیں لایا گیا۔ کہا گیا : یہ قیدی ہیں۔ ہم آپ کے سامنے لائے گئے۔ میں اپنے گھر واپس آئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں موجود تھے۔ اچانک ابو یزید سہیل بن عمرو حجرہ کے ایک کونے میں پڑے تھے کہ اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ ایک رسی سے باندھے گئے تھے۔ اللہ کی قسم ! میں نے قابو نہ پایا جس وقت میں نے ابو یزید کو اس حالت میں دیکھا۔ میں نے کہہ دیا : اے ابو یزید ! تم نے اپنے ہاتھ پکڑوا دیے۔ خبردار ! عزت کے موت مرجاتے۔ میں سمجھ نہ سکی مگر گھر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز آئی : اے سودہ ! کیا اللہ اور رسول پر ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جب میں نے ابو یزید کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے دیکھے تو میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی جو کہنا تھا میں نے کہہ دیا۔
(١٨١٤٦) وَبِإِسْنَادِہِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدِ بْنِ زُرَارَۃَ قَالَ : قُدِمَ بِالأُسَارَی حِینَ قُدِمَ بِہِمُ الْمَدِینَۃَ وَسَوْدَۃُ بِنْتُ زَمْعَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجُ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عِنْدَ آلِ عَفْرَائَ فِی مَنَاحِہِمْ عَلَی عَوْفٍ وَمُعَوِّذٍ ابْنَیْ عَفْرَائَ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یُضْرَبَ عَلَیْہِنَّ الْحِجَابُ قَالَتْ سَوْدَۃُ فَوَاللَّہِ إِنِّی لَعِنْدَہُمْ إِذْ أُتِینَا فَقِیلَ ہَؤُلاَئِ الأُسَارَی قَدْ أُتِیَ بِہِمْ فَرَجَعْتُ إِلَی بَیْتِی وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِیہِ وَإِذَا أَبُو یَزِیدَ : سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فِی نَاحِیَۃِ الْحُجْرَۃِ یَدَاہُ مَجْمُوعَتَانِ إِلَی عُنُقِہِ بِحَبْلٍ فَوَاللَّہِ مَا مَلَکْتُ حِینَ رَأَیْتُ أَبَا یَزِیدَ کَذَلِکَ أَنْ قُلْتُ أَیْ أَبَا یَزِیدَ أَعْطَیْتُمْ بِأَیْدِیکُمْ أَلاَ مُتُّمْ کِرَامًا فَمَا انْتَبَہْتُ إِلاَّ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنَ الْبَیْتِ : یَا سَوْدَۃُ أَعَلَی اللَّہِ وَعَلَی رَسُولِہِ ۔ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا مَلَکَتُ حِینَ رَأَیْتُ أَبَا یَزِیدَ مَجْمُوعَۃٌ یَدَاہُ إِلَی عُنُقِہِ بِالْحَبْلِ أَنْ قُلْتُ مَا قُلْتُ ۔ [حسن ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৫৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدی کو باندھا جائے
(١٨١٤٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پاس ایک قیدی کو بھیجا اور حضرت عائشہ (رض) کے پاس عورتیں تھی تو ان عورتوں نے قیدی سے غافل کردیا۔ قیدی چلا گیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے عائشہ ! قیدی کہاں ہے ؟ فرماتی ہیں : میرے پاس عورتیں تھیں جنہوں نے مجھے اس سے غافل کردیا، وہ چلا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تیرے ہاتھ کاٹ دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے گئے۔ اس قیدی کے پیچھے کسی کو روانہ کیا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو حضرت عائشہ اپنے ہاتھوں کو نکال کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تجھے کیا ہے ؟ کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! آپ نے میرے خلاف ہاتھ کاٹنے کی بددعا فرمائی۔ میں ہاتھ لٹکا کر بیٹھی ہوں اس انتظار میں کہ کون میرے ہاتھ کاٹتا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو پاگل ہوگئی ہے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا : اے اللہ ! جو میں نے اس کے خلاف بددعا کی تھی اس کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دے۔
(١٨١٤٧) حَدَّثَنَا الشَّیْخُ الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِیلُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَخَلَ عَلَیْہَا بِأَسِیرٍ وَعِنْدَہَا نِسْوَۃٌ فَلَہَّیْنَہَا عَنْہُ فَذَہَبَ الأَسِیرُ فَجَائَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : یَا عَائِشَۃُ أَیْنَ الأَسِیرُ ؟ ۔ فَقَالَتْ : نِسْوَۃٌ کُنَّ عِنْدِی فَلَہَّیْنَنِی عَنْہُ فَذَہَبَ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قَطَعَ اللَّہُ یَدَکِ ۔ وَخَرَجَ فَأَرْسَلَ فِی إِثْرِہِ فَجِیئَ بِہِ فَدَخَلَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَإِذَا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَدْ أَخْرَجَتْ یَدَیْہَا فَقَالَ : مَا لَکَ ؟ ۔ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ دَعَوْتَ عَلَیَّ بِقَطْعِ یَدِی وَإِنِّی مُعَلِّقَۃٌ یَدِی أَنْتَظِرُ مَنْ یَقْطَعُہَا۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَجُنِنْتِ ؟ ۔ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ وَقَالَ : اللَّہُمَّ مَنْ کُنْتُ دَعَوْتُ عَلَیْہِ فَاجْعَلْہُ لَہُ کَفَّارَۃً وَطَہُورًا ۔ [صحیح ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৫৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ
(١٨١٤٨) یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) نے شام کی جانب لشکر روانہ کیے تو ابوبکر (رض) یزید بن ابی سفیان کے ساتھ پیدل نکلے۔ وہ چوتھائی حصے پر امیر مقرر تھے۔ انھوں نے گمان کیا کہ آپ اضافہ کریں۔ اس نے ابوبکر (رض) سے کہا : آپ سوار ہوجائیں یا میں بھی پیدل چلتا ہوں تو ابوبکر (رض) نے فرمایا : نہ تو پیدل چلے گا اور نہ ہی میں سوار ہوں گا۔ میں تو پیدل چلنے میں ثواب کی نیت کرتا ہوں کیونکہ یہ اللہ کے راستہ میں ہے۔ پھر فرمایا : عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جن کا گمان ہوگا کہ انھوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے روک رکھا ہے۔ ان کو چھوڑ دینا اور جس کا گمان ہو کہ انھوں نے اپنے آپ کو الگ کیا ہوا ہے اور ایسی قوم کو چھوڑ دینا اور جس کا گمان ہو کہ انھوں نے اپنے آپ کو الگ کیا ہوا ہے اور ایسی قوم کو آ ملیں گے جنہوں نے اپنے سروں پر بالوں کے گھونسلے بنا رکھے ہوں گے تو ان بالوں کو تلوار سے کاٹ ڈالو اور میں تجھے دس نصیحتیں کرتا ہوں : تم کسی عورت، بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت کو نہ کاٹنا، آباد زمین کو برباد و ویران نہ کرنا، کسی بکری، اونٹ کو صرف کھانے کے لیے ذبح کرنا، کسی شہد کی مکھی کو جلانا اور ڈبونا نہیں، نہ خیانت کرنا اور نہ بزدلی دکھانا۔
(١٨١٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعَثَ جُیُوشًا إِلَی الشَّامِ فَخَرَجَ یَمْشِی مَعَ یَزِیدَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ وَکَانَ أَمِیرَ رُبْعٍ مِنْ تِلْکَ الأَرْبَاعِ فَزَعَمُوا أَنْ یَزِیدَ قَالَ لأَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِمَّا أَنْ تَرْکَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ ۔ فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَلاَ أَنَا بِرَاکِبٍ إِنِّی أَحْتَسِبُ خُطَایَ ہَذِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ثُمَّ قَالَ إِنَّکَ سَتَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّہُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَہُمْ لِلَّہِ فَذَرْہُمْ وَمَا زَعَمُوا أَنَّہُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَہُمْ لَہُ وَسَتَجِدُ قَوْمًا فَحَصُوا عَنْ أَوْسَاطِ رُئُ وسِہِمْ مِنَ الشَّعَرِ فَاضْرِبْ مَا فَحَصُوا عَنْہُ بِالسَّیْفِ وَإِنِّی مُوصِیکَ بِعَشْرٍ لاَ تَقْتَلَنَّ امْرَأَۃً وَلاَ صَبِیًّا وَلاَ کَبِیرًا ہَرِمًا وَلاَ تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا وَلاَ تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا وَلاَ تَعْقِرَنَّ شَاۃً وَلاَ بَعِیرًا إِلاَّ لِمَأْکَلَۃٍ وَلاَ تُحْرِقَنَّ نَحْلاً وَلاَ تُغْرِقَنَّہُ وَلاَ تَغْلُلُ وَلاَ تَجْبُنْ ۔ وَرُوِّینَاہُ فِی حَدِیثِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَمَا مَضَی فِی مَسْأَلَۃِ التَحْرِیقِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৫৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ
(١٨١٤٩) یزید بن ابی مالک شامی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یزید بن ابی سفیان کے لشکر کا امیر بنا کر شام کی جانب روانہ فرمایا اور خود اس کے ساتھ پیدل چلے۔
(١٨١٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی مَالِکٍ الشَّامِیِّ قَالَ : جَہَّزَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَزِیدَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ بَعَثَہُ إِلَی الشَّامِ أَمِیرًا فَمَشَی مَعَہُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৫৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ
(١٨١٥٠) صالح بن کیسان فرماتے ہیں کہ جب ابوبکر (رض) نے یزید بن ابی سفیان کو چار گروہ میں سے ایک کا امیر بنا کر شام کی جانب بھیجا اور حضرت ابوبکر (رض) وصیت کی غرض سے اس کے ساتھ پیدل چلے۔ جبکہ یزید بن ابی سفیان سوار تھے۔ یزید نے کہا : اے خلیفۃ الرسول ! یا تو آپ سوار ہوجائیں یا میں بھی نیچے اتر آتا ہوں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تم اترو نہ میں سوار ہوتا ہوں۔ میں تو اللہ کے راستہ میں پیدل چلنے میں نیت کیے ہوئے ہوں۔ اے یزید ! تم ایسے شہروں میں آؤ گے جس میں مختلف قسم کے کھانے ہوں گے۔ ابتدا میں اللہ کا نام لو اور آخر میں اللہ کی تعریف کرو۔ حمد بیان کرو اور عنقریب تم ایسے لوگ بھی پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو معبد خانوں میں روک رکھا ہوگا، ان کو چھوڑ دو اور جنہوں نے اپنے آپ کو بھی روک رکھا ہو اور عنقریب تم ایسی قوم کو پاؤ گے کہ شیطان نے ان کے سروں پر سخت نفرت والی اشیاء بنادی ہوں گی۔ ان کی گردنیں اڑا دو ۔ کسی بوڑھے، عورت اور بچے کو قتل نہ کرنا، کسی آباد جگہ کو ویران نہ کرنا، درخت اور چوپائے کو فائدہ کے لیے کاٹنا، شہد کے چھتے کو نہ جلانا، دھوکا ، مثلہ، بزدلی اور خیانت نہ کرنا۔ اللہ اس کی ضرور مدد فرمائیں گے جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بن دیکھے مدد کرے گا کیونکہ اللہ قوی غالب ہے میں تجھے اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور میری طرف سے سلام۔ پھر وہ چلے گئے۔
(١٨١٥٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ قَالَ : لَمَّا بَعَثَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَزِیدَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ إِلَی الشَّامِ عَلَی رُبْعٍ مِنَ الأَرْبَاعِ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَعَہُ یُوصِیہِ وَیَزِیدُ رَاکِبٌ وَأَبُو بَکْرٍ یَمْشِی فَقَالَ یَزِیدُ : یَا خَلِیفَۃُ رَسُولِ اللَّہِ إِمَّا أَنْ تَرْکَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ ۔ فَقَالَ : مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَمَا أَنَا بِرَاکِبٍ إِنِّی أَحْتَسِبُ خُطَایَ ہَذِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ یَا یَزِیدُ إِنَّکُمْ سَتَقْدَمُونَ بِلاَدًا تُؤْتَوْنَ فِیہَا بِأَصْنَافٍ مِنَ الطَّعَامِ فَسَمُّوا اللَّہَ عَلَی أَوَّلِہَا وَاحْمَدُوہُ عَلَی آخِرِہَا وَإِنَّکُمْ سَتَجِدُونَ أَقْوَامًا قَدْ حَبَسُوا أَنْفُسَہُمْ فِی ہَذِہِ الصَّوَامِعِ فَاتْرُکُوہُمْ وَمَا حَبَسُوا لَہُ أَنْفُسَہَمْ وَسَتَجِدُونَ أَقْوَامًا قَدِ اتَّخَذَ الشَّیْطَانُ عَلَی رُئُ وسِہِمْ مَقَاعِدَ یَعْنِی الشَّمَامِسَۃَ فَاضْرِبُوا تِلْکَ الأَعْنَاقَ وَلاَ تَقْتُلُوا کَبِیرًا ہَرِمًا وَلاَ امْرَأَۃً وَلاَ وَلِیدًا وَلاَ تُخَرِّبُوا عُمْرَانًا وَلاَ تَقَطَّعُوا شَجَرَۃً إِلاَّ لِنَفْعٍ وَلاَ تَعْقِرَنَّ بَہِیمَۃً إِلاَّ لِنَفْعٍ وَلاَ تُحْرِقَنَّ نَحْلاً وَلاَ تُغْرِقَنَّہَ وَلاَ تَغْدِرْ وَلاَ تُمَثِّلْ وَلاَ تَجْبُنْ وَلاَ تْغَّلُلُ وَلَیَنْصُرَنَّ اللَّہُ مَنْ یَنْصُرُہُ وَرُسُلَہُ بِالْغَیْبِ إِنَّ اللَّہَ قَوِیٌّ عَزِیزٌ أَسْتَوْدِعُکَ اللَّہَ وَأُقْرِئُکَ السَّلاَمَ ثُمَّ انْصَرَفَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৫৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ
(١٨١٥١) ابن اسحاق محمد بن جعفر بن زبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے مجھے کہا : آپ کو معلوم ہے کہ ابوبکر (رض) نے کیوں تفریق کروائی کہ خادم کنیسہ جو کنیسہ پرور ہو کو قتل کرنے کا حکم دیا جبکہ راہب کے قتل سے منع فرمایا ؟ کہتے ہیں : میرے خیال کے مطابق صرف انھوں نے اپنے آپ کو روک رکھا ہے۔ اس نے کہا : ہاں ! لیکن شمامہ یہ لڑائی کی ابتدا کرواتے ہیں اور خود لڑائی کرتے ہیں اور راہب لوگوں کی رائے یہ ہوتی ہے کہ لڑائی نہ کی جائے اور اللہ کا فرمان ہے : { وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ } [البقرۃ ١٩٠] ” اور تم اللہ کے راستہ میں جہاد کرو ان لوگوں سے جو تم سے لڑائی کرتے ہیں۔ “
(١٨١٥١) وَبِإِسْنَادِہِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَقَالَ لِی ہَلْ تَدْرِی لِمَ فَرَّقَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَأَمَرَ بِقَتْلِ الشَّمَامِسَۃِ وَنَہَی عَنْ قَتْلِ الرُّہْبَانِ فَقُلْتُ لاَ أُرَاہُ إِلاَّ لِحَبْسِ ہَؤُلاَئِ أَنْفُسَہُمْ فَقَالَ أَجَلْ وَلَکِنَّ الشَّمَامِسَۃَ یَلْقَوْنَ الْقِتَالَ فَیُقَاتِلُونَ وَإِنَّ الرُّہْبَانَ رَأْیُہُمْ أَنْ لاَ یُقَاتِلُوا وَقَدْ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { وَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَکُمْ } [البقرۃ ١٩٠] ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৫৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ
(١٨١٥٢) ابو عمران جونی فرماتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے یزید بن ابی سفیان کو شام کی جانب روانہ کیا تو اس کے ساتھ پیدل چلے۔ یزید نے کہا : مجھے اچھا نہیں لگتا کہ آپ پیادہ ہوں اور میں سوار ہوں۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : آپ اللہ کے راستہ میں غزوہ کے لیے جا رہے ہیں جبکہ میں پیادہ چلنے میں ثواب کی نیت کیے ہوئے ہوں۔ پھر اس کو وصیت فرمائی کہ بچے، عورت، بہت زیادہ بوڑھے، بیمار اور راہب کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت نہ کاٹنا، آباد زمین کو ویران نہ کرنا، گائے اور اونٹ صرف کھانے کے لیے ذبح کرنا اور شہد کی مکھی کے چھتے کو ڈبونا اور جلانا نہیں ہے۔
(١٨١٥٢) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعَثَ یَزِیدَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ إِلَی الشَّامِ فَمَشَی مَعَہُ یُشَیِّعُہُ قَالَ یَزِیدُ : إِنِّی أَکْرَہُ أَنْ تَکُونَ مَاشِیًا وَأَنَا رَاکِبٌ۔ قَالَ فَقَالَ : إِنَّکَ خَرَجْتَ غَازِیًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَإِنِّی أَحْتَسِبُ فِی مَشْیِی ہَذَا مَعَکَ ثُمَّ أَوْصَاہُ فَقَالَ لاَ تَقْتُلُوا صَبِیًّا وَلاَ امْرَأَۃً وَلاَ شَیْخًا کَبِیرًا وَلاَ مَرِیضًا وَلاَ رَاہِبًا وَلاَ تَقْطَعُوا مُثْمِرًا وَلاَ تُخَرِّبُوا عَامِرًا وَلاَ تَذْبَحُوا بَعِیرًا وَلاَ بَقَرَۃً إِلاَّ لِمَأْکَلٍ وَلاَ تُغْرِقُوا نَحْلاً وَلاَ تُحْرِقُوہُ ۔ وَقَدْ رُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔[ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৫৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ
(١٨١٥٣) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے نام و نصرت کے ساتھ چلو اور رسول اللہ کے دین پر کسی بزرگ بوڑھے، بچے، چھوٹے اور عورت کو قتل نہ کرو۔ خیانت نہ کرو اور مال غنیمت اکٹھا کرو۔ اصلاح کرو اور احسان کرو۔ اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
(١٨١٥٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفِزْرِ حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللَّہِ وَبِاللَّہِ وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ لاَ تَقْتُلُوا شَیْخًا فَانِیًا وَلاَ طِفْلاً وَلاَ صَغِیرًا وَلاَ امْرَأَۃً وَلاَ تَغُلُّوا وَضُمُّوا غَنَائِمَکُمْ وَأَصْلِحُوا وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৬০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ
(١٨١٥٤) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کوئی لشکر روانہ فرماتے۔ ابن ابی اویس کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے لشکر روانہ کرتے تو فرماتے : تم اللہ کے نام کے ساتھ نکلو، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں کے ساتھ تم قتال کرتے ہو۔ دھوکا ، مثلہ، خیانت نہ کرو اور نہ بچوں اور پادریوں کو قتل کرو۔

لیکن مصری کی روایت میں یہ قول نہیں ہے : وَلَا تَغُلُّوْا
(١٨١٥٤) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِیفٍ الْفَرَّائُ الْمِصْرِیُّ بِمَکَّۃَ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی الْمَوْتِ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَۃُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَبِیبَۃَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُصَیْنِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ إِذَا بَعَثَ جَیْشًا وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ قَالَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ کَانَ إِذَا بَعَثَ جُیُوشَہُ قَالَ : اخْرُجُوا بِاسْمِ اللَّہِ تُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ مَنْ کَفَرَ بِاللَّہِ لاَ تَغْدِرُوا وَلاَ تُمَثِّلُوا وَلاَ تَغُلُّوا وَلاَ تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ وَلاَ أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ ۔

وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ الْمِصْرِیِّ قَوْلَہُ : وَلاَ تَغُلُّوا ۔ وَالْبَاقِی مِثْلُہُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৬১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ
(١٨١٥٥) حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کا لشکر مشرکین کی جانب روانہ کرتے تو فرماتے : اللہ کے نام کے ساتھ چلو۔ اس نے حدیث ذکر کی، جس میں ہے کہ تم بچوں، عورتوں اور زیادہ بوڑھے کو قتل نہ کرو۔ آنکھ خراب نہ کرو۔ صرف وہ درخت کاٹو جو تمہارے اور مشرکین کے درمیان لڑائی میں رکاوٹ بنتا ہو۔ کسی انسان و چوپائے کا مثلہ نہ کرو۔ دھوکا اور خیانت بھی نہ کرو۔
(١٨١٥٥) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ عُمَرَ مَوْلَی عَنْبَسَۃَ الْقُرَشِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ نَبِیُّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بَعَثَ جَیْشًا مِنَ الْمُسْلِمِینَ إِلَی الْمُشْرِکِینَ قَالَ : انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللَّہِ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ : وَلاَ تَقْتُلُوا وَلِیدًا طِفْلاً وَلاَ امْرَأَۃً وَلاَ شَیْخًا کَبِیرًا وَلاَ تُعَوِّرُنَّ عَیْنًا وَلاَ تَعْقِرُنَّ شَجَرًا إِلاَّ شَجَرًا یَمْنَعُکُمْ قِتَالاً أَوْ یَحْجُزُ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الْمُشْرِکِینَ وَلاَ تُمَثِّلُوا بِآدَمِیٍّ وَلاَ بَہِیمَۃٍ وَلاَ تَغْدِرُوا وَلاَ تَغُلُّوا ۔

فِی ہَذَا الإِسْنَادِ إِرْسَالٌ وَضَعْفٌ وَہُوَ بِشَوَاہِدِہِ مَعَ مَا فِیہِ مِنَ الآثَارِ یَقْوَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৬২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ
(١٨١٥٦) حضرت خالد بن زید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل موتہ کو الوداع کرتے ہوئے ثنیۃ الوداع تک جا پہنچے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے تو لوگ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اردگرد کھڑے ہوگئے۔ آپ نے فرمایا : اللہ کا نام لے کر غزوہ کرو۔ تم اپنے اور خدا کے دشمنوں سے ملک شام میں قتال کرو۔ عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو کنیسہ میں دوسرے لوگوں سے الگ تھلگ ہوں گے تو ان کے درپے نہ ہونا اور دوسری قسم کے لوگ جن کے سروں پر شیطانوں نے گھونسلے بنا رکھے ہوں گے۔ ان کو تلوار سے کاٹ ڈالو اور کسی عورت، چھوٹے بچے، زیادہ بوڑھے شخص کو قتل نہ کرو اور درخت، کھجور نہ کاٹو اور گھروں کو نہ گراؤ۔
(١٨١٥٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہْمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِی ابْنُ صَفْوَانَ وَعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مُشَیِّعًا لأَہْلِ مُؤْتَۃَ حَتَّی بَلَغَ ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ فَوَقَفَ وَوَقَفُوا حَوْلَہُ فَقَالَ : اغْزُوا بِاسْمِ اللَّہِ فَقَاتِلُوا عَدُوَّ اللَّہِ وَعَدُوَّکُمْ بِالشَّامِ وَسَتَجِدُونَ فِیہِمْ رِجَالاً فِی الصَّوَامِعِ مُعْتَزِلِینَ مِنَ النَّاسِ فَلاَ تَعْرِضُوا لَہُمْ وَسَتَجِدُونَ آخَرِینَ لِلشَّیْطَانِ فِی رُئُ وسِہِمْ مَفَاحِصُ فَافْلُقُوہَا بِالسُّیُوفِ وَلاَ تَقْتُلُوا امْرَأَۃً وَلاَ صَغِیرًا ضَرَعًا وَلاَ کَبِیرًا فَانِیًا وَلاَ تَقْطَعُنَّ شَجَرَۃً وَلاَ تَعْقِرُنَّ نَخْلاً وَلاَ تَہْدِمُوا بَیْتًا ۔

وَہَذَا أَیْضًا مُنْقَطِعٌ وَضَعِیفٌ۔ [ضعیف جدًا ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৬৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ
(١٨١٥٧) مرقع بن صیفی اپنے دادا ریاح بن ربیع سے جو حنظلہ کاتب کے بھائی ہیں نقل فرماتے ہیں کہ میں کسی غزوہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلا اور خالد بن ولید لشکر کے مقدمہ پر مقرر تھے۔ رباح اور صحابہ ایک مقتولہ عورت کے پاس سے گزرے جس کو مقدمہ کے لشکر نے قتل کردیا تھا۔ وہ کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے اور اس کی شکل و صورت پر تعجب کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنی اونٹنی پر آگئے۔ راوی کہتے ہیں کہ صحابہ عورت کے قریب سے ہٹ گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس کھڑے ہوگئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہ لڑائی کرتی تھی ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے چہرے دیکھے اور کسی کو حکم دیا کہ جاؤ خالد بن ولید سے کہہ کر آؤ کہ وہ کسی بچے اور غلام کو قتل نہ کریں۔
(١٨١٥٧) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ أَبُو زَکَرِیَّا حَدَّثَنِی الْمُغِیَرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِیُّ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ حَدَّثَنِی الْمُرَقِّعُ بْنُ صَیْفِیٍّ عَنْ جَدِّہِ رِیَاحِ بْنِ الرَّبِیعِ أَخِی حَنْظَلَۃَ الْکَاتِبِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃٍ غَزَاہَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ عَلَی مُقَدِّمَتِہِ فَمَرَّ رِیَاحٌ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی امْرَأَۃٍ مَقْتُولَۃٍ مِمَّا أَصَابَتْہُ الْمُقَدِّمَۃُ فَوَقَفُوا یَنْظُرُونَ إِلَیْہَا وَیَعْجَبُونَ مِنْ خَلْقِہَا حَتَّی لَحِقَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی نَاقَۃٍ لَہُ قَالَ فَفَرَجُوا عَنِ الْمَرْأَۃِ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْہَا ثُمَّ قَالَ : ہَاہْ مَا کَانَتْ ہَذِہِ تُقَاتِلُ ۔ قَالَ : ثُمَّ نَظَرَ فِی وُجُوہِ الْقَوْمِ فَقَالَ لأَحَدِہِمْ : الْحَقْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ فَلاَ یَقْتُلَنَّ ذُرِّیَّۃً وَلاَ عَسِیفًا۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ : رَبَاحُ بْنُ الرَّبِیعِ أَصَحُّ وَمَنْ قَالَ رِیَاحٌ فَہُوَ وَہَمٌ وَکَذَا قَالَ أَبُو عِیسَی۔ [حسن۔ تقدم برقم ١٨١٠٤]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৬৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ
(١٨١٥٨) ایوب سختیانی کسی شخص سے اور وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوکر کے قتل سے منع فرمایا ہے۔
(١٨١٥٨) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ وَوُہَیْبُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ قَتْلِ الْوُصَفَائِ وَالْعُسَفَائِ ۔ [ضعیف ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৬৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ
(١٨١٥٩) زید بن وہب حضرت عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : کسانوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو صرف ان کو قتل کرو جو تمہارے خلاف لڑائی میں مدمقابل آجائیں۔ [ضعیف ]
(١٨١٥٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : اتَّقُوا اللَّہَ فِی الْفَلاَّحِینَ فَلاَ تَقْتُلُوہُمْ إِلاَّ أَنْ یَنْصِبُوا لَکُمُ الْحَرْبَ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৬৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ
(١٨١٦٠) ابو زبیر حضرت جابر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مشرکین تاجر لوگوں کو قتل نہ کرتے تھے۔ [ضعیف ]
(١٨١٦٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ الرَّازِیُّ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : کَانُوا لاَ یَقْتُلُونَ تُجَّارَ الْمُشْرِکِینَ ۔
tahqiq

তাহকীক: