আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
سیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯২২ টি
হাদীস নং: ১৮১২৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١٢١) موسیٰ بن علی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص (رض) نے اہل سکندریہ پر منجنیق نصب کی۔
(١٨١٢١) أَخْبَرَنَا بِہَذَا وَبِحَدِیثِ یَحْیَی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُمَا وَقَدْ ذَکَرَہُ الْوَاقِدِیُّ عَنْ شُیُوخِہِ کَمَا ذَکَرَہُ مَکْحُولٌ وَزَعَمَ أَنَّ الَّذِی أَشَارَ بِہِ سَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ ۔ وَذَکَرَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ حَدِیثَ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَیٍّ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ نَصَبَ الْمَنْجَنِیقَ عَلَی أَہْلِ الإِسْکَنْدَرِیَّۃِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১২৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١٢٢) حارث بن یزید اور یزید بن ابی حبیب قباریہ کی فتح کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ ہر روز منجنیق سے ساٹھ پتھر مارتے تھے۔ یہ حضرت عمر (رض) کے دور کی بات تھی۔ یہاں تک کہ امیر معاویہ اور عبداللہ بن عمرو کے ہاتھ فتح ہوئی۔
(١٨١٢٢) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَہِیعَۃَ حَدَّثَنِی الْحَارِثُ بْنُ یَزِیدَ وَیَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ فِی فَتْحِ قَیْسَارِیَّۃَ قَالَ فَکَانُوا یَرْمُونَہَا کُلَّ یَوْمٍ بِسِتِّینَ مَنْجَنِیقًا وَذَلِکَ فِی زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی فَتَحَ اللَّہُ عَلَی یَدَیْ مُعَاوِیَۃَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১২৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١٢٣) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میں بدر کے کنویں کے پانی کو گہرا کر دوں۔
(ب) یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن مشورہ لیا تو حباب بن منذر نے کہا کہ ہمارے خیال میں آپ تمام پانی گہرا کردیں۔ سوائے ایک پانی کے اس پر ہم قوم سے ملاقات کریں گے۔
(ب) یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن مشورہ لیا تو حباب بن منذر نے کہا کہ ہمارے خیال میں آپ تمام پانی گہرا کردیں۔ سوائے ایک پانی کے اس پر ہم قوم سے ملاقات کریں گے۔
(١٨١٢٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا أَبُو رَبِیعَۃَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ الْحَنَفِیِّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَمَرَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ أُغَوِّرَ مَائَ آبَارِ بَدْرٍ ۔
(ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یُوسُفُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ ہَارُونَ ۔ (ج) وَیُوسُفُ وَأَبُو رَبِیعَۃَ فَہْدُ بْنُ عَوْفٍ ضَعِیفَانِ ۔
(ت) وَرَوَی أَبُودَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : اسْتَشَارَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ نَرَی أَنْ تُغَوِّرَ الْمِیَاہَ کُلَّہَا غَیْرَ مَائٍ وَاحِدٍ فَنَلْقَی الْقَوْمَ عَلَیْہِ ۔ [موضوع ]
(ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یُوسُفُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ ہَارُونَ ۔ (ج) وَیُوسُفُ وَأَبُو رَبِیعَۃَ فَہْدُ بْنُ عَوْفٍ ضَعِیفَانِ ۔
(ت) وَرَوَی أَبُودَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : اسْتَشَارَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ الْحُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ نَرَی أَنْ تُغَوِّرَ الْمِیَاہَ کُلَّہَا غَیْرَ مَائٍ وَاحِدٍ فَنَلْقَی الْقَوْمَ عَلَیْہِ ۔ [موضوع ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৩০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ درختوں کو کاٹنے اور گھروں کو جلانے کا بیان
(١٨١٢٤) طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) جب ارتداد کے خلاف لشکر روانہ فرماتے تو امراء کو حکم دیتے کہ جب تم کسی علاقہ پر حملہ کرو تو ہر طرف سے حملہ کرو، قتل کرو، جلاؤ اور قتل و زخمی کرنے میں مبالغہ کرو۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت کی وجہ سے تمہارے اندر کمزوری ظاہر نہ ہو۔
(١٨١٢٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی طَلْحَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ قَالَ : کَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَأْمُرُ أُمَرائَ ہُ حِینَ کَانَ یَبْعَثُہُمْ فِی الرِّدَّۃِ إِذَا غَشِیتُمْ دَارًا فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ : فَشُنُّوہَا غَارَۃً وَاقْتُلُوا وَحَرِّقُوا وَأَنْہِکُوا فِی الْقَتْلِ وَالْجِرَاحِ لاَ یُرَی بِکُمْ وَہَنٌ لِمَوْتِ نَبِیِّکُمْ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔
[ضعیف ]
[ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৩১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے درخت کاٹنے اور جلانے سے ہاتھ کو روک لیا جب قوی امکان ہو کہ یہ دار اسلام یا ذمی لوگوں کے پاس رہیں گے
(١٨١٢٥) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جب ابوبکر صدیق (رض) نے شام کی جانب لشکر روانہ فرمائے۔ یزید بن ابی سفیان، عمرو بن عاص، شرحبیل بن حسنہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر (رض) لشکر کو الوداع کہنے کے لیے ثنیۃ الوداع تک پیدل ان کے ساتھ جاتے۔ انھوں نے کہا : اے خلیفۃ المسلمین ! ہم سوار اور آپ پیدل ؟ فرمایا : میں اپنے ان قدموں کو اللہ کے راستہ میں ثواب کی نیت سے اٹھاتا ہوں۔ پھر امراء کو وصیت فرماتے : میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ کے راستہ میں غزوہ کرو جو اللہ کے ساتھ کفر کرے ان سے جہاد کرو۔ اللہ اپنے دین کی مدد کرنے والا ہے۔ خیانت نہ کرو۔ دھوکا نہ دو ، بزدلی نہ دکھاؤ، زمین پر فساد نہ کرو، دیے گئے احکام کی نافرمانی نہ کرو۔ اگر اللہ چاہے تمہاری ملاقات دشمن سے ہوجائے تو ان کو تین چیزوں کی طرف دعوت دو ۔ اگر وہ قبول کرلیں تو تم ان سے اپنے ہاتھ روک لو۔ 1 انھیں اسلام کی دعوت دو اگر اسلام قبول کرلیں تو اپنے ہاتھ ان سے روک لو۔ پھر انھیں اپنے گھروں سے مہاجرین کے گھروں میں منتقل ہونے کا کہا جائے۔ اگر وہ یہ کام کرلیں تو انھیں بتادیں۔ ان کے لیے وہی ہے جو مہاجرین کے لیے یا ان کے ذمہ بھی وہی ہے۔ جو مہاجرین کے ذمہ ہے اگر وہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد مہاجرین کے گھروں پر اپنے گھروں کو ترجیح دیں تو ان کو بتا دینا وہ عام دیہاتی مسلمانوں کی مانند ہیں۔ جو مومنوں پر احکام جاری ہوتے ہیں وہی تمہارے اوپر ہوں گے اور مال فیٔ اور غنیمت سے اس وقت تک حصہ نہ ملے گا جب تک مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد نہ کریں گے۔ 2 اگر اسلام میں داخل ہونے سے انکار کردیں تو جزیہ کی دعوت دو ۔ اگر یہ کام کریں تو جزیہ قبول کرلو اور اپنے ہاتھ روک لو۔ 3 اگر وہ اس سے انکار کریں تو ان کے خلاف اللہ سے مدد طلب کرو اور اگر اللہ چاہے تو ان سے قتال کرو اور تم کھجور کے درخت مت کاٹو اور نہ ہی ان کو جلاؤ۔ چوپائے اور پھل دار درخت نہ کاٹو اور گرجا گھر مت گراؤ۔ بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو مت قتل کرو۔ عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو چرچوں کے اندر روک رکھا ہوگا، ان کو چھوڑ دو اور بعض نے اپنے آپ کو ان کے اندر بند نہ رکھا ہوگا اور عنقریب تم ایسے لوگ پاؤ گے کہ شیطان نے ان کے سروں کے درمیان گھونسلا بنا رکھا ہوگا۔ جب تم ایسے افراد سے ملو تو ان کی گردنیں اتار دو اگر اللہ چاہے۔
(١٨١٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَمِیرُوَیْہِ الْکَرَابِیسِیُّ الْہَرَوِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا بَعَثَ الْجُنُودَ نَحْوَ الشَّامِ یَزِیدَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَشُرَحْبِیلَ ابْنَ حَسَنَۃَ قَالَ لَمَّا رَکِبُوا مَشَی أَبُو بَکْرٍ مَعَ أُمَرَائِ جُنُودِہِ یُوَدِّعُہُمْ حَتَّی بَلَغَ ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ فَقَالُوا یَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللَّہِ أَتَمْشِی وَنَحْنُ رُکْبَانٌ؟ فَقَالَ : إِنِّی أَحْتَسِبُ خُطَایَ ہَذِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ثُمَّ جَعَلَ یُوصِیہِمْ فَقَالَ : أُوصِیکُمْ بِتَقْوَی اللَّہِ اغْزُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَقَاتِلُوا مَنْ کَفَرَ بِاللَّہِ فَإِنَّ اللَّہَ نَاصِرُ دِینِہِ وَلاَ تَغُلُّوا وَلاَ تَغْدِرُوا وَلاَ تَجْبُنُوا وَلاَ تُفْسِدُوا فِی الأَرْضِ وَلاَ تَعْصُوا مَا تُؤْمَرُونَ فَإِذَا لَقِیتُمُ الْعَدُوَّ مِنَ الْمُشْرِکِینَ إِنْ شَائَ اللَّہُ فَادْعُوہُمْ إِلَی ثَلاَثِ خِصَالٍ فَإِنْ ہُمْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلُوا مِنْہُمْ وَکُفُّوا عَنْہُمُ ادْعُہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ فَإِنْ ہُمْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلُوا مِنْہُمْ وَکُفُّوا عَنْہُمُ ثُمَّ ادْعُوہُمْ إِلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِہِمْ إِلَی دَارِ الْمُہَاجِرِینَ فَإِنْ ہُمْ فَعَلُوا فَأَخْبِرُوہُمْ أَنَّ لَہُمْ مِثْلَ مَا لِلْمُہَاجِرِینَ وَعَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُہَاجِرِینَ وَإِنْ ہُمْ دَخَلُوا فِی الإِسْلاَمِ وَاخْتَارُوا دَارَہُمْ عَلَی دَارِ الْمُہَاجِرِینَ فَأَخْبِرُوہُمْ أَنَّہُمْ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِینَ یَجْرِی عَلَیْہِمْ حُکْمُ اللَّہِ الَّذِی فَرَضَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ وَلَیْسَ لَہُمْ فِی الْفَیْئِ وَالْغَنَائِمِ شَیْئٌ حَتَّی یُجَاہِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ فَإِنْ ہُمْ أَبَوْا أَنْ یَدْخُلُوا فِی الإِسْلاَمِ فَادْعُوہُمْ إِلَی الْجِزْیَۃِ فَإِنْ ہُمْ فَعَلُوا فَاقْبَلُوا مِنْہُمْ وَکُفُّوا عَنْہُمْ وَإِنْ ہُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِینُوا بِاللَّہِ عَلَیْہِمْ فَقَاتِلُوہُمْ إِنْ شَائَ اللَّہُ وَلاَ تُغْرِقُنَّ نَحْلاً وَلاَ تُحْرِقُنَّہَا وَلاَ تَعْقِرُوا بَہِیمَۃً وَلاَ شَجَرَۃً تُثْمِرُ وَلاَ تَہْدِمُوا بِیعَۃً وَلاَ تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ وَلاَ الشُّیُوخَ وَلاَ النِّسَائَ وَسَتَجِدُونَ أَقْوَامًا حَبَسُوا أَنْفُسَہُمْ فِی الصَّوَامِعِ فَدَعُوہُمْ وَمَا حَبَسُوا أَنْفُسَہُمْ لَہُ وَسَتَجِدُونَ آخَرِینَ اتَّخَذَ الشَّیْطَانُ فِی أَوْسَاطِ رُئُ وسِہِمْ أَفْحَاصًا فَإِذَا وَجَدْتُمْ أُولَئِکَ فَاضْرِبُوا أَعْنَاقَہُمْ إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৩২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے درخت کاٹنے اور جلانے سے ہاتھ کو روک لیا جب قوی امکان ہو کہ یہ دار اسلام یا ذمی لوگوں کے پاس رہیں گے
(١٨١٢٦) خالی
(١٨١٢٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ ہَذَا حَدِیثٌ مُنْکَرٌ مَا أَظُنُّ مِنْ ہَذَا شَیْئٌ ہَذَا کَلاَمُ أَہْلِ الشَّامِ أَنْکَرَہُ أَبِی عَلَی یُونُسَ مِنْ حَدِیثِ الزُّہْرِیِّ کَأَنَّہُ عِنْدَہُ مِنْ یُونُسَ عَنْ غَیْرِ الزُّہْرِیِّ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৩৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے درخت کاٹنے اور جلانے سے ہاتھ کو روک لیا جب قوی امکان ہو کہ یہ دار اسلام یا ذمی لوگوں کے پاس رہیں گے
(١٨١٢٧) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے پھل دار درختوں کو کاٹنے سے منع فرمایا، کیونکہ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا کہ شام کے شہر مسلمان فتح کریں گے۔ پھل دار درخت کو کاٹنا اور چھوڑ دینا دونوں طرح جائز ہے تو انھوں نے مسلمانوں کی وجہ سے چھوڑ دینے کو اختیار کیا اس وجہ سے نہیں کہ وہ اس کو حرام خیال کرتے تھے۔ کیونکہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب بنو نضیر، خیبر اور طائف کے پھل دار درختوں کو جلایا گیا۔
(١٨١٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلَعَلَّ أَمْرَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِأَنْ یَکُفُّوا عَنْ أَنْ یَقْطَعُوا شَجَرًا مُثْمِرًا إِنَّمَا ہُوَ لأَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُخْبِرُ أَنَّ بِلاَدَ الشَّامِ تُفْتَحُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَلَمَّا کَانَ مُبَاحًا لَہُ أَنْ یَقْطَعَ وَیَتْرُکَ اخْتَارَ التَّرْکَ نَظَرًا لِلْمُسْلِمِینَ لاَ لأَنَّہُ رَآہُ مُحَرَّمًا لأَنَّہُ قَدْ حَضَرَ مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَحْرِیقَہُ بِالنَّضِیرِ وَخَیْبَرَ وَالطَّائِفِ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৩৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاندار چیز کو صرف کھانے کی غرض سے شکار کیا جاسکتا ہے
(١٨١٢٨) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے چڑیا یا اس سے بھی چھوٹے پرندے کو ناحق قتل کیا تو اللہ رب العزت اس کے قتل کے بارے میں سوال کریں گے۔ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ! اس کا حق کیا ہے ؟ فرمایا کہ آپ ذبح کر کے اس کو کھائیں، اس کا سر کاٹ کر پھینک نہ دیں۔
امام شافعی فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باندھی ہوئی چڑیا کے کھانے سے منع فرمایا۔
امام شافعی فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باندھی ہوئی چڑیا کے کھانے سے منع فرمایا۔
(١٨١٢٨) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ صُہَیْبٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَہَا بِغَیْرِ حَقِّہَا سَأَلَہُ اللَّہُ عَنْ قَتْلِہِ ۔ قِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا حَقُّہَا ؟ قَالَ : أَنْ تَذْبَحَہَا فَتَأْکُلَہَا وَلاَ تَقْطَعَ رَأْسَہَا فَتَرْمِی بِہَا ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَنَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الْمَصْبُورَۃِ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৩৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاندار چیز کو صرف کھانے کی غرض سے شکار کیا جاسکتا ہے
(١٨١٢٩) ہشام بن زید کہتے ہیں : میں حضرت انس (رض) کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس آیا۔ انھوں نے بچوں یا نوجوانوں کو دیکھا کہ وہ ایک مرغی کو نسب کر کے نشانہ بازی کر رہے ہیں۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چوپایوں کو باندھنے سے منع فرمایا ہے۔
(١٨١٢٩) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوالنَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُوالْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی الْحَکَمِ بْنِ أَیُّوبَ فَرَأَی غِلْمَانًا أَوْ فِتْیَانًا قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَۃً یَرْمُونَہَا فَقَالَ أَنَسٌ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ تُصْبَرَ الْبَہَائِمُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৩৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاندار چیز کو صرف کھانے کی غرض سے شکار کیا جاسکتا ہے
(١٨١٣٠) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی چوپائے کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
(١٨١٣٠) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یُقْتَلَ شَیْئٌ مِنَ الْبَہَائِمِ صَبْرًا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم ١٩٥٩]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৩৭
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاندار چیز کو صرف کھانے کی غرض سے شکار کیا جاسکتا ہے
(١٨١٣١) یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) نے شام کی طرف لشکر بھیجے۔ ان کی وصیت کے بارے میں حدیث کو ذکر کیا، جس کے آخر میں ہے کہ بکری اور اونٹ کو صرف کھانے کے لیے ذبح کیا جائے۔
(١٨١٣١) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعَثَ جُیُوشًا إِلَی الشَّامِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی وَصِیَّتِہِ إِلَی أَنْ قَالَ : وَلاَ تَعْقِرُنَّ شَاۃً وَلاَ بَعِیرًا إِلاَّ لِمَأْکَلِۃٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৩৮
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاندار چیز کو صرف کھانے کی غرض سے شکار کیا جاسکتا ہے
(١٨١٣٢) ابو عمران جونی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے یزید بن ابی سفیان کو شام کی طرف بھیجا۔ اس نے حدیث ذکر کی جس کے آخر میں ہے کہ تم اونٹ اور گائے کو صرف کھانے کے لیے ذبح کرو۔
(١٨١٣٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُونَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُوالْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعَثَ یَزِیدَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ إِلَی الشَّامِ فَمَشَی مَعَہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ : وَلاَ تَذْبَحُوا بَعِیرًا وَلاَ بَقَرًا إِلاَّ لِمَأْکَلٍ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৩৯
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاندار چیز کو صرف کھانے کی غرض سے شکار کیا جاسکتا ہے
(١٨١٣٣) حضرت معاذ بن جبل (رض) سے کہا گیا : رومیوں کو ہمارے جو گھوڑے وغیرہ ہاتھ لگتے ہیں تو وہ انھیں قتل کردیتے ہیں۔ کیا ہم اپنے گھوڑوں کو قتل کردیں۔ انھوں نے فرمایا : نہیں، وہ اس لائق نہیں کہ وہ تم سے انتقام لیں۔ کل وہ تمہارے غلام ہوں گے یا اہل ذمہ۔
(١٨١٣٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ قَالَ أَبُو یُوسُفَ حَدَّثَنَا بَعْضُ أَشْیَاخِنَا عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ نُسَیٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ أَنَّہُ قِیلَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّ الرُّومَ یَأْخُذُونَ مَا حُسِرَ مِنْ خَیْلِنَا فَیَسْتَفْحِلُونَہَا وَیُقَاتِلُونَ عَلَیْہَا أَفَنَعْقِرُ مَا حُسِرَ مِنْ خَیْلِنَا ؟ فَقَالَ : لاَ لَیْسُوا بِأَہْلٍ أَنْ یَنْتَقِصُوا مِنْکُمْ إِنَّمَا ہُمْ غَدًا رَقِیقُکُمْ أَوْ أَہْلُ ذِمَّتِکُمْ ۔ زاد أَبُو سَعِیدٍ فِی رِوَایَتِہِ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ بَلَغَنَا عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ أَوْصَی ابْنَہُ أَنْ لاَ یَعْقِرَ حَسِرًا۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَنَّہُ نَہَی عَنْ عَقْرِ الدَّابَّۃِ إِذَا ہِیَ قَامَتْ ۔
وَعَنْ قَبِیصَۃَ : أَنَّ فَرَسَہُ قَامَ عَلَیْہِ بِأَرْضِ الرُّومِ فَتَرَکَہُ وَنَہَی عَنْ عَقْرِہِ ۔ أَخْبَرَنَا مَنْ سَمِعَ ہِشَامَ بْنَ الْغَازِ یَرْوِی عَنْ مَکْحُولٍ أَنَّہُ سَأَلَہُ عَنْہَا فَنَہَاہُ وَقَالَ : إِنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَہَی عَنِ الْمُثْلَۃِ ۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَنَّہُ نَہَی عَنْ عَقْرِ الدَّابَّۃِ إِذَا ہِیَ قَامَتْ ۔
وَعَنْ قَبِیصَۃَ : أَنَّ فَرَسَہُ قَامَ عَلَیْہِ بِأَرْضِ الرُّومِ فَتَرَکَہُ وَنَہَی عَنْ عَقْرِہِ ۔ أَخْبَرَنَا مَنْ سَمِعَ ہِشَامَ بْنَ الْغَازِ یَرْوِی عَنْ مَکْحُولٍ أَنَّہُ سَأَلَہُ عَنْہَا فَنَہَاہُ وَقَالَ : إِنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَہَی عَنِ الْمُثْلَۃِ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৪০
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاندار چیز کو صرف کھانے کی غرض سے شکار کیا جاسکتا ہے
(١٨١٣٤) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اس شخص پر لعنت کرے جو حیوانوں کا مثلہ کرتا ہے۔
(١٨١٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : جَنَاحُ بْنُ نَذِیرِ بْنِ جَنَاحٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ الْہَمَذَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْکِسَائِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا الْمِنْہَالُ قَالَ کُنْتُ أَمْشِی مَعَ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ فَقَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : لَعَنَ اللَّہُ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَیَوَانِ ۔ [صحیح۔ بخاری ٥٥١٥]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৪১
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاندار چیز کو صرف کھانے کی غرض سے شکار کیا جاسکتا ہے
(١٨١٣٥) ابو رہم سماعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے چوپائے کو ذبح کیا، اس کا چوتھائی حصہ اجر ختم ہوگیا۔ جس نے شہد کی مکھی کو جلایا، اس کا بھی چوتھائی حصہ اجر ختم ہوگیا اور جس شخص نے اپنے حصہ دار انسان سے دھوکا کیا اس کا بھی چوتھائی اجر ختم ہوگیا اور جس نے امام کی نافرمانی کی اس کا مکمل اجر ختم ہوگیا۔
(١٨١٣٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیدٍ اللَّخْمِیُّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَبِی رُہْمٍ السَّمَاعِیِّ صَاحِبِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَنْ عَقَرَ بَہِیمَۃً ذَہَبَ رُبُعُ أَجْرِہِ وَمَنْ حَرَّقَ نَحْلاً ذَہَبَ رُبُعُ أَجْرِہِ وَمَنْ غَاشَّ شَرِیکَہُ ذَہَبَ رُبُعُ أَجْرِہِ وَمَنْ عَصَی إِمَامَہُ ذَہَبَ أَجْرُہُ کُلُّہُ ۔ فِی ہَذَا الإِسْنَادِ ضَعْفٌ وَفِی الأَوَّلِ کِفَایَۃٌ۔ [ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৪২
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاندار چیز کو صرف کھانے کی غرض سے شکار کیا جاسکتا ہے
(١٨١٣٦) یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے والد جس نے مجھے دودھ پلوایا مرہ بن عوف کے ایک شخص تھے، فرماتے ہیں کہ قسم بخدا ! گویا کہ میں جعفر بن ابی طالب کی طرف جنگ موتہ کے دن دیکھ رہا ہوں جس وقت وہ اپنے شقراء گھوڑے سے کود پڑے، اس کو ذبح کردیا۔ پھر آگے بڑھ کر لڑے یہاں تک کہ شہید کردیے گئے۔
(١٨١٣٦) فَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی الَّذِی أَرْضَعَنِی وَکَانَ أَحَدُ بَنِی مُرَّۃَ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : وَاللَّہِ لَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَی جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَوْمَ مُؤْتَۃَ حِینَ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَہُ شَقْرَائَ فَعَقَرَہَا ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔ [حسن ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৪৩
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاندار چیز کو صرف کھانے کی غرض سے شکار کیا جاسکتا ہے
(١٨١٣٧) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر کوئی کہنے والا کہے کہ جعفر بن ابی طالب نے لڑائی کے موقعہ پر اپنے گھوڑے کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ فرماتے ہیں : نہ تو مجھے یاد ہے اور نہ ہی اہل علم کے ہاں یہ مشہور ہے۔
(١٨١٣٧) فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ فَقَدْ رُوِیَ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَقَرَ عِنْدَ الْحَرْبِ فَلاَ أَحْفَظُ ذَلِکَ مِنْ وَجْہٍ یَثْبُتُ عِنْدَ الاِنْفِرَادِ وَلاَ أَعْلَمُہُ مَشْہُورًا عِنْدَ عَوَامِّ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْمَغَازِی۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৪৪
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاندار چیز کو صرف کھانے کی غرض سے شکار کیا جاسکتا ہے
(١٨١٣٨) ابوداؤد سجستانی فرماتے ہیں : یہ حدیث قوی نہیں ہے، اس کے بارے میں بہت سارے صحابہ سے بھی منقول ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : اگر یہ بات درست ہے تو ممکن ہے کہ حضرت جعفر (رض) کو نہی کے بارے میں علم نہ ہو۔
شیخ فرماتے ہیں : اگر یہ بات درست ہے تو ممکن ہے کہ حضرت جعفر (رض) کو نہی کے بارے میں علم نہ ہو۔
(١٨١٣٨) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ : ہَذَا الْحَدِیثُ لَیْسَ بِذَلِکَ الْقَوِیِّ وَقَدْ جَائَ فِیہِ نَہْیٌ کَثِیرٌ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ الْحُفَّاظُ یَتَوَقَّوْنَ مَا یَنْفَرِدُ بِہِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَإِنْ صَحَّ فَلَعَلَّ جَعْفَرًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمْ یَبْلُغْہُ النَّہْیُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح ]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ الْحُفَّاظُ یَتَوَقَّوْنَ مَا یَنْفَرِدُ بِہِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَإِنْ صَحَّ فَلَعَلَّ جَعْفَرًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمْ یَبْلُغْہُ النَّہْیُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৪৫
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت قتال میں چوپائے کو ذبح کرنے کی رخصت
(١٨١٣٩) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حنظلہ بن راہب نے ابو سفیان بن حرب کے جانور کی کونچیں احد کے دن کاٹ ڈالیں۔ اس کا گھوڑا بیٹھ گیا تو ابو سفیان گرپڑا تو حنظلہ اس کے سینے پر ذبح کرنے لیے چڑھ بیٹھے۔ ابن شعوب نے دیکھ لیا، وہ اس کی طرف درندے کی طرح لپکا اور اس کو قتل کردیا۔ ابو سفیان کو اس کے نیچے سے بچا لیا تو اس کے بعد ابو سفیان نے یہ اشعار کہے۔
اگر میں چاہتا تو مجھے طاقت ور سرخ و سیاہ رنگت والا گھوڑا ہی بچا لیتا اور میں ابن شعوب کا احسان نہ اٹھاتا۔ میرا بچھیرا گھوڑا صبح کے وقت سے ان کے کتے کو دھتکارتا رہا حتیٰ کہ غروب کے قریب ہوگیا۔ میں ان سے مسلسل لڑتا رہوں گا اور میں پکاروں گا : غالب کی طرف آؤ اور میں ان کو صلیب کے غلبے کے ساتھ اپنے دور کرتا رہوں گا۔
اگر میں چاہتا تو مجھے طاقت ور سرخ و سیاہ رنگت والا گھوڑا ہی بچا لیتا اور میں ابن شعوب کا احسان نہ اٹھاتا۔ میرا بچھیرا گھوڑا صبح کے وقت سے ان کے کتے کو دھتکارتا رہا حتیٰ کہ غروب کے قریب ہوگیا۔ میں ان سے مسلسل لڑتا رہوں گا اور میں پکاروں گا : غالب کی طرف آؤ اور میں ان کو صلیب کے غلبے کے ساتھ اپنے دور کرتا رہوں گا۔
(١٨١٣٩) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : قَدْ عَقَرَ حَنْظَلَۃُ بْنُ الرَّاہِبِ بِأَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبٍ یَوْمَ أُحُدٍ فَاکْتَسَعَتْ فَرَسُہُ بِہِ فَسَقَطَ عَنْہَا فَجَلَسَ عَلَی صَدْرِہِ لِیَذْبَحَہُ فَرَآَہُ ابْنُ شَعُوبٍ فَرَجَعَ إِلَیْہِ یَعْدُو کَأَنَّہُ سَبُعٌ فَقَتَلَہُ وَاسْتَنْقَذَ أَبَا سُفْیَانَ مِنْ تَحْتِہِ قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ :
فَلَوْ شِئْتُ نَجَّتْنِی کُمَیْتٌ رَجِیلَۃٌ
وَمَا زَالَ مُہْرِی مُزْجَرَ الْکَلْبِ
أُقَاتِلُہُمْ طُرًّا وَأَدْعُو یَالَ غَالِبٍ
وَلَمْ أَحْمِلِ النَّعْمَائَ لاِبْنِ شَعُوبِ
مِنْہُمُ لَدَی غُدْوَۃٍ حَتَّی دَنَتْ لِغُرُوبِ
وَأَدْفَعُہُمْ عَنِّی بِرُکْنٍ صَلِیبِ
[ضعیف ]
فَلَوْ شِئْتُ نَجَّتْنِی کُمَیْتٌ رَجِیلَۃٌ
وَمَا زَالَ مُہْرِی مُزْجَرَ الْکَلْبِ
أُقَاتِلُہُمْ طُرًّا وَأَدْعُو یَالَ غَالِبٍ
وَلَمْ أَحْمِلِ النَّعْمَائَ لاِبْنِ شَعُوبِ
مِنْہُمُ لَدَی غُدْوَۃٍ حَتَّی دَنَتْ لِغُرُوبِ
وَأَدْفَعُہُمْ عَنِّی بِرُکْنٍ صَلِیبِ
[ضعیف ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮১৪৬
سیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت قتال میں چوپائے کو ذبح کرنے کی رخصت
(١٨١٤٠) ابن اسحاق زہری اور دوسروں سے احد کے قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں اس نے حنظلہ کا قصہ ابو سفیان کے ساتھ ذکر کیا اور ابن شعوب کا ابو سفیان کی مدد کرنا اور حنظلہ کے قتل کا ذکر کیا۔ لیکن کونچیں کاٹنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ پھر اس نے ابوسفیان کے اشعار کا تذکرہ کیا جیسے امام شافعی (رح) نے بیان کیا لیکن اس نے کچھ اضافہ بھی کیا ہے۔
ابن اسحاق فرماتے ہیں : ابن شعوب کا نام شداد بن اسود تھا۔ واقدی نے اس قصہ کے بارے میں بیان کیا ہے کہ اس نے اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔
ابن اسحاق فرماتے ہیں : ابن شعوب کا نام شداد بن اسود تھا۔ واقدی نے اس قصہ کے بارے میں بیان کیا ہے کہ اس نے اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔
(١٨١٤٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَغَیْرِہِ فِی قِصَّۃِ أُحُدٍ فَذَکَرَ قِصَّۃَ حَنْظَلَۃَ مَعَ أَبِی سُفْیَانَ وَمَا کَانَ مِنْ مَعُونَۃِ ابْنِ شَعُوبٍ أَبَا سُفْیَانَ وَقَتْلِہِ حَنْظَلَۃَ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرِ الْعَقْرَ ثُمَّ ذَکَرَ أَبْیَاتَ أَبِی سُفْیَانَ بِنَحْوٍ مِمَّا ذَکَرَہُنَّ الشَّافِعِیُّ وَزَادَ عَلَیْہِنَّ
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَاسْمُ ابْنِ شَعُوبٍ شَدَّادُ بْنُ الأَسْوَدِ کَذَا قَالَ ۔ وَقَدْ ذَکَرَ الْوَاقِدِیُّ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ عَقْرَہُ فَرَسَہُ ۔ [ضعیف ]
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَاسْمُ ابْنِ شَعُوبٍ شَدَّادُ بْنُ الأَسْوَدِ کَذَا قَالَ ۔ وَقَدْ ذَکَرَ الْوَاقِدِیُّ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ عَقْرَہُ فَرَسَہُ ۔ [ضعیف ]
তাহকীক: